Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کر لیا۔پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعرات کی شام پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان کریں گے۔

    ائیرانڈیاکسی بھی وقت بندہوسکتی ہے،وزیرہوابازی حردیپ سنگھ کا راجیاسبھا میں اعلان

    وزیراعظم عمران خان نے یہ میٹنگ ملکی حالات کے پیش نظر بلائی ہے اور امید ہے کہ کل اعتماد میں لے کر بہت سے اہم فیصلے ہوں‌ گے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ حکومت نے فیصلہ کیا ہےکہ وہ عدالتی بحران کو حل کرنے کے بعد اپوزیشن کو پھر آڑے ہاتھوں‌لے

    اسلام آباد:ایک طرف آئینی گردوغبارتودوسری طرف مطلع جزوی طور پر ابرآلود

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی کو اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔یاد رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 2 دسمبر بروز پیر کو طلب کیا گیا ہے۔

    ایرانی وزیرخارجہ افغان طالبان سے ملنے اچانک قطر کیوں پہنچے؟خبرنے تہلکہ مچادیا

  • جنرل ندیم رضا نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ سنبھال لیا

    راولپنڈی: جنرل ندیم رضا نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ( سی جے سی ایس سی) کا عہدہ سنبھال لیا۔گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کو جنرل زبیر محمود حیات کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بنانے کی منظوری دی تھی جس کے بعد آج انہوں نے عہدہ سنھبال لیا ہے۔

    پاک فوج کی خواتین نےدیارغیرمیں پاکستان کا نام روشن کردیا

    پاک فوج کےترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوییٹرپرپیغام جاری کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ آج سے جنرل ندیم رضا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی حیثیت سے کام کام شروع کردیا ہے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل ندیم رضا نے عہدے کا چارج آج جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں سنبھالا۔یاد رہے کہ اس سے قبل جنرل ندیم رضا چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر کام کررہے تھے۔جنرل ندیم رضا کور کمانڈر راولپنڈی اور پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول کے کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں جب کہ انہیں ہلال امتیاز ملٹری بھی مل چکا ہے۔

    آرمی چیف کی توسیع سے متعلق سماعت پر بھارت میں جشن

  • آرمی چیف کے معاملے کا فیصلہ کب سنایا جائیگا؟ چیف جسٹس  کا اہم اعلان

    آرمی چیف کے معاملے کا فیصلہ کب سنایا جائیگا؟ چیف جسٹس کا اہم اعلان

    آرمی چیف کے معاملے کا فیصلہ کب سنایا جائیگا؟ چیف جسٹس نے بڑ ااعلان کردیا

    تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ ہمیں پاک فوج کا بہت احترام ہے ، پاک فوج کو معلوم تو ہو ان کا سربراہ کون ہوگا، آرمی چیف کو توسیع کی ضرورت ہی نہیں ، نوٹیفکیشن کے مطابق وہ ہمیشہ آرمی چیف رہیں گے،آرمی چیف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ پرسوں رات 12بجے آرمی چیف کی مدت ملازمت پوری ہو جائیگی،
    اٹارنی جنرل انور منصور خان نے موقف اپنایا کہ گزشتہ روز کے عدالتی حکم میں بعض غلطیاں ہیں، آرمی رولز کا حوالہ دیا تھا، عدالت نے حکم نامے میں قانون لکھا، عدالت نے کہا صرف 11 ارکان نے کابینہ میں توسیع کی منظوری دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی غلطیاں دور کر دی گئی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ کابینہ کے ارکان نے مقررہ وقت تک جواب نہیں دیا تھا۔

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اب تو حکومت اس کاروائی سے آگے جا چکی ہے، عدالت نے آپ کی دستاویزات کو دیکھ کر حکم دیا تھا، رول 19 میں وقت مقرر کرنے کی صورت میں ہی ہاں تصور کیا جاتا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ‏کل بھی بتایا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن پر متعدد وزرا کے جواب کا انتظار تھا، کابینہ اراکین کو وقت دیا گیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر کابینہ اراکین کا جواب نہ آئے تو کیا اسے ہاں سمجھا جاتا ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قواعد کے مطابق ایسا ہی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کابینہ کے گزشتہ روز کے فیصلوں کے بارے میں دستاویزعدالت میں جمع کرائیں
    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ماضی میں آرمی چیف 10، 10 سال تک توسیع لیتے رہے، آج یہ سوال سامنے آیا ہے، اس معاملے کو دیکھیں گے، تاکہ آئندہ کیلئے کوئی بہتری آئے، تاثر دیا گیا کہ آرمی کی چیف کی مدت 3 سال ہوتی ہے۔ آرمی ریگولیشنز کے مطابق ریٹائرمنٹ کر کے افسران کو سزا دی جا سکتی ہے، حال ہی میں 3 سینیئر افسران کی ریٹائرمنٹ معطل کر کے سزا دی گئی تھی۔ جو صفحات آپ نے دیئے وہ نوکری سے نکالنے کے حوالے سے ہیں، یہ نئی ریگولیشن کس قانون کے تحت بنی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران کہا کہ آپ نے آج بھی ہمیں آرمی ریگولیشنز کا مکمل مسودہ نہیں دیا، آرمی چیف کی مدت 3 سال کہاں مقرر کی گئی ہے، کیا 3 سال بعد آرمی چیف گھر چلا جاتا ہے ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں پوری کتاب کو دیکھنا ہے ایک مخصوص حصے کو نہیں، آرمی ریگولیشن رول 255 ریٹائرڈ افسرکو دوبارہ بحال کر کے سزا دینے سے متعلق ہے، ہمیں اس تناظر میں دیکھنا ہے کہ 3 سال بعد کیا ہونا ہے۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ وقت بہت ہی کم ہے ، ،فیصلہ جلد کرنا ہوگا، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آپ نے ملک میں خوامخواہ کا ہیجان کیوں پیدا کیاگیا؟.فوج ہمارا ادارہ ہے،اس کی عزت کرتے ہیں.یہ تو پتہ ہونا چاہیے آئندہ سربراہ کون ہوگا اور کیسے بنے گا؟ سمری کے مطابق وزیراعظم نے توسیع کی سفارش ہی نہیں کی،سفارش نئی تقرری کی تھی لیکن نوٹیفکیشن توسیع کا ہے، چیف جسٹس نےکہا کہ آرٹیکل 243 کے تحت تعیناتی ہوتی ہے توسیع نہیں، کل ہی سمری گئی اور منظور بھی ہوگئی، کیا کسی نے سمری اور نوٹیفکشن پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی، لائل اور کیس پر بحث جاری تھی کہ عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی.،

  • عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں کرفیو پر خاموش کیوں ، وزیراعظم

    عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں کرفیو پر خاموش کیوں ، وزیراعظم

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی فسطائی ذہنیت نمایاں ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے معاملے پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی فسطائی ذہنیت نمایاں ہے۔

    اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ 100 دن سے جاری محاصرہ آر ایس ایس نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔


    وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ طاقتور ممالک اپنے تجارتی مفادات کے تحت مظالم پرخاموش ہیں۔

    انہوں نے کہا بھارتی قونصل جنرل کے ناپاک عزائم کے بارے خبر بھی ٹوئٹ کی۔اس سے قبل امریکہ میں تعینات بھارتی قونصل جنرل سندیپ چکرورتی نے کہا تھا کہ بھارت ہندؤوں کی مقبوضہ کشمیر میں واپسی پر اسرائیلی طرز پر بستیوں کی تعمیر کرے گا۔
    پلان کے مطابق مقبوضہ وادی کے مسلم اکثریتی علاقے میں ہندو بستیاں آباد کی جائیں گی۔نہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کرفیو کو 100 سے زائد دن ہو چکے ہیں، مظلوم کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں لیکن بڑی طاقتیں اپنے تجارتی مفادات کے باعث خاموش ہیں۔

  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش کردی

    تفصیلات کےمطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل نے نئی سمری سپریم کورٹ میں پیش کر دی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
    چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے درخواستگزار ریاض راہی سے پوچھا کہ آپ کل کہاں تھے ؟ ہم کیس آپ کی درخواست پر ہی سن رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا جن غلطیوں کی نشاندہی کی حکومت نے انہیں درست کرلیا، خامیاں تسلیم کرنے کے بعد ان کی تصحیح کی گئی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا ہم نے ان غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا خامیاں تسلیم نہیں کی گئیں تو تصحیح کیوں کی گئی ؟ کل کیے گئے اقدامات سے متعلق بتایا جائے۔

    اٹارنی جنرل نے کابینہ فیصلوں سے متعلق تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا توسیع سے متعلق قانون نہ ہونے کا تاثر غلط ہے۔ چیف جسٹس نے کہا فیصلہ کل پیش کی گئی دستاویز کے مطابق ہی لکھوایا تھا، ٹھیک ہے پھر ہم کل والی صورتحال پر ہی فیصلہ دے دیتے ہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا عدالت پہلے مجھے تفصیل کے ساتھ سن لے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کیا ریٹائرڈ جنرل بھی آرمی چیف بن سکتا ہے ؟ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کے سیکشن 176 کے تحت ترمیم کی، دستاویز میں غیر حاضر کابینہ ارکان کے سامنے انتظار لکھا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا عدالت نے آپ کی دستاویز کو دیکھ کر حکم لکھا تھا۔
    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست جیورسٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں سیکریٹری دفاع اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ رواں سال 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی گئی تھی۔
    وزیراعظم آفس سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کردیا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے اور اس اب وقفہ جاری کریا گیا ہے، ایک بجے پھر سماعت ہو گی.

  • باغی سپیشل،اپنے شہداء کو نہ بھولنے والی قوم شہداء سلالہ کو بھول گئی

    باغی سپیشل،اپنے شہداء کو نہ بھولنے والی قوم شہداء سلالہ کو بھول گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنے شہداء کو نہ بھولنے والی قوم شہداء سلالہ کو بھول گئی، سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کو آٹھ برس بیت گئے، کسی تنظیم یا ادارے نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا کوئی بیان دیا نہ کوئی تقریب ہوئی ، سلالہ شہدا کا یوم شہادت خاموشی سے گذر گیا،

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی وزیراعظم عمران خان کی صدارت دن میں دو مرتبہ ہوا لیکن اجلاس میں شہداء اسلالہ کے حوالہ سے کوئی بات نہ کی گئی، اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سے بھی مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں ہوئی لیکن وہ الیکشن کروانے کا سب ملکر مطالبہ کرتے رہے شہداء سلالہ کے لئے ایک لفظ اپوزیشن رہنماؤں کے منہ سے نہ نکلا.

    پاکستان میں مختلف این جی اوز،اداراے مختلف ایام مناتے ہیں ،خواتین پر تشدد کا دن تو ہر سال منانا یاد رہتا ہے،ملالہ پر حملے سے تو ساری دنیا نے اسے مظلوم بنا دیا،ماؤں کا عالمی دن منایا جا سکتا ہے،اساتذہ کا بھی منایا جا سکتا ہے،مزدور ڈے پر بھی لوگ نکلتے ہیں،غرضیکہ کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جسدن کوئی عالمی دن نہ منایا جائے۔لیکن اس وطن کے لئے قربانیاں دینے والوں کے لئے ،اس ملک پر اپنی جان نچھاور کرنے والوں کے لئے،پاکستان کی حفاظت کے لئے ہر وقت دشمن سے مقابلہ کے لئے تیار رہنے والوں کو ہم کیوں بھول جاتے ہیں؟

    بھارتی آرمی چیف کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب،بھارت نے کی راہ فرار اختیار

    بھارت کی ایک اور جھوٹی کہانی بے نقاب، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق

    بھارت ایک اور ڈرامہ رچانے میں مصروف، 26/11 طرز کے حملے کا الرٹ جاری

    ہمیں وہ عظیم لوگ کیوں یاد نہیں رہتے جنہوں نے اس ملک کی حفاظت کے لئے اپنا خون دیا۔جو خود تو کٹ گئے مگر اس ملک پر آنچ نہیں دی،جو امریکی گولوں کا نشانہ بنے۔ ان آٹھ برسوں میں کوئی ایک ایسی این جی او نظر نہیں آتی جس نے اس ملک کے لئے سلالہ چیک پوسٹ پر قربان ہونے والے کے گھروں میں جا کر انکے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہو؟انکے دکھوں کا مداوا کیا ہو؟کوئی نہیں ملے گا،انڈین فلموں میں کام کرنے والے اداکاروں کے نام تو ہمارے ہر نوجوان کو یاد ہوں گے مگر وطن عزیز کے لئے قربانیاں دینے والوں کے نام نہیں،

    واضح رہے کہ مہمند ایجنسی کی تحصیل بازئی میں قائم پاکستان فوج کی چیک پوسٹ سلالہ پر نیٹو حملے کے آٹھ سال مکمل ہوگئے ، 2011 میں نیٹو افواج کے ہیلی کاپٹروں نے پاک افغان بارڈر پر قائم پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں میجر مجاہد، کیپٹن عثمان سمیت 24اہل کاروں نے جام شہادت نوش کیا تھا اور 12فوجی زخمی ہوئے تھے

    باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متحدہ جمعیت اہلحدیث کے رہنما شیخ نعیم بادشاہ کا کہنا تھا کہ ملک کا دفاع اور نیٹو فورسز کی دہشت گردی روکنے کیلئے عملی اقدامات نہیں کئے گئے جس کے باعث پاکستان کی مشکلات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا۔ حکمران امریکہ کی غلامی سے نکل آئیں۔ امریکہ سے ہماری کھلی جنگ ہے پاکستان سے امریکی جارحیت ختم ہونے تک قوم سے چین سے نہیں بیٹھے گی۔ سلالہ حملہ محب وطن حلقوں کی یادوں سے محو نہیں ہو سکتا نہ ہی زندہ قومیں قومی سانحات کو نظرانداز کرتی ہیں۔ افسوس کہ ہم اپنے شہدا کو بھول گئے،

  • انسانیت کےدشمن بھارت کوسلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانا انسانیت کی توہین، پاکستان نےاعتراض اٹھا دیا

    جنیوا:بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی بھرپورمخالفت کریں گے ، پاکستان نےاعتراض اٹھا دیئے،اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اپنے خطاب میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرنے والا ملک غیر مستقل رکن بننے کا بھی اہل نہیں ہے جو ملک طاقت کے زور پر عوام کے حقوق سلب کرے وہ کیسے عالمی امن کا ضامن ہوسکتا ہے؟

    وزیراعظم اور فروغ نسیم میں ناراضی کی باتیں افواہ ہیں،کچھ نہیں ہونے جارہا،عامر خان

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ سلامتی کونسل میں رکنیت کے لیے طاقت کی بجائے کسی ملک کی امن کے لیے کوششوں کو دیکھنا چاہیے، اصلاحات پر پاکستانی مؤقف جمہوری اصولوں اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔

    انڈونیشیا کی دیندا نے چہرے کے داغ دھبوں‌ کا ناقابل یقین علاج بتاکرسب کو حیران…

    یاد رہے کہ بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے لیے لابنگ کررہا ہے اور اس سے قبل پاکستان سمیت 55 ممالک نے اقوام متحدہ میں ایشیا پسیفک گروپ کے سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کے لیے بھارت کی حمایت کی تھی، لیکن اب پاکستان نے بھارت کی مستقل رکن بننے کی مخالفت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے پوچھا ہے کہ وہ بتائے کہ انسانیت کے دشمن بھارت کو کس بنیا د پر سلامتی کونسل کے مستقل رکن بنانے کی باتیں ہورہی ہیں‌،

    افسوس!رویوں میں‌ ابھی تک تبدیلی نہیں‌ آئی، میرےمتعلق مستقل غلط خبریں چلائی گئیں،…

  • وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ختم، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہو گی یا نہیں؟ فیصلہ ہو گیا

    وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ختم، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہو گی یا نہیں؟ فیصلہ ہو گیا

    وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ختم، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہو گی یا نہیں؟ فیصلہ ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خا ن کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ختم ہو گیا ہے، ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی ہے.

    کابینہ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے وفاقی کابینہ کو سپریم کورٹ میں دائر درخواست کے حوالہ سے بریفنگ دی. آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے قانون میں تبدیلی کی جائے گی .دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ڈیفنس ایکٹ میں ایکسٹینشن کے لفظ کا اضافہ کرنے کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری صدر مملکت کو بھجوا دی ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کا خیرمقدم

    وفاقی کابینہ اجلاس، بھارت سے اشیاء کی درآمدگی بارے کابینہ نے کیا فیصلہ کیا؟ اہم خبر

    سعودی شہزادے کی اچانک پاکستان آمد ،وزیراعظم عمران خان سے اہم ترین ملاقات. چہ میگوئیاں جاری

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نےآرمی چیف کی مدت ملازمیت میں توسیع کانوٹیفکیشن معطل کردیا.سو موٹو کیس میں سپریم کورٹ کیطرف سے آرمی چیف کو نوٹس جاری کردیا گیا۔عدالت عظمیٰ نےآرمی چیف اوردیگرفریقین کونوٹس جاری کردیئے.سپریم کورٹ نےکیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی..حکومت نے19اگست کو جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں3سال کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا.

  • اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی ختم، پلان اے ،بی، سی ختم پھر بھی مولانا امید سے

    اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی ختم، پلان اے ،بی، سی ختم پھر بھی مولانا امید سے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ آ گئے اور چلے گئے ایس نہیں، پاکستان کی عوام، تمام جماعتوں کے نمائندے آئے اسی کے نتیجے میں حکومت جائے گی،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک ادارہ ہے اور اس کے اپنے فرائض ہیں،الیکشن کمیشن بے بس کیوں تھا اس کی وجہ سے ہر چیز متنازعہ لگ رہی ہے،اجلاس میں بلدیاتی اداروں کی فی الفور بحالی کا مطالبہ کیا گیا، رابطوں کی نہیں بلکہ موقف کی بات ہے، ہم اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم ہیں اس کو خراج تحسین کریں. کسی ریاستی ادارے کو اپنے دائرے سے تجاوز کی اجازت نہیں، کسی صورت بھی سلیکٹڈ وزیراعظم قابل قبول نہیں ہوسکتا ،

    فارن فنڈنگ کیس، شیخ رشید نے بھی بڑا مطالبہ کر دیا

    فارن فنڈنگ کیس سماعت سے قبل وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک اور مشکل

    غیر ملکی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کو ملی عدالت سے ملی بڑی کامیابی

    فارن فنڈنگ کیس، مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن سے بڑا مطالبہ کر دیا

    فارن فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے سنایا بڑا فیصلہ

    تحریک انصاف اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے، ایسا کس نے کہہ دیا

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے سی پیک کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے پارلیمانی کمیٹی کے ہوتے ہوئے سی پیک اتھارٹی کا قیام سمجھ سے بالاتر ہے ہم اسے قبول نہیں کرتے،فارن فنڈنگ کیس پر جلد فیصلہ چاہتے ہیں.اے پی سی نے مطالبہ کیاکہ فارن فنڈنگ کیس کاجلد فیصلہ کیا جائے

    بلاول زرداری نے کہا کہ آصف زرداری کی صحت کافی عرصے سے خراب ہے، حکومت ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی، فیملی کی جانب سے درخواست دی گئی ہے کہ نجی ڈاکٹر کو رسائی دی جائے تا کہ ہمیں تسلی ملے کہ انہیں صحیح ادویات دی جا رہی ہیں ابھی تک حکومت نے ہمارا مطالبہ نہیں مانا، آصف زرداری نے ضمانت کے لئے درخواست نہیں دی، کراچی مقدمہ منتقل کرنے کی سماعت جلد ہو گی، قانون کی جو خلاف ورزی کی گئی ہے اس پر ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ انصاف دے گی.

    بلاول زرداری نے کہا کہ پی پی الیکشن کے لئے تیار ہے اور لڑے گی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کروائے جائیں ،2018 کے الیکشن میں سلیکشن کی گئی، ہم نہ اس سیلکٹڈ کو مانتے ہیں نہ کسی اور کو مانیں گے، اگر الیکشن کی بات ہوتی ہے یا ان ہاؤس کی تو ہم نے نہیں کرنی،ہم نے سیلکٹڈ کا ساتھ نہیں دینا بلکہ عوامی وزیراعظم چاہتے ہیں.

    ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا 2018 میں عمران خان سلیکشن آئی تھی 15 ماہ میں اس نے سلامتی کے خطرات پیدا کر دیئے ہیں، پارلیمنٹ کو تالے لگا دیئے ہیں ،آرڈیننس کے ذریعے سرکار چل رہی ہے، نوجوانوں کا مستقبل ختم ہو گیا ہے، نوکریاں نہیں دی جا رہیں پاکستان کا سب سے بڑا کریشن 15 ماہ میں ہوا، اس حکومت کو رخصت کرنا ہو گا اور سلیکٹڈ کی جگہ الیکٹڈ حکومت لانا ناگزیر ہو گیا ہے، ہم مسلسل کہتے رہے ہیں کہ یہ نالائق ہیں اور اناڑی ہیں، ملکی سلامتی، معیشت کے لئے یہ خطرہ بن گئے ہیں، ملک کا دفاع معیشت کے ساتھ ہوتا ہے، عوام کے مستقبل کے لئے ایک ہی راستہ ہے نیا،آزاد،منصفانہ الیکشن اور یہی پاکستان کو بچا سکتا ہے÷

  • وفاقی کابینہ اجلاس، بھارت سے اشیاء کی درآمدگی بارے کابینہ نے کیا فیصلہ کیا؟ اہم خبر

    وفاقی کابینہ اجلاس، بھارت سے اشیاء کی درآمدگی بارے کابینہ نے کیا فیصلہ کیا؟ اہم خبر

    وفاقی کابینہ اجلاس، بھارت سے اشیاء کی درآمدگی بارے کابینہ نے کیا فیصلہ کیا؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہو گیا ہے، کابینہ نے بھارت سے اشیا درآمدگی کی تجویزمسترد کردی ،کابینہ اجلاس میں اراکین نے رائے دی کہ بھارت کی بجائے چین سے اشیا درآمد کی جائیں،

    وفاقی کابینہ میں فیصلہ کیا گیا کہعالمی ادارہ خوراک کو گاڑیوں کے ممنوعہ اسپیئرپارٹس کراچی سے کابل لے جانےکی اجازت دی جائے،پی ٹی وی کے ایم ڈی عامرمنظورکی تعیناتی کے قواعد وضوابط کی منظوری دی گئی، اجلاس میں پوسٹل لائف انشورنس کوپبلک لمیٹڈ کمپنی بنانے کی منظوری دی گئی، کابینہ کوجیل اصلاحات پربھی بریفنگ دی گئی وفاقی کابینہ نے جیل اصلاحات کی بھی منظوری دے دی.

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو کابینہ کمیٹی برائے سی پیک کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ کابینہ کمیٹی برائے سی پیک 12 ارکان پر مشتمل ہو گی۔

    وفاقی کابینہ میں بیورو کریسی میں اکھاڑ بچھاڑ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے،کابینہ نے تین سالہ حج پالیسی پرقانونی مشکلات دور کرنے کا کہا گیا ہے، چیف سیکرٹری پنجاب کو تبدیل کئے جانے کا امکان ہے تا ہم آئی جی پنجاب کی تبدیلی زیر غور نہیں، گریڈ 22 میں ترقی پانے والے افسران کو اہم ذمہ داریاں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معلامات میں قانونی لوازمات پورا نہ کرنے پر فروغ نسیم کی سرزنش کی.