Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومتی اتحاد کے نمبر گیم پورے نہ ہونے پر مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے

    حاصل بزنجو، چیئرمین سینیٹ کے اپوزیشن کے متقفہ امیدوار،سینیٹر کب بنے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹ سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، چیئرمین سینیٹ نے اس فیصلے سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے، اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروا رکھی ہے، سینیٹ کا اجلاس کل ہو گا جس میں رائے شماری ہو گی، اپوزیشن جماعتوں نے حاصل بزنجو کو سینیٹ کا امیدوار برائے چیئرمین نامزد کیا ہوا ہے.

    عدم اعتماد کی قراردار کے باوجود اپوزیشن کی چیئرمین سینیٹ کی زیر‌صدارت اجلاس میں شرکت

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی ہے . ملاقات شہباز شریف کی رہائشگاہ پر ہوئی ,ملاقات میں چیئرمین سینیٹ کے الیکشن،سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،

    چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے اپوزیشن تقسیم، سراج الحق نے باغی ٹی وی سے گفتگو میں کیا کہا؟

    قبل ازیں شہبازشریف کی زیرصدارت مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کےانتخاب میں جمہوریت اورآئین کی فتح ہوگی،اپوزیشن کو سینیٹ چیئرمین کےانتخاب میں واضح اکثریت حاصل ہے ،نمبرز کےمطابق اپوزیشن کی جیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ،حکمرانوں کی نیت خراب ہے،وہ غیرآئینی و غیرجمہوری طرزعمل سے بازرہیں .

    چیئرمین سینیٹ کے امیدوار پر اپوزیشن کا ہو گیا اتفاق،کون ہو گا نیا چیئرمین سینیٹ؟

    واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ ہوا تھا اور رہبر کمیٹی نے اس فیصلے کی توثیق کی تھی .اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں بھی جماعت اسلامی نے شرکت نہیں کی تھی .

    چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے پاس مطلوبہ اکثریت سے زائد کی تعداد موجود ہے، 104 رکنی ایوان میں سینیٹرز کی موجودہ تعداد 103 میں سے چیئرمین کی نشست کے لئے 53 ارکان کی حمایت درکارہے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کی تعداد 28، پیپلز پارٹی کے 20، نیشنل پارٹی کے 5، جمعیت علماء اسلام ف کے 4، پختونخوا میپ کے 2 اور اے این پی کا ایک رکن شامل ہے۔

  • چیئرمین سینیٹ تبدیل ہو گا یا نہیں؟ ہنگامہ خیز اجلاس ہو گا کل

    چیئرمین سینیٹ تبدیل ہو گا یا نہیں؟ ہنگامہ خیز اجلاس ہو گا کل

    چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد، سینیٹ کا اجلاس کل جمعرات کو ہو گا، بیرسٹر سیف اجلاس کی صدارت کریں گے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کل جمعرات یکم اگست کو ہونے والے سینیٹ اجلاس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قراردادوں پر خفیہ رائے شماری کرائی جائے گی .

    سینیٹ اجلاس کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتوں نے آج اجلاس طلب کر رکھا ہے، اپوزیشن جماعتوں کو چیئرمین کے امیدوار میر حاصل بزنجو عشائیہ دیں گے، عشائیہ کی تقریب میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز بھی شرکت کریں گی.

    دوسری جانب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں اہم امور پر گفتگو کی گئی ہے.

     

    چیئرمین سینیٹ نے ایسا جواب دیا کہ اپوزیشن کے سارے منصوبے ہوئے ناکام

    واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کروا چکی ہیں، اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے لئے حاصل بزنجو کو امیدوار نامزد کیا ہے، اب تحریک انصاف نے ڈپٹی چئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے تحریک جمع کروا لی ہے . اس سلسلہ میں حکومت کی اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے .

    دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے پی ٹی آئی سینیٹرز سے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو ہر صورت ناکام بنانا ہے اور جس طرح بجٹ‌ منظوری کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتوں‌ کو کامیاب نہیں‌ ہونے دیا گیا اسی طرح سینیٹ چیئرمین کے خلاف ان کی تحریک عدم اعتماد بھی کسی صورت کامیاب نہیں‌ ہونے دی جائے گی.

    چیئرمین سینیٹ کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں کتنے سینیٹرز شریک ہوئے؟ اہم خبر

    اپوزیشن نے صادق سنجرانی کو ہٹانے کی قرارداد اور سینیٹ کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرائی۔ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو نئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لئے انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔

    چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی، ن اور پیپلزپارٹی کے اندر بغاوت کا خدشہ؟ اہم خبر

     

  • سیز فائر کی خلاف ورزی بھارت کی کشمیر میں ناکامی کا نتیجہ، پاک فوج

    سیز فائر کی خلاف ورزی بھارت کی کشمیر میں ناکامی کا نتیجہ، پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سیز فائر کی خلاف ورزی بھارت کی کشمیر میں ناکامی کا نتیجہ ہے

    ڈومور ذہن سے نکال دیں،ٹرمپ نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کی، ترجمان دفتر خارجہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی فوج جان بوجھ کر شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہے، سیز فائر کی خلاف ورزی کا ہمیشہ بھر پور جواب دیا گیا ہے.

    سیز فائر کی خلاف ورزی، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشیر کی وزارت خارجہ طلبی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائز کی خلاف ورزیاں بھارت کی کشمیر میں ناکامی کا نتیجہ ہیں، پاک فوج شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے گی. بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا موثر جواب دیا جائے گا.

    واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور سول آبادی کو نشانہ بنائے جانے پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو پاکستان کے دفتر خارجہ طلب کر کے بھی احتجاج ریکارڈ کروایا گیا تھا .بھارتی فورسز نے شہری آبادی کونشانہ بنایا، بھارتی فورسز نے ڈنہ،دھدنیال،جورا،لیپا،شردا اور شاہکوٹ سیکٹرز کو نشانہ بنایا، بھارتی فورسز کی گولہ باری سےشہری نعمان احمدشہید ہوا ہے،

  • کراچی میں بارشوں کے بعد کی صورتحال پر وزیراعظم کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    کراچی میں بارشوں کے بعد کی صورتحال پر وزیراعظم کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے.

    کراچی میں بارش، اداروں نے طاقت کا مطابق کام کیا، سعید غنی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران کراچی کے حوالہ سے بات چیت ہوئی، وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا نوٹس لیا، اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا.

    کراچی میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 18 ہوگئی

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کواربوں روپےدیئے لیکن عوام کوسہولیات نہیں ملیں۔وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی کو میئر کراچی سے فوری رابطے اور ضروری تعاون کی ہدایت کی۔ وزیراعظم ںے کہا کہ عوام کی پریشانی دور کرنے کے لیے میئر کراچی سے تعاون کیا جائے۔

    بلاول زرداری کے شہر لاڑکانہ میں ایڈز کے کتنے مریض ؟ خوفناک رپورٹ آ گئی

    کراچی میں بارش کے بعد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، دو روز بعد بھی صورتحال سنگین ہے، بارش کا پانی کے ڈی اے گرڈ سٹیشن میں داخل ہوگیا، پاک فوج بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

  • خبردار! ٹیکس چھپاو گےتو پکڑے جاو گے ، آف شور ٹیکس بچانے پر جیل اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا

    خبردار! ٹیکس چھپاو گےتو پکڑے جاو گے ، آف شور ٹیکس بچانے پر جیل اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا

    اسلام آباد:عمران خان کی حکومت معاشی فیصلےکرنے میں بڑی تیزی سے کام لے رہے ہیں اور ٹیکس سسٹم کو بہتر کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں . تازہ ترین فیصلے کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریونیو نے کہا ہے کہ آف شور اکاؤنٹس کے ذریعے ٹیکس بچانا قابل سزا جرم سمجھا جائے گا اور جو اس میں مجرم پایا گیا اسے یا تو بھاری جرمانے ادا کرنے پڑیں گے یا پھر 3 سال تک جیل کی سزا کاٹنی پڑے گی۔

    ایف بی آر کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے متعارف کروائی گئی ترامیم کے مطابق جاری کیے گئے سرکولر میں کہا گیا کہ یہ ترامیم آف شور ٹیکس بچانے والے نادہندگان کے گرد گھیرا تنگ کریں گی۔اور حقائق چھپانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے ان ترامیم کے ذریعے بدعنوانیوں اور ریئل اسٹیٹ ٹرانزیکشنز میں ملوث ٹیکس نادہندگان، مفرور افراد، معاونت کار، عہدیدار اور افراد سے متعلق قانونی فریم ورک گورننس کے لیے مختلف تبدیلیاں متعارف کروائی گئی ہیں۔یہ ترامیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تجاویز کی روشنی میں سامنے آئی ہیں۔

    دوسری طرف ایف بی آر نے جرمانے کی شرح رکھی ہے اس کے مطابق حکومت کی جانب ایک لاکھ روپے یا غیرظاہرشدہ آف شور اثاثوں سمیت ٹیکس بچانے کی 200 فیصد برابر رقم جرمانہ رکھا ہے۔

    حکومت کی طرف سے تیار کیا گیا فنانس بل جس کے مطابق انکم ٹیکس کمشنر کو آف شور اثاثے ظاہر کرنے میں جو ناکام رہتا ہے یا آفشور اثاثوں کی غلط تفصیلات اور ان وجوہات کو چھپاتا ہے جس سے آمدنی پر اثر پڑتا ہے یا ایک کروڑ یا اس سے زائد کی تفصیلات ظاہر کرتا ہے تو یہ قابل سزا جرم ہے جس کی سزا 3 سال قید یا 5 لاکھ روپے تک جرمانہ یا پھر دونوں ہوگی۔

    اوکاڑہ :ہمسائے سے تعلقات پر بیوی کو قتل کردیا

    آف شور کمپنیوں کے ٹیکس چھپانے والوں کے بارے میں ایف بی آر نے طئے کیا ہے کہ کہ ایسا شخص جو ایک آف شور اثاثے کا مالک، حامل، کنٹرول رکھنے والا یا بینیفشل مالک ہو اور وہ اسے ظاہر نہ کریں یا انکم ٹیکس کمشنر کو ایسے اثاثے کا صحیح تفصیلات فراہم نہ کرے۔

    آف شور کمپننیوں کے ٹیکس چھپانے والوں کو سخت سزا کے طور پر یہ قانون بھی بنایا گیا ہے کہ کمشنروں کو یہ اختیار ہے کہ آفشور دائرہ کار کے تحت موصول معلومات کی بنیاد پر ان افراد کے مقامی اثاثے منجمد کریں، جنہیں وہ ایک فلائٹ رسک کے طور پر تصور کرتے ہیں یا جرمانے سے بچنے کے لیے اپنے ان اثاثوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔

    ایف بی آر کی دستاویزات کے مطابق وہ افراد بھی نہیں بچ سکیں گےجو اس جرم میں معاونت کریں گے . اس قانون کے مطابق ایسے افراد کو جرائم پیشہ افراد کو ڈیزائن، بندوبست کرنے یا لین دین کے معاملے کا انتظام کرنے کے لیے مشورہ دیں یا معاونت کریں، جس کا نتیجہ آف شور ٹیکس بچانے کی صورت میں نکلے تو ایسے افراد کو بھی 7 سال تک جیل یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا پھر دونوں سزائوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایف بی آر نے غیر منقولہ جائیداد پر ایک شرح طئے کردی ہے جس کے مطابق کوئی بھی شخص 50 لاکھ سے زائد مارکیٹ ویلیو رکھنے والی غیر منقولہ جائیداد کو نقد یا بیئرر چیک کے ذریعے خریدتا ہے تو اسے ایف بی آر کی جانب سے مقرر کی گئی جائیداد کی قیمت کا 5 فیصد جرمانے کے طور پر ادا کرنا ہوگا۔

    آف شور کمپنیوں کے حوالے سے طئے فارمولے کے مطابق ایسے افراد کو سرجارچ کی مد میں کمپنی کے معاملے میں 20 ہزار روپے، اے او پی کے کیس میں 10 ہزار روپے اور ایک فرد کے طور پر ایک ہزار روپے دینے ہوں گے۔

    حکومت نے فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے نان فائلر کے تصور کو ختم کرتے ہوئے اے ٹی ایل میں شامل نہ ہونے والے افراد سے متعلق نیا تصور متعارف کروایا گیا ہے، ایسے افراد جن کا نام اس فہرست میں نہیں شامل ہوتا ان پر ٹیکس کی شرح میں 100 فیصد مشروط اضافہ ہوگا۔

  • گیس چوروں کو ضمانت نہیں دے سکتے، سپریم کورٹ

    گیس چوروں کو ضمانت نہیں دے سکتے، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے ایک کیس کی سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گیس چوروں کو ضمانت نہیں دے سکتے

    ایک ماہ میں کتنے ارب کی گیس چوری ہوئی، جان کر ہوں حیران

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لکی مروت کے رہائشی ملزم نے ضمانت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی تھی، دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملزم چوری کی گیس سے بجلی بنا کرفروخت کرتاتھا،گیس چوروں کوضمانت نہیں دے سکتے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ملزم پر جرم ثابت ہو گیا تو 14 سال قید بنتی ہے، ملزم کے وکیل نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ملزم ایسا کر رہے تھے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملزم کے خلاف جب چھاپہ مارا گیا تو اس نے پستول تان لیا، عدالت نے درخواست ضمانت خارج کر دی

    گیس اور بجلی کی قیمتیں کیوں بڑھیں؟ عمر ایوب خان نے بتا دیا

    سپریم کورٹ نے گیس چوری کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت خارج کر دی.

    عمر قید کی سزا کتنی ہو گی، سپریم کورٹ میں مدت کے تعین کیلئے لارجر بینچ تشکیل

    واضح رہے کہ وزیر پیٹرولیم عمر ایوب خان نے گیس کی قسیم کارکمپنیوں کوہدایت کی ہے کہ گیس چوروں کے ساتھ کوئی رعایت نہ کی جائے ،گیس چوروں کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاون تیزکیا جائے ،مئی میں اب تک دونوں کمپنیوں میں 2625چوروں نے1ارب95کروڑ98لاکھ سے زائدکی گیس چوری کی ،سب سے زیادہ گیس چوری صنعتی،انڈسٹری وکمرشل سیکٹرمیں ہورہی ہے .سب سے زیادہ گیس چوری صنعتی،انڈسٹری وکمرشل سیکٹرمیں ہورہی ہے ،سوئی ناردرن میں گیس چوری کاحجم اربوں میں چلاگیا۔ سوئی سدرن گیس میں720 گیس چور پکڑے ،713غیرقانونی کنکشن ختم کئے جو خزانہ کو50کروڑ89لاکھ روپے کانقصان پہنچارہے تھے اورسوئی ناردرن میں1905گیس چورپکڑے، گئے،3830 غیر قانونی کنکشن ختم کئے1ارب45کروڑ9لاکھ سے زائد کی گیس چوری کررہے تھے

    16 کلو منشیات، سپریم کورٹ نے سزائے موت کے ملزم کو بری کر دیا

    خیبرپختونخواہ پولیس کے کیا کہنے،وہ چاہتی تومیری گاڑی ریکور کرلیتی، سپریم کورٹ

    ہندو برادری کی درخواست پرسپریم کورٹ سندھ حکومت پر برہم

    سزامعطل ہونےسے نااہل شخص الیکشن کیلیےاہل نہیں ہو سکتا،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

  • چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی، اپوزیشن کے آج ہوں گے تین اجلاس

    چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی، اپوزیشن کے آج ہوں گے تین اجلاس

    چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ، سینیٹ اجلاس کل ہو گا، آج اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ہو گا جبکہ نامزد چیئرمین حاصل بزنجو اپوزیشن کو عشائیہ دیں گے

    چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد، گورنر پنجاب نے اہم اعلان کر دیا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں ہو گا جس میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی، رہبر کمیٹی کا اجلاس جمعیت علماء اسلام کے رہنما اکرم درانی کی صدارت میں شام 4 بجے ہو گا، اجلاس مسلم لیگ ن کے سینیٹر راجہ ظفر الحق کے چیمبر میں ہو گا.

    چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد، اپوزیشن ہو رہی ہے فرار،اہم خبر

    اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کمیٹی اراکین کو آگاہ کیا جائے گا، اجلاس میں حکومتی اتحادی اراکین سے ہونے والے رابطوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا،

    حکومتی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے اچانک ملاقات، کیا بات ہوئی؟ اہم خبر

    چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی،اپوزیشن کا اجلاس جاری، چیئرمین سینیٹ نے بھی بڑا فیصلہ کر لیا

    اپوزیشن جماعتوں کااجلاس راجہ ظفرالحق نے بھی آج طلب کرلیا ، بلاول بھٹو،شہبازشریف سمیت دیگرقائدین شرکت کریں گے، دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینٹرز کا اجلاس بھی دن ایک بجے طلب کیا گیا ہے ، اجلاس کی صدارت شہباز شریف کریں گے.

    ن لیگی کے اراکین سینیٹ چیئرمین سینیٹ سے کیوں ملے؟ ن لیگ نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دوسری جانب اپوزیشن کی طرف سے نامزد چیئرمین سینیٹ کے امیدوار میر حاصل بزنجو کی طرف سے اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ دیا جائے گا، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے بھی اس عشائیہ میں شرکت کا عندیہ دیا ہے، میر حاصل بزنجو کی جانب سے مریم نواز کو ٹیلیفون پر شرکت کی دعوت دی گئی ہے. یہ عشائیہ سرینا ہوٹل اسلام آباد میں دیا جائے گا،

     

    چیئرمین سینیٹ نے ایسا جواب دیا کہ اپوزیشن کے سارے منصوبے ہوئے ناکام

    واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کروا چکی ہیں، اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے لئے حاصل بزنجو کو امیدوار نامزد کیا ہے، اب تحریک انصاف نے ڈپٹی چئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لئے تحریک جمع کروا لی ہے . اس سلسلہ میں حکومت کی اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے .

    دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے پی ٹی آئی سینیٹرز سے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو ہر صورت ناکام بنانا ہے اور جس طرح بجٹ‌ منظوری کے حوالہ سے اپوزیشن جماعتوں‌ کو کامیاب نہیں‌ ہونے دیا گیا اسی طرح سینیٹ چیئرمین کے خلاف ان کی تحریک عدم اعتماد بھی کسی صورت کامیاب نہیں‌ ہونے دی جائے گی.

    چیئرمین سینیٹ کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں کتنے سینیٹرز شریک ہوئے؟ اہم خبر

    اپوزیشن نے صادق سنجرانی کو ہٹانے کی قرارداد اور سینیٹ کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرائی۔ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو نئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لئے انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔

    چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی، ن اور پیپلزپارٹی کے اندر بغاوت کا خدشہ؟ اہم خبر

  • منی لانڈرنگ پر سزا میں اضافے کا بل قائمہ کمیٹی نے منظور کرلیا

    منی لانڈرنگ پر سزا میں اضافے کا بل قائمہ کمیٹی نے منظور کرلیا

    اسلام آباد : پاکستان کی طرف سے معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری ، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے انسداد منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2019 منظور کرلیا جس کے تحت منی لانڈرنگ کرنے والے افراد کی سزا اور جرمانے میں اضافے کے ساتھ ساتھ جائیداد ضبط کرنے کی سفارشات منظور کرلی گئیں۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین اسدعمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد میں ہوا جہاں انسداد منی لانڈرنگ بل اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز بل کی منظوری دی گئی۔

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے منظور ہونے والے ترمیمی بل کے مطابق منی لانڈرنگ کے ملزمان سزا بڑھا کر سال تک کردی گئی ہے، 50 لاکھ روپے جرمانہ اور جائیداد ضبطی کی سفارشات منظور کرلی گئی ہیں۔

    بل کے مطابق منی لانڈرنگ کے ملزمان کو عدالتی وارنٹ کے بعد گرفتار کیا جا سکے گا اور ریمانڈ 90 روز سے بڑھا کر 180 روز کرنے کی تجویز بھی منظور کرلی گئی ہے۔

    اسلام آباد میں اسد عمر کی زیر صدارت ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) بشیر میمن نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ پر جرم کی سزائیں بڑھاکر 10 سال قید، 50 لاکھ روپے جرمانہ اور جائیداد کی ضبطی کی سفارشات منظور کر لی جائیں۔

    کمیٹی کے اس اجلاس میں‌اسد عمر نے کہا کہ انسداد منی لانڈرنگ کے تحت ملزمان کا 180 روز کا ریمانڈ دینے کی تجویز ہے اس سے قبل ملزمان کا 90 روز کا ریمانڈ لینے کی اجازت ہے جس پر کمیٹی نے ملزمان کو عدالتی وارنٹ کے بعد گرفتار کرنے کی تجویز منظور کرلی۔

    اسٹیٹ بینک کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس )ایف اے ٹی ایف( کے تحت منی لانڈرنگ کے جرم کو فوری طور پر رپورٹ کرنا ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بینکوں سے غلط اور مشکوک رپورٹ بھیجنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی اور مشکوک رپورٹ نہ بھینے والے ملازمین کے خلاف بھی کارروائی ہوگ۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فارن ایکسچینج ریگولیشنز بل کی منظوری دے دی جس کے تحت غیر ملکی کرنسی کی نقل و حمل کو قابو کیا جائے گا۔

    چیئرمین قائمہ کمیٹی خزانہ نے حکام کو منی لانڈرنگ کو ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسداد منی لانڈرنگ بل آج منظور ہوچکا ہے اور کل سے منی لانڈرنگ کو ختم کر دیں۔فارن ایکسچینج ریگولیشنز بل کے تحت اندرون ملک 10 ہزار ڈالر تک کی رقم کی نقل و حرکت پر اسٹیٹ بینک سے اجازت لینا ہوگی۔

  • کون کتنا ٹیکس دے گا سن کر دل قابو میں رکھیئے ، ایف بی آر نے سب کچھ بتا دیا

    کون کتنا ٹیکس دے گا سن کر دل قابو میں رکھیئے ، ایف بی آر نے سب کچھ بتا دیا

    لاہور : ایف بی آر نے ٹیکس شرح بیان کرکے سب کی آنکھیں‌کھول دیں. ایف بنی آر کی فہرست آنے کے بعد دلو ں کو تھام کر رکھنا ضروری ہوگیا . تفصیلات کے مابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تنخواہ دار طبقے کو سالانہ انکم ٹیکس کی حد 6 لاکھ روپے مقرر کرتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ حد میں 20 فیصد سے اضافہ کرکے 35 فیصد کردیا ہے۔

    فنانس ایکٹ 2019 کی انکم ٹیکس تفصیلات کرتے ہوئے ایف بی آر نے جو شرح عائد کی ہے اس کے مطابق پراپرٹی رینٹل انکم پر پانچ سے 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا ۔ دو لاکھ روپے سے 6 لاکھ روپے کی جائیدار پر 5 فیصد، 6 لاکھ روپے سے 10 لاکھ روپے کی جائیداد پر 10 فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق 40 لاکھ سے 60 لاکھ روپے کی پراپرٹی پر 6لاکھ دس ہزار روپے اور 25 فیصد انکم ٹیکس، 60 لاکھ روپے سے 80 لاکھ روپے کی پراپرٹی پر گیارہ لاکھ دس ہزار اور 30 فیصد اور 80 لاکھ روپے سے زائد کی پراپرٹی انکم پر 17 لاکھ دس ہزار روپے اور 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔

    انکم ٹیکس کی تفصیلات کے مطابق 10 لاکھ روپے سے 20 لاکھ روپے کی جائیداد پر انکم 60 ہزار روپے کے ساتھ 15 فیصد، 20 لاکھ سے 40 لاکھ روپے کی جائیدار پر انکم ٹیکس پر دو لاکھ دس ہزار کے ساتھ 20 فیصد عائد ہوگا۔

    فنانس ایکٹ 2019 میں 50 لاکھ روپے تک کی جائیداد پر 5 فیصد کیپیٹل ٹیکس، 50 لاکھ روپے تا ایک کروڑ روپے کی جائیداد پر10 فیصد اور ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 15 فیصد کیپیٹل ٹیکس عائد ہوگا۔

    دوسری طرف تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی تفصیلات کے مطابق6 لاکھ روپے سے 12 لاکھ روپے کی آمدن پر پانچ فیصد،12 لاکھ روپے سے 18 لاکھ روپے کی آمدن پر 30 ہزار اور 10 فیصد، 18 لاکھ روپے سے 25 لاکھ روپے کی آمدن پر 90 ہزار اور 15 فیصد، 25 لاکھ سے 35 لاکھ روپے کی آمدن پر ایک لاکھ پچانوے ہزار روپے اور ساڑھے سترہ فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

    حکومت نے 35 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے کی آمدن پر تین لاکھ 70 ہزار روپے اور 20 فیصد، 50 لاکھ سے 80 لاکھ روپے پر 6 لاکھ 70 ہزار اور ساڑھے 22 فیصد، 81 لاکھ روپے سے ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی آمدن پر 13 لاکھ 45 ہزار روپے کے ساتھ پچیس فیصد ٹیکس عائد پر کردیا ہے۔

    ایف بی آر کے نئے ٹیکس سسٹم کے مطابق نئے ایکٹ میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے 3 کروڑ روپے کی آمدن پر 23 لاکھ 45 ہزار کے ساتھ27 فیصد، 3 کروڑ روپے سے 5 کروڑ روپے کی سالانہ آمدن پر 72 لاکھ 95 ہزار کے ساتھ ساتھ تیس فیصد اور 5 کروڑ روپے تا ساڑھے 7 کروڑ روپے کی آمدن پر 32 لاکھ 95 ہزار روپے کے ساتھ 32 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

    ایف بی آر ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کے مطابق ساڑھے 7 کروڑ روپے سے زائد کی آمدن پر دو کروڑ 14 لاکھ بیس ہزار روپے کے ساتھ 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔

    ایف بی آر کی طرف سے جاری دستاویزات کے مطابق فنانس ایکٹ 2019 کے دستاویزات کے مطابق 50 لاکھ روپے قرض کے منافع پر 15 فیصد، 50لاکھ روپے سے ڈھائی کروڑ روپے قرض کے منافعے پر ساڑھے 17 فیصد اور ڈھائی کروڑ روپے سے 3 کروڑ 60 لاکھ روپے قرض کے منافع پر 20 فیصد ٹیکس عائد ہو گا، اسی طرح ایف بی آر نے ٹرن اوور ٹیکس کی شرح صفر اعشاریہ 7 فیصد سے بڑھا کر ڈیڑھ فیصد کر دی ہے۔

    ایف بی آر کی جانب سے جاری تفصیلات میں کہا گیا تھا کہ 50 ہزار روپے سے زیادہ خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط کا باقاعدہ اطلاق یکم اگست سے ہو گا

    ۔

  • کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ کا منہ توڑ جواب، 3 ہندوستانی فوجی ہلاک، متعدد چیک پوسٹیں تباہ

    کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ کا منہ توڑ جواب، 3 ہندوستانی فوجی ہلاک، متعدد چیک پوسٹیں تباہ

    بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر ایک بار پھر بلااشتعال فائرنگ کی گئی ہے جبکہ بھارتی فورسزکی جانب سے بھاری توپ خانے کا استعمال کیا گیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے شہری آبادی کونشانہ بنایا، بھارتی فورسز نے ڈنہ،دھدنیال،جورا،لیپا،شردا اور شاہکوٹ سیکٹرز کو نشانہ بنایا، بھارتی فورسز کی گولہ باری سےشہری نعمان احمدشہید ہوا ہے،

    آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گولہ باری سے بچوں اورخواتین سمیت 9 شہری زخمی ہوئے ہیں، تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، پاک فوج کی جانب سے بھارتی گولہ باری کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے جس سے 3 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اورمتعدد کے زخمی ہونےکی اطلاع ہے، جوابی کارروائی میں بھارتی چیک پوسٹوں کےتباہ ہونےکی بھی اطلاعات ہیں،