Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مشرف فیصلہ، چیف جسٹس نے خصوصی عدالت کو ہدایات دی تھی یا نہیں؟ ترجمان میدان میں آ گئے

    مشرف فیصلہ، چیف جسٹس نے خصوصی عدالت کو ہدایات دی تھی یا نہیں؟ ترجمان میدان میں آ گئے

    مشرف فیصلہ، چیف جسٹس نے خصوصی عدالت کو ہدایات دی تھی یا نہیں؟ ترجمان میدان میں آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے منسوب گفتگو پرسپریم کورٹ کی وضاحت آ گئی ،سپریم کورٹ کے ترجمان کی جاری سے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی غیررسمی گفتگو کو سیاق وسباق سے ہٹ کر نشر کیا گیا،خبر بغیرکسی ذرائع کے دی گئی ہے،

    ترجمان سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس نے الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکے صحافیوں سے ملاقات کی،سپریم کورٹ نے ماضی میں پرویز مشرف کیس کے مختلف پہلووَں کی سماعت کی،چیف جسٹس نے خصوصی عدالت کو کوئی احکامات جاری نہیں کیے،جو خبریں چلائی گئیں وہ بے بنیاد اور غلط ہیں،ان پر وضاحت دینا ضروری تھا،امید ہے مستقبل میں درست رپورٹنگ کی جائے گی،چیف جسٹس نے خصوصی عدالت کو کوئی ہدایات جاری نہیں کیں،

    پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس، عدالت نے کس کو وکیل مقرر کیا؟ اہم خبر

    پرویزمشرف بارے عدالتی فیصلہ جلد بازی کا مظاہرہ، ایسا کس نے کہا؟

    وقت کا تقاضا ہے ملک پر رحم کریں، فواد چودھری نے ایسا کیوں کہا؟

    پرویزمشرف فیصلہ، پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے ردعمل دے دیا

    پرویزمشرف فیصلہ، سراج الحق بھی میدان میں آ گئے، بڑا مطالبہ کر دیا

    سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم دے دیا۔ عدالت نے آئین سے غداری کا جرم ثابت ہونے پر مختصر فیصلہ سنایا، تین ججز پر مشتمل خصوصی عدالت نے دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا، تفصیلی فیصلے بعد میں سنایا جائے گا

    مشرف کے خلاف فیصلہ کس نے کروایا شخصیت نے خود ہی بتادیا

  • حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت،عدالت نے ایسی بات پوچھ لی کہ حمزہ کا وکیل شرمندہ

    حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت،عدالت نے ایسی بات پوچھ لی کہ حمزہ کا وکیل شرمندہ

    حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت،عدالت نے ایسی بات پوچھ لی کہ حمزہ کا وکیل شرمندہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کورٹ میں حمزہ شہباز کی ضمانت پر رہائی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 جنوری کو نیب سے جواب طلب کر لیا،

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کی درخواست ضمانتوں پر جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر حمزہ شہباز نے اس بنچ پر عدم اعتماد کیا تھا۔ کیا اب آپ نے حمزہ شہباز سے اس بارے ہدایات لی ہیں۔ حمزہ شہباز کے وکلا نے کہا کہ موکل کی جانب سے اس بنچ پر مکمل اعتماد کی ہدایات ملی ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر سماعت 13 جنوری تک ملتوی کر دی، عدالت نے نیب سے جواب طلب کر لیا.

    حمزہ شہباز نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں ضمانت پر رہائی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،حمزہ شہباز نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے ضمانت کی درخواست دائر کی ،درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر رمضان شوگر ملز میں تحقیقات کا آغاز کیا، نیب نے رمضان شوگر ملز کے معاملے پر متعدد بار انکوائری کی مگر کچھ بھی نہیں ملا،تحصیل بھوانہ میں نالہ عوامی مفاد میں بنایا گیا تھا، صوبائی کابینہ اور صوبائی اسمبلی نے سیوریج نالے کی تعمیر کی منظوری دی تھی،حمزہ شہباز کیخلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں،

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ رمضان شوگر ملز میں شریک ملزم شہباز شریف کو پہلے ہی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے، رمضان شوگر ملز ریفرنس میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے،حمزہ شہباز صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہے اور گرفتاری سے ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے،حمزہ شہباز کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے،

    حمزہ شہباز کا فرنٹ مین بن گیا نیب میں وعدہ معاف گواہ،بیان ریکارڈ کروا دیا

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    نیب نے احتساب عدالت میں رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہبازشریف فیملی نے اپنے مختلف ملازموں کے ناموں پرکمپنیاں بنا رکھی ہیں،منی لانڈرنگ کی رقوم بے نامی کمپنیوں میں منتقل کی جاتی رہیں ،اور ان بے نامی کمپنیوں سے شریف فیملی کے اکاؤنٹس میں رقم منتقل ہوتی رہی. نیب رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیب کو 10 غیرملکی منی ایکس چینجرزکا ریکارڈمل چکاہے، شہبازشریف، حمزہ،سلمان کوبرطانیہ کی 4 منی ایکس چینج سے رقوم منتقل ہوئیں، دبئی کی 6 منی ایکس چینج سے بھی رقوم منتقل کی گئیں۔ نیب رپورٹ کے مطابق شہبازشریف فیملی کو 10 کمپنیوں سے 37 کروڑبھیجے گئے.

  • سانحہ پی آئی سی، عدالت نے ڈاکٹرز،وکلاء تنازع ختم کروانے کے لئے بڑا فیصلہ دے دیا

    سانحہ پی آئی سی، عدالت نے ڈاکٹرز،وکلاء تنازع ختم کروانے کے لئے بڑا فیصلہ دے دیا

    سانحہ پی آئی سی، عدالت نے ڈاکٹرز،وکلاء تنازع ختم کروانے کے لئے بڑا فیصلہ دے دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں گرفتاروکلا کی رہائی اور گھروں پر چھاپوں کےخلاف کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے وکلا اورڈاکٹرز تنازعہ کے حل کیلئے8رکنی کمیٹی تشکیل دے دی،8رکنی کمیٹی میں 4وکلا اور 4ڈاکٹرز کے نمائندے شامل ہوں گے، وکلا میں لاہور بار کے حفیظ الرحمان،شاہ نوازاسماعیل،اصغرگل اور مسعود چشتی شامل ہیں،8رکنی کمیٹی مذاکرات کرکے سفارشات عدالت میں پیش کرے گی،عدالت 8 رکنی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں فیصلہ کرے گی.

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ نے پی آئی سی حملہ کیس میں بے قصور وکلا کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا جس آدمی نے یہ گناہ کیا اس کو اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔پی آئی سی حملہ کیس میں وکلا کیخلاف مقدمات خارج کرنے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، چیف سیکرٹری ہوم، آئی جی پنجاب، ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ احسن بھون ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار وکلا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وکلا کے چہروں پر نقاب چڑھا کر پیش کیا گیا، ریس کورس پارک میں بیٹھے وکلا کو گرفتار کر کے تشدد کیا گیا، عوام الناس سے بھی معافی مانگی ہے۔

    سانحہ پی آئی سی، کتنے وکلاء پر مقدمات درج ہو گئے؟ اور کیا دفعات شامل کی گئیں؟ اہم خبر

    الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے،وکلاء کی ہڑتال،سائلین خوار،گرفتاریوں کے لئے ٹیمیں تشکیل

    سانحہ پی آئی سی، وزیراعلیٰ پنجاب عثما ن بزدار کی طلبی ہو گئی

    سانحہ پی آئی سی، نقصان کی ابتدائی رپورٹ جاری،کتنے کروڑ کا نقصان ہوا؟

    آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ پورے اسپتال میں سی سی ٹی وی فوٹیج موجود نہیں،جو افراد موقع سے پکڑے گئے صرف ان کےخلاف کارروائی کی ،عدالت نے کہا کہ جس نے کیا اسے خمیازہ بھگتنا چاہئے جس نے نہیں کیا اسے کیوں تنگ کیا گیا؟وکلا6 میل کا فاصلہ طے کر کے گئے جوایکشن پی آئی سی میں کیا وہ پہلے کیوں نہیں کیا گیا؟ جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس نےجگہ جگہ روکنےکی کوشش کی اوراس دوران وکلابھی پرامن رہے،

    اگر یہ کام نہ کرتے تو اموات ہو سکتی تھیں،میں نے کتنے وکلاء کی جان بچائی تھی؟ فیاض الحسن چوہان بول پڑے

    وزیراعظم کا بھانجا مقدمہ میں نامزد، گرفتاری کے لئے کتنے چھاپے مارے گئے؟

    عدالت نے کہا کہ کیاپی آئی سی کے سامنے پولیس نے جانے کی اجازت دی تھی ؟ جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس نے ایسی کوئی اجازت نہیں دی، عدالت نے کہا کہ توپھرپولیس نے وکلا کواسپتال جا کراحتجاج کرنے سے کیوں نہیں روکا؟دل کے مریضوں کے سامنے تواونچی آوازاوراونچی سانس بھی نہیں لی جاسکتی،پی آئی سی معاملے پرپولیس اپنی ناکامی تسلیم کرے،

    سانحہ پی آئی سی،وکلاء نے حملہ کیوں کیا؟ عدالت میں ایسا انکشاف سامنے آیا کہ جج بھی دنگ رہ گئے

    ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ پولیس نے وکلا کومنتشرکرنے کیلئے آنسوگیس چلائی،جس پر عدالت نے کہا کہ وکلانے اسپتال پرحملہ کر کے اورپولیس نے آنسو گیس چلا کر قوم پرکیا احسان کیا؟ کیاوہاں آنسوگیس چلانی چاہیےتھی؟کتنے افراد اس واقعہ میں جاں بحق ہوئے؟ ہوم سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ 3افرادجاں بحق ہوئے،لواحقین کو10لاکھ روپے فی کس دیئے گئے ،جس پر عدالت نے کہا کہ دس لاکھ بہت کم ہیں آج کےدور میں اتنے پیسوں کا کیا بنتا ہے؟

  • وزیراعظم عمران خان کی جنیوا میں اہم ترین ملاقاتیں،کون آ رہا ہے اگلے برس پاکستان

    وزیراعظم عمران خان کی جنیوا میں اہم ترین ملاقاتیں،کون آ رہا ہے اگلے برس پاکستان

    وزیراعظم عمران خان کی جنیوا میں اہم ترین ملاقاتیں،کون آ رہا ہے اگلے برس پاکستان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانم گیبرے  ییسس نے منگل کو جنیوا میں پناہ گزینوں سے متعلق پہلے عالمی فورم کے موقع پر ملاقات کی۔

    وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے پولیو وائرس کے خاتمہ کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت پاکستانی عوام کو بین الاقوامی معیار کی صحت سہولتوں کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

    وزیر اعظم نے ڈائریکٹر جنرل کو احساس پروگرام سمیت حکومتی غربت کے خاتمہ کیلئے پروگرام سے بھی آگاہ کیا۔ڈی جی ٹیڈروس نے وزیر اعظم عمران کو ان کوششوں میں ڈبلیو ایچ او کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ اگلے سال پاکستان کا دورہ کرینگے.

    وزیراعظم عمران خان سے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مچلے بچلٹ نے منگل کو ملاقات کی۔ وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے جنیوا میں پناہ گزینوں سے متعلق پہلے عالمی فورم کے موقع پر وزیراعظم سے ملاقات کی.

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے پناہ گزینوں سے متعلق پہلے عالمی فورم کے انعقاد کے موقع پر پاکستان کی طرف سے قائم کئے جانے والے سٹال کا دورہ کیا۔لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کے حوالے سے پاکستان کے کردار، خدمات اور تجربات کو اجاگر کرنے کے لئے پناہ گزینوں سے متعلق پہلے عالمی فورم کے انعقاد کے موقع پر یہاں سٹال قائم کیا گیا۔ اس سٹال کے ذریعے 10 لاکھ پناہ گزینوں کو نادرا کی طرف سے رجسٹرڈ کئے جانے سے متعلق پاکستان کے اقدام اور پناہ گزینوں کی میزبانی کے حوالے سے دیگر اقدامات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے اس سٹال کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرنے کے لئے کی جانے والی کاوشوں اور لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی پاکستانی عوام کی طرف سے مثالی مہربانی کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سٹال کے قیام سے سٹال کا دورہ کرنے والوں کو پاکستان کی کوششوں اور افغان پناہ گزینوں کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے میں مدد ملے گی

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    ملائیشیا کی جانب سے وزیراعظم کے لئے گاڑی کا تحفہ، گاڑی پاکستان کے حوالے

    وزیراعظم عمران خان نے گلوبل پناہ گزینوں کے عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر سے 2 ایٹمی طاقتوں میں تنازع کا خطرہ ہے، بے بس اور بے وسیلہ مہاجرین کے مسائل کا امیر ملک ادراک نہیں کرسکتے، بھارتی حکومت نے آسام میں متنازعہ شہریت قانون نافذ کر دیا، بھارتی شہری گلیوں میں نکل آئے ہیں، مقبوضہ وادی میں 80 لاکھ کشمیری محاصرے میں ہیں، جان بوجھ کر مسلم اکثریت کو اقلت میں بدلا جا رہا ہے۔

  • پرویز مشرف فیصلہ، حکومت بھی میدان میں آ گئی، اہم اعلان کر دیا

    پرویز مشرف فیصلہ، حکومت بھی میدان میں آ گئی، اہم اعلان کر دیا

    پرویز مشرف فیصلہ، حکومت بھی میدان میں آ گئی، اہم اعلان کر دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردو عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کچھ سیاستدان ادارے کی تضحیک کرنے میں مصروف ہیں، دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اٹٓارنی جنرل انور منصور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان نے ملکی سلامتی کے لیے لازوال قربانیاں دیں۔ ملکی اداروں کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ افواج پاکستان نے ملکی سلامتی کے لازوال قربانیاں دیں اور پاک فوج کے جوانوں نے اپنے لہو سے امن کے دیے روشن کیے۔ افواج پاکستان نے جمہوریت کی آبیاری اور جمہوریت کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پوری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اس وقت عالمی ادارے بھی پاکستان کے معاشی استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں۔

    فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے مخالفین بغلیں بجا رہے ہیں۔ افواج پاکستان کا مورال بلند رکھنا قومی فریضہ ہے لیکن کچھ سیاستدان ادارے کی تضحیک کرنے میں مصروف ہیں اور دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پرویز مشرف سے حلف لینے والے فیصلے پر جشن منا رہے ہیں۔

    اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف بیمار اور اس وقت آئی سی یو میں ہیں، فیئر ٹرائل پر شہری کا حق ہے لیکن انھیں اپنے دفاع کا موقع نہیں دیا گیا۔ ان کی غیر حاضری میں ان کو سزائے موت سنائی گئی۔ سابق صدر نے کچھ درخواستیں عدالت میں دی تھیں جس میں انہوں نے دیگر لوگوں کو بھی فریق بنانے کی درخواست کی تھی۔

    انور منصور خان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص نے قانون توڑا تو اسے سزا ملنی چاہیے، اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ تاہم فیئر ٹرائل اگر نظر نہیں آتا تو مطلب جتنا بڑا مجرم ہی کیوں نہ ہو تو اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔ شواہد اکٹھے کرنے کا موقع نہ دینا زیادتی ہے۔ موجودہ حکومت کا نظریہ مختلف ہے، اس کا نظریہ ہے کہ ہر شخص کو انصاف دلانا ہے، جس کو انصاف نہ مل رہا ہو تو حکومت انصاف کے لیے کھڑی ہوگی۔ اگر کوئی ایکشن لیا جاتا ہے تو کوئی بھی اکیلا شخص فیصلہ نہیں کرتا۔

    پرویزمشرف کےخلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی تھی، پرویزمشرف بیماراوراس وقت آئی سی یومیں ہیں- پرویزمشرف کودفاع کاموقع نہیں دیاگیا،عدالتی فیصلےکی کاپی ابھی تک نہیں دی گئی آرٹیکل10کےتحت شفاف ٹرائل ہرشخص کابنیادی حق ہے، ایک شخص نےخصوصی عدالت میں شکایت درج کی، کابینہ کی منظوری کےبغیرشکایت درج کی گئی،

    پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس، عدالت نے کس کو وکیل مقرر کیا؟ اہم خبر

    پرویزمشرف بارے عدالتی فیصلہ جلد بازی کا مظاہرہ، ایسا کس نے کہا؟

    وقت کا تقاضا ہے ملک پر رحم کریں، فواد چودھری نے ایسا کیوں کہا؟

    پرویزمشرف فیصلہ، پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے ردعمل دے دیا

    پرویزمشرف فیصلہ، سراج الحق بھی میدان میں آ گئے، بڑا مطالبہ کر دیا

    سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم دے دیا۔ عدالت نے آئین سے غداری کا جرم ثابت ہونے پر مختصر فیصلہ سنایا، تین ججز پر مشتمل خصوصی عدالت نے دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا، تفصیلی فیصلے بعد میں سنایا جائے گا

  • جنرل پرویز مشرف سے متعلق فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب

    جنرل پرویز مشرف سے متعلق فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب

    جنرل پرویز مشرف سے متعلق فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب
    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق جنرل پرویز مشرف سے متعلق فیصلے پر افواجِ پاکستان کا ردِ عمل آگیا. ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف آرمی چیف، چئیر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور صدرِ پاکستان رہے ہیں۔ انہوں نے 40سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی ہے۔جنرل پرویز مشرف نے ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں۔ کیس میں آیئنی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ خصوصی کورٹ کی تشکیل کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے.جنرل پرویز مشرف کو اپنے دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا۔ عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی۔ کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا ہے۔ افواجِ پاکستان توقع کر تی ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کو آئین پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا۔

  • سنگین غداری کیس، بیمارپرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم

    سنگین غداری کیس، بیمارپرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم

    سنگین غداری کیس، بیمارپرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم دے دیا۔ عدالت نے آئین سے غداری کا جرم ثابت ہونے پر مختصر فیصلہ سنایا، تین ججز پر مشتمل خصوصی عدالت نے دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا، تفصیلی فیصلے بعد میں سنایا جائے گا۔

    اسلام آباد میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔ وکیل استغاثہ علی ضیاء نے کہا کہ تین درخواستیں جمع کرائی ہیں، حکومت شوکت عزیز، عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد کو ملزم بنانا چاہتی ہے، مشرف کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کو بھی ملزم بنانا چاہتے ہیں، تمام ملزمان کا ٹرائل ایک ساتھ ہونا ضروری ہے۔

    جسٹس شاہد کریم کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں، کیا حکومت ٹرائل میں تاخیر چاہتی ہے، آپ نے کسی کو مزید ملزم نامزد کرنا ہے تو نیا مقدمہ دائر کریں، تین افراد کو ملزم بنایا تو حکومت سابق کابینہ اور کور کمانڈرز کو بھی ملزم بنانے کی درخواست لے آئے گی۔ جسٹس نذر اکبر کا کہنا تھا کہ کیا شریک ملزمان کیخلاف نئی تحقیقات ہوئی ہیں ؟ تحقیقات اور شواہد کا مرحلہ گزر چکا ہے۔

    وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ نئی شکایت دائر کرنے سے ٹرائل میں تاخیر ہو سکتی ہے، جب کہ چارج شیٹ میں ترمیم سے ٹرائل میں تاخیر نہیں ہوگی، اگر پہلے مرکزی ملزم کا ٹرائل مکمل ہو جاتا ہے تو جو مددگار تھے ان کا کیا ہوگا۔ خصوصی عدالت نے استغاثہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست واپس کر دی۔

    جسٹس شاہد کریم کا کہنا تھا کہ سیکرٹری داخلہ کابینہ کی منظوری کے بغیر کیسے چارج شیٹ میں ترمیم کر سکتے ہیں ؟ سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد سیکرٹری داخلہ نہیں وفاقی کابینہ فیصلے کر سکتی ہے، عدالت کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف دفاع کا حق کھو چکے۔ جسٹس وقار احمد کا کہنا تھا کہ 342 کے بیان کیلئے کمیشن بنانے کی درخواست کا جائزہ لینگے۔

    پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس، عدالت نے کس کو وکیل مقرر کیا؟ اہم خبر

    پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس ،روزانہ سماعت کا حکم

    یاد رہے پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کیا، 12 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا آرمی چیف بنایا لیکن جبری ریٹائر کیے گئے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم کا فیصلہ قبول نہ کیا جس کے بعد ٹرپل ون بریگیڈ نے وزیراعظم سیکریٹریٹ پر قبضہ کرلیا اور جمہوری وزیراعظم کو ہتھکڑی لگا کر معزول کر دیا۔

    3 نومبر 2007 کو پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے 1973 کے آئین کو معطل کر دیا جس کی وجہ سے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدالت کے 61 ججز فارغ ہوگئے، جب چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری غیر فعال ہوئے تو وکلا کی تحریک ملک گیر عوامی تحریک بن گئی۔

    28 نومبر 2007 کو پرویز مشرف سیاست سے ریٹائر ہوئے اور فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کو سونپ دی، 29 نومبر 2007 کو ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے عوامی صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ 15 دسمبر 2007 کو پرویز مشرف نے ایمرجنسی ختم کی اور عبوری آئینی حکم نامہ (پی سی او) واپس لیا اور صدارتی فرمانوں کے ذریعے ترمیم شدہ آئین کو بحال کیا۔ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالتوں کے چیف جسٹس اور ججز نے ایک بار پھر حلف اٹھایا۔ 18 اگست 2008 کو پرویز مشرف کو استعفیٰ دینا پڑا اور یوں ملک میں ایک اور طویل دور آمریت کا خاتمہ ہوگیا۔

    واضح رہے سابق وزیراعظم نواز شریف نے 26 جون 2013 کو ایف آئی اے کو انکوائری کے لئے خط لکھا جس میں کہا گیا وزارت داخلہ پرویز مشرف سنگین غداری کے الزامات کی تحقیقات کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دے جس پر وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کی ٹیم تشکیل دی۔

    ایف آئی اے نے انکوائری کر کے وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ 16 نومبر کو جمع کروائی، انکوائری رپورٹ کے تناظر میں لاء ڈویژن کی مشاورت سے 13 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کے خلاف شکایت درج کرائی گئی۔ شکایت میں پرویز مشرف کے خلاف سب سے سنگین جرم متعدد مواقع پر آئین معطل کرنا تھا۔

    خصوصی عدالت نے 24 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کو بطور ملزم طلب کیا، سابق صدر پر 31 مارچ 2014 کو فرد جرم عائد کی گئی، پرویز مشرف نے صحت جرم سے انکار کیا تو ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، 18 ستمبر 2014 کو پراسیکیوشن نے پرویز مشرف کے خلاف شہادتیں مکمل کیں۔

    شہادتیں مکمل ہونے پر پرویز مشرف کو بطور ملزم بیان ریکارڈ کرانے کا کہا گیا تاحال پرویز مشرف کا بطور ملزم بیان قلم بند نہ کیا جا سکا تھا، پرویز مشرف کو مسلسل عدم حاضری پر پہلے مفرور اور پھر اشتہاری قرار دیا گیا۔

    تحریک انصاف حکومت نے 23 اکتوبر 2019 کو پراسیکیوشن ٹیم کو ڈی نوٹیفائی کر دیا، پراسیکیوشن ٹیم کی تعیناتی فوجی دور حکومت میں کی گئی تھی، ڈی نوٹیفائی پراسیکیوشن ٹیم نے 24 نومبر 2019 کو خصوصی عدالت میں تحریری دلائل جمع کروائے۔

    خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف کیس کا فیصلہ سنانے کے لئے 28 نومبر کی تاریخ مقرر کی، وزارت داخلہ اور پرویز مشرف کے وکیل نے فیصلہ روکنے کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔ 27 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا۔

  • سنگین غداری کیس میں نیا موڑ، حکومت نے مزید کس کو ملزم نامزد کر دیا؟ عدالت بھی حیران

    سنگین غداری کیس میں نیا موڑ، حکومت نے مزید کس کو ملزم نامزد کر دیا؟ عدالت بھی حیران

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں پرویزمشرف سنگین غداری کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس وقاراحمد سیٹھ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،وکیل استغاثہ علی ضیا نے کہا کہ ہم نے آج تین درخواستیں جمع کرائی ہیں ایک درخواست چارج شیٹ کی ترمیم کی ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ آپ جو پڑھ رہےہیں وہ دفاع کی درخواست ہے، اس پر فیصلہ آچکا ہے

    جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ آپ اس چارج شیٹ میں کیوں ترمیم کرنا چاھتےہیں؟ آپ ان لوگوں کے خلاف درخواست دائر کیوں نہیں کرتے جن پر مددگار ہونے کا الزام ہے؟ وکیل استغاثہ نے کہا کہ نئی شکایت دائر کرنے سے ٹرائل میں تاخیر ہو سکتی ہے،اگر پہلے مرکزی ملزم کاٹرائل مکمل ہو جاتا ہے تو جو مددگارتھے ان کا کیا ہوگا؟ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جرم میں سہولت کاروں کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے، وکیل استغاثہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہےکہ کسی وقت بھی شکایت میں ترمیم کی جاسکتی ہے،

    جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جن کو آپ شامل جرم کرنا چاہتےہیں ان کے خلاف کیا تحقیقات ہوئیں؟ حکومت نے سنگین غداری کیس میں مزید افراد کو ملزم بنانے کی درخواست دےدی،حکومت نے شوکت عزیز، عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد کو ملزم بنانے کی استدعا کر دی، پراسیکیوٹر نے کہا کہ مشرف کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کو بھی ملزم بنانا چاہتے ہیں،تمام ملزمان کا ٹرائل ایک ساتھ ہونا ضروری ہے، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ ساڑھے 3سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں،آج مقدمہ حتمی دلائل کیلئے مقرر تھا تو نئی درخواستیں آ گئیں،جنہیں ملزم بنانا چاہتے ہیں ان کےخلاف کیا شواہد ہیں؟ تحقیقات اور شواہد کا مرحلہ گزرچکا،

    جسٹس نذر اکبر نے استفسار کیا کہ کیا شریک ملزمان کےخلاف نئی تحقیقات ہوئی ہیں؟ جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ شکایت درج ہونے کے بعد ہی تحقیقات ہو سکتی ہیں،ستمبر 2014 کی درخواست کے مطابق شوکت عزیز نے مشرف کو ایمرجنسی لگانے کا کہا، جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ مشرف کی درخواست کا حوالہ دے رہے ہیں جس پر فیصلہ بھی ہو چکا ،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مشرف کی شریک ملزمان کی درخواست پر سپریم کورٹ بھی فیصلہ دے چکی، جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ ترمیم شدہ چارج شیٹ دینے کیلئے 2ہفتے کی مہلت دی گئی تھی،پراسیکیوٹر نے کہا کہ قانون کے مطابق فرد جرم میں ترمیم فیصلے سے پہلے کسی بھی وقت ہو سکتی ہے،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ نے مزید کسی کو ملزم بنانا ہے تو نیا مقدمہ دائر کر دیں،کیا حکومت مشرف کےٹرائل میں تاخیر کرنا چاہتی ہے؟ ہم آپ کی درخواست واپس کررہے ہیں،

    پراسیکیوٹر علی ضیا نے کہا کہ جناب آدھا گھنٹہ دلائل دینے کے بعد درخواست واپس نہ دیں جس پر جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ نے یہ درخواست سماعت سے پہلے کیوں نہیں جمع کرائی ؟وکیل نے کہا کہ ہم نے رجسٹرار کے پاس درخواستیں جمع کرانے کی کوشش کی لیکن ممکن نہ ہو سکا،رجسٹرار خصوصی عدالت نے کہا کہ مجھے کل رات ان کا فون آیا کہ درخواست دینا چاہتے ہیں،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ کابینہ کی منظوری کے بغیر کیسے چارج شیٹ میں ترمیم کر سکتے ہیں؟ جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت اور کابینہ کی منظوری کہاں ہے؟ عدالت کی اجازت کےبغیرکوئی نئی درخواست نہیں آ سکتی،جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ چارج شیٹ میں ترمیم کیلئے کوئی باضابطہ درخواست ہی نہیں ملی،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جو درخواست باضابطہ دائر ہی نہیں ہوئی اس پر دلائل نہیں سنیں گے،جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ استغاثہ کو یہ بھی علم نہیں کہ عدالت میں درخواست کیسے دائر کی جاتی ہے،پراسیکیوٹر علی ضیا نے کہا کہ عدالت سے معذرت خواہ ہوں،جسٹس نذر اکبر نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا مقصد صرف آج کا دن گزارنا تھا،

  • وزیراعظم عمران خان بحرین سے کس ملک پہنچ گئے اور مصروفیت کیا؟

    وزیراعظم عمران خان بحرین سے کس ملک پہنچ گئے اور مصروفیت کیا؟

    وزیراعظم عمران خان بحرین سے کس ملک پہنچ گئے اور مصروفیت کیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سوئٹزرلینڈ کے شہرجنیوا پہنچ گئے، وزیراعظم عمران خان جنیوا میں 2 روزہ گلوبل رفیوجی فورم سے خطاب کریں گے، وزیراعظم اقوام متحدہ کی قیادت سمیت عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے

    گلوبل رفیوجی فورم کاانعقاد یواین ایچ سی آرکے اشتراک سے کیا جارہا ہے فورم کامقصدعالمی سطح پرپناہ گزینوں کی سیاسی حمایت کرناہے پاکستان 4 دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے پاکستان نے مشکلات کا شکارپناہ گزینوں کیلئے کھلے دل سے سرحدیں کھولیں،پاکستان کی35لاکھ افغان پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کی مثال دنیا میں نہیں ملتی

    پناہ گزینوں کیلئے پاکستان کی قربانیوں کاعالمی سطح پراعتراف کیا جاتاہے انہی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کوفورم میں شرکت کی دعوت دی گئی.

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر (یو این ایچ سی آر) اور سوئٹزرلینڈ کی حکومت جی آر ایف کی مشترکہ میزبانی کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور کوسٹا ریکا، ایتھوپیا اور جرمنی کے رہنماﺅں کے ساتھ پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے اپنے مثالی کردار کے باعث فورم کی مشترکہ صدارت کی دعوت دی ہے۔

    پناہ گزینوں کے بارے میں عالمی فورم 21 ویں صدی کے پناہ گزینوں کے بارے میں پہلا بڑا اجلاس ہے جو اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یو این ایچ سی آر اور سوئٹزرلینڈ کی حکومت کی جانب سے 17 اور 18 دسمبر کو منعقد ہورہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس بھی فورم سے خطاب کریں گے۔

    سانحہ اے پی ایس، آرمی چیف میدان میں آ گئے، قوم کو اہم پیغام دے دیا

    سانحہ اے پی ایس، وزیراعلیٰ پنجاب نے دیا اہم ترین پیغام

    سانحہ اے پی ایس،دہشت گردی کے خلاف وزیراعظم نے کیا پیغام دیا؟ اہم خبر

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی ملاقات، کیا بات ہوئی؟

    وزیراعظم کا دورہ بحرین، مشترکہ اعلامیہ جاری،کونسے معاہدے ہوئے؟ اہم خبر

    توقع ہے کہ فورم کے انعقاد سے دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے مختلف ممالک، بین الاقوامی تنظیموں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کی طرف سے کئے جانے والے وعدوں کو وسیع البنیاد بنانے اور سیاسی  حمایت اور یکجہتی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے پاکستان کے کردار اور تجربہ سے متعلق ملک کے نکتہ نظر کو واضح کریں گے۔ مشترکہ طور پر پناہ گزینوں سے متعلق عالمی فورم کا انعقاد پچھلے چالیس سال کے دوران افغان بھائیوں اور بہنوں کے لئے پاکستان کے لوگوں کے جذبے اور پاکستان کی فراخ دلی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کا اعتراف ہے۔

    وزیراعظم جنیوا میں قیام کے دوران مختلف ممالک کے اپنے ہم منصبوں اور اقوام متحدہ کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے دیئے جانے والے ظہرانے میں شرکت کریں گے.

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان بحرین کا ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد منامہ سے روانہ ہوئے۔ بحرین کے ولی عہد سلمان بن حمد عیسیٰ الخلیفہ نے ایئرپورٹ پر وزیراعظم کو الوداع کیا۔ بحرین کے شاہ حمد بن عیسی بن سلمان آل خلیفہ نے وزیر اعظم کو بحرین کا دورہ کرنے اور بحرین کے قومی دن کی تقریب میں مہمان اعزاز کے طور پر شرکت کرنے کی دعوت دی تھی۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان بحرین کے پہلے سرکاری دورہ پر منامہ پہنچے تو ولی عہد سلمان بن حمد بن عیسی الخلیفہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے ایک تقریب میں وزیراعظم عمران خان کو بحرین کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ عطاءکیا۔ وزیراعظم نے بحرین کے قومی دن کی تقریب میں مہمان اعزاز کے طور پر شرکت کی۔

    علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان اور بحرین کے ولی عہد سلمان بن حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کے درمیان الغدیبیہ پیلس میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان اور بحرین کے درمیان دوطرفہ امور اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ قبل ازیں وزیراعظم کو آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

  • بھارت میں مسلم مخالف قانون انڈین سٹیزن ایکٹ کے خلاف پاکستان نے بڑا قدم اٹھا لیا

    بھارت میں مسلم مخالف قانون انڈین سٹیزن ایکٹ کے خلاف پاکستان نے بڑا قدم اٹھا لیا

    بھارت میں مسلم مخالف قانون انڈین سٹیزن ایکٹ کے خلاف پاکستان نے بڑا قدم اٹھا لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے بھارت میں مسلم مخالف قانون انڈین سٹیزن ایکٹ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ قرارداد میں بھارتی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے متنازع قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ڈپٹی سپیکر کے زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ قرارداد وفاقی وزیر شفقت محمود نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان مذہب کی بنیاد پر بنائے گئے شہریت کے بھارتی قانون کو مسترد کرتا ہے۔ بھارت متنازع سٹیزن شپ ایکٹ فوری طور پر واپس لے۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان آسام کے بیس لاکھ مسلمانوں کی شہریت کے خاتمے کی مذمت اور کشمیر میں جاری کرفیو اٹھانےکا بھی مطالبہ کرتا ہے۔اس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل تک کشمیریوں کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھارت کو امتیازی ایکٹ واپس لینے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر مجبور کریں

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھارتی اقلیتوں کیخلاف متنازع قانون اور ان پر ہونے والے ظلم پر آواز بلند کرتے ہوئے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انڈین وزیر داخلہ امیت شاہ اور اس کے ساتھیوں پر پابندی عائد کرے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ متنازع قانون نے بھارت میں آئینی بحران کو جنم دیا۔ دنیا مودی کا چہرہ دیکھ رہی ہے جبکہ کچھ نے ابھی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں لیکن ہم بھارتی مسلمانوں کے ساتھ کل بھی اور آج بھی کھڑے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلمان، دلت، سکھ اور عیسائی بھارت میں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں پرامن مظاہرہ کرنے والوں پر ظلم کیا گیا۔ گجرات میں اسی مودی نے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کروایا تھا۔ آج وہی مودی یہ سب کچھ کر رہا ہے۔ایوان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقلیتی برادری پر ظلم کو بند کرے اور معصوم لوگوں کو رہا کیا جائے۔

    اس موقع پر سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دنیا دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہمیں بیرون ممالک کے دورے کرکے دنیا کو کشمیر کی صورتحال سے بھی آگاہ کرنا چاہیے۔ اب ہمارے پاس یہ موقع آیا ہے کہ ہم دنیا کو بھارتی مائنڈ سیٹ سے آگاہ کریں۔

    اس کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ میں ایاز صادق کے جذبات کا شکر گزار ہوں، میں ان کی تجویز سے متفق ہوں۔ ہم متنازع قانون کے خلاف متفقہ قرارداد پاس کروائیں گے جبکہ سپیکر اور چیئرمین سینیٹ سے بیرون ممالک دوروں کے حوالے سے وفد بھیجنے کے لیے تجاویز مانگیں ہیں۔