Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ڈوبتی معیشت کوچلنےکےقابل بنادیا،دشمنان پاکستان اسی وجہ سےمجھےپسند نہیں کرتے:وزیراعظم

    اسلام آباد: ڈوبتی معیشت کوچلنےکےقابل بنادیا،دشمنان پاکستان اسی وجہ سےمجھے اپنا دشمن سمجھتے ہیں‌ ، اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا اصل غم یہی ہے کہ ڈوبتی معیشت کو چلنے کے قابل بنادیا ہے۔

    بریج سٹیشن ہسپتال کے نواح‌ میں‌ فائرنگ،حسین نواز نے گاڑی دوڑا دی، 

    وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کووزیراعظم نے اداروں میں ہم آہنگی کا موقف اپنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جس مافیا نے 15 ماہ زور لگایا وہ ناکام ہوگا، ملکی معیشت کو چلنے کے قابل بنادیا ہے۔

    ہائے "میرابچہ ” شہرمیں کمسن بچوں کےاغوا کا سلسلہ تھم نہ سکا

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے دوران بڑی تبدیلیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ کل لاہور جارہا ہوں، بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوں گی۔حکومتی ترجمانوں کے اجلاس کے دوران ارکان نے رائے دی کہ رانا تنویر کو پی اے سی چیئرمین بنانے کا جواز نہیں بنتا ہے۔

    شہبازشریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کودل کی سخت تکلیف،میڈیکل رپورٹس تشویش ناک

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ادارےمضبوط ہورہےہیں اور اپنی حدودمیں رہ کرکام کررہے ہیں،عدلیہ مضبوط ہے اور دیگرادارے بھی مضبوط ہورہے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں اداروں کی بہتری کیلئےمیرٹ پرتوجہ بہت ضروری ہے کیونکہ میرٹ جتنازیادہ ہوگااتنی ہی جمہوریت پروان چڑھےگی،

  • بریج سٹیشن ہسپتال کے نواح‌ میں‌ فائرنگ،حسین نواز نے گاڑی دوڑا دی، نوازشریف بچ نکلنے میں‌کامیاب،

    لندن: بریج سٹیشن ہسپتال کے نواح‌ میں‌ فائرنگ،میاں نوازشریف بچ نکلنے میں‌کامیاب، بیٹےنےگاڑی دوڑاکرجان بچائی ،اطلاعات کےمطابق لندن میں‌بریج سٹیشن ہسپتال کے نواح میں مین شاہراہ پرشدید فائرنگ کی گئی ،فائرنگ کی آواز پر لندن بریج سٹیشن کو بند کر دیا گیا جبکہ پولیس کی بھاری تعداد نے لندن بریج ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

    https://www.youtube.com/watch?v=GzBFK_EXE9U

    ذرائع کے مطابق یہ فائرنگ اس وقت کی گئی جب میاں نواز شریف اپنے بیٹے حسین نواز کے ہمراہ ہسپتال کے قریب پہنچ چکے تھے ،برطانوی میڈیا کےمطابق اس موقع پرحسین نواز نے بڑی مہارت سے گاڑی کا رخ‌موڑتے ہوئے گاڑی دوڑا دی اور میاں‌صاحب کو بغیرکسی نقصان سے وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے

    دوسری طرف غیرمصدقہ یہ بھی اطلاعات ہیں‌کہ لندن پولیس نے میاں‌نواز شریف کوفائرنگ کے نتیجے میں کسی نقصان سے بچانے کے لیے ہسپتال میں‌کسی محفوظ مقام پررکھا ہواہے، شریف فیملی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے ٹیسٹ کروانے کے سلسلے میں‌وہاں جارہے تھے ،اطلاعات کےمطابق ابھی ان کے ٹیسٹ ہونا ہیں۔ پولیس کی بھاری تعداد نے لندن بریج ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔

    دوسری طرف باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی اطلاعات میں‌ بتایا گیا ہےکہ لندن پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک شخص کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔یادرہے کہ شریف فیملی کی کرپشن اورملک کولوٹنے کے حوالے سے نہ صرف پاکستان میں غصہ پایا جاتا ہے بلکہ سمندرپارپاکستانی اور غیرپاکستانی بھی سابق شاہی خاندان کی لوٹ کھسوٹ سے سخت ناراض ہیں‌

  • لاہور،سلنڈر نہیں بلکہ بم دھماکا،پولیس کی غفلت، افسران دفتروں سے نہ نکلے، ٹارگٹ کیا تھا؟ اہم خبر

    لاہور بم دھماکا،پولیس کی غفلت، افسران دفتروں سے نہ نکلے، ٹارگٹ کیا تھا؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چوبوجی چو لاہور کے قریب ہونے والے دھماکے کو بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بم دھماکہ قراردے دیا،بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق جائے وقوعہ سے مقناطیس اوربال بیرنگ بھی برآمد ہوا،دھماکے میں ڈیڑھ سے 2کلو بارودی مواد استعمال ہوا،بم کو پلانٹ کرنے میں مقناطیس استعمال کیا گیا،بم کو نصب کرنےکیلئے کہاں لے جایا جارہاتھا،کہنا قبل ازوقت ہے،

    پولیس کے مطابق دھماکے میں ایک رکشہ اور تین موٹر سائیکلیں تباہ ہوئیں، پولیس کا کہنا ہے کہ مشکوک شخص جیسے ہی رکشہ سے اترا دھماکہ ہو گیا،ایس پی سول لائنز کا کہنا ہے کہ دھماکے میں رکشہ ڈرائیور رمضان سمیت 5افراد زخمی ہوئے،رکشہ ڈرائیوررمضان نے ایک سواری شیراکوٹ سے بٹھائی،ارکشہ ڈرائیورنے سواری کو سمن آباد کے قریب اتارا،رکشہ ڈرائیور رمضان پونچھ روڈ کے قریب رکشا روک کر نیچے اترا،ڈرائیورکے رکشہ سےنیچےاترتے ہی دھماکا ہوگیا،زخمیوں کوطبی امداد کیلئےگنگارام اور اسپتال منتقل کر دیا گیا،

    چوبرجی کوارٹرز پیش آنے والے حادثے میں زخمی ہونے والوں میں سے 3 افراد کو گنگارام ہسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا ہے
    جن کے نام .#1 سلمان ولد جاوید عمر 25 سکنہ 25 اے سبزہ زار ،#2 جاوید ولد فضل حق عمر 55 سکنہ 25 A سبزہ زار لاہور ،
    #3 اسد وحید ولد عبدالوحید عمر 25 سکنہ گلی نمبر 49 مکان نمبر 20 نواں کوٹ لاہور ہیں،تینوں زخمیوں کی حالت خطرہ سے باہر ہے.

    پولیس کے مطابق سلنڈر دھماکے کے باعث دو افراد کی حالت نازک ہے،زخمی افراد کو ہسپتال داخل کروا دیا گیا ہے ،سی ٹی ڈی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں موقع پر شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہے ،ایس پی سول لائن موقع پر پہنچ گئے ،سی سی پی اور بشیر ناصر اور ڈی آئی جی آپریشنز موقعہ پر نہ گئے ، آفسران دفاتر میں بیٹھ کر سب اچھے کی رپوٹ کرنے میں مصروف ہیں.

    لاہور چوبرجی کے قریب بم بلاسٹ کا ایک بڑا واقعہ ہوا ہے جس میں کوئی بھی سینئر پولیس افسران نہیں پہنچ سکے ، سی سی پی او لاہور اپنے دفاتر میں آرام کرتے رہے جبکہ ڈی آئی جی آپریشن چند دنوں سے بیمار ہے لاہور میں بم بلاسٹ جیسے وقوعہ پر سی سی پی او لاہور کا نہ پہنچنا سکیورٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے، ایس پی سول لائن دیگر پولیس اہلکار بھی گونگلو سے مٹی جھاڑ کر غائب ہوگئے ، لگتا ہے جیسے سی سی پی او لاہور کو شہریوں کے زخمی ہونے کا کوئی غم نہیں

  • آرمی چیف کا کیس لڑنے کے بعد فروغ نسیم کو ملا بڑا عہدہ، کس کی سفارش پر؟

    آرمی چیف کا کیس لڑنے کے بعد فروغ نسیم کو ملا بڑا عہدہ، کس کی سفارش پر؟

    آرمی چیف کا کیس لڑنے کے بعد فروغ نسیم کو ملا بڑا عہدہ، کس کی سفارش پر؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فروغ نسیم نے دوبارہ وزارت کا حلف اٹھا لیا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے حلف لیا، فروغ نسیم کو دوبارہ وفاقی وزیر قانون بنایا جائے گا، فروغ نسیم کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی

    بہت ہو گیا،اب ہو گی قانونی کاروائی، مگر کس کیخلاف، فروغ نسیم پھٹ پڑے

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع،وزیراعظم نے کیا کہا تھا؟ اٹارنی جنرل نے اندر کی بات بتا دی

    فروغ نسیم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کے پہلے روز سماعت کے بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں استعفیٰ دیا تھا، وزیراعظم عمران خان نے انکا استعفیٰ منطور کر لیا تھا، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ مین کہا تھا کہ فروغ نسیم نے استعفیٰ دیا ہےا ور وہ عدالت میں آرمی چیف کا کیس لڑیں گے.

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    وفاقی کابینہ میں کس وفاقی وزیر کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا؟ اہم خبر

    آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

    واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

  • اب ڈومور ختم،کوئی طاقت پاکستان کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی، وزیراعظم عمران خان

    اب ڈومور ختم،کوئی طاقت پاکستان کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی، وزیراعظم عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تمام ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کا خواہاں اور مصالحت کا کردار ادا کر رہا ہے، امداد کے لئے دوسروں کی جنگ میں کود کر ملک نے بہت نقصان اٹھایا، اب ہم دنیا کے ساتھ سیدھی بات کرتے ہیں اور ایسا وعدہ نہیں کرتے جو پورا نہ کر سکیں، ملک میں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے، ادارے ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، اداروں میں مثالی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، ملک میں عدم استحکام کی خواہش رکھنے والوں کو مایوسی ہوئی، پاکستان مشکل وقت سے نکل کر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی طاقت اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں دو روزہ افریقی ممالک کے لئے پاکستان کے سفراءکی کانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک میں میرٹ کو فروغ دیا ہے، ماضی میں میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر لوگوں کی تقرریاں کی گئیں، ہم نے بیورو کریسی میں ترقیاں بھی میرٹ پر دیں اور تقرریاں میرٹ پر کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں میرٹ پر لوگوں کو لگائیں گے کیونکہ جس ملک میں میرٹ ہو وہی آگے جاتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں چین کی مثال دی جہاں میرٹ کے نظام کے ذریعے لوگ اوپر آتے ہیں۔

    آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

    ریاست مدینہ کی جانب ایک قدم اور،پناہ گاہ، احساس، دسترخوان کے بعد وزیراعظم لا رہے ہیں ایسا پروگرام کہ اپوزیشن بھی ہوئی حیران

    وزیراعظم نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی بیورو کریسی میرٹ کی بنیاد پر کام کر رہی تھی، کھیلوں میں بھی وہی ٹیمیں آگے جاتی ہیں جو میرٹ پر منتخب کی جاتی ہیں ، جمہوریت کی خوبی ہی یہ ہے کہ اس میں میرٹ کی بیناد پر لوگوں کو لایا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس بادشاہت میں پسند و ناپسند کی بنیاد پر نظام چلتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں بھی جمہوری کلچر تھا۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیز ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، شرح نمو جتنا مرضی بڑھ جائے اگر کرنسی نیچے جائے گی تو خسارہ بڑھ جائے گا اور کرنسی گرنے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بڑھنے سے ملک غریب ہو جاتے ہیں کیونکہ سرمایہ نہیں آتا، ہمارے لئے ہماری برآمدات اور ترسیلات زر کی بڑی اہمیت ہے، یہ ہماری معیشت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سمندر پار پاکستانیوں کا ہماری معیشت میں بڑا حصہ ہے، اس لئے ہماری سفارتکاری میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔

    کامیاب جوان پروگرام،20 روز میں کتنے لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں؟ وزیراعظم کو بریفنگ

    انہوں نے کہا کہ پریس اتاشیوں کا دوسرے ملکوں سے تعلقات میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے پریس اتاشیوں کو ہدایت کی کہ وزارت خارجہ سے رابطے میں رہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں افریقہ کو نظر انداز کیا گیا، قومیں بڑی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں، ساٹھ کی دہائی میں ہمارے اندر خود اعتمادی تھی اور ہماری بیورو کریسی کا مقابلہ دنیا میں کسی کے ساتھ بھی کیا جا سکتا تھا، پاکستان ہر میدان میں بہت ترقی کر رہا تھا، ہمارے سفارتکار، بیورو کریٹس اور افسران اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل تھے اور دنیا میں ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا تھا، آہستہ آہستہ وہ اعتماد ختم ہوتا گیا، اب ہمیں اسے واپس حاصل کرنا ہے اور اپنے مقام کو سمجھنا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جب میں نیلسن منڈیلا سے ملا تو انہوں نے پاکستان کی بہت تعریف کی، وہ قائداعظم سے بہت متاثر تھے، ہم نے اپنی جگہ خود کھوئی ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو اہم جغرافیائی حیثیت دی ہے اور وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو گئی ہے، پاکستانی روپے کی قدر اور سٹاک ایکس چینج میں، باوجود اس کے کہ عدم استحکام کی کوششیں کی گئیں، بہتری آئی ہے۔ وزیراعظم نے افریقہ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے، ترکی بھی افریقہ میں گیا ہے، ہم نے بھی اپنی پوری کوششیں کرنی ہیں ، ہمارے سفارتکاروں میں بہت صلاحیت ہے، وہ خود کو مشن پر سمجھیں اور پاکستان کے لئے سرمایہ کاری اور تجارت کے مواقع لے کر آئیں۔

    پاکستان میں داعش کا وجود نہیں، ہمسایہ میں داعش کی موجودگی پرتحفظات ہیں، پاکستان

    مودی کے خلاف وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان، کیا کہا؟ بھارت ہوا پریشان

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جو خارجہ پالیسی اب ہے، یہ بہت پہلے ہونی چاہیے، پاکستان کو کسی کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے تھا اور ہمیں آزاد خارجہ پالیسی پر گامزن رہنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے امداد کے لئے دوسروں کی جنگ میں کود کر بہت نقصان اٹھایا، اب ہم نے سب سے تعلقات بہتر کرنے ہیں، ایران سے ہم نے اپنے تعلقات بہتر کئے ہیں، سعودی عرب سے ہمارے تعلقات پہلے سے بہتر ہیں، ترکی اور ملائیشیا سے بھی تعلقات ہم نے مضبوط کئے ہیں۔ اب ہم فریق بننے کی بجائے ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ افغان جنگ سے ہم نے بہت نقصان اٹھایا اور اس کے نتیجہ میں پاکستان کے حصے میں صرف بربادی آئی اور پاکستان پر دہرا کھیل کھیلنے کا الزام لگایا گیا۔ ماضی میں ڈو مور کے لئے دباﺅ کا سامنا کرنا پڑا، اب ہم سیدھی بات کرتے ہیں اور ایسا غلط وعدہ نہیں کرتے جو پورا نہیں کر سکتے، ماضی میں وہ وعدے کئے گئے جو ہم پورے نہیں کر سکتے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملکی استحکام کو دھرنے اور مقدمے کے ذریعے عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔ دھرنے کے باعث کشمیر کا مسئلہ پس پشت چلا گیا، کشمیر کا معاملہ اس سے پہلے کبھی اس طرح نہیں اٹھایا گیا جس طرح اب اٹھایا جا رہا ہے، بھارت میں خوشیاں منائی گئیں اور عدم استحکام اور اداروں میں لڑائی کی خواہشات وابستہ کی گئیں، پاکستان کے مضبوط ادارے بھارت کو کھٹکتے ہیں، بھارت کی نسل پرست جماعت بی جے پی اور ملکی دولت لوٹ کر باہر رکھنے والے مافیا کو بڑی مایوسی ہوئی جو عدم استحکام کی توقع لگائے بیٹھے تھے تاکہ ان کا پیسہ اور لوٹی ہوئی دولت محفوظ رہے۔ پاکستان مشکل وقت سے نکل کر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی طاقت پاکستان کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

  • دھرنےاورسپریم کورٹ کے فیصلے پربھارت میں شادیانوں کی سازش ناکام بنادی،امیدوں پر پانی پھر گیا، وزیراعظم

    اسلام آباد: دھرنےاورسپریم کورٹ کے فیصلے پربھارت میں شادیانوں کی سازش ناکام بنادی،امیدوں پر پانی پھر گیا، اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ادارےمضبوط ہورہےہیں اور اپنی حدودمیں رہ کرکام کررہےہیں،عدلیہ مضبوط ہے اور دیگرادارےبھی مضبوط ہورہےہیں۔

    قبل از وقت الیکشن ہوسکتے ہیں ،مبشرلقمان

    تفصیلات کے مطابق افریقی ممالک کےسفراکی کانفرنس سےخطاب ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دھرنے کو بھارت نے جشن کی طرح استعمال کیا، بھارت نے سپریم کورٹ کا معاملہ بھی استعمال کیا، بی جےپی حکومت دھرنے،مارچ اورحالیہ صورتحال کی وجہ سےخوش تھی وہ سوچ تھی پاکستان میں ادارے آپس میں لڑجائیں گے، ہمیں خوشی ہےبھارت کی خواہشوں پرایک بارپھرپانی پھرگیا۔

    ’عمران خان کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بناؤں گا،سراج الحق نےاپنے عزائم سے آگاہ کردیا

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کےدشمنوں کوشکست ملی ہے، پاکستان مشکل وقت سےنکل کرتیزی سےآگےبڑھ رہاہے، دشمنوں کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوگی، بھارت میں خوشیاں منائی گئیں مگر ہم نےملک کوغیرمستحکم کرنےکی سازش کوناکام بنایا۔، ان شاء اللہ پاکستان ترقی کرےگا۔

    6 ماہ کو 3 سال ہی سمجھیں، ضروری قانون سازی کرلیں گے، شیخ رشید

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین نےاپنےاداروں میں میرٹ پرتعیناتیاں کیں،میرٹ پرتعیناتیوں کیلئےچین نےایک سسٹم بنایاہواہے اور میرٹ کی پالیسی پرعملدرآمدکرکے ہی چین نے ترقی کی۔پاکستان کےمستقل مندوب منیراکرم کی تعیناتی کےحوالے سےعمران خان نے کہا کہ منیراکرم پاکستان کےبہترین سفارتکارہیں، چین کےسفیرکےریمارکس کےبعد منیر اکرم کی یواین میں تعیناتی کی، چین کےایک سفیرنےمجھ سےکہامنیراکرم کی شاندارکارکردگی رہی۔

    آرمی چیف کی2023 تک توسیع،عمران خان 2028 تک وزیراعظم پکے، کامران خان کی پشین گوئی

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں اداروں کی بہتری کیلئےمیرٹ پرتوجہ بہت ضروری ہے کیونکہ میرٹ جتنازیادہ ہوگااتنی ہی جمہوریت پروان چڑھےگی، دنیامیں بھی دیکھ لیں وہ ٹیم اوپرجاتی ہےجس میں میرٹ ہو، ہم تمام اداروں میں میرٹ کی بنیادپرتعیناتیاں کریں گے۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دنیابھرمیں کھیلوں کےدوران سفیروں سےبھی ملاقاتیں ہوتی تھیں اور دنیا بھر میں پاکستانی سفیربہترین مانےجاتےہیں۔

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

    آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

    آرمی چیف کی مدت ملازمت، عدالتی فیصلہ کے بعد وزیراعظم کا انتہائی اہم بیان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اداروں کوآپس میں لڑانے کی خواہش رکھنے والوں کو آج بہت مایوسی ہوئی ہوگی۔ اداروں کے درمیان تصادم سے عدم استحکام لانے والے ہار گئے ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مافیا ملک کوغیرمستحکم کرکے لوٹ کے مال کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے۔ 23 سال قبل پی ٹی آئی آزاد عدلیہ اور قانون کے حکمرانی کی وکالت کرنے والی پہلی پارٹی تھی۔ 2007 میں بھی تحریک انصاف عدلیہ کی آزادی کے لئے پیش پیش تھی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی بے حد عزت کرتے ہیں۔ بیرونی دشمنوں اور اندرونی مافیا کے لئے آج مایوسی کا دن ہے.

    واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

    عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے6 ماہ کا وقت مانگا،ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

    سپریم کورٹ نے درخواست گزار حنیف راہی کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے نمٹا دی.

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کتنی مدت کے لئے توسیع کی؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کتنی مدت کے لئے توسیع کی؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کتنی مدت کے لئے توسیع کی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے دوبارہ درخواست پر سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش کردی جس کا عدالت نے جائزہ لیا، بعد ازاں فیصلہ لکھوایا،

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں6 ماہ کی مشروط توسیع کر دی گئی،عدالت نے کہا کہ آرمی چیف کی موجودہ تقرری 6 ماہ کیلئے ہوگی،

    سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے میں کہا کہ آرمی چیف کی تقرری چیلنج کی گئی تھی،ہمارے سامنے آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ آیا،آج مختصر فیصلہ سنارہے ہیں، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے،حکومت نے ایک موقف سے دوسرا موقف اختیار کیا،حکومت آرمی چیف کو 28 نومبر سے توسیع دے رہی ہے، حکومت عدالت میں آرٹیکل 243 ون بی انحصار کررہی ہے،

    چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

    عدالت نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے کرتا ہے،آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے قانون خاموش ہے،حکومت نے مسلح افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم کیلئے6 ماہ کا وقت مانگا،ہم معاملہ پارلیمنٹ اور حکومت پر چھوڑتے ہیں،توسیع کےمعاملےکوقانون سازی مکمل ہونے کے بعد دیکھا جائے گا،

    سپریم کورٹ نے درخواست گزار حنیف راہی کی پٹیشن خارج کرتے ہوئے نمٹا دی.

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    واضح رہے کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے کہا کہ قانون سازی میں تین ماہ چاہئیں‘۔ہم تین ماہ کیلئے اس میں توسیع کردیتے ہیں۔اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کیا ہم آپ کی بات پرلکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنادیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیاجائے۔نیا قانون بنانے کے لیے وقت لگے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہمارے لئے ان کا بڑا احترام ہے۔لیکن ہم آئین اور قانون کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کر دی، کیا آرمی چیف کا عہدہ آج خالی ہے، آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، آرمی چیف کا عہدہ آئینی عہدہ ہے، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے، آپ ادھر ادھر گھومتے رہے ہم نے کسی کو ایڈوائس نہیں کرنا، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا نئی تعیناتی آرٹیکل 243 ون بی کے تحت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا مطمئن کرنا ہوگا اب ہونیوالی تعیناتی درست کیسے ہے ؟ اس عہدے کو پُر کرنا ہے تو ضابطے کے تحت کیا جانا چاہیے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا جو سمری پیش کی گئی اس میں تنخواہ اور مراعات کا ذکر نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا سمری میں اگر خلا رہ گیا ہے تو اسے بہتر کریں گے، بھارتی میڈیا نے سارے معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب آپ نے سینے سے لگا کر رکھی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس کا سب کو علم ہو، تین سال تعیناتی اب ایک مثال بن جائے گی، ہو سکتا ہے اگلے آرمی چیف کو حکومت ایک سال رکھنا چاہتی ہو، کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا، ہمارا حق ہے کہ سوال پوچھیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا واضح ہونا چاہیے جنرل کو پنشن ملتی ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہو جاتا ہے۔ جسٹس منصور علی خان کل آپ کہہ رہے تھے جنرل ریٹائر نہیں ہوتا، پارلیمنٹ سے بہتر کوئی فورم نہیں جو سسٹم ٹھیک کر سکے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں 18 مختلف غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا یہ بھی طے کر لیا جائے آئندہ توسیع ہو گی یا نئی تعیناتی۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ حکومت پہلی بار آئین پر واپس آئی ہے، جب کام آئین کے مطابق ہو تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔

    چیف جسٹس آصف سعید نے کہا آرٹیکل 243 میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں، 3 سال کی تعیناتی کی مثال ہوگی لیکن یہ قانونی نہیں، عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا مدت کا ذکر نہ ہو تو حالات کے مطابق مدت مقرر ہوتی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت میرے پاس کوئی بھی قانون نہیں سوائے ایک دستاویز کے، قانون بنانے کے لئے ہمیں 3 ماہ کا وقت چاہیے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی جا کر قانون بنا کرآئیں، جو قانون 72 سال میں نہیں بن سکا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں، گزشتہ 3 آرمی چیفس میں سے ایک کو توسیع ملی دو کو نہیں، اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جا رہی ہے، آرٹیکل 243 کے مطابق تعیناتی کرنی ہے تو مدت نکال دیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کم از کم آرٹیکل 243 پر تو مکمل عمل کریں۔ اٹارنی جنرل نے کہا غیر معینہ مدت کے لیے بھی تعیناتی نہیں ہو سکتی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا پہلے بھی جنرل باجوہ کو غیر معینہ مدت کیلئے تعینات کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی چیف سے متعلق الگ قانون بنایا جائے گا۔

    اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ فروغ نسیم کا بھی مسئلہ حل ہوگیا۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس  دیئے کہ عدالت کی مداخلت سے مسئلے حل ہو جائیں گے، ہمارے پاس ریاض راہی آئے، ہم نے جانے نہیں دیا، لوگ کہتے ہیں عدالت خود نوٹس لے، ہمیں جانا نہ پڑے، عدالت کے دروازے کھلے ہیں، کوئی آئے تو سہی۔

    چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل نے استفسار کیا قوانین 3 ماہ میں تیار کرلیں گے ؟ 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی، کیا آپ کی بات پر لکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنا دیں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا فیصلےمیں مدت کا تعین نہ لکھیں، وہ کام ہم کرلیں گے، قوانین بنانے کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں بھی پیش کرنا ہے۔

  • آرمی چیف مدت ملازمت توسیع،وزیراعظم سے اہم شخصیات کی ملاقات، عمران خان نے کیا کہا؟

    آرمی چیف مدت ملازمت توسیع،وزیراعظم سے اہم شخصیات کی ملاقات، عمران خان نے کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے اٹارنی جنرل انور منصور خان اور سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی ملاقات ہوئی ہے، اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کو سپریم کورٹ کی کاروائی سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا، وزیراعظم عمران خان نے اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سمری تیار کرنے کی ہدایت کی . اس حوالہ سے اٹارنی جنرل اور فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان سے مشاورت بھی کی.اٹارنی جنرل نے وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بارے میں بھی بریف کیا،

    چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، ایک اور سمری کی تیاری جاری

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں نئی سمری بنائی جائے جس میں غلطیاں نہیں ہونی چاہئے. جو قانونی تقاضے ہیں وہ پورے کئے جائیں ، حکومت اپنے فیصلے پر مکمل طور پر قائم ہیں، سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی تھی، اپنے فیصلے پر قائم ہیں.

    واضح رہے کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ نے کہا کہ قانون سازی میں تین ماہ چاہئیں‘۔ہم تین ماہ کیلئے اس میں توسیع کردیتے ہیں۔اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کیا ہم آپ کی بات پرلکھ دیں کہ 3 ماہ میں قوانین بنادیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیاجائے۔نیا قانون بنانے کے لیے وقت لگے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہمارے لئے ان کا بڑا احترام ہے۔لیکن ہم آئین اور قانون کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، بحث کے بعد فیصلہ محفوظ، کب سنایا جائیگا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابقسپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔عدالت مختصر فیصلہ آج سنائے گی چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سبراہی میں 3 رکنی بینج آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتا، جنرل ریٹائرڈ نہیں ہوتا تو پنشن بھی نہیں مل سکتی۔

    وقفے کے بعد جب دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں، اپنا کام خود کریں، ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں، عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں، سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں، تعیناتی قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کر دی، کیا آرمی چیف کا عہدہ آج خالی ہے، آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، آرمی چیف کا عہدہ آئینی عہدہ ہے، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے، آپ ادھر ادھر گھومتے رہے ہم نے کسی کو ایڈوائس نہیں کرنا، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا 3 سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا مطمئن کرنا ہوگا اب ہونیوالی تعیناتی درست کیسے ہے ؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا پیش کی گئی سمری میں تنخواہ اور مراعات کا ذکر نہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا سمری میں اگر خلا رہ گیا ہے تو اسے بہتر کریں گے، بھارتی میڈیا نے سارے معاملے کوغلط انداز میں پیش کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق ہونی چاہیئے، قانون میں تعیناتی کی مدت کہیں نہیں لکھی۔

    چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا آپ نے آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب سینے سے لگا رکھی ہے، نوٹیفکیشن میں مدت 3 سال لکھی گئی، اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیئے جس کا سب کو علم ہو۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 3سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ،اتنے بڑے آفس کی تعیناتی ہورہی ہے قواعد پرعمل کرنا ہوگا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے سمری میں 3 سال کا لفظ لکھا ہے،اب ہرکوئی مستقبل میں ایسا ہی لکھے گا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے جو سمریاں جاری کی گئی تھیں ان میں مدت ملازمت لکھی ہوتی تھی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے معاملے پرکل آپ واضح نہیں تھے؟

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس معاملے پرابہام دور کرنے کا فورم کون سا ہے؟جس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ ابہام دور کرنے کا فورم وفاقی حکومت ہے،اگر مدت مقرر نہ کریں تو تاحکم ثانی آرمی چیف تعینات ہو گا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز کی کتاب سینے سے لگا کر رکھی ہے،آرمی رولز کی کتاب پر لکھا ہے غیر متعلقہ شخص نہ پڑھے،آئین کی کتاب ہمارے لیے بہت محترم ہے،اسی کتاب سے ہم مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کی کتاب ملک کیلئےبائبل کی حیثیت رکھتی ہے،سمری میں تنخواہ،مراعات اورمدت ملازمت واضح کردیں گے،

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پہلے توسیع ہوتی رہی اور کسی نے جائزہ نہیں لیا،کوئی دیکھ نہیں رہاکہ کنٹونمنٹ میں کیا ہو رہا ہے،کام کس قانون کے تحت ہو رہا ہے،اب آئینی ادارہ اس مسئلے کا جائزہ لے رہا ہے،آئینی عہدے پر تعیناتی کا طریقہ کار واضح لکھا ہونا چاہیے،آپ نے پہلی بارکوشش کی ہے کہ آئین پرواپس آئیں،اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دینا چاہیے،سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دے کر ایسا لگتا ہے کہ ہمارا کندھا استعمال کیا جارہا ہے،ہم کبھی بھی مشکل میں نہیں رہے،ہمیشہ آئین اور قانون کی پابندی کرنے والے رہے ہیں،آرٹیکل 243کےتحت جوسمری آپ نے بنائی ہے اس میں 3 سال مدت ملازمت لکھ دی ہے

    چیف جسٹس نے کہا کہ کل آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارتی اور سی آئی اے ایجنٹ کہا گیا،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں 5th جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا ہماراحق ہے کہ سوال پوچھیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی بار آرمی قوانین پڑھیں ہوں گے،آپ تجویز کریں آرمی قوانین کو کیسے درست کریں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے پاس الجہاد ٹرسٹ کی مثال موجود ہے،اس کیس میں اس کا حوالہ دینا ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ سے بہترکوئی فورم نہیں جو نظام کو ٹھیک کرسکے،واضح ہونا چاہیے جنرل کو پنشن ملتی ہے یا نہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہو جاتا ہے،

    چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں 18 مختلف غلطیاں نظر آتی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی قانون بنا کرآئیں،جوقانون 72 سال میں نہیں بن سکا وہ اتنی جلدی نہیں بن سکتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش کررہے ہیں کہ اس معاملے پر کوئی قانون بنائیں،قانون بنانے کیلئے3 ماہ کا وقت چاہیے

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی کام آئین کے مطابق ہو جائے تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں،عدالت کاکندھا استعمال نہ کریں آئندہ بھی سپریم کورٹ کا نام استعمال ہو گا،آرٹیکل 243میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں،3سال کی تعیناتی کی مثال ہوگی لیکن یہ قانونی نہیں،عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائے گی،لگتا ہے تعیناتی کےوقت حکومت نے آرٹیکل 243 پڑھتے ہوئے اس میں اضافہ کر دیا،جو دستاویزات صبح منگوائی تھیں وہ آئی ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی ایچ کیو میں کہہ دیا ہے ،کچھ دیر میں آجائیں گی، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی بھی نہیں آتا پہلی بار ریاض حنیف راہی آیا ہے اس کوچھوڑیں گے نہیں،سب کہتے ہیں عدالت ازخود نوٹس لے

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا تین ماہ میں قوانین تیار کر لیں گے،اگر 3 ماہ میں قوانین تیار ہوگئے تو پھر آرمی چیف کو 3 ماہ کی توسیع مل جائے گی،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ اپنے فیصلے میں مدت کا تعین نہ کریں وہ ہم کرلیں گے،قوانین بنانے کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں بھی پیش کرنا ہے

    جنرل (ر)کیانی اورراحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کر دیا گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل (ر)کیانی کےنوٹیفکیشن میں بھی نہیں لکھا کہ توسیع کس نے دی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوٹیفکیشن سے پہلے سمری تیار کی جاتی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ نوٹیفکیشن تو وہ دستاویز ہوتی ہے جو غلطیوں سے پاک ہونی چاہیے،جن جن لوگوں نے ملک کی خدمت کی وہ ہمارے لیے محترم ہیں،آئین اورقانون سب سے مقدم ہے،گزشتہ 3 آرمی چیفس میں سے ایک کو توسیع ملی دوسرے کو نہیں،اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جا رہی ہے،آرٹیکل 243 کے مطابق تعیناتی کرنی ہے تو مدت نکال دیں،پہلے بھی جنرل باجوہ کو غیر معینہ مدت کے لیے تعینات کیا گیا،

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین و قانون کو کیا دیکھا ہمارے خلاف پراپیگنڈہ شروع ہوگیا،کہہ دیا گیا کہ تینوں ججز سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں،آئینی اداروں کے بارے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے،جس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ سوشل میڈیا کسی کے کنڑول میں نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تین سال کے لیے توسیع دے رہے ہیں،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ پہلے تو کسی کو ایک سال کسی کو دو سال کی توسیع دی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ رولز میں ترمیم کرتے رہے ہیں، پھر ہم نے ایڈوائزری کردار لکھ دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ فروغ نسیم کا بھی مسئلہ حل ہو گیا ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی مداخلت سے مسئلے حل ہو جائیں گے،عدالت کے دروازے کھلے ہیں کوئی آئے تو سہی،آرمی چیف کے حوالے سے تیار کی گئی سمری میں ہمارا ذکر بالکل نہ کریں،یہ کام وزارت دفاع کا ہے،وزارت دفاع کی جانب سے جو سمری آئی ہے اس میں سپریم کورٹ کا ذکر ہے،ہمارا ان سمریوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے