Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،  مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس میں مزید9 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی،

    انسداد دہشت گردی عدالت نے مزید سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں شیریں مزاری، راشد حفیظ، طاہر صادق سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے،بانی پی ٹی آئی کو اڈیالا جیل کی عدالت میں پیش کیا گیا مخدوم شاہ محمود قریشی کو بھی عدالت پیش کیا،اب تک 98 ملزموں پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے ۔ عمران خان پر 5 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی تھی ،غیر حاضر ملزموں کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر 98 ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی۔جی ایچ کیو حملہ کیس میں کل ملزمان کی تعداد 119 ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی،دورانِ سماعت شاہ محمود قریشی کی جانب سے 265 ڈی کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی ،عدالت نے شاہ محمود قریشی کی 265 ڈی کی درخواست آئندہ سماعت کے لیے مقرر کر دی جس کی وجہ سے ان پر آج فردِ جرم عائد نہ ہو سکی،سی آر پی سی 265 ڈی کے تحت الزامات ثابت نہ ہونے پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی روکنے کا کہا جاتا ہے۔

    پراسیکیوشن کی جانب سے غیر حاضر ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی، پراسیکیوٹر نے کہا کہ غیر حاضر ملزمان جان بوجھ کر ٹرائل میں تاخیر کررہے ہیں،شاہ محمود قریشی کو کوٹ لکھپت جیل سے اڈیالہ جیل پہنچایا گیا۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نوید ملک اور ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔پی ٹی آئی کے وکیل محمد فیصل ملک لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے،شیخ رشید احمد،شیخ اشد شفیق،راجہ بشارت،زرتاج گل پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے، وکلاء کے دلائل مکمل ہونےکے بعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی،

    عمران خان اور دیگر پر عائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ، پی ٹی آئی رہنماؤں پر جی ایچ کیو پرحملہ، افواج پاکستان کو بغاوت پراکسانے کا الزام ہے،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی سے قبل منصوبہ بندی کرکے عسکری اہداف کا تعین اور 9مئی واقعات، ملکی داخلی، سلامتی اور ریاستی استحکام پر براہ راست حملےکاا لزام ہے،فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی طرز پر منظم منصوبہ بندی کی، پرتشدد مظاہروں سے حکومت کو دباؤ میں لانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جولائی 2023 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے 9 مئی واقعات پر رپورٹ جاری کی،فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر 102 گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور 26 سرکاری عمارتوں پر منظم حملے کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے،فردجرم میں کہا گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی میں 1 66کروڑ 56 لاکھ روپے مجموعی نقصان کا تخمینہ ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • ڈاکیارڈ حملہ کیس، سابق افسران کی سزائے موت  فیصلے پر عملدرآمد روکنے کا حکم امتناع ختم

    ڈاکیارڈ حملہ کیس، سابق افسران کی سزائے موت فیصلے پر عملدرآمد روکنے کا حکم امتناع ختم

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق نیوی افسران کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل سے سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کا حکم امتناع ختم کر دیا۔ عدالت نے ڈاکیارڈ حملہ کیس میں سزائے موت پانے والے نیوی کے پانچ سابق افسران کی دستاویزات کے حصول کے حوالے سے دائر درخواست بھی نمٹا دی۔

    اس مقدمے کی سماعت جسٹس بابر ستار کی سربراہی میں ہوئی، جہاں عدالت نے درخواست گزار کے وکلاء کے بیان کے بعد فیصلہ سنایا۔ درخواست نیوی کے سابق افسران ارسلان نذیر ستی، محمد حماد، محمد طاہر رشید، حماد احمد اور عرفان اللہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

    درخواست گزار کے وکیل کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم نے عدالت میں کہا کہ حکومت کے حکم پر، سرکاری وکیل کی موجودگی میں انکوائری رپورٹ اور فیصلے تک رسائی دی گئی تھی، مگر انکوائری رپورٹ اور ججمنٹ کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری رپورٹ اور ججمنٹ دکھا دی گئی تھی اور نوٹس بھی بنا لیے گئے تھے۔نیوی حکام نے اپنی پوزیشن میں کہا کہ بورڈ آف انکوائری کی رپورٹ ایک قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس کی کاپی مجرمان کو فراہم کرنا ممکن نہیں۔ تاہم، عدالت نے اس موقف کو نظر انداز کرتے ہوئے سزائے موت پانے والے مجرمان کو ان سے متعلق ریکارڈ کی حد تک رسائی دینے کا حکم دیا تھا۔

    یاد رہے کہ نیوی کے پانچ اہلکاروں کو ڈاکیارڈ حملہ کیس میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس فیصلے پر عمل درآمد روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کیا تھا، جسے اب ختم کر دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ عدالت کی طرف سے ایک اہم قانونی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عدلیہ کی نظر میں مجرمان کو ان کے مقدمے کی تمام دستاویزات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی صفائی میں بہتر طور پر دلائل پیش کر سکیں۔

  • خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    بنوں کے علاقے کالا خیل مستی خان میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے انسداد پولیو مہم پر مامور ایک پولیو ورکر کو قتل کر دیا۔کرک میں پولیو ٹیم پر حملے میں پولیس اہلکار شہید ہو گیا ہے

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیو ورکر اپنی معمول کی ڈیوٹی پر جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے پولیو ورکر کو اس کے راستے میں گھات لگا کر نشانہ بنایا اور اس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔پولیس کے مطابق مقتول پولیو ورکر کا نام گلزار خان تھا اور وہ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی ذمہ داری پر مامور تھا۔ گلزار خان اپنی ڈیوٹی کے لیے جا رہا تھا جب اسے ملزمان نے نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق، فائرنگ کے بعد ملزمان فوراً فرار ہو گئے اور وہ جائے وقوعہ سے غائب ہو گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ واقعے کی حقیقی وجہ سامنے آ سکے۔پولیس نے بتایا کہ اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں اور یہ حملہ اسی قسم کی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب بنوں تھانہ صدر کی حدود میں پولیو ورکر پر فائرنگ ہوئی ہے، فائرنگ سے پولیو ورکر حیات اللہ خان زخمی ہوگیا ، زخمی ورکر کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ، واردات کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ ہوا ہے ، جس میں ایک کانسٹیبل شہید ہوگیا،کرک میں ٹیری کے علاقے شیخان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کانسٹیبل شہید ہوگیا، جبکہ پولیو ورکر زخمی ہوا۔

    یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم کا مقصد ملک بھر میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت، تمام صوبوں میں پولیو ورکرز گھروں، اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے دیں گے۔پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے کوششیں جاری ہیں، لیکن اس دوران پولیو ورکرز کو مختلف علاقوں میں دہشت گردوں، مسلح گروپوں اور مخالفین کی طرف سے خطرات کا سامنا رہا ہے۔ اس نوعیت کے حملے پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔پولیو ورکرز اور مہم میں شریک دیگر افراد کی حفاظت ہمیشہ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، اور اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے دوران ورکرز کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام نے کہا ہے کہ وہ پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بنوں کے شہریوں اور پولیو ورکرز کے نمائندوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقامی رہنماؤں نے اس واقعے کو علاقے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا ہے اور حکومت سے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔

    یہ واقعہ نہ صرف بنوں بلکہ پورے ملک میں پولیو مہم پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس قسم کے حملے ان کوششوں کو ناکام بنانے کی کوششیں ہیں۔ اس وقت حکومت اور مقامی اداروں کے لیے سب سے بڑی چیلنج پولیو ورکرز کی حفاظت اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔

    خیبر پختونخوا میں پولیو ورکرز پر حملے، صدر مملکت،وزیراعظم کی مذمت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک میں پولیو ورکرز پر حملے کی مذمت کی ہے،صدر مملکت نے حملے میں سکیورٹی اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ دہشت گرد ملک و قوم کے مستقبل کے دشمن ہیں ، دہشت گرد پاکستان کے عوام کو صحت مند اور خوشحال نہیں دیکھنا چاہتے ، پاکستان کی عوام بڑھ چڑھ کر پولیو مہم میں حصہ لے، عوام سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، صدر مملکت نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا.

    پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہے،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں انسداد پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملے، اور اس میں ایک پولیس اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پولیو کو پاکستان سے ختم کرنے کے لئے ہماری سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی. قوم کو پولیو کے مرض سے پاک کرنے کے لیے سرگرم عمل پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہےاس قسم کی کاروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں،حکومت ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے اور پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی.

    گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کرک میں پولیو ٹیم پر حملے کی رپورٹ طلب کر لی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے،حملے میں پولیس اہلکار کی شہادت پر دلی افسوس ہوا، زخمی پولیو ورکر کو ہر ممکن علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے،پولیو ورکرز پر حملہ پاکستان اور انسانیت دشمن قوتوں کی سازش ہے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت کیلیےڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہوں ،پولیو ٹیم پر حملے میں شہید پولیس اہلکار کی شہادت افسوسناک ہے ، پولیو ٹیمیں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں ،اس نیک مقصد کے دوران ان پولیو ٹیموں پر حملہ انہتائی شرمناک ہے ،کے پی حکومت حملے میں زخمی ہو نے والے پولیو ورکرز کو علاج کیلئے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے، حملے میں شہید کانسٹیبل کے لیے بلندی درجات اور اہلخانہ کے لیے صبرو جمیل کی دعا کرتی ہوں،

  • سانحہ اے پی ایس،  دس برس بیت گئے،زخم آج بھی تازہ

    سانحہ اے پی ایس، دس برس بیت گئے،زخم آج بھی تازہ

    سانحہ آرمی پبلک سکول کی دسویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

    16 دسمبر سال 2014 کو امن اور تعلیم کے دشمنوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا، دہشت گرد سکول کے عقبی راستے سے صبح 10 بجے کے قریب عمارت میں داخل ہوئے، اس وقت آٹھویں ،نویں اور دسویں جماعت کے طالب علم آڈیٹوریم میں تربیت میں مشغول تھے،دہشت گردوں نے ہال میں داخل ہوتے ہی ہر طرف اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور اے پی ایس کی دیواروں کو خون سے رنگ دیا، دہشتگردوں کی فائرنگ سے پرنسپل ،اساتذہ ،طلبہ اور دیگر عملے سمیت 140 سے زائد افراد شہید ہوئے۔

    سکیورٹی فورسز کےجوانوں نے بھرپورکارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا، سانحہ اے پی ایس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نئی روح پھونکی، نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا اور قبائلی علاقوں سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہوا،بعدازاں اے پی ایس حملے میں ملوث 6 دہشتگردوں کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا جنہیں ملٹری کورٹس نے موت کی سزائیں بھی سنائی تھیں،سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا اور قبائلی علاقوں سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا گیا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے نتیجے میں جہاں ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہوا وہیں علم دشمن عناصر کے ناپاک ارادے بھی خاک میں مل گئے،سانحہ آرمی پبلک سکول کو تو دس سال بیت گئے لیکن اس افسوسناک واقعہ کی یادیں آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگرسیاسی شخصیات نے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کو 10ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے ہمارے بچوں اور قوم کے مستقبل پر حملہ کیا، دہشت گردوں نے معصوم بچوں سمیت شہریوں کو سفاکیت سے قتل کیا۔آصف علی زرداری کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے اساتذہ اور بچوں کو نشانہ بنا کر عوام دشمنی کا ثبوت دیا، معصوم بچوں پر حملہ گھناؤنا اور انسانیت سوز جرم ہے، دہشت گردوں کا ایجنڈا ملک میں فساد اور انتشار پھیلانا ہے، پاکستانی قوم دہشت گردوں کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سانحہ اے پی ایس کی برسی پر پیغام میں کہا کہ ہم بھولیں گے نہ معاف کریں گے، دل آج بھی خون کے آنسو رورہا ہے، پوری قوم ان بزدلوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ سمیت پوری قوم بچوں و اساتذہ کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے، آیئے ہم ایک پرامن اور محفوظ پاکستان کی تعمیر کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔

    سانحہ اے پی ایس کی 10ویں برسی پر اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کو دس سال گزر چکے لیکن زخم آج بھی تازہ ہیں ،16 دسمبر 2014 کی سیاہ صبح ہر پاکستانی کے دل پر نقش ہے، دہشت گردوں نے 147 معصوم بچوں اور ان کے اساتذہ کو سفاکیت کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ننھے طلبہ جو علم کی روشنی سے اس ملک کے مستقبل کو روشن کرنا چاہتے تھے،درندگی کی نذر ہوگئے، سانحہ 16دسمبر صرف سکول پر ہی نہیں بلکہ انسانیت، تعلیم اور پاکستان کے روشن مستقبل پر حملہ تھا۔وزیراعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ اے پی ایس شہداء ہماری قوم کے ہیرو ہیں، شہداء کے والدین اور اہلخانہ کا حوصلہ اور صبر قابل تحسین ہے، سانحہ اے پی ایس کے 147 شہداء کا خواب بہتر پاکستان تھا، ہماری ذمہ داری ہے اسے حقیقت میں بدلیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر کے ہی دم لیں گے.

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نےآرمی پبلک اسکول پشاور حملے کی 10ویں برسی پر پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ 16 دسمبر 2014 کا دن قومی تاریخ کا المناک اور سیاہ ترین دن ہے،یہ دن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے،سانحہ اے پی ایس نے قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد کر دیا،ہم شہداء کے خاندانوں کے غم میں شریک ہیں اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سانحہ اے پی ایس کو دس برس بیت گئے لیکن آج بھی ہمارے زخم تازہ ہیں ، 16 دسمبر کا دن ہمیں اُس سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے، جب معصوم جانوں کی شہادت نے پوری قوم کو غم میں مبتلا کیا، اس دن سفاک دُشمن نےہمارے دلوں پر کاری ضرب لگائی،علم دشمن دہشت گردوں نےسفاکی سے علم کی شمعوں کو بجھایا، بزدل شرپسند عناصر نے قوم کے مستقبل، نہتے کم سن بچوں پر حملہ کر کے انہیں شہید کیا، پرنسپل شہید طاہرہ قاضی اور نہتے اساتذہ طالب علموں کو بچانے کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹے رہے، قوم کی ہمدردیاں ان والدین کے ساتھ ہیں جن کے بچوں نے اس سانحے میں عظیم قربانی دی، دہشتگردوں اور پاکستان کے امن کے دشمنوں کو میرا واضح پیغام ہے وطن عزیز کی حفاظت کیلیے ہم ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار ہیں، ہم نہ تو شہدا کو بھولیں گے اور نہ ہی اس سانحہ کو، ہم دہشتگردی کے متاثرہ خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، آج کے دن پوری قوم شہدائے آرمی پبلک سکول پشاور کے درجات کی بلندی کیلئے دعا گو ہے،

  • جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے عدلیہ میں ججز تعیناتی کے حوالے سے رولز بنانے اور سخت میکنزم کے لیے لکھے گئے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دے دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا کہ آپ کی تجاویز کو پہلے بھی consider کیا کل کے خط والی بھی دیکھیں گے آئندہ بھی آپ اپنی تجاویز رولز کمیٹی کو دے سکتے ہیں 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں بھی آپ نے بات کی لیکن میں اس کا جواب اس لیے نہیں دوں گا کیوں کہ اس کے خلاف درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں آپ نے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے کو نام تجاویز کئے وہ رولز کے مکمل ہونے کے بعد دے سکتے ہیں میری بھی یہی رائے ہے کہ آئین کی منشا یہی ہے کہ عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہونی چاہیے عدلیہ کے ممبران قابل اور دیانتدار ہونے چاہییں اسی مقصد کے لئے رولز بنا رہے ہیں ”

    پاکستان کی عدلیہ میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس کے تحت ججوں کی تقرری کے لیے نئے قواعد تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج، جسٹس سید منصور علی شاہ کو جسٹس جمال خان مندوخیل نے جوابی خط لکھا جس میں نئے قواعد کی تیاری کے عمل اور اس میں ہونے والی پیشرفت پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ آئین میں 26 ویں ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا دوبارہ قیام عمل میں آیا ہے، جس میں سپریم کورٹ کے جج سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔خط میں بتایا گیا کہ جے سی پی نے 6 دسمبر 2024 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 175اے کی شق 4 کے تحت ججوں کی تقرری کے معیار اور طریقہ کار کے لیے قواعد تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا مقصد ججوں کی تقرری کے عمل میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو ججز منتخب ہوں، وہ قابل، ایماندار اور غیر جانبدار ہوں۔کمیٹی کے اجلاس میں 2010 کے جے سی پی کے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قواعد کی تیاری پر غور کیا گیا۔ اس میں سپریم کورٹ کے جج، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سینیٹر فاروق حمید نائیک اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کی آزادی اور عدلیہ کی غیر جانبداری آئین کے بنیادی اصول ہیں، اور ان کے مطابق ہی نئے قواعد کو مرتب کیا جائے گا۔

    خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی ترقی کے لیے اپنے امیدواروں کے نام تجویز کیے تھے، جنہیں نئے قواعد کی منظوری کے بعد پیش کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 16 دسمبر 2024 کو ہونے والی ہے جس میں مزید تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ خط میں یہ بات بھی کی گئی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں اٹھائے گئے سوالات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ تاہم، عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کو مقدم رکھنے کا عہد کیا گیا ہے۔خط کے آخر میں کہا گیا کہ عدلیہ پاکستان کے عوام کا ادارہ ہے اور جے سی پی کے تمام ارکان کو نئے قواعد کی تیاری کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ ڈرافٹ قواعد کو جے سی پی کی اگلی میٹنگ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ان پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

  • پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم  نے ایڈوائس صدر  کو بھجوا دی

    پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس، وزیراعظم نے ایڈوائس صدر کو بھجوا دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری کو ایڈوائس ارسال کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے یہ ایڈوائس 17 دسمبر کو دن 11 بجے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز کے حوالے سے بھیجی ہے۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جائے گی، جن میں مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق نیا بل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، اجلاس میں 8 دیگر بلز کی منظوری کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق نئے بل پر حکومت اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کی مشاورت ابھی جاری ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے مدارس بل پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جس کے باعث صدر آصف زرداری نے اس بل کو اعتراضات لگا کر واپس بھیج دیا ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب مدارس کے رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت اور دینی جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مدارس کے نظام میں اصلاحات لانے کے لیے نئے بل کا مسودہ تیار کیا گیا تھا، جس پر مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف اور جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ اجلاس میں ان اختلافات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

    دوسری جانب چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں،اختلاف اس بات پر ہے کہ جو مدارس وزارتِ تعلیم سے منسلک ہو گئے ان سے متعلق منفی قانون سازی نہ ہو، مدارس اپنا آڈٹ بھی کرواتے ہیں، حسابات سب کے لیے کھلے ہیں، کوئی مدارس کے حسابات چیک کرنا چاہتا ہے تو کیا اعتراض ہو سکتا ہے، کسی عالمی قوت کو پاکستان کے نظام میں مداخلت کا حق نہیں، فیٹف سے متعلق ماضی میں بھی مدارس کی کوئی شکایت نہ تھی اور نہ ہی اب ہے،گالی گلوچ اور الزام تراشی سے مدارس کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

  • 20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    وزیراعظم پاکستان، شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد نے امریکی جیل میں قید معروف پاکستانی محقق اور ماہر نفسیات ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے تقریباً تین گھنٹے تک ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ کی صحت، قید کی حالت اور رہائی کے حوالے سے اہم بات چیت کی گئی۔ پاکستانی وفد نے اس موقع پر امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں امریکی کانگریس اور وزارت خارجہ کے حکام شامل تھے، تاکہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔پاکستانی وفد میں شامل سینیٹر بشریٰ انجم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے امریکی حکام سے ہونے والی گفتگو انتہائی مثبت رہی۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ امریکی حکومت 20 جنوری سے پہلے عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کوئی فیصلہ کر لے گی”۔ سینیٹر بشریٰ انجم نے مزید کہا کہ یہ کیس صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے، اور اس حوالے سے عالمی برادری کا بھی کردار اہم ہے۔

    عافیہ صدیقی کو 2003 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف حملے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2010 میں انہیں امریکا کی جیل میں 86 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔پاکستانی وفد کی اس ملاقات کا مقصد ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی کوششوں کو تیز کرنا تھا تاکہ انہیں طویل عرصے سے جاری قید سے نجات مل سکے۔ اس موقع پر وفد نے امریکی حکام سے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کرنے کی درخواست کی، اور ان کے ساتھ انصاف کی فراہمی کی اپیل کی۔پاکستانی حکومت نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کے معاملے کو ہر سطح پر اٹھا کر انہیں جلد سے جلد انصاف دلانے کی کوشش کرے گی۔

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

  • رینجرز اہلکاروں کی شہادت کا واقعہ عمران خان کے حکم پر ہوا، ایف آئی آر

    رینجرز اہلکاروں کی شہادت کا واقعہ عمران خان کے حکم پر ہوا، ایف آئی آر

    پی ٹی آئی کے احتجاج میں رینجرز اہلکاروں کی شہادت کے معاملے پر تھانہ رمنا میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، بشریٰ بی بی کیخلاف تہرے قتل کی ایف آئی آر منظرعام پر آگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق منظرعام پر آنے والی ایف آئی آر کے مطابق تمام واقعے کا منصوبہ اڈیالہ جیل میں بنایا گیا رینجرز اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ایما اور حکم پر ہوا۔ اعلیٰ حکام کے حکم پر مقدمے کی ایف آئی آر سیل کر دی گئی تھی۔ جیل میں ملاقات کیلئے جانے والی پی ٹی آئی قیادت کے ذریعے منصوبہ بنایا گیا منصوبے کے گواہان کچھ قیدی، مشقتی، جیل میں خفیہ پولیس کے ملازمین ہیں، بانی پی ٹی آئی کے حکم کی تعمیل بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپورنے کی۔عمرایوب، شیخ وقاص، سلمان اکرم نے باہمی سازش مجرمانہ کے تحت حکمت عملی بنائی جب کہ مرادسعید، ذلفی بخاری، رؤف حسن، حماد اظہر اور دیگر قیادت نےحکم کی تعمیل کی ۔بشریٰ بی بی اور دیگر ملزمان نے ویڈیو پیغام کے ذریعے عوام کو مشتعل کیا۔ پی ٹی آئی قیادت نے عوام کو فوج، حکومت کیخلاف بغاوت پر اکسایا جس سے واقعہ ہوا۔

    گوجرہ کے کھلاڑیوں کی کھیلتا پنجاب میں شاندار کامیابیاں

    کرکٹ چیمپئنز ٹرافی: بھارت نے پاکستان کے آگے گھٹنے ٹیک دیے

    سندھ سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا، شرجیل میمن

    وزیراعلیٰ سندھ نے عالمی کتب میلے کا افتتاح کردیا

  • چار دنوں میں43 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

    چار دنوں میں43 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 9 دسمبر سے اب تک 43 خارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ اپریشن کر کے فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو بڑا دھچکا پہنچایا، سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کے خلاف مؤثر کارروائی کی۔ 9 دسمبر سے اب تک 43 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آج سیکیورٹی فورسز نے موسیٰ خیل اور پنجگور میں 2 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، موسیٰ خیل اور پنجگور میں کارروائیوں میں 10 دہشت گرد مارے ہو گئے۔ 12 اور 13 دسمبر کی رات سیکیورٹی فورسز نے لکی مروت میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا، کارروائی میں 6 خارجی دہشت گرد مارے گئے، 9 دسمبر سے آج تک خیبرپختونخوا میں ہونے والی کارروائیوں میں 18 خارجی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ 9 دسمبر سے اب تک بلوچستان میں مختلف کارروائیوں میں 25 دہشت گرد جہنم واصل کیے جا چکے ہیں۔ خوارج کے مکمل خاتمے اور امن کی بحالی تک فورسز کے آپریشنز جاری رہیں گے۔

    کرکٹ چیمپئنز ٹرافی: بھارت نے پاکستان کے آگے گھٹنے ٹیک دیے

    یو ای ٹی لاہور کے رجسٹرار نے بغیر ٹینڈرز کے دکانوں کی الاٹمنٹ کر دی

    ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

  • پاکستان میں افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کا استعمال،ثبوت

    پاکستان میں افغانستان سے لائے گئے غیر ملکی اسلحے کا استعمال،ثبوت

    پاکستان کی سر زمین پر افغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت ایک بار پھر منظرِ عام پرآگئے۔

    افواج پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے،حال ہی میں پاکستان میں افغان سرزمین سے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، افغانستان سے دہشتگرد پاک افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش کرتے ہیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔سب پر یہ بات عیاں ہے کہ ”دہشتگردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے”۔دہشتگردوں کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔

    09 دسمبر 2024 کو، سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔آپریشن کے نتیجے میں دو خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا جبکہ ایک خارجی زخمی حالت میں پکڑا گیا۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں M16-A2, M4,AK-47 برآمد ہوا۔

    10 نومبر 2024 کو ضلع شمالی وزیرستان میں دس خوارج کو جہنم واصل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں M16-A4, M4,AMV-65 برآمد ہوا۔

    23/24 اکتوبر 2024 کی رات، سیکورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع باجوڑ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران، پاکستانی فوج کے دستوں نے دو خودکش بمباروں سمیت 9 خوارج اور 1 ہائی ویلیو ٹارگٹ خارجی رنگ کے لیڈر سید محمد عرف قریشی استاد کو جہنم واصل کیا۔ہلاک ہونے والے خوارج سے بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ جس میں M4, AMD65, AK47 گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

    19/20 ستمبر 2024 کو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں اپنے ہی فوجیوں اور دہشت گردوں کے درمیان دو شدید مقابلے ہوئے جس کے نتیجے میں بارہ خوارج جہنم واصل کر دیے گئے۔بھاری مقدار میں غیر ملکی اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں SKS, AK-47, RPD, LMG برآمد ہوا۔

    افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحے کی پاکستان سمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف غیر ملکی اسلحے کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔یورو ایشین ٹائمز کے مطابق پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی کارروائیوں میں غیر ملکی ساخت کے اسلحے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔پینٹاگون کے مطابق امریکا نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے، جس میں 300,000 انخلا کے وقت باقی رہ گئے۔اس بناء پر خطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔امریکا نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا۔ امریکی انخلا کے بعد ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار دہشت گرد حملوں میں مدد دی،یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان رجیم نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے افغانستان کے ناظم الامور کی ملاقات

    ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    افغانستان نے بھارت میں قائمقام قونصلر کی تقرری کر دی

    قومی ترانے کی بے حرمتی:پاکستان نے افغانستان سفارتخانے کی وضاحت کو سختی سے مسترد کردیا