Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بینظیر بھٹو نے شہادت قبول کی لیکن نظریے پر سودا نہیں کیا ،بلاول

    بینظیر بھٹو نے شہادت قبول کی لیکن نظریے پر سودا نہیں کیا ،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش، لاڑکانہ میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کیا۔ بینظیر بھٹو کی 17ویں برسی کے موقع پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری اور صنم بھٹو کی گڑھی خدا بخش تقریب میں آمد ہوئی،کارکنان نے بھر پور استقبال کیا،

    اس موقع پر بلاول بھٹو نے شہید بی بی کی جرات، قربانی اور پاکستان کے لئے ان کے عزم کو یاد کیا اور کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ جمہوریت، عوامی حقوق اور انصاف کے لئے اپنی جان کی قربانی دی۔بینظیر بھٹو مسلم ممالک کی پہلی خاتون وزیرا عظم بنی تھیں،پاکستان بھر سے بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں ، بینظیر بھٹو کی برسی منانے کیلئے ملک کے کونے کونے سے لوگ آئے ہیں ، شہید بینظیر بھٹو عوام کی نمائندہ تھیں،بینظیر بھٹو نے شہادت قبول کی لیکن نظریے پر سودا نہیں کیا ،بینظیر بھٹو کسی آمر اور دہشت گرد کے سامنے کبھی نہیں جھکیں، بینظیر بھٹو آخری دم تک کھڑی رہیں لیکن پیچھے نہیں ہٹیں ،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ 27 دسمبر 2007 سے اب تک پاکستان نقصان اس لئے اٹھا رہا ہے کہ تم نے شہید محترمہ نے نظیر بھٹو کو شہید کیا اور ہم پر کٹھ پتلیوں کو مسلط کیا، وہ سیاسی کٹھ پتلیاں جو ایٹمی پروگرام پر بھی سودے بازی کرنے کے لئے تیار ہیں،سیاسی کٹھ پتلیاں کو صرف اسلام آباد میں کرسی پر بیٹھنے کا شوق ہوتا ہے

    فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نہ سیلکٹڈ ہیں نہ ہی فارم 47 والے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اس ملک کی پسماندہ عوام کی نمائندہ تھی، شہید محترمہ بینظیر بھٹو آپکی نمائندہ تھی اور میری نمائندہ تھی، پیپلزپارٹی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کے ورکرز فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نہ سیلکٹڈ ہیں نہ ہی فارم 47 والے ہیں، کسی ایک سیاسی جماعت کے پاس مسائل کا حل کرنے کا مینڈیٹ اور طاقت نہیں ،ہمیں کسی کرسی یا وزارت کا شوق نہیں،ہم وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہیں، بیرونی طور پر بہت سے چیلنجز آنے والے ہیں۔حکومت کے پاس فیصلے کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے، جب حکومت سازی کا وقت تھا تو ہمارا کسی کرسی یا وزارت کا شوق نہیں تھا، اس وقت فیصلہ کیا تھا کہ جو سیاسی جماعت ہمارے پاس آئی ہے اور سیاسی استحکام، مہنگائی میں کمی کا وعدہ کر رہی ہے ہم اس کا ساتھ دیں گے۔اس وقت ہم نے ایک معاہدے پر دستخط کیا کہ آپ کو اپنے ووٹ تو دلوارہے ہیں لیکن ایسے نہ ہو کہ آپ ووٹ لے کر آنکھیں پھیر لیں، ایسا نہ ہو جیسا ماضی میں ایک سیاست دان نے آپ کے بارے میں کہا تھا کہ جب مشکل میں ہو تو یہ پیر پکڑتے ہو اور جب اس سے نکل جائیں تو گلا پکڑتے ہیں۔ہم نے کوئی وزارت نہیں صرف عوام کا حق مانگا ہے، دہشت گردی کا مسئلہ ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے، حکومت کے پاس اجتماعی فیصلے مشاورت سے کرنے کا مینڈیٹ ہے ،صدر سے اپیل کرتا ہوں حکومت کو تجویز دیں اتفاق رائے سے فیصلے کریں ، اتفاق رائے کے ساتھ ہونے والے فیصلے طاقتور ہوتے ہیں

    عمران بہانہ ،میزائل پروگرام نشانہ،جب تک پیپلز پارٹی ہے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی اور میزائل پروگرام کے خلاف عالمی سازشیں ہو رہی ہیں ، اس وقت امریکہ سے بیان آ رہے ہیں،عمران بہانہ ہے،میزائل پروگرام نشانہ ہے،جب تک پیپلز پارٹی ہے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا،پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی بینظیر بھٹو نے دلوائی تھی،عمران کو واضح کرنا چاہئے کہ یہ جو ہر روز ان کے حق میں بیان دے رہے ہیں یہ وہی لوگ نہیں ہیں جو پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی اور میزائل پروگرام کے خلاف بیان دے رہے ہیں ،عمران خان کے لیے وہی لوگ آواز اُٹھا رہے ہیں جو سب سے زیادہ اسرائیل کی صیہونی حکومت کے لئے آواز اُٹھاتے ہیں،

    گڑھی خدا بخش میں اس موقع پر ایک اور اہم تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے شہید بی بی کے مزار پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ آصف زرداری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر شہداء کے مزاروں پر بھی پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر اپنے خطاب میں آصف زرداری نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو جمہوریت اور انصاف کے اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی کی ایک زندہ مثال تھیں۔ ان کی قربانی سے پاکستان کے عوام کے لئے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی گئی۔ آصف زرداری نے مزید کہا کہ بی بی نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں ہر شہری کو برابر کے حقوق ملیں اور عوامی طاقت کو تسلیم کیا جائے۔

    یاد رہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، جو کہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں، 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک عوامی جلسے سے واپسی پر قاتلانہ حملے کا شکار ہوئیں اور شہید ہو گئیں۔ اس حملے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی کا سفر ختم ہوگیا، مگر ان کی سیاسی وراثت آج بھی زندہ ہے۔ بے نظیر بھٹو کی جرات، قیادت اور قربانی نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں جمہوریت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو کا شمار دنیا کی اہم ترین خواتین رہنماؤں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی خواتین کی سیاسی قوت کو متعارف کرایا اور اس کے لئے جدوجہد کی۔ ان کی برسی پر پورے پاکستان میں پی پی پی کے کارکنان ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کے ساتھ اس دن کو یاد کرتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی ایک یادگار موقع ہے جب پاکستانی عوام ان کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی ان کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، اور جمہوریت، انصاف اور عوامی حقوق کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

    بینظیر بھٹو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، ان کی روح کو سلام،سحر کامران

    ہ بینظیر بھٹو کی میراث کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں.بلاول

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

  • وفاقی کابینہ اجلاس، مدارس رجسٹریشن اورانکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری

    وفاقی کابینہ اجلاس، مدارس رجسٹریشن اورانکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں دو اہم صدارتی آرڈیننس کی منظوری دی گئی۔ ذرائع کے مطابق، کابینہ نے مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی آرڈیننس اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی منظوری دی۔

    کابینہ نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دی ہے ، وفاقی کابینہ نے مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی بھی منظوری دی ہے جس کے ذریعے بینکوں کے 70 ارب روپے کے اضافی منافع پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ بینکوں کے منافع کے اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ ان منافعوں پر اضافی ٹیکس لگایا جا سکے۔ اس آرڈیننس کا مقصد بینکوں سے اضافی آمدنی حاصل کرنا اور حکومت کی مالی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے پاسپورٹ اور شہریت کے قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی،پاکستان میں پانچ سال قیام شہریت کیلئے ضروری قرار دے دئے گئے،بیرون ملک بھیک مانگنے والے کو 50 ہزار جرمانہ اور پاسپورٹ کی ضبطگی بھی ہوگی

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس کے دوران ان دونوں آرڈیننسز کی منظوری کو حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف مالیاتی سسٹم کی بہتری آئے گی بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی اصلاحات کی جائیں گی تاکہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو۔کابینہ کے دیگر فیصلے وفاقی کابینہ نے مختلف اہم امور پر غور و خوض کیا اور دیگر فیصلے بھی کیے جن میں مختلف وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ شامل تھا۔

    انسانی سمگلنگ ،وزیراعظم کا ملوث تمام افراد کو حراست میں لینے کا حکم

    اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے ماسکو کے لیے پروازیں معطل کر دیں

  • بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، ترجمان پاک فوج

    بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کےخلاف ایک طویل جنگ لڑی اور لڑ رہا ہے، افواج نے بے بیش بہا قربانیاں دی ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اہم کامیابیاں ملیں، بلوچ دہشت گردوں کے انتہائی مطلوب سرغناؤں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشت گردی میں ملوث 27 افغان دہشت گردوں کو بھی جہنم واصل کیا گیا، سیکورٹی فورسز کو رواں برس بڑی کامیابی ملی جب دو خود کش بمباروں کو حراست میں لیا گیا جن کے قبضے سے دس خود کش جیکٹ ،دھماکا خیز مواد، اسلحہ برآمد ہوا تھا، بلوچستان سے گرفتار ہونے والی خود کش خواتین بمباروں نے انکشاف کئے کہ کیسے دہشت گرد نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے ریاست کے خلاف بغاوت پر اکساتے ہیں،فتنہ الخوارج کے متعدد سر غنہ جہنم واصل کئے گئے، 2 خود کش بمباروں کو حراست میں لیا گیا جبکہ 14 مطلوب دہشتگردوں نے ہتھیار ڈالے،دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 169 سے زائد آپریشنز کیے جا رہے ہیں

    پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گا،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف 59775 کامیاب آپریشن کئے اور دہشت گردی کے خلاف کئی منصوبوں کو ناکام بنایا ،رواں سال 925خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ،رواں سال کامیاب آپریشنز میں متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا ،گزشتہ 5سال میں ہلاک دہشت گردوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے،ان آپریشنز کے دوران 73 انتہائی مطلوب دہشت گرد گرد ہلاک ہوئے،انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں میاں سید عارف قریشی عرف استاد، محسن قادر، عطا اللہ عرف مہران، فدا الرحمان عرف لال، علی رحمان عرف طحہ سواتی اور ابو یحییٰ شامل ہیں،ریاستی اداروں کی بہترین حکمت عملی کے نتیجے میں 14 مطلوب دہشت گردوں قومی دھارے میں شامل کیا گیا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے اور لڑرہا ہے ، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں،دہشتگردوں کے کئی منصوبوں کو ناکام بنایا گیا،افواج پاکستان کے 384 جوان 2024 میں شہید ہوئے ، پوری قوم اِن بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا،پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے لیکن ہماری کوششوں کے باوجود افغانستان کی سرزمین سے فتنۃ الخوارج پاکستان میں دہشتگردی کرتے آ رہے ہیں،پاکستان سے غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے، آٹھ لاکھ 15 ہزار غیر قانونی افغان باشندے واپس جا چکے ہیں،آرمی چیف واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان سے کارروائیوں پر تحفظات ہیں۔پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گا،قبائلی اضلاع میں 72 فیصد علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا گیا، حکومت کی خصوصی ہدایات پر سمگلنگ، بجلی چوری، منشیات و ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری ہے،

    پاک فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں، رواں سال میں بھارت نے متعدد مرتبہ سیز فائز کی خلاف ورزیاں کیں،بھارت کی جانب سے 25 سیز فائر وائلیشن، 564 سپیکولیٹو فائر کے واقعات، 61 ایئر سپیس وائلیشن، 181 ٹیکٹیکل ایئر وائلیشنز کے واقعات شامل ہیں ،رواں سال بھارت کی طرف سے فالس فلیگ آپریشن کئے گئے جن کا مقصد اندرونی سیاست اور خلفشار سے توجہ ہٹانا تھا فالس فلیگ آپریشن کی اطلاع را سے جڑے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دی جاتی رہی.پاکستان کی فوج ایل او سی پر کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، ہم ملک کے دفاع کے لئے ہمہ وقت کسی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں، بے گناہ کشمیری نوجوانوں‌کو بھارت شہید کررہا ہے، کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لئے عالمی دنیا کے توجہ کے منتظر ہیں، بھارت اقوام متحدہ کی قرارداروں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، ہم مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، انکی حمایت جاری رکھیں گے،بھارت میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لئے کڑا سوال ہے،بھارتی حکومت ریاستی دہشت گردی کا کھلم کھلا ارتکاب کر رہی ہے ،بھارتی ریاستی دہشت گردی میں بیرون ممالک ماورائے عدالت ٹارگٹ کلنگ باشمول بھارتی نزاد سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی شامل ہے ،بھارت میں مسلمانوں ،اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،بھارت مختلف ریاستوں میں حقوق کےلئے تحریکوں کو پوری قوت کے ساتھ کُچل رہا ہے، بھارت دیگر ممالک میں سکھوں کے قتل میں بھی ملوث ہے، بھارت میں سازش کے تحت اقلیتوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے مظلوم عوام کی قانونی، سفارتی، اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔خطے میں اجارہ داری کے لیے بھارتی اقدامات سے بخوبی واقف ہیں،پاکستان کی سالمیت اورخودمختاری کیلئے ہمہ وقت ہر قربانی کیلئے تیار ہیں، ڈ

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج روایت کے مطابق عوام کی فلاح پر توجہ دے رہی ہے۔ قدرتی آفات سے نبردآزما ہونا ہو یا دوسرے چیلنجز، افواج پاکستان نے حکومتی ہدایات کے مطابق کام کیا،تعلیم، صحت کے منصوبے بھی ہیں.بجلی چوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی پاک فوج سرگرم عمل ہے، سیلاب کے دوران امدادی کیمپس لگائے گئے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کر کے پاکستان کو مضبوط کریں،فلاحی کاموں کے پروجیکٹس فوج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مکمل کیے جاتے ہیں ، 2024 ء میں صوبہ خیبرپختونخوا میں پاک فوج کی جانب سے 6500 Outreach programs شروع کیے گئے ، ”علم ٹولو دا پارہ” کے تحت 7 لاکھ سے زائد طالب علموں کو تعلیمی سہولیات میسر کیں ، صحت کے شعبے میں 113 سے زائد میڈیکل کیمپس کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ، سبی اور ہرنائی کے درمیان 140 کلومیٹر لمبے ریلوے ٹریک میں سے 93 کلومیٹر ریلوے ٹریک کو مرمت کے بعد 17 سال بعد کھول دیا گیا ، کچھی کینال، کام مکمل ہونے کے بعد نومبر 2024 سے پہلے مرحلے میں 65 ایکڑ اراضی کو سیراب کر رہی ہے ، اب تک 15825 ایکڑ رقبہ گرین پاکستان انیشیٹو پروگرام کے تحت زیر کاشت لایا گیا ہے،

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج اپنے سخت ٹریننگ کے معیار کو قائم رکھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، یہ ہمارا طرہ امتیاز اور شناخت کا اہم حصہ ہے،ہماری ٹریننگ کا اہم پہلو جذبہ شوق شہادت کے ساتھ فرنٹ سے لیڈ کرنا ہے، پاک فوج کا شمار دنیا کی اُن چند افواج میں ہوتا ہے جہاں افسر سب سے آگے بڑھ کر آپریشنز لیڈ کرتے ہیں اور دفاع وطن میں جان قربان کرتے ہیں،پاکستانی فوجی افسران کی شہادت کا تناسب شہداء کی تعداد سب سے زیادہ ہے.2024 میں 183 یونٹس نے جنگی مشقیں کیں.رواں سال 11 ہزار جوانوں کو Pre Induction Training دی گئی. رواں سال آٹھ مختلف بین الاقوامی مشترکہ مشقوں کا انعقاد کیا گیا ،رواں سال فروری میں PATs کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں 12 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا ، پاکستان بحریہ نے بھی رواں سال 25 کثیر الجہتی مشقوں میں شرکت کی ،اکتوبر میں ہونے والی Exercise Industrial 2024 میں 24 ممالک کی فضائی افواج نے شرکت کی ، رواں سال طویل المدتی War Games حکمت نو مکمل کی گئی، یاد رکھیں محفوظ پاکستان ہی مضبوط پاکستان ہے،

