Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغان فورسز کی فائرنگ پر پاک فوج نے دیا منہ توڑ جواب، متعدد افغان چوکیوں‌ کو شدید نقصان

    افغان فورسز کی فائرنگ پر پاک فوج نے دیا منہ توڑ جواب، متعدد افغان چوکیوں‌ کو شدید نقصان

    پاک افغان سرحد پر پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے،

    وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ، ایجنڈے میں مزید اہم ایشوز بھی شامل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسزنےناری ضلع سےمارٹرز،بھاری مشین گن سےفائرکیے، افغان سیکیورٹی فورسز نےچترال کے گاؤ ں اروندو کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا، افغان فورسزکی فائرنگ سے 6 فوجی اور خاتون سمیت 5 شہری زخمی ہوئے، پاک فوج نے جوابی کارروائی میں افغان سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا، پاک فوج نے افغان سرحدی چوکیوں کندکسی اوردلبرکو نشانہ بنایا، جوابی کارروائی میں افغان سرحدی چوکیوں کوخاصا نقصان پہنچا،

    بھارت شرارت سے پھرباز نہ آیا، قوم کے پاسبانوں کی طرف سے منہ توڑ جواب،آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ فوجی سطح پر رابطے کے بعد فائرنگ رک گئی،

  • نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کے لیے سزا معطل

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کی العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کے لیے سزا معطل کردی۔اس سے پہلے عدالت نے ہفتے کے روز اسی کیس میں نوازشریف کی منگل تک عبوری ضمانت منظور کی تھی۔آج تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور اب طبی بنیاد پر 8 ہفتوں کے لیے سزا معطل کردی ہے.

    عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی طلب کر رکھا تھاجن سے نواز شریف کی صحت کی سہولیات بارے جیل کی اصلاحات اور دیگر قیدیوں‌ کی صحت اور سہولیات بارے استفسار کیا گیا.اور طویل بحث کے بعد فیصلہ سنایا .

  • عمران خان کے لاہور، کراچی، پشاور اور ملتان سے متعلق اہم فیصلے

    اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں لاہور،ملتان،کراچی اور پشاورکے متعلق اہم فیصلے کردیئے ہیں‌جس کے وہاں کی باسی کافی دیرسے منتظر تھے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے کثیرمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی کابینہ کے فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے جب کشمیر کی صورت حال پر وفاقی وزیرداخلہ سے پوچھا تو وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے امن و امان سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا مقبوضہ کشمیر کےحالات کے بعد سےپورے ملک میں ہائی الرٹ ہے، دارالحکومت سمیت پورے ملک میں امن کےمؤثر اقدامات کررکھے ہیں جبکہ جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کے معاہدے پر بھی کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا۔

    وفاقی کابینہ نے17 میں سے 14 نکات کی منظوری دے دی اور 3 نکات مؤخر کردیئے جبکہ لاہور،ملتان،کراچی اورپشاور میں کثیرمنزلہ عمارتوں کی تعمیرکی پالیسی کی منظوری دی۔کابینہ نے سول ایوی ایشن سمیت متعلقہ اداروں کو فوری ایس اوپیزتیارکرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ایس او پیز میں سی اےاےاپنےاعتراضات بھی دور کرے جبکہ وزارتوں اور ڈویژنوں میں ایم ڈیز اور سی ای اوز کی خالی پوسٹوں پر فوری بھرتی کی ہدایت کی۔

