Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغان  سرحد پر  دراندازی کی کوشش ناکام، 8 خوارج ہلاک

    افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 8 خوارج ہلاک

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا تے ہوئے 8 خوارج ہلاک کردیے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کے ایک گروپ کی پاکستان-افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے ضلع حسن خیل کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا ۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 8 خوارج ہلاک جبکہ 4 خوارج زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان مستقل طور پر عبوری افغان حکومت سے کہتا رہا ہے کہ وہ سرحد کے اطراف میں موثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے۔ توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور خوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے انکار کرے گی۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پرعزم ہونے کے باعث علاقے میں پائے جانے والے کسی اور خارجی کو ختم کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیر اعظم کی سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پذیرائی:
    وزیراعظم شہباز شریف نے حسن خیل کے علاقے میں پاکستان-افغانستان سرحد سے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پزیرائی کی۔انہوں نے 8 خارجیوں کو جہنم رسید کرنے اور 4 کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی.وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں نے فتنہ الخوارج کے پاکستان میں شر انگیزی کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا.افواج پاکستان کے افسران و جوان ملکی سرحدوں سے کسی بھی قسم کی شر انگیزی کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے دن رات مصروف عمل ہیں.

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین:
    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ہمیشہ کی طرح آج بھی بر وقت کارروائی کرکے خوارجی دہشتگردوں کی شمالی وزیرستان میں دراندازی کو ناکام بنایا۔پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز نے دراندازی کرنے والے 8 خوارجی دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا۔خوارجی دہشتگردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے پر سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ قوم دراندازی کرنے والے خوارجی دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔قوم کو سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت اور جرات پر فخر ہے۔قوم سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا "غزہ لہو لہو” مہم کے تحت ہفتہ یکجہتی فلسطین کا اعلان

    امریکا سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کیخلاف مظاہرے

    سی آئی ڈی کے مرکزی کردار اے سی پی پردیومن اب اس دنیا میں نہیں رہے

  • پاکستان  مرکزی مسلم لیگ کا "غزہ لہو لہو” مہم کے تحت ہفتہ یکجہتی فلسطین کا اعلان

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا "غزہ لہو لہو” مہم کے تحت ہفتہ یکجہتی فلسطین کا اعلان

    لاہور،اسلام آباد،کراچی، سکھر،پشاور ،کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں آج احتجاج ہو گا
    ہماری غیرت، انسانیت ہم سے تقاضا کر رہی ہے کہ ہم ظالم کے خلاف متحد ہوں۔ خالد مسعود سندھو

    اہل غزہ پر اسرائیل کے بڑھتے مظالم، فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے "غزہ لہو لہو” مہم کے تحت ہفتہ یکجہتی فلسطین کا اعلان کر دیا، غزہ لہو لہو مہم کے تحت ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا، اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج سے مرکزی مسلم لیگ کے قائدین خطاب کریں گے،

    اس امر کا فیصلہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں‌سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، نائب صدر حافظ طلحہ سعید ، حافظ عبدالرؤف، جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک، ترجمان تابش قیوم نے شرکت کی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فسلطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے آج لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ ،کراچی، سکھر، قصور، ملتان، فیصل آباد،بہاولنگر، شیخوپورہ، گوجرانوالہ میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے، منگل کو بھی کئی شہروں میں احتجاج کیا جائے،بدھ اور جمعرات کو بھی شہروں میں کانفرنسز، سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا، جمعہ کو نماز جمعہ کے بعد ملک گیر احتجاج کیا جائے گا.

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی درندہ صفت فوج کی جانب سے غزہ پر حالیہ شدید بمباری نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ہسپتالوں، اسکولوں، پناہ گاہوں اور حتیٰ کہ مسجدوں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ہزاروں معصوم بچے، عورتیں اور بزرگ شہید ہو چکے ہیں۔غزہ کے لوگ پانی، خوراک، بجلی اور ادویات سے محروم ہیں، اور دنیا تماشائی بنی بیٹھی ہے۔یہ انسانیت کا نہیں، حیوانیت کا منظر نامہ ہے۔اب وقت ہے کہ پاکستان کی گلی گلی، کوچہ کوچہ، شہر شہر ایک آواز بلند ہو،مرکزی مسلم لیگ فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، ہمارا اہل غزہ سے کلمہ کا رشتہ ہے،غزہ لہو لہو مہم کے تحت ملک گیر احتجاج میں قوم شریک ہو کر فلسطنیوں کے ساتھ یکجہتی کا ثبوت دے .

  • مائیں بچوں کا خیال رکھیں،ہلاک خارجی کی والدہ کا پیغام

    مائیں بچوں کا خیال رکھیں،ہلاک خارجی کی والدہ کا پیغام

    ہلاک خارجی شہریار کی والدہ کی طرف سے عوام کیلئے خصوصی پیغام منظرعام پرآگیا

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوراج کی دہشتگردی سے خیبرپختونخوا میں متاثرین کی ایک بڑی تعداد انتہا پسندی کو مسترد کر رہی ہے۔اس حوالے سے ہلاک خارجی شہریار کی والدہ کا پیغام سامنے آیا ہے،خارجی شہریار کی والدہ کے مطابق ’’میرا بیٹا شہریار مدرسے میں پڑھتا تھا،اسے فتنہ الخوراج ہم سے دور لے گئے‘‘ وہ حکومت کیخلاف لڑ رہا تھا، میں اسے دو تین بار ڈھونڈنے گئی لیکن خارجیوں نےمیرے بیٹے کو مجھے واپس نہیں کیا۔”فتنہ الخوارج کے ظالموں نے میرے بیٹے کو مجھ سے لے جا کر حکومت کے خلاف کر دیا”، "میرا بیٹا ظالم خوارج کے ہاتھوں مارا گیا،وہ میرے باقی بیٹوں کو بھی رابطہ کرکے ہراساں کر رہے ہیں”۔”ہم خوراج سے بہت تنگ ہیں، اور اسی وجہ سے یہ گاؤں چھوڑ رہے ہیں”۔”میری تمام ماؤں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں”۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ”اس سے قبل روح اللہ نامی بدنام زمانہ دہشتگرد کے والد نے بھی اپنے بیٹے سے لا تعلقی کا اعلان کیا تھا”۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ”فتنہ الخوراج کے خلاف خیبرپختونخوا کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس کی واضح مثالیں حالیہ دنوں میں سامنے آئی ہیں”۔ "فتنہ الخوراج کم عمر پاکستانی قبائلی نوجوانوں کو دہشتگردی کی آگ میں ایندھن کے طور پر دہشتگردی میں استعمال کر رہے ہیں” ۔” ہلاک دہشتگرد شہریار کی والدہ کا دہشتگردوں کیخلاف بیان معمولی نوعیت کا واقعہ نہیں”۔”فتنتہ الخوراج کی صفوں میں شامل دہشتگردوں کے والدین کی جانب سے اظہار لاتعلقی اور دیگر بیانات کا سلسلہ عوام کے دہشتگردی سے متنفر ہونے کا واضح ثبوت ہے”،دفاعی ماہرین کے مطابق "مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے کھلے دشمن ہیں”۔ "پاکستانی عوام کو چاہئے کہ فتنہ الخوارج کے گھناؤنے چہرے کو پہچانیں اور اپنے بچوں کوخوارج کے پروپیگنڈے کا شکار ہونے سے بچائیں”۔”یہ تبدیلی پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئے باب کی نشاندہی کرتی ہے”۔”یہ بات ثابت کرتی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے”۔”فتنتہ الخوارج کا مذہب سے دور دور تک تعلق نہیں بلکہ یہ مکروہ عناصر پاکستان دشمن قوتوں کے ایما پر پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں”۔

    فتنہ الخوراج کے بنوں میں چوکی پرحملے، تیراہ میں سکیورٹی اہلکار کے گھرکا محاصرہ ،کرک اور لکی مروت میں دہشتگردوں کیخلاف عوام کا اتحاد دہشتگردوں کی بڑی ناکامی ہے.

  • پاکستان 4 سال کیلیے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے منشیات کا رکن منتخب

    پاکستان 4 سال کیلیے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے منشیات کا رکن منتخب

    پاکستان کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے انتخابات میں 2026 سے 2029 تک چار سالہ مدت کے لیے کمیشن برائے منشیات کا رکن منتخب کر لیا گیا ہے۔

    اس انتخاب کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر منشیات کی روک تھام اور انسداد منشیات کے عالمی کوششوں میں مزید فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔پاکستان کے اقوام متحدہ میں مشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان یو این اقتصادی و سماجی کونسل کی جانب سے اس اعتماد پر شکریہ ادا کرتا ہے اور اس انتخاب کو عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت اور اعتبار کا مظہر سمجھتا ہے۔اعلامیے کے مطابق، کمیشن برائے منشیات کا رکن منتخب ہونا پاکستان کے عالمی سطح پر منشیات کے خلاف جنگ میں مؤثر کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ منشیات کی اسمگلنگ، پیداوار اور استعمال کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور عالمی سطح پر انسداد منشیات کی کوششوں میں اپنی بھرپور شراکت داری کو یقینی بنایا ہے۔

    پاکستان نے اقوام متحدہ میں عالمی منشیات پالیسی سے متعلق مختلف مباحثوں میں ہمیشہ فعال اور تعمیری کردار ادا کیا ہے اور عالمی فورمز پر منشیات کی روک تھام کے لیے مسلسل آواز اٹھائی ہے۔پاکستان کا انتخاب نہ صرف عالمی سطح پر اس کی مؤثر پالیسیوں کی تصدیق کرتا ہے بلکہ یہ پاکستان کے عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ منشیات کے خلاف عالمی جنگ میں اپنا بھرپور حصہ ڈالے گا۔پاکستان کے اس انتخاب سے عالمی سطح پر انسداد منشیات کے عزم کو مزید تقویت ملے گی اور پاکستان کی پالیسیوں کو مزید تسلیم کیا جائے گا جو عالمی منشیات کے بحران سے نمٹنے کے لیے اہم ہیں۔

  • پاکستان کا سلامتی کونسل میں دہشت گردوں کے زیر قبضہ ہتھیاروں کیخلاف اقدام کا مطالبہ

    پاکستان کا سلامتی کونسل میں دہشت گردوں کے زیر قبضہ ہتھیاروں کیخلاف اقدام کا مطالبہ

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے "آریا فارمولا” اجلاس میں دہشت گرد گروپوں کے زیر قبضہ غیر قانونی ہتھیاروں کے خلاف عالمی سطح پر فوری اور مؤثر اقدام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے خاص طور پر ان گروپوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے جو افغانستان میں موجود اربوں ڈالر مالیت کے غیر قانونی ہتھیاروں کو حاصل کر کے انہیں دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

    پاکستان کے قونصلر سید عاطف رضا نے اجلاس میں کہا کہ دہشت گرد گروہ جیسے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، اور مجید بریگیڈ، جدید اور مہلک غیر قانونی ہتھیاروں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں، جو عام شہریوں کے لیے بھی شدید خطرہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں امریکی اور دیگر بین الاقوامی افواج کے انخلا کے دوران وہاں چھوڑے گئے ہتھیاروں کا ذخیرہ دہشت گرد گروپوں کے ہاتھوں میں جا چکا ہے، جس کا استعمال پاکستان کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ قونصلر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں موجود غیر قانونی ہتھیاروں کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    سید عاطف رضا نے مزید کہا کہ دہشت گرد گروپوں کو بیرونی امداد اور مالی معاونت بھی حاصل ہے، جو ان کے جنگی اقدامات اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کریں تاکہ ان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔قونصلر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گرد گروپوں کو غیر قانونی ہتھیاروں تک رسائی کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور بلیک مارکیٹ کو بند کرنے کے لیے عالمی سطح پر ایک مربوط حکمت عملی وضع کی جائے۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد گروپوں کے زیر قبضہ غیر قانونی ہتھیاروں کے خلاف عالمی سطح پر فوری اور مؤثر کارروائی کرے تاکہ عالمی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ،2 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ،2 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے علاقے کیچ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 4 اپریل کو سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ہلاک ہونے والے دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کے خلاف علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں فعال طور پر ملوث رہے۔

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے دہشت گرد کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز، قوم کے شانہ بشانہ، بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    کراچی شہر سے محبت کرنے والوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، آفاق احمد

    مشاورت کے بغیر بنے بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے، بلاول بھٹو

    بجلی کی قیمت مزید 6 روپے کم کروا لیں گے،فاروق ستار

    میکسیکو کے سیوریج سسٹم نے امریکہ کو پریشان کر دیا

    رضوان کی کپتانی اور ٹیم سلیکشن پر سوالات اٹھ گئے

  • مشاورت کے بغیر  بنے بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے، بلاول بھٹو

    مشاورت کے بغیر بنے بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے، بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشاورت کے بغیر بنائے گئے کسی بجٹ کو ووٹ نہیں دیں گے،طے ہوا تھا کہ ترقیاتی اسکیمیں ن لیگ اور پیپلزپارٹی مل کے طے کریں گی۔

    باغی ٹی وی کےمطابق چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو خطاب سے پہلے آبدیدہ ہوگئے۔انہوں نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سب شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ہم سب قائد ذوالفقار علی بھٹو عوام کے علم بردار ہیں ۔ سب کو مبارکباد دیتا ہوں ہم نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو وہ پہلے پاکستانی ہیں جن کو نشان پاکستان عطا کیا گیا۔ صدر آصف زرداری نے نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف دلایا ۔تاریخ کی عدالت نےپہلے ہی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو بے گناہ قرار دے دیا تھا۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ تاریخ میں بھٹو شہید کا نام سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا، ذوالفقار بھٹو نے پارٹی کی قیادت بےنظیر کے ہاتھ دینے کا درست فیصلہ کیا، صدر زرداری نے بھی پیپلزپارٹی کی قیادت کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی، ہم آج فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ کل بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے، اس جدوجہد میں قائد عوام کے بعد محترمہ بےنظیر بھٹو کا سب سے بڑا کردار ہے، شہید بےنظیر نے اپنے والد کا مشن جاری رکھا، ان کا نام زندہ رکھا۔

    انہوں نے کہا کہ بےنظیربھٹو دو آمروں سے ٹکرائیں، شہید بےنظٰیر نےجمہوریت بحال کی، عوام اور غریبوں کی آواز تھیں، صدر زرداری نے 18 ویں ترمیم کی صورت قائدعوام کا آئین بحال کیا، پاکستان کھپے کا نعرہ دیا، این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو مالی وسائل دیے۔ 18ویں ترمیم کی وجہ سے سندھ صحت کے شعبے میں باقی صوبوں سے آگے ہے،18ویں ترمیم کی وجہ سے ہم سندھ میں مفت علاج کے ہسپتالوں کا جال بچھا سکے، پاکستان کے عوام کو مفت علاج ملتا ہے تو پیپلزپارٹی کی وجہ سے ۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کو یاد ہے وہ شخص جو 50 لاکھ گھروں کا خواب دکھاتا تھا،پیپلزہاؤسنگ تاریخی منصوبہ ہے، قائدعوام نے لوگوں کو زمین کا مالک بنایا میں 20 لاکھ خاندانوں کو گھر بھی دے رہا ہوں ،زمین کا مالک بھی بنا رہاہوں۔پیپلزہاؤسنگ گھر بنانے کا دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔روٹی کپڑا مکان کا وعدہ پورا کرنا ہم نے قائد عوام اور شہید بےنظٰیر سے سیکھا ہے، ہم نے سیاست کا مطلب خدمت سمجھا ہے نہ کہ نفرت اور تقسیم ۔میں نے اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے بحث کرائی، ہم نے پاکستان کو فیٹف کے شکنجے سے نکلوایا، ہم نے جی ایس پی پلس کے سٹیٹس کو بچایا۔

    چیئرمین پی پی نے کہا کہ سیلاب کے دوران میں آپ کا وزیر خارجہ تھا، میں نے دنیا کو قائل کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمارا نقصان ہو رہا ہے، میں نے دنیا کو بتایا کہ آپ کی وجہ سے میرے لوگ ڈوب رہے ہیں،چین سے امریکا، یورپ سے عرب ممالک تک کوئی ایسا ملک نہیں جو سندھ اور بلوچستان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے، ہم نے وفاق کو منایا کہ کوئی ایک صوبہ اس قدرتی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکے گا،موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں، وزیر خارجہ کی حیثیت سے دنیا کو منوایا کہ ہمارے سندھو کو بچانا ہے، باقی سب سو رہے تھے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم ، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں، پانی پر بھارت کے ڈاکے اور یکطرفہ فیصلوں کا مقابلہ کرکے آیا ہوں اور کرتا رہوں گا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ملک مسائل میں گھرا ہے، دہشت گردی عروج پر ہے، اندرونی اور بیرونی سازشیں ہو رہی ہیں، نفرت اور تقسیم کی سیاست آنے والی نسل کو نقصان پہنچا رہی ہے، کیا ہم نے بھی یہی نفرت اور تقسیم کی سیاست کرنی ہے یا امید اور یکجہتی کی سیاست کرنی ہے،بے نظیر نے ہمیں مثبت سیاست سکھائی ہے ، ہم مثبت سیاست کرتے رہیں گے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ہے، پیپلزپارٹی دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مقابلہ کرتے ہوئے سب سے بڑی قربانیاں دی ہیں، بین الاقوامی سازشوں اور اپنی غلطیوں کی وجہ سے دہشت گردی کی دوسری لہر عروج پر ہے، ہماری اندرونی کمزوریوں کو درست کرنا پیپلزپارٹی کے ایجنڈے میں ہے، ہم نے پسماندہ علاقوں کے احساس محرومی کو دور کرنا ہے، جمہوریت، انسانی حقوق کو فعال کر کے نظریاتی جنگ جیت سکتے ہیں، خون کی ہولی کھیلنے والے درندوں کا مقابلہ کرنا ہے، بین الاقوامی سازش اور سہولت کاروں کو کامیاب کرنے کے لیے لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے خطاب میں کہا کہ دہشت گرد کبھی مذہب کے پیچھے چھپتے ہیں، کبھی قوم پرستی کے پیچھے، اصل میں دہشت گرد کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ کوئی قوم، یہ پیشہ ور قاتل اور کھلونے ہوتے ہیں، اپنا مذہب اور قوم کو عالمی طاقتوں کو بیچتے ہیں۔

    میکسیکو کے سیوریج سسٹم نے امریکہ کو پریشان کر دیا

    رضوان کی کپتانی اور ٹیم سلیکشن پر سوالات اٹھ گئے

    کراچی چیمبر کا بجلی نرخوں میں کمی کےاعلان کا خیرمقدم

    بجلی بلوں سے ٹی وی فیس سمیت غیر ضروری سرچارجز ختم کا پلان آ گیا

    پنجاب، قیدیوں کی سزا ؤں کا ریکارڈ آن لائن کر دیا گیا

  • پاکستان میں دہشتگردوں، سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ،آرمی چیف

    پاکستان میں دہشتگردوں، سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز(ملٹری) کی زیر صدارت 268ویں کور کمانڈر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا.

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فورم کی شہداء کے ایصال و ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی،شرکاء نے مادرِ وطن کے امن و استحکام کے لئے شہدائے افواج ِ پاکستان ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا،فورم کو خطے کی موجودہ صورتحال، قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں پاکستان کی حکمتِ عملی کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی،کانفرنس میں علاقائی اور داخلی سلامتی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا،فورم نے ہرقیمت پر بلاتفریق دہشت گردی کو ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا

    کسی کو بھی بلوچستان میں امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،کور کمانڈرز کانفرنس
    فور م نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ؛” پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والے ملک دشمن عناصر ، سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی”کسی کو بھی بلوچستان میں امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،بلوچستان کے استحکام اور خوشحالی میں خلل ڈالنے والے مذموم سیاسی مفادات اور سماجی عناصر کو بلوچستان کے عوام کی غیر متزلزل حمایت سے فیصلہ کن طور پر ناکام بنایا جائے گا، بلوچستان میں تمام ملکی اور غیر ملکی عناصر کا اصل چہرہ، گٹھ جوڑ اور انتشار پھیلانے اور پروان چڑھانے کی کوششیں پوری طرح سے بے نقاب ہو چکی ہیں، ایسے عناصر اور ایسی کوششیں کرنے والوں کوکسی بھی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی،

    فورم نے نیشنل ایکشن پلان کے دائرہ کار کے تحت” عزمِ استحکام ” کی حکمتِ عملی کے تیز اور مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا،فورم نے دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کے تعاون سے مشترکہ نقطہ ٔ نظر کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا.شرکاء کانفرنس نے اعادہ کیا کہ ؛”ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون پر پوری استقامت سے عمل درآمد کریں گے” قانون کی عملداری میں کسی قسم کی نرمی اور کوتاہی نہیں برتی جائے گی،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم شدہ ضلعی رابطہ کمیٹیوں کے آغاز کو بھی سراہا،آرمی چیف نے بغیر کسی رکاوٹ کے نیشنل ایکشن پلان کے تیز نفاذ کی ضرورت پر زور دیا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں حکومتی ہدایات کے مطابق تمام ادارے پائیدار ہم آہنگی ، مربوط کوششوں اور تعاون کو یقینی بنائیں،”پاک فوج حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں کی مالی اعانت کےخلاف سخت قانونی اقدامات میں مکمل تعاون فراہم کرے گی، غیر قانونی سر گرمیاں دہشت گردی کی مالی معاونت سے اندرونی طور پر جڑی ہوئی ہیں، پاکستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے

    فورم نے بھارت کی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا،فورم نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بھی خدشات ظاہر کئے،فورم نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے منصفانہ حقوق کے لیے پاکستان کی پُر زور اور غیر متزلزل حمایت پر زور دیا،فورم نے عالمی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لیے مستقل سفارتی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا،فورم نے فلسطین کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی شدید مذمت کی، فورم نے فلسطین کے عوام کی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت فراہم کرنے کا اعادہ بھی کیا،

    کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف نے فیلڈ کمانڈرز کو آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی، آرمی چیف نے بہترین جنگی تیاریوں کو برقرار رکھنے کے لیے سخت تربیت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا
    اکستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے

  • بی ایل اے،بی وائی سی، اختر مینگل ، دہشت گردی کا نیا گٹھ جوڑ بےنقاب

    بی ایل اے،بی وائی سی، اختر مینگل ، دہشت گردی کا نیا گٹھ جوڑ بےنقاب

    بی وائی سی کی جانب سے اختر مینگل کے دھرنے کی حمایت پر نئے سوالات اٹھ رہے ہیں، جو پاکستان کے قومی اور صوبائی سطح پر سکیورٹی اور سیاسی معاملات میں اہمیت رکھتے ہیں۔

    اختر مینگل، جو بلوچستان کے ایک معروف قوم پرست سیاست دان ہیں، نے ہمیشہ اپنے موقف میں بلوچ قوم کے حقوق کی بات کی ہے۔ لیکن ان کے سیاسی تعلقات اور ان کے بھائی جاوید مینگل کی دہشت گرد تنظیم "لشکر بلوچستان” کے ساتھ روابط نے ان کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔اختر مینگل کا بھائی جاوید مینگل، جو کہ دہشت گرد گروپ "لشکر بلوچستان” کا لیڈر ہے،مبینہ طور پر بلوچستان میں خونریزی اور دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ "لشکر بلوچستان” پر الزام ہے کہ وہ علاقے میں قتل و غارت، بدمعاشی، اور اغوا برائے تاوان میں ملوث ہے، اور اس کے ذریعے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

    حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں اختر مینگل نے "بلوچ لبریشن آرمی” (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کے لیے دعا کی۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد، یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اختر مینگل کی بی ایل اے کے ساتھ سیاسی اور اخلاقی حمایت کا تعلق ہے۔بی وائی سی نے اختر مینگل کے دھرنے کی کھل کر حمایت کی ہے، بی وائی سی کی جانب سے اس حمایت نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ یہ تنظیم بھی ان دہشت گرد گروپوں کے سہولت کاروں میں شامل ہو سکتی ہے، جنہیں اکثر بلوچستان میں امن و سکون کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

    حکومت پاکستان اور بلوچستان کی سیاسی قیادت کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ ان گروپوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بلوچستان میں امن قائم رکھنے کی کوشش کریں۔

    بی وائی سی کی جانب سے اختر مینگل کے احتجاج کی حمایت کا اعلان ایک سنگین پیش رفت ہے جس سے یہ بات عیاں ہو گئی ہے کہ بی وائی سی کا بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اختر مینگل نے اپنے حالیہ بیانات میں بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور اب وہ کھل کر بی ایل اے کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں بی ایل اے کے حق میں کسی بھی قسم کی پردہ پوشی نہیں کی گئی۔یہ سب ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ بی وائی سی، اختر مینگل اور بی ایل اے کا ایک مشترکہ ایجنڈا ہے جس کا مقصد بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنا اور پورے ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔ ان گروپوں کا مقصد بلوچستان کے عوام کو دہشت گردی اور تشویش کے ذریعہ ہراساں کرنا ہے تاکہ امن و سکون کو ختم کیا جا سکے۔

    اختر مینگل کے اس حمایت کے بعد بی وائی سی اور بی ایل اے کے مابین تعلقات مزید واضح ہو گئے ہیں۔ ان دونوں کے بیانات اور اقدامات ایک ہی سمت میں ہیں، جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کا مقصد صرف بلوچستان نہیں بلکہ پورے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے کیونکہ اس سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے امن و سکون کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ایسے میں حکومتی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں جو پاکستان کی سالمیت اور امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں اختر مینگل نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں پاکستان اور اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا، اختر مینگل کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل سیاسی ہیں، سیکورٹی سے متعلق نہیں اور مبینہ طور پر فوجی مداخلتوں نے بحران کو مزید خراب کیا۔اختر مینگل اگر درست کہہ رہے ہیں مسائل سیاسی ہیں تو بلوچ پہاڑوں پر کیا کر رہے ہیں، آئے روز بسیں روک کر شہریوں کو کیوں شہید کیا جاتا ہے، کیا اختر مینگل اس بات کا جواب دیں گے.

    اختر مینگل نے پروپیگنڈہ کیا کہ بلوچستان ریاست کے کنٹرول سے باہر نکل رہا ہے، مبینہ طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، بلوچستان کے نوجوان نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی سکالر شپ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں

    اختر مینگل نے جبری گمشدگیوں پر تنقید؛ کی اور مزید پروپیگنڈہ کیا کہ ہزاروں خاندانوں کو مبینہ طور پر سالوں سے نقصان اٹھانا پڑا۔حالانکہ حقیقت متعدد بار سامنے آ چکی ہے کہ جن کو مسنگ پرسن کہا جاتا ہے وہ دہشت گردی کی واقعات میں ملوث ہوتے ہیں اور جب کسی واقعہ کے بعد لاشوں کی شناخت ہوتی ہے تو اس میں مسنگ پرسن نکل آتا ہے،مسنگ پرسن دہشت گردوں کا روپ دھار چکے ہیں،

  • آئی ایم ایف کا وفد "مشن گورننس”پھر پاکستان پہنچ گیا

    آئی ایم ایف کا وفد "مشن گورننس”پھر پاکستان پہنچ گیا

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا ایک اہم مشن پاکستان پہنچ چکا ہے جس کا مقصد گورننس اور کرپشن سے متعلق تفصیلی جائزہ لینا ہے۔

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کا وفد 5 اپریل 2025 سے پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کرے گا تاکہ موجودہ معاشی صورتحال اور مالی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔آئی ایم ایف وفد کا دورہ اصلاحاتی استعداد کار کو بڑھانے اور مالی پالیسیوں کی بہتری کے لیے تکنیکی امداد فراہم کرنے کی غرض سے ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد پاکستان کے مالیاتی حکام کے ساتھ گورننس کی صورتحال، کرپشن کے عوامل اور مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے گفتگو کرے گا۔اس دورے کے دوران آئی ایم ایف وفد سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کی تجاویز کا بھی جائزہ لے گا اور ان تجاویز پر پاکستانی حکام سے فالو اپ مذاکرات کرے گا۔ وزارت خزانہ کے مطابق، اس ملاقات کا مقصد پاکستان کی مالی صورتحال کو مستحکم کرنا اور آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت کے ذریعے اصلاحات کو تیز کرنا ہے۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو اقدامات اور اخراجات پر کنٹرول کے حوالے سے پاکستانی حکام سے مذاکرات کرے گا۔ ان مذاکرات کا مقصد آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینا اور ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے قابل عمل اقدامات پر مشاورت کرنا ہے۔وزارت خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس بجٹ میں معیشت کو مضبوط بنانے، ٹیکس ریونیو بڑھانے اور اخراجات پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