    پاکستان میں اربوں روپے کا ایک غیر قانونی سپیکٹرم،جسے اشرافیہ کی پشت پناہی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اربوں روپے کا ایک غیر قانونی سپیکٹرم موجود ہے، اُس میں بھتہ خوری ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ہیں، اغوا کاری ہے، سمگلنگ ہے اور فیک نیوز پروپیگنڈہ بھی ہے، اور ان سب کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہو،یہ غیرقانونی سپیکٹرم ختم ہو گا، اشرافیہ کی پشت پناہی ختم ہو گی تو پاکستان میں خوشحالی آئے گی،آرمی چیف نے چند دن قبل کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صرف سکیورٹی فورسز نہیں پوری قوم لڑتی ہے، ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ گورننس میں جو گیپس ہیں وہ ہم ہر روز شہدا کی قربانیوں سے پر کر رہے ہیں، رواں برس 900 سے زائد دہشت گردوں کو مارا گیا، اس وقت پورے پاکستان میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں خارجیوں کی عملداری ہو ،اگر دہشت گرد جن کے ہاتھ پاکستانی شہریوں کے خون سے آلودہ ہیں اور ان دہشت گردوں کو سرحد پار سے مدد ملتی ہے تو پھر،…آٹھ لاکھ غیر قانونی افغانیوں کو واپس بھیجا، سمگلنگ میں کمی آ چکی ہے، آرمی چیف واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو کالعدم تنظیموں کیلئے دستیاب پناہ گاہوں ، سہولت کاری اور افغان سرزمین سے آزادانہ کارروائیوں پر تحفظات ہیں،پاکستان دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور شہریوں کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑے گا۔

    اس(دہشتگردی)ایشو پر سیاست اور بیانیہ نہ بنائیں خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس پر زور دیں۔ڈی جی آئی ایس پی ار
    فتنہ الخوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی کس کے فیصلے پر دوبارہ ان کو آباد کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کا برادر ملک ہے، افغانستان کو کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کو روکے،برادر ملک کے ذریعے بھی بات چیت جاری ہے،افغان خود کش بمباروں کو پکڑا ہے،وہ روزانہ معصوم شہریوں کا نا حق خون بہائیں تو کیا ہم بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہیں،دوغلی سیاست کا پرچار کرنے والوں سے سادہ سوال ہے کہ چھ دن قبل 21 دسمبر کو جنوبی وزیرستان میں 16 ایف سی کے جوان شہید ہوئے، کیا ان کے خون کی کوئی قیمت نہیں کیا وہ پاکستان کے شیر دل جوان نہیں تھے، 2021 میں جب فتنہ الخوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی تو اس وقت کس کے فیصلے پر ان کو دوبارہ آباد کیا گیا، کس نے ان کو طاقت اور دوام بخشا، یہ جو فیصلے جس کا ہم سب خمیازہ بھگت کر رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ان فیصلوں کی لکھائی اپنے خون سے دھو رہے ہیں، اگر کوئی فریق اپنی گمراہ سوچ، مرضی مسلط کرنے پر تلا ہو تو اس سے کیا بات کریں، ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو دنیا میں کوئی جنگ، غزوہ،مہمات نہ ہوتی، جان قربان کرنا مسلمان کے لئے فخر ہوتا ہے، ہم اپنے ایمان، وطن ،آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، جس تلخ تجربے سے ہم گزرے اسکے باوجود کوئی لیڈر یا سیاسی شخصیت یہ کہے ، اور جو یہ سمجھتا ہو کہ اسے ہر چیز کا علم ہے تو ایسے رویوں کی قیمت پوری قوم اپنے خون سے چکاتی ہے، دوبارہ آبادگاری کی قیمت ہم بھگت رہے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے پر کنفیوژن اور بیانیے نہ بنائیں خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس پر توجہ دیں، بجائے بیانیے بنانے، سیاست کرنے کے گڈ گورننس پر توجہ ہونی چاہئے، وہ ہم نے نہیں کرنا اسلئے یہ سیاست کرتے ہیں،نو مئی واقعات میں ملوث لوگوں کو اپنے انجام تک پہنچنا چاہیے۔ برطانیہ میں ہونیوالے نسلی فسادات میں بالغ اور نابالغ سب کو تیزی سے سزائیں دی گئیں، امریکہ میں کیپیٹل ہل میں ملوث لوگوں کو تیزی سے سزائیں دی گئیں، فرانس میں فسادات میں ملوث لوگوں کو تیزی سے سزائیں دی گئیں تو پھر پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔

    فوجی عدالتوں کے فیصلے سے واضح پیغام جاتا ہے کہ مستقبل میں بھی کوئی ایسے معاملات میں ملوث ہو گا تو اُسے ہر صورت سزا ملے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر
    جو لوگ فوجی عدالتوں کی مخالفت کررہے ہیں کچھ عرصہ قبل تک وہ خود اس کے سب سے بڑے حامی تھے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    کہا جاتا نومئی فالس فلیگ آپریشن ہے فوج نے خود کروایا تو آپ کو تو خوش ہونا چاہیے فوج اپنے بندوں کو سزائیں دے رہی ہے انتشار یوں کو تکلیف کیوں ہو رہی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    نو مئی کے گھناونے کردار اور منصوبہ ساز کو انجام تک پہنچانے تک انصاف کا سلسلہ جاری رہے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ نومئی پر افواج پاکستان کا مؤقف واضح ہے، نومئی افواج کا نہیں عوام پاکستان کا مقدمہ ہے، یہ بات واضح ہونی چاہئے، اگر کوئی جتھہ،مسلح ،پرتشدد گروہ اپنی مرضی، سوچ معاشرے پر مسلط کرنا چاہے اور اسکو قانون کے مطابق نہ روکا جائے تو ہم معاشرے کو کس طرف لے کر جائیں گے، 2023 میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی رو میں ملٹری کورٹس میں جن کو ریفر کیا گیا تھا وہ منجمد کر دیا گیا تھا، اب سپریم کورٹ نے جب فیصلے دینے کو کہا تو تمام قانونی تقاضوں کو دیکھتے ہوئے،قانونی عمل پورا کر کے ان افراد کو سزائیں دی گئیں، واضح پیغام ہے کہ اس طرح کے معاملات میں کوئی گنجائش نہیں، مستقبل میں بھی اس طرح ہو گا تو سزا ہو گی، پاکستان میں ملٹری کورٹس آئین ،قانون کے مطابق دہائیوں سے قائم ہیں، یہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتی ہیں،ملٹری کورٹس میں ملزمان کو اپنا وکیل کرنے سمیت تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں، سزا ہو جائے تو مجرموں کواپیل کا حق حاصل ہے، آرمی چیف، ہائیکورٹ، سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں، یہ فیصلے اس وقت سنائے گئے جب سپریم کورٹ نے حکم دیا، نومئی کا کسی طرح دفاع نہیں کر سکتے اسلئے ملٹری کورٹ بارے پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، ابھی جو عناصر بات کر رہے ہیں وہ خود کچھ عرصہ قبل ملٹری کورٹ کے حامی تھے،یہ بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ فوج نے خود یہ کروایا، فالس فلیگ، تو پھر اگر ہم نے ان فوج کے بندوں کو سزائیں دے دیں تو انکو خوش ہونا چاہئے، یہ منافقت اور فریب کی آخری حدوں کو کراس کر چکے ہیں، انسداد دہشت گردی عدالتوں میں بھی نو مئی کے مقدموں کو انجام تک پہنچانا چاہئے،نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں ، کچھ لوگ اپنی سیاست کے لئے ان میں زہر ڈالتے ہیں، جو اس بیانیے پروپیگنڈے کی بنیاد رکھتے ہیں اصل ملزم وہی ہیں، انصاف کا سلسلہ اسی وقت چلے گا جب تک نومئی کے منصوبہ ساز کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکتا،

