Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑوں گا جس نے ملک کا پیسہ لوٹا ہے،وزیراعظم

    ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑوں گا جس نے ملک کا پیسہ لوٹا ہے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موٹروے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومیں جذبے اور جنون سے کھڑی ہوتی ہیں،کھیل ہو یا کوئی اور میدان جیت ہمیشہ جنون کی ہوتی ہے،سی پیک سے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے گے،میری کوئی رشتہ داری نہیں، مراد سعید میرٹ پر آئے ہیں،اللہ میرے ملک کے نوجوانوں میں مراد سعید جیسا جنون پیدا کرے،ہم نے پیسہ اپنے نوجوانوں پر خرچ کرنا ہے

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ سی پیک سے چین کو بھی فائدہ ہوگا،ہمارا سال مشکل گزرا، ہمارے پاس پیسہ نہیں تھا،گزشتہ دنوں کنٹینر کے اوپر ایک سرکس ہوئی ،میں نے کہا تھا یہ ایک مہینہ کنٹینر پر گزار لیں سب باتیں مان لیں گے،کابینہ کو کہاگھبراوَ نہیں میں جانتا ہوں دھرنا کیا ہوتا ہے،ہم نے کہا مدرسہ کے بچوں کی ذمہ داری ہم لیتے ہیں،کسی کوپتہ ہی نہیں تھا کہ وہ دھرنا دینے کیوں آئے ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے 126دن دھرنے میں گزارے،مجھے مولانا فضل الرحمان کی آخرت کی فکر ہے،ہمارےنبی ﷺدنیاکےعظیم ترین انسان ہیں،بلاول نے کہا جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے،بارش سے متعلق بلاول کے بیان پر آئن سٹائن کی روح تڑپ اٹھی، جس کو کرپشن کا ڈر تھا وہ سب کنٹینر پر تھے،پہلے دن ہی کہا تھا یہ مافیا اکٹھا ہو جائے گا،مولانا کا آزادی مارچ نہیں ایک "سرکس” تھا،اگر پاکستان میں کوئی دھرنے کا ماہر ہے تو وہ میں ہوں،

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ سب کے سب بلیک میل کرنے آئے تھے،بارش ہوئی بچے سردی میں اورمولانا گرم کمرے میں تھے،اگر میں ان سے مک مکا کرلوں تو سب آرام سے بیٹھ جائیں گے،مجھے خوف خدا ہے، اپنی آخرت کی فکر ہے، ووٹ کی نہیں،ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑوں گا جس نے ملک کا پیسہ لوٹا ہے،شریف خاندان کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ یہ 7ارب کی تو ٹپ دے سکتے ہیں، نوازشریف کے بیٹے پہلے سے ہی بیرون ملک بھاگے ہوئے ہیں شہبازشریف پر پہلے ہی سے کرپشن کے کیسز چل رہے ہیں،شریف خاندان کے تو پوتے بھی ارب پتی ہیں،شہبازشریف اپنے بھاگے ہوئے بیٹے اور داماد کی گارنٹی دیں،

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ ریاست مدینہ کی بنیادانصاف اورانسانیت پررکھی گئی تھی،

  • این آراو مانگنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، وزیراعظم

    این آراو مانگنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے بابراعوان کی ملاقات ہوئی،ملاقات میں قانونی امورپرتبادلہ خیال کیا گیا، نوازشریف کی ای سی ایل کیس سمیت قانونی وسیاسی امورپرمشاورت کی گئی

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ رولزآف لاسے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا، این آراو مانگنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں،ادارے پاکستان کومضبوط رکھنے کیلئے ایک پیج پرہیں، انصاف کابول بالاچاہتا ہوں،

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ احتساب ہمیشہ پہلی ترجیح رہے گی، کرپشن ریاست کیلئے دیمک ہے،اداروں کی تعمیرنواورمضبوطی کے بغیرکام نہیں چلے گا،عوامی ریلیف کیلئے رواں ماہ بڑے ایکشن سامنے آئیں گے،

    کامیاب جوان پروگرام،20 روز میں کتنے لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں؟ وزیراعظم کو بریفنگ

    پاکستان میں داعش کا وجود نہیں، ہمسایہ میں داعش کی موجودگی پرتحفظات ہیں، پاکستان

    مودی کے خلاف وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان، کیا کہا؟ بھارت ہوا پریشان

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیرشہ رگ ہے،آزادی کشمیریوں کی منزل ہے، میڈیا قوم کی تعلیم وتربیت کا فرض ادا کرے،

    وزیراعظم عمران خان سے معاون خصوصی زلفی بخاری نے بھی ملاقات کی، وزیراعظم سے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت نے بھی ملاقات کی جس میں انہوں نے اپنے حلقے کے مسائل کے حوالہ سے بات چیت کی

  • پاکستان کا شاہین ون میزائل کا کامیاب تجربہ، کتنے کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟ بھارت سرکار پریشان

    پاکستان کا شاہین ون میزائل کا کامیاب تجربہ، کتنے کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟ بھارت سرکار پریشان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے شاہین ون میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شاہین ون میزائل ہرقسم کے وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،شاہین ون میزائل650کلومیٹر تک ہدف کونشانہ بنانےکی صلاحیت رکھتا ہے،

    پاک بحریہ کا خشکی سے بحری جہاز کو نشانہ بنانے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شاہین ون میزائل650کلومیٹر تک وارہیڈ لےجانے کی صلاحیت رکھتا ہے،

    پاک فوج کے ترجمان کے مطابق شاہین ون میزائل کا تجربہ ملکی دفاع کو یقینی بنانا ہے،تجربے کا مقصد آرمی اسٹریٹجک فورس کمانڈ کی تیاریوں کاجائزہ لینا تھا،

    پاکستان کا بیلسٹک میزائل غزنوی کا کامیاب تجربہ

    میزائل تجربہ پاکستان کے کم سے کم قابل اعتماد دفاعی صلاحیت کےعزم کا عکاس ہے،شاہین ون میزائل زمین سے زمین تک مار کرنیوالا بیلسٹک میزائل ہے،تجربے کے وقت ڈی جی سٹریٹجک پلانز ڈویژن سمیت اعلیٰ عسکری حکام موجود تھے

  • جنازے میں شرکت کیلئے آنیوالے ڈوب گئے،8 لاشیں نکال لی گئیں، مزید تلاش جاری

    جنازے میں شرکت کیلئے آنیوالے ڈوب گئے،8 لاشیں نکال لی گئیں، مزید تلاش جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے اوکاڑہ میں مہلو شیخاں کے مقام پر دریائے ستلج میں کشتی الٹنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،وزیراعلیٰ نے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کی ہے،

    وزیراعلیٰ پنجاب نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ دیگر افراد کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن تیز کیا جائے۔امدادی سرگرمیو ں کیلئے تما م تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔وزیراعلیٰ نے انتظامیہ سے حادثے کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔

    واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے، ملکوشیخو کےقریب دریائےستلج میں کشتی الٹ گئی،کشتی الٹنے سے 20 افراد ڈوب گئے ،اطلاع پر علاقہ مکینوں اور ریکسیو حکام موقع پر پہنچ گئے،علاقہ مکینوں اورریسکیوحکام نے 8 لاشیں نکال لیں.

    باقی افراد کی تلاش کی لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے، مزید ڈوبنے والے افراد کو تلاش کیا جارہا ہے، واقعہ میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے،واقعہ کی اطلاع ملنے پر شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ چکی ہے، شہری بھی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ریسکیو آپریشن مین حصہ لے رہے ہیں،

    کشتی میں سوار افراد منچن آباد سے جنازہ میں شرکت کے لیےآ رہے تھے،کشتی میں ڈوبنے والے بیشتر افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے ، 8 لاشیں اب تک نکالی جا چکی ہیں جس میں 5 مرد اور تین خواتین شامل ہیں۔

  • بھارتی جاسوس یا….پنجاب کے شہر سے دو بھارتی باشندے گرفتار

    بھارتی جاسوس یا….پنجاب کے شہر سے دو بھارتی باشندے گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضلع بہاولپور کی تحصیل یزمان کے ریگستان سے 2 بھارتی شہریوں کو گرفتارکیا گیا ہے،جن کی شناخت، پرشانت اور وری لال کے طور پر ہوئی، دونوں بھارتی شہریوں کو بغیر پاسپورٹ اور دستاویزات کے داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا، جب ان سے دستاویزی شناخت طلب کی گئی تو ان کے پاس نہ تھی، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دونوں بھارتی باشندوں کو گرفتار کر لیا

    پاکستان میں دہشتگردی کروانے بھارتی جاسوس کس ملک سے آئے؟ سراغ لگا لیا گیا

    دونوں بھارتی شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،بھارتی شہری پرشانت کا تعلق بھارتی ریاست حیدرآباد اور وری لال کا مدھیہ پردیش سے ہے، دونوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ وہ پاکستان کیوں آئے؟ ان کا مشن کیا تھا.

    بھارت باز نہ آیا، پاکستان کے سرحدی علاقوں کی کیسے جاسوسی کر رہا ہے؟ اہم خبر

     

    قبل ازیں تین ماہ قبل ماہ اگست میں بلوچستان سے ایک اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کا جاسوس اور دہشت گرد پکڑا گیا جس کا نام راکھی راج بتایا گیا ہے. یہ انڈیا کا رہنے والا اور بلوچستان میں تخریب کاری و جاسوسی کے سپیشل مشن پر تھا،

    پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اسے کافی عرصہ سے نظر میں رکھے ہوئے تھی جسے انٹرسیپٹ ہونے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو سمیت کئی جاسوس اور دہشت گرد پکڑے جاتے رہے ہیں،

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم ،جبراورکرفیوکا106واں دن ، کشمیربنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتا رہا

    لاہور:مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم ،جبر،قہراورکرفیوکا106 واں روز،کشمیربنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا مقبوضہ وادی سے اطلاعات کے مطابق وادی میں کرفیو کا106 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،

    تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے کھلم کھلا کشمیری نوجوانوں کے قتل اور خواتین کی عصمت دری کے عزائم سامنے آنے لگے ہیں، جب کہ مقبوضہ وادی میں ایک سو چھ دن سے کرفیو نافذ ہے۔

    عالمی طاقتوں نے مکمل طور پر چپ سادھ لی ہے، پاکستانی حکومت کی بھرپور کوششوں کے بعد عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کی پہلی بار طاقت ور گونج پیدا ہوئی، تاہم انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور چھوٹے ممالک کو مجبور کرنے والی طاقتیں کشمیر پر خاموش دکھائی دے رہی ہیں۔106 روز گزرنے کے بعد بھی عالمی طاقتیں جموں و کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن ختم نہیں کروا سکیں۔

    ادھر مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، موبائل سروس، ٹرانسپورٹ بدستور بند ہیں، کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی کے تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور دکانیں بھی بند پڑی ہوئی ہیں۔

    بھارتی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، بھارت نے کشمیری رہنماؤں غلام نبی خان، ظفر حسین بٹ کی جائیداد سیل کر دی ہے، کے ایم ایس کے مطابق وادی میں شدید سردی پڑ رہی ہے، دوسری طرف کھانے پینے اور ادویات کی قلت ہے جس کی وجہ سے کشمیری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

    عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی بے رحمانہ پامالی، کرفیو، لاک ڈائون، گھر گھر تلاشی کے دوران کشمیری نوجوانوں کی جانوں سے کھیلنے، مساجد میں نماز پڑھنے پر پابندی اور اشیائے خوردنی و ادویات کی قلت کو 103دن گزر گئے ہیں مگر زبانی جمع خرچ سے زیادہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ان ظالمانہ اقدامات کو روکنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

    منگل کو گاندربل میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں مزید تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ اس طرح گزشتہ 24گھنٹے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 5ہو گئی۔ اسی دوران ریاست کا اسلامی تشخص مٹانے کے لئے اہم عمارتوں، اسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ گرائونڈز اور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی پر بھی عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ 70 سال سے جاری اس تنازعے میں اس وقت شدت آئی جب پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی کی بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے علاقے کو دو وفاقی اکائیوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ جس کے بعد سے خطے میں کرفیو جیسی صورت حال ہے۔

    لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے اور گلیوں محلوں میں ہونے والے مظاہروں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے باعث حالات معمول پر نہیں آسکے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے کئی علاقوں میں ٹیلی فون اور موبائل سروس بحال کرنے، سڑکوں پر سے رکاوٹیں ہٹانے اور کرفیو میں نرمی جیسے اقدامات کا دعوی کیا ہے ، جن کا مقصد علاقے کے حالات کو تشدد کی جانب جانے سے بچانا تھا۔

    بھارتی حکومت کے اس اقدام سے قبل ہزاروں اضافی فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا گیا تھا۔فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث کشمیر میں ذرائع آمدورفت تقریبا مفلوج ہو چکے ہیں۔پابندیوں کے باعث سینکڑوں سکول اور کالجز تین ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں اور طلبہ اس لاک ڈاؤن کے بدترین متاثرین ثابت ہو رہے ہیں۔ دکانداروں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

    ان 100 دنوں میں سخت پابندیوں کے دوران دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی فوجی کشمیر کی سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا کر دیا گیا۔ حکومت نے کشمیر کے بیرونی دنیا سے زیادہ تر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہیں۔ یہاں تک کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔

    آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے تاشقند ، شملہ اور لاہور معاہدوں کو تحلیل کرنے کی اپیل کی ہے۔سید علی شاہ گیلانی نے کہا ، چونکہ بھارت نے تمام باہمی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا ہے ، لہذا پاکستان کو بھی معاہدہ تاشقند ، شملہ اور لاہور کی تمام شقوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہئے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق گیلانی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی طرف سے جاری خط میں کہاکہ پاکستان کو بھی کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن قرار دیناچاہئے کیونکہ ہندوستان نے اس صورتحال کو پھر سے1947-48 کی صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کنگن کے گنڈ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی تنظیم نو قانون 2019 کے اطلاق کے بعد سرکاری زبان ‘اردو’ بحیثیت سرکاری زبان اپنا تشخص کھو نے والی ہے۔تنظیم نو قانون 2019 میں حکومت نے واضح طور کہا ہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے پاس اردو کی سرکاری زبان کی حیثیت سے تبدیل کرنے کے اختیارات ہیں۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق اس قانون کی دفعہ 27 (1) کے مطابق قانون ساز اسمبلی ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں، جو یونین ٹیریٹری میں لاگو ہیں، یا ہندی کو بطور سرکاری زبان استعمال میں لا سکتی ہے۔

    اردو زبان و ادب کے ماہر پاکستانی صحافی محمد ہارون عباس کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والے باشندوں کے درمیان ایک پل کے علاوہ تینوں خطوں کی عوام کے لیے رابطے کی زبان ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کہا کہ اردو کشمیر کی پہچان، تہذیب اور شناخت ہے۔

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں اہم عمارتوں ، ہسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ اسٹیڈیمزاور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کے نام سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب متعدد مقامات کو سردار پٹیل اور بی جے پی کے دیگر بانیوںکے نام سے منسوب کیاجائیگا ۔ بی جے پی کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق اس سلسلے میں غور و خوض کیاجارہا ہے اور توقع ہے کہ 15نومبر تک کوئی فیصلہ کر لیا جائیگا۔

    بین الاقوامی کنونش سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، سرینگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم اور انڈور اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات اور ادارے جو شیر کشمیر کے نام سے منسوب تھے کو اب ہندو انتہا پسند لیڈروں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ سرینگر جموں ہائی وے پر ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل چنانی ناشری سرنگ کانام بھی تبدیل کر کے اب شیاماپرساد مکھر جی سرنگ رکھا جارہا ہے ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد وادی میں ٹرین سروس منگل سے دوبارہ شروع ہوگئی۔جموں و کشمیر ریلوے انتظامیہ نے ٹرین سروس بحال کرنے سے قبل ریلوے کی پٹریوں کا معائنہ کیا اور سرینگر سے بارہمولہ تک ٹرائل ٹرین چلائی۔جموں و کشمیر ریلوے کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرین نمبر 74619 صبح 10.05 بجے سرینگر سے روانہ ہوئی اور 11.45 بجے بارہمولہ پہنچی۔ٹرین نمبر74618 ، 11.55 بجے بارہمولہ سے روانہ ہوکر 1.40 بجے سرینگر پہنچی۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ٹرین سروس کو مرحلہ وار شروع کیا جائے گا اور چند روز کے بعد بارہمولہ سے بانیہال کا ٹریک بھی شروع کر دیا جائے گا۔

    مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی مذمت کے لئے مقبوضہ برطانیہ کے علاقے برٹن کے ہزاروں افراد نے لندن میں بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔اس مظاہرے کا اہتمام ایک کشمیری تنظیم کشمیر فورم نے کیا تھا۔کشمیر فورم کے ترجمان نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ احتجاج کشمیر کی صورتحال پر بیداری پیدا کرنے اور ان ‘غیر انسانی’ حالات کو اجاگر کرنے کے لئے کیا گیا تھا جن کا فی الحال کشمیری عوام سامنا کر رہے ہیں۔برٹن میں کشمیر فورم کے چیئرمین خادم ٹھٹھال نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ لندن کی گلیوں میں بڑے پیمانے پر اجتماع دیکھ کر خوشی ہوئی کہ برٹن برادری اس میں شامل ہو رہی ہے اور کشمیریوں کے لئے اپنی حمایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کے خاتمے کے بعد جموں وکشمیر کی شناخت ، تہذیب وتمدن، ثقافت کے خا تمے کا عمل شروع کر دیا ہے ۔کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کشمیر یوں کی شناخت بچانے کیلئے موثر انداز میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا حق ہے اور بھارت کو انہیں یہ حق دینا ہوگا۔ لندن میں مقیم ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر اور کشمیری خاتون رہنما شائستہ صفی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ سمیت گرفتار تمام سیاسی رہنماوںکی رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین کو حراست سے آزاد کیا جائے اور جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بحال کی جائیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قائدین کی حراست غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔ ہائیکورٹ کے سکریٹری رتن لال گپتا نے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ تمام قائدین کو رہا کردیا جائے اور دیگر افراد کو جو 5 اگست سے زیرحراست ہیں، رہا کردیا جائے۔ جموں و کشمیر سے دستور ہند کی دفعہ 370 کی معطلی کے بعد یہ حراستیں عمل میں آئی تھیں۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں منگل کے روز ایک مسافر گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس سے بارہ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ، ڈوڈہ ، ممتاز احمد نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ حادثہ ضلع کے مرمت کے علاقے کے قریب ہوا۔اس افسر نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ گاڑی کھلینی سے مرمت کے گووا گاؤں جارہی تھی جب اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی۔

    جموں سرینگر قومی شاہراہ آمد و رفت کے لیے بحال کر دی گئی ۔جموں سرینگر قومی شاہراہ چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے بند تھی جہاں منگل کو دو روز بعد گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی گئی۔دو روز قبل رامبن میں ڈیگڈول کے قریب قومی شاہراہ پر زمین اور چٹانیں کھسک گئی تھی جس کی وجہ سے شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدو رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ٹریفک پولیس کے سربراہ نے ساؤتھ ایشین وائرکو بتایاکہ گذشتہ روز 270 کلو میٹر لمبی جموں سرینگر قومی شاہراہ پر بھاری چٹانیں کھسکنے سے سڑک نقل و حرکت کے لیے دوبارہ بند ہو گئی تھی جس کی وجہ سے تقریبا دو ہزار گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔ پھنسی ہوئی گاڑیوں کو اب جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں منگل کو ایک تیندوے نے 18 سالہ لڑکے کوہلاک کر دیا۔ایک پولیس عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ پیرشوتم کمار پر پیر کی رات دیر گئے رامکوٹ کے علاقے مکوال گاؤں میں اپنی رہائش گاہ کولوٹتے ہوئے تیندوے کے حملے میں ہلاک ہوا۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی لاش جھاڑیوں سے برآمد ہوئی ہے اور قانونی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد آخری رسومات کے لئے اس کے اہل خانہ کے حوالے کردی گئی۔اس واقعے نے مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے ۔

    حریت کانفرنس کے معمر رہنما سید علی گیلانی نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک اہم خط میں اس صورتحال کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ کئے جانے والے تمام معاہدے توڑ ڈالے ہیں، اس لئے پاکستان بھی تاشقند، شملہ اور لاہور معاہدوں سمیت تمام سمجھوتوں سے قطع تعلق کا اعلان کر دے، لائن آف کنٹرول کو دوبارہ جنگ بندی لائن کا نام دے اور ایل او سی پر باڑ کے معاملہ پر نظر ثانی کرے،

    پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ 70 سال سے جاری اس تنازعے میں اس وقت شدت آئی جب پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی کی بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے علاقے کو دو وفاقی اکائیوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ جس کے بعد سے خطے میں کرفیو جیسی صورت حال ہے۔

    لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے اور گلیوں محلوں میں ہونے والے مظاہروں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے باعث حالات معمول پر نہیں آسکے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے کئی علاقوں میں ٹیلی فون اور موبائل سروس بحال کرنے، سڑکوں پر سے رکاوٹیں ہٹانے اور کرفیو میں نرمی جیسے اقدامات کا دعوی کیا ہے ، جن کا مقصد علاقے کے حالات کو تشدد کی جانب جانے سے بچانا تھا۔

    بھارتی حکومت کے اس اقدام سے قبل ہزاروں اضافی فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا گیا تھا۔فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث کشمیر میں ذرائع آمدورفت تقریبا مفلوج ہو چکے ہیں۔پابندیوں کے باعث سینکڑوں سکول اور کالجز تین ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں اور طلبہ اس لاک ڈاؤن کے بدترین متاثرین ثابت ہو رہے ہیں۔ دکانداروں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

    ان 103 دنوں میں سخت پابندیوں کے دوران دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی فوجی کشمیر کی سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا کر دیا گیا۔ حکومت نے کشمیر کے بیرونی دنیا سے زیادہ تر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہیں۔ یہاں تک کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔

    آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے تاشقند ، شملہ اور لاہور معاہدوں کو تحلیل کرنے کی اپیل کی ہے۔سید علی شاہ گیلانی نے کہا ، چونکہ بھارت نے تمام باہمی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا ہے ، لہذا پاکستان کو بھی معاہدہ تاشقند ، شملہ اور لاہور کی تمام شقوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہئے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق گیلانی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی طرف سے جاری خط میں کہاکہ پاکستان کو بھی کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن قرار دیناچاہئے کیونکہ ہندوستان نے اس صورتحال کو پھر سے1947-48 کی صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کنگن کے گنڈ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی تنظیم نو قانون 2019 کے اطلاق کے بعد سرکاری زبان ‘اردو’ بحیثیت سرکاری زبان اپنا تشخص کھو نے والی ہے۔تنظیم نو قانون 2019 میں حکومت نے واضح طور کہا ہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے پاس اردو کی سرکاری زبان کی حیثیت سے تبدیل کرنے کے اختیارات ہیں۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق اس قانون کی دفعہ 27 (1) کے مطابق قانون ساز اسمبلی ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں، جو یونین ٹیریٹری میں لاگو ہیں، یا ہندی کو بطور سرکاری زبان استعمال میں لا سکتی ہے۔

    اردو زبان و ادب کے ماہر پاکستانی صحافی محمد ہارون عباس کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والے باشندوں کے درمیان ایک پل کے علاوہ تینوں خطوں کی عوام کے لیے رابطے کی زبان ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کہا کہ اردو کشمیر کی پہچان، تہذیب اور شناخت ہے۔

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں اہم عمارتوں ، ہسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ اسٹیڈیمزاور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کے نام سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب متعدد مقامات کو سردار پٹیل اور بی جے پی کے دیگر بانیوںکے نام سے منسوب کیاجائیگا ۔ بی جے پی کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق اس سلسلے میں غور و خوض کیاجارہا ہے اور توقع ہے کہ 15نومبر تک کوئی فیصلہ کر لیا جائیگا۔

    بین الاقوامی کنونش سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، سرینگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم اور انڈور اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات اور ادارے جو شیر کشمیر کے نام سے منسوب تھے کو اب ہندو انتہا پسند لیڈروں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ سرینگر جموں ہائی وے پر ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل چنانی ناشری سرنگ کانام بھی تبدیل کر کے اب شیاماپرساد مکھر جی سرنگ رکھا جارہا ہے ۔

    مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی مذمت کے لئے مقبوضہ برطانیہ کے علاقے برٹن کے ہزاروں افراد نے لندن میں بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔اس مظاہرے کا اہتمام ایک کشمیری تنظیم کشمیر فورم نے کیا تھا۔کشمیر فورم کے ترجمان نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ احتجاج کشمیر کی صورتحال پر بیداری پیدا کرنے اور ان ‘غیر انسانی’ حالات کو اجاگر کرنے کے لئے کیا گیا تھا جن کا فی الحال کشمیری عوام سامنا کر رہے ہیں۔برٹن میں کشمیر فورم کے چیئرمین خادم ٹھٹھال نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ لندن کی گلیوں میں بڑے پیمانے پر اجتماع دیکھ کر خوشی ہوئی کہ برٹن برادری اس میں شامل ہو رہی ہے اور کشمیریوں کے لئے اپنی حمایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔

    ایک کشمیری تھنک ٹینک کشمیرشماریات مرکز(KSC) اور کشمیری صحافیوں کی تنظیم ایسوسی ایشین آف کشمیری ڈس پلیسڈ جرنلسٹس(AKDJ) کے زیر انتظام آج 15نومبرسہہ پہر تین بجے اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینارمنعقد کیا جارہا ہے جس کا عنوان ‘تنازعہ کشمیر : بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، بھارتی تسلط اور ہندوتوا ۔ امن اور انسانیت کے لئے چیلنج اور خطرہ’ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وفاقی وزیربرائے امور کشمیر علی امین گنڈا پورکے علاوہ ڈاکٹر محمد فیصل ترجمان دفترخارجہ ، سابق سفیر عبدالباسط ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ایم ایس شیخ تجمل الاسلام ، ڈاکٹر ماریہ سلطان چیئرپرسن / ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ (SASSI) یونیورسٹی، چیئرمین تنظیم امن و ثقافت مشعال حسین ملک اورماہربین الاقوامی قانون بیرسٹر افضل حسین جعفری اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

    ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کے خاتمے کے بعد جموں وکشمیر کی شناخت ، تہذیب وتمدن، ثقافت کے خا تمے کا عمل شروع کر دیا ہے ۔کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کشمیر یوں کی شناخت بچانے کیلئے موثر انداز میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا حق ہے اور بھارت کو انہیں یہ حق دینا ہوگا۔ لندن میں مقیم ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر اور کشمیری خاتون رہنما شائستہ صفی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی سابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ سمیت گرفتار تمام سیاسی رہنماوںکی رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین کو حراست سے آزاد کیا جائے اور جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بحال کی جائیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قائدین کی حراست غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔ ہائیکورٹ کے سکریٹری رتن لال گپتا نے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ تمام قائدین کو رہا کردیا جائے اور دیگر افراد کو جو 5 اگست سے زیرحراست ہیں، رہا کردیا جائے۔ جموں و کشمیر سے دستور ہند کی دفعہ 370 کی معطلی کے بعد یہ حراستیں عمل میں آئی تھیں۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں منگل کے روز ایک مسافر گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس سے بارہ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ، ڈوڈہ ، ممتاز احمد نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ حادثہ ضلع کے مرمت کے علاقے کے قریب ہوا۔اس افسر نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ گاڑی کھلینی سے مرمت کے گووا گاؤں جارہی تھی جب اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی۔

  • ابرارالحق کو دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا جھٹکا

    ابرارالحق کو دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا جھٹکا

    ابرارالحق کو دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا جھٹکا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابرار الحق کی بطور چیئرمین پاکستان ریڈ کریسنٹ تعیناتی معطل کر دیا،اسلام آبادہائیکورٹ نےابرارالحق کی تعیناتی پرحکم امتناع جاری کردیا،حکم امتناع اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نےجاری کیا، عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت تک ابرار الحق کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل رہے گا،

    ابرار الحق کے لئے بڑی مشکل، عدالت میں درخواست دائر

    عدالت نے اٹارنی جنرل،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن،ابرار الحق ا وردیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،اٹارنی جنرل انور منصور بغیر نوٹس کے عدالت کے سامنے پیش ہوئے،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ابھی تو نوٹس بھی نہیں ہوئے اور اٹارنی جنرل موجود ہیں، پہلے کیس بتائیں میں نے فائل نہیں پڑھی،

    عدالت نے کہا کہ قانون بتائیں کہ کیا یہ تعیناتی خاص مدت کی تقرری ہوتی ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ قوانین کے مطابق چیئرمین کا تقرر 3سال کے لیے ہو گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیئرمین کو ہٹانے کا طریقہ کہاں لکھا ہے؟ جس پر وکیل نے کہا کہ قوانین میں چیئرمین کو ہٹانے کا کوئی طریقہ موجود نہیں،

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رول 10اے کے تحت چیئرمین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ایگزیکٹو کے پاس اختیار ہے کہ کسی وقت بھی چیئرمین کو برطرف کردے،چیئرمین کی برطرفی کا نوٹیفکیشن چیلنج نہیں کیا گیا،چیئرمین کے خلاف کوئی الزام نہیں اس لیے ان کو کوئی نوٹس نہیں کیا گیا،

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ رول کے ہوتے ہوئے حکومت کیسے چیئرمین کو ہٹاسکتی ہے؟عدالت نے کیس کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کر دی

    سابق چیئرمین ریڈکریسنٹ سعیدالہٰی نےابرارالحق کی تعیناتی چیلنج کر دی

    عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ابرارالحق کو 3 سال کیلئے چیئرمین مقررکیا گیا ہے، بطورچیئرمین میری تعیناتی 3سال کیلئے کی گئی تھی، میری تعیناتی کی مدت مکمل ہونے سے قبل ابرارالحق کی تعیناتی غیرقانونی ہے،مدت 9 مارچ 2020  میں مکمل ہورہی ہے، تعیناتی کی مدت مکمل ہونے سے قبل ابرارالحق کی تعیناتی غیرقانونی ہے،

    ابرارالحق نے ایسا کیوں کیا۔۔عوام غم و غصے کا شکار

    واضح رہے کہ چیئرمین ہلال احمر ڈاکٹر سعید الٰہی کو عہدے سے ہٹا کر ابرارالحق کو تعینات کر دیا گیا ہے،

    ابرارالحق کو چیئرمین ہلال احمر تعینات کئے جانے پر عوامی حلقوں سے حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان میرٹ میرٹ کہا کرتے تھے اور اب انہوں نے ڈاکٹر سعید الہیٰ کو ہٹا کر ابرارالحق کو چیئرمین ہلال احمر لگا دیا

  • عدالتی فیصلہ، نواز شریف کب روانہ ہونگے؟ حکومت سپریم کورٹ جا پائیگی یا نہیں؟

    عدالتی فیصلہ، نواز شریف کب روانہ ہونگے؟ حکومت سپریم کورٹ جا پائیگی یا نہیں؟

    عدالتی فیصلہ، نواز شریف بیرون ملک کب روانہ ہونگے؟ حکومت سپریم کورٹ جا پائیگی یا نہیں؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف منگل کو لندن کے لیے روانہ ہوں گے،نواز شریف کے ہمراہ شہباز شریف بھی لندن جائیں گے،نوازشریف ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن روانہ ہوں گے،ایئر ایمبولینس منگوا لی گئی ہے، نواز شریف کے ہمراہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی جائیں گے،

    نواز شریف درخواست، لاہور ہائیکورٹ نے کیا تحریری فیصلہ جاری

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے اپنے بھائی حسین نواز کو ٹیلی فون کیا اور نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے حوالے سے آگاہ کیا۔مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کے باہر جانے کی تیاری مکمل ہے ان کی روانگی کا سامان تیار ہوگیا ہے بس کلیئرنس سرٹیفکیٹ ملنے پر ایئرایمبولینس تیار ہوگی۔قطر سے ایئرایمبولینس پاکستان منگوائی جائے گی، ایئرایمبولینس میں تمام طبی سہولتیں موجود ہوتی ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ‎نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کرنے کی تیاریاں ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دی گئی ہیں، طویل ہوائی سفر کے لئے طبی طور پر تیار کرنے کے لئے ڈاکٹرز کو 48 گھنٹے درکار ہیں۔‎بیرون ملک فضائی سفر کے دوران نوازشریف کے پلیٹ لیٹس برقرار رکھنے، دل کی کسی ممکنہ تکلیف سے بچاو کے لئے ڈاکٹرز طبی احتیاطوں کی تیاری کے عمل میں ہیں ‎ڈاکٹرز امر کو یقینی بنانے کی تگ و دو میں ہیں کہ دوران سفر کسی ممکنہ ایسی طبی پیچیدگی سے بچا جاسکے جو نوازشریف کی زندگی کے لئے مہلک ثابت ہوسکتی ہو۔

    شہباز بتائیں آپ نواز کو واپس لائیں گے؟ شہباز شریف نے عدالت میں کیا جواب دیا؟

    لندن جانے کا خواب ڈاکٹر نے مٹی میں ملا دیا، نواز شریف کا علاج کہاں سے کروایا جائے؟ نئی ہدایات

    مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ ‎ڈاکٹرز کی اولین کوشش نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کو محفوظ سطح پر لانا ہے جس سے وہ بحفاظت سفر کر سکیں ‎قوم سے دعا کی خصوصی اپیل ہے کہ نواز شریف بخیریت سفر کرسکیں ‎قوم کا شکریہ ادا کر تی ہوں کہ قائد کے لیے دعائیں کرکے ان سے اپنی مخلصانہ محبت اور وابستگی کا کا اظہار کرتے رہے۔

    نواز شریف کی صحت، ڈاکٹرز نے وارننگ دے دی، خطرے کی گھنٹی

    بانڈ نہیں ہم یہ چیز دے سکتے ہیں،ن لیگ نے عدالت میں کیا کہا؟ سماعت دوسری بار ملتوی

    نوازان ای سی ایل، وفاقی حکومت کیا کرنے جا رہی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتا دیا

    شہباز اگر مگر کے بغیر واضح طور پہ بتائیں کہ نواز شریف واپس آئیں گے؟ عدالت

    عدالت نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی غیر مشروط اجازت دے دی، عدالت نے نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا ،لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کو4ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی، لاہورہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کا ڈرافٹ پراعتراض مستردکردیا ، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 4 ہفتے بعدصحت ٹھیک نہ ہوئی توقیام میں توسیع ہوسکتی ہے،

  • بریکنگ،نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی عدالت نے دی اجازت، مشروط یا غیر مشروط؟ اہم خبر

    بریکنگ،نواز شریف کو بیرون ملک کی اجازت مل گئی، مشروط یا غیر مشروط؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لئے بھجوانے کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، عدالت نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی غیر مشروط اجازت دے دی، عدالت نے نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا ،لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کو4ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی،

    لاہورہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کا ڈرافٹ پراعتراض مستردکردیا ، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 4 ہفتے بعدصحت ٹھیک نہ ہوئی توقیام میں توسیع ہوسکتی ہے،

    ن لیگ نے عدالتی حکم پر ڈرافٹ پیش کیا تو اس پر حکومت نے اعتراض کیا جس کے بعد وفاق نے اپنا ڈرافٹ پیش کیا، ن لیگ نے اسے مسترد کر دیا جس کے بعد عدالت نے کہا کہ ہم ڈرافٹ بنائٰیں گے، عدالت نے ڈرافٹ بنایا جس میں کہا گیا کہ عدالت نے نئے نواز شریف کو بیرون ملک علاج کیلئے 4 ہفتے کا وقت دیا ،ڈرافٹ میں کہا گیا کہ اگر نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو اس مدت میں توسیع ہوسکتی ہے،حکومتی نمائندہ سفارتخانے کے ذریعے نواز شریف سے رابطہ کرسکے گا،

    نواز شریف کی صحت، ڈاکٹرز نے وارننگ دے دی، خطرے کی گھنٹی

    بانڈ نہیں ہم یہ چیز دے سکتے ہیں،ن لیگ نے عدالت میں کیا کہا؟ سماعت دوسری بار ملتوی

    نوازان ای سی ایل، وفاقی حکومت کیا کرنے جا رہی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتا دیا

    شہباز اگر مگر کے بغیر واضح طور پہ بتائیں کہ نواز شریف واپس آئیں گے؟ عدالت

    ڈرافٹ کی فراہمی کے بعد دوبارہ عدالت میں سماعت ہوئی،عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ڈرافٹ پڑھا ہے؟ جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ہمیں ڈرافٹ پر کچھ تحفظات ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ کون کون سے اعتراضات ہیں ،سرکاری وکیل نے کہا کہ بیان حلفی پر عمل نہیں ہوتاتو کیا ہوگا ؟

    شہباز بتائیں آپ نواز کو واپس لائیں گے؟ شہباز شریف نے عدالت میں کیا جواب دیا؟

    لندن جانے کا خواب ڈاکٹر نے مٹی میں ملا دیا، نواز شریف کا علاج کہاں سے کروایا جائے؟ نئی ہدایات

    عدالت نے کہا کہ پھر توہین عدالت کی کارروائی کا آپشن موجود ہے صبح سے شام ہوگئی ہے ابھی تک اتفاق راے نہیں ہوا،

    کیس کی سماعت جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے، ان کے ساتھ لیگی رہنما پرویز رشید اور احسن قبال، جاوید ہاشمی بھی موجود تھے۔

    حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل چودھری اشتیاق اے خان جبکہ قومی احتساب بیور کی جانب سے عدالت میں فیصل بخاری اور چودھری خلیق الرحمٰن پیش ہوئے۔

  • نواز شریف کو کتنے ہفتے کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے؟ عدالتی مسودہ سامنے آ گیا

    نواز شریف کو کتنے ہفتے کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے؟ عدالتی مسودہ سامنے آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالہ سے تیار کرہ مسودہ فریقین کے حوالہ کر دیا، ن لیگی رہنما احسن اقبال، شہباز شریف اور نواز شریف کے وکلا نے مسودہ کا جائزہ لیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالتی مسودے کا جائزہ لیا.

    عدالت نے نئے بیان حلفی میں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کیلئے 4 ہفتے کا وقت دیا ،ڈرافٹ میں کہا گیا کہ اگر نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو اس مدت میں توسیع ہوسکتی ہے،حکومتی نمائندہ سفارتخانے کے ذریعے نواز شریف سے رابطہ کرسکے گا،عدالت نے وفاقی حکومت اور شہباز شریف کے وکلا کومجوزہ متن فراہم کردیا

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس علی باقرنجفی اورجسٹس سرداراحمد نعیم پرمشتمل بنچ نے درخواست پر سماعت کی،

    شہباز بتائیں آپ نواز کو واپس لائیں گے؟ شہباز شریف نے عدالت میں کیا جواب دیا؟

    لندن جانے کا خواب ڈاکٹر نے مٹی میں ملا دیا، نواز شریف کا علاج کہاں سے کروایا جائے؟ نئی ہدایات

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے عدالت میں دلائل دیئے ، شہباز شریف سمیت دیگر ن لیگی رہنما بھی عدالت میں موجود تھے،

    عدالت نے کہا کہ اگر نواز شریف کے دروان علاج وفاق طلب کر لیتی ھے تو کیا ہو گا،نواز شریف کی رپورٹس حکومت کو بھجوائی جاتی رہے، نواز شریف کے وکیل اشتر اوصاف ایڈوکیٹ نے کہا کہ نواز شریف کو جب بھی ڈاکٹرز فٹ قرار دیں گے، نواز شریف اسی روز واپس آئیں گے،حکومت کا اعتراض غیر قانونی ھے،

    نواز شریف کی صحت، ڈاکٹرز نے وارننگ دے دی، خطرے کی گھنٹی

    بانڈ نہیں ہم یہ چیز دے سکتے ہیں،ن لیگ نے عدالت میں کیا کہا؟ سماعت دوسری بار ملتوی

    سرکاری وکیل نے کہا کہ خدشہ ھے کہ نواز شریف بھی اسحاق ڈار کی طرح واپس نہیں آئیں گے، نواز شریف ڈاکٹرز سے جعلی رپورٹ بنوا کر بھجواتے رہیں گے، عدالت نے کہا کہ جس دن آپ نے نواز شریف کو برگر کھاتے دیکھا آپ نواز شریف کے خلاف درخواست دائر کر دیجیے گا، عدالت کے ریمارکس پر عدالت میں ہر طرف قہقہے نظر آئے،

    جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ نوازشریف کا بیان حلفی مناسب ہے، شہبازشریف کے بیان حلفی میں لفظ "فیسیلٹیٹ” کو لفظ "انشور” میں بدل دیں،

    وفاق نے نوازشریف کےبیرون ملک سفرکے لیے شرائط عدالت میں جمع کرادی گئیں،

    نوازان ای سی ایل، وفاقی حکومت کیا کرنے جا رہی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتا دیا

    شہباز اگر مگر کے بغیر واضح طور پہ بتائیں کہ نواز شریف واپس آئیں گے؟ عدالت

    عدالت نے کہا کہ حکومت کی طرف سے لگائی گئی شرائط قانونی ہیں یا نہیں جائزہ لیتے ہیں، اگر نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ سے بری ہو جاتے ہیں تو کیا ہو گا ،نواز شریف کو علاج کے لئے 8 ہفتوں کی ضمانت عدالت نے دی ھے ،ہم وفاق کے خدشات بھی دیکھیں گے، آٹھ ہفتوں میں ضمانت کی میعاد ختم ہوجائے توعدالت ہی اسے دیکھے گی ،سب جانتے ہیں کہ نواز شریف شدید بیمار ہیں اللہ انہیں صحت دے،

    نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ہم 4 ہفتے لکھ کر نہیں دے سکتے، سرکاری وکیل نے کہا وقت کا بتایا جائے کہ نواز شریف کب تک واپس آئیں گے، ان کی ضمانت کا وقت متعین ہے جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ہم کچھ نہیں بتا سکتے نواز شریف ٹھیک ہو جائیں گے تو واپس آ جائیں گے.

    سرکاری وکیل نے کہا کہ نواز شریف بیرون ملک علاج کے لیے جاسکتے ہیں معیاد ختم ہونے کے بعد حکومت سے اجازت لینا ہوگی ،حکومت کی اجازت میڈیکل رپورٹس سے مشروط ہوگی نواز شریف کے بیان حلفی میں شامل ہو کہ جوگارنٹی دی اس کوتسلیم کرتےہیں،

    عدالت نے کہا کہ عدالت ڈرافٹ تیار کر دیتی ہے جسے دونوں فریق دیکھ لیں، ججز چیمبر میں چلے گئے،عدالت نے سماعت ایک بار پھر کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی