Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آزادی مارچ،پرویز الہیٰ کے بعد وزیراعظم نے کس کو ٹاسک سونپ دیا؟ اہم خبر

    آزادی مارچ،پرویز الہیٰ کے بعد وزیراعظم نے کس کو ٹاسک سونپ دیا؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولاناکا آزادی مارچ،اپوزیشن کے احتجاج کوپرامن منتشرکرنے کے لیے حکومت کی نئی اسٹرٹیجی سامنے آ گئی، مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری پرویزالٰہی کے بعداسپیکراسدقیصرکوبھی بڑی ذمہ داری سونپ دی گئی،اسد قیصرکواپوزیشن سے مذاکرات کی کامیابی کے لیے نکات مرتب کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا.

    وزیراعظم نے قابل عمل اورقابل قبول نکات تیارکرنے کا ٹاسک اسدقیصرکو سونپا،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایسےنکات مرتب کیےجائیں کہ اپوزیشن کومذاکرات کی میزپربٹھاکر نتیجہ لیاجاسکے،نکات مرتب کرتےہوئےاسپیکراپوزیشن سےمشاورت بھی کریں گے،قانونی وآئینی ماہرین کی معاونت سےمتفقہ نکات تیارکیےجائیں گے،مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پلیٹ فارم مرتب کیاجائے گا،

    آزادی مارچ کا ایک فرد دن میں کتنی روٹیاں کھاتا ہے؟ حیران کن خبر،دل تھام کر پڑھئے

    مذاکرات کرنے ہیں تو استعفیٰ لاؤ، استعفیٰ کا بھی مطالبہ اور اداروں کی منتیں بھی، مولانا کا خطاب

    دوسری جانب فضل الرحمان پہلے ہی جوڈیشل کمیشن اورپارلیمانی کمیٹی کے آپشنزکومسترد کرچکے ہیں , آزادی مارچ کے شرکاء بھی مولانا کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں تا ہم ایک شکوہ سامنے آیا ہے کہ مولانا کارکنان کو رات کو چھوڑ کر خود گھر چلے جاتے ہیں.

    آزادی مارچ کے ڈی چوک جانے پر اعتراض کیوں؟ مولانا فضل الرحمان رو پڑے

    ہجوم آگے بڑھا توتمہارے کنٹینرزکوماچس کی ڈبیا کیطرح اٹھا کرپھینک دیگا،مولانا کی دھمکی

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے شرکاء اسلام آباد میں پشاور موڑ کے قریب جمع ہیں، حکومت اور آزادی مارچ کے درمیان مذاکرات کے بعد جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے مطابق آزادی مارچ کے شرکا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ مقام تک ہی محدود رہیں گے۔

  • پاک روس انتالیس سالہ تجارتی مسئلہ کیا تھا ؟ باغی سپیشل رپورٹ

    پی ٹی آئی حکومت نے پاک روس تجارتی تنازعہ حل کیا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی

    تفصیلات کے مطابق پاک روس تعلقان سرد جنگ سے سرد مہری کا شکار رہے ، اگرچہ سوویت یونین کے زوال کے بعد خطے کی جغرافیائی صورت حال مسلسل اس بات کے لیے موضع نہیں تھی کہ روس پاک تجارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کیے جاسکیں..سوویت یونین کے زوال اور افغان جنگ میں پاکستان چونکہ امریکی بلاک میں تھا اور روس کا سب سے بڑا دافع تھا اس لیے تزویراتی طور پر یہ سرد مہری عشروں تک محیط رہی . اب جب کہ بھارت روس کے کیمپ سے نکل کر امریکا کے بلاک میں چلا گیا ہے اور روس و چین مل کر دنیا میں ایک طاقت کےطور پر سامنے آرہی ہے.پاکستان کی لائن بھی روس کے ساتھ سیدھی ہوئی ہے، یوں جوں جوں ترجیحات اور مفادات کا تعین ہونے لگا وقت نے ایک بار پھر وہ کچھ دکھایا جو کہ ہونا تھا. پاکستان اور روس کے تعلقات میں حائل برف پگھلنے لگی اور تعلقات کی گرمجوشی عیاں ہونے لگی .
    اس دیر اور تاخیر کا آخر کار روسی صدر پیوٹن نے گلہ بھی کر دیا جب وزیراعظم عمران خان کی صدر پیوٹن سے ملاقات ہوئی ، پیوٹن نے کہا کہ آپ کی طرح پہلے بھی کوئی پاکستان کا حکمران روس کے قریب آنے کا انیشی ایٹو لیتا تو اب حالات مزید بہتر ہوتے .
    اب خبر یہ ہے .روس کی جانب سےپاکستان میں8ارب کی سرمایہ کاری کی راہ ہموارہوگئی. اس اقدام سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا . اور روس جیسا ایک اتحادی اس کے ساتھ کھڑا ہو گا جس کے اس ملک کے اندر مفادات ہوں گے . یوں پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت اور اجاگر ہوجائے گی .
    پاکستان کی روس میں کثیر ملکی فوجی مشقوں میں شرکت ،ڈی جی آئی ایس پی آر
    آخرکار اسلام آباد نے ماسکو کے ساتھ 39 سال پرانے برآمد کنندگان کے دعوؤں کا معاملہ سوویت یونین کے منتقلی کے بعد سے نمٹنے کے لئے معاہدے پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جس سے روس کو پاکستان میں 8 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔

    پاکستانی حکومت نے روس میں اپنے سفیر کو معاہدے پر دستخط کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ معاہدے کے تحت ، پاکستانی حکومت چھ اکتوبر ، اور دسمبر 27 ، 2017 کو طے پانے والے معاہدے کے مطابق ، دستخط کرنے اور زیر التوا برآمد برآمد کنندگان کے دعووں کے 90 دن کے اندر 93.5 ملین ڈالر روس کو واپس کردے گی۔
    روس کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کی کوششوں کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی سابقہ ​​حکومت نے شروع کیا تھا اور آنے والی حکومت نے اس پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    روسی بینک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کردی ،عمران خان نے سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کرلیا

    ماسکو نے اسلام آباد کو آگاہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے توانائی کے شعبے اور پاکستان اسٹیل ملز میں 8 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ لیکن روسی قانون کے مطابق ، وہ ان ممالک میں سرمایہ کاری نہیں کرسکتا جن کے ساتھ تنازعات ہیں۔

    اس معاہدے سے روس پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکے گا۔

    کامرس ڈویژن کے مطابق ، 1980 کی دہائی میں اس وقت کی یو ایس ایس آر اور اس کی کمپنیاں پاکستانی کمپنیوں سے ٹیکسٹائل اور دیگر مواد خریدتی تھیں۔ بارٹر ٹریڈ کو با آسانی چلانے کے لئے ، سابقہ ​​یو ایس ایس آر نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) میں دو بینک اکاؤنٹ کھولے۔

    ان کھاتوں میں فنڈز اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے ذریعہ اکنامک افیئرس ڈویژن (ای اے ڈی) نے جمع کروائے تھے۔ سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر ، کچھ برآمد کنندگان کو بلا معاوضہ مل گیا۔ اس کے علاوہ ، پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے غیر خریداری شدہ سامان کے دعوے بھی کیے گئے تھے کیونکہ انہوں نے سمندری فریٹ چارجز ادا کیے تھے۔

    پاکستان اور روس کی مشترکہ ملٹری مشاورت

  • اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں، بھارت میں پاکستان کے جھنڈے لہرا دیئے گئے

    جالندھر :اک پاکستان بناواں گے وچ ہندوستان دے پھراسیں، بھارتی پنجاب میں پاکستان کے جھنڈے ، ہندوستان میں‌ پہلے بھی ایک منی پاکستان ہے لیکن حقیقی پاکستان اس وقت بنتا ہوا نظر آرہا ہے جب وزیراعظم عمران خان کی کامیاب سفارتکاری نے بھارت میں نہ صرف پاکستانی فتح کے جھنڈے گاڈ دیئے بلکہ لہرا دیئے

    باغی ٹی وی کے مطابق کرتارپورراہداری کے بعد بھارتی پنجاب میں خصوصا اور پورے بھارت میں عموما اس وقت پاکستان زندہ باد اور پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے نظر آرہے ہیں، بھارتی پنجاب سے بآغی ٹی وی کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک بھارتی سکھ جالندھر کے علاقے وائٹ ڈائمڈا ، کیرو مولا کے ساتھ ملحقہ وجے کالونی میں پاکستانی پرچموں کے لہرائے جانے کے بارے میں بتابھی رہا ہے اور دکھابھی رہا ہے

    فوجی ہمارے اورخدمات آئی ایس آئی کے لیے ، بھارتی فوجی حکام پریشان

    باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی اس ویڈیومیں سکھ شہری یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس کررہا ہےکہ لو جی بھارت کے اندر ایک اور پاکستان بن گیا ہے اور ہربھارت کے اس علاقے میں ہر طرف پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے نظر آرہے ہیں، ویڈو میں بتایا جارہاہےکہ جس محلے میں وہ سکھ کھڑا منظر کشی کررہا ہے وہاں بھی 8 سے 10 پاکستانی پرچم لہرائے جارہے ہیں

  • نواز شریف بیرون ملک جانے کے لئے رضامند، کس نے منایا؟ اہم خبر

    نواز شریف بیرون ملک جانے کے لئے رضامند، کس نے منایا؟ اہم خبر

    نواز شریف بیرون ملک جانے کے لئے رضامند، کس نے منایا؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میڈیکل بورڈ نے نوازشریف کے بیرون ملک علاج کی سفارش کردی،نوازشریف کے پلیٹ لیٹس میں کمی کی اب تک تشخیص نہیں ہوسکی، علاج کے باوجود پلیٹ لیٹس کا کم رہنا اندرونی بیماری کا باعث ہوسکتاہے.

    ذرائع کے مطابق اہلخانہ نے نوازشریف کوبیرون ملک علاج کےلیے رضا مند کرلیا،قانونی پیچیدگیاں دور ہونے کے بعد نوازشریف علاج کےلیے بیرون ملک جائیں گے،

    قبل ازیں مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس مزید کم ہو گئے ہیں، ڈاکٹروں کے مطابق نواز شریف کی حالت تشویشناک ہے ،پاکستان میں دستیاب ہرممکن علاج کیا جا رہا ہے مگر پلیٹ لیٹس مستحکم نہیں ہو رہے،

    سابق وزیراعظم نوازشریف اوران کی بیٹی مریم نوازکو گزشتہ روز جاتی امرا پہنچا دیا گیا نوازشریف کی 5 ماہ 29 روز بعد گھر واپسی ہوئی، نوازشریف 16 روز سروسزاسپتال میں زیرعلاج رہے، کارکنوں کی بڑی تعداد بھی جاتی امرا میں موجود تھی، نواز شریف کے گھر پہنچنے پر کارکنان کی جانب سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور نعرے لگائے گئے.

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    مریم نواز ضمانت ہونے کے تین بعد رہا ہو ہی گئیں

  • کرتارپور افتتاح، نوجوت سنگھ سندھو کو ویزہ جاری، ترجمان دفتر خارجہ کی تصدیق

    کرتارپور افتتاح، نوجوت سنگھ سندھو کو ویزہ جاری، ترجمان دفتر خارجہ کی تصدیق

    کرتارپور افتتاح، نوجوت سنگھ سندھو کو ویزہ جاری، ترجمان دفتر خارجہ کی تصدیق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو کو ویزا جاری کر دیا گیا ہے، امید ہے وہ تشریف لائیں گے، کرتارپور راہداری سے خطے کی تاریخ بدلے گی،

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فوج ہندوتوا کے نظریے پر گامزن ہے، کشمیر کا مسئلہ ان کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ بھارتی افواج کی بربریت کا سلسلہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ہے، 98 روز سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور مکمل لاک ڈاؤن ہے، امریکی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی ایشیاء کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ خوش آئند ہے، مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی اقدامات اور نئے نقشے صرف ڈیمو گرافی تبدیلی کی سازش ہے، پاکستان ان سیاسی نقشوں کو مسترد کرتا ہے۔

    ڈاکٹر محمد فیصل کا مزید کہنا تھا باباگرونانک کے جنم دن پر پاکستان نے کرتارپور آنے والے یاتریوں کیلئے خصوصی پیکج بنایا ہے، یاتریوں کیلئے ویزہ، 10 روز قبل فہرستوں کے تبادلہ اور 20 ڈالر فیس کی شرط ختم کی گئی ہے، پاکستان 9 نومبر کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کرے گا، پاکستان نے مقررہ وقت میں راہداری منصوبہ مکمل کیا ہے، بین الاقوامی برادری نے پاکستان کے ان خیر سگالی اقدامات کو سراہا ہے۔

    واضح رہے کہ 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور راہداری کھولنے کی خوشخبری سنائی۔ 28 نومبر 2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔

    وزیر اعظم عمران خان 9 نومبر کو کرتار پور راہداری منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کرینگے جبکہ 12 نومبر کو بابا گرونانک کا 550 واں جنم دن منایا جائے گا،

    کرتارپورراہداری کا ہر صورت افتتاح کیا جائے گا، وزیر مذہبی امور

    کرتارپور راہداری کب کھولی جائے گی؟ گورنر پنجاب نے بتا دیا

    واضح رہے کہ کرتارپور راہداری بھارت اور پاکستان کے درمیان مجوزہ سرحدی راہداری ہے جو بھارتی پنجاب میں واقع ڈیرہ بابا نانک صاحب کو پاکستان کے علاقہ کرتارپور میں واقع گردوارہ دربار صاحب کی مقدس عبادت گاہ سے منسلک کریگی۔ اس راہداری کا مقصد بھارت کے مذہبی عقیدت مندوں کو پاک بھارت سرحد سے محض 4.7 کلومیٹر دور واقع گردوارہ دربار صاحب کی زیارت کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔

    انٹرنیشنل سکھ کنونشن میں گورنر پنجاب کے خطاب کے دوران سکھوں کے پاکستان زندہ باد کے نعرے

    انٹرنیشنل سکھ کنونشن کا آغاز، سکھ برادری پاکستان کا امن پسند چہرہ دنیا کو دکھائے،فردوس عاشق

  • ویلڈن وزیراعظم عمران خان، بھارت میں بھی پاکستانی پرچم لہرا دیئے گئے

    ویلڈن وزیراعظم عمران خان، بھارت میں بھی پاکستانی پرچم لہرا دیئے گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرتارپور راہداری کھلنے پر سکھ برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، سکھ برادری نے بھارت میں بھی پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لہرا دیئے، بھارتی شہر جالندھر کی وجے کالونی مین سکھ برادری نے متعدد گھروں پر پاکستانی پرچم لہرائے،

    اس سے قبل بھارت میں وزیراعظم عمران خان کی تصاویر والے فلیکس لگائے تھے جس کی وجہ سے مودی سرکار پریشان تھی ابھی یہ پریشانی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اب بھارت میں پاکستانی پرچم لہرا دیے گئے.

    بھارتی پنجاب میں جگہ جگہ وزیراعظم عمران خان کے بینرز لہرائے جارہے ہیں، سکھ کمیونٹی ریلیوں کی شکل میں کرتارپورکو سکھوں کےلیے کھولنے پر خوشیاں منارہی ہے، بھارتی ان جلوسوں میں وزیراعظم پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ نعرے بھی لگارہے ہیں "وزیراعظم عمران خان زندہ باد”

    بھارت سے ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت اس وقت بہت پریشان ہے اور وہ پاکستانی وزیراعظم کی اس قدر مقبولیت سے بہت خائف ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ مودی بھی اس وقت بہت پریشان دکھائی دے رہے ہیں اور کرتارپورپر بھارت کی طرف سے کیے گئے معاہدوں کے بعد جو صورت حال پاکستان کے حق میں ہوگئی ہے اس پر اپنے آپ کو کوس رہےہیں

    واضح رہے کہ 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور راہداری کھولنے کی خوشخبری سنائی۔ 28 نومبر 2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔

    وزیر اعظم عمران خان 9 نومبر کو کرتار پور راہداری منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کرینگے جبکہ 12 نومبر کو بابا گرونانک کا 550 واں جنم دن منایا جائے گا،

    کرتارپورراہداری کا ہر صورت افتتاح کیا جائے گا، وزیر مذہبی امور

    کرتارپور راہداری کب کھولی جائے گی؟ گورنر پنجاب نے بتا دیا

    واضح رہے کہ کرتارپور راہداری بھارت اور پاکستان کے درمیان مجوزہ سرحدی راہداری ہے جو بھارتی پنجاب میں واقع ڈیرہ بابا نانک صاحب کو پاکستان کے علاقہ کرتارپور میں واقع گردوارہ دربار صاحب کی مقدس عبادت گاہ سے منسلک کریگی۔ اس راہداری کا مقصد بھارت کے مذہبی عقیدت مندوں کو پاک بھارت سرحد سے محض 4.7 کلومیٹر دور واقع گردوارہ دربار صاحب کی زیارت کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔

    انٹرنیشنل سکھ کنونشن میں گورنر پنجاب کے خطاب کے دوران سکھوں کے پاکستان زندہ باد کے نعرے

    انٹرنیشنل سکھ کنونشن کا آغاز، سکھ برادری پاکستان کا امن پسند چہرہ دنیا کو دکھائے،فردوس عاشق

  • وزیراعظم اور عرب امارات کے ولی عہد میں رابطہ، کیا بات ہوئی؟ اہم خبر

    وزیراعظم اور عرب امارات کے ولی عہد میں رابطہ، کیا بات ہوئی؟ اہم خبر

    وزیراعظم اور عرب امارات کے ولی عہد میں رابطہ، کیا بات ہوئی؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمدبن زاید سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، دونوں رہنماوَں میں دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا،رابطے میں باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور کاجائزہ لیا گیا .

    آزادی مارچ، مولانا کن شرائط پر واپس جانا چاہتے ہیں؟ اہم خبر

    وزیراعظم عمران خان نے عرب امارات کے ولی عہد سے کشمیر کی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور کشمیر میں کرفیو کے بارے میں آگاہ کیا، دونوں رہنماؤں کے مابین باہمی تعلقات میں مضبوطی کا اعادہ کیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے معاہدہ ریاض کے حوالہ سے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کے کردار کو سراہا.

    آزادی مارچ کا ایک فرد دن میں کتنی روٹیاں کھاتا ہے؟ حیران کن خبر،دل تھام کر پڑھئے

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے سعودی عرب کے شہر ریاض میں یمن میں قیام امن کے معاہدے کو سراہا گیا ہے.وزیرا عظم نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ریاض کے امن معاہدے کو خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ریاض معاہدہ جسے سعودی عرب کی قیادت نے پایا تکمیل تک پہنچایا ہے اور متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے ، علاقے میں پائیدار امن کی طرف اہم قدم ہوگا ، اور اس سے خطے کے تنازع کو سیاسی طورپر حل کرنے میں مدد ملے گی.

     

     

  • 24 گھنٹوں میں3 ملاقاتیں،مولانا کو عزت کے ساتھ رخصت کرناچاہتے ہیں ، پرویز الٰہی

    اسلام آباد: کسی بھی وقت بریک تھرو ہوسکتا ہے مولانا کو عزت کے ساتھ رخصت کرنا چاہتے ہیں ، اطلاعات ان خیالات کا اظہار چوہدری پرویز الٰہی نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے بعد کیا ، دوسری طرف حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کا مکمل اختیار دے دیا۔

    ابوبکر البغدادی کی بہن کے بعد اہلیہ بھی گرفتار، گرفتاری کا اعلان ترک صدر نے کیا

    حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر ہاؤس میں ہوا جس میں چوہدری پرویز الٰہی نے مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقاتوں میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق مذاکراتی کمیٹی نے پرویز الٰہی کو مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کا مکمل اختیار دے دیا، اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے بھی پرویز الٰہی کو ’کچھ لو کچھ دو‘ کی بنیاد پر اپوزیشن سے مذاکرات کا اختیار دیا تھا۔

    بے بی کون؟ بلاول یا سینیٹر فیصل جاوید، سینیٹ میں‌ دلیلیں اورتاویلیں، دلچسپ کارروائی

    ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پرویز الٰہی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کریں گے جس میں کمیٹی کی طرف سے حکومتی تجاویز ان تک پہنچائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کی سربراہ جے یو آئی سے رات میں ایک بار پھر ملاقات طے تھی جو منسوخ کردی گئی اور اب یہ ملاقات آج رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد متوقع ہے۔

    ظلم کی انتہا، فلسطینی بچے کے سامنے اس کے والد پر تشدد،وائرل ویڈیونے جھنجھوڑ کررکھ دیا

    خیال رہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی 24 گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمان سے 3 ملاقاتیں کرچکے ہیں اور اس حوالے سے چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ مثبت پیشرفت ہورہی ہے، کئی چیزیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، تھوڑے صبر اور محنت کی ضرورت ہے اور محنت اس لیے ہو رہی ہے کہ مثبت طریقے سے معاملات منطقی انجام کو پہنچیں۔

  • آزادی مارچ، مولانا کن شرائط پر واپس جانا چاہتے ہیں؟ اہم خبر

    آزادی مارچ، مولانا کن شرائط پر واپس جانا چاہتے ہیں؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری پرویز الہیٰ مولانا فضل الرحمان سے آج ملے ہیں، ملاقات میں آزادی مارچ کے حوالہ سے مشاورت کی گئی، چوھدری پرویز الہیٰ کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے فری ہینڈ دے دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ آزادی مارچ ختم کرنے کے لئے کردار ادا کریں، غیر آئینی مطالبات ماننے سے وزیراعظم نے روکا ہے تا ہم وزیراعظم نے چودھری پرویز الہیٰ کو کہا ہے کہ آزادی مارچ کے آئینی مطالبات تسلیم کیے جا سکتے ہیں.

    مولانا فضل الرحمان اور چوھدری برادران کی آج شب یا کل جمعرات کو ایک اور ملاقات متوقع ہے جس میں مزید مشاورت کی جائے گی، ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کے تمام اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوں ،مولانا رانا ثناء اللہ کے بھی پروڈکشن آرڈر چاہتے ہیں، مولانا الیکشن میں فوج کی مداخلت نہیں چاہتے حکومت بھی اس پر تعاون کرنے کو تیار ہے لیکن ملکی حالات کے پیش نظر فوج کے بغیر الیکشن کا ہونا ممکن نہیں،

    مولانا نے اپنے خطاب میں لاپتہ افراد کا مسئلہ اٹھایا تا ہم لاپتہ افراد کے حوالہ سے کمیٹی کام کر رہی ہے،مولانا وزیراعظم کا استعفیٰ مانگتے ہیں اور ابھی تک اعلانیہ اس پر قائم ہیں تا ہم اندرون خانہ وہ گزشتہ شب چوھدری برادران کی رہائشگاہ پر اس لئے گئے تھے کہ مسلم لیگ ن اور پی پی نے انہیں تنہا کر دیا ہے، بارش میں جے یو آئی کے کارکنان اکیلے بیٹھے ہیں ہمیں فیس سیونگ دی جائے جس کے بعد چوھدری پرویز الہیٰ نے وزیراعظم سے رابطہ کیا اور مولانا سے دوبارہ ملاقات کی.

    آزادی مارچ کے لئے سہولیات، وزیراعظم کے اعلان پر جے یو آئی نے کیا ردعمل دیا؟

    باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ پر ہونے والے خرچ کی ڈیمانڈ بھی کر رہے ہیں، مولانا کی ڈیمانڈ میں شامل ہے کہ کراچی سے اسلام آباد پہنچنے اور واپسی کا گاڑیوں کا کرایہ، دھرنے کے قیام و طعام کے سب اخراجات غیر اعلانیہ ادا کئے جائیں، مولانا چاہتے ہیں کہ انہیں اگر وزیراعظم کا استعفیٰ نہیں ملتا تو کم از کم جو خرچہ انکا ہوا وہ ملنا چاہئے اور ساتھ کچھ مطالبات بھی پورے ہونے چاہئے اسی لئے مولانا اپنے خطابات میں ایک طرف استعفیٰ کا کہتے ہیں دوسری جانب مطالبات کی لمبی فہرست سامنے لے آتے ہیں.

    آزادی مارچ کا ایک فرد دن میں کتنی روٹیاں کھاتا ہے؟ حیران کن خبر،دل تھام کر پڑھئے

    مولانا فضل الرحمان کو سات روز اسلام آباد میں ہو گئے،الیکشن کمیشن آف پاکستان مولانا کو دھاندلی کے الزامات پر جواب دے چکا ہے، پاک فوج کے ترجمان بھی آزادی مارچ پر اپنا موقف سامنے لا چکے ہیں، حکومت کی طرف سے بھی درمیانی راستہ کی تلاش ہے اور اب حکومت سے زیادہ مولانا کو درمیانی راستہ کی تلاش ہے، بلاول اور ن لیگ نے مولانا کو بند گلی میں پھنسا دیا، اگر استعفیٰ کا مطالبہ سامنے رکھ کر مولانا چار برس بھی بیٹھے رہیں تو وہ عمران خان انہیں دینے کو تیار نہیں.

    آزادی مارچ اور حکومت کے موقف کے بارے میں جب تحریک انصاف کے ایک رہنما سے باغی ٹی وی نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس آٹھ برس بعد ہمیں پارٹی اجلاس میں چائے ملنا شروع ہوئی تھی مولانا کیا سمجھتے ہیں جو اپنے پارٹی رہنماؤں کو چائے کا ایک کپ آٹھ برس بعد دے وہ اتنی جلدی استعفیٰ دے دے گا؟ ایسا ممکن نہیں.

    دوسری جانب آزادی مارچ کے شرکاء بھی مولانا کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں تا ہم ایک شکوہ سامنے آیا ہے کہ مولانا کارکنان کو رات کو چھوڑ کر خود گھر چلے جاتے ہیں.

    آزادی مارچ کے ڈی چوک جانے پر اعتراض کیوں؟ مولانا فضل الرحمان رو پڑے

    ہجوم آگے بڑھا توتمہارے کنٹینرزکوماچس کی ڈبیا کیطرح اٹھا کرپھینک دیگا،مولانا کی دھمکی

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے شرکاء اسلام آباد میں پشاور موڑ کے قریب جمع ہیں، حکومت اور آزادی مارچ کے درمیان مذاکرات کے بعد جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے مطابق آزادی مارچ کے شرکا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ مقام تک ہی محدود رہیں گے۔

  • فوج بطورادارہ کسی بھی سیاسی  سرگرمی میں ملوث نہیں، ترجمان پاک فوج

    فوج بطورادارہ کسی بھی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں، ترجمان پاک فوج

    فوج بطورادارہ کسی بھی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ترجمان پاک فوج

    ترجمان پاک فوج ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ دھرناہےیامارچ یہ سیاسی سرگرمی ہے،فوج ملکی دفاعی کاموں میں مصروف ہے،فوج غیرجانبدارادارہ ہے،فوج خودکوکسی چیزوں میں ملوث نہیں کرتی کہ الزام تراشی کاجواب دیں.فوج20سال سے سیکیورٹی کے جن کاموں میں مصروف ہے وہ ان کاموں پر توجہ نہیں دیتی،فوج بطورادارہ کسی بھی سرگرمیں میں ملوث نہیں،دھرنےمیں فوج کاکوئی کردارنہیں،مولانا فضل الرحمان سینئر سیاست دان ہیں اور پاکستان سے محبت کرتے ہیں.فوج حکومت کے احکامات پر عمل کرتی ہے،الیکشن میں فوج کاکوئی کردارنہیں،صرف سیکیورٹی کےلیےبلایاجاتاہے،

    انہوں نے مزید کہا کہ کرتار پور بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے یکطرفہ راستہ ہے،بھارت سے آنے والے سکھ یاتری صرف کرتارپور تک محدود رہیں گے،جو بھی بیان دیتا ہوں ادارے کی ترجمان کی حیثیت سے دیتا ہوں،فوج کی خواہش نہیں ہوتی کہ الیکشن میں کوئی کرداراداکریں، آئین میں رہتےہوئےریکوزیشن پراپناکرداراداکرتےہیں.مولانافضل الرحمان سینئرسیاست دان ہیں اورپاکستان سےمحبت کرتے ہیں،

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج غیرجانب دارادارہ ہے،دھرنایامارچ سیاسی سرگرمی ہے،سیاسی جماعتیں چیف الیکشن کمشنرخودمل کرلگاتی ہیں،دھرناسیاسی سرگرمی ہےاس سے فوج کاکوئی تعلق نہیں،چیف الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی تعیناتی میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوتا، فوج20سال سے سیکیورٹی کے کاموں میں مصروف ہے وہ دیگر کاموں پر توجہ نہیں دیتی،سکھ یاتریوں کی پاکستان میں انٹری قانون کےمطابق ہوگی،کرتار پور میں ملکی سیکیورٹی یا خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،