Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    امریکا میں موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عاطف خان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اور اپنے اثرورسوخ کو پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔

    یہ بیان عاطف خان نے امریکی مصنف مائیکل کوگلمین کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں دیا۔ مائیکل کوگلمین نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ امریکا کی مداخلت کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے خیالات جاننا چاہتے ہیں۔

    عاطف خان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بانی پی ٹی آئی کے خیالات جاننے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ امریکا نے ہمیشہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میں اثرورسوخ استعمال کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا پاکستان میں اپنے اثر و رسوخ کو پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے، تو اس سے پاکستان کے اندر حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

    https://x.com/akhan4pakistan/status/1873113993977757866

    عاطف خان نے اپنی گفتگو میں پاکستانی تارکین وطن کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستانیوں کو اپنے مخالفین کے بجائے اپنے اتحادی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، پاکستانی کمیونٹی کی مدد سے پاکستان میں بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جس سے پاکستان کو اقتصادی، سیاسی، اور سماجی لحاظ سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔عاطف خان کے مطابق، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے یہ مطالبات بہت سادہ ہیں: پاکستانی عوام کا مینڈیٹ واپس کیا جائے اور بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات پاکستان کی جموکری ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے ضروری ہیں۔

    عاطف خان نے امریکہ کی عالمی سطح پر اثر و رسوخ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک طاقتور ملک ہے، اور اس کا اثر و رسوخ پاکستان میں تاریخی طور پر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے مفاد میں اس اثر و رسوخ کو دوبارہ سمت دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان میں پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کے خلاف جاری سیاسی بحران اور ان کی قید کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔عمران خان رہائی چاہتے ہیں، اسکے لئے مذاکراتی کمیٹی بن چکی ہے، حکومتی اور پی ٹی آئی کمیٹی کا ایک اجلاس ہو چکا ہے تا ہم ان مذاکرات کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں ہے، کیونکہ عمران خان کے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور عدالتیں ہی عمران خان کے مقدمات کا فیصلہ کریں گی،

    پی ٹی وی میں جعلی سند پر بھرتی خاتون گرفتار

    ٹھٹھہ: این جی اوز کی کارکردگی پر سوالات، مقامی نوجوانوں کو روزگار نہ ملنے پر تشویش

  • آرمی چیف  کی زیر قیادت سال 2024میں پاکستان  کے لئے بے مثال خدمات

    آرمی چیف کی زیر قیادت سال 2024میں پاکستان کے لئے بے مثال خدمات

    سال 2024 – استحکام ِ پاکستان کی روشن نوید،پاک فوج کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ،نشانِ امتیاز(ملٹری) کی زیر قیادت سال 2024میں پاکستان کے لئے بے مثال خدمات سامنے آئی ہیں،خوارج اور دہشتگردوں کے لئے ریاست پاکستان کی واضح پالیسی کی بدولت رواں سال آپریشنز میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں،

    سال2024 کے دوران مجموعی طور پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف 59,775 مختلف نوعیت کے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے،کامیاب آپریشنز کے دوران 925دہشتگردوں بشمول خوارج کو واصلِ جہنم کیا گیا جبکہ سینکڑوں گرفتار کئے گئے،دہشتگردی کے اس ناسور سے نمٹنے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر169سے زائد آپریشنز افواجِ پاکستان، انٹیلی جنس، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اَنجام دے رہے ہیں،رواں سال ان آپریشنز کے دوران73 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی ہلاکتیں ہوئیں،جہنم واصل ہونے والے دہشتگردوں میں فدا الرحمن عرف لعل ، ژوب ڈویژن ، علی رحمان عرف طحٰہ سواتی اور ابو یحییٰ بھی شامل ہیں، ریاستی اداروں کی بہترین حکمت عملی کے باعث 14 مطلوب دہشتگردوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو قومی دھارے میں شامل کیا،سیکیورٹی فورسز کی کامیاب حکمت عملی کے باعث 2خودکش بمباروں کو گرفتار کر کے ملک کو بڑی تباہی سے بچایا گیا،آرمی چیف دہشتگردوں ، خوارج اور اُن کے سہولت کاروں کے بارے میں واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے ہیں

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی سر زمین سے آزادانہ دہشتگرد کارروائیوں پر تحفظات ہیں،ایک پاکستانی کی جان اور حفاظت ہمارے لیے افغانستان پر مقدم ہے،

    رواں سال غیر ملکی جریدے نے بھی آرمی چیف کو دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف توانا آواز بننے پر خراجِ تحسین پیش کیا ،غیر قانونی سر گرمیوں کے خلاف بھی رواں سال بھرپور کارروائیاں عمل میں لائی گئیں،ریاست پاکستان کا واضح موقف ہے کہ غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث مافیہ دہشتگردو ں کا سہولت کار ہے ،واضح ریاستی پالیسی کے پیش نظر رواں سال سمگلنگ ، بجلی چوری، بھتہ خوری، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی،رواں سال غیر قانونی سر گرمیوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں واضح کمی واقع ہوئی

    آرمی چیف کی کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت رواں سال پاکستان نے اہم سنگِ میل عبور کئے،کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت اہم ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا،غزہ ، لبنان اور کشمیر کے مظلوم عوام کے لئے پاکستان اقوام ِ عالم میں ایک مؤثر آواز بن کر اُبھرا،سال 2024ء میں سفارتی سطح پر بھی اہم کامیابی حاصل ہوئی اور پاکستان نے اہم ایس سی او کانفرنس کی میزبانی کی،اس کانفرنس میں چین، روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان کے وزرائے اعظم، ایران کے نائب صدر اور بھارت کے وزیر خارجہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ،اس کے علاوہ رواں سال کئی اہم ممالک کے سربراہان نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور متعدد معاہدوں پر دستخط کئے،

    معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایس آئی ایف سی نے رواں سال اہم کامیابیاں حاصل کیں،ایس آئی ایف سی کی معاونت سے متعدد بین الاقوامی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مستحکم ہوئے ،ایس آئی ایف سی کے تحت کئے جانے والے اقدامات سے معیشت میں بہتری کے واضح امکانات روشن ہوئے،ایس آئی ایف سی کی معاونت سے ترسیلات زر میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی اور سٹاک ایکسچینج تاریخ کی بُلند سطح پر پہنچی،شرح سو د میں واضح کمی اورڈیفالٹ کا راگ الاپنے والوں کے بیانیے کی نفی ہوئی،خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور اہم ملک کیساتھ تجارت بڑھانے کیلئے نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) نے اہم سنگ میل عبور کیے،این ایل سی نے نہ صرف وسطی ایشیائی ریاستوں بلکہ روس، مشرقی یورپ ، چین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لئے راہ ہموار کی

    آرمی چیف کا واضح موقف ہے کہ قواعد و ضوابط کے بغیر آزادی اظہارِ رائے تمام معاشروں میں اخلاقی قدروں کی تنزلی کا باعث بن رہی ہے ،گمراہ کن پروپیگنڈا ، فیک نیوز اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے رواں سال قانون سازی بھی کی

    آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

    آرمی چیف سے کیمبرین پٹرول گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کی ملاقات

  • سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے 540 ملین ڈالر میں ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز سعودی عرب کو فروخت کرنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے نہ صرف اقتصادی تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو یہ شیئرز بین الحکومتی ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت براہ راست فروخت کیے جائیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کو اس سودے کے بدلے 540 ملین ڈالر کی رقم دو قسطوں میں ادا کرے گا۔ پہلے مرحلے میں 10 فیصد شیئرز کی منتقلی پر سعودی عرب 330 ملین ڈالر ادا کرے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی 5 فیصد شیئرز کی منتقلی پر 210 ملین ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب پاکستان کے لیے صرف ریکوڈک کے شیئرز خریدنے تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کے لیے بھی آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ سعودی فنڈ برائے ترقی بلوچستان میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے 150 ملین ڈالر کی اضافی رقم فراہم کرے گا۔

    اس وقت ریکوڈک منصوبے میں وفاقی اور بلوچستان حکومت کے پاس 50 فیصد شیئرز کی ملکیت ہے۔ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کے چاغی علاقے میں واقع ہے اور یہاں سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔سعودی عرب چاغی کے علاقے میں بھی معدنیات کی تلاش اور ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو چکا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی موقع ہو گا۔ اس سے نہ صرف بلوچستان کی معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔

    یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ قدم پاکستان کے لیے مالی فوائد کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گا۔اس پیش رفت سے پاکستان کو ریکوڈک منصوبے کے شیئرز فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سے ترقیاتی فنڈز ملیں گے، جو نہ صرف ریکوڈک بلکہ بلوچستان کے دیگر معدنی وسائل کے استعمال کے لیے بھی معاون ثابت ہوں گے۔ اس سودے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا اور عالمی سطح پر پاکستان کی معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی طرف ایک نیا رجحان پیدا ہو گا۔

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

  • جاسوسی سرگرمیاں، بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ

    جاسوسی سرگرمیاں، بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ

    بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر 30 دسمبر 2024 سے قطر کا تین روزہ دورہ کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اگست 2022 میں قطر نے دہرا گلوبل ٹیکنالوجیز کے تحت کام کرنے والے 8 سابق بھارتی بحریہ افسران کو جاسوسی کے الزامات پر گرفتار کیا، ان پر قطر کی U212 جدید آبدوزوں کی خفیہ معلومات اسرائیل، بھارت کی ایجنسی را اور ایران کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام تھا۔قطر کی 2024 میں کل آبادی تقریباً 3.12 ملین ہے، جن میں صرف 12 فیصد قطری شہری ہیں، ہندوستانی سب سے بڑی تارکین وطن برادری ہیں، جو کل آبادی کا تقریباً 21.8 فیصد ہیں اور تعمیرات، صحت عامہ اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔ان افسران میں کپتان نووتج سنگھ گل اور بیرندر کمار ورما جیسے اعلیٰ عہدے کے افراد شامل تھے، 2023 میں سزائے موت سنانے کے بعد انہیں فروری 2024 میں رہا کر دیا گیا۔بھارتی وزیر خارجہ کا یہ دورہ جاسوسی کے الزامات، تارکین وطن کے تنازعات، اسرائیل کی حمایت اور غیر جانبداری کے خدشات کے درمیان ہندوستان کے تعلقات کو نئے سرے سے جوڑنا ہے، کیونکہ عرب ممالک کے لیے ہندوستان کی قابل اعتماد حیثیت پر کافی سوالات اٹھتے ہیں۔بھارت کی عالمی جاسوسی سرگرمیاں دستاویزی طور پر ثابت ہوچکی ہیں، 2019 میں ایک بھارتی جوڑے کو جرمنی میں کشمیری اور سکھ گروہوں پر جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس سے قبل 2016 میں بھارتی بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن یادو کو پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، 2015 میں سری لنکا نے سیاسی مداخلت کے لیے بھارت کے را کے اسٹیشن چیف کو ملک بدر کیا۔نریندر مودی کے باعث بھارت کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے جاچکے ہیں، 2024 میں بھارت نے فلسطین کی جانب سے پیش کردہ پہلی اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جو اس کے روایتی فلسطین نواز موقف سے ہٹ کر تھا۔اس فیصلے نے بھارت کو BRICS بلاک اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے دور کر دیا، جس سے اس کی غیر جانبداری پر خدشات پیدا ہوئے ہیں، یہ عمل فلسطین بحران کے درمیان بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔عرب دنیا میں بھارت کی قابل اعتماد حیثیت پر سوالات کھڑے ہو چکے ہیں، حماس حملوں کے بعد اسرائیل نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر بھارت کا عوامی طور پر شکریہ ادا کیا، بھارتی اکاؤنٹس سے پرو اسرائیل ہیش ٹیگز کا رجحان نمایاں نظر آتا ہے۔بھارتی تارکین وطن برادری نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ان کی سرگرمیاں اکثر تنقید کا شکار رہتی ہیں، مشرق وسطیٰ میں، تارکین وطن کی کمیونٹیز ثقافتی اور اقتصادی تبادلے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن انہیں ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے سے باز نہیں آتے۔آسٹریلیا میں بھی بھارتی خفیہ کارروائیاں بے نقاب ہوئیں، جہاں را کے ایجنٹوں نے تارکین وطن کی کمیونٹیز اور سیاستدانوں کو نشانہ بنایا، سکیورٹی کلیئرنس رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا اور حساس دفاعی معلومات تک رسائی حاصل کی۔عرب ممالک کو بھارت پر اپنے اعتماد پر نظرثانی کرنی چاہیے، مضبوط ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کے باوجود، جاسوسی، اسرائیل کی حمایت، اور نظریاتی اثرات جیسے واقعات مشرق وسطیٰ میں تعلقات کی پاکیزگی کے لئے چیلنج ہیں۔

    دبئی: 461 ملین درہم کی منی لانڈرنگ کرنے والا گروہ گرفتار

    جو بائیڈن کا یوکرین کیلئے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

    اہلسنت و الجماعت کا بھی کراچی میں دھرنوں کا اعلان

    پراپرٹی ٹیکس کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے ایک استعفیٰ مانگا، 31 استعفے آ گئے

  • پاکستان کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی فرسٹ کنکریٹ پورنگ تقریب

    پاکستان کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی فرسٹ کنکریٹ پورنگ تقریب

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نےچشمہ نیوکلیئر پاور پراجیکٹ یونٹ 5 کی فرسٹ کنکریٹ پورنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان چین دوستی کا عظیم استعارہ ہے،

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نیوکلیئر انرجی توانائی بحران کا دیرپا حل ہے۔چشمہ نیوکلیئر منصوبہ ترقی اور خوشحالی کا سنگ میل ہے، چشمہ یونٹ-5 سے قومی گرڈ میں مزید بجلی شامل ہوگی ۔ماحول دوست توانائی کے لیے نیوکلیئر انرجی کا فروغ اہم ہے۔ پاکستان اور چین کا تعاون مشترکہ کامیابی کی ضمانت ہے۔ تمام معاشی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ نواز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ ن کے وژن 2035 کے مطابق ترقی کر رہا ہے، آج ملک ان ہاتھوں میں ہے جو پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،سی پیک خطے کی ترقی کااہم منصوبہ ہے،پاک ،چین کوریڈورصدرشی جن پنگ کاویژنری منصوبہ ہے

    وفاقی وزیرجام کمال نےتقریب سے خطاب میں کہا کہ پاکستان عظیم قربانیوں کے بعدحاصل ہوا،مسلم لیگ کی قیادت نے ملک کوتعمیروترقی کے راستے پرگامزن کیا،بیرونی ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں،پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے کوشاں ہیں،مسلم لیگ اور اتحادی سچی نیت سے ملک کی بہتری کیلئےکوشاں ہیں،

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن نے الیکشن مہم میں جو وعدے کئے تھے ان پر عملدرآمد کیلئے اقدامات کر رہی ہے سستی بجلی فراہم کرنے کے لئے چشمہ کے مقام پر میانوالی میں پاکستان کے سب سے بڑے 12 میگاواٹ کے نیو کلئیر پاور پلانٹ کی تعمیر شروع کر دی اس منصوبے پر پانچ ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

    قبل ازیں پاکستان نیوکلیئر ریگو لیٹری اتھارٹی نے چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ 5 کیلئے تعمیراتی لائسنس جاری کر دیاگیا تھا، چشمہ پاور پلانٹ فائیو نیوکلیئر ذرائع سے 1200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا سب سے پاور پلانٹ ہوگا،پاکستان نیوکلیئر ریگو لیٹری اتھارٹی کے اعلامیے کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ فائیو کے تعمیراتی لائسنس کیلئے اپریل 2024 میں درخواست دی تھی جس کے ساتھ ابتدائی حفاظتی جائزہ رپورٹ اور دیگر متعلقہ ضروری دستاویزات بھی جمع کروائی گئیں،ان دستاویزات میں ری ایکٹر کے ڈیزائن، جوہری مواد کے محفوظ استعمال، تابکاری سے تحفظ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، تابکار فضلے کو ٹھکانے لگانےاور نیوکلیئر سکیورٹی جیسے تمام پہلو شامل تھے،اتھارٹی نے تمام دستاویزات کے مفصل جائزے اور متعلقہ قومی وبین الاقوامی معیارات اورریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل کے بعد لائسنس جاری کیا۔

    چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ فائو کے لیے پہلے کنکریٹ پورنگ کا آغاز ہو چکا،تعمیراتی کام کے آغاز سے تکمیل تک 84 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا،چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی 5 کا سنگ بنیاد گذشتہ سال 14 جولائی 2023 کو رکھا گیا تھا،پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اس وقت ملک میں 6 ایٹمی بجلی گھروں سے 3530 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے،پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت چشمہ اور کراچی میں نیوکلیئر پاور کمپلیکس کام کر رہے ہیں،چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے 4 یونٹ جبکہ کراچی میں 2 یونٹ کام کر رہے ہیں،کراچی نیوکلیئر پاور پروجیکٹ کے یونٹ کے 2 اور کے 3 سے 2200 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے،چشمہ میں چار یونٹ سے مجموعی طور پر 1330 میگا واٹ پیداوار حاصل کی جا رہی ہے،چشمہ کے مقام پر سی ون اور سی ٹو یونٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 650 میگاواٹ ہے،سی 3 اور سی 4 یونٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 680 میگا واٹ ہے،سی فائیو 1200 میگا واٹ صلاحیت کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر ہوگا،کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے دونوں یونٹ چین کے اے سی پی 1000 ڈیزائن پر مبنی ہیں،چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے موجودہ چاروں یونٹ پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ہیں،سی فائیو جنریشن تھری کا نیوکلیئر پاور پلانٹ ہو گا

    ترجمان پی اے ای سی کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن بجلی گھروں کی ری فیولنگ آؤٹیج ملکی افرادی قوت سے کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکا ہے،پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اپنے نیوکلیئر پاور پلانٹس کی ریفیولنگ آؤٹیج کا کام مقامی افرادی قوت سے کراکے قیمتی زر مبادلہ بھی بچا رہا ہے،پاکستان کے تمام ایٹمی بجلی گھر آئی اے ای کے سیف گارڈز میں ہیں،2023 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے اپنی توانائی کی قومی ضرورت کا 17.2 فیصد ایٹمی پاور پلانٹس سے حاصل کیا،ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو ایٹمی پاور پلانٹس جیسے زیرو ایمیشن والے توانائی ذرائع کی ضرورت ہے۔نیوکلیئر پاور پلانٹس سے بجلی انتہائی کم قیمت یعنی تقریباً 15 روپے فی یونٹ پڑتی ہے۔ جس میں فیول کی لاگت صرف ڈیڑھ روپے قریب ہے۔

    واضح رہے کہ چین اور پاکستان نے چشمہ 5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر رکھے ہیں، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ چشمہ 5نیوکلیئر پاور پلانٹ معاہدہ ایک اور سنگ میل ہے، اس معاہدے سے پاکستان چین معاشی تعلقات کو فروغ ملے گا۔12 سو میگاواٹ جوہری پاور پلانٹ معاہدہ ایک اور سنگ میل ہے، اس معاہدے سے پاکستان چین معاشی تعلقات کو فروغ ملے گا، چشمہ 5 نیوکلیئر پاور پلانٹ 1200 میگاواٹ صلاحیت کا حامل ہے، منصوبے کی کل لاگت 400 ارب ڈالر ہے، گزشتہ حکومت نے اس منصوبے کو سردخانے میں ڈال دیا تھا۔

    نجی اسکولوں سے ٹیکس وصول کرکے سرکاری اسکولوں میں استعمال کرنے کا فیصلہ

    گوجرانوالہ: اصلاحی جماعت کے زیر اہتمام عظیم الشان محفل میلاد و حق باہو کانفرنس کا انعقاد

  • افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی  وزیراعظم سے ملاقات

    افغانستان کیلئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے افغانستان کے لئے پاکستان کے نمائندہ خصوصی، محمد صادق خان، نے ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں محمد صادق خان نے وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہء افغانستان کے دوران کی جانے والی ملاقاتوں اور پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔پاکستانی حکومت کے اعلیٰ حکام کے مطابق، اس ملاقات میں افغانستان میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محمد صادق خان نے افغانستان میں موجودہ سیاسی، اقتصادی اور انسانی حالات پر روشنی ڈالی اور وہاں پاکستان کے اقدامات اور معاونت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور، طارق فاطمی بھی موجود تھے، جنہوں نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اہمیت اور مستقبل کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے کردار کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    محمد صادق خان نے وزیراعظم کو افغانستان میں پاکستانی سفارتکاری کے مختلف پہلوؤں پر بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ افغانستان میں پاکستان کے مفادات کو مزید فروغ دینے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر دونوں طرف سے اقتصادی ترقی، تجارت اور انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    اس ملاقات میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے افغانستان میں سیاسی استحکام، امن و سکونت کی فضا کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اپنے تمام ممکنہ ذرائع کو بروئے کار لائے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مزید مستحکم کرے گا۔ملاقات کے اختتام پر محمد صادق خان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور افغانستان کے لئے پاکستان کی پالیسی کو مزید کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا۔

    خواتین کو دیکھنا فحاشی، گھروں کی کھڑکیاں بند کریں،افغان حکومت کا حکمنامہ

    برطانوی سائنسدان کی ایک صدی قبل کی گئی درست پیشگوئیاں

  • نیو  گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی، وزیراعظم

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے متعلق ایک اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں ائیرپورٹ کی تعمیر، اس کی فعالیت اور علاقے میں اقتصادی ترقی کے امکانات پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ چین اور پاکستان کے مابین تاریخی اور مثالی دوستی کی ایک عظیم مثال ہے۔وزیراعظم نے اجلاس میں ائیرپورٹ کی تعمیر پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "گوادر کا نیا انٹرنیشنل ائیرپورٹ چین اور پاکستان کے درمیان اس شراکت داری کی علامت ہے جس نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کیا بلکہ اقتصادی ترقی کی نئی راہیں بھی کھول دی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ عالمی معیار کی جدید سہولتوں سے آراستہ یہ ائیرپورٹ نہ صرف گوادر بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔ "یہ ائیرپورٹ نہ صرف گوادر کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے گا بلکہ پورے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے لیے بھی اقتصادی فوائد کا سبب بنے گا۔”

    وزیراعظم نے اجلاس میں نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو ایک مصروف ٹرانزٹ پوائنٹ بنانے کے لیے قابل عمل حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ "ائیرپورٹ کی فعالیت کو بڑھانے کے لیے ہمیں ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ یہ ائیرپورٹ نہ صرف بین الاقوامی پروازوں کا مرکز بن سکے بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کرے۔”وزیراعظم نے گوادر ائیرپورٹ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے دیگر علاقوں کے درمیان رابطہ سڑکوں کو بہتر بنانے کی ہدایت دی تاکہ ائیرپورٹ کی سہولت کا فائدہ پورے علاقے کو پہنچ سکے۔ "ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ گوادر ائیرپورٹ تک پہنچنے کے لیے سڑکوں کی صورتحال بھی بہترین ہو تاکہ وہاں کی معیشت کو مزید تقویت مل سکے۔”

    وزیراعظم نے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ "سکیورٹی ایک اہم پہلو ہے، اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ائیرپورٹ پر داخلی اور خارجی سکیورٹی کا ہر پہلو مضبوط ہو تاکہ عالمی سطح پر اعتماد اور اطمینان حاصل کیا جا سکے۔”وزیراعظم نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تکمیل اور اس کی کامیاب فعالیت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر کا نیا ایئرپورٹ نہ صرف ملکی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو بھی مزید بڑھائے گا۔

    مریم نواز کے خوبصورت انداز،ایک بار پھر سوشل میڈیا کو ہائی جیک کر لیا

    ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت

  • پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    پاکستانی فضائی حملوں میں سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا.پاکستانی فضائیہ کے حالیہ حملے ٹی ٹی پی "فتنہ الخوارج” کے تربیتی کیمپوں پر کیے گئے ہیں۔ یہ حملے افغانستان یا آئی اے جی (اسلامی امارت افغانستان) کی افواج کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے مراکز کے خلاف تھے۔

    1. پاکستان نے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا، جنہیں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
    2. پاکستان کی مسلسل شکایت رہی ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین سے کارروائیاں کر رہی ہے، لیکن آئی اے جی نے ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔
    3. یہ کیمپ سرحد پار دہشت گردی کا منبع تھے، جو پاکستان کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔
    4. چار اہم دہشت گرد مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں خودکش حملہ آور، اہم کمانڈر، اور بڑی مقدار میں اسلحہ موجود تھا۔
    5. مارے جانے والوں میں اہم کمانڈر شامل ہیں:
    شیر زمان المعروف مخلص یار
    ابو حمزہ (خودکش بمباروں کے تربیت کار)
    اختر محمد المعروف خلیل
    شعیب اقبال (ٹی ٹی پی کے عمر میڈیا کا سربراہ)
    6. افغانستان، بطور ایک غیر مستحکم ریاست، اپنی داخلی مسائل میں الجھا ہوا ہے، لیکن آئی اے جی کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہیں۔
    7. عالمی قانون کسی بھی ریاست کو اپنی سرزمین سے باہر موجود خطرات کے خلاف دفاع کا حق دیتا ہے.

    افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ٹی ٹی پی خوارج کے خلاف کارروائی

    پاکستان افغانستان کو برادر ملک تصور کرتا ہے اور فضائی حملے افغان عوام یا افواج کے خلاف نہیں تھے۔
    1. پاکستان نے سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے خلاف دفاعی اقدامات کیے۔
    2. مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے خوارج وہ تھے جو حال ہی میں پاکستانی فوجیوں کی شہادت کا جشن منا رہے تھے۔
    3. ان فضائی حملوں کا مقصد دہشت گردوں کا خاتمہ تھا جو پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔
    4. پاکستان کی جانب سے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    کرّم میں سیکیورٹی صورتحال: افغان فورسز کے ساتھ کشیدگی

    آئی اے جی کی جانب سے یہ غلط دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افغان افواج نے پاکستانی افواج پر حملہ کیا، حالانکہ حقیقت میں 28 دسمبر کی صبح سرحد پار سے ٹی ٹی پی اور افغان فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کی۔
    1. پاکستانی افواج نے جوابی کارروائی میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
    2. افغان فورسز اور ٹی ٹی پی کے درمیان "فرینڈلی فائر” کے نتیجے میں متعدد جانی نقصان ہوا۔
    3. رپورٹس کے مطابق، ٹی ٹی پی کی فائرنگ سے ایک افغان ہیلی کاپٹر تباہ ہوا۔
    4. پاکستان کی متعدد درخواستوں کے باوجود افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کیا ہے۔

    کرّم میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی افغان کوششیں

    افغان طالبان کی جانب سے کرّم میں غیر مستحکم حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    1. افغانستان کی غیر اشتعال انگیز فائرنگ نے کرّم میں حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔
    2. افغان طالبان کا یہ رویہ پاکستان کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے، جو ہمیشہ افغان عوام کا حامی رہا ہے۔
    3. پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، لیکن طالبان کی جانب سے جوابی طور پر صرف ناشکری اور دشمنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

    جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا

    1. افغان چینلز پر پاکستان کے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کے دعوے جھوٹے ہیں۔ یہ تصاویر پرانے زلزلے کی ہیں۔
    2. کرّم میں پاکستانی افواج کی 19 ہلاکتوں کے دعوے غلط ہیں؛ حقیقت میں صرف 4 اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 25 ٹی ٹی پی شدت پسند مارے گئے۔
    3. پاکستانی حملوں کے بعد ٹی ٹی پی کی قیادت میں مکمل رابطہ منقطع ہو چکا ہے، اور خوف کی وجہ سے ان کا نیٹ ورک مفلوج ہو چکا ہے۔

  • خوارج کی افغانستان سے دراندازی کی کوشش  ناکام، افغان طالبان کی پوسٹوں کا استعمال

    خوارج کی افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، افغان طالبان کی پوسٹوں کا استعمال

    فتنہ الخوارج کی افغان طالبان کی پوسٹوں کا استعمال کر کے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنادی گئی۔

    27/28 دسمبر کی رات فتنہ الخوارج کے 20-25 خارجیوں نے افغان طالبان کی بارڈر پوسٹوں کا استعمال کرتے ہوئے کُرم اور شمالی وزیرستان میں دو مقامات سے پاکستان میں در اندازی کی کوشش کی، پاکستان سیکورٹی فورسز نے بر وقت کاروائی کر کے در اندازی کی کوشش ناکام بنا دی، 28 دسمبر کی صبح خارجیوں نے دوبارہ افغان طالبان کی پوسٹوں کو استعمال کرتے ہوئے، پاکستان میں در اندازی کی کوشش کی، دراندازی کی کوشش ناکام ہونے پر 28 دسمبر کی علی الصبح خارجیوں اور افغان طالبان نے ملکر پاکستانی پوسٹوں پر بِلا اشتعال بھاری ہتھیاروں سے فائر کھول دیا، پاکستان سیکورٹی فورسز نے اس بلا اشتعال فائرنگ کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا،

    مصدقہ ذرائع کے مطابق افغانستان سائیڈ پر بھاری نقصانات کی ابتدائی اطلاعات ہیں،مؤثر جوابی فائر سے پندرہ سے زائد خارجیوں اور افغان طالبان کے ہلاک ہونے اور متعدد کے زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں، موثر جوابی کاروائی اور گولا باری سے افغان طالبان چھ پوسٹیں چھوڑ کر بھی بھاگ گئے، افغان سائڈ پر نقصانات مزید بڑھنے کی بھی اطلاعات ہیں،

    پاکستان سیکورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نا ہونے اورصرف تین زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں،سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے بارہا انٹرم افغان حکومت سے فتنہ الخوارج کو پاکستان کے خلاف اپنی سر زمین نہ استعمال کرنے کا کہا ہے، بجائے فتنہ الخوارج کو کنٹرول کرنے اور ان دہشت گرد عناصر کی سرکوبی کرنے کے، افغان طالبان فتنہ الخوارج کی مسلسل معاونت کر رہے ہیں،فتنہ الخوارج افغانستان میں پوری آزادی کے ساتھ موجود ہیں اور پاکستان مخالف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے افغان سر زمین کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں، پاکستان سیکورٹی فورسز کسی بھی طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں

    سیکیورٹی فورسزکاکامیاب آپریشن، فتنہ الخوارج کاانتہائی مطلوب دہشت گردجہنم واصل

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ

  • بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی ( لیسکو )، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے امور زیر بحث آئے،وزیراعظم شہبازشریف نے ہدایت کی کہ اسمارٹ میٹر کی تنصیب کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ بلنگ کے نظام میں شفافیت لائی جاسکے، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اوور بلنگ کسی طور قابل قبول نہیں ؛ اوور بلنگ میں ملوث افسران کے خلاف سخت کاروائی ہو گی ،بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں. وزیراعظم نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کی تعیناتی کے عمل میں سست روی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انتہائی شفاف عمل کے ذریعے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کی تعیناتی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے،بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں افرادی قوت کی بھرتی میرٹ پر کی جائے ؛ بھرتیوں کے عمل میں شفافیت پر کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،نیپرا کے دیئے گئے ٹارگٹ کے حصول کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں

    اجلاس کو لیسکو، پیسکو اور فیسکو کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 میں نومبر تک لیسکو کی ریکوری 96.82 فیصد، پیسکو کی ریکوری 87.98 فیصد اور فیسکو کی ریکوری 97.57 فیصد رہی ،مالی سال 2024-25 میں نومبر تک ٹرانسمشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز کے حوالے سے لیسکو 13.04 فیصد، پیسکو 33 فیصد جبکہ فیسکو 6.01 فیصد ہے،لیسکو نے 223365 تھری فیز اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کرنے ہیں جن میں سے 49470 کی تنصیب ہو چکی ہے ،پیسکو نے 152559 اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کرنی ہے جن میں سے 51173 کی تنصیب ہو چکی ہے ،فیسکو نے 192311 اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کرنی ہے جن میں سے 11276 کی تنصیب ہو چکی ہے،لیسکو ، پیسکو اور فیسکو کے صارفین کو شکایت کے ازالے اور دیگر خدمات کے حوالے سے کال سینٹرز ، ای میلز ، ویب سائٹس ، انٹریکٹو وائس رسپانس ، نیپرا کی موبائل اور ویب سروسز کی سہولیات حاصل ہیں،بجلی کی ترسیل کے حوالے سے کسی بھی قسم کی شکایات کے حوالے سے ہیلپ لائن 118 کی تمام موبائل فون آپریٹرز سے مفت رسائی یقینی بنائی جا رہی ہے،اس مالی سال نومبر تک لیسکو نے 99.2 فیصد، پیسکو نے 99.9 فیصد اور فیسکو نے 99.7 فیصد تک شکایات کیں

    اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

    اٹلی کی خاتون صحافی تہران میں گرفتار

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے