Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مریم نواز کو بھی "ضمانت” مل گئی

    مریم نواز کو بھی "ضمانت” مل گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی چوھدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے.

    عدالت نے ایک ایک کروڑکے 2 مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا، عدالت نے مریم نواز کو ڈپٹی رجسٹرار لاہو رہائی کورٹ کو پاسپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی،پاسپورٹ جمع نہ کرانے کی صورت میں 7کروڑ روپے زرضمانت جمع کرنا ہو گا

    گزشتہ سماعت پرفریقین کے دلائل کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ،جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی .نیب کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل نیب جہانزیب بھروانہ پیش ہوئے،مریم نوازکی جانب سے اعظم نذیرتارڑایڈووکیٹ اورامجد پرویزایڈووکیٹ پیش ہوئے تھے،

    نیب کے وکیل نے مریم نواز کی انسانی بنیادوں پر درخواست ضمانت کی مخالفت کی تھی ،نیب کے وکیل نے کہا کہ مریم نواز کی پوری درخواست ضمانت ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کی جائے، مریم نوازکے خلاف 3کیسزچل رہے ہیں،جج ارشد ملک والے کیس میں ملزمہ ملوث ہے، نیب وکیل نے کہا کہ مریم نوازفلیگ شپ اورالعزیزیہ کیسز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ،مریم نوازچودھری شوگر ملز میں شیئر ہولڈر بھی رہیں،

    پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

    جسٹس علی باقرنجفی نے استفسارکیا کہ کیا مریم نوازبھی کسی ریفرنس میں سزایافتہ ہیں؟ جس پر نیب وکیل نے کہا کہ مریم نوازایون فیلڈ ریفرنس میں سزایافتہ ہیں انہیں7سال قید کی سزادی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نےمریم نوازکی سزا معطل کر رکھی ہے،

    مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے موقف اپنایا تھا کہ مریم نواز کا چودھری شوگر ملز میں کبھی بھی متحرک کردار نہیں رہا، ایک عرصے سے مریم نواز کے پاس ملز کے کوئی شیئرز نہیں ہیں، وکیل نے بتایا کہ 1991 میں جب چودھری شوگر ملز قائم ہوئی تو اس وقت مریم نواز چھوٹی تھیں، مریم نواز کے وکیل نے بتایا کہ چودھری شوگر ملز کا تمام تر کنٹرول ان کے دادا محمد شریف کے پاس تھا ،محمد شریف کے انتقال کے بعد ملزم کے کرتا دھرتا عباس شریف تھے۔

    وکیل نے نشاندہی کی کہ چودھری شوگر کے تمام معاملات کی دیکھ بھال اب عباس شریف کے بیٹے یوسف عباس کر رہے ہیں۔ وکیل نے یہ بھی بتایا کہ مریم نواز کا بطور ڈائریکٹر اور سی ای او کردار رسمی نوعیت کا تھا، مریم نواز کے وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ اینٹی منی لانڈرنگ کا قانون 2010 میں آیا اور اس کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔ وکیل کے مطابق نیب کے قانون میں ترمیم کے بعد اعانت کا جرم شامل کیا گیا اور اس کا ماضی سے اطلاق نہیں ہوسکتا لہذا درخواست ضمانت منظور کی جائے۔

    ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے کہا انکم ٹیکس ریٹرن کے ریکارڈ کے مطابق مریم نواز کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، مریم نواز چودھری شوگر ملز کی سی ای او اور شیئرز ہولڈر رہی ہیں۔ نیب وکیل نے بتایا کہ مریم نواز سے پوچھا گیا کہ چودھری شوگر ملزمیں ان کے 41 فیصد شیئرز ہیں، بتائیں کہاں سے آئے، مریم نواز اپنے جواب سے نیب کو مطمئن نہ کر سکیں، چودھری شوگر ملز کے اکاؤنٹس سے شمیم شوگر ملز کے اکاؤنٹ میں بھاری رقم ٹرانسفر کی گئی۔

    جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد بظاہر لگ رہا ہے ٹرانزیکشنز نوازشریف کے اکاونٹس سے ہوئیں ،ٹرانزیکشنز میں مریم نواز کا لنک نظر نہیں آرہا جسٹس باقرنجفی نے کہا کہ آپ کو پتہ ہوناچاہئے ہم مریم نواز کا کیس سن رہے ہیں نوازشریف کا نہیں ۔

    مریم نواز نے24اکتوبر کو والد کی تیمارداری کیلیےدرخواست ضمانت دائر کی تھی ،لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت پر 31اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

  • ریاست کو کسی صورت کمزورنہیں پڑنے دیں گے، وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    ریاست کو کسی صورت کمزورنہیں پڑنے دیں گے، وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    ریاست کو کسی صورت کمزورنہیں پڑنے دیں گے، وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے تحریک انصاف کے رہنما بابراعوان کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں سیاسی صورتحال اورقانونی امورپربات چیت کی گئی

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ریاست پہلے سیاست بعد میں آتی ہے، ریاست کو کسی صورت کمزورنہیں پڑنے دیں گے، قانون کی نظرمیں سب برابرہیں،سب پریکساں اطلاق ہوگا

    وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ایسا کیا فیصلہ ہوا کہ مولانا نے سر پکڑ لیا

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اے ٹی سی سے سپریم کورٹ تک سب جگہ خود پیش ہوا ملکی ادارے مزید مستحکم کریں گے، پاکستان کا استحکام اداروں سے وابسطہ ہے،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ مولانا کا دھرناعدلیہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے،مشروط اجازت صرف مارچ کیلئے تھی،

    آزادی مارچ ،بہت ہو گئی، اب وزیراعظم کریں گے خطاب مگر کب؟

    بابراعوان نے کرتارپورراہداری کی تکمیل پر وزیراعظم عمران خان کو مبارکباد دی جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرتار پورراہداری بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہوگا، دنیابھر کےسکھ زائرین کوخوش آمدید کہنے کو تیار ہیں ،

    آزادی مارچ، مولانا فضل الرحمان نے اے پی سی تو بلا لی لیکن کون کون شریک نہیں ہو گا؟ اہم خبر

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ معیشت کی بہتری کیلئےکوششیں رنگ لارہی ہیں کرنٹ اکاونٹ خسارے میں 32 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے،مزیداقدامات جاری ہیں ،چند ماہ میں مزید بہتری آئےگی.

  • مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کر لیا جائے…………ایسا کس نے کہہ دیا

    مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کر لیا جائے…………ایسا کس نے کہہ دیا

    مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کر لیا جائے…………ایسا کس نے کہہ دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ کا آج اسلام آباد میں پانچواں روز ہے، آزادی مارچ کے شرکاء اسلام میں بیٹھے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ شب بھی آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کیا تھا تا ہم دیگر اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سٹیج سے بالکل غائب نظر آئیں .

    آزادی مارچ، مولانا فضل الرحمان نے اے پی سی تو بلا لی لیکن کون کون شریک نہیں ہو گا؟ اہم خبر

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے ۔ عدالت میں دائر درخواست میں مولانا فضل الرحمان اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

    آزادی مارچ،وہی ہوا جس کا ڈر تھا، انصار الاسلام نے ایسا کیا کر دیا کہ مولانا بھی پریشان

    آزادی مارچ سے ہم کیا چاہتے ہیں؟ احسن اقبال نے دل کی بات بتا دی

    ایڈووکیٹ ندیم سرور نے مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری اور ان کے خلاف بغاوت کی کارروائی کرنے کی درخواست دائر کی۔ عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ مولانافضل الرحمان لوگوں کو اکسا رہے ہیں، انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے،

    مولانا سے آج کونسی اہم شخصیت ملاقات کر رہی ہے؟ سب کی نظریں ملاقات پر جم گئیں

    درخواست میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے بیان دیا کہ آزادی مارچ کے شرکا وزیر اعظم ہاوس جا کر عمران خان کو گرفتار کر سکتے ہیں، لوگوں کو ریاست کے خلاف اکسانا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت فضل الرحمان کو گرفتار کر کے بغاوت کی کارروائی کا حکم دے۔

    قبل ازیں عبداللہ ملک نامی شہری نے سی سی پی او کے حضور درخواست جمع کراتےہوئے کہا کہ وہ ایک ذمہ دارشہری کی حیثیت سے یہ محسوس کررہےہیں کہ جس طرح مولانا فضل الرحمن اسلام آباد میں ریاست اور اداروں کے خلاف لوگوں کو اکسارہے ہیں یہ ایک واضح بغاوت ہے جس سے ریاست کے اندر مزید انتشار کاخدشہ ہے اور اداروں کی ساخت کو چیلنج کررکھا ہے.

    شہری عبداللہ ملک نے اپنی درخواست میں کہا ہےکہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام میں لوگوں کو اکساتے ہوئےکہا کہ وزیراعظم کو بتادیں کہ وہ دودن کےاندر مستعفی ہوجائیں ورنہ یہ ہجوم وزیراعظم کے گھر جاکران سے زبردستی گرفتار کرکے خود ہی استعفیٰ لے لے گا ، شہری نے مزید کہا کہ اس سے بڑھ کر اور بغاوت کیا ہوسکتی ہے کہ ملک کے وزیراعظم کو اور دیگر اداروں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں لہٰذا جتنی جلدی ممکن ہوسکے بغاوت کا مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا جائے تاکہ ملک انتشار سے بچ جائے

  • مولانانے واپسی کا اشارہ دے دیا ، آزادی مارچ اپنے انجام کے قریب

    لاہور:اورپھروہی ہوا جس کی پشین گوئیاں کی جاچکی ہیں ، مولانا فضل الرحمن نے دھرنے کو ختم کرنے اورواپسی کا اشارہ دے دیا ہے، مولانا کی واپسی کی پشین گوئی پاکستان کے ممتاز صحافی اورمعروف اینکر پہلے ہی کرچکے ہیں ، دوسری طرف اطلاعات کےمطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ 5 سال میں الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہ کرسکا تو دھاندلی کا کیا فیصلہ کرے گا۔

    ذرائع کےمطابق ڈیڈ لائن ختم ہونے اور آزادی مارچ کے چوتھے روز خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا الیکشن کمیشن جائیں اور وہاں اپنی شکایت درج کرائیں، الیکشن کمیشن بیچارہ تو ہم سے بھی زیادہ بے بس ہے، اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو قوم کی اتنی بڑی تعداد اسلام آباد میں نہ ہوتی۔

    مولانافضل الرحمن نے کہا کہ اس قومی اسمبلی میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی الیکشن کمیشن میں نہیں جانا، کسی عدالت میں نہیں جانا اور دھاندلی کی تحقیقات پارلیمانی کمیٹی کرے گی،کمیٹی تشکیل دی گئی تو اس کی نہ میٹنگ ہوئی اور نہ رولز بنیں ہیں۔

    مولانا فضل الرحمن نے اسی الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کا کیس زیر سماعت ہے اور وہ 5 سال سے اس کیس کا فیصلہ نہیں کرسکے تو دھاندلی کا کیسے فیصلہ کرے گا؟ تم لوگوں سے احتساب مانگتے ہو لیکن خود احتساب دینے کو تیار نہیں، یہ پوری پارٹی و ٹبر چور ہے، قابل احتساب پارٹی پورے پاکستان پر حکومت کر رہی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان حکمرانوں کو جانا ہوگا اور عوام کو ووٹ کا حق دینا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں، یہاں اجتماع کرنے کے بعد یہ مطلب نہیں کہ ہمارا سفر رک گیا،ہم یہاں سے جائیں گے تو پیشرفت کے ساتھ جائیں گے، آج اسلام آباد بند ہے تو پورا پاکستان بندکرکے دکھائیں گے اور جنگ جاری رکھیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈی چوک تنگ جگہ ہے، یہاں تو کھلی جگہ تنگ پڑ گئی ہے، ہر شخص الیکشن میں عوام کی طرف دیکھنے کے بجائے کسی اور طرف دیکھ رہا ہوتا ہے، عوام کے ووٹ کو عزت دینا ہوگی اور ہمیں عوام کے ووٹ کا احترام کرنا ہوگا لیکن اس پر ڈاکے ڈالنے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔

  • اپوزیشن والے کون سے تین لفظ سننا چاہتے ہیں ، وزیر اعظم نے بتا دیا

    اپوزیشن والے کون سے تین لفظ سننا چاہتے ہیں ، وزیر اعظم نے بتا دیا

    تفصیلات کے مطابق : وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک اور واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اپوزیشن کو کبھی این آر او نہیں دیں گے، اگر این آر او دیا تو ملک سے غداری ہو گی، یہ لوگ صرف تین الفاظ سننا چاہتے ہیں۔
    وزیراعظم نے ایک بار پھر صاف صاف کہہ دیا، نو این آر او، نو کمپرومائز، اپنے سوشل میڈیا پیغام میں وزیراعظم نے اپوزیشن پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا جب تک ان کو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے ملک ترقی کی راہ پر نہیں آ سکتا۔ ان کو کبھی این ار او نہیں دونگا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا۔ یہ لوگ صرف تین الفاظ سننا چاہتے ہیں۔

    اس سے پہلے ملکی سلامتی کے اداروں کا دفاع کرتے ہوئے عمران خان نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا تھا.اور کہا تھا کہ وزیر اعظم نے اجلاس میں کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ فوج نے کن قربانیوں سے ملک سنبھالا، فوجیں ختم ہو جاتی ہیں تو وہ ملک باقی نہیں رہ سکتے، اداروں کا دفاع سیاست سے بالا تر ہو کر کریں گے۔دریں اثنا، وزیر اعظم کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، جن کے مطابق وزیر اعظم استعفیٰ دیں گے نہ نئے انتخابات ہوں گے، مولانا مارچ کے شرکا جب تک چاہیں بیٹھیں رہیں، کوئی اعتراض نہیں، ریڈ زون کی طرف بڑھنے پر قانون حرکت میں آئے گا۔

    مولانا،ملک میں منافرت اوربغاوت کی ایک ہےعلامت، قانون حرکت میں آجائے ، شہری

    قومی اداروں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سلامتی اور دفاع کے ادارے کو اپوزیشن کا ٹارگٹ نہیں بننے دیا جائے گا، سیاسی اور انتظامی بیانیہ مشترکہ طور پر چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، کہا گیا کہ استعفے کا مطالبہ احمقانہ ہے اور وزیر اعظم کی گرفتاری کا بیان شرم ناک ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم کی گرفتاری کی بات بغاوت قرار دے کر حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا ہے، سینئر قانون دان بابر اعوان اور اٹارنی جنرل نے اس سلسلے میں مشاورت کی ہے، قانونی ماہرین نے بھی وزیر اعظم کی گرفتاری سے متعلق بیان کو جرم قرار دے دیا ہے۔

    ایک طرف دھرنا تو دوسری طر ف فضائی حملہ ، ایک شہید کئی زخمی

  • اداروں کا دفاع سیاست سے بالاتر ہو کر کریں گے: وزیر اعظم کا واضح مؤقف

    اسلام آباد: یہ حکومت کی ذمہ داری ہےکہ اپنے اداروں کے دفاع اور کریڈیبلٹی کو ہر صورت برقرار رکھے ، اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کا دفاع سیاست سے بالاتر ہو کر کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پاک فوج کا بھرپور دفاع سامنے آیا ہے، کور کمیٹی اجلاس میں قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی شدید مذمت کی گئی۔

    ذرایع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے اجلاس میں کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ فوج نے کن قربانیوں سے ملک سنبھالا، فوجیں ختم ہو جاتی ہیں تو وہ ملک باقی نہیں رہ سکتے، اداروں کا دفاع سیاست سے بالا تر ہو کر کریں گے۔دریں اثنا، وزیر اعظم کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، جن کے مطابق وزیر اعظم استعفیٰ دیں گے نہ نئے انتخابات ہوں گے، مولانا مارچ کے شرکا جب تک چاہیں بیٹھیں رہیں، کوئی اعتراض نہیں، ریڈ زون کی طرف بڑھنے پر قانون حرکت میں آئے گا۔

    قومی اداروں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سلامتی اور دفاع کے ادارے کو اپوزیشن کا ٹارگٹ نہیں بننے دیا جائے گا، سیاسی اور انتظامی بیانیہ مشترکہ طور پر چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، کہا گیا کہ استعفے کا مطالبہ احمقانہ ہے اور وزیر اعظم کی گرفتاری کا بیان شرم ناک ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم کی گرفتاری کی بات بغاوت قرار دے کر حکومت نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا ہے، سینئر قانون دان بابر اعوان اور اٹارنی جنرل نے اس سلسلے میں مشاورت کی ہے، قانونی ماہرین نے بھی وزیر اعظم کی گرفتاری سے متعلق بیان کو جرم قرار دے دیا ہے۔

  • پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس،مولانا کے خلاف سخت موقف،وزیراعظم کابڑافیصلہ

    اسلام آباد:مولانا کے انداز سیاست سے اسلام میں بےچینی پائی جارہی ہے ، دوسری طرف حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نہ استعفیٰ دیں گے اور نہ ہی قبل از وقت انتخابات ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔

    مولانا،ملک میں منافرت اوربغاوت کی ایک ہےعلامت، قانون حرکت میں آجائے ، شہری

    اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ شرکاء نے آزادی مارچ اور مولانا فضل الرحمان کی 2 روز کی مہلت پر بھی گفتگو کی۔حکمران جماعت کی کور کمیٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نہ استعفیٰ دیں گے اور نہ ہی قبل از وقت انتخابات ہوں گے ۔اجلاس میں کور کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اپوزیشن کے اوچھے ہتھکنڈوں میں نہیں آئیں گے، اپوزیشن جب تک چاہے دھرنا دے، بلیک میل نہیں ہوں گے۔

    ایک طرف دھرنا تو دوسری طر ف فضائی حملہ ، ایک شہید کئی زخمی

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ استعفے کا مطالبہ احمقانہ ہے، اپوزیشن کا کوئی بھی غیر جمہوری مطالبہ تسلیم نہیں کر سکتے ، اگر اپوزیشن نے بلیک میلنگ کی تو مذاکرات نہیں کریں گے۔اجلاس میں وزیراعظم نے وزارت داخلہ کو ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔

    عمران خان کا استعفیٰ مانگنے والے پہلے خوداستعفیٰ دیں ،پھردیکھیئے آگے آگے ہوتا ہے کیا ؟اسدعمر

    خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ 27 اکتوبر کو کراچی سے شروع ہوا تھا جو سکھر، ملتان، لاہور اور گجرانوالہ سے ہوتا ہوا 31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچا۔مارچ کے شرکاء نے پشاور موڑ پر ایچ 9 گراؤنڈ میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور یکم نومبر کو آزادی مارچ سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ کے لیے اتوار تک کی مہلت دی ہے۔

  • ن لیگ کادھرنے میں شامل ہونے سے انکار،مولانا نے "گونواز گو”کے نعرے لگوادیئے

    اسلام آباد: مسلم لیگ ن کی طرف سے دھرنے میں شرکت کے انکار کرنا مولانا فضل الرحمن اور ساتھیوں پر بہت ناگوار گزرا ،اطلاعات کے مطابق احسن اقبال کیطرف سے دھرنے میں شامل ہونے سے انکار کے بعد جے یو آئی ف کے قائدین کی ہنگامی میٹنگ ہوئی جس میں ن لیگ کے رویے پر سخت تنقید کی گئی ، ایک موقع پر اکرم درانی نے کہا کہ میرے اصرار کے باوجود ن لیگ کی قیادت نے دھرنے میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے واپس جانے پر اصرار کیا ، اطلاعات کےمطابق اسی اجلاس میں طئے ہوا کہ اگر ایسے نہیں تو ایسے ہی سے ،

    پاکستان کرکٹ بورڈ پر پابندی؟کیوں لگ سکتی ہے وجہ سامنے آگئی

    ذرائع کے مطابق اسی اجلاس میں یہ طئے ہوا کہ اگر مسلم لیگ ن نے شمولیت نہ کی تو پھر یہ نعرہ ہی کیوں لگا دیا جائے "گونوازگو”کے ،پھر یہی ہوا کہ ایک منصوبے کے تحت وفاقی دارالحکومت میں جمعیت علمائے اسلام ف کے آزادی مارچ میں بھی گو نواز گو کے نعرے لگ گئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ گو نواز گو کا نعرہ عوام کی زبان پر کس طرح چڑھا ہوا ہے۔

    ملکہ چیونٹی کی عمر کتنی ہوتی ہے،ماہرین نے بتادیا

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں جے یو آئی ف کے مارچ میں اسٹیج سے گو نواز گو کا نعرہ بلند ہوا تو پورا مجمع گونج اٹھا۔ اسٹیج سے نعرہ کے پی کے سیکریٹری جنرل مولانا عطا الحق درویش نے لگوایا۔جے یو آئی رہنما نے نعرہ لگوایا تو اسٹیج پر موجود دیگر رہنما حیران رہ گئے، مارچ کا اجتماع گو نواز گو کے فلک شگاف نعرے سے گونج اٹھا۔

    پاکستان واقعی ایک پرامن ملک ؟برطانوی شاہی جوڑے نےکیا کہہ دیا

    یاد رہے کہ آزادی مارچ کے سلسلے میں جے یو آئی ف کے کارکنان تین دن سے اسلام آباد میں موجود ہیں، گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان تقریر کے دوران اداروں پر بھی تنقید سے باز نہیں آئے، انھوں نے کہا کہ حکومت دو روز میں استعفیٰ دے ورنہ آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ مجمع قدرت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو گھر سے گرفتار کر لے، ادارے 2 دن میں بتا دیں موجودہ حکومت کی پشت پر نہیں کھڑے۔

    https://www.youtube.com/watch?v=dfH8lUeR-3o

  • تحریک انصاف کورکمیٹی اجلاس، مولانا کے سب مطالبے مسترد

    تحریک انصاف کورکمیٹی اجلاس، مولانا کے سب مطالبے مسترد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیاہے،پی ٹی آئی کورکمیٹی نے وزیراعظم کےاستعفے کا مطالبہ مسترد کردیا، نئے انتخابات کا مطالبہ بھی کور کمیٹی نے مسترد کردیا،

    اجلاس میں کورکمیٹی اراکین نے فیصلہ کیا کہ اپوزیشن کا کوئی غیرآئینی مطالبہ قبول نہیں کیا جائے گا، اپوزیشن کا احتجاج احتساب کا عمل روکنے کی کوشش ہے، اپوزیشن کواسلام آباد میں احتجاج کی اجازت دی،

    آزادی مارچ،15 لاکھ افراد لانے کا دعویٰ اور آئے کتنے لوگ؟ مولانا رات بھر سو نہ سکے

    اجلاس میں پرویز خٹک نے کورکمیٹی کواپوزیشن سے رابطوں بارے آگاہ کیا ،وزیر داخلہ نے اجلاس میں بریفنگ دی کہ شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے دیں گے،جوجگہ مختص کی گئی ہےاس سےآگے بڑھیں گے توکارروائی ہوگی،

    کور کمیٹی اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر معاہدےکی خلاف ورزی ہوئی توقانون حرکت میں آئے گا،

    آزادی مارچ،وہی ہوا جس کا ڈر تھا، انصار الاسلام نے ایسا کیا کر دیا کہ مولانا بھی پریشان

    آزادی مارچ سے ہم کیا چاہتے ہیں؟ احسن اقبال نے دل کی بات بتا دی

    دوسری جانب آزادی مارچ سے نمٹنے کے لئے حکومت نے حکمت عملی تبدیل کر دی جس کے تحت حزب اختلاف کی جماعتوں سے الگ الگ رابطے کر کے انہیں ان ہی کے متعلقہ مسائل پر آفر کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے .

    غیرت مند انسان اللہ کے سوا کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا،وزیراعظم

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، گزشتہ روز بلاول، شہباز شریف، اسفند یار ولی و دیگر نے جلسے سے خطاب کیا تھا .جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو ملک کے غریب عوام کیساتھ کھیلنے کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی، بہت مہلت دیدی، اب انھیں جانا ہوگا۔

  • مولانا اکیلے رہ گئے ، ن لیگ اور پی پی پی نے خلع کا فیصلہ کرلیا

    اسلام آباد:مولانا اکیلے رہ گئے ، ن لیگ اور پی پی پی نے خلع کا فیصلہ کرلیا ہے ، اطلاعات کےمطابق ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    نجی سکولوں کو تین دن کی مہلت مل گئی

    رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا وہ مولانا فضل الرحمٰن کو پہلے ہی آگاہ کرچکے ہیں کہ وہ صرف عوامی جلسے میں شرکت کریں گے اور کسی دھرنے کی حمایت نہیں کریں گے۔ادھر دوسری طرف اسی بات کی تائید اپوزیشن کے اس بیان سے ہوتی ہےکہ کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو دھرنے میں شرکت سے متعلق کوئی ہدایات بھی جاری نہیں کیں۔

    مولانا کوداغ فراق دینے کا تذکرہ تو احسن اقبال نے اسلام آباد میں پہلے ہی کردیا تھا ، یاد رہےکہ گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے ہمراہ آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا تھا کہ پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف نے انہیں آزادی مارچ میں صرف ایک روز کے لیے شرکت کرنے کا کہا تھا۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے جوش و جذبے سے آزادی مارچ اور جلسے میں شرکت کی تھی، تاہم ان کی جماعت نے اپنے کارکنوں کو دھرنے میں شرکت کی کال نہیں دی تھی۔

    سکولوں میں چھٹیاں کردی گئیں

    مولانا سے خلع کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ان کی پارٹی نے کثیر الجماعتی کانفرنسز (ایم پی سی) اور رہبر کمیٹی کے اجلاس کے دوران واضح کردیا تھا وہ غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والے دھرنے میں شرکت نہیں کریں گے۔

    فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے 2 روز کی مدت کے بعد جمیعت علمائے اسلام (ف) کیا قدم اٹھائے گی۔3نومبر کے بعد دھرنا جاری رہنے پر پاکستان پیپلزپارٹی کی شرکت کے امکان سے متعلق فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وہ اپنی جماعت سے تبادلہ خیال کیے بغیر اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دے سکتے۔

    ساتھ ہی فرحت اللہ بابر نے مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے دھرنے میں شرکت کی درخواست پر پیپلزپارٹی کے ممکنہ موقف پر بھی جواب دینے سے انکار کردیا۔تاہم انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے جنوبی پنجاب میں جلسوں سے خطاب کا ارادہ برقرار ہے۔

    2-نومبر کو عالم اسلام کے سلطان کی پیدائش نے خطے کا نقشہ ہی بدل دیا ،

    فرحت اللہ بابر کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے جلسے کے لیے رحیم یارخان جانا تھا لیکن موسم کی خراب صورتحال کی وجہ سے نہیں جاسکے۔ان کا کہن اتھا کہ پرواز کی منسوخی کی وجہ سے چیئرمین پیپلزپارٹی آزادی مارچ کے مقام پر پہنچے اور صدر مسلم لیگ(ن) شہباز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ شرکا سے خطاب کیا تھا۔

    یاد رہے کہ آزادی مارچ کا آغاز 27 مارچ کو کراچی سے ہوا تھا جو سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا لاہور اور پھر گوجر خان پہنچا تھا اور 31 اکتوبر کی شب راولپنڈی سے ہوتا ہوا اسلام آباد میں داخل ہوا تھا۔دوسری طرف حکمران جماعت نے بھی مولانا کے ساتھ کس پیش آنا ہے اس کی حکمت عملی تیارکرلی ہے،

    بیٹا ہم ابھی زندہ ہیں‌، کشمیری ماں کا بیٹے کو آخری فون