Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

    مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

    پاکستان کی سیاسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ اس معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی، ایاز صادق نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں۔

    ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیوں کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے ان کا دفتر اور گھر دونوں ہر وقت کھلے ہیں۔ایاز صادق نے مزید کہا کہ "سیاسی ایشوز سمیت کسی بھی معاملے پر مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، اور کل ایوان میں ہونے والی بحث بھی خوش آئند تھی۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بہتر بات چیت سے ہی ملک کے سیاسی مسائل کا حل ممکن ہے۔میں کچھ مصروف تھا ،کل بھی ہاؤس نہیں جا سکا، مختصر وقت کے لئے گیا تھا، کل شیر افضل مروت،رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف نے جو بات چیت کی وہ میں نے دیکھی، سپیکر کا دفتر سب کا گھر ہوتا ہے، سپیکر کے دروازے ہر وقت ممبران کے لیے کھلے ہوتے ہیں،اپوزیشن و حکومت دونوں کے لئے چوبیس گھنٹے میرا دفتر ،گھر کھلا ہے اگر مذاکرات کی بات کرنا چاہیں، مل بیٹھ کر تلخی ختم کرنا چاہیں، ملکی مفاد پر مبنی چیزوں کو سامنے رکھ کر بات کرنا چاہیں، بے شمار اور چیزیں ہیں، موسمیاتی تبدیلی، امن و امان، صوبوں کی خود مختاری ان پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے، میرے لئے حکومت و اپوزیشن کے تمام اراکین قابل احترام ہیں.

    اس سے قبل، مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کے فلور پر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کی تھی۔ ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے اس موقع پر اسپیکر آفس کا رستہ دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ "اگر آپ سنجیدہ ہیں تو کم از کم حکومت کو مذاکرات کا پیغام تو بھیجیں۔” رانا ثناء اللہ کا یہ بیان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے امکانات کو مزید بڑھاتا ہے۔پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے بھی اس موقع پر کہا کہ "سیاسی قائدین کو مل بیٹھنا چاہیے، کیونکہ جب تک تمام سیاسی قوتیں ایک ہو کر نہیں بیٹھیں گی، مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔” ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک میز پر آ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر ایاز صادق نے اپنے مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمت کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ ملک کی سیاسی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

    پاکستان کی سیاست میں اس وقت تناؤ کی صورتحال ہے اور ایسے میں مذاکرات کی ضرورت شدت اختیار کر چکی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر اپنی اپنی تجاویز دی جا رہی ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا جا رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی اس پیشکش پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرتی ہیں اور کیا ایاز صادق کی کوششیں اس بات چیت کے لیے زمین ہموار کر سکیں گی۔

  • لانس نائیک محمد محفوظ شہید، نشان حیدر کا 53واں یوم شہادت

    لانس نائیک محمد محفوظ شہید، نشان حیدر کا 53واں یوم شہادت

    جنگ 1971کے ہیرو لانس نائیک محمد محفوظ شہید، نشان حیدر کا 53واں یوم شہادت آج منایا جا رہا ہے

    لانس نائیک محفوظ شہید نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا خوف و خطر دشمن کی توپوں کو خاموش کرایا۔میدان جنگ میں لانس نائیک محفوظ شہید کا جرات مندانہ اقدام مادرِ وطن کے تمام محافظوں کے لیے قابل تقلید مثال ہے۔پوری قوم کو اپنے بہادر سپوتوں پر فخر ہے،افواج پاکستان نے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا ہے.

    لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشان حیدر).لانس نائیک محمد محفوظ 25 اکتوبر 1944ء کو ضلع راولپنڈی کے گاؤں پنڈملکاں میں پیدا ہوئے.پاک فوج میں شمولیت لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی دیرینہ خواہش تھی.آپ نےاسی خواہش کی تکمیل کے لئے8 مئی 1963ء کو پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی.لانس نائیک محمد محفوظ شہید، دین و دنیا میں ایک مثالی کردار کے حامل شخص تھے.1971ء کی جنگ میں لانس نائیک محمد محفوظ شہید واہگہ اٹاری سیکٹر میں آپریشن کا حصہ تھے.17دسمبر کی رات ہدف کے حصول کے دوران آپ کی کمپنی کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا. دشمن کی پوزیشن تقریباََ 70میٹر کے فاصلے پر تھی، نتیجتاََ پیش قدمی روکنا پڑی.دشمن کی بھاری گولہ باری کے سبب آپ کی لائیٹ مشین گن تباہ ہو گئی. آپ نے ایک شہید ساتھی کی مشین گن سنبھالی اور بھر پور انداز سے اُس ہندوستانی مشین گن کو نشانے پر رکھا جس نے آپ کی کمپنی کی پیش قدمی روک رکھی تھی. اس عمل کے دوران آپ شدید زخمی ہو گئے اور آپ کی مشین گن بھی ناکارہ ہو گئی. آپ نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اور اپنے زخموں سے بے نیاز آگے بڑھ کر بھارتی مشین گنرکی گردن دبوچ کر اسے ہلاک کر دیا.اس دوران اسی مورچے میں موجود دشمن کے سپاہیوں نے سنگین کے وار کر کے آپ کو شہید کر دیا. آپ کی جرأت اور دلیری کا اعتراف ہندوستانی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل پوری نے ان الفاظ میں کیا ؛” میں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی میں ایسا جرأت مند انسان نہیں دیکھا۔ اگر یہ میری فوج کا حصہ ہوتے تو میں ان کا نام بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز کیلئے تجویز کرتا”بِلا شُبہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید کا یومِ شہادت افواج پاکستان کی مادر وطن کیلئے دی جانے والی قربانیوں کا مظہر ہے

  • ایک اور یوٹرن، عمران نےسول نافرمانی تحریک ملتوی کردی

    ایک اور یوٹرن، عمران نےسول نافرمانی تحریک ملتوی کردی

    سینئر رہنما تحریک انصاف، شیر افضل مروت نے کہا کہ فی الحال بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کی تجویز پر سول نافرمانی کوملتوی کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےشیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیان سے تھوڑا نقصان ہوا ہے۔ ن لیگ کوشش کررہی ہے کہ مذاکرات آگے نہ بڑھ پائیں،ہم ڈی چوک آگئے تو اس کے حق دار نہیں تھے کہ گولی چلائی جاتی ،شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کو افسوس ہے تو ادھر بھی افسوس محسوس ہورہا ہے کہ اگر اس وقت مذاکرات ہوجاتے۔ملک ، پی ٹی آئی اور تمام نظام کے لئے اچھا ہوتا۔ ایسا نہیں کہ بانی یا پارٹی سول نافرمانی کی کال سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔بانی پی ٹی آئی نے قیادت کے مشورے کو اس دفعہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔فی الحال بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کی تجویز پر سول نافرمانی کوملتوی کردیا ہے۔مذاکرات تعطل کا شکار نہیں ہونے چاہئیں تھے۔ جو ہوا قوم کی بدقسمتی تھی۔آپ اس کو ہماری غلطی، ڈھٹائی یا نا سمجھی کہیں ہم ہر حال میں ڈی چوک پہنچنا چاہتے تھے۔باجود اس کے کہ مذاکرات کی پیشکش ہوئی۔ 15 سے20 دنوں میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی پیشکش ہوئی تھی۔ ہم ڈی چوک آگئے تو اس کے حق دار نہیں تھے کہ گولی چلائی جاتی۔کمیٹی بنانے کے بعد بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ضلع کرم کے لوگوں کی مشکلات کا احساس ہے۔ ضلع کرم میں اس وقت سیز فائر ہے۔ گرینڈ جرگہ ابھی تک کوہاٹ میں موجود ہے۔گرینڈ جرگے میں ایک نکتے کو چھوڑ کر باقی سب پر اتفاق ہوچکا ہے۔اسلحے کی حکومت کو حوالگی کے نکتے پر اتفاق ہونا ابھی باقی ہے۔

    سندھ پبلک سروس کمیشن نے سی سی ای-2021 کے حتمی نتائج کا اعلان کردیا

    پی ایس ایل کے لیے مقامی کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کی تجدید

