Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا پر ملک دشمن مہم کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ

    روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا پر ملک دشمن مہم کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی اور صوبائی قیادت کی بڑی بیٹھک میں روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا پر ملک دشمن مہم کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دہشتگردی کے خلاف حکومت کے واضح اور دو ٹوک مؤقف پر گزشتہ روز وزیرِ اعظم ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں عسکری اور سول قیادت، چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی نمائندے شریک ہوئے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جعفر ایکسپریس کے حملہ آوروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے میں کو ئی کسر نہ چھوڑی جائے جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت قومی بیانیے کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا اور دہشتگردوں اور شرپسندوں کے سد باب کے لیے مؤثر اور سرگرم بیانیہ بنانے کی ہدایات دی گئیں،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی بیانیے اور ملک کی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کے مواد کا سدباب کیا جائے گا، ملکی سلامتی اور ہم آہنگی کے لیے تمام صوبوں کا تعاون اور آپسی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا،قومی بیانیے کو نوجوانوں تک پہنچانے کے لیے فلم اور ڈراموں میں قومی موضوعات اپنائے جائیں گے، فلم اور ڈراموں میں شر پسندوں کے بیانیے کا مؤثر مقابلہ ہوگا، اس حوالے سے اتفاق کیا گیا کہ اس میں چاروں صوبے کا تعاون ہوگا،

    اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ قومی بیانیے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا پر بھی مواد نشر کیا جائے گا، دہشتگردی کے منفی معاشرتی اثرات کو اجاگر کیا جائے، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کا سدباب کیا جائے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیپ فیک اور دیگر ذرائع سے بنائی گئی جھوٹی معلومات اور مواد کا مستند معلومات سے بھرپور جواب دیا جائے، قومی نصاب میں دہشتگردی کے حوالے سے آگاہی شامل کی جائے۔

  • پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر 28 ماہ میں فراہم کیے جائیں گے۔آئی ایم ایف

    پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر 28 ماہ میں فراہم کیے جائیں گے۔آئی ایم ایف

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے حالیہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان کو کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 1.3 ارب ڈالر ملیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات چیت کا مقصد پاکستان کے لئے کلائمیٹ فنانسنگ اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت فنڈز کی فراہمی پر تھا۔

    جولی کوزیک نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ کی جانے والی بات چیت کلائمیٹ فنانسنگ کے حوالے سے کامیاب رہی ہے اور 1.3 ارب ڈالر کی یہ رقم پاکستان کو 28 ماہ میں فراہم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کی فراہمی عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی مالی مدد کرے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 37 ماہ کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام ستمبر میں طے ہو چکا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 7 ارب ڈالر اقساط میں فراہم کیے جائیں گے، جو کہ ملک کی مالی حالت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔جولی کوزیک نے مزید بتایا کہ پاکستان کے لئے نئی قسطوں کی فراہمی کے لئے 25 مارچ کو اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت، پاکستان نے ای ایف ایف پروگرام کے پہلے جائزہ اجلاس میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کامیاب مذاکرات کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان جائزہ مذاکرات کی کامیابی کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا، جس سے پاکستان کی معیشت کو مزید استحکام حاصل ہونے کی توقع ہے۔پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے ملنے والی مالی امداد نہ صرف ملک کی مالی مشکلات کو کم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

  • خیبرپی کے میں سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں ،11خارجی ہلاک

    خیبرپی کے میں سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں ،11خارجی ہلاک

    خیبر پختونخوا میں چار الگ آپریشنز میں گیارہ خوارج ہلاک ہوگئے ، سکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے میر علی میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے مقام پر مؤثر کارروائی کی ، کارروائی کے نتیجے میں پانچ خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔ اسی علاقے میں کی گئی دوسری کارروائی میں، تین مزید خوارج کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کیا. سکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں کیے گئے چوتھے آپریشن میں ایک خارجی کو ہلاک کر دیا گیا۔ شمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ میں ایک اور کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے دو خوارج کو ہلاک کیا۔

    ہلاک ہونے والے خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، جو دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے خارجی کو ختم کرنے کے لیے سینیٹائزیشن کی کارروائیاں جا ری ہے، سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیر اعظم کا سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

    دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نےضلع شمالی وزیرستان کے علاقوں میر علی اور میران شاہ اور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم کا ان آپریشنز میں 11 خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ میں عید الفطر کی تعطیلات کا اعلان

    بلوچستان میں ریلوے سروسز کب بحال ہو گی،ریلوے وزیر نے اعلان کر دیا

  • آئی ایم ایف پروگراموں سے معیشت میں استحکام آیا ،وزیراعظم

    آئی ایم ایف پروگراموں سے معیشت میں استحکام آیا ،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیرِاعظم پاکستان، شہباز شریف نے ڈیجیٹل یوتھ ہب کا افتتاح کر دیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور آئی ٹی ٹریننگ کے ذریعے اپنے مستقبل کو روشن بنانے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ افتتاحی تقریب کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف نے یوتھ پروگرام سے مستفید ہونے والے نوجوانوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔

    وزیرِاعظم نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ قرضوں کی بنیاد پر قومیں ترقی نہیں کرتیں، اور دعا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا موجودہ پروگرام پاکستان کا آخری پروگرام ہو۔ پاکستان کے قرضے 77 سالوں میں بڑھے ہیں، اور وہ ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کے لیے آخری حد تک کوشش کریں گے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ہم نے اس قرضے کی زندگی کو وقار کی زندگی میں بدلنا ہے اور اس سفر میں پاکستان کے نوجوانوں کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ آج کا دن خوشی کا دن ہے اور نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت دی جائے تو وہ ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رانا مشہود کو پروڈکٹیو ایمپلائمنٹ کا ٹاسک دیا گیا ہے اور بطور وزیراعلیٰ پنجاب میں انہوں نے صحت، تعلیم اور نوجوانوں کے لئے اہم اقدامات کیے۔ وزیرِاعظم نے یہ بھی بتایا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب، انہوں نے 4 لاکھ لیپ ٹاپ ہونہار طلبہ میں تقسیم کیے تھے تاکہ وہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھ سکیں۔

    شہباز شریف نے نوجوانوں کو ہنر سے نوازنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہنرمند نوجوانوں کی بدولت پاکستان کا مستقبل روشن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگراموں سے معیشت میں استحکام آیا ہے اور پاکستان کی معیشت مستحکم ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ 3 ہفتوں میں 34 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کیے، جس سے ملک کی معیشت میں بہتری آئی ہے۔وزیرِاعظم نے یہ بھی ذکر کیا کہ بینکوں نے بہت زیادہ منافع کمایا تھا، جس پر ٹیکس لگایا گیا اور اس ٹیکس پر کئی بینک عدالتوں میں چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں کھربوں روپے کے مقدمات زیرِالتواء ہیں، اور اس معاملے پر اچھے طریقے سے غور کیا گیا۔

    اس سے قبل، رانا مشہود نے وزیرِاعظم کے ہمراہ ڈیجیٹل یوتھ ہب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ نوجوانوں کے لیے جدید مواقع فراہم کرے گا اور نئے دور کی بنیاد ڈالے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب نوجوانوں کے مستقبل کو نئی شکل دے گا، جس سے وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی طاقت حاصل کریں گے۔

    وزیرِاعظم کی جانب سے ڈیجیٹل یوتھ ہب کا افتتاح ایک اہم قدم ہے جس کا مقصد پاکستان کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے اور انہیں خود مختار بنانے کے لیے جدید ترین تربیت فراہم کرنا ہے

  • امریکی کمیشن کی بھارتی خفیہ  ایجنسی  را  پر پابندی کی سفارش

    امریکی کمیشن کی بھارتی خفیہ ایجنسی را پر پابندی کی سفارش

    مودی سرکار اور بھارتی را کی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور جاسوسی ایک کھلی حقیقت ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی’’ را‘’ پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کر دی۔ ’’ را‘‘ پر سکھ علیحدگی پسندوں کے قتل میں ملوث ہونا پابندی کی سفارش کی وجہ بنی۔

    امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی ایک اہم رپورٹ جاری کی گئی، جس میں بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ’ را‘ پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی،رپورٹ کے مطابق 2023 میں را سکھ علیحدگی پسندوں کے قتل کی سازشوں میں ملوث رہی ، بھارتی انٹیلی جنس کے سابق افسر وکاش یادیو سکھ علیحدگی پسندوں پر حملہ میں ملوث تھے۔ ’’ را‘‘ پر سکھ علیحدگی پسندوں کے قتل میں ملوث ہونا پابندی کی سفارش کی وجہ بنی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی حکومت را اور بھارتی جاسوس وکاش یادیو کے خلاف خصوصی پابندیاں عائد کرے۔

    امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی جانب سے جاری رپورٹ میں بھارت میں اقلیتیوں کے ساتھ سلوک میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔مذہبی آزادی اوراقلیتوں کی ابتر صورتحال کی بنا پربھارت کو ”خصوصی تشویش کے حامل ملک“ قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بھارت 2024 میں مذہبی اقلیتیوں پر حملوں اور امتیازی سلوک کا مرکز بنا رہا، الیکشن 2024 میں ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی نے مسلمانوں اور اقلیتیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کر کے ووٹ بٹورنے کی کوشش کی،بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، امتیازی شہریت اور تبدیلی مذہب کے خلاف قانون سازی، کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور مسلم املاک کی مسماری اقلیتوں کے حقوق پر حملہ ہیں۔

  • بلوچستان، دہشتگردوں کا رات کے اندھیرے میں بزدلانہ وار،14 جہنم واصل

    بلوچستان، دہشتگردوں کا رات کے اندھیرے میں بزدلانہ وار،14 جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں مختلف مقامات پر دہشت گردوں کو مار بھگایا

    آج دہشت گردوں نے بلوچستان میں مختلف جگہوں پر حملہ کرنے کی ناکام کوشش کی ،سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور موثر کاروائی کر کے دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنا دیا ، تربت میں سیکیورٹی فورسز نے موثر کاروائی میں پانچ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ،دہشت گردوں نے دو خود کش بمباروں کے ذریعے تربت میں مختلف جگہوں پر کوآرڈینیٹڈ حملے کرنے کی کوشش کی گئی جو فوری ناکام بنا دی گئی ،کوسٹل ہائی وے پر بھی تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ،کچلاک کے علاقے میں روڈ بلاک کی کوشش کرنے والے دو دہشت گردوں کو بھی جہنم واصل کر دیا گیا ،دہشت گردوں نے سبی کوئٹہ روڈ پر بسوں کو روکنے کی بھی کوشش کی جو ناکام بنا دی گئی اور دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا،اِسی طرح کوئٹہ تافتان روڈ پر بھی دہشت گردوں نے لک پاس کے قریب معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دی اور دو بھاگتے دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا

    سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے تمام بزدلانہ حملوں کو ناکام بنا کر کلیئرنیس آپریشن شروع کر دیا ہے جو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا

    سیکیورٹی فورسز کے آتے ہی دہشتگرد بھاگ گئے یہ رٹ نہیں، بزدلی ہے،قومی شاہراہ پر مسافروں کی تذلیل دہشتگردوں کی شکست کا ثبوت ہے،کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر بسوں اور گاڑیوں کی لوٹ مار کرنے والے چند مسلح دہشتگرد جیسے ہی سیکیورٹی فورسز کی نفری پہنچی، دم دبا کر بھاگ گئے۔یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ رٹ نہیں بلکہ کھلی بزدلی ہے۔جو عناصر ریاست کے خلاف بیانیہ گھڑ کر خود کو "مزاحمت کار” یا "نوجوانوں کے نمائندے” ظاہر کرتے ہیں، وہ دراصل عوام کو ڈرا دھمکا کر، بندوق کے زور پر عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنا کر چند منٹ کی کاروائی سے خوف پھیلانا چاہتے ہیں۔ مگر ان کی یہ کوششیں اب ناکام اور بے اثر ہو چکی ہیں۔دہشتگرد اب صرف خرچہ پانی اور لوٹ مار تک محدود ہو چکے ہیں۔نہ ان کے پاس کوئی نظریہ بچا ہے، نہ عوامی حمایت، نہ کوئی ساکھ۔یہ اب صرف بدحواس گروہ ہیں، جو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے سڑکوں پر نمودار ہوتے ہیں اور ایف سی یا لیویز کے آتے ہی فرار ہو جاتے ہیں۔

    بلوچستان: بزدل دہشتگرد عورتوں، بچوں اور بے گناہ مسافروں کو نشانہ بنانے والے انسان نہیں درندے ہیں، کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشتگردوں کی بزدلی اور پستی کی کوئی حد نہیں۔چند مسلح افراد نے شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے عام شہریوں، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ماہِ رمضان کے بابرکت مہینے میں عید کی تیاری کے لیے سفر کر رہے تھے۔ان عناصر کا مقصد صرف ایک ہے: عید کے موقع پر ‘خرچہ پانی’ جمع کرنا، لوگوں کو لوٹنا اور خوف و دہشت پھیلانا۔یہ وہی دہشتگرد ہیں جو کسی اخلاق، مذہب، رحم یا تہذیب کو نہیں مانتے۔ماہ رمضان جیسا مقدس مہینہ بھی ان کے ضمیر کو نہیں جھنجھوڑتا۔یہ صرف مسلح بدمعاش ہیں، جنہیں عوام، ریاست یا دین سے کوئی سروکار نہیں صرف مفاد، لوٹ مار اور خون۔ایسے بزدل حملہ آور کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ریاست کو چاہیے کہ ان عناصر کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے، تاکہ عوام میں اعتماد بحال ہو اور دہشتگردی کا نیٹ ورک جڑ سے ختم ہو۔یہ جنگ صرف گولی کی نہیں، بیانیے کی بھی ہے اور اب عوام جان چکے ہیں کہ کون ان کے ساتھ ہے اور کون ان کے خلاف۔

  • یو اے ای کے اعلیٰ سطحی وفد کی آرمی چیف سے ملاقات،والدہ کی وفات پر کی تعزیت

    یو اے ای کے اعلیٰ سطحی وفد کی آرمی چیف سے ملاقات،والدہ کی وفات پر کی تعزیت

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے اعلیٰ سطحی وفد نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اور ان کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر یہ وفد پاکستان آیا۔ اس وفد کی قیادت شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے کی، جبکہ وفد میں یو اے ای کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور بھی شامل تھے۔ملاقات کے دوران، شیخ نہیان نے آرمی چیف سے شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے تعزیت کا پیغام پہنچایا اور ان کی والدہ کے انتقال پر گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ وفد نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی والدہ کے بلند درجات کے لیے دعا بھی کی۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے یو اے ای کے وفد کی تعزیتی ملاقات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور یو اے ای کے صدر اور دیگر عہدیداروں کی جانب سے دکھائے گئے ہمدردی کے جذبات کو سراہا۔

  • مہنگائی کے باوجود آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدہ طے پانا حکومتی سنجیدگی ہے،وزیراعظم

    مہنگائی کے باوجود آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدہ طے پانا حکومتی سنجیدگی ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان، میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کرلیا ہے۔

    وزیراعظم نے یہ اعلان وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جو ان کی زیرصدارت ہوا،کابینہ اجلاس میں ملکی معیشت اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکراتی عمل پر تفصیل سے بات کی گئی۔ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، وزیرِ مملکت برائے خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ کابینہ کے اجلاس کے دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی والدہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ وزیراعظم نے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آرمی چیف کی والدہ کو جنت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائے۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی فوج کے عظیم سپہ سالار کی والدہ کی وفات پر ان کے خاندان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے مزید بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاونین خصوصی کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں ملکی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ حکومتی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی معیشت کو بہتر بنانے اور عوام کی فلاح کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے، اور تمام اہم فیصلوں میں معاونین خصوصی کی رائے کو شامل کیا جائے گا تاکہ ہر سطح پر بہتر کارکردگی یقینی بنائی جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے میں آرمی چیف کا بھی کلیدی کردار ہے، نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں،پوری قوم نے ہدف کے حصول کے لئے دعائیں کیں،عام عوام اور تںخواہ دار طبقے نے مہنگائی کا بوجھ برداشت کیا، دہشتگردی،مہنگائی کے باوجودمعاہدہ طے پانا حکومتی سنجیدگی ہے،معیشت کی بحالی کےلئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ذاتی طور پر بے پناہ کوششیں کیں، اُن کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ میرے لئے فریش اور نیا تجربہ ہے، میں بہت حوصلہ محسوس کر رہا ہوں،

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان یہ معاہدہ اقتصادی استحکام کی جانب اہم قدم ثابت ہوگا۔ اس معاہدے سے پاکستان کو مالی امداد کی فراہمی کی راہ ہموار ہو گی اور ملک کی معیشت کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

  • ایک دو نہیں، دو درجن سابق اراکین اسمبلی نااہل قرار

    ایک دو نہیں، دو درجن سابق اراکین اسمبلی نااہل قرار

    الیکشن کمیشن نے 2023-2022 میں اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کیا جس میں قومی اسمبلی کے 10 سابق ارکان کو نااہل قرار دیا گیا۔فیصلے کے مطابق سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے 7، 7 سابق ارکان کو بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ سابق ارکان اسمبلی اس وقت تک عام، ضمنی یا سینیٹ کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے جب تک وہ اپنے اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہیں کر دیتے۔ مالی سال 2023-2022 کے اثاثوں کی تفصیلات کے فارم بی جمع کرانے تک یہ ارکان نااہل رہیں گے۔سابق ارکان قومی اسمبلی جنہیں نااہل قرار دیا گیا ہے ان میں خرم دستگیر خان، محسن نواز رانجھا، محمد عادل، رانا محمد اسحاق خان، کمال الدین اور عصمت اللہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق ایم این ایز ثمینہ مطلوب، نصیبہ، شمیم آرا پنہور اور روبینہ عرفان بھی نااہل قرار دی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن نے گوشواروں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر سندھ اسمبلی کے سابق ارکان عدیل احمد، حزب اللہ بھگیو، ارسلان تاج حسین، عارف مصطفیٰ جتوئی، عمران علی شاہ، علی غلام اور طاہرہ کو بھی نااہل قرار دیا ہے۔

    بلوچستان اسمبلی کے سابق ارکان میر سکندر علی، میر محمد اکبر، سردار یار رند، عبدالرشید اور عبدالواحد صدیقی کو بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان اسمبلی کے سابق ارکان میر حمال اور بی بی شاہینہ بھی نااہل قرار پائی ہیں۔

  • امریکہ نے پاکستان،چین ،یو اے ای کی کمپنیوں‌پر کی پابندی عائد

    امریکہ نے پاکستان،چین ،یو اے ای کی کمپنیوں‌پر کی پابندی عائد

    امریکہ نے پاکستان، چین اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکہ نے پاکستان سمیت چین، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں میں 19 پاکستانی کمپنیوں، 42 چینی کمپنیوں اور 4 متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں کے علاوہ ایران، فرانس، افریقہ، سینیگال اور برطانیہ کی کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ جن کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، وہ امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد ان کمپنیوں کی سرگرمیوں کو روکنا ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکہ نے پاکستان یا دیگر ممالک کی کمپنیوں پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے پابندیاں عائد کی ہوں، اپریل 2024 میں امریکہ نے چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی پر پاکستان کے میزائل پروگرام کے لیے تعاون کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔

    امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی پاکستانی کمپنیوں میں "الائیڈ بزنس کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ”، "اریسٹن ٹریڈ لنکس”، "بریٹلائٹ انجینئرنگ کمپنی”، "گلوبل ٹریڈرز”، "انڈنٹیک انٹرنیشنل”، "انٹرا لنک انکارپوریٹڈ”، "لنکرز آٹومیش پرائیویٹ لمیٹڈ”، "این اے انٹرپرائزز” شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی کمپنیوں میں "اوٹو مینوفیکچرنگ”، "پوٹھوہار انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ کنسرن”، "پراک ماسٹر”، "پروفیشنل سسٹمز پرائیویٹ لمیٹڈ”، "رچنا سپلائیز پرائیویٹ لمیٹڈ” اور "رسٹیک ٹیکنالوجیز” بھی پابندیوں کا شکار ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل دسمبر 2021 میں بھی امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں 13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے علاوہ 2018 میں امریکہ نے پاکستان کی سات انجینیئرنگ کمپنیوں کو سخت نگرانی کی فہرست میں شامل کیا تھا جن پر الزام تھا کہ وہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں اور جوہری آلات کی تجارت میں ملوث ہو سکتی ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے یہ پابندیاں عالمی سطح پر پاکستانی اور دیگر متعلقہ ممالک کی کمپنیوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہیں، جس سے ان کے کاروباری تعلقات اور عالمی تجارت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