Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نوبل انعام،عمران خان کو بڑا جھٹکا،پی ٹی آئی کو پھر ملی رسوائی

    نوبل انعام،عمران خان کو بڑا جھٹکا،پی ٹی آئی کو پھر ملی رسوائی

    سابق وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک اور شرمندگی، بڑا جھٹکا،‏نوبل انسٹی ٹیوٹ نے ناروے کی سینٹر پارٹی کی جانب سے بانی عمران خان کی نوبل انعام کیلئے نامزدگی کی خبروں کو ناروے میں مقیم پاکستانیوں کے ووٹ لینے کی ترکیب قرار دے دیا۔

    نوبل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر، کرسٹیان برگ ہارپ ویکن نے ایک ناروے کے اخبار میں مضمون تحریر کیا جس میں انہوں نے اس نامزدگی پر سخت تنقید کی۔ ان کے مطابق، سینٹر پارٹی نے یہ اعلان محض سیاسی مقاصد کے لیے کیا تاکہ ناروے میں مقیم پاکستانی ووٹروں کو متاثر کیا جا سکے۔ہارپ ویکن کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی رہنما کی نامزدگی کو اس انداز میں استعمال کیا گیا ہے جو نوبل انعام کے وقار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوبل انعام ایک انتہائی معزز اور غیرجانبدار ایوارڈ ہے اور اسے کسی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ معاملہ ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے کہ آیا واقعی عمران خان کی نامزدگی ایک سنجیدہ اقدام تھا یا محض ایک انتخابی چال؟ سینٹر پارٹی کی جانب سے اس نامزدگی کا اعلان ایسے وقت میں آیا جب ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کی سیاسی وابستگی اہمیت رکھتی ہے، جو اس الزام کو تقویت دیتا ہے کہ یہ ایک سوچا سمجھا سیاسی حربہ تھا۔

    ناروے کی ایک سیاسی جماعت کو سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔پارٹی سینٹرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کرتے ہوئے کہا: "ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ پارٹی سینٹرم نے ایک ایسے شخص کے ساتھ اتحاد میں، جو نامزدگی کا حق رکھتا ہے، سابق وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے، ان کے انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے کام کے اعتراف میں۔”تاہم، پارٹی سینٹرم نے اس ثالث کا نام نہیں بتایا جس نے خان کی نامزدگی پیش کی۔

    اس نامزدگی نے پارٹی سینٹرم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ پارٹی ووٹ حاصل کرنے کے لیے ممکنہ امن انعام کی نامزدگی کا استعمال کر رہی ہے۔ ناروے کے خبر رساں ادارے این آر کے نیوز کے مطابق، "یہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ نارویجن-پاکستانی کمیونٹی میں زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔”

    اوسلو میں قائم نوبل انعام کمیٹی کی جانب سے ناروے کی اس جماعت کے اعلان پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔یاد رہے کہ 2019 میں بھی عمران خان کو جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ کے لیے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ہر سال، نارویجن نوبل کمیٹی سینکڑوں نامزدگیاں وصول کرتی ہے، جس کے بعد وہ آٹھ ماہ پر محیط ایک طویل عمل کے ذریعے فاتح کا انتخاب کرتی ہے۔ اس سال کے نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی کا عمل 31 جنوری کو مکمل ہوا، اور کمیٹی نے 2025 کے امن انعام کے لیے 338 امیدواروں کو رجسٹر کیا، جن میں 244 افراد اور 94 تنظیمیں شامل ہیں۔تاہم، کمیٹی نامزد کنندگان یا نامزد امیدواروں کے ناموں کا انکشاف نہیں کرتی۔

    اپریل 2022 میں، عمران خان کو ایک عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ عمران خان کو کرپشن کیس میں سزا ہو چکی ہے اور وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں.

    صحافی نجم ولی خان نے ایکس پر لکھا کہ کہا تھا ناں یہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے بعد نوبل انعام والوں سے ذلیل ہو گا۔ اس کے احمق حواری اپنی ذلت خود ڈھونڈ کے اور کھینچ کے لاتے ہیں ورنہ دوسروں کا موڈ اور خیال بھی نہیں ہوتا، اب اپنے ملک کو ہی دیکھ لیں “ریاست” کب اسے جوتے مارنا چاہتی تھی مگر اس نے 9 مئی کر دیا ۔۔۔

    https://x.com/najamwalikhan/status/1907524210832060577

    سابق سفارتکار حسین حقانی نے ایکس پر لکھا کہ نوبل انسٹی ٹیوٹ نے ناروے کی سینٹر پارٹی کی جانب سے عمران خان کی نوبل انعام کے لئے نامزدگی کی خبروں کو ناروے میں مقیم پاکستانیوں کے ووٹ لینے کی ترکیب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی نامزدگی ہوئی نہیں، اُس کے اعلان کے ذریعہ ناروے کے پاکستانی ووٹروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہوئی ہے 🤷🏻‍♂️

    https://x.com/husainhaqqani/status/1907436877960946041

  • ایلون مسک امریکی ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی  سے دستبردار

    ایلون مسک امریکی ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی سے دستبردار

    ایلون مسک ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی سے دستبردار ہو رہے ہیں ۔

    امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی جلد ہی دوبارہ کاروباری دنیا میں واپس جا رہے ہیں۔ اس فیصلے سے اسٹاک مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ اور قریبی ساتھیوں کو بتایا کہ ایلون مسک اپنی سرکاری ذمہ داری سے دستبردار ہو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ٹرمپ اور مسک کے درمیان باہمی اتفاق سے ہوا، امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی محکمہ حکومتی کارکردگی میں مسک کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

    تاہم، مسک کی جارحانہ حکمت عملی اور وفاقی حکومت میں شدید کٹوتیوں کے باعث وہ ایک متنازع شخصیت بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایلون مسک نے وسکونسن کی سپریم کورٹ کی انتخابی مہم میں 20 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، لیکن ان کے حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیسلا کے شیئرز میں نمایاں کمی آئی ہے اور فروخت میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے، کئی شورومز کو آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

    حماد اظہر نے پارٹی کے تمام عہدے چھوڑ دیے

    کراچی،حادثات میں دو بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

    تاجروں کا عید سیزن مایوس کن رہا؛ خریداری کی شرح میں کمی

    کاریں چرانے والا سب انسپکٹر گرفتار،بیٹا گینگ کا سرغنہ

  • بھارتی فوج کی پونچھ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ پاک فوج کا بھی بھرپور جواب

    بھارتی فوج کی پونچھ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ پاک فوج کا بھی بھرپور جواب

    بھارتی فوج نے آزاد کشمیر کے پونچھ سیکٹر پر پاکستانی علاقوں پر مارٹر گولے اور بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال فائرنگ کی تاہم پاکستانی فوج نے حملے کا بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارتی بندوقوں کو خاموش کروا دیا، فائرنگ کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارتی فوج نے ایک بار پھر منگل کے روز پونچھ ضلع میں شمالی جموں و کشمیر کے علاقے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے کنٹرول لائن پر پونچھ سیکٹر میں بلا اشتعال فائرگ کی اور سول آبادی کو نشانہ بنایا تاہم پاکستان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے آزاد کشمیر کے پونچھ سیکٹر کے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں بارودی سرنگ میں کا دھماکہ کیا، جس کے بعد پاکستانی فوج بھارتی فوج نے بھر پور جواب دیا بھارتی فوج نے پاکستانی علاقوں پر مارٹر گولے اور بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال فائر نگ کی تاہم پاکستانی فوج نے حملے کا بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارتی بندوقوں کو خاموش کروا دیا فائرنگ کے نتیجے میں کسی جانی نقصا ن کی اطلاع نہیں ملی۔

    علی امین گنڈاپور کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات

    سچن ٹنڈولکر کی بیٹی سارہ بھی فرنچائز ٹیم کی مالک بن گئیں

    بڑھتے درجہ حرارت سے عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے،ماہرین

  • بلوچستان کی ترقی کیلئے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔وزیراعظم

    بلوچستان کی ترقی کیلئے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، بلوچستان کی اقتصادی و سماجی ترقی، امن و امان کی صورتحال اور وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے آغاز میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے وزیراعظم کو عید الفطر کی مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت سے آگاہ کیا اور درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے لیے فراہم کردہ تعاون پر شکریہ ادا کیا اور مزید وسائل و حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ملاقات میں بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ان کے ثمرات جلد میسر آئیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبے کے عوام کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور صوبے کے عوام کے لیے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