  • اسلام آباد کا موسم شدید سرد،عمران کی رہائی کے منصوبے فلاپ

    اسلام آباد کا موسم شدید سرد،عمران کی رہائی کے منصوبے فلاپ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کہتے ہیں ناں مال مفت، دل بے رحم، اڈیالہ میں عمران خان کو 500 دن مکمل ہو چکے ہیں،دو کام ہوئے، تنزلی کا شکار معیشت میں بہتری آنا شروع ہوئی تو وہیں عمران خان کی رہائی کی ہر کوشش ناکام ہوئی، اب حالات یہ ہیں کہ اسلام آباد میں دوبارہ یلغار کی سکت نہیں، سارے کے سارے جعلی انقلابی شہباز شریف سے منت ترلے کر رہے ہیں

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی سے حکومت کیا مذاکرات کرے، بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب کے پاس سوال کا جواب نہیں نہ ہی اسد قیصر،شبلی فراز کو کچھ پتہ، عمران خان کو یقین ہے اسکی رہائی ممکن نہیں اور واحد امید کی کرن ڈونلڈ ٹرمپ ہے کہ وہ عمران کی رہائی کی بات کرے گا، ٹویٹ کا انتظار کر رہے ہیں یہ، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ عمران خان نے عدلیہ پر بھی امریکی دباؤ ڈالنے کی سازش تیار کر لی ہے، یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے عدالتی نظام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں، ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد نہیں عمران خان کے حقوق اور آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کر کے امن کا ستیاناس کیا، معیشت تباہ کی،اور عدلیہ انکی سہولت کاری کرتی رہی، گڈ ٹوسی یو انہیں کہا جاتا رہا، اب توشہ خانہ ٹو اور نومئی کے مقدمات انکے سروں پر تلوار ہیں، اور خطرہ اب ٹلنے والا نہیں، امریکہ شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے سارے ہتھکنڈے آزما چکا، اوباما کا دباؤ فیل ہوا تھا، عمران خان کی رہائی کے لئے ٹرمپ کا دباؤ بھی کام نہیں آئے گا

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیری مزاری پر فردجرم عائد کر دی گئی، تا ہم قریشی بچ گئے، علی امین گنڈا پور جیل گئے لیکن عمران خان سے ملاقات نہ ہو سکی، ٹارزن کو اس کی اوقات یاد دلا دی گئی،چڑیل کے مطابق فون پر ایک گھنٹے تک منتیں کرتا رہا، لیکن کسی نے گھاس نہیں ڈالی، گنڈا پور کو فائنل وارننگ دے دی گئی ہے، علی امین گنڈا پور اچھا بچہ ہے اسلئے وہاں سے فوری پشاور پہنچ گیا اور کوئی پریس کانفرنس نہ کی، پنکی پیرنی کو اس نے خبردار کر دیا کہ اسلام آباد کا موسم شدید سردی میں بھی گرم ہے، مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا کیونکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، انتشاری ٹولے نے عسکری اداروں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی تو سیل بڑھنا شروع ہو گئی،شرح سود میں کمی ہو رہی ہے، ڈالر کی من مانی ختم ہو رہی ہے،بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لئے آئی پی پیزسے جان چھڑائی جا رہی ہے، مہنگائی میں کمی نہیں ہو رہی تو اضافہ نہیں ہو رہا،معاشی استحکام ایس آئی ایف سی کی مسلسل محنت و لگن کا نتیجہ ہے،

    دس سالہ سارہ کا قتل،برطانوی عدالت نے والدین،چچا کو سنائی سزا

    پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، پراسیکیوشن کے حتمی دلائل مکمل

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں پراسیکوشن نے حتمی دلائل مکمل کر لئے

    عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی، عدالت نے وکیل صفائی کو کل دلائل دینے کا حکم دے دیا، کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئیں تو عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا.  احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ریفرنس پر سماعت کی ،پراسیکیوشن ٹیم نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں حتمی دلائل مکمل کر لیے ،نیب کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے دلائل دیے گئے ،دلائل میں کہا گیا کہ چھ نومبر 2019 کو ڈیڈ سائن جبکہ رقم کی پہلی قسط 29 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں آچکی تھی ۔ڈیڈ کی منظوری کابینہ سے تین دسمبر 2019 کو لی گئی ۔کابینہ کو بھی نہیں بتایا گیا کہ پہلی قسط پاکستان پہنچ چکی ہے ۔ایسٹ ریکوری یونٹ اور نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان بات چیت 2018 سے جاری تھی۔ کابینہ کی منظوری سے پہلے ہی ڈیڈ این سی اے کو بھجوائی جا چکی تھی ۔معاملات پر پردہ ڈالنے کے لیے بعد میں کابینہ سے منظوری لی گئی۔ پیسے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ کی بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منگوائے گئے۔ کوئی قانون یہ نہیں کہتا کہ نیشنل کرائم ایجنسی اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے درمیان سائن ہونے والی ڈیڈ کو پبلک نہیں کیا جائے گا ۔ نیب قانون کے مطابق اگر پبلک افس ہولڈر کوئی بھی گرانٹ یا ڈونیشن لیتا ہے تو وہ حکومت پاکستان کی ملکیت ہوگی۔عمران خان نے بطور وزیراعظم فیور دی جس کے بدلے میں ڈونیشن ملی۔نیب ارڈیننس کے تحت اگر معاملہ پبلک افس ہولڈر کے پاس زیر التوا ہو تو اس شخص سے کوئی بھی چیز لینا رشوت ہے۔فرح گوگی کے نام پر بھی 240 کنال اراضی ٹرانسفر ہوئی،زلفی بخاری کے نام پر بھی جب زمین ٹرانسفر ہوئی اس وقت بھی ٹرسٹ کا وجود تک موجود نہیں تھا ،190 ملین پاؤنڈ کی ایڈجسٹمنٹ ہونے کے بعد ٹرسٹ بنایا گیا ،رولز اف بزنس 1973 کی بھی خلاف ورزی کی گئی ،کابینہ میں کوئی بھی معاملہ زیر بحث لانے سے سات روز قبل اسے سرکولیٹ کرنا ہوتا ہے ۔ کیا جلدی تھی کہ اس معاملے کو سات دن پہلے کا بینہ ممبران کو سرکولیٹ نہیں کیا گیا۔

    کل عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا کی جانب سے حتمی دلائل کا آغاز کیا جائے گا ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت کل صبح ساڑھےدس بجے تک ملتوی کر دی گئی،6 نومبر کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا تھا، جہاں وکلا صفائی نے 35 گواہوں پر جرح مکمل کر لی تھی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔  اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • وفاقی وزرا کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا

    وفاقی وزرا کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ پولیو کا دنیا بھر سے خاتمہ ہو چکا ہے،صدیق الفاروق مرحوم نوازشریف کےقریبی ساتھی تھے ،صدیق الفاروق مرحوم ایک وفادار شخص تھے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے میں رکا وٹیں قابل افسوس ہیں ،بدقسمتی ہے کہ پولیو کا دنیا سے ہر جگہ سے خاتمہ ہو گیا ماسوائے پاکستان اور افغانستان کے ، سیکورٹی کا عملہ پولیس کے سپاہی، افسر،پولیوورکرز انتہائی دلیری کے ساتھ مہم میں شریک ہیں، پولیس کا جو سپاہی شہید ہوا اسکے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، یونان میں کشتی ڈوبی، جس میں پانچ پاکستانی بھی ڈوبے اور اللہ کو پیارے ہوئے، چالیس سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا، بدقسمتی سے ایسا واقعہ جولائی 2023 میں بھی ہوا تھا جس میں 260 پاکستانی کشتی میں ڈوب گئے تھے اور سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی تھی، اس وقت بڑی گہرائی میں جا کر فیصلے کئے تھے،میں سمجھتا ہوں‌کہ یہ ایک سیریس چیلنج ہے، چند دن میں متعلقہ وزرا اور سیکرٹریز کی میٹنگ بلا رہا ہوں، 2023 میں جو واقعہ ہوا تھا اسکو ریویو کریں گے اور پالیسی بنائیں گے

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ شرح سود میں دو فیصد کمی ہوئی ہے یہ پاکستانی معیشت کے لیے خوش آئند بات ہے، ہمیں امید ہے کہ پیداواری قابلیت، سرمایہ کاری بڑھے گی، اس سے پاکستانی اکانومی کو فائدہ ہو گا، مہنگائی 2018 کے بعد کم ترین سطح پر ہے، یہ ہم سب کے لئے اللہ کا فضل و کرم ہے، موقع ہے کہ پاکستانی معیشت کے پہیے کو تیزی سے گھمائیں، معیشت مستحکم ہو رہی ہے، اندرون ملک سرمایہ کاری کو فروغ دیں،

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزراء کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری کا نوٹس لے لیا ،وزیراعظم کی ہدایت پر سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر نےکابینہ ارکان کو خط لکھ دیا ،وزیراعظم نے تمام وزراء کو پارلیمانی کارروائی میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی، خط میں کہا گیا کہ وزراء کی ایوان میں غیر حاضری سے احتساب کے اصولوں اور شفافیت کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے،وزرا کی ایوان میں حاضر نہ ہونے سےعوام کی جمہوری اداروں پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچے کا خدشہ ہے،وزرا کا اپنے ماتحت افسران کو آئینی ذمہ داریاں دینا قابل قبول نہیں،یہ عمل وزرا کی جانب سے گورننس میں غیر سنجیدگی بھی ظاہر کرتی ہے،وزیراعظم کی وفاقی وزرا کو ایوان کی کارروائیوں میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت، وزیراعظم نے وزراء کو وقفہ سوالات اور ایوان میں بحث کے دوران دیگر میٹنگز میں شرکت کی ہدایت کی،

    سیالکوٹ: مریم نواز کا 300 ارب کا کسان دوست پیکج، زرعی انقلاب کی امید

    ڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز میں چھپ کرسفر کرنے والی روسی خاتون دوبارہ گرفتار

  • کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    کیا آئی ایم ایف کی ہدایات پر ہماری قانون سازی ہوگی؟ مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ 26 ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی، کوشش ہے تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کریں، دینی مدارس کے مالیاتی ڈھانچے پر بات کی گئی، وہ ایک اتفاق رائے کے ساتھ تھا،اپوزیشن پارٹی نے لاتعلقی ظاہر کی، تمام پارٹیاں حکومتی ،اپوزیشن بنچز پر آن بورڈ تھیں،سیاست میں مذاکرات ہوتے ہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کو دلائل سے سمجھاتے ہیں اور مسئلہ حل تک پہنچ جاتا ہے، دینی مدارس کے حوالے سے ایک بل بھی تھا، ایک تاریخ ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 2004 میں حکومت اور دینی مدارس کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومت نے اس وقت مدارس کے حوالے سے تین سوال اٹھائے، مالیاتی نظام،دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور تیسرا دینی مدارس کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہوتا ہے، تینوں سوالوں پر مذاکرات کے بعد حکومت مطمئن ہوگئی، کہا گیا دینی مدارس محتاط رہیں گے،شدت پیدا کرنےوالا مواد نہ شائع کیا جائے، 2010 میں ایک پھر معاہدہ ہوا، مہمارے نزدیک معاملات طے تھے، پھر اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی تو خود حکومت نےسوال اٹھایا، حکومت نے کہا مدارس سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں، یہ ایسا تھا جیسے ایک ڈاکخانہ تبدیل کررہے ہیں دوسرے سے، بعد میں ایک ایجوکیشن بورڈ بنا جس کے تحت 12مراکز بنائے گئے،

    نئے مدارس کی رجسٹریشن کے لئے حکومت تعاون کرے گی، مدارس کے حوالے سے ایکٹ بن چکا ہے، ایاز صادق سپیکر نے ایک انٹرویو میں الفاظ استعمال کیے یہ ایکٹ بن چکا ہے، یہ باتیں کرنا کہ وہ بھی تو مدارس ہیں ،تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے، گنجائش نکالی جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، بحث اس پر ہے کہ ایکٹ بن چکا، گزٹ نوٹفکیشن کیوں نہیں ہو رہا، ہم نے ترمیم پر گفتگو کی،ایک ایسی غلط نظیر قائم کریں گے آپ جس سے آنے والے ہر ایوان کے لئے مشکل ہو گی، ایوان کا استحقاق مجروح نہ کیا جائے، دوسرا اعتراض آئینی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے، تاویلیں نہیں چلیں گی، ہم بھی اسی مدرسہ سے پڑھے ہوئے، اس ہاؤس میں چند سال گزارے، میں قانون کا طالب علم ہو، عدالت قانون کے مطابق فیصلے دیتی ہے اس قانون کے مطابق جو ہم یہاں سے بنا کر بھیجتے، ہم قانون ساز ہیں، اس حوالہ سے ہمارے اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے، یہ متفقہ چیز ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم پر ایک ماہ بحث ہوتی رہی، پہلے ابتدائی ڈرافٹ، مذاکرات کے ذریعے حکومت 34 شقوں سے دستبردار ہوئی،22 پر آئی، پھر ہم نے پانچ شقیں اور شامل کیں، میں کراچی بھی گیا، بلاول ہاؤس گیا، لاہور آئے، نواز شریف کے گھر پانچ گھنٹے بیٹھے رہے، مدارس بل پر اتفاق رائے پایا گیا، میں نے پی ٹی آئی کے دوستوں کو اعتماد میں لیا، پارلیمنٹ کے کسی ایک رکن بھی اس سے غافل نہیں رکھا، اب مدارس کو کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے، اتفاق رائے ہو چکا تو پھر اعتراضات کیوں، یہ راز آج کھلا کہ ہماری قانون سازی کسی اور کی مرضی کے مطابق ہو گی، کہہ دیا جائے ہم آزاد نہیں ہیں، غلام ہیں، یہ افسوسناک بات ہے، اگر امریکہ کے کانگریس میں کوئی رکن قرارداد پیش کرتا ہے وہ عمران کی رہائی کے لئے تو آپ یہاں قرار داد پیش کرتے ہیں کہ امریکہ کو دخل اندازی کا حق نہیں کیا یہ دخل صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، باقیوں کے ساتھ نہیں، آئی ایم ایف ناراض ہو جائے گا، فلاں ناراض ہو جائے گا یہ تاویلات کیسے قبول کریں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کسی تلخی کی طرف نہ جائیں کیونکہ پاکستان اس کا متحمل نظر نہیں آ رہا، دینی جماعتیں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں،دینی مدارس نے ثابت کر دکھا یا ہے کہ ہم پاکستان، آئین،جمہوریت، قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر کس بات کا امتحان لیا جا رہا ہے، کس کو تکلیف ہے کہ ملک میں مذہب کی تعلیم کیوں ہے، یہ بات آج سے نہیں بہت پرانی ہے.
    مدارس بل پر حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے،

  • شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

    خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے چکیسر میں دہشتگردوں نے پولیس چوکی گنانگر پر دستی بم حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے رات کے وقت چکیسر کے گنانگر پولیس چوکی کو نشانہ بنایا۔ دستی بم حملے کے بعد پولیس اہلکاروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حملے میں اے ایس آئی حسن خان اور سپاہی نثار خان شہید ہوگئے جبکہ محرر ارشد خان، سپاہی ارشد خان اور رفعت زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر بٹ گرام اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کی زندگی کو لاحق کوئی شدید خطرہ نہیں۔پولیس حکام نے حملے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور دہشتگردوں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کر دیا۔ پولیس نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم یا گروپ نے قبول نہیں کی، تاہم پولیس دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔ علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور عوام میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔یہ واقعہ صوبے میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا ایک اور افسوسناک پہلو ہے، جس کے نتیجے میں عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔

  • مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مدارس بل باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے قانون کے مطابق بلاتاخیر اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔

    مولانا فضل الرحمٰن، مفتی تقی عثمانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کی سپریم کونسل کا اجلاس جامعہ عثمانیہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے بعد مندرجہ ذیل قرار داد اتفاق رائے سے منظور ہوئی، قرار داد کا متن ہے کہ سوسائٹیز رجسٹرین ایکٹ کے تحت ایکٹ ترمیمی سوسائٹیز بل مورخہ 20-21 اکتوبر 2024 کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوا اور اسی روز قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دستخط سے حتمی منظوری کے لیے ایوان صدر کو ارسال کر دیا گیا۔مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 28 اکتوبر 2024 کو صدر کی جانب سے غلطی کی نشاندہی کی گئی، اسپیکر قومی اسمبلی نے آئین و قانون کے تحت اسے قلمی غلطی گرادانتے ہوئے تصیح کردی اور تصیح شدہ ترمیمی بل مورخہ یکم نومبر 2024 کو ایوان صدر ارسال کر دیا۔ اسے صدر نے قبول کرتے ہوئے اس پر زور نہیں دیا، بعد ازاں صدر کی طرف سے 10 دن کے اندر مذکورہ ترمیمی بل پر کوئی اعتراض نہیں ہوا، البتہ 13 نومبر 2024 کو نئے اعتراضات لگادیے گئے جو کہ میعاد گزرنے کی وجہ سے غیر مؤثر تھے، نیز ایکٹ کے بعد دوبارہ اعتراض بھی نہیں لگایا جا سکتا تھا، لہذا یہ بل اب قانونی شکل اختیار کر چکا ہے۔مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حوالے کے لیے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی نظیر موجود ہے، نیز اسپیکر نے اس بات کا اعتراض کیا ہے ان کے نزدیک یہ باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے اور انہیں صرف ایک ہی اعتراض موصول ہوا تھا، ہمارا مطالبہ ہے کہ قانون کے مطابق بلاتاخیر اس کا گزیٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے تاکہ فوری طور پر اس پر عمل درآمد شروع ہو۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شریعت کا حکم ہے کہ حسن ظن سے کام لیا جائے، جو لوگ اقتدار و اختیار کے مالک ہوتے ہیں، ان سے ہمیشہ معقولیت، انصاف اور توازن کی امید کی جاتی ہے، لہٰذا اس وقت تک ہماری پوری سپریم کونسل کی رائے ہے کہ حکومت وقت ہماری اس قرداد کو معقول گردانتے ہوئے اسے تسلیم کرے گی اور اس پر عملدرآمد کرے گی۔مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ اگر اس کے برعکس کوئی صورتحال پیش آئی تو ہم بلاتاخیر مل بیٹھیں گے اور اس کے بعد کا لائحہ عمل اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے موقع پر بات چیت میں جس بل پر ہمارا اختلاف نہیں ہے، اسے بھی منظور کیا جائے، انہوں نے وعدہ کیا اس کو پاس کیا جائے گا اور وہ پاس ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اگر بل میں کوئی تبدیلی لائی گئی ہے، ہم نے تو نہیں لائے، تبدیلی بھی اسی حکومت نے لائی ہو گی، ظاہر ہے ہمارے لیے اس میں کوئی تنازع والی بات نہیں ہے، کیا انہوں نے اس بل کے پاس ہونے کے بعد کوئی اعتراض کیا؟مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کیا انہوں نے کوئی سوال اٹھایا؟ کوئی سوال نہیں اٹھایا بلکہ بل پاس ہونے کے ایک ہفتے کے اندر مجھے مبارکباد دینے کے لیے آنا چاہتے تھے لیکن ملاقات نہیں ہوسکی تھی، آج ڈیڑھ مہینے کے بعد سوال اٹھا رہے ہیں، ہم ان سے کوئی جھگڑا نہیں کررہے وہ ہمارے بھائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ کوئی سوال کرتے تو ہم ان کے ساتھ بیٹھتے کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے، لیکن ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ جیسے یہ بل بڑا متنازع ہے، بل اتفاق رائے کے ساتھ پاس ہوا ہے۔ اس وقت اس کی آئینی و قانونی پوزیشن ہے کہ ہماری نظر میں وہ بل ایکٹ بن چکا ہے، اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے، ہمارے مدعے کو سمجھا جائے، ہم کسی کے مقابلے میں نہیں ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم ایوان صدر سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے خلاف قانون اقدامات کیوں کیے، گزٹ کیوں نہیں کرایا؟ حکومت سے ہماری شکایت ہے کہ اس کا نوٹی فکیشن کیوں نہیں کرر ہی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قانونی، آئینی راستے سے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، ہم منفی گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔واضح رہے کہ آج پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے دعویٰ کیا تھا کہ مدارس بل پر معاملات طے پا چکے ہیں اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

  • مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے  دشمن

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن

    فتنتہ الخوراج پاکستان کی عوام و ترقی کےدشمن ہیں

    فتنتہ الخوراج پاکستان کی تاریخ میں ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے ،مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے یہ دہشتگرد پاکستان کی عوام کے کھلے دشمن ہیں ،مساجد، امام بارگاہوں، اقلیتوں،کھیل، سکول،کاروباری و سیاحتی مقامات اور پاکستان کے دفاعی ادارےفتنتہ الخوارج کی دہشتگردی کا نشانہ رہے ہیں ،فتنتہ الخوراج کے قیام کیساتھ ہی اس نے معصوم پاکستانی عوام کیخلاف طبل جنگ بجا دیا ،فتنتہ الخوراج نے پاکستانی قبائلی کم عمر نوجوانوں کوہتھیار کے طور پر خودکش حملوں میں استعمال کیا ،فتنتہ الخوراج نے پاکستان کی معصوم عوام کا خون بہایا ،فتنتہ الخوراج نےخواتین کی تعلیم کیخلاف گرلز سکولوں پر حملے شروع کر دئیے

    سکولوں کی بندش اور خواتین کی تعلیم خلاف پر تشدد حملوں نے صرف وادی سوات میں 8000 خواتین اساتذہ کو ملازمتوں سے محروم کر دیا ، 2011 میں کے پی اور سابقہ فاٹا میں 1600 سکولوں کو منہدم یا نقصان پہنچایا گیا جس سے 7لاکھ 21 ہزار طلباء جن میں 3 لاکھ 71 ہزار 604 لڑکیاں متاثر ہوئیں،لڑکیوں کی سکول تک رسائی غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی اور لڑکیوں کے زیادہ تر سکول فتنتہ الخوارج کے حملوں سے تباہ ہو گئے ،”فتنتہ الخوارج نے 2009 سے 2013 تک قبائلی علاقوں میں 838 حملوں میں 500 سے زائد سکولوں کو مسمار کیا”.2009 میں اسلام آباد میں قائم بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں خود کش حملےمیں 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے

    فتنتہ الخوراج نے 16 دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے میں 149 افراد جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، کو شہید کر دیا

    2005 سے 2018 تک فتنتہ الخوارج نے صرف خیبر پختونخواہ میں 227 خودکش حملوں میں 3009 پاکستانیوں کو شہید جبکہ 5374 کو زخمی کیا ،2013 میں پشاور کینٹ میں مسجد پر فتنتہ الخوراج کےخودکش حملے میں 18 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ،مارچ 2015 میں فتنتہ الخوارج نے بنوں کی مسجد میں خودکش دھماکے میں 15 افراد کو شہید جبکہ 20 کو زخمی کر دیا ،2016 میں کوئٹہ میں کرکٹ گراؤنڈ پر خودکش حملے میں 6 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے .2018 میں کوئٹہ میں سپورٹس گراونڈ میں فٹبال میچ کے دوران وحشیانہ حملے میں 8 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہو گئے.جولائی 2018 میں بنوں اور مستونگ میں سیاسی ریلیوں پر حملوں میں 133 افراد شہید کر دئیے گئے.30 جنوری2023کو، فتنتہ الخوارج نے پشاور پولیس لائنز مسجد پر حملے میں 80 سے زائد افراد کوشہید کردیا .17 فروری2023 کو ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں نے کراچی پولیس آفس پر حملہ کیا، جس میں 4 افراد شہید اور 19 زخمی ہوئے.افغانستان میں طالبان کے قبضے سے پہلے 2020 میں پاکستان میں 3 حملوں میں 25 افراد شہید، 2021 میں 4 حملوں میں 21 افراد شہید ہوئے،افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد2022 میں 13حملوں میں 96افراد شہید ہوئے،سال 2023 میں پاکستان میں 30 خودکش حملوں میں 238 افراد شہید ہوئے،

    2021 میں افغان طالبان کے اقتدارپر قبضےکےبعدفتنتہ الخوارج کو افغانستان میں جدید ترین ہتھیاروں اورجنگجوؤں تک آسان رسائی حاصل ہوگئی،فتنتہ الخوارج کا مذہب سے دور دور تک تعلق نہیں بلکہ یہ مکروہ عناصر پاکستان دشمن قوتوں کے ایما پر پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں

    سعودی عرب کی اسرائیل کی گولان میں آبادکاری کی توسیع کی مذمت

    جی ایچ کیو حملہ کیس،شاہ محمود قریشی سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے