Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • دہشت گردی کا سرکچلے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، وزیراعظم

    دہشت گردی کا سرکچلے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ دہشت گردی کے ناسورکوکچلنےکے لیے سب کو اکٹھا ہونا ہوگا اور ایک پیج پر آنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی : اجلاس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، اعلیٰ سول و عسکری حکام، چاروں وزرائے اعلی، وزیر اعلی گلگت بلتستان اور وزیر اعظم آزاد کشمیر اور وفاقی وزرا نے شرکت کی اجلاس میں سرمایہ کاروں کو خصوصی سہولتیں دینے اور سرمایہ کاری سے متعلق دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔
    ایس آئی ایف سی کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں وزیرا عظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ذاتی پسند اور نا پسند سے بالاتر ہوکر فیصلے کریں گے تو کامیابی ملےگی، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر شہادتیں دے رہی ہیں، دہشت گردی کا سرکچلے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، دہشت گردی کے ناسورکوکچلنےکے لیے سب کو اکٹھا ہونا ہوگا اور ایک پیج پر آنا ہوگا۔

    وزیراعظم نے پارا چنار امن معاہدے پر تمام فریقوں کو مبارک باد دیتے ہوئےکہا کہ پاراچنار میں جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، ایسا دل خراش واقعہ قیامت تک نہیں ہونا چاہیے۔

    جیسے ہی ہم نے رجسٹر یشن شروع کی تو مدارس نے انکار کر دیا،ڈائریکٹر مذہبی تعلیم

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہو ا ہے، بجلی کی قیمتوں میں کمی سے متعلق دن رات کام ہو رہا ہے، بجلی کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے، میکرواکنامک انڈیکیٹر بہتر ہوئے ہیں، مہنگائی 2018 کے بعد 4.1 فیصد پر آئی ہے، پانچ ماہ میں ترسیلات زر میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے 12 ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں،اسٹاک ایکس چینج تاریخ کی بلند ترین سطح پرہے، یہ سب کامیابیاں ٹیم منیجمنٹ کی مرہون منت ہیں۔

    سڈنی ٹیسٹ:روہت شرما اگلے میچ میں ٹیم سے باہر،کپتان کون ہو گا؟

    وزیراعظم نے کہا کہ ساڑھے 9 ماہ میں حکومت کو بیرونی و اندرونی خلفشار کا سامناکرنا پڑا، باہمی تعاون اور اجتماعی کاوشوں سےچیلنجز کامقابلہ کیا، سینٹرل ایشیا کی ریاستوں سے ہمارے بہترین تعلقات ہیں، سب چاہتے ہیں پاکستان سے روابط بڑھیں، ایکسپورٹ ہو، سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کے ساتھ ایم او یو سائن ہوئے ہیں۔

    سونے کی قیمت میں اضافہ

  • رحم کی  اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    رحم کی اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے 9 مئی کے حملوں میں ملوث 19 ملزمان کی رحم کی اپیلوں کی منظوری ایک طرف جہاں ان کی انسان دوست سوچ کو ظاہر کرتی ہے، وہیں یہ فوجی عدالتوں کی شفافیت اور انصاف کے نظام کی پختگی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔یہ افراد اپنی دو سالہ سزا مکمل کرنے کے قریب تھے، اور ان کی اپیلیں محض انسانیت کی بنیاد پر منظور کی گئیں۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوجی عدالتیں انصاف کے اصولوں کے مطابق اور آئین کے تحت کام کر رہی ہیں۔

    یہ اقدام نہ صرف فوجی عدالتوں پر تنقید کرنے والوں کی زبانوں کو بند کرتا ہے، بلکہ یہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی انصاف اور رحم کے معاملے میں متوازن نقطہ نظر کو بھی اجاگر کرتا ہے۔پی ٹی آئی کے بیانیے کے برعکس، فوج نے فسادیوں کے ساتھ بدلہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں دکھایا۔ سزا سنانے اور رحم دینے کے حوالے سے کیے گئے فوری فیصلے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فوج انصاف کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے، انسانی ہمدردی کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔

    آرمی چیف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ریاست ان لوگوں کو ریلیف فراہم کرے گی جو حقیقی پچھتاوے کا مظاہرہ کریں گے، لیکن بدامنی اور تشدد کے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی ادارہ اپنے قیدیوں کو قانونی راستوں کی پیشکش کر رہا ہے، جن میں رحم کی درخواستیں شامل ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پورا عمل انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ان رحم کی اپیلوں کی منظوری آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی انسانیت پسندی اور فوج کی انصاف کے ساتھ وابستگی کا غماز ہے، اور اس سے یہ تمام بے بنیاد قیاس آرائیاں رد ہو جاتی ہیں جو اس عمل کو سیاسی مقاصد سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

  • فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    سانحہ 9 مئی 2023 کے 19 مجرمان کی سزاؤں میں معافی کا اعلان کردیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی کی سزاؤں پر عملدرآمد کے دوران مجرمان نے رحم اور معافی کی پٹیشنز دائر کی تھیں، ان مجرمان کو ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جارہا ہے جبکہ دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں،مجموعی طور پر 67 مجرمان نے رحم کی پٹیشنز دائر کی تھیں، 48 پٹیشنز کو قانونی کارروائی کے لیے ’کورٹس آف اپیل‘ میں نظرثانی کے لیے ارسال کیا گیا تھا، 19مجرمان کی پٹیشنز کو خالصتاً انسانی بنیادوں پر قانون کے مطابق منظور کیا گیا،دائر کی گئی دیگر رحم کی پٹیشنوں پر عملدرآمد مقررہ مدت میں قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ سزاؤں کی معافی ہمارے منصفانہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے، یہ نظام ہمدردی اور رحم کے اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اپریل 2024ء میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 20 مجرمان کی رہائی کا حکم صادر کیا گیا تھا۔

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 مجرمان کی سزائیں معاف کر دی گئیں،19 مجرمان جن کی سزائیں معاف کی گئی ہیں ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان
    2۔سمیع اللہ ولد میرداد خان
    3۔لئیق احمد ولد منظور احمد
    4۔امجد علی ولد منظور احمد
    5۔یاسر نواز ولد امیر نواز خان
    6۔سِیعد عالم ولد معاذاللہ خان
    7۔زاہدخان ولد محمد نبی
    8۔محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان
    9۔ حمزہ شریف ولد محمد اعظم
    10۔ محمد سلمان ولد زاہد نثار
    11۔ اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ
    12۔ محمد وقاص ولد ملک محمد خلیل
    13۔ سفیان ادریس ولد ادریس احمد
    14۔منیب احمد ولد نوید احمد بٹ
    15۔ محمد احمد ولد محمد نذیر
    16۔ محمد نواز ولد عبدالصمد
    17۔ محمد علی ولد محمد بوٹا
    18۔ محمد بلاول ولد منظور حسین
    19۔ محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم

    ان مجرمان کوضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا رہا ہے،دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں ،سزاؤں کی معافی ہمارے منصفافہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

  • ڈاکٹر مصدق ملک نالائق انسان،گیس تیل کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

    ڈاکٹر مصدق ملک نالائق انسان،گیس تیل کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نیا سال شروع ہو چکا ہے، 2025 کا پہلا شو ہے جوپاکستان میں کرپشن کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ کس لیول کی کرپشن ہو رہی ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امپورٹ میں بڑا حصہ پٹرولیم کی امپورٹ کا ہے، 35 سے 40 فیصد اسکا حصہ ہے،اسی پر حکومت یا ریزور یا عام عوام کی جیب سب متاثر ہوتے ہیں، کسی نے پٹرول ،ڈیزل بھرواناہےکسی نے انرجی کے لئے استعمال کرنا ہے، پچھلے دنوں مجھے پتہ چلا کہ پاکستان میں کرپشن کو ایک جگہ بند کرنا ہو تو اسکو بڑے آرام سے او جی ڈی سی میں بند کر سکتے ہیں، اوجی ڈی سی پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ ہے، اس میں لالچ ہے، کاروائی ہے جو ہمارے بیوروکریٹ نے ڈالی ہے، کیا مصدق ملک نالائق ہیں،کیا چیئرمین او جی ڈی سی کو کام نہیں آتا ،ہو کیا رہا ہے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس پر تفصیلی پروگرام بھی کروں گا کہ پاکستان میں تیل کے نام پر کیسے فراڈ ہو رہا ہے، اوجی ڈی سی پوری طرح ڈرلنگ کرتا ہے تو میرا دعویٰ ہے کہ ایک ڈالر کا بھی پٹرولیم مصنوعات امپورٹ نہیں کرنا پڑتا، تمام ضروریات لوکلی پوری کر سکتے ہیں، خام تیل کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، ملکی معیشت کے لئے ایک المیہ ہے ، گیس کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے،کمی 4.4 فیصد سالانہ ہے،سال 2023 میں ٹوٹل 47 کنویں کھودے گئے،15 تلاشی اور 32 ترقیاتی کنویں، او جی ڈی سی نے دس کنویں ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے 8 کنویں، ماڑی پور پٹرولیم نے تین کنویں، بے شمار مسائل سامنے آئے، پاکستان پٹرولیم نے کنواں جو 16 ہزار فٹ ہے جس کو ڈرل کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا، اس کا موازنہ امریکا سے کیا جائے تو امریکہ میں یہی ایک کنواں 3 ہفتوں میں اور پیسے بھی کم لگے، امریکی کنویں 10 ہزار فٹ عمومی دس ملین ڈالر کی لاگت میں کھودا جاتا ہے، 20 ملین ڈالر کی لاگت سے تین کنویں انہوں نے کھودے ، وہ کام جس کی لاگت امریکا میں سات ہزار ڈالر ہے وہ کام پاکستان میں ایک لاکھ بیس ہزار ڈالرمیں کیا جا رہاہے، کمپنی کے شراکت دار سب سے پہلے ماڑی پور پٹرولیم ہے، دوسرے نمبر پر پاکستان پٹرولیم ہے ،اسکے بعد اوجی ڈی سی، جس کے ذریعے روزانہ خالص ،خام تیل ، گیس کی پیداوار ہے، حیران کن طور پر آپریٹنگ اور ترقی اخراجات میں ناکامی ہے، کمپنیوں کو چونا لگایا جا رہا ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مہنگی گیس اور پٹرول حقیقت میں یہ کرپشن کا بازار گرم ہوتا ہے،

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

  • پی ٹی آئی حکومت میں فتنہ الخوارج  کی واپسی کی راہ کیسے ہموار کی گئی؟

    پی ٹی آئی حکومت میں فتنہ الخوارج کی واپسی کی راہ کیسے ہموار کی گئی؟

    پی ٹی آئی اور عمران خان کے دور حکومت میں فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کی واپسی کی راہ کیسے ہموار کی گئی؟ حقائق کیا کہتے ہیں؟

    پاکستان دہشت گردی کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری جنگ میں بے شمار قربانیاں دے چکا ہے۔ پاک فوج نے متعدد آپریشنز کے بعد اپنے خون سے وطن کی سرزمین کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کیا اور امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ تاہم، پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کے دوران کیے گئے چند فیصلے نہ صرف ان قربانیوں کے منافی تھے بلکہ ان سے دہشت گردوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے اور فتنہ الخوارج کے عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد سے پی ٹی آئی کے پراپیگنڈہ اکاؤنٹس نے یہ بیانیہ پھیلانا شروع کیا کہ فتنہ الخوارج کے ساتھ مذاکرات سیکورٹی فورسز کے کہنے پر ہوئے جو صریحا بے بنیاد بات ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا کام لڑنا ہے سیاسی مفادات کی خاطر دہشتگردوں کو واپس لانے، آباد کرنے کا منصوبہ تحریک انصاف کی حکومت کا تھا جو اس وقت صوبے اور وفاق دونوں میں بر سر اقتدار تھی۔ علاوہ ازیں، عمران خان اور ان کی جماعت نے کئی مواقع پر دہشت گردوں کے ساتھ "سیٹلمنٹ” کی حمایت کی۔ 2004 سے ہی عمران خان نے طالبان کے لیے نرم گوشہ ظاہر کیا، جس کی بنیاد پر انہیں "طالبان خان” کہا جانے لگا۔ ان کے خیالات نے ان عناصر کو تقویت دی جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف کام کر رہے تھے۔پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی بارہا عمران خان نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا جس کی ویڈیوز آن ریکارڈ موجود ہیں۔

    2021 میں قبائلی علاقوں میں آبادکاری کی پالیسی کے تحت دہشت گرد عناصر کو دوبارہ جگہ دی گئی۔ وفاقی حکومت کے حکم پے بارڈر کو کھول کے شمال وزیرستان میں مداخیل اور تیرہ میں ککی خیل جیسے قبائل کی آبادکاری کے نام پر ایسے خاندان واپس لائے گئے جن کے درمیان دہشت گرد بھی شامل تھے۔ اس عمل نے نہ صرف امن و امان کو متاثر کیا بلکہ پاک فوج اور عام شہریوں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔پی ٹی آئی کی حکومت نے نومبر 2021 میں "گڈ ول جیسچر” کے نام پر 100 سے زائد خطرناک دہشت گردوں کو صوبے کی جیلوں سے رہا کیا، جنہوں نے بعد میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    اس فیصلے نے فوج کی قربانیوں کو پس پشت ڈال دیا اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع دیا گیا۔

    علاوہ ازیں، سوات، مالاکنڈ اور دیر جیسے کئی علاقوں میں فوج سے اختیارات واپس لے کر پولیس اور سول انتظامیہ کو سونپے گئے۔ سول انتظامیہ کی بد انتظامی اور نا اہلی سے ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر سمجھوتہ کیا گیا جس کے بعد دہشتگردی کا ناسور وہاں دوبارہ پنپنے لگا جس کو کسی خاطر میں نہیں لایا گیا۔

    حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے فتنہ الخوارج کے ساتھ مذاکرات اور خیبرپختونخواہ میں ان کی آبادکاری کی پالیسی اپنائی۔ بقول عمران خان کے ، تقریباً 40 ہزار افراد کو افغانستان سے لا کے صوبے میں بسایا گیا اور مالی امداد بھی دی گئی۔ ان میں سے تقریباً 3500 افراد فتنہ ال خوارج سے منسلک تھے-

    آج خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر انہیں پالیسیوں کا نتیجہ ہے، لیکن پی ٹی آئی قیادت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ہمیشہ کی طرح اپنے کیے کا انجام سیکیورٹی فورسز پر لگا رہی ہے۔

    سیکیورٹی فورسز آج بھی دن رات مادر وطن کے تحفظ میں مصروفِ عمل ہیں لیکن فوج سیاست دانوں اور سول انتظامیہ کی نا اہلی کے لیے مورد الزام نہیں ٹھہرائی جا سکتی۔ حقیقتا، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے ہوالے سول حکومت کے تمام کام پس پشت ڈال کر پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ذاتی مفادات کے لیے کرپشن کے ریکارڈ توڑے گئے ۔ اور مذاکرات کے نام پر دہشتگردوں کی آبادکاری میں سہولت کاری کی گئی۔ پاک فوج ہمیشہ قومی سلامتی کے لیے کھڑی رہی ہے۔ فوج نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی بلکہ قبائلی علاقوں میں عوام کی بہتری کے لیے کئی ترقیاتی منصوبے بھی مکمل کیے۔ ان قربانیوں کے باوجود، پی ٹی آئی حکومت کی ناقص پالیسیوں نے ملک کو دوبارہ خطرات کی جانب دھکیل دیا۔

    بھارتی دہشت گردی، عالمی سطح پر بے نقاب

    ٹرمپ ہوٹل کے باہر ٹیسلا کے سائبر ٹرک میں دھماکا،تحقیقات کا آغاز

    ہجوم پر گاڑی چڑھانے والا امریکی شہری،گاڑی سے داعش کا جھنڈا برآمد

  • پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ، معیشت میں استحکام لانا ہے،وزیراعظم

    پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ، معیشت میں استحکام لانا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے سال کے آغاز میں پاکستان کی خوشحالی کے لیے دعاگو ہیں.دعا ہے کہ پاکستان کی عوام کے لیے نیا سال خوشیوں کا سال ثابت ہو.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اڑان پاکستان جیسا پروگرام پاکستان کی معیشت کو مزید استحکام دے گا.اُڑان پاکستان پروگرام کیلئے عطاءاللہ تارڑسمیت تمام متعلقہ افراد کا شکرگزارہوں.پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ہے تو معیشت کے لیے ہمیں اہم کردار ادا کرنا ہو گا.ہمیں معیشت میں استحکام لانا ہے اور اپنی تمام ترجیحات کو اس طرف لگانا ہے.دسمبر کے ماہ میں اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں.72ارب روپے کی محصولات بہترین کارکردگی کی علامت ہیں.چیئرمین ایف بی آرراشدلنگڑیال بہت محنت سے کام کر رہےہیں.کاروباری حضرات کو 89 فیصد ریلیف ملا.چینی کی سمگلنگ صفر پر آگئی ہے. رواں مالی سال ترسیلات زر 15 ارب ڈالر تک پہنچ گئی.یہی کارکردگی رہی تو ترسیلات 35ارب ڈالر کا ہدف حاصل کر لیں گی. ای گورننس پر تمام وزارتیں اقدامات کر رہی ہیں.نوماہ کے دوران تمام وزراء اور ان کی وزارتوں نے شفافیت اور محنت کو مقدم رکھا.دیگر وزارتیں بھی اپنے آپ کو جدید ٹیکنالوجی اور تقاضوں سے ہم آہنگ کریں.

    محنت ،محنت اور محنت سے ہی اہداف حاصل ہوں گے، وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا کہناتھا کہ دھرنوں کی سیاست کرنےوالوں نے معیشت کو تباہ کیا. نو ماہ میں اقتصادی بہتری کی گواہی عام آدمی بھی دے رہا ہے. سمگلنگ کی روک تھام کے لیے بھی خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں. سمگلنگ کے تدارک میں آرمی چیف کا اہم کردارہے.پاک فوج کے جوانوں نے قربانیاں دے کرہمارےکل کو محفوظ کیا.شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا.دہشتگردوں کو واپس لانے والوں نے ملک کے امن و استحکام کو داؤ پر لگایا.افغان عبوری حکومت نے سینکڑوں مجرموں کو حکومت سنبھالتے ہی جیلوں سے رہا کردیا. پر عزم ہیں کہ نیا سال پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی نوید لے کر آئے گا.گوادرکو ٹرانزٹ ٹریڈ کا حب بنائیں گے.محنت ،محنت اور محنت سے ہی اہداف حاصل ہوں گے،

    مسلسل ناکامیاں،گوتم گمبھیر کا شدید غصہ،بھارتی ٹیم کےڈریسنگ روم کا ماحول تلخ

    پاکستان اونچی اڑان کے لئے ٹیک آف کر چکا ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب

  • غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ آج پہلی بار پتہ چلا کہ انٹرنیٹ کی بندش غلط ہوتی ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی بندش اور اس سے متعلق مسائل پر بریفنگ دی۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ پی ٹی اے کو روزانہ سوشل میڈیا پر مواد کی 500 شکایات موصول ہوتی ہیں، جس پر پی ٹی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد بلاک کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ تاہم، اجلاس کے دوران مختلف سینیٹرز نے انٹرنیٹ کی بندش کے قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے اور اس حوالے سے پی ٹی اے کے موقف کو چیلنج کیا۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اجلاس کے دوران کہا کہ "ایکٹ میں کہاں لکھا ہے کہ کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بلاک کرنا ہے؟” اس پر ممبر لیگل وزارت آئی ٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے بعد چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے وضاحت دی کہ رولز میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پی ٹی اے کو انٹرنیٹ کی بندش کی ہدایت دے سکتی ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھایا کہ اگر ایکٹ میں انٹرنیٹ بند کرنے کا جواز نہیں دیا گیا تو پی ٹی اے اس عمل کو کیسے قانونی بنا سکتا ہے؟ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ اگر یہ غلط ہوتا تو حکومت نو سال سے پی ٹی اے کو انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت کیوں دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تاریخ اور وقت بتا سکتے ہیں جب انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے اس بات پر زور دیا کہ رولز میں صرف سوشل میڈیا پر مواد کے حوالے سے بات کی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں کسی واضح ذکر کا فقدان ہے۔ اس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی قانونی رائے وزارت قانون اور وزارت داخلہ دے سکتی ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم پر کئی بار سوشل میڈیا ایپس بند کی گئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 8 فروری کو ہونے والے الیکشن کے دوران انٹرنیٹ کی بندش بھی غلط تھی ، سپریم کورٹ کے حکم پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کو بند کیا گیا۔بلوچستان میں ڈیجیٹل ہائی وے بنانا پڑے گا،انٹرنیٹ کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل ہائی وے بنانے پڑیں گے جب تک ڈیجیٹل ہائی وے نہیں بنائیں گے انٹرنیٹ ٹھیک نہیں ہوگا،صوبائی حکومتوں سے درخواست کریں کہ سہولت فراہم کریں یہاں تو کام شروع کرتے ہیں لوگ عدالت میں چلے جاتے ہیں

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال کیا کہ کیا رولز ایکٹ سے آگے جا سکتے ہیں؟ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو کیا وزارت نے اس پر نظرثانی دائر کی ہے؟ اس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے بتایا کہ رولز کئی سال پہلے بنے تھے اور ان میں انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے کسی نئی ترمیم یا نظرثانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    اس اجلاس میں مختلف سینیٹرز اور حکومتی اداروں کے نمائندگان کے درمیان بحث کا محور انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے قانون، حکومت کی ہدایات اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے اثرات تھے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس معاملے پر مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، جس کے لیے وزارت قانون اور وزارت داخلہ کی مشاورت ضروری ہو گی۔یہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سوشل میڈیا پر مواد کی نگرانی ایک پیچیدہ قانونی اور انتظامی مسئلہ ہے جسے واضح قوانین اور ضوابط کی ضرورت ہے تاکہ اس حوالے سے آئندہ میں کسی قسم کی ابہام کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ کی بندش،سست رفتاری نے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا اثر فری لانسرز پر، کام میں 70 فیصد کمی

  • سینئر سفارت کار شفقت علی خان  دفترخارجہ کے ترجمان مقرر

    سینئر سفارت کار شفقت علی خان دفترخارجہ کے ترجمان مقرر

    اسلام آباد:سینئر سفارت کار شفقت علی خان کو دفترخارجہ کا ترجمان مقررکردیا گیا،جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : وزارت خارجہ سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سینئر سفات کار شفقت علی خان کو ترجمان دفتر خارجہ مقرر کردیا گیا ہے شفقت علی خان کو ممتاز زہرہ بلوچ کی جگہ دفترخارجہ کا نیا ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔

    قبل ازیں ذرائع نے سینئیر سفارت کار شفقت علی خان کو نیا ترجمان دفتر خارجہ بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا تھا ، شفقت علی خان اس وقت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ برائے یورپ تعینات ہیں، شفقت علی خان روس میں بطور سفیرِہاکستان رہ چکے ییں، وہ پولینڈ میں بھی پاکستانی سفیر کے طور پر کام کرچکے ہیں، شفقت علی خان کی بطور ترجمان دفتر خارجہ تعیناتی کا اعلان کر دیا گیا ہے

    دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کو فرانس میں پاکستان کی سفیر تعینات کردیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ممتاز زہرا بلوچ کو وزیراعظم شہباز شریف وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی تجویز پر فرانس میں سفیر تعینات کیا گیا ہے-

    یوکرین نے روسی گیس کی یورپ کو سپلائی بند کر دی

    خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

    قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اڈیالہ جیل کے دورے کا فیصلہ

  • پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب

    پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب

    پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب ہو گیا ہے

    دہشت گردی اور سنگین انسانی جرائم میں ملوث بھارت کاسیاہ چہرہ عالمی سطح پر بے نقاب ہو گیا ہے،عالمی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے بھارتی حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کو بے نقاب کر دیا، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارت پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں کےذریعے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے, بھارتی ایجنسی’را’ نے اجرتی قاتلوں اور افغانی ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان میں کم از کم چھ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ”گزشتہ اپریل دو نقاب پوشوں نے لاہور میں تامبا جس کا اصل نام عامر سرفراز ہے کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے“یہ واقعہ بھی دوسرے ممالک کی طرح بھارتی خفیہ قتل مہم کا تسلسل ہے،بھارتی ایجنسی”را“نے پاکستان میں کئی افراد کو نشانہ بنایا، شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی افراد کے قتل میں بھارت ملوث ہے، 2021 کے بعد بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ”را“ نے پاکستان میں متعدد افراد کو قتل کرنے کے لیے ایک خفیہ مہم چلائی جس میں میں کئی پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان کے وزیر داخلہ بھی ہلاکتوں میں "بھارت کے براہ راست ملوث ہونے” کا انکشاف کر چکے ہیں،

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 2014ء میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کہا تھا کہ ”پاکستان پر حملہ کرنا غیر حقیقی ہے لیکن ہم اپنے مقاصد کے حصول کیلئے خفیہ ذرائع استعمال کرسکتے ہیں“امریکا، کینیڈا اور مغربی ممالک میں ”را“ کی قتل مہم کی وجہ سے بھارت بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے، بھارت نے امریکا، کینیڈا اور مغربی ممالک میں ماروائے عدالت قتل کئے، کینیڈااورامریکہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ نے سکھ راہنماؤں کو قتل کیا، نئی دہلی میں را کے افسر وکاش یادیو نے نیویارک میں سکھ علیحدگی پسند راہنما پر قاتلانہ حملے کی ہدایت جاری کیں،را افسر نے اس قتل میں اپنے ایجنٹ کو ایک مقامی قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی،کینیڈین حکام نے بھی بھارتی سفارت کاروں اور را کی دہشتگردی کو بے نقاب کیا،

    سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بھی پاکستانی شہریوں محمد ریاض اور مولانا شاہد لطیف کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کے ملوث ہونے شواہد منظر عام پر آچکے ہیں، اس سے قبل بھی وزارت خارجہ شواہد کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر بھارتی دہشتگردی کو بے نقاب کرچکی ہے، بھارتی جارحیت، دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اقوام عالم کو سخت نوٹس لینا چاہیے، دوسرے ممالک میں بھارتی دہشتگردی، مداخلت اور ٹارگٹ کلنگ عالمی امن کے لیے شدید خطرہ ہے،

    پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے واضح اور ٹھوس ثبوت موجود ہیں،چینی اخبار

    پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے واضح اور ٹھوس ثبوت موجود ہیں،چینی اخبار

    بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی کی پاکستان میں دہشتگردی کی مالی معاونت پر تشویش ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • بڑا فیصلہ،پی ٹی آئی رہنما، سابق وزیراعلیٰ کو 34 سال کی سزا

    بڑا فیصلہ،پی ٹی آئی رہنما، سابق وزیراعلیٰ کو 34 سال کی سزا

    گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو 34 سال قید کی سزا سنادی ہے۔

    گلگت کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کے خلاف ایک اہم کیس کی سماعت ہوئی۔ ان پر الزام تھا کہ 26 مئی 2024 کو ایک جلسے میں انہوں نے سکیورٹی اداروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، جس پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں، ان پر گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری اور چیف الیکشن کمشنر کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا الزام تھا۔عدالت نے مقدمے کی سماعت کے بعد خالد خورشید کو مجرم قرار دیتے ہوئے 34 سال قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ، عدالت نے ان پر 6 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مجرم کو جیل منتقل کرنے کے لیے آئی جی پولیس کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیا جائے۔ مزید برآں، خالد خورشید کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

    یہ بھی واضح کیا گیا کہ خالد خورشید مقدمے کی کارروائی سے غیر حاضر اور روپوش رہے، ان کے خلاف مقدمہ سٹی تھانہ گلگت میں درج کیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ان پر مقدمہ چلایا گیا۔

    پاکستان خودمختار ملک ، اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