    ذرائع کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت خصوصی کمیٹی بنانے کی منظوری بھی دی گئی اور ایف اے ٹی ایف سیکرٹریٹ بنانے پر بھی اصولی اتفاق کیا گیا ، وفاقی وزیرحماد اظہر ایف اےٹی ایف سیکرٹریٹ کےسربراہ ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے آج کے فیصلوں میں‌اداروں کی مضبوطی کی بار بار بات کی اور کہا کہ جب تک ادارے مضبوط نہیں ہوں گے مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے ، اسی تناظر میں اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر فیسلیٹیز منیجمنٹ ایکٹ 2019 کے مسودے کی منظوری، سوئی سدرن کےبورڈآف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو ، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کےبورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو اور گورنمنٹ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کےبورڈآف ڈائریکٹرز کی منظوری دی گئی۔پاکستان اورروس میں مالیاتی کلیمز کا کئی دہائی پرانا تنازع ختم کرنے کے معاہدے، داسوہائیڈروپاورپراجیکٹ اسٹیج ون حصول اراضی کی لاگت میں نظرثانی کی بھی منظوری دے دی گئی۔

    اجلاس میں‌وزیراعظم کو بتایا گیا کہ رہبر کمیٹی سے مذاکرات کی رپورٹ بھی تیار کرلی ہے، رپورٹ کے نکات میں کہا گیا تھا کہ آزادی مارچ ایک معاہدے کے تحت ہورہا ہے، رہبرکمیٹی میں تمام جماعتوں سے رابطے ہوئے، آزادی مارچ والوں کو معاہدے کے نکات کی پابندی کرنا ہوگی۔پرویز خٹک کی رپورٹ کے نکات میں بتایا گیا کہ حکومت نے آزادی مارچ میں اب تک کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی، معاہدے کے تحت آزادی مارچ جلسہ گاہ تک محدود رہے گا۔

  • نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت منظور کرلی اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا 8 ہفتے کیلئے معطل کردی اور 20لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کاحکم دے دیا۔

    عمران خان کے لاہور، کراچی، پشاور اور ملتان سے متعلق اہم فیصلے

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق ،جسٹس محسن اخترکیانی پرمشتمل ڈویژن بینچ العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیاد پر درخواست ضمانت اور سزا معطلی پر سماعت کررہا تھاجو اب 25 نومبر تک ملتوی کردی گئی ہے

    کون بنا ہے وائس چانسلر،گورنرپنجاب نے بتا بھی لگابھی دیا

    ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ روسٹرم پر آئے اور دلائل میں کہا سپریم کورٹ نےعلاج کیلئے 6ہفتے سزا معطل  کی تھی اور سزامعطلی پر کچھ پیرامیٹرزطےکئےتھے، جس پر جسٹس عامرفاروق کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس بیمار قیدی کیلئے اختیارات موجود ہیں تو جہانزیب بھروانہ نے طبی بنیادپرضمانت کاسپریم کورٹ کافیصلہ پڑھ کرسنایا اور کہا ہم طبی معاملات کے ماہر نہیں، جس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا عدالت کو ایک چیز بتائیں، کوٹ لکھپت اور اڈیالہ جیل پنجاب ہیں، ان دونوں جیلوں کے قیدیوں  کافیصلہ کون کرے گا۔

    نیب نے نواز شریف کی ضمانت پر بیرون ملک علاج کی مخالفت کر دی

    نیب نے نواز شریف کی ضمانت کی مخالفت کردی اور کہا نواز شریف کاعلاج بہترین ڈاکٹرز کررہےہیں، نیب کیس میں سزا پر426 لاگو نہیں ہوتا، جس پر جسٹس عامرفاروق کا کہنا تھا کہ 401 کے اختیارات پرعملدرآمدکراناوفاق ،صوبائی حکومت کا کام ہے ، تو جہانزیب بھروانہ نے کہا دونوں کے پاس احتیارات ہیں

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت منظور کرلی اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا 8 ہفتے کیلئے معطل کردی اور 20لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کاحکم دے دیا۔ عدالت نے 25نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے نیب کو تحریری جواب جمع کرانے کاحکم دے دیا

  • وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ، ایجنڈے میں مزید اہم ایشوز بھی شامل

    وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ، ایجنڈے میں مزید اہم ایشوز بھی شامل

    وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ، ایجنڈے میں مزید اہم ایشوز بھی شامل

    تفصیلات کے مطابق : وزیراعظم عمران خا ن کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوگا کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں توسیع کردی گئی ہے جس میں مزید 4نکات کا اضافہ کردیا گیا ہے .کابینہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے سی ای او کی تقرری کی منظوری دےگی.پاکستان اورروس کےدرمیان معاہدےکی منظوری ایجنڈےکا حصہ ہے.داسوہائیڈروپاورمنصوبےپرزمین کی تخمینہ اورتعمیرپربات چیت ہوگی.اس کے علاوہ احساس انڈرگریجویٹ پروگرام پربریفنگ بھی ایجنڈے میں شامل ہے ؛ممکنہ طور پر دھرنا اور آزادی مارچ بھی زیر بحث ہوگا.

    بھارت شرارت سے پھرباز نہ آیا، قوم کے پاسبانوں کی طرف سے منہ توڑ جواب،آئی ایس پی آر

     

    طوفانی بارشوں سے تباہی،7 افراد ہلاک

  • کشمیرمیں کرفیو کا 86 واں دن،نہ غذا نہ دوا،دنیا خاموش،بہت افسوس،بہت افسوس

    سری نگر: مقبوضہ وادی میں بھارتی لاک ڈاؤن 86 ویں روز میں داخل ہوگیا،دوسری طرف کشمیری آج یوم سیاہ بھی منارہے ہیں ، کشمیری روز مرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔ وادی میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو مظاہرے سے روکنے کیلئے وادی میں سخت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں اور ہر طرف فوج ہی فوج نظر آرہی ہے،کشمیرکا ہر چوک ہر بازار اور ہر موڑ اس وقت بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتا نظرآرہا ہے ،

    مصنوعی کیلشئیم ۔ خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور ایل او سی کے دونوں جانب کشمیریوں نے کل اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا ہے ، صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کا مقدمہ پاکستان کا مقدمہ ہے، اسے ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر عالمی برادری سے کشمیر میں بھارتی مظالم ختم کرانے کا مطالبہ کر دیا۔

    حریت کانفرنس نے لال چوک کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے، پاکستان میں بھی شہر شہر ریلیاں اور مظاہرے کئے گئے ہیں۔بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بار بار دبانے کے کوشش کی ، مگر 1989 سے کشمیریوں نے اس تحریک کو اس نہج پر کھڑا کیا کہ ہر آنے والے دن یہ تحریک مضبوظ ہورہی ہے، ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 1989 سےاب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

    طوفانی بارشوں سے تباہی،7 افراد ہلاک

    خیال رہے کہ کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ کشمیر منایاگیا، 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، رواں سال 5 اگست کو بھارت نے ایک اور مذموم قدم اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت کا حصہ بنایا اور اس کے بعد سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جنت نظیروادی کشمیر کو بھارتی فورسز نے قیدخانے میں تبدیل کردیا ہے، مسلسل بیاسی روز سے 80 لاکھ افراد کرفیو تلے زندگی گزارنے پر مجبورہیں، قابض بھارتی فورسزکی کشمیریوں پر ہر گزرتے دن کیساتھ سختیاں اور مظالم بڑھتے جارہے ہیں، نہ بچے اسکول جاسکتے ہیں اور نہ ہی مریض سپتال۔

    مسجد کے باہر فائرنگ سے 2 افراد زخمی

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے خوف اور غیر یقینیت کا ماحول اور رات گئے چھاپوں، ظلم و تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، دفعہ 144کے تحت سخت پابندیوں کا نفاذ اورانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائیل فون سروسز بھی بدستور معطل ہیں۔

    مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کی قابض انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام کیخلاف سول نافرمانی کی پر امن تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    دکانیں اور کاروباری مراکز دن بھر بیشتر وقت بند رہتی ہیں جبکہ سڑکوں پرکوئی پبلک ٹرانسپورٹ مشکل ہی نظر آتی ہے، آبادیوں میں جعلی آپریشن ہورہے ہیں، رہنماؤں سمیت گیارہ ہزار کشمیری جیلوں میں قید ہیں، ڈھائی ماہ سے کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے، بھارتی مظالم کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا جائے گا۔

    امریکی سینیٹرکرس وان ہولین نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔

    دوسری طرف 5 اگست سے ،جب بھارت کی حکومت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا ،کشمیر میں نجی شعبے میں کام کرنے والے ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

    کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (کے سی سی آئی)کے ابتدائی جائزے کے مطابق 5 اگست کے بعد سے عائد پابندیوں ، شٹ ڈاؤن اور مواصلات کی معطلی کی وجہ سے ، سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ کے سی سی آئی کے صدر ، شیخ عاشق نے بتایاکہ ہمارے تخمینے کے مطابق پچھلے تین ماہ کے دوران ملازمتوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے ۔

    سیاحت کا شعبہ جس سے تقریباً پانچ لاکھ افراد کاروزگار وابستہ ہے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ سیاحت کے شعبے میں اب تک ملازمتوں میں پچاس ہزارکے قریب کمی کی اطلاع ملی ہے۔ اگر صورتحال میں بہتری نہیں آئی تو تعداد بڑھ سکتی ہے۔ وادی میں1100 ہوٹلوں میں سے تقریبا 80 فیصد تین ماہ سے بند ہیں۔ انہوں نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہاں تقریباً 300 ریسٹورانٹ، 900 ہاؤس بوٹ ، 600 شکارا کشتیاں اور 5000 ٹیکسیاں ہیں ، جن کا براہ راست انحصار سیاحت پر ہے۔

    کے سی سی آئی کے صدر نے مزید بتایاکہ سیاحت کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے دیگر نجی دفاتر بند کر دیے گئے ہیں۔ مختلف کورئیر سروسز میں کام کرنے والے تقریباً 3000 لڑکے بیکار بیٹھے ہیں ، انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی وجہ سے ، تمام ای کامرس کمپنیوں نے وادی میں سروسز کی فراہمی بند کردی ہے۔ نجی اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال ایسے ہی رہی تو انہیں ملازمت سے برطرف کردیا جائے گا۔ نجی اسکول کی ایک استاد شازیہ نے بتایاکہ انہیں پچھلے دو ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں۔

    جب نیوز ایجنسی نے اسکول کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے شکوہ کیا کہ طلبا پچھلے تین ماہ سے واجبات جمع نہیں کرواسکے ہیں ، جس وجہ سے وہ اساتذہ کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں۔ 5 اگست کے بعد سے ، کاروباری ادارے ، پبلک ٹرانسپورٹ ،تعلیمی ادارے اور دکانیں اپنے "اوپن اینڈ شٹ شیڈول” کے تحت بند ہیں۔ بیشتر دکانیں اورکاروباری ادارے صبح 7 بجے سے صبح 10 بجے تک کھلے رہتے ہیں ، لیکن دن میں بند رہتے ہیں ايک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ2011 کی مردم شماری کے مطابق وادی کشمیر کی آبادی 70 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی میں معاشی شعبوں سے تقریباً20 لاکھ افراد اپنا روزگار کماتے ہیں۔

  • بھارت شرارت سے پھرباز نہ آیا، قوم کے پاسبانوں کی طرف سے منہ توڑ جواب،آئی ایس پی آر

    بھارت شرارت سے پھرباز نہ آیا، قوم کے پاسبانوں کی طرف سے منہ توڑ جواب،آئی ایس پی آر

    راولپنڈی:قوم سورہی ہے اور پاسبان جاگ رہے ہیں ، اپوزیشن سیاست کررہی ہے اور پاک فوج ان کی حفاظت کررہی ہے، اطلاعات کے مطابق آج رات عشاء کے بعد بھارتی فوج کی طرف سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کی پھر شرارت کی گئی

    افواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق آج رات بھارت فوج نے لائن آف کنٹرول بگسار سیکٹر کے علاقے میں سویلین آبادی پربہت زیادہ فائرنگ کی جس کی زد میں آکر ایک خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوگئے ، یہ تینوں افراد ضلع بھمبھرکی تحصیل سماہنی کے علاقے منڈیکا گاوں کے رہائشی تھے

    یاد رہے کہ چند دن قبل ایسے ہی بھارتی فوج نے رات کی تاریکی میں اس وقت پاکستانی علاقوں پر شدید حملہ کردیا جب پاکستانی قوم بڑے سکون سے سورہی تھی ، اس دوران پاک فوج کے جوانوں ملت کے پاسبانوں نے سخت جواب دیتے ہوئے بھارتی افسرسمیت 9 سے زائد فوجی پھڑکا دیئے تھے ، اس واقعہ کی دلچسپی کی بات یہ تھی کہ قوم کواگلے دن اس وقت پتہ چلا جب بھارت نے اپنے فوجیوں کی لاشوں کو ڈھیرہوتے دکھایا

  • این آر او ملے گا یا نہیں وزیر اعظم نے اعلان کردیا

    این آراو ملے گا یا نہیں وزیر اعظم نے اعلان کردیا

    وزیرا اعظم عمران خان نے بابا گرو نانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ مرضی کر لیں این آرو نہیں ملے گا. سب سے کم مہنگائی پی ٹی آئی کے دور میں ہوئی ہے.نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے دور میں سب سے زیادہ مہنگائی ہے ہوئے ہے ان کے ادوار کے پہلے سال کو دیکھ لیں. وزیرا عظم نےکہا کہ آزادی مارچ کا کیا مقصد ہے ، ان لوگوں سے حکومت کی کامیابی برداشت نہیں ہو رہی. اسی لیے ملک کو بد امنی اور عدم استحکام کی طرف لے کر جارہے ہیں.

    آج بابا گرو نانک یونیورسٹی کا افتتاح کون کرے گی اہم شخصیت اور کون کون ہے مدعو!خبرآگئی

    .باباگرونانک یونیورسٹی میں جدید تعلیم بھی دی جائے گی.ہر درگاہ کے پاس اوقاف کی زمین موجود ہے جس پریونیورسٹی بنائی جائے،اولیا نے اپنی ساری زندگی انسانوں کےلیے گزاری،ننکانہ صاحب میں بابا گورو نانک یونیورسٹی کے افتتاح پر وزیرا رعظم کے ساتھ وزیراعلیٰ عثمان بزدار،گورنر پنجاب ،وفاقی وزیرداخلہ اورمعاون خصوصی اطلاعات بھی ہمراہ تھیں..وزیراعظم عمران خان کوباباگورونانک یونیورسٹی کےمنصوبے پربریفنگ بھی دی گئی.باباگرونانک یونیورسٹی 3مراحل میں مکمل ہوگی.جس پر تعمیرپر6ارب روپے لاگت آئے گی..

    کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    انہون نےکہا کہ اولیانے ساری زندگی انسانیت کی خدمت کی اور اپنی زندگی انسانوں کےلیے گزاری،
    باباگرونانک یونیورسٹی میں جدید تعلیم بھی دی جائے گی، ماضی میں بدقسمتی سے تعلیم کو ترجیح نہیں دی گئی، تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،

  • آج بابا گرو نانک یونیورسٹی کا افتتاح کون کرے گی اہم شخصیت اور کون کون ہے مدعو!خبرآگئی

    اسلام آباد :پاکستان کی موجودہ حکومت نے یہ ثابت کردیا ہےکہ اس ملک میں اقلیتوں کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں‌، اس ملک میں بسنے والے قادیانی ہوں یاسکھ ہندوہوں یا عیسائی سب کے بنیادی حقوق کا خیال رکھنا اس حکومت کا اعزاز ہے ،

    وزیراعلیٰ کی بیٹی اور بہن گرفتار

    اقلیتوں کے انہیں حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان آج باباگرونانک یونیورسٹی کاافتتاح کریں گے، جس کے لئے انتظامات مکمل کر لئے گئے ، باباگرونانک یونیورسٹی دیگر شعبہ جات میں مذہبی رواداری کابھی گہوارہ بنے گی۔ ننکانہ صاحب میں یونیورسٹی کی تقریب کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں، عمران خان بابا گرونانک یونیورسٹی کی تقریب سےخطاب بھی کرینگے

    کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    افتتاحی تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب، وفاقی ، صوبائی وزرا اور غیر ملکی سفیر شرکت کریں گے، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ تقریب کے مہمانوں کا استقبال کریں گے۔یاد رہے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور رہداری کے معاہدہ پر دستخط ہوگئے ہیں ، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ آج بڑی خوشی کا دن ہے ، وزیراعظم کے وعدے کے مطابق امعاہدہ پر دستخط کردئیے۔

    دھرنے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کرلیئے

  • کشمیرمیں کرفیو کا 85 واں دن،نہ غذا نہ دوا، کشمیری مررہے ہیں ،دنیا بے پروا

    سری نگر: مقبوضہ وادی میں بھارتی لاک ڈاؤن 85 ویں روز میں داخل ہوگیا،دوسری طرف کشمیری آج یوم سیاہ بھی منارہے ہیں ، کشمیری روز مرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔ وادی میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو مظاہرے سے روکنے کیلئے وادی میں سخت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں اور ہر طرف فوج ہی فوج نظر آرہی ہے،کشمیرکا ہر چوک ہر بازار اور ہر موڑ اس وقت بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتا نظرآرہا ہے ،

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور ایل او سی کے دونوں جانب کشمیریوں نے کل اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا ہے ، صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کا مقدمہ پاکستان کا مقدمہ ہے، اسے ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر عالمی برادری سے کشمیر میں بھارتی مظالم ختم کرانے کا مطالبہ کر دیا۔

    وزیراعلیٰ کی بیٹی اور بہن گرفتار

    حریت کانفرنس نے لال چوک کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے، پاکستان میں بھی شہر شہر ریلیاں اور مظاہرے کئے گئے ہیں۔بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بار بار دبانے کے کوشش کی ، مگر 1989 سے کشمیریوں نے اس تحریک کو اس نہج پر کھڑا کیا کہ ہر آنے والے دن یہ تحریک مضبوظ ہورہی ہے، ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 1989 سےاب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

    کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    خیال رہے کہ کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ کشمیر منایاگیا، 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، رواں سال 5 اگست کو بھارت نے ایک اور مذموم قدم اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت کا حصہ بنایا اور اس کے بعد سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جنت نظیروادی کشمیر کو بھارتی فورسز نے قیدخانے میں تبدیل کردیا ہے، مسلسل بیاسی روز سے 80 لاکھ افراد کرفیو تلے زندگی گزارنے پر مجبورہیں، قابض بھارتی فورسزکی کشمیریوں پر ہر گزرتے دن کیساتھ سختیاں اور مظالم بڑھتے جارہے ہیں، نہ بچے اسکول جاسکتے ہیں اور نہ ہی مریض سپتال۔

    دھرنے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کرلیئے

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے خوف اور غیر یقینیت کا ماحول اور رات گئے چھاپوں، ظلم و تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، دفعہ 144کے تحت سخت پابندیوں کا نفاذ اورانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائیل فون سروسز بھی بدستور معطل ہیں۔

    مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کی قابض انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام کیخلاف سول نافرمانی کی پر امن تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    دکانیں اور کاروباری مراکز دن بھر بیشتر وقت بند رہتی ہیں جبکہ سڑکوں پرکوئی پبلک ٹرانسپورٹ مشکل ہی نظر آتی ہے، آبادیوں میں جعلی آپریشن ہورہے ہیں، رہنماؤں سمیت گیارہ ہزار کشمیری جیلوں میں قید ہیں، ڈھائی ماہ سے کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے، بھارتی مظالم کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا جائے گا۔

    امریکی سینیٹرکرس وان ہولین نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