  • یورپی پارلیمنٹ کے دو اراکین کی پاکستان میں مسیحی برادری پر مظالم کیخلاف یورپی یونین سے اپیل

    یورپی پارلیمنٹ کے دو اراکین کی پاکستان میں مسیحی برادری پر مظالم کیخلاف یورپی یونین سے اپیل

    یورپی پارلیمنٹ کے مذہبی آزادی کے بین الپارلیمانی گروپ کے مشترکہ چیئرمین برٹ جان رُوئسن اور میرِیام لیکسمن نے پاکستان میں عیسائی اقلیت کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر یورپی یونین کے انسانی حقوق کے نمائندے، اولوف اسکُوگ سے اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عیسائیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے، اور ای یو نمائندے کو پاکستان کے اپنے دورے کے دوران اس مسئلے پر خاص توجہ دینی چاہیے۔

    ایم ای پی برٹ جان رُوئسن نے ای یو انسانی حقوق کے نمائندے اولوف اسکُوگ سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان کے دورے کے دوران عیسائی اقلیت کی مشکلات پر خصوصی توجہ دیں۔ رُوئسن نے خاص طور پر شگفتہ کرن کے کیس کا ذکر کیا، جو ایک عیسائی خاتون اور چار بچوں کی ماں ہیں، جنہیں پاکستان کے توہین مذہب کے قوانین کے تحت سزائے موت سنائی گئی۔ رُوئسن کا کہنا تھا کہ "یہ انتہائی ضروری ہے کہ ای یو کا نمائندہ شگفتہ کرن سمیت دیگر افراد کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالے۔”

    پاکستان میں عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتی گروپوں کو شدید ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ اوپن ڈورز کی 2024 کی عیسائیوں کی ظلم و ستم کی درجہ بندی میں پاکستان کا شمار بلند ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت دی جا سکتی ہے، اور اکثر واقعات میں غصے سے بھرے ہوئے ہجوم عیسائیوں اور دیگر اقلیتی فرقوں پر حملہ کرتے ہیں، اور بعض اوقات انہیں قتل بھی کر دیتے ہیں۔

    رُوئسن نے مزید کہا کہ "یورپی یونین پاکستان کو ہر سال تقریباً 100 ملین یورو کی ترقیاتی امداد فراہم کرتی ہے، اس کے علاوہ فرداً فرداً رکن ممالک کی طرف سے بھی امداد دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود یورپی یونین کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ای یو کا نمائندہ دباؤ ڈال سکتا ہے اور عیسائیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر سکتا ہے۔”

    رُوئسن نے پاکستان میں عیسائی لڑکیوں کے اغوا اور جبراً اسلام قبول کرانے کے واقعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "پاکستان میں کئی عیسائی لڑکیاں اغوا کی جاتی ہیں، انہیں جبراً اسلام قبول کرایا جاتا ہے اور پھر انہیں بڑی عمر کے مردوں سے شادی کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے۔ پاکستانی حکام اس مسئلے پر اکثر کارروائی نہیں کرتے، لیکن ان لڑکیوں کا دکھ انتہائی بڑا ہے۔ ای یو کو اس پر آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔”

    رُوئسن اور لیکسمن نے یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں فراہم کردہ 100 سے 150 ملین یورو کی رقم کا بھی ذکر کیا، جو حالیہ برسوں میں تعلیمی مواد اور تدریسی سامان پر خرچ کی گئی۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ای یو کی مالی امداد سے فراہم کردہ تعلیمی مواد میں عیسائیوں اور دیگر اقلیتی گروپوں کے خلاف امتیاز بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ دونوں ایم ای پیز نے اس تعلیمی مواد کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔

    برٹ جان رُوئسن اور میرِیام لیکسمن نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین کو پاکستان میں عیسائیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتی گروپوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور ای یو کو اس سلسلے میں سخت اقدامات کرنا چاہیے۔

    دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ فرنٹ (HRWF) نے یورپی یونین سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان کو ملنے والی تجارتی مراعات کو فوری طور پر معطل کرے۔ اس درخواست کا مقصد پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی روک تھام ہے، جن میں مذہبی آزادی کی پامالی، اقلیتی برادریوں کے خلاف ظلم و ستم، اور توہین مذہب کے جھوٹے الزامات شامل ہیں۔پاکستان کو 2014 سے یورپی یونین کی جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (GSP+) کے تحت تجارتی مراعات حاصل ہیں، جس کے تحت پاکستانی مصنوعات یورپی مارکیٹ میں کم ڈیوٹی کے ساتھ داخل ہوتی ہیں۔ اس سکیم کے تحت پاکستان نے 27 بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، اور گڈ گورننس کے معاہدے شامل ہیں۔ تاہم، HRWF کے مطابق پاکستان اس سکیم کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔پاکستان میں مذہبی اقلیتی برادریوں، خاص طور پر عیسائیوں، ہندؤوں اور احمدیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں احمدی کمیونٹی کے خلاف متعدد حملے اور ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، عیسائی اور ہندو خواتین کے اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے مذہبی اقلیتی گروپوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے، اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر جبر اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    HRWF کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو پاکستان پر پابندیاں عائد کرنی چاہئیں، خاص طور پر GSP+ کی سکیم کو معطل کرنا چاہیے، جب تک کہ پاکستان انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کرتا۔ یہ اقدام نہ صرف یورپی یونین کے ٹیکس دہندگان کے مفاد میں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی عوام کے حق میں بھی ہوگا تاکہ ان کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔

    کرسچن ڈیلی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پاکستان پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں اور توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی 2024 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، اور اس میں مزید تنزلی کا خدشہ ہے۔پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی ایک حالیہ مثال شیخوپورہ کے ایک علاقے میں پیش آئی، جہاں ایک عیسائی کارکن کو توہین مذہب کے جھوٹے الزامات پر شدید زخمی کیا گیا۔ اس کے علاوہ، احمدی کمیونٹی کے ارکان کو عبادت کرنے کے دوران حراست میں لے لیا گیا، اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے کیے گئے۔ ان واقعات نے پاکستان میں اقلیتی برادریوں کی حالت زار کو مزید خراب کر دیا ہے۔

    HRWF کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں اور یورپی یونین کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔ پاکستان کے لئے GSP+ کی مراعات کو معطل کرنے کے بعد، پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری آنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ یورپی یونین کا یہ اقدام پاکستان کے عوام کے لئے ایک پیغام ہوگا کہ عالمی برادری ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے سنجیدہ ہے۔ہیومن رائٹس واچ فرنٹ نے عالمی برادری، خاص طور پر یورپی یونین اور امریکی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہاں کی حکومت مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کرے۔

    Message

  • نیویارک، اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی کے لیے قانون سازی جاری

    نیویارک، اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی کے لیے قانون سازی جاری

    نیویارک میں اسکول کے اوقات میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے منصوبے پر تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے.

    امریکی میڈیا کے مطابق پیش رفت کو ریاست کی ڈیموکریٹ گورنر کیتھی ہوچل کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ وہ طلبہ پر سوشل میڈیا کے “مسلسل خلل” کو کم کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کی حامی ہیں۔گورنر ہوچل اور قانون ساز ایک مکمل دن کی “بیل ٹو بیل” پابندی کے خدوخال طے کر رہے ہیں، جو ان کے دور حکومت کے دوران سب سے نمایاں اقدامات میں سے ایک ہے۔ ریاستی بجٹ کی منظوری کے لیے پیر کی آخری تاریخ کے باوجود، قانون ساز اس پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔

    یہ اقدام نیویارک کو امریکہ میں اسکول کے اوقات میں موبائل فون پر پابندی عائد کرنے والی پانچویں ریاست بنا دے گا، جہاں پہلے ہی آرکنساس، لوزیانا، ورجینیا اور ساؤتھ کیرولائنا جیسے ریاستیں اس پر عمل درآمد کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، درجن سے زائد دیگر ریاستوں میں بھی اسکولوں میں فون کے استعمال پر کسی نہ کسی حد تک پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

    گورنر ہوچل کا مؤقف
    گورنر ہوچل نے پچھلے سال پہلی بار اس مسئلے پر سخت موقف اپنایا اور بچوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کیے۔ جون میں، انہوں نے سوشل میڈیا الگورتھمز کے استعمال کو محدود کرنے کا قانون منظور کیا اور جنوری میں بجٹ تقریر کے دوران “بیل ٹو بیل” موبائل فون پابندی کا اعلان کیا۔ ایک حالیہ سروے میں 62 فیصد نیویارک کے ووٹرز نے اسکول کے دوران اسمارٹ فونز پر پابندی کی حمایت کی۔ہوچل کو نیویارک کے اساتذہ کی طاقتور یونینوں کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، لیکن ریاست کے اسکول بورڈز اور سپرنٹنڈنٹس کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے، جو سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ ہر اسکول کو خود کرنا چاہیے۔

    قانون سازوں میں بحث
    سینیٹ اور اسمبلی کے ارکان اس مسئلے پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔ ریاستی سینیٹ نے بجٹ تجاویز میں یہ تجویز دی کہ اسکول غیر تدریسی وقت جیسے لنچ بریک میں موبائل فون کے استعمال کی اجازت دے سکتے ہیں۔ تاہم، اسمبلی کے اسپیکر کارل ہیستی اور سینیٹ کی اکثریتی رہنما اینڈریا سٹیورٹ کزنز نے بالآخر گورنر کے موقف کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔اس منصوبے میں کچھ مستثنیات بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں طبی وجوہات، خصوصی طلبہ اور انگریزی سیکھنے والے شامل ہیں۔ مزید برآں، والدین کو اپنے بچوں سے رابطہ کرنے کے لیے کم از کم ایک متبادل طریقہ فراہم کیا جائے گا۔

    نیویارک کی ریاستی اساتذہ یونین کی صدر میلنڈا پرسن نے کہا کہ اساتذہ اس پالیسی کو اس لیے بھی سپورٹ کر رہے ہیں کیونکہ غیر تدریسی وقت طلبہ کی سماجی مہارتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

    مخالفت کے باوجود پالیسی کی کامیابی یقینی
    ریاستی اسکول بورڈ اور سپرنٹنڈنٹس کی تنظیمیں اب بھی اس پالیسی کی سخت حامی نہیں ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اسکولوں کو اپنے فیصلے خود لینے کا اختیار ہونا چاہیے۔ تاہم، گورنر ہوچل نے اس قانون پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ پالیسی نیویارک کے لیے ایک قومی ماڈل ثابت ہوگی۔”یہ معاملہ ریاستی بجٹ میں 13.5 ملین ڈالر مختص کیے جانے کے بعد مزید آگے بڑھا، اور اسمبلی اور سینیٹ کی قیادت کی جانب سے حمایت ملنے کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ یہ قانون جلد ہی نافذ کر دیا جائے گا۔

  • عید کا دوسرا دن، وکلا عمران خان کو ملنےپہنچ گئے،سلمان اکرم راجہ،جیل حکام میں تکرار

    عید کا دوسرا دن، وکلا عمران خان کو ملنےپہنچ گئے،سلمان اکرم راجہ،جیل حکام میں تکرار

    راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے جیل حکام اور وکیل سلمان اکرم راجہ کے درمیان دو بار تکرار ہوئی۔

    یہ تنازعہ اس وقت اٹھا جب جیل حکام نے بعض افراد کو ملاقات کی اجازت دے دی، تاہم سلمان اکرم راجہ اور ان کے ہمراہ دیگر وکلاء کو تاحال ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی۔جیل حکام نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں، اعظم سواتی، نادیہ خٹک اور وکیل مبشر اعوان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، جنہوں نے اڈیالہ جیل میں جا کر بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کی۔ تاہم، سلمان اکرم راجہ، نیاز اللّٰہ نیازی، فیصل ملک اور شعیب شاہین جیسے اہم وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر انہوں نے جیل حکام سے احتجاج کیا۔

    سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے بیان دیا کہ "ہم نے جن افراد کے نام دیے تھے، ان کو ملاقات کے لیے کیوں نہیں بھیجا جا رہا؟ جیل حکام اپنی مرضی سے لوگوں کو منتخب کر کے ملاقات کی اجازت دے رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم کے مطابق ملاقات کرانے کی ضرورت ہے، اور یہ حکم واضح ہے کہ ملاقات کی فہرست وہی ہوگی جو ہمارے ذریعے دی جائے گی۔ "ہماری لسٹ کے مطابق صرف اعظم سواتی کو ملاقات کے لیے بھیجا گیا، باقی افراد کے نام کیوں نہیں لیے گئے؟” انہوں نے جیل انتظامیہ سے درخواست کی کہ "اگر ہمیں ملاقات کے لیے اندر نہیں بھجوایا جاتا تو پھر کسی کو بھی اندر نہ بھیجا جائے۔”

    جیل حکام نے متعدد بار انصر کیانی اور تابش فاروق ایڈووکیٹ کو اندر جانے کی اجازت دینے کی کوشش کی، لیکن سلمان اکرم راجہ نے دونوں وکلاء کو اندر جانے سے روکا۔ سلمان اکرم راجہ نے جیل حکام سے مکالمے کے دوران کہا کہ "اگر آپ ہمیں اندر نہیں بھجواتے تو کوئی بھی اندر نہ جائے، اور اگر آپ ان کو ملاقات کے لیے بھجوائیں گے تو بانیٔ پی ٹی آئی ناراض ہوں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی احکامات میں یہ واضح ہے کہ ملاقات کے لیے جو فہرست ہم دیں گے، ان ہی افراد کو اجازت دی جائے گی۔

    دوسری جانب بانیٔ پی ٹی آئی کے ترجمان نیاز اللّٰہ خان نیازی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ کے حکم پر ملاقات کے لیے آئے ہیں، لیکن بانیٔ پی ٹی آئی سے تاحال ان کی بہنوں کی ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔” انہوں نے کہا کہ وہ جیل حکام سے رابطے میں ہیں اور اس معاملے پر انتظار کریں گے۔نیاز اللّٰہ خان نیازی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ "ہم اس سے ملنے جا رہے ہیں جو پوری قوم کی جنگ لڑ رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے 8 فروری کو ثابت کر دیا کہ عوام ان کے ساتھ ہیں۔

  • جنوبی وزیرستان: عید الفطر پر پاک افغان فورسز کے درمیان مٹھائی کا تبادلہ

    جنوبی وزیرستان: عید الفطر پر پاک افغان فورسز کے درمیان مٹھائی کا تبادلہ

    جنوبی وزیرستان،عید الفطر کے موقع پر پاک افغان سرحد پر دونوں ممالک کی فوجوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مٹھائی کا تبادلہ کیا، جس کے ذریعے خیرسگالی اور بھائی چارے کے جذبے کو فروغ دیا گیا۔

    عید الفطر کی خوشیوں کو بانٹنے کے لیے پاک افغان سرحد پر پاک فوج اور افغان فورسز کے درمیان ایک خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ انگور اڈہ پر تعینات پاکستانی آرمی یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر نے افغان گیٹ حکام کو عید کی پرخلوص مبارکباد پیش کی اور ان کے ساتھ مٹھائی کا تبادلہ کیا۔پاکستانی فوج کے کمانڈنگ آفیسر نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے تعلقات میں خیرسگالی اور دوستی کی علامت قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف عید کی خوشیوں کو بڑھاتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور بھائی چارے کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔

    افغان فورسز کے نمائندے نے پاکستانی فوج کی جانب سے پیش کی گئی مٹھائی کو خوش دلی سے قبول کیا اور اس خیرسگالی کے اقدام کا شکریہ ادا کیا۔ افغان نمائندے نے کہا کہ یہ ایک خوبصورت موقع ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان امن و دوستی کی فضا قائم ہوتی ہے۔پاک افغان سرحد پر اس نوعیت کی ملاقاتیں اور تبادلے دونوں ممالک کے عوام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہیں، اور اس سے علاقے میں امن و استحکام کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں مزید مضبوط ہوں گی۔

    اس خیرسگالی اقدام نے عید الفطر کے موقع پر دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا باب کھولا اور اس عمل کو دونوں طرف سے نہایت سراہا گیا۔

  • صدر مملکت سے وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات

    صدر مملکت سے وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات ہوئی ہے، جس میں سندھ کی سیاسی صورت حال اور اہم منصوبوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق، اس ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے صدر آصف زرداری کو صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال سے آگاہ کیا، جس میں عوامی تحفظات اور پیپلز پارٹی کے اندرونی امور پر بات چیت کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں ایک اہم معاملہ دریائے سندھ سے 6 نہریں نکالنے کے منصوبے پر مشاورت کی گئی۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اس منصوبے کے بارے میں صدر زرداری کو تفصیل سے بتایا اور اس کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔اس دوران صدر آصف زرداری کو پیپلز پارٹی کے احتجاج اور مظاہروں کی رپورٹس بھی پیش کی گئیں، جو نہروں کے منصوبے کے خلاف اٹھائے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں نے اس منصوبے کو سندھ کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے مختلف شہروں میں احتجاج کیا ہے۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سندھ کی ترقی اور عوامی مفاد کے لئے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی زور دیا۔ اس منصوبے کے بارے میں پارٹی کی اندرونی مشاورت اور عوامی رائے کا لحاظ رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کی ضرورت پر بات کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات سیاسی طور پر اہمیت کی حامل تھی اور اس سے سندھ میں جاری سیاسی اور انتظامی معاملات میں مزید پیش رفت ہو سکتی ہے۔

  • افغان مہاجرین کو واپسی کی مہلت ختم ہو گئی

    افغان مہاجرین کو واپسی کی مہلت ختم ہو گئی

    پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ،جس کے بعد ان کو افغانستان بھیجے جانے کاسلسلہ شروع ہوجائیگا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے لاہور میں ہونیوالے افغان مہاجرین جرگے میں افغان خاندانوں کے سربراہان اور بزرگ شریک ہوئے۔ افغان مہاجرین امن کمیٹی کے نائب صدر حاجی محمد نے کہا انہوں نے زندگی کے 45 سال پاکستان میں گزارے ہیں۔ پاکستان میں جو پیار،عزت ،احترام ملا وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ افغان مہاجرین کی واپسی مرحلہ وار کی جائے۔جن لوگوں کے پاس پروف آف رجسٹریشن کارڈ ہیں انہیں اپنا کاروبار سمیٹنے کے لئے وقت دیاجائے۔ ہمارے ساتھ خواتین ،بچے ،بیمار اور بزرگ ہیں۔ حکومت مختلف تحصیلوں اور اضلاع کے لئے ان کی واپسی کے دن مقرر کرے۔

    افغان مہاجرین امن کمیٹی کے فوکل پرسن محمد خان نے کہا ہماری خواہش ہے کہ جس طرح پاکستان نے 45 سال تک ہماری مہمان نوازی کی ہے۔ اب واپسی کا عمل بھی باعزت ہونا چاہیے۔یہاں ہمارے دوست ہیں، شادیاں ہوئی ہیں، بچوں کی رجسٹریشن پاکستان میں ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ اچانک چھوڑ کرجانا مشکل اور تکلیف دہ ہے لیکن ہم حکومت پاکستان کے فیصلے کا احترام کریں گے۔

    یاد رہے کہ افغان امن کمیٹی جرگے نے واضع کیا کہ جو پاکستان کے امن اورسلامتی کے دشمن ہیں وہ ہمارے بھی دشمن ہیں۔ سرکاری ریڈیو کے مطابق حکومت نے یقین دلایا ہے کہ واپسی کے عمل میں کسی سے ناروا سلوک نہیں کیا جائے گا اور واپس جانے والوں کیلئے خوراک اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے انتظامات کئے گئے ہیں۔

    پاکستان کو دہشتگردی جیسے سنگین چیلنج کا سامنا ہے، بلاول بھٹو

    کرپشن اسکینڈل،عمران خان کے بعد فرانسیسی سیاستدان کو بھی "سزا”نااہل قرار

    عید کےروز عمران خان سےملاقات کیلئےکوئی جیل نہ پہنچا

    کراچی بھر میں عیدالفطر مذہبی جوش و جذبے سے منائی گئی

    گورنر سندھ سے مختلف ممالک کے قونصل جنرلزکی ملاقات ،عید کی مبارکباد