    یہ خوش آئند ہے کہ سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر اپنے سیاسی اختلافات حل کریں نہ کہ انتشاری اور پرتشدد سیاست کے ذریعے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھی واضح کر چکا،دوبارہ کہتا ہوں کہ افواج پاکستان کا ہر حکومت کے ساتھ سرکاری ، پیشہ وارانہ تعلق ہوتا ہے، سرکاری تعلق کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، پاکستان کی فوج قومی فوج ہے، ہمارے لئے تمام سیاسی پارٹیاں، رہنما قابل احترام ہیں، کوئی فرد واحد اور اُس کی سیاست اور اقتدار کی خواہش پاکستان سے بالاتر نہیں ہے، پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی حکومتیں موجود ہیں، سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے، یہ خوش آئند بات ہے کہ سیاستدان مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کریں نہ کہ انتشار کے ذریعے.

    جو فوجی افسر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا، اُسے جواب دینا ہو گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید کو فوجی عدالت میں تمام حقوق حاصل ہیں،فوج میں خود احتسابی کا نظام اہم ہے، نومئی کے پیچھے مضبوط منصوبہ بندی تھی جو بھی اس میں شامل تھے اس کو کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے، ہر افسر کے لئے ریاست پاکستان مقدم ہے،کوئی بھی آفیسر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا تو اسکو جواب دینا پڑے گا، فیض حمید کا کیس حساس کیس ہے غیر ضروری تبصروں ،تجزیوں سے گریز کیا جائے،

    سیاسی قیادت کے بھاگنے کی وجہ سے جگ ہنسائی سے بچنے کےلئے ہلاکتوں کا بیانیہ بنایا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے کی گئی نومبر سازش سیاسی دہشت گردی ہے، یہ منفی تشدد کی سیاست کا سلسلہ 2014 میں جب پارلیمنٹ پر حملہ ہوا، سرکاری املاک پر حملہ ہوا، 2022 میں بھی، 2023 میں بھی اور اسی کا تسلسل اب 2024 میں دیکھا، عوام کے شعور کی وجہ سے تمام کوششیں ناکام ہوئیں، آئندہ بھی ناکام ہوں گی، فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک تھی۔ جب پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو شہید کیا جاتا ہے تو یہ سیاسی احتجاج نہیں سیاسی دہشت گردی ہے۔فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک محدود تھی، وہ پرتشدد ہجوم کے ساتھ براہ راست کنٹیکٹ میں نہیں رہی، نہ ہی اُسے اِس لئے تعینات کیا گیا، دشمن پریشان ہے کہ باوجود دہشتگردی، سیاسی انتشاریوں اور جھوٹے پروپیگنڈا کے یہ ملک ترقی کر کیسے رہا ہے،آپ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک دم پوری دنیا سے انسانی حقوق کی تنظیمیں قانونیت اور انسانی حقوق کا منفافقانہ پرچار کرنے کےلئے’’پاپ اپ‘‘ہو جاتی ہیں،پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے پیچھے سوشل میڈیا اور اُسے چلانے والے ہیں، قانون اور آئین پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن کیلوں والے ڈنڈوں، اسلحے اور شیل لے کر دھاوا بول کر پولیس اور رینجرز کو شہید کرتے ہیں تو یہ سیاسی احتجاج نہیں، سیاسی دہشتگردی ہے،26 نومبر کو ڈی چوک میں سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کو آتشیں اسلحہ دیا ہی نہیں گیا تھا، جب سیاسی قیادت وہاں سے بھاگی تو پہلے سے تیار شدہ سوشل میڈیا فیک کانٹینٹ کو بڑی سپیڈ کے ساتھ ڈالا گیا،جو لوگ پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلا رہے ہیں ان سے میری درخواست ہے وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے خلاف بھی سوشل میڈیا مہم چلائیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو جو واضح اور کھلی بربریت غزہ اور کشمیر میں ہورہی ہے وہ ان کو نظر نہیں آرہی ان کو شام اور لیبیا میں ہوتے ہوئے مظالم نظر نہیں آرہے اور یہاں پاکستان میں ان دیکھی لاشوں پر آپ دیکھیں گے کہ ان کے جذبات بے قابو ہوجائیں گے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ کرم کا ایشو قبائلی اور زمینی تنازعہ ہے۔ اسکو صوبائی حکومت اور سیاست دانوں نے حل کرنا ہے بجائے اس کے کہ اس کا ملبہ اداروں پر ڈالا جائے۔

  • خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان افغانستان سے کام کر رہی ہے خطے میں امن کیلئے افغانستان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں خواہش ہے افغانستان سے بہتر تعلقات ہوں۔

    وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بطور پڑوسی افغانستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن بدقسمتی سے کالعدم ٹی ٹی پی آج بھی وہاں سے آپریریٹ کر رہی ہے جو ناقابل قبول ہے،پارا چنار میں وفاقی حکومت نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادویات پہنچائیں، ہیلی کاپٹر کے ذریعے کرم سے مریضوں کو اسلام آباد شفٹ کیا گیا،سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف پوری طرح صف آرا ہیں،افغانستان کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے، چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک معاشی اور دیگر شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں لیکن افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں حملے کر رہے ہیں،افغانستان کو بارہا کہا کہ کالعدم تنظیم کو وہاں سے آپریٹ کرے گی تو یہ قبول نہیں، افغان حکومت کو کہنا چاہتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف ٹھوس حکمت علی پر بات چیت کیلئے تیار ہیں، پاکستان کی سالمیت کے بھرپور دفاع کا حق رکھتے ہیں۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران بے نظیر بھٹو شہید کو تاریخی خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو جمہوریت کی علمبردار، مفاہمت کی مضبوط حامی اور استقامت کی علامت بنیں، میثاق جمہوریت بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی پائیدار سیاسی سمجھ بوجھ کا ثبوت ہے،آج ہم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی 17ویں برسی منا رہے ہیں۔ میں ان کے خاندان، خاص طور پر صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کے پیروکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو فخر کے ساتھ ان کے وژن اور ان کے نظریات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔27دسمبر2007کو محترمہ بے نظیربھٹوکوراولپنڈی میں شہیدکیاگیا.شہیدبےنظیربھٹوایک جراتمنداوردلیرخاتون تھیں.شہیدبےنظیربھٹوکو اسلامی دنیامیں پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہونے کااعزازحاصل ہوا.شہیدبےنظیربھٹواورنوازشریف کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے.میثاق جمہوریت کی دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی حمایت کی. شہیدبے نظیربھٹوکی قربانی ہم سب کےلیے ایک مثال ہے.اللہ تعالیٰ شہیدبےنظیربھٹوکےدرجات بلند اورخاندان کو صبرجمیل عطاکرے.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاراچنارمیں ادویات کی قلت کے حوالے سے میڈیامیں خبریں زیرگردش تھیں.وفاقی حکومت نےفوری طور پر پاڑاچنارمیں ادویات کی کھیپ بھجوائی.اب تک ایک ہزارکلوگرام ادویات پاڑاچناربھجوائی جاچکی ہیں.پاڑاچنارسے مریضوں کو ہیلی کاپٹرکے ذریعےدوسرے شہروں میں منتقل کیاگیا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسزبہادری سے دہشتگردوں کیخلاف نبردآزماہیں.گزشتہ روز ہماری سکیورٹی فورسز نے کئی خوارج کو جہنم واصل کیا.جھڑپ کے دوران پاکستان آرمی کے ایک میجر شہیدہوئے.بدقسمتی سے افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہورہی ہے.افغانستان ہماراہمسایہ ، ہماری ہزاروں کلومیٹرسرحدمشترک ہے.خواہش ہے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہترہوں اورمعاشی میدان میں تعاون فروغ پائے. افغا ن سرزمین پر کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنائی جائے.افغان حکام کے ساتھ بات چیت کیلئے تیارہیں ،مسئلے کے حل کیلئے وہ ٹھوس حکمت عملی اپنائے.کالعدم ٹی ٹی پی کو کسی صورت کارروائیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہئے.کالعدم ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین سے کارروائیاں ہمارے لئے ریڈلائن ہیں.کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں.پاکستان کی سالمیت کے تقاضوں کاہرصورت دفاع کریں گے.کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو شہیدکرتےہیں.افغان حکام فی الفورنوٹس لیں اور ٹھوس حکمت عملی اپنائیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آذربائیجان کے صدرکے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے.آذربائیجان کے صدرسے طیارہ حادثے پر اظہارہمدردی کیاہے.آذربائیجان کے صدرپاکستان کے خیرخواہ ہیں.خوشخبری ہے کہ آئی سی سی کے ایونٹس پاکستان میں ہونے جارہے ہیں.آئی سی سی ایونٹ کے لیے تمام ترتیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں. کرکٹ ایونٹ عوام کی دلجوئی کے لیے ایک اچھاموقع ہے.تنازعات کے متبادل حل کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے.اے ڈی آرکامسئلہ حل ہونے سے 70ارب روپے موصول ہوں گے

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    نواز شریف کے پوتے کی نکاح کی تقریب میں تلاوت، ویڈیو وائرل

  • سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

    پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما، بے نظیر بھٹو شہید کی 17 ویں برسی کے موقع پر ملک بھر میں عقیدت اور احترام کے ساتھ مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی شخصیت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام میں ایک منفرد شناخت رکھتی تھی۔ وہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعظم اور ایک ایسی سیاسی رہنما تھیں جنہوں نے اپنی زندگی میں متعدد سیاسی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کیا۔

    بے نظیر بھٹو نے اپنی سیاست کا آغاز بہت کم عمری میں کیا اور 1988 میں پہلی بار پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے کئی ترقیاتی اقدامات کیے، تاہم ان کا سیاسی سفر آسان نہیں تھا۔ بے نظیر بھٹو کو جنرل ضیاالحق کی آمریت کا سامنا بھی تھا، اور پھر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف بھی وہ کھڑی رہیں۔بے نظیر بھٹو 2007 میں طویل جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس آئیں۔ ان کی وطن واپسی کے بعد 18 اکتوبر 2007 کو کراچی میں ایک بڑے استقبالیہ جلوس کے دوران خود کش دھماکے ہوئے جس میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے اور بے نظیر بھٹو بال بال بچ گئیں۔ یہ حملہ ان کی زندگی کا ایک سنگین لمحہ تھا، لیکن وہ پھر بھی اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹیں۔27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو پاکستان کے شہر راولپنڈی میں لیاقت باغ میں ایک جلسے سے خطاب کے بعد واپس جا رہی تھیں کہ ایک حملہ آور نے ان پر فائرنگ کی اور ایک خودکش دھماکا کیا۔ اس حملے میں بے نظیر بھٹو شہید ہو گئیں۔ ان کی شہادت نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا اور ملک بھر میں ایک گہری غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

    آج بے نظیر بھٹو کی 17 ویں برسی کے موقع پر ان کے آبائی شہر لاڑکانہ میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنما مزار شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پر پھولوں کی چادر چڑھانے کے لیے گڑھی خدا بخش پہنچ رہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں بشمول صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، اور دیگر خاندان کے افراد نے گڑھی خدا بخش میں مزار پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں بے نظیر بھٹو کے لیے عقیدت اور محبت کا جذبہ دیدنی تھا۔

    بے نظیر بھٹو کی سیاست کا مقصد ہمیشہ پاکستان کی عوام کی خدمت رہا اور ان کی قربانیوں کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی سطح پر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی سیاست نے خواتین کے حقوق، جمہوریت کی بحالی اور معاشرتی انصاف کے شعبوں میں بہت سے سنگ میل طے کیے۔ان کی 17 ویں برسی کے موقع پر ان کے شیدائی ایک بار پھر ان کے پیغام کو زندہ رکھنے اور ان کے سیاسی مشن کو جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔

    بے نظیر بھٹو کی 17 ویں برسی کے موقع پر پورے پاکستان میں ان کی یاد میں تقاریب جاری ہیں۔ ان کی قربانیوں اور سیاسی وراثت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی شہادت ایک کربناک واقعہ تھی، لیکن ان کا عزم اور حوصلہ آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔

    ےنظیر بھٹو نے ایسے پاکستان کا خواب دیکھا جہاں عوام کی طاقت راج کرے گی.صدر مملکت
    صدر آ صف علی زرداری کا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے یو م شہادت پر پیغام میں کہا ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے 17ویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں.شہید بے نظیر بھٹو امید، استقامت ،جمہوریت اور انصاف کے اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی کا پیکر تھیں.شہید بی بی ہم سب کیلئے مشعل راہ تھیں.بےنظیر بھٹو نے ایسے پاکستان کا خواب دیکھا جہاں عوام کی طاقت راج کرے گی.شہید بے نظیر کے’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘کے الفاظ استبداد اور آمریت کا منہ توڑ جواب تھے.بے نظیر بھٹو کا عوامی طاقت پر گہرا اعتماد تھا.شہید بے نظیر بھٹو ایسے پاکستان کی خواہاں تھی جہاں ہر بچے کو تعلیم تک رسائی حاصل ہو.شہید بے نظیر بھٹو ایسا پاکستان چاہتی تھیں جہاں انصاف ایک آسائش نہیں بلکہ حق ہو.شہید بی بی نے تمام زندگی معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی خودمختاری کیلئے کام کرنے میں صرف کی.شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی بے پناہ جراٴت کا سفر تھی.شہید بے نظیر بھٹو ہمارے لیے تحریک اور ہمت کا باعث تھیں.شہید بی بی جمہوریت کی بحالی و استحکام،عوام کے سیاسی،معاشی اور سماجی حقوق کیلئے آمریتوں کے خلاف ڈٹی رہیں.شہید بے نظیر نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ”ناانصافی اور ظلم کے خلاف جنگ میری زندگی کی جنگ ہے”.محترمہ بے نظیربھٹو شہید آج بھی لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں.شہید بے نظیر بھٹو کے پرامن،ترقی پسند اور جمہوری پاکستان کے وژن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں.شہید بے نظیر بھٹو کا نظریہ آج بھی زندہ ہے.شہید بی بی نے ایک متحد،ہمہ گیر اور انصاف پر مبنی پاکستان کی تعمیر کیلئے کام کرنے کا درس دیا.شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور ہمارے خاندان نے جمہوریت اور پاکستان کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا.ہمیں بحیثیت قوم ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے کیلئے شہید بی بی کے وژن سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے.آئیے،شہید بے نظیر بھٹو کے ایک پرامن،ترقی پسند اور جمہوری پاکستان کے خواب کی تکمیل کیلئے مل کر کام کریں.شہید بے نظیر بھٹو کی میراث ابدی،وژن مشعل راہ ہے۔پاکستان کھپے،

  • خیبرپختونخوا کے 3 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 13 خوارج ہلاک، میجر شہید

    خیبرپختونخوا کے 3 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 13 خوارج ہلاک، میجر شہید

    راولپنڈی: سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں تین آپریشنز کے دوران 13 خوارج کو ہلاک کردیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے میجر نے جام شہادت نوش کیا۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 25 اور 26 دسمبر کو سیکیورٹی فورسز کے تین علیحدہ آپریشنز کے دوران 13 خوارج ہلاک کر دیے گئے، پہلا آپریشن ضلع بنوں کے علاقے جانی خیل میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور دو خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    دوسرا آپریشن شمالی وزیرستان میں کیا گیا، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں پانچ خوارج مارے گئے اور آٹھ زخمی حالت میں گرفتار ہوئےاس آپریشن میں بہادری سے قیادت کرنے والے 31 سالہ میجر محمد اویس (ضلع نارووال کے رہائشی) نے جام شہادت نوش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تیسرا آپریشن جنوبی وزیرستان میں کیا گیا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے چھ خوارج کو ہلاک اور آٹھ کو زخمی کر دیا علاقے میں مزید خوارج کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمارے اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے شمالی وزیرستان کے علاقے میں خوارجی دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجر محمد اویس کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت کیا۔

    انہوں نے کہا کہ شہید میجر محمد اویس نے وطن کے امن کی خاطر اپنی جان قربان کی، اُن کی بہادری پر قوم کو فخر ہے، قوم کا بہادر سپوت وطن پر قربان ہو کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا میجر محمد اویس نے بہادری سے خوارجی دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کا بلند رتبہ پایا۔

    انہوں نے کہا کہ شہید میجر محمد اویس کی عظیم قربانی کو قوم سلام پیش کرتی ہے اور ہم شہید میجر محمد اویس کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید سکیورٹی فورسز کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہےوزیرداخلہ محسن نقوی کا شہید میجر محمد اویس کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا اور 13 خوارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی تحسین کیا۔

  • فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران فوجی عدالتوں کے ذریعے متعدد سویلین افراد کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔عمران خان نے فوجی عدالتوں کی حمایت کی تھی تو وہیں مراد سعید نے بھی فوجی عدالتوں کے حق میں بیانات دیئے تھے،

    2018 سے لے کر 2022 تک فوجی عدالتوں میں ہونے والے سویلین ٹرائلز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 2018 میں فوجی عدالتوں میں 25 سویلین افراد کا ٹرائل ہوا، جبکہ 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 61 تک پہنچ گئی۔ 2020 میں 46 سویلین، 2021 میں 36 سویلین اور 2022 میں 12 سویلین افراد کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے سویلین افراد پر مقدمات کا آغاز اور ان کے خلاف سزائیں دی گئیں۔پاکستان میں 1972 سے 2023 تک فوجی عدالتوں میں مجموعی طور پر 1875 سویلین افراد کا ٹرائل ہو چکا ہے اور ان پر مختلف نوعیت کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔ ان سزاؤں پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی کیا جا چکا ہے۔ ان افراد میں دہشت گردی، شدت پسندی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں جن کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے۔

    اگرچہ فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا مؤثر جواب دینا تھا، مگر ان عدالتوں کے خلاف سیاسی بیان بازی بھی زور پکڑ گئی ہے۔ اس بات پر تنقید کی جاتی ہے کہ فوجی عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر سکتی ہیں اور ان کے فیصلے ہمیشہ شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اُترتے۔ یہ بات خاص طور پر اہمیت کی حامل ہے کہ جن جماعتوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی، وہ خود بھی اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کی حمایت اور استعمال کرتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما آج فوجی عدالتوں کے خلاف بیانات دیتے ہیں، مگر ان کے اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کے ذریعے 180 سویلین کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔ اس تناقض پر سوال اٹھتا ہے کہ کس طرح ایک ہی سیاسی جماعت ایک وقت میں فوجی عدالتوں کی حمایت کرتی ہے اور بعد میں ان کے خلاف سخت بیانات دیتی ہے۔

    اگر تحریک انصاف اپنے ماضی کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہے کہ "کل ہمارا موقف غلط تھا”، تو شاید اس میں کوئی وزن نظر آ سکتا ہے۔ لیکن جب ایک جماعت اپنے موقف میں واضح تبدیلی لاتی ہے اور اس میں کوئی معقول جواز پیش نہیں کرتی، تو عوامی سطح پر اس کے بیانات کو ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    پاکستان میں 9 مئی کے دوران ہونے والے ہنگامہ آرائی کے بعد فوجی عدالتوں نے آج ان مجرموں کو سزائیں سنا دی ہیں جنہوں نے پاکستان کی فوجی تنصیبات پر حملے کی کوشش کی تھی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے موقف پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ فوجی عدالتوں میں سیاسی رہنماؤں اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی، لیکن آج جب ان کی جماعت کے کارکنان کو ان عدالتوں میں سزا ملی ہے تو پارٹی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور دیگر رہنماؤں بشمول مراد سعید نے ماضی میں فوجی عدالتوں کے ذریعے سیاسی مخالفین، میڈیا پرسنز اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی۔ ان رہنماؤں نے ہمیشہ اس بات کا دفاع کیا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوجی عدالتوں کا استعمال ضروری ہے۔ بانی تحریک انصاف، عمران خان نے بھی اکثر فوجی اداروں کو سپورٹ کیا اور ان کے کردار کو سراہا۔تاہم، 9 مئی کے حملوں کے بعد جب ان کے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا سامنا ہے، تو پی ٹی آئی کی قیادت کی زبان بدل گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس بات کا بار بار اعادہ کیا جا رہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے انصاف کا عمل شفاف اور منصفانہ نہیں ہو رہا، جو کہ ان کی سابقہ پوزیشن کے بالکل برعکس ہے۔

    9 مئی کے دن پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نہ صرف سول حکومت کے خلاف احتجاج کیا بلکہ پاکستان کی فوجی تنصیبات، بشمول آئی ایس آئی کے دفاتر، پر حملے کی کوشش کی۔ ان حملوں کو ملک میں غداری کے مترادف قرار دیا گیا اور فوجی عدالتوں کے ذریعے مجرموں کا ٹرائل کیا گیا۔تاہم پی ٹی آئی نے فوجی عدالتوں کے اس استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہیں اور ان میں شفافیت کا فقدان ہے۔ پارٹی کی قیادت نے ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے ہیں، حالانکہ ماضی میں خود انہوں نے ان عدالتوں کی حمایت کی تھی۔

    جب ان کے کارکن فوجی عدالتوں میں سزا پا چکے ہیں، تو پی ٹی آئی کی قیادت نے سیاست چمکانے کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو ان کے مشکل وقت میں چھوڑ دیا تھا۔ پی ٹی آئی نے 9 مئی کے بعد اپنے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں پیش ہونے یا ان کی قانونی مدد کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں دکھایا۔ اس کے برعکس، انہوں نے اپنے کارکنوں کو “سول کپڑوں میں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار” قرار دیا، جو ایک متنازعہ اور بے بنیاد موقف تھا۔پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے حامیوں نے ہمیشہ فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ پروان چڑھایا تھا۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کے ٹرولز نے بار بار پاکستان کی فوج کو میر جعفر اور میر صادق کے طور پر پیش کیا، جس سے نوجوانوں میں فوج کے خلاف نفرت کا جذباتی ماحول پیدا کیا گیا۔ یہ وہ بیانیہ تھا جس کا منطقی نتیجہ 9 مئی کے حملوں کی صورت میں نکلا، جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا۔

    آج، جب فوجی عدالتوں نے ان مجرموں کو سزا سنائی ہے، تو پی ٹی آئی کو ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ کہا تھا کہ ملک میں امن کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام ضروری ہے، اور آج ان عدالتوں نے اپنے ہی کارکنوں کو سزائیں دی ہیں۔ اب اس پر اعتراض کرنا پی ٹی آئی کے لیے اخلاقی طور پر جائز نہیں ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کی فکر کرتی تو اس نے انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑا ہوتا اور ان کے قانونی حقوق کے لیے جنگ کی ہوتی۔

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    نو مئی کے مزید ساٹھ مجرموں کو سزائیں، کل تعداد 85 ہوگئی ہے،آج پی ٹی آئی کے مزید 60 بلوائیوں کو نو مئی کے فسادات میں ملوث ہونے پر سزائیں سنائی گئی ہیں، جس کے بعد ان مجرموں کی تعداد 85 ہوگئی ہے۔ نو مئی کے فسادات میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات، سرکاری املاک اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامی حالات پیدا ہوگئے تھے۔

    یہ فسادات اس وقت ملک کی سیاست کا اہم موضوع بن گئے تھے، اور ان میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور مقدمات کے سلسلے میں مسلسل پیشرفت ہو رہی ہے۔ تاہم، ایک المیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی قیادت میں سے کسی نے بھی ان بلوائیوں کا مقدمہ لڑنے کی کوشش نہیں کی۔عمران خان اور ان کی جماعت کے قائدین مسلسل اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ فوجی عدالتیں غیر انسانی ہیں، اور ان کے کارکنوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ موقف محض سیاسی مفادات کے تحت اپنایا گیا ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کی جماعت کو اس بات کا خوف ہے کہ عمران خان کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں ہو گا ،خان کو یقین ہے کہ وہاں کیس اتنے مضبوط شواہد کے ساتھ پیش کیا جائیگا جس کیے بعد اس کے خلاف کہیں اپیل بھی منظور نہیں ہوسکے گی

    نو مئی کا واقعہ کوئی راز نہیں ہے۔ آج ہر فرد کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح ایک مخصوص جماعت کے سیاستدانوں اور ان کے حمایتیوں نے افواج پاکستان، خفیہ ایجنسیوں اور سپاہ سالار کے خلاف زہر بھری تقاریر کیں اور ملک میں انتشاری فضا پیدا کی۔مذکورہ سیاستدانوں نے اپنے کارکنوں کو بلوائیوں کی صورت میں میدان میں اُتارا اور عوامی املاک، فوجی تنصیبات اور اہم سرکاری اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم، 9 مئی کے بعد جب فسادیوں کے چہرے بے نقاب ہوئے، تو عوام نے ان کی حمایت کرنا بند کر دیا اور انہیں مسترد کر دیا۔

    نو مئی کے فسادات کے بعد ایک نیا بیانیہ سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ سب کچھ ایک "فالس فلیگ آپریشن” تھا۔ یعنی یہ فسادات حکومت یا ریاستی اداروں کی جانب سے کسی مقصد کے لیے خود کیے گئے تھے تاکہ کسی خاص گروہ کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکے۔ لیکن عوام ان دعووں سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ عوام نے اس بیانیہ کو مسترد کردیا اور ان سیاستدانوں کی حقیقت کو پہچان لیا جو عوام کو ہمیشہ بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمران خان جانتے تھے کہ فوجی عدالتوں میں ان کے کارکنوں کے خلاف فیصلہ آنا تقریباً یقینی تھا اور اس کے بعد ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے خلاف عالمی سطح پر شور مچاتے ہیں۔

    نو مئی کے فسادات کے حوالے سے عدالتوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور ان فسادات میں ملوث افراد کو سزا دی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سارے معاملے میں عمران خان اور ان کی جماعت نے اپنی اخلاقی ذمہ داری سے انکار کیا ہے اور اپنے کارکنوں کا مقدمہ لڑنے کے بجائے انہیں سیاسی ہمدردی کے بہانے ایک بار پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ 9 مئی کا واقعہ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن چکا ہے، اور عوام نے اس کی حقیقت کو جان لیا ہے۔

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید مجرمان کو سزائیں سنا دی گئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائی گئی ہے،جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللّٰہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے، جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔بریگیڈیئر رجاوید اکرم کو 6 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے،

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائیں، سزا پانے والے 60 مجرمان کی تفصیلات درجہ زیل ہیں۔
    جناح ہاؤس حملہ
    • حسان خان نیازی: 10 سال قید بامشقت
    • میاں عباد فاروق: 2 سال قید بامشقت
    • رئیس احمد: 6 سال قید بامشقت
    • ارزم جنید: 6 سال قید بامشقت
    • علی رضا: 6 سال قید بامشقت
    • بریگیڈیئر (ر) جاوید اکرم: 6 سال قید بامشقت
    • محمد ارسلان: 7 سال قید بامشقت
    • محمد عمیر: 6 سال قید بامشقت
    • نعمان شاہ: 4 سال قید بامشقت

    جی ایچ کیو حملہ
    • راجہ دانش: 4 سال قید بامشقت
    • سید حسن شاہ: 9 سال قید بامشقت
    • محمد عبداللہ: 4 سال قید بامشقت

    اے آئی ایم ایچ، راولپنڈی حملہ
    • علی حسین: 7 سال قید بامشقت
    • فرہاد خان: 7 سال قید بامشقت

    پنجاب رجمنٹ سنٹر، مردان حملہ
    • زاہد خان: 2 سال قید بامشقت

    ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس، تیمرگرہ حملہ
    • سہراب خان: 4 سال قید بامشقت
    • محمد سلیمان: 2 سال قید بامشقت
    • اسد اللہ درانی: 4 سال قید بامشقت

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملہ
    • خرم لیاقت: 4 سال قید بامشقت
    • پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ: 3 سال قید بامشقت

    قلعہ چکدرہ حملہ
    • ذاکر حسین: 7 سال قید بامشقت
    • اکرام اللہ: 4 سال قید بامشقت
    • رئیس احمد: 4 سال قید بامشقت
    • گوہر رحمان: 7 سال قید بامشقت

    بنوں کینٹ حملہ
    • امین شاہ: 9 سال قید بامشقت
    • اکرام اللہ: 9 سال قید بامشقت
    • ثقلین حیدر: 9 سال قید بامشقت
    • عزت گل: 9 سال قید بامشقت
    • نیک محمد: 9 سال قید بامشقت
    • رحیم اللہ: 9 سال قید بامشقت
    • خالد نواز: 9 سال قید بامشقت

    پی اے ایف بیس میانوالی حملہ
    • فہیم ساجد: 8 سال قید بامشقت
    • احسان اللہ خان: 10 سال قید بامشقت
    • محمد بلال: 4 سال قید بامشقت

    فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملہ
    • حمزہ شریف: 2 سال قید بامشقت
    • امجد علی: 2 سال قید بامشقت
    • محمد فرخ: 5 سال قید بامشقت
    • محمد سلمان: 2 سال قید بامشقت
    • فہد عمران: 9 سال قید بامشقت

    دیگر حملے
    • راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملہ: محمد احمد (2 سال قید بامشقت)، منیب احمد (2 سال قید بامشقت)
    • گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملہ: محمد ایاز (2 سال قید بامشقت)
    • تمام مقدمات آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے گئے۔
    • مجرموں کو اپیل اور دیگر قانونی حقوق حاصل ہیں۔
    • مسلح افواج، حکومت، اور عوام انصاف کے قیام اور ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہیں۔

    ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں ،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کے مطابق اِس کے ساتھ ہی فوجی حراست میں لئے جانے والے 9 مئی کے ملزمان پر
    چلنے والے مقدمات کی سماعت متعلقہ قوانین کے تحت مکمل کر لی گئی ہے،تمام مجرموں کے پاس اپیل کا حق اور دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں، جیسا کہ آئین اور قانون میں ضمانت دی گئی ہے،قوم، حکومت اور مسلح افواج انصاف اور ریاست کی ناقابل تسخیر رٹ کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم میں ثابت قدم ہیں

    سزا پانے والے 60 مجرمان کی تفصیلات درجہ زیل ہیں

    1۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت
    2۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت
    3۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث رئیس احمد ولد شفیع اللہ کو 6 سال قید بامشقت
    4۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث ارزم جنید ولد جنید رزاق کو 6 سال قید بامشقت
    5۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی رضا ولد غلام مصطفی کو 6 سال قید بامشقت
    6۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ دانش ولد راجہ عبدالوحید کو 4 سال قید بامشقت
    7۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث سید حسن شاہ ولد آصف حسین شاہ کو 9 سال قید بامشقت
    8۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی پر حملے میں ملوث علی حسین ولد خلیل الرحمان کو 7 سال قید بامشقت
    9۔ پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد نبی کو 2 سال قید بامشقت
    10۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤنٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث سہراب خان ولد ریاض خان کو4 سال قید مشقت
    11۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث بریگیڈئر (ر) جاوید اکرم ولد چودھری محمد اکرم کو 6 سال قید بامشقت
    12۔ ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم لیاقت ولد لیاقت علی شاہد کو 4 سال قید بامشقت
    13۔قلعہ چکدرہ حملے میں ملوث ذاکر حسین ولد شاہ فیصل کو 7 سال قید بامشقت
    14۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث امین شاہ ولد مشتر خان کو 9 سال قید بامشقت
    15۔پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث فہیم ساجد ولد محمد خان کو 8 سال قید بامشقت
    16۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث حمزہ شریف ولد محمد اعظم کو 2 سال قید بامشقت
    17۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد ارسلان ولد محمد سراج کو 7 سال قید بامشقت
    18۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمیر ولد عبدالستار کو 6 سال قید بامشقت
    19۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث نعمان شاہ ولد محمود احمد شاہ کو 4 سال قید بامشقت
    20۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد خانزادہ خان کو 9 سال قید بامشقت
    21۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث محمد احمد ولد محمد نذیر کو 2 سال قید بامشقت
    22۔ ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث پیرزادہ میاں محمد اسحق بھٹہ ولد پیرزادہ میاں قمرالدین بھٹہ کو 3 سال قید بامشقت
    23۔ جی ایچ کیو حملے میں ملوث محمد عبداللہ ولد کنور اشرف خان کو 4 سال قید بامشقت
    24۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث امجد علی ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت
    25۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد رحیم ولد نعیم خان کو 6 سال قید بامشقت
    26۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث احسان اللہ خان ولد نجیب اللہ خان کو 10 سال قید بامشقت
    27۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ حملے میں ملوث منیب احمد ولد نوید احمد بٹ کو 2 سال قید بامشقت
    28۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد علی ولد محمد بوٹا کو 2 سال قید بامشقت
    29۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث سمیع اللہ ولد میر داد خان کو 2 سال قید بامشقت
    30۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں محمد اکرم عثمان ولد میاں محمد عثمان کو 2 سال قید بامشقت
    31۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث مدثر حفیظ ولد حفیظ اللہ کو 6 سال قید بامشقت
    32۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث سجاد احمد ولد محمد اقبال کو 4 سال قید بامشقت
    33۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خضر حیات ولد عمر قیاض خان کو 9 سال قید بامشقت
    34۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد نواز ولد عبدالصمد کو 2 سال قید بامشقت
    35۔ پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث محمد بلال ولد محمد افضل کو 4 سال قید بامشقت
    36۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان کو 2 سال قید بامشقت
    37۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث اسد اللہ درانی ولد بادشاہ زادہ کو 4 سال قید بامشقت
    38۔چکدرہ قلعے پر حملے میں ملوث اکرام اللہ ولد شاہ زمان کو 4 سال قید بامشقت
    39۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد فرخ ولد شمس تبریز کو 5 سال قید بامشقت
    40۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث وقاص علی ولد محمد اشرف کو 6 سال قید بامشقت
    41۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث امیر ذوہیب ولد نذیر احمد شیخ کو 4 سال قید بامشقت
    42۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی حملے میں ملوث فرہاد خان ولد شاہد حسین کو 7 سال قید بامشقت
    43۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمرگرہ حملے میں ملوث عزت خان ولد اول خان کو 2 سال قید بامشقت
    44۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ کو 2 سال قید بامشقت
    45۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث ثقلین حیدر ولد رفیع اللہ خان کو 9 سال قید بامشقت
    46۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث محمد سلمان ولد زاہد نثار کو 2 سال قید بامشقت
    47۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث حامد علی ولد سید ہادی شاہ کو 3 سال قید بامشقت
    48۔ راہولی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث محمد وقاص ولد ملک محمد کلیم کو 2 سال قید بامشقت
    49۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث عزت گل ولد میردادخان کو 9 سال قید بامشقت
    50۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث حیدر مجید ولد محمد مجید کو 2 سال قید بامشقت
    51۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث گروپ کیپٹن وقاص احمد محسن(ریٹائرڈ) ولد بشیر احمد محسن کو 2 سال قید بامشقت
    52۔ ہیڈکوارٹر دیر سکاؤٹس تیمر گرہ حملے میں ملوث محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم کو 2 سال قید بامشقت
    53۔گیٹ ایف سی کینٹ پشاور حملے میں ملوث محمد ایاز ولدصاحبزادہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    54۔چکدرہ قلعے حملے میں ملوث رئیس احمد ولد خستہ رحمان کو 4 سال قید بامشقت
    55۔ چکدرہ قلعے حملے میں ملوث گوہر رحمان ولد گل رحمان کو 7 سال قید بامشقت
    56۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث نیک محمد ولد نصر اللہ جان کو 9 سال قید بامشقت
    57۔ فیصل آباد آئی ایس آئی آفس حملے میں ملوث فہد عمران ولد محمد عمران شاہد کو 9 سال قید بامشقت
    58۔ راہوالی گیٹ گوجرانوالہ کینٹ حملے میں ملوث سفیان ادریس ولد ادریس احمد کو 2 سال قید بامشقت
    59۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث رحیم اللہ ولد بیعت اللہ کو 9 سال قید بامشقت
    60۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث خالد نوازولد حامد خان کو 9 سال قید بامشقت

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

  • عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان حکومت کی تعریفیں کرنے لگے

    عمران خان آج اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر صحافی بھی موجود تھے،صحافیوں نے عمران خان سے سوال کئے ،جن کے عمران خان نے جواب دیئے،صحافیوں نے عمران خان سے ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے سے متعلق سوال پوچھ لیا ،صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ حکومت نے معیشت کو استحکام دیا ہے؟جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دیوالیہ ہوتی معیشت کو سنبھال لیا ہے، معیشت مستحکم ہونے سے دیوالیہ ہونے سے بچ گئی ہے لیکن ترقی نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کے علاوہ کسی کو تاحال ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، تمام رہنماؤں کو ابھی جیل داخلے سے روکا گیا ہے، کمیٹی کی ملاقات جب طے ہے انہیں روکنا تذلیل ہے، حکومت میں شامل کچھ لوگ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، جب مذاکرات کا سلسلہ چل پڑا ہے تو رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کیا مقصد ہے؟ مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو ملاقات سے روکنے پر ہم احتجاج کرتے ہیں،حکومت میں شامل مریم نواز گروپ مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، مذاکراتی کمیٹی کو لوگ باعزت لوگ ہیں انہیں روکنا انکی توہین ہے،

    علاوہ ازیں عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ہاؤس اریسٹ میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے سب سیاسی قیدیوں کو رہا کریں میں اگر جاؤں گا تو مکمل رہائی میں جاؤں گا ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،سب کیسز کا سامنا کروں‌گا، پہلے سیاسی قیدیوں کو رہا کریں ،جیل میں رکھنا ہے تو رکھیں،بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ عمران خان کو بنی گالہ یا کے پی کے شفٹ کر رہے ہیں،عمران خان نے واضح کہا ہے کہ سول نا فرمانی کی کال واپس نہیں ہوگی، عمران خان کا موقف ہے کہ اوور سیز ہی زرمبادلہ بھیجتے اور سرمایہ کاری کرتے ہیں ،عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہمارے دو مطالبات میں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    وزیراعظم سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات