Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آزادی مارچ،15 لاکھ افراد لانے کا دعویٰ اور آئے کتنے لوگ؟ مولانا رات بھر سو نہ سکے

    آزادی مارچ،15 لاکھ افراد لانے کا دعویٰ اور آئے کتنے لوگ؟ مولانا رات بھر سو نہ سکے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ اور اسلام آباد کے گھیراؤ کا تین ماہ سے واویلا کرنے والے مولانا فضل الرحمان 15 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے میں کامیاب نہ ہو سکے، انہوں‌ نے دعویٰ کیا تھا کہ 15 لاکھ لوگ لے کر آئیں گے لیکن مولانا فضل الرحمان کو اس میں ناکامی ہوئی، مولانا کی خواہش تھی کہ اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بھی افرادی قوت دیں گی لیکن مسلم لیگ ن نے تو لاہور میں ہی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہاتھ کر دیا تھا اور مرکزی سٹیج پر ن لیگ کی قیادت نہیں آئی جس پر مولانا نے ناراضگی کا بھی اظہار کیا، دوسری جانب پیپلز پارٹی بھی اپنے کارکنان آزادی مارچ میں بھیجنے کو تیار نہیں.

    آزادی مارچ، بہت ہو گیا، تحریک انصاف نے بھی بڑا فیصلہ کر لیا

    مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی خواتین کارکنان بھی آزادی مارچ میں جانے کے لئے تیار ہیں لیکن آزادی مارچ میں خواتین کی شرکت پر پابندی کی وجہ سے وہ نہیں جا رہیں، مولانا اسلام آباد تو پہنچ گئے اب مزید لوگوں کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں کہ شاید 15 لاکھ لوگ کہیں سے آ‌جائیں.

    آزادی مارچ،وہی ہوا جس کا ڈر تھا، انصار الاسلام نے ایسا کیا کر دیا کہ مولانا بھی پریشان

    آزادی مارچ سے ہم کیا چاہتے ہیں؟ احسن اقبال نے دل کی بات بتا دی

    آزادی مارچ اسلام آباد میں موجود ہے، گزشتہ روز اپوزیش جماعتوں کے قائدین نے دھواں دھار خطابات کئے اور شرکاء سے نعرے بھی لگوائے ،مولانا فضل الرحمان نے بھی حکومت کو دو دن کی مہلت دی تا ہم مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں افرادی قوت اتنی نہیں ہے کہ ان کے مطالبے پر دو دن میں استعفیٰ آ جائے، آزاد اور غیر جانبدار ذرائع کے مطابق آزادی مارچ میں 60 سے 70 ہزار جبکہ جے یو آئی کے مطابق اڑھائی لاکھ سے زائد افراد شریک ہیں، پولیس اور دیگر ذرائع کے مطابق 30 ہزار کے قریب لوگ آزادی مارچ میں شریک ہیں،

    غیرت مند انسان اللہ کے سوا کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا،وزیراعظم

    دوسری جانب آج ہفتہ اور کل اتوار کو مزید قافلے آزادی مارچ میں پہنچنے کا امکان ہے اور تبلیغی اجتماع کے اختتام پر بھی قافلوں کی بڑی تعداد آزادی مارچ میں شریک ہو سکتی ہے.

    دوسری جانب تحریک انصاف نے بھی آج پارٹی اجلاس طلب کر لیا ہے، رہبر کمیٹی کا اجلاس بھی آج ہو گا، اگر آزادی مارچ کے شرکاء نے حکومتی معاہدے کی پاسداری کی تو سب کچھ ٹھیک رہے گا لیکن اگر خلاف ورزی ہوئی تو پھر قانون کا استعمال ہو گا، وزیراعظم عمران خان گزشتہ روز کہہ چکے ہیں کہ دھرنے والے بیٹھے رہیں کھانا ختم ہو گا تو بھجوا دوں گا لیکن این آر او کسی صورت میں نہیں دوں گا.

    مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ شب اپنی رہائشگاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی اپیل کی کہ افرادی قوت مارچ میں بھیجیں تبھی ملکر ہم حکومت پر دباؤ بڑھا سکیں گے

  • آزادی مارچ، بہت ہو گیا، تحریک انصاف نے بھی بڑا فیصلہ کر لیا

    آزادی مارچ، بہت ہو گیا، تحریک انصاف نے بھی بڑا فیصلہ کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچنے اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے خطابات کے بعد آج تحریک انصاف نے کورکمیٹی کا اجلاس بلا لیا جسکی صدارت وزیراعظم عمران خان کریں گے، اجلاس میں آزادی مارچ، ملکی سیاسی صورتحال کے حوالہ سے غور کیا جائے گا.

    آزادی مارچ،وہی ہوا جس کا ڈر تھا، انصار الاسلام نے ایسا کیا کر دیا کہ مولانا بھی پریشان

    آزادی مارچ سے ہم کیا چاہتے ہیں؟ احسن اقبال نے دل کی بات بتا دی

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس آج دن دو بجے بنی گالہ میں ہو گا، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میں شامل تمام اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پارٹی کے اجلاس میں شرکت یقینی بنائیں، اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے متعلق تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا،

    غیرت مند انسان اللہ کے سوا کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا،وزیراعظم

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، گزشتہ روز بلاول، شہباز شریف، اسفند یار ولی و دیگر نے جلسے سے خطاب کیا تھا .جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو ملک کے غریب عوام کیساتھ کھیلنے کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی، بہت مہلت دیدی، اب انھیں جانا ہوگا۔

     

  • پاک فوج کی سپورٹ جمہوری حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، میجر جنرل آصف غفور

    راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاک فوج ایک غیرجانبدارادارہ ہے، الیکشن میں آئینی ذمہ داری پوری کی، ہماری سپورٹ جمہوری اور منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے۔

    افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان سینئر سیاستدان ہیں وہ بتا دیں کہ کس ادارے کی بات کررہے ہیں، ہماری سپورٹ جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، فوج نے الیکشن میں آئینی اورقانونی ذمہ داری پوری کی۔ان کا کہنا تھا کہ ایک سال گزر گیا اب بھی اپوزیشن اپنے تحفظات لے کر متعلقہ اداروں میں جاسکتی ہے، سڑکوں پر آکرالزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 20 سال میں بہت مشکل وقت گزارا ہے، پاکستانی قوم اور افواج نے دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جان ومال کی قربانی دے کر ملک میں امن قائم کیا گیا، کے پی کے عوام نے بھی دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کیا، کےپی کے عوام کو اب فلاح وبہبود کی ضرورت ہے۔

    میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے جارحیت کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا گیا، ایل او سی پر بھی معصوم کشمیریوں کو شہید کیا جارہا ہے، مشرقی اور مغربی سرحد پر فوج مصروف عمل ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی بربریت اورظلم جاری ہے۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کسی بھی قسم کا انتشار ملک کے مفاد میں نہیں، جمہوری مسائل جمہوری طور پر ہی حل ہونے چاہئیں۔ حکومتی اور اپوزیشن کمیٹیاں بہتر کوآرڈی نیشن کے ساتھ چل رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امید کرتے ہیں کہ معاملات بہتر انداز میں آگے چلیں، کسی کو بھی کسی صورت ملکی استحکام خراب کرنے کی یا ملکی امن کو نقصان پہنچانے اجازت نہیں دیں گے۔

    دوسری طرف مولانا فضل الرحمن نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا ہےکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود ہی بیان دیا کہ مولانا کی مراد کون سا ادارہ ہوسکتا ہے، ، فوج اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھیں ، مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ عمران خان کی حکومت کو سپورٹ کرنا جمہوریت کی دنیا میں شاید اس کو پزیرائی نہ مل سکے

  • وزیراعظم 3 دن کے اندر استعفیٰ دے دیں ،فضل الرحمن

    اسلام آباد: فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 3 دن کی مہلت دے دی،اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ۔ ف) کے آزادی مارچ کا جلسہ ایچ 9 گراؤنڈ میں جاری ہے جس سے اپوزیشن کی مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 3 دن کی مہلت دے دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایک دن آج کا اور اگلے دو دن، اس دوران وزیراعظم استعفیٰ دے دیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے شرکاء سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ استعفے سے کم پر مانو گے؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر ’نہیں‘ کے نعرے لگائے۔اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم مزید صبرو تحمل کا مظاہرہ نہیں کرسکتے، ہم اداروں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں، ہم اداروں کےساتھ تصادم نہیں چاہتے، عوام کا فیصلہ آچکا ہے، حکومت کو جانا ہی جانا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میری بات نواز شریف نے بھی سن لی ہے، آصف علی زرداری نے بھی سن لی ہے اور ہم جنہیں سنانا چاہ رہے ہیں وہ بھی سن رہے ہیں۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ اب فیصلہ ہم نہیں کریں گے بلکہ عوام کریں گے کیوں کہ ووٹ عوام کی امانت ہوتا ہے اور عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے لہٰذا فیصلہ بھی عوام کو ہی کرنا ہے۔

    آخری میں انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ تحمل کے ساتھ دھرنے میں موجود رہیں، اپوزیشن جماعتیں آپس میں رابطے میں ہیں اور لمحہ بہ لمحہ صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے، جو بھی فیصلہ ہوگا شرکاء کو آگاہ کیا جائےگا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آئندہ دو دن میں وزیراعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو آئندہ کا لائحہ عمل باہمی مشاورت سے طے کریں گے۔

  • فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی ضرورت ہی نہیں ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیاسی یتیم سمجھ رہے ہیں میں استعفیٰ دے دوں گا،سن لیں ،عمران خان نے تمہیں نہیں چھوڑنا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گلگت میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج گلگت بلتستان کی یوم آزادی کا دن ہے،گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ یوم آزادی منانے آیاہوں،52سال پہلے گلگت آیا تھا،سارا علاقہ  جانتا ہوں ،کوئی سیاستدان ایسا نہیں جو میری طرح گلگت بلتستان کا چپہ چپہ جانتاہو،گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل  جانتا ہوں،گلگت بلتستان کے کئی علاقے پیچھے رہ گئے گلگت بلتستان پروہ توجہ دی جائےگی جوکسی حکومت نےنہیں دی  ،گلگت بلتستان میں سیاحت پر توجہ نہیں دی گئی،گلگت بلتستان سوئٹزرلینڈ سے دوگنا ہے،سوئٹزرلینڈ میں انفراسٹریکچر اور سہولتیں ہیں،سوئٹزرلینڈ میں بہت زیادہ سیاح آتے ہیں،میں نے دنیا بھر کے خوبصورت ملک دیکھے ہیں،ہمارے پاس سہولتیں نہیں کہ لوگ باہر سے انفراسٹریکچر دے سکیں،

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کےلیے اسکیم بنا رہا ہوں،سروس انڈسٹری کےلیے کالجز کے قیام پر بات ہورہی ہے،گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو نوکریاں ڈھونڈھنے بیرون ملک نہیں جانا پڑےگا،گلگت بلتستان کابینہ سے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر بات چیت کی ہے،چاہتے ہیں عوام کو سردیوں میں بجلی کا کوئی مسئلہ نہ ہو،گلگت بلتستان میں فوڈ پروسیسنگ پلانٹ لگایاجائےگا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ایک آزادی مارچ اسلام آباد میں ہورہا ہے،اسلام آباد میں لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں، دیکھنا ہے یہ لوگ کس سے آزادی لینے آئے ہیں،پیپلزپارٹی والے کہیں گے مہنگائی ہوگئی ہے،مسلم لیگ ن والوں کو پتہ ہی نہیں وہ کیوں اسلام آباد آئے ہیں،جے یوآئی والے کہیں گے اسلام آباد پر یہودی قبضہ کررہے ہیں،فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی ضرورت ہی نہیں ہے ،ووٹ اورپیسے کے لیے اسلام کونقصان پہنچایا جاتا ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیزل کے پرمٹ پر فضل الرحمان کا اسلام بک جاتا ہے،لوگ سمجھتےہیں فضل الرحمان  اسلام کا ٹھیکےدار ہے،سوشل میڈیا کازمانہ ہے چیزیں نہیں چھپتیں،لوگ جانتے ہیں اصلیت کیا ہے،جے یو آئی کی مخالفت کرنے والامحمود اچکزئی بھی آگیا ہے،ایسا لگتا ہے فضل الرحمان بھارتی شہری ہے،بھارتی میڈیا فضل الرحمان کودکھا کر خوش ہے،فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی سازش کی ضرورت ہی نہیں ہے ،آپ نے جتنی مرضی بیٹھنا ہے بے شک بیٹھیں ،جب آپ کا کھانا ختم ہوجائے گا ہم بھجوادیں گے،آپ کو این آر او نہیں ملے گا اصل بات یہ ہے کہ آپ کے کرپشن کیسز سامنے آگئے ہیں ،ملک کے 3بار وزیراعظم کے بیٹے ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں،سابق وزیرخزانہ بھی ملک سے باہر بیٹھےہوئے ہیں شہبازشریف کے داماد بھی باہر بیٹھے ہوئے ہیں ،آپ نے چوری نہیں کی تو باہر کیوں بھاگ گئے؟

    غیرت مند انسان اللہ کے سوا کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا،وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے زیادہ مہنگائی تو پیپلزپارٹی کے دور میں تھی ،میں نے 22سال کرپشن کے خلاف جدوجہد کی ہے،یہ سمجھتے ہیں مل کر دباوَ ڈالیں گے اور میں این آر او دے دوں گا،اللہ سے وعدہ کیا تھا ملک کو مقروض کرنے والوں کو جیلوں میں ڈلواوَں گا،ان لوگوں نے6 ارب کا قرض 30 ارب ڈالر پرپہنچادیا،بلاول بھی لبرل کا لیبل لگاکر مارچ میں شرکت کرنےآیا ہے ،ان سے حساب مانگیں تو کہتے ہیں پاکستانی شہری نہیں،اپوزیشن سے حساب مانگیں تو کہتے ہیں جمہوریت خطرے میں ہے،پیسہ ملک سے باہر بھیجنے سے بجلی ٹرانسپورٹ مہنگی ہوجاتی ہے،کرپشن کے لیے ادارے تباہ کیے جاتے ہیں،کرپشن کے باعث ملک ڈوب جاتا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں نےباہرفلیٹ لیاتھا، اس کا سپریم کورٹ میں حساب دیا،سیاسی یتیم سمجھ رہے ہیں میں استعفیٰ دے دوں گا،سن لیں ،عمران خان نے تمہیں نہیں چھوڑنا ،مجھے سیاست کی ضرورت ہی نہیں تھی ،مجھے اللہ نے سب کچھ دے رکھا تھا،ان چوروں کی وجہ سے ہم آج قرضے میں ڈوبے ہوئے ہیں،جتنا ٹیکس اکٹھا ہوا اس کا آدھا قرض کی قسطیں ادا کرنے میں لگ گیا،جب تک ان کوسزائیں نہیں ملیں گی،لوگ چوری سے نہیں ڈریں گے،آپ نے چوری نہیں کی تو حساب دو،

  • غیرت مند انسان اللہ کے سوا کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا،وزیراعظم

    غیرت مند انسان اللہ کے سوا کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گلگت میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے آزادی کی جنگ لڑی،گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج کے خلاف جنگ لڑی، لوگ نہیں جانتے تھے گلگت بلتستان میں 1947میں کیا ہوا،کلمہ پڑھنے سے ہم دعویٰ کرتے ہیں اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے ،ہمارا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا؟لاالہ الا اللہ،پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ،ہمیں ریاست مدینہ کے اصولوں پرچلنا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست مدینہ ہمیشہ کے لیے رول ماڈل ہے،ہمیں ان اصولوں پر چلنا ہے جن کے لیے  ملک بنایا گیا،لاالہ الا اللہ انسان کو غیرت دیتا ہے،غیرت مند انسان کبھی اللہ کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا ، پاکستانی قوم اپنے پیروں پر کھڑی ہوگی،یہی قوم دنیا کے سامنے مثال بنے گی، دس سال کے اندر دو سپر طاقتوں نے مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیکے .

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے کشمیریوں کوجانوروں کی طرح رکھا ہوا ہے،کشمیریوں پر پابندیاں لگا رکھی ہیں،ساری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے،کشمیریوں کا سفیر بن کر ان کی آواز دنیا میں اٹھاتا رہوں گا ،اگر آپ لوگوں نے جنگ نہ لڑی ہوتی تو آپ بھی مودی کے ظلم کا شکار ہوتے ،خوف انسان کو غلام بنا دیتا ہے،اسلام ہمیں خوف سے آزاد کردیتا ہے،مودی کشمیر میں آخری کارڈکھیل چکا ہے ,کرفیو ہٹنے پر کشمیری میں آزادی کی جدوجہد مزید تیز ہوگی،کوئی طاقت کشمیر کی آزاد سے نہیں روک سکتی،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 52سال پہلے گلگت آیا تھا،مشکلات کے باعث گلگت بلتستان میں بہت کم سیاح آتے تھے ،دنیا کے تمام خوبصورت مقام دیکھ چکا ہوں،گلگت بلتستان جیسی خوبصورتی کہیں نہیں ہے،چین دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کررہا ہے،گلگت بلتستان چین سے پاکستان کو ملاتا ہے،مستقبل میں گلگت بلتستا ن بھی ترقی کرے گا

  • فردوس عاشق اعوان کو معافی نہ ملی، عدالت نے کیا حکم دیا؟

    فردوس عاشق اعوان کو معافی نہ ملی، عدالت نے کیا حکم دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس اطہرمن اللہ نےمحفوظ فیصلہ سنا دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فردوس عاشق اعوان کوشو کازنوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا،عدالت نے فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی .

    آج معافی دے دیں آئندہ ایسا نہیں کروں گی، فردوس عاشق اعوان کی عدالت میں دہائی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کی معافی عدالت کو اسکینڈلائزکرنے کی حد تک قبول کی جاتی ہے، تحریری جواب دیں اور عدالت کو مطمئن کریں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نےفردوس عاشق اعوان کونیاشو کازنوٹس جاری کرکےجواب طلب کر لیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فردوس عاشق اعوان کوپہلا شوکاز نوٹس واپس لے لیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ فردوس عاشق اعوان نے بیان کے ذریعے عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی،

    ڈنڈے اٹھائے گئے تو ریاست بھی اقدامات کرے گی، فردوس عاشق اعوان

    عدالت نے فردوس عاشق اعوان کو اسلام آباد ضلعی کچہری کے دورے کی ہدایت کی،فردوس عاشق اعوان کوبار کے نمائندوں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ کورٹ کا دورہ کرنے کا حکم عدالت نے دیا،عدالت نے کہا کہ ضلعی کچہری جا کردیکھ لیں عام لوگوں کو حکومت کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو5نومبرکودوبارہ طلب کر لیا ،عدالت نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو 4 نومبرتک تحریری جواب داخل کرانے کا حکم دیا

    معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ منگل کو کابینہ اجلاس ہوتا ہے اس دن سماعت نہ رکھیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ضلعی کچہری میں ہی کابینہ اجلاس رکھوائیں تاکہ وہ وہاں کے حالات دیکھیں،آئندہ سماعت کی تاریخ تبدیل نہیں کی جائے گی،

  • جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے 20 لاکھ کا اعلان، ریلوے کابھی احتساب ہوگا عمران خان

    اسلام آباد:احتساب سب کا ہوگا، اب ریلوے میں حادثات کے حوالے سے احتساب کا عمل شروع کریں ، وزیر اعظم عمران خان نے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو ٹیلی فون کر کے تیزگام حادثے کی تفصیلات حاصل کیں، وزیر اعظم نے اپنی طرف سے جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے مزید ادا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کل امداد کی رقم 20 لاکھ روپے کردی ہے

    تفصیلات کے مطابق لیاقت پور میں تیزگام سانحے کے سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے وزیر ریلوے شیخ رشید کو ٹیلی فون کیا جس میں جاں بحق افراد کے ورثا کو وزیر اعظم کی طرف سے فی کس 5 لاکھ مزید ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    وزیر اعظم نے فون پر شیخ رشید کو حادثے کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا حادثے کے سلسلے میں کوتاہی کے مرتکب افراد سے قانون کے مطابق نمٹا جائے، ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے ریلوے میں احتساب کا عمل بھی شروع کیا جائے۔

    وزیر اعظم نے شیخ رشید کو جاں بحق افراد کے لواحقین کو فوری مدد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا زخمی افراد کو بھی بہترین طبی سہولیات فراہم کریں، واقعے کی تحقیقات سے مسلسل آگاہ رکھیں۔ وزیر ریلوے نے اعلان کیا تھا کہ جاں بحق مسافروں کے ورثا کو فی کس 15 لاکھ روپے دیے جائیں گے، جب کہ زخمی ہونے والے مسافروں کو 3 سے 5 لاکھ ادا کیے جائیں گے۔

  • ریاست منی پورہ کااعلان آزادی،بھارت کی بربادی،علیحدگی روکنے کے لیےفوج بھی بھجوادی

    نئی دہلی :ایک طرف بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا قبضہ مستحکم کیا ہے تو دوسری طرف بھارتی ریاست منی پورہ نے بھارت سے الک ایک علیحدہ ملک ہونے کا اعلان کردیا ، یہ اعلان منی پورہ آزادی تحریک کے ذمہ داران نے لندن میں ایک بہت بڑی پریس کانفرنس میں کیا ،

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق مہاراجہ آف منی پورہ کی طرف سے اعلان کے بعد ریاست میں ایک خوشی کا سمان تھا . منی پورہ کے باسیوں کو بہت زیادہ امید تھی کہ وہ بہت جلد ایک ازاد ملک کے شہری بن جائیں گے ، ریاست میں جگہ جگہ مٹھائیاں بانٹی جارہی تھیں ،

    ذرائع کے مطابق بھارت اس اقدام سے بہت زیادہ پریشان دکھائی دے رہا تھااور آج بھارت نے 50 ہزار سے زائد تازہ فوجی دستے منی پورہ بھیج دیئے ہیں، باغی ٹی وی کے مطابق بھارتی فوج کو جدید جنگی جہاز اور جنگی ہیلی کاپٹرز سے بھی لیس کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ بھاری فوجی گاڑیاں بھی منی پورہ پہنچا دی گئی ہیں ،ان فوجی گاڑیوں میں ٹینک ، توپیں اور جدید اسلحہ بھی شامل ہے ،

    بھارتی ریاست منی پور کے مہا راجہ کے نمائندوں نے لندن میں منی پور ریاست کونسل کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے منی پورہ کوباقاعدہ ایک آزادریاست کے اعلان کردیا، ان کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے بھارت میں ہمارے لئے کوئی جگہ نہیں، ہماری ریاست کو الگ ملک تسلیم کیا جائے۔

    تفصیلات کے مطابق مہا راجہ آف منی پور کے نمائندوں نے جلاوطنی میں ریاست کے قیام کا اعلان کردیا، مہا راجہ آف منی پور کے نمائندوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے لندن میں منی پور ریاست کونسل کے قیام کا اعلان کردیا۔

    اس موقع پر وزیراعلٰی ریاست منی پور کونسل یامبین بائرن کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کے بھارت میں ہمارے لئے کوئی جگہ نہیں، مہاراجہ کا محل ہمارا ہیڈ آفس ہوگا۔مہاراجہ منی پور کے نمائندوں نے اپیل کی کہ ہماری ریاست کو تسلیم کیا جائے، یامبین بائرن نے مزید کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں ملکہ برطانیہ کو قراردار پیش کریں گے۔ پریس کانفرنس میں ریاست منی پور کونسل کے وزرا کے ڈیکلریشن آف انڈیپینڈینس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔دوسری طرف بھارت میں‌صف ماتم بچھا ہواہے بھارت نے مزید افواج کو منی پورہ بھیج دیا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نبٹنے کا حکم دے دیا ہے

  • مقبوضہ جموں و کشمیر کی تقسیم کو مسترد کرتے ہیں ، پاکستان کا دوٹوک موقف

    اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تقسیم کو مسترد کردیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حثیت کو تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی دو یونین ٹریٹری میں تقسیم کو مسترد کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ شملہ معاہدہ سمیت دوطرفہ معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تقسیم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ جبکہ بھارتی فیصلہ شملہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ بھارتی حکومت کا کوئی بھی اقدام اس کی حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ بھارت نے پانچ اگست کو کیے گئے فیصلے کو کشمیری عوام پر بندوق کے ذریعے مسلط کیا۔ کشمیر بھارت کا اندورنی معاملہ نہیں۔ کشمیر کو تقسیم کرنا ہندوتوا نظریے کی تکمیل ہے۔ عالمی برادری بھارتی فیصلے کا نوٹس لے۔

    ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ غیر کشمیری آبادی کو کشمیر میں آباد کرنے کا فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کشمیری عوام بھارت کے فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔ بھارتی فیصلوں سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتر ہوگی۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت فوری طور پر مقبوضہ وادی سے اپنی فوج کا انخلا کرے اور وادی سے کرفیو اٹھائے