Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سیاسی تاوان کی شرط ہرگز منظور نہیں، شہباز شریف کا اعلان

    سیاسی تاوان کی شرط ہرگز منظور نہیں، شہباز شریف کا اعلان

    سیاسی تاوان کی شرط ہرگز منظور نہیں، شہباز شریف کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف کے 2 ہزارپلیٹ لیٹس پراندرونی بلیڈنگ نہ ہونامعجزہ ہے ڈاکٹر نےفوری طورپربیرون ملک بھجوانے کی تجویزدی،انڈیمنٹی بانڈ کا جوازکیا ہے؟ یہ گھٹیا حرکت اورچھوٹے ذہن کی عکاسی ہے، عمران خان کوچوٹ لگی تونوازشریف خودعیادت کیلئے گئے تھے، گھرمیں نوازشریف کیلئے باقاعدہ آئی سی یوبنایا گیا ہے،طعنہ دیاگیا نوازشریف گھرکیوں منتقل ہوئے،عمران خان چاہتے ہیں وہ قوم کوبتائیں دیکھامیں نے رقم نکلوالی، محکمہ داخلہ نیب اورنیب محکمہ داخلہ کی جانب گیند پھینک رہا ہے،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کا فیصلہ پوری قوم کے سامنے ہے، وزیراعظم اور ان کی سیاسی ٹیم کا کھیل قابل مذمت ہے، پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا، حکومت نے بدترین ڈرامہ بازی کی ہے، پاکستان کے عوام بہت رنجیدہ ہیں۔ پارٹی کو سیاسی تاوان کی شرط ہرگز منظور نہیں، کیا حکومت کے گھٹیا پن کی کوئی اور مثال ہوسکتی ہے ؟ عمران خان انسانی مسئلے کو سیاسی بنا رہے ہیں، نواز شریف کو بیٹی کے ہمراہ اڈیالہ جیل میں قید کر دیا گیا، کیا اس وقت نواز شریف نے انڈیمنٹی بانڈ دیا تھا ؟۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ انڈیمنٹی بانڈ کی آڑ میں ہم سے تاوان لینا چاہتے ہیں، سلیکٹڈ وزیراعظم ڈیڑھ سال سے بھاشن دے رہے ہیں، عمران خان این آر او دے سکتے ہیں نہ لے سکتے ہیں۔

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ میں میری جانب سے درخواست دائر کی جائےگی،امید ہےکہ عدالت جلد فیصلہ کرے گی،20دن سے حکومتی کھیل چل رہا ہے جو قابل مذمت ہے،رات کو فی الفور فیصلہ کیا کہ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے،نوازشریف اور میں نے اس مطالبے کو مسترد کیا ہے ،انڈیمنٹی بانڈ کی شرط ہرگز قبول نہیں،نوازشریف مشکل صورتحال کا مقابلہ کررہے ہیں

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ 2عدالتوں نے نوازشریف کی ضمانت منظور کی ہے،3بار وزیراعظم رہنے والے شخص سےانڈیمنٹی بانڈ مانگا جارہا ہے،یہ چاہتے ہیں لوگوں کو بتائیں کہ نوازاور شہبازشریف سے7ارب روپے نکال لیے،عدالتوں نے انڈیمنٹی بانڈ کی شرط نہیں لگائی،حکومت میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے قرضہ معاف کرایا،عوام نوازشریف کی صحت اورحکومت سیاست کی فکر میں ہے،رات میں ڈاکٹر عدنان نے فون کیا کہ نوازشریف کے پلیٹ لیٹس 16ہزار تک پہنچ گئے،نوازشریف کی بیماری کو شٹل کاک بنادیا گیا ہے،ڈاکٹر شمسی کو ہم نے نہیں،حکومت نے بلایا تھا،عمران خان نے قوم کو گمراہ کرنے کی ایک اور سازش کی ہے،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ قوم کسی حادثے کی متحمل نہیں ہوسکتی،ذلفی بخاری کو آدھے گھنٹے میں کس نے ای سی ایل سے نکلوایا؟پرویز مشرف سے تاوان نہیں مانگاگیا،مشرف کیس میں عدالت نے انہیں جانے کی اجازت دی ،نوازشریف اور مریم نواز ایون فیلڈ کیس میں ضمانت پر رہیں،العزیزیہ کیس کا فیصلہ ارشد ملک نے لکھا،جج کو تو ہٹادیا گیا لیکن فیصلہ معطل نہ ہوا،ٹرائل کورٹ نےفلیگ شپ کیس کو ختم کردیا،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف کو کچھ ہوا تو عمران نیازی کو ذمہ دارٹھہراوَں گا،جب تک نام ای سی ایل سے نہیں نکلےگا تب تک ائیرایمبولنس نہیں آسکتی،

  • مقبوضہ کشمیر:کرفیو،بھارتی مظالم اورقتل عام کا 102 واں‌ دن،کشمیری جھکے نہیں‌،آزادی کی جنگ جاری

    سری نگر:مقبوضہ وادی میں کرفیو کا102 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں

    https://www.youtube.com/watch?v=gB6fgim3mg8

    پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ 70 سال سے جاری اس تنازعے میں اس وقت شدت آئی جب پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی کی بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے علاقے کو دو وفاقی اکائیوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ جس کے بعد سے خطے میں کرفیو جیسی صورت حال ہے۔

    لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے اور گلیوں محلوں میں ہونے والے مظاہروں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے باعث حالات معمول پر نہیں آسکے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے کئی علاقوں میں ٹیلی فون اور موبائل سروس بحال کرنے، سڑکوں پر سے رکاوٹیں ہٹانے اور کرفیو میں نرمی جیسے اقدامات کا دعوی کیا ہے ، جن کا مقصد علاقے کے حالات کو تشدد کی جانب جانے سے بچانا تھا۔

    بھارتی حکومت کے اس اقدام سے قبل ہزاروں اضافی فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا گیا تھا۔فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث کشمیر میں ذرائع آمدورفت تقریبا مفلوج ہو چکے ہیں۔پابندیوں کے باعث سینکڑوں سکول اور کالجز تین ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں اور طلبہ اس لاک ڈاؤن کے بدترین متاثرین ثابت ہو رہے ہیں۔ دکانداروں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

    ان 100 دنوں میں سخت پابندیوں کے دوران دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی فوجی کشمیر کی سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا کر دیا گیا۔ حکومت نے کشمیر کے بیرونی دنیا سے زیادہ تر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہیں۔ یہاں تک کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔

    آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے تاشقند ، شملہ اور لاہور معاہدوں کو تحلیل کرنے کی اپیل کی ہے۔سید علی شاہ گیلانی نے کہا ، چونکہ بھارت نے تمام باہمی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا ہے ، لہذا پاکستان کو بھی معاہدہ تاشقند ، شملہ اور لاہور کی تمام شقوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہئے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق گیلانی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی طرف سے جاری خط میں کہاکہ پاکستان کو بھی کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن قرار دیناچاہئے کیونکہ ہندوستان نے اس صورتحال کو پھر سے1947-48 کی صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کنگن کے گنڈ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی تنظیم نو قانون 2019 کے اطلاق کے بعد سرکاری زبان ‘اردو’ بحیثیت سرکاری زبان اپنا تشخص کھو نے والی ہے۔تنظیم نو قانون 2019 میں حکومت نے واضح طور کہا ہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے پاس اردو کی سرکاری زبان کی حیثیت سے تبدیل کرنے کے اختیارات ہیں۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق اس قانون کی دفعہ 27 (1) کے مطابق قانون ساز اسمبلی ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں، جو یونین ٹیریٹری میں لاگو ہیں، یا ہندی کو بطور سرکاری زبان استعمال میں لا سکتی ہے۔

    اردو زبان و ادب کے ماہر پاکستانی صحافی محمد ہارون عباس کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والے باشندوں کے درمیان ایک پل کے علاوہ تینوں خطوں کی عوام کے لیے رابطے کی زبان ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کہا کہ اردو کشمیر کی پہچان، تہذیب اور شناخت ہے۔

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں اہم عمارتوں ، ہسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ اسٹیڈیمزاور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کے نام سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب متعدد مقامات کو سردار پٹیل اور بی جے پی کے دیگر بانیوںکے نام سے منسوب کیاجائیگا ۔ بی جے پی کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق اس سلسلے میں غور و خوض کیاجارہا ہے اور توقع ہے کہ 15نومبر تک کوئی فیصلہ کر لیا جائیگا۔

    بین الاقوامی کنونش سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، سرینگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم اور انڈور اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات اور ادارے جو شیر کشمیر کے نام سے منسوب تھے کو اب ہندو انتہا پسند لیڈروں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ سرینگر جموں ہائی وے پر ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل چنانی ناشری سرنگ کانام بھی تبدیل کر کے اب شیاماپرساد مکھر جی سرنگ رکھا جارہا ہے ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد وادی میں ٹرین سروس منگل سے دوبارہ شروع ہوگئی۔جموں و کشمیر ریلوے انتظامیہ نے ٹرین سروس بحال کرنے سے قبل ریلوے کی پٹریوں کا معائنہ کیا اور سرینگر سے بارہمولہ تک ٹرائل ٹرین چلائی۔جموں و کشمیر ریلوے کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرین نمبر 74619 صبح 10.05 بجے سرینگر سے روانہ ہوئی اور 11.45 بجے بارہمولہ پہنچی۔ٹرین نمبر74618 ، 11.55 بجے بارہمولہ سے روانہ ہوکر 1.40 بجے سرینگر پہنچی۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ٹرین سروس کو مرحلہ وار شروع کیا جائے گا اور چند روز کے بعد بارہمولہ سے بانیہال کا ٹریک بھی شروع کر دیا جائے گا۔

    مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی مذمت کے لئے مقبوضہ برطانیہ کے علاقے برٹن کے ہزاروں افراد نے لندن میں بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔اس مظاہرے کا اہتمام ایک کشمیری تنظیم کشمیر فورم نے کیا تھا۔کشمیر فورم کے ترجمان نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ احتجاج کشمیر کی صورتحال پر بیداری پیدا کرنے اور ان ‘غیر انسانی’ حالات کو اجاگر کرنے کے لئے کیا گیا تھا جن کا فی الحال کشمیری عوام سامنا کر رہے ہیں۔برٹن میں کشمیر فورم کے چیئرمین خادم ٹھٹھال نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ لندن کی گلیوں میں بڑے پیمانے پر اجتماع دیکھ کر خوشی ہوئی کہ برٹن برادری اس میں شامل ہو رہی ہے اور کشمیریوں کے لئے اپنی حمایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    ایک کشمیری تھنک ٹینک کشمیرشماریات مرکز(KSC) اور کشمیری صحافیوں کی تنظیم ایسوسی ایشین آف کشمیری ڈس پلیسڈ جرنلسٹس(AKDJ) کے زیر انتظام15نومبرسہہ پہر تین بجے اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینارمنعقد کیا جارہا ہے جس کا عنوان ‘تنازعہ کشمیر : بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، بھارتی تسلط اور ہندوتوا ۔ امن اور انسانیت کے لئے چیلنج اور خطرہ’ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وفاقی وزیربرائے امور کشمیر علی امین گنڈا پورکے علاوہ ڈاکٹر محمد فیصل ترجمان دفترخارجہ ، سابق سفیر عبدالباسط ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ایم ایس شیخ تجمل الاسلام ، ڈاکٹر ماریہ سلطان چیئرپرسن / ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ (SASSI) یونیورسٹی، چیئرمین تنظیم امن و ثقافت مشعال حسین ملک اورماہربین الاقوامی قانون بیرسٹر افضل حسین جعفری اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

    ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کے خاتمے کے بعد جموں وکشمیر کی شناخت ، تہذیب وتمدن، ثقافت کے خا تمے کا عمل شروع کر دیا ہے ۔کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کشمیر یوں کی شناخت بچانے کیلئے موثر انداز میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا حق ہے اور بھارت کو انہیں یہ حق دینا ہوگا۔ لندن میں مقیم ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر اور کشمیری خاتون رہنما شائستہ صفی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ سمیت گرفتار تمام سیاسی رہنماوںکی رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین کو حراست سے آزاد کیا جائے اور جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بحال کی جائیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قائدین کی حراست غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔ ہائیکورٹ کے سکریٹری رتن لال گپتا نے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ تمام قائدین کو رہا کردیا جائے اور دیگر افراد کو جو 5 اگست سے زیرحراست ہیں، رہا کردیا جائے۔ جموں و کشمیر سے دستور ہند کی دفعہ 370 کی معطلی کے بعد یہ حراستیں عمل میں آئی تھیں۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں منگل کے روز ایک مسافر گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس سے بارہ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ، ڈوڈہ ، ممتاز احمد نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ حادثہ ضلع کے مرمت کے علاقے کے قریب ہوا۔اس افسر نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ گاڑی کھلینی سے مرمت کے گووا گاؤں جارہی تھی جب اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی۔

    جموں سرینگر قومی شاہراہ آمد و رفت کے لیے بحال کر دی گئی ۔جموں سرینگر قومی شاہراہ چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے بند تھی جہاں منگل کو دو روز بعد گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی گئی۔دو روز قبل رامبن میں ڈیگڈول کے قریب قومی شاہراہ پر زمین اور چٹانیں کھسک گئی تھی جس کی وجہ سے شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدو رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ٹریفک پولیس کے سربراہ نے ساؤتھ ایشین وائرکو بتایاکہ گذشتہ روز 270 کلو میٹر لمبی جموں سرینگر قومی شاہراہ پر بھاری چٹانیں کھسکنے سے سڑک نقل و حرکت کے لیے دوبارہ بند ہو گئی تھی جس کی وجہ سے تقریبا دو ہزار گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔ پھنسی ہوئی گاڑیوں کو اب جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں منگل کو ایک تیندوے نے 18 سالہ لڑکے کوہلاک کر دیا۔ایک پولیس عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ پیرشوتم کمار پر پیر کی رات دیر گئے رامکوٹ کے علاقے مکوال گاؤں میں اپنی رہائش گاہ کولوٹتے ہوئے تیندوے کے حملے میں ہلاک ہوا۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی لاش جھاڑیوں سے برآمد ہوئی ہے اور قانونی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد آخری رسومات کے لئے اس کے اہل خانہ کے حوالے کردی گئی۔اس واقعے نے مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے ۔

  • پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح کم کیوں؟ وزیراعظم پریشان

    پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح کم کیوں؟ وزیراعظم پریشان.
    یہ امر باعث تعجب ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں صدقات و خیرات اور فلاح و بہبود کے کاموں میں عوام سبقت لیتی ہے وہاں ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح سب سے کم ہے

    اسلام آباد ۔ 13 نومبر (اے پی پی) وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں غربت کے خاتمہ کےلئے ضروری ہے کہ کاروباری عمل تیز ہو، لوگ منافع بخش کاروباری سرگرمیاں سر انجام دیں، معاشی عمل تیز ہونے سے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور لوگ غربت سے نکلتے ہیں، حکومت کی معاشی اصلاحات کے نتیجہ میں معیشت میں بہتری اور استحکام آیا ہے، ملک کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم ہو رہا ہے، ملکی برآمدات میں بڑھوتری جبکہ درآمدات میں کمی آئی ہے، سٹاک مارکیٹ میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسران سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ایف بی آر کے سینئر افسران موجود تھے۔

    وزیرِاعظم عمران خان نے افسران سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر باعث تعجب ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں صدقات و خیرات اور فلاح و بہبود کے کاموں میں عوام سبقت لیتی ہے وہاں ٹیکس اکٹھا کرنے کی شرح سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں انہوں نے سب سے زیادہ پیسہ اکٹھا کیا ہے، شوکت خانم دنیا کا وہ واحد ہسپتال ہے جہاں کینسر جیسے مرض کا جس کا علاج مہنگا ترین علاج شمار ہوتا ہے وہاں 75 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے اور یہ سارا پیسہ لوگوں کے عطیات سے اکٹھا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم کے بعد انہوں نے نمل یونیورسٹی کی تعمیر کی جہاں 90 فیصد غریب بچوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم مفت فراہم کی جاتی ہے، نمل یونیورسٹی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں پاکستانی عوام نے نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا بلکہ اس کی توسیع میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔

    کے پی ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی پہلی ٹورازم موبائل ایپ متعارف کرا دی

    سیاحت کے فروغ کے لئے عمران خان کی آزاد کشمیر حکومت کو ہدایت

    انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو پاکستانی عوام کی جانب سے انسانی خدمت کا یہ مظاہرہ ہو رہا ہے لیکن جب دوسری طرف ملک کےلئے ٹیکس کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو تعجب ہوتا ہے کہ یہاں ٹیکس دینے کی شرح سب سے کم ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ جب بھی کاروباری طبقہ سے ملے ہیں ان سب کا اتفاق تھا کہ ایف بی آر پر لوگوں کا اعتماد نہیں ہے اور کاروباری طبقہ میں ایف بی آر سے متعلق ایک خوف پایا جاتا ہے۔

    وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان آج ایک دوراہے پر کھڑا ہے، ماضی میں جس طرح اس ملک کو چلایا جا رہا تھا یہ ملک اب مزید اس طرح نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو ملک تاریخی معاشی مسائل کا شکار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ بڑا مسئلہ ملک کی نوجوان آبادی جو کہ کل آباد ی کا 60 فیصد ہے اس کے ٹیلنٹ کو بروئے کار لانا ہے، نوجوان نسل کو تعلیم دے کر ان کو معاشرے کی تعمیر و ترقی کا جزو بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پر توجہ دینے کے لئے ضروری ہے کہ مطلوبہ مالی وسائل موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیلنج اور بھی بڑھ جاتا ہے جب ملکی آمدنی کا تقریباً آدھا حصہ ملکی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ اس ملک کے پوٹینشل سے اچھی طرح واقف ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ہمارے ملک میں 8 کھرب ٹیکس اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔

    سیاحت کا فروغ، وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس،حکومت کیا کرنے جا رہی ہے؟

    وزیرِاعظم عمران خان نے ایف بی آر کے افسران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک کے مالی وسائل کو بڑھانے اور معاشی طور پر ترقی دینے میں ان کا کلیدی کردار ہے، جب تک اس ملک میں ٹیکس اکٹھا کرنے اور ٹیکس کی ادائیگی کے عمل کو ایک ذمہ داری اور فریضہ نہیں سمجھا جائے گا ملک ترقی نہیں کر پائے گا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ آج کی ملاقات کا مقصد ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لانے کےلئے ٹیکس افسران کا فیڈ بیک اور ان سے تجاویز حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی ترقی کےلئے ہم نے کاروباری طبقہ اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کا ٹیکس کے نظام پر اعتماد بحال نہیں ہو گا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر پائے گا۔ وزیرِاعظم نے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ٹیکس کے نظام میں جو بھی اصلاحات لائی جائیں ان میں ایف بی آر کے افسران کی آراءاور تجاویز شامل ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت ایف بی آر کے افسران کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ ٹیکس نظام، ماضی میں حکومتی شہ خرچیوں اور بے جا اخراجات کی وجہ سے عوام کا اعتماد متاثر ہونے سے متعلق ایک سوال پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ اگر عوام اپنے خون پسینے کی کمائی کو بے جا اخراجات اور حکومتی شہ خرچیوں کی نذر ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کا ٹیکس کے نظام پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے دن سے کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ اخراجات میں کٹوتی، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی مہم انہوں نے اپنی ذات اور وزیرِاعظم آفس سے شروع کی۔

    سیاحت کے فروغ اورمسافروں کی سہولت کے لئے خیبر پختونخواہ حکومت بازی لے گئی

    انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم آفس کے خرچے میں 30 کروڑ تک کمی لائی گئی ہے، چونکہ وہ اپنے ذاتی گھر میں رہتے ہیں اس لئے وزیرِاعظم ہاﺅس کا خرچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ذاتی رہائشگاہ کے اطراف میں سیکورٹی کے تقاضوں کے تحت باڑ لگانے کا معاملہ آیا تو اس کےلئے پیسہ سرکاری خزانہ سے نہیں لیا گیا، گھر کی سڑک خراب تھی تو اس کی مرمت بھی سرکاری خزانہ کی بجائے ان کی اپنی جیب سے کی گئی۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کفایت شعاری کی مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی کے مقابلہ میں 45 ارب روپے کم خرچہ کیا ہے، فوج نے اپنے اخراجات میں کمی کی ہے اور بجٹ میں کٹوتی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی کابینہ ممبران کے بیرونی ممالک کے غیر ضروری دوروں پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے تاکہ عوام کے ٹیکسوں سے جمع شدہ پیسے کی ایک ایک پائی کی حفاظت کی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا مسئلہ یہی رہا ہے کہ جو اقتدار میں آیا اس نے سرکاری وسائل اور عوامی پیسوں کو اپنی ذات پر خرچ کرنا اپنا حق سمجھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں گورنر ہاﺅس مری کی تزئین و آرائش پر 83 کروڑ روپے خرچ کئے گئے، اس کے برعکس موجودہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ تمام گورنر ہاﺅسز اور سرکاری ریسٹ ہاﺅسز کو بروئے کار لایا جائے اور ان سے آمدنی پیدا کی جائے تاکہ ان پر سرکار کا خرچہ نہ ہو۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ہم نے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہے۔ ماضی کے حکمرانوں اور اپنے غیر ملکی دوروں کا تقابل کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں واشنگٹن کے دورے پر اخراجات 8 لاکھ ڈالر تھے، (ن) لیگ کے دور میں ایک دورہ 7 لاکھ ڈالر میں ہوا جبکہ وہی دورہ جب انہوں نے کیا تو اس پر محض 65000 ڈالر خرچ آیا۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں دورے کے دوران اٹھنے والے اخراجات کے بارے میں وزیرِاعظم نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری کا دورہ 12 لاکھ ڈالر، سابق وزیرِاعظم نواز شریف کا دورہ 11 لاکھ، سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کا دورہ 8 لاکھ میں مکمل ہوا جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں اسی دورے کے اخراجات محض ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر تک محدود رکھے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ عوام کا پیسہ بچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری کی مہم کا مقصد عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے اربوں روپے اپنی تشہیر کےلئے خرچ کئے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ اس وقت ملک میں ٹیکس اور ملکی پیدوار کی شرح بہت کم ہے جو کہ برصغیر میں بھی سب سے کم ترین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بنگلہ دیش کے مقابلے میں بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شرح کو ہم نے بہتر بنانا ہے۔ ایک سوال کے جواب پر وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ایف بی آر بھی اسی معاشرے کا ایک حصہ ہے، اگر معاشرے میں مجموعی طور پر اخلاقیات کا درجہ کم ہو اور کرپشن میں اضافہ ہو تو ایف بی آر بھی یقیناً اس سے متاثر ہو گا لیکن ہم نے اس میں بہتری لانی ہے۔

    وزیرِاعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیم، صحت و دیگر سہولتوں کی بہتری کےلئے ضروری ہے کہ اس کےلئے درکار مالی وسائل اکٹھے کئے جائیں۔ وزیرِاعظم نے ایف بی آر افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اکٹھا کرنا ایک قومی فریضہ ہے جس پر ملکی ترقی کا انحصار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیرِاعظم نے کہا کہ ماضی میں قومیانے کی پالیسی سے معاشی عمل اور صنعتی ترقی کو بے تحاشا نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ دولت اور وسائل کی معاشرے میں منصفانہ تقسیم کےلئے مزید بہتر طریقے اختیار کئے جا سکتے تھے لیکن 70ءکی دہائی میں جو پالیسی اختیار کی گئی اس سے دولت بنانے کے عمل کو جرم گردانہ گیا اس سے نہ صرف صنعتی ترقی کا عمل جمود کا شکار ہوا بلکہ کاروباری برادری کے اعتماد کو ناقابل تلافی ٹھیس پہنچی۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت کے خاتمہ کےلئے ضروری ہے کہ کاروباری عمل تیز ہو، لوگ منافع بخش کاروباری سرگرمیاں سر انجام دیں، معاشی عمل تیز ہونے سے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور لوگ غربت سے نکلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں 70ء کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا گیا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت کی معاشی اصلاحات کے نتیجے میں معیشت میں بہتری اور استحکام آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کےلئے اقدامات کئے ہیں جن کی بدولت پاکستان کی ایز آف ڈوئنگ بزنس ریٹنگ میں 28 پوائنٹس بہتری آئی ہے جس کا ورلڈ بینک اور دیگر عالمی اداروں نے بھی اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ ماننا ہے کہ کاروباری برادری کےلئے جس قدر آسانیاں ہوں گی ملک اتنا جلدی ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک ایک دوراہے پر کھڑا ہے ہم نے اس ملک میں اصلاحات متعارف کرانے کا عمل شروع کر دیا ہے جس سے معاسی اعشاریوں میں بہتری آ رہی ہے، آج ملک کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم ہو رہا ہے، ملکی برآمدات میں بڑھوتری جبکہ درآمدات میں کمی آئی ہے، سٹاک مارکیٹ میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو بدلنا ہے، ہم نے بیرون ملک پاکستانیوں کا اعتماد بحال کرنا ہے تاکہ وہ بھی ملکی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے سے ملکی معاشی ترقی کا ایک نیا باب روشن ہوگا۔ اس صورتحال میں ٹیکس نظام کی بہتری انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس ضمن میں ٹیکس افسران کا کلیدی کردار ہے۔ وزیراعظم نے ایف بی آر افسران کو یقین دلایا کہ حکومت ٹیکس نظام کی بہتری کے سلسلہ میں پیش کی جانے والی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ٹیکس افسران کے تجربہ سے استفادہ کیا جائے گا۔

  • نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت مل گئی مگر کتنی دیر کے لیے

    نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت مل گئی مگر کتنی دیر کے لیے

    وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دیدی ہے۔ یہ اجازت چار ہفتوں کیلئے دی گئی ہے۔
    وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ میاں نواز شریف کو چار ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔ انھیں صحت کے بڑے مسائل درپیش ہیں، ان کے دل کا آپریشن بھی ہو چکا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق انھیں سٹروک بھی آیا تھا۔ میڈیکل رپورٹس کے مطابق نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد 25 سے 30 ہزار تک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کیلئے 7 ارب کا شورٹی بانڈ جمع کرانا ہوگا۔ ان سے بیل بانڈ کی بجائے انڈیمنٹی بانڈ کا تقاضا کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت آج احکامات جاری کر دے گی جس کے بعد نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جائے گی۔ دعا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر وطن واپس آئیں۔ بیرون ملک روانگی کیلئے نواز شریف یا شہاز شریف 7 ارب روپے کا شورٹی بانڈ جمع کرائیں۔

    اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ کابینہ نے محدود وقت میں اہم فیصلہ کیا، نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت میں کوئی سیاسی تناظر نہیں ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی مشروط منظوری دی گئی ہے۔حکومت پاکستان نے شرط رکھی ہے کہ نوازشریف کو بیرون ملک سفر کرنے کے لیے زرضمانت دینے کے ساتھ واپسی کا وقت بھی بتانا ہوگا۔ مسلم لیگ نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ حکومتی شرائط ناقابل قبول ہیں اور حکام نوازشریف کو باہر بھیجنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

  • دھرنا ختم،کارکن شاہراہیں بند کردیں، کسی مسافر کوبھی ناگزرنےدیں‌، اب بنے گا نیا پاکستان ،مولانا کااعلان

    اسلام آباد:اورپھروہی کچھ ہوا جس کی پیشین گوئیاں‌کی جارہی تھیں‌، مولاناخالی ہاتھ اسلام آباد سے لوٹ رہے ہیں، ڈر ہے کہ اس فیصلے کے بعد مولانا کی ناکام واپسی سے مولانا کی سیاست بھی ختم ہوجائے گی ، اطلاعات کےمطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنا ختم کرکے سڑکوں پر آنے کا اعلان کردیا۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک نئے محاذ پر جانے کا اعلان کر دیاگیا ہے، دو ہفتوں سے ایک قومی سطح کا اجتماع تسلسل کے ساتھ ہوا، ہماری قوت یہاں پر جمع ہیں جب کہ ہمارے دیگر کارکنان یہاں دھرنے میں شریک افراد کے تعاون کے منتظر ہوں گے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم سڑکوں پر موجود اپنے ساتھیوں کے پاس جائیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ دیوار ہل چکی ہے اس کو ایک دھکا دینے کی ضرورت ہیں، ہم اگلے مرحلے میں اس دیوار کو گرادیں گے۔ اب ہم شہروں کے اندر نہیں بلکہ باہر شاہراہوں پر بیٹھیں گے، جس طرح ہم یہاں پر امن تھے اگلے محاز پر بھی پرامن رہیں گے۔

    اس سے قبل خطاب کرتے ہوئے مولانا عطاء الرحمان نے اگلے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پلان بی پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اہم شاہراہوں کو بلاک کیا چکا ہے جبکہ بلوچستان میں چمن کوئٹہ شاہراہ پردھرنا دیا گیا ہے۔

    مولاناعطاء الرحمان نے کہا کہ کل دوپہر دو بجے سے خیبرپختونخوا کو راولپنڈی سے ملانے والے اہم شاہراہوں کو بند کیا جائے گا جب کہ پنجاب میں بزدار شاہراہ کو بھی بند کیا جائے گا، شاہراہ ریشم کو بھی بند کردیا گیا ہے، اب لوئر دیر میں چکدرہ چوک، انڈس ہائی وے کو بھی بند کریں گے۔

    مولانا راشدسومرو نے کہا کہ کارکن کل دوبجےسےپہلے پر ان مقامات پر پہنچیں لیکن ہرگزڈنڈے نہ اٹھائیں اور ایمبولینس کوراستہ دیں، کل سے کراچی میں حب ریورروڈ، سکھر میں موٹر وے، گھوٹکی سےپنجاب میں داخل ہونےوالی شاہراہ اور کندھ کوٹ سےپنجاب میں داخل ہونےوالے راستے کوبندکردیاجائےگا۔

  • آرمی ایکٹ میں ترمیم نہیں‌کررہے، ریویو کرنا ہرکیس کا آئینی حق ہے، ترجمان پاک فوج

    آرمی ایکٹ میں ترمیم نہیں‌کررہے، ریویو کرنا ہرکیس کا آئینی حق ہے، ترجمان پاک فوج

    راولپنڈی:آرمی ایکٹ کے حوالےسے حامد میر اور کئی دوسرے اینکرز کی طرف سے پھیلائے جانے والے پراپیگنڈہ کو یکسرمستردکرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نےکہا ہےکہ ایسی کوئی تجویززیرغورنہیں ہے،پراپیگنڈہ کرنے والوں کے یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ کسی بھی کیس پرنظرثانی کا آئنی حق مجرم کو بھی ہے اور عدالت کو بھی حاصل ہے

    اپنے ٹویٹ پیغام میں‌میجرجنرل آصف غفورنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سازشیوں‌کوجواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو اس وقت اس قسم کی خبرین پھیلارہے ہیں‌ان کے لیے پیغام ہےکہ فوج ایک ادارہ ہے اورادارہ اپنی آئندہ کی حکمت عملی کو سامنے رکھتے ہوئے گاہے بگاہے قانون سازی کرتا رہا ہے،لہٰذااس قسم کا پراپیگنڈے سے بازرہیں .ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کوئی اورکسی قسم کی کلبھوشن یادیوکورعایت نہیں‌دی جارہی ،

    دیرآئیددرست آئید،زبردست فیصلہ بزدارچھاگئے

    یاد رہےکہ پاک فوج کے خلاف تبصرے ، تجزئیے اوربحث ومباحثہ کے حوالے سے مشہورپاکستان کے معروف اینکرنے اپنی ایک ٹویٹ میں‌زہراگلتے ہوئے اس انداز سے الزام تراشی کی کہ شاید کہ فوج کےخلاف بیان دینے کی بہت سخت سزا ہے ، حامد میرنے پاک فوج پرسخت تنقید کرتے ہوئے الزام دھرا ہے کہ پاک فوج کلبھوشن یادیوکوریلیف دے رہی ہے ، حامد میر کے ان الزامات کے جواب میں‌ پاک فوج کے ترجمان نے حامد میر کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ٹویٹ پیغام کے ذریعے پراپیگنڈے کو ختم کردیا ہے

  • نواز شریف کا ای سی ایل سے نام نہ نکلنے کا امکان، بابر اعوان نے وزیراعظم کو دیا مشورہ

    نواز شریف کا ای سی ایل سے نام نہ نکلنے کا امکان، بابر اعوان نے وزیراعظم کو دیا مشورہ

    نواز شریف کا ای سی ایل سے نام نہ نکلنے کا امکان، بابر اعوان نے وزیراعظم کو دیا مشورہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا بغیرزرضمانت نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نہ ہٹائے جانے کا امکان ہے،ن لیگ نے ایسا کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی،سرکاری ذرائع کے مطابق ن لیگ کو کہا گیاکہ لکھ کردیں نواز شریف کی عدم واپسی پران پرعائد رقم ادا کی جائے گی،حکومت نواز شریف کو انسانی بنیادوں پر بیرون ملک بھیجنا چاہتی ہے،مگر واپسی کی ضمانت بھی چاہتی ہے،

    نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالہ سے کابینہ کی ذیلی کمیٹی آج 4 بجے پریس کانفرنس کرے گی،فروغ نسیم،شہزاد اکبر اور عاشق فردوس اعوان پریس کانفرنس کریں گے

    کابینہ کمیٹی کا اجلاس ختم، کیا فیصلہ ہوا، سب جاننے کیلیے بیتاب

    نواز شریف ضمانت پر ہیں، حکومت کس چیز کی ضمانت مانگ رہی ہے؟ ن لیگ

    نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف کی طبیعت کیسی؟ کہاں سے علاج کروانا چاہتے ہیں، مریم نے اظہار کر دیا

    دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کاماہرقانون ڈاکٹربابراعوان سےرابطہ ہوا ہے،بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے 26مارچ کے فیصلے پرعمل درآمدکرنے کا مشورہ دیا ہے،سپریم کورٹ نےفیصلےمیں نوازشریف کو پاکستان میں سہولیات سے استفادہ  کرنے کی ہدایت کی تھی،

    وفاقی کابینہ نے نوازشریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کے لیےمشروط منظوری دے دی،سابق وزیراعظم نوازشریف کو سیکیورٹی بانڈ جمع کرانا ہوگا، کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط منظوری دی گئی، کابینہ اجلاس میں کئی وزرا نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت بھی کی.

  • پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنا شروع ہوگئی ہے،وزیراعظم

    پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنا شروع ہوگئی ہے،وزیراعظم

    پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنا شروع ہوگئی ہے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب ہوئی،وزیراعظم عمران خان معاہدوں پردستخط کی تقریب میں شریک تھے،پاکستان اورچینی کمپنیوں کا پاکستان میں ٹائروں کی تیاری کے منصوبے کا آغاز کرنا ہے.

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آگیا ہے،روپےکی قدرمیں استحکام لانے کے لیے معاشی ٹیم کومبارک باد دیتا ہوں، گزشتہ 3ماہ میں روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے،پاکستان میں سرمایہ کاری آنا شروع ہوگئی ہے،

    نواز شریف کے ساتھ ڈیل ہوئی یا نہیں؟ وزیراعظم خود میدان میں آ گئے، کیا کہا؟

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا کہ پاکستانی کی معاشی سمت درست ہے،نوجوانوں کو روزگار دینا ہے،روزگار دینے کےلیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،روپے پر دباوَ تھا اورڈالربڑھ رہا تھا،خوشی ہے اب پاکستان میں ٹائر بنے گا،ٹائر پاکستان میں بننے سے ڈالر خرچ نہیں کرنا پڑے گا ،پاکستان کی معاشی سمت درست ہے،حکومت کی کوشش ہے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے،ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کے درجے میں 28پوائنٹس بہتری آئی،  حکومت کی کوشش ہے ملک میں سرمایہ کاروں کو لے کرآئیں،

    نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف کی طبیعت کیسی؟ کہاں سے علاج کروانا چاہتے ہیں، مریم نے اظہار کر دیا

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا اگلا چیلنج عوام کو روزگار دینا ہے،ماضی میں پاکستان اور چین کے ایسے تعلقات نہیں تھے،ضروری ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کےلیے آسانی پیدا کریں

  • نواز ان ای سی ایل، کابینہ کمیٹی کی سفارشات تیار، کیا ہو گا حتمی فیصلہ؟

    نواز ان ای سی ایل، کابینہ کمیٹی کی سفارشات تیار، کیا ہو گا حتمی فیصلہ؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالہ سے وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے حتمی سفارشات تیار کرلیں،سفارشات وزیراعظم عمران خان کو بھیجی جائیں گی،وزیراعظم سفارشات کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کریں گے، سفارشات میں کہا گیا ہے کہ قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کیا جائے،سفارشات میں نیب کے موقف کو بھی شامل کیا گیا ہے،

    کابینہ کمیٹی کا اجلاس ختم، کیا فیصلہ ہوا، سب جاننے کیلیے بیتاب

    نواز شریف ضمانت پر ہیں، حکومت کس چیز کی ضمانت مانگ رہی ہے؟ ن لیگ

    نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف کی طبیعت کیسی؟ کہاں سے علاج کروانا چاہتے ہیں، مریم نے اظہار کر دیا

    نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالہ سے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا.،وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر ایاز اجلاس میں شریک تھے ۔ن لیگ کی جانب سے عطاء اللہ تارڑ اجلاس میں شریک تھے، ن لیگی نمائندے نے اجلاس میں نواز شریف کے ضمانتی بانڈز دینے سے انکار کر دیا ہے، اجلاس کے بعد بیرسٹرمنوراقبال اورعطاء تارڑکاشہباز شریف سےٹیلی فونک رابطہ کیا وکلاء نے شہباز شریف کو اجلاس کی اب تک کی صورتحال سے آگاہ کیا،

    وفاقی کابینہ نے نوازشریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کے لیےمشروط منظوری دے دی،سابق وزیراعظم نوازشریف کو سیکیورٹی بانڈ جمع کرانا ہوگا، کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط منظوری دی گئی، کابینہ اجلاس میں کئی وزرا نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت بھی کی.

    فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کوئی ٹائم فریم نہیں، فیصلہ سنانے کے وقت کا ابھی تعین نہیں کیا گیا، ذیلی کمیٹی کی تجاویز پر کابینہ حتمی فیصلہ کرے گی۔ فیصلہ کسی کی رضا مندی پر منحصر نہیں، فیصلہ سنانے کے وقت کا ابھی تعین نہیں کیا گیا، ذیلی کمیٹی میرٹ پر فیصلہ کرے گی، کمیٹی کی جانب سے سفارشات کابینہ کو بھجوائی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ نواز شریف نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر تھے جب ان کی طبیعت خراب ہوئی اور سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں لاہورہائیکورٹ نے نواز شریف کی چوھدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس کیس میں سزا آٹھ ہفتوں کے لئے معطل کی، نواز شریف سروسز سے گھر منتقل ہو چکے ہیں جہاں ان کا علاج جاری ہے، نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دے رکھی ہے، ابھی تک نام نکالنے کا فیصلہ نہ ہو سکا، نواز شریف کی  لندن کی ٹکٹ بک تھی جسے منسوخ کروا دیا گیا.

  • کلبھوشن یادیو،حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    کلبھوشن یادیو،حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    کلبھوشن یادیو،حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    عالمی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق دینے کے لئے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے، آرمی ایکٹ میں ترمیم سے کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق ملے گا. اس حوالے سے حکومت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا ڈرافٹ بھی تیار کرلیا ہے۔

    ترمیم کے بعد کلبھوشن یادیو کو سزا کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل کا حق ملے گا جب کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم صرف عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کے معاملے پر لاگو ہو سکے گی، ترمیم کا مقصد فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا قانونی طریقہ طے کرنا ہے۔

    کلبھوشن بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے، صدر عالمی عدالت انصاف کا اعتراف

    کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی، بھارت نے دکھائی پھر ہٹ دھرمی

    عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق پاکستان بھارت کو پہلے کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دی تھی،عالمی عدالت انصاف نے فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا گیا کہ کلبھوشن بھارتی جاسوس ہے، اسے رہا کرنے کی بجائے پاکستان سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور پاکستان بھارت کو قونصلر رسائی بھی دے.

    واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2018ء کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، یہ بھارتی جاسوس بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور ”را“ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پر حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے انڈین جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اس کے بعد کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔

    کلبھوشن کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد اپریل 2018ء میں اس کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

    گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

    کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا