Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    20 جولائی 2019 کو پی آئی اے کی پرواز 605، جو ایک ATR 42-500 طیارہ تھا اور رجسٹریشن نمبر AP-BHP کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور جا رہی تھی، ایک سنگین حادثے کا شکار ہو گئی تھی اس واقعے کے بعد پاکستانی ایوی ایشن کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات پر اہم سوالات اٹھے ہیں۔

    پی آئی اے فلائٹ کا طیارہ ATR 42-500 تھا، اس واقعہ میں طیارہ غیرمعمولی رفتار سے لینڈنگ کرنے کے دوران رن وے سے باہر نکل آیا۔ کپتان نے غیر معیاری طریقے سے تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا اور اس کے دائیں طرف کا لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود تمام مسافر محفوظ رہے اور انہیں فوری طور پر طیارے سے نکال لیا گیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ کپتان بار بار تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کے عادی تھے اور اس بار بھی انہوں نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، جس کا نتیجہ غیر معمولی لینڈنگ اور طیارے کے رن وے سے باہر نکلنے کی صورت میں نکلا۔ پی آئی اے نے اس حادثے کے بعد طیارے کو مستقل طور پر ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

    پی آئی اے کی پرواز پی آئی اے 605، جس کا طیارہ ATR 42-500 تھا (رجسٹریشن نمبر AP-BHP)، سنگین حادثے کا شکار ہوئی۔ یہ پرواز اسلام آباد سے گلگت کے لیے روانہ ہوئی تھی اور فلائٹ کے دوران کپتان اور فرسٹ آفیسر کی طرف سے کئی سنگین غلطیاں کی گئیں جس کے باعث طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا۔ طیارے کا وزن: 18,600 کلوگرام تھا،گلگت میں موسم صاف اور معمولی تھا۔پرواز سے قبل طیارے میں کوئی غیر معمولی یا تکنیکی خرابی رپورٹ نہیں کی گئی۔ کپتان نے پرواز کی قیادت کی تھی، اور فرسٹ آفیسر کو معاونت دی جا رہی تھی۔ پرواز کے آغاز کے بعد، 260 فٹ پر آٹومیٹک پائلٹ کو فعال کیا گیا۔ تاہم، 1,900 فٹ کی بلندی کے بعد، کپتان نے فلیپ کنٹرول کے بجائے وی ایس (Vertical Speed) موڈ کا انتخاب کیا جو فنی طریقہ کار کے مطابق نہیں تھا۔ وی ایس موڈ میں +400 فٹ/منٹ کی رفتار سے کلائمب شروع کیا گیا، جو بعد میں +1,700 فٹ/منٹ اور پھر +2,000 فٹ/منٹ تک پہنچ گیا۔ اس سے طیارے کا زاویہ 15 ڈگری تک بڑھ گیا اور رفتار 130 ناٹ سے کم ہو کر 160 ناٹ کی معیاری کلائمب اسپیڈ سے کم ہو گئی۔ پرواز کے دوران طیارہ FL165 پر کروز کر رہا تھا۔ بلندی 13,200 فٹ کے قریب، وی ایس موڈ کے باوجود رفتار میں مزید کمی آئی۔
    gilgit

    گلگت ایئرپورٹ کے لیے ڈیسنٹ شروع کیا گیا، اور اس دوران طیارہ 245 ناٹ کی تیز رفتار پر تھا، جو کہ پی آئی اے کے ایس او پیز کے خلاف تھا کیونکہ اس رفتار کو کم کر کے 200 ناٹ رکھا جانا چاہیے تھا۔ فرسٹ آفیسر نے کپتان کو اس بات کی اطلاع دی، لیکن کپتان نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب طیارہ رن وے کے قریب پہنچا تو 7.1 ناٹیکل میل دور 7,630 فٹ کی بلندی پر، EGPWS نے "Too Low Terrain” کا الرٹ جاری کیا۔ اس الرٹ کی وجہ زمین کی بلندی تھی اور اگر طیارہ ایس او پیز کے مطابق رفتار میں کمی کرتا تو یہ وارننگ نہیں آتی۔ کپتان نے طیارہ 175 ناٹ کی رفتار سے 15 ڈگری فلیپ پر لینڈنگ کی تیاری کی، حالانکہ اس رفتار پر فلیپ کو نیچے کرنے کا معیاری حد 180 ناٹ تھی۔ طیارہ رن وے 25 پر 160 ناٹ کی رفتار سے داخل ہوا اور تقریباً 2,000 فٹ نیچے رن وے پر ٹچ ڈاؤن کیا۔ اس وقت رن وے پر 3,400 فٹ کا فاصلہ باقی تھا، جس میں طیارہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت تک طیارے کی رفتار بہت زیادہ تھی (150 ناٹ)، جس کے باعث طیارہ رن وے پر زیادہ فاصلے تک "فلوٹ” کرتا رہا۔ کپتان نے تھرسٹ ریوڑسر کی بجائے صرف بریکس لگائیں، جو کہ اتنی مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔ زیادہ رفتار اور ناکافی بریکنگ کے باعث طیارہ رن وے کے آخر میں پہنچ گیا اور پھر کپتان نے طیارہ دائیں طرف موڑنے کی کوشش کی تاکہ وہ رن وے سے باہر نہ جائے۔ رن وے سے باہر نکلنے کے دوران طیارے کا دایاں لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا، جس کے باعث طیارے کو شدید ساختی نقصان پہنچا۔ طیارے کے دائیں انجن کو شدید نقصان پہنچا جب اس کا پروپیلر زمین سے ٹکرا گیا۔ کپتان نے فوری طور پر انجن بند کر دیے اور اس کے بعد تمام سسٹمز کو آف کر دیا۔ تمام مسافروں کو فوراً طیارے سے نکال لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کپتان تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا عادی تھا اور اس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرمعیاری طریقے سے لینڈنگ کی۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے پی آئی اے میں کئی دیگر فلائٹس میں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آئی، لیکن اس مرتبہ نتیجہ سنگین نکلا۔کریو ریسورس مینجمنٹ کی کمی بھی دیکھنے کو ملی، خاص طور پر اس بات میں کہ فرسٹ آفیسر نے کپتان کی غلطیوں پر آواز اٹھانے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ وہ کپتان کے اعلیٰ رینک اور تجربے کی وجہ سے اپنی رائے دینے میں محتاط تھا۔ مکمل تحقیقات کے بعد نشاندہی کی گئی کہ کپتان کی طرف سے جان بوجھ کر تیز رفتار لینڈنگ کی گئی جس سے طیارہ رن وے سے باہر نکلا۔ طیارے کے لینڈنگ کی تیاری اور اسپیڈ کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ طریقوں کی خلاف ورزی کی گئی، نقصانات کو نظر انداز کرتے ہوئے ناقص فیصلہ سازی کی گئی،فرسٹ آفیسر کی طرف سے مناسب طریقے سے آواز نہیں اٹھائی گئی،

    پی آئی اے کی انٹرنل انویسٹیگیشن رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ کیپٹن نے دوران پرواز ایک انتہائی تیز رفتار اپروچ اور لینڈنگ کی کوشش کی جس کی وجہ سے طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا، جو کہ "رن وے ایکسرشن” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی آئی اے کے طیارے کے کیپٹن کو کبھی بھی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کی خلاف ورزی پر کوئی تنبیہ یا سرزنش نہیں کی گئی تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کی ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ (FDA Analysis) ایک نظرانداز شدہ شعبہ تھا۔ ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ پی آئی اے کے تمام پروازوں کا صرف 5% حصہ تھی، جو کہ ایک سنگین کمی تھی۔ مزید برآں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے FDA ڈی بریفنگ کی نگرانی میں بھی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی، حالانکہ PCAA کی ذمہ داری تھی کہ وہ پی آئی اے کی حفاظتی طریقہ کار کی نگرانی کرے۔

    پی آئی اے 605 کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر پاکستانی ایوی ایشن کی حفاظتی سسٹمز کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ جہاں ایک طرف عملے کی تربیت اور ایس اوپیز کی پیروی میں بہتری کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف ایوی ایشن کی نگرانی اور حادثات کے بعد کی کارروائیوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب تک ایئرلائنسز کی طرف سے حفاظتی تدابیر کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، تب تک ایسے حادثات کا سامنا ممکن ہے، جو نہ صرف مسافروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ ایوی ایشن کے شعبے پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتے ہیں۔


    اس حادثے میں کیپٹن مریم مسعود کا نام سامنے آیا ہے جو طیارے کو چلا رہی تھی اور اس حادثے کی ذمہ دار تھیَ مریم مسعود کیپٹن عارف مجید کی بہنوئی ہیں، مریم مسعود کی بہن ارم مسعود بھی ہوابازی کی دنیا سے منسلک ہیں، اگست 2016 میں دونوں بہنوں مریم اور ارم نے ایک ساتھ دو بوئنگ 777 اڑائے تھے دونوں کے والد بھی پائلٹ رہ چکے ہیں۔مریم مسعود کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ گلگت کی طرف ہی پروازوں میں کام کریں،

    گلگت میں حادثے کا شکار پی آئی اے کا ناکارہ اے ٹی آر طیارہ 83 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا ہے، 4 ہزار کلوگرام وزنی اس طیارے کی نیلامی میں کامیاب بولی گلگت کے مقامی ٹھیکے دارکو دی گئی،ایئر پورٹ پر کھڑے اس ناکارہ طیارے کے دونوں انجنوں اور دیگر میکینیکل آلات نکال کر وزن کے حساب سے نیلام کیا گیا ہے طیارے کا وزن 4 ہزار کلو گرام تھا،طیارے کی نیلامی کا عمل شعبہ انجینئرنگ کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کی روشنی میں سر انجام دیا گیا، نیلامی کے لیے اس طیارے کی قیمت 0.844 ملین رکھی گئی تھی تاہم اسے مقررہ قیمت سے10 گنا زائد پر نیلام کیا گیا۔

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    بلیو ورلڈ کی جانب سےپی آئی اے کی 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور

    پی آئی اے کا 2010 سے 2020 تک آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف

  • عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ وزارت خارجہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اے ویزا منظور نہ کروا سکی جس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نےسیکرٹری وزارت خارجہ کو فوزیہ صدیقی کو بی ویزا فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عافیہ صدیقی کے امریکہ میں وکیل مسٹر سمتھ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق پاکستان سے امریکہ بھیجا گیا وفد 8 روز کے لیے تھا جو پانچ روز تاخیر سے پہنچا ، پاکستانی وفد کا وقت آج ختم ہوگیا وفد کی واپسی کا وقت آگیا ہے ،ڈاکٹر عافیہ کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں امریکہ بھیجا گیا وفد ناکام ثابت ہوا حکومت کی جانب سے معاملے میں وقت ضائع کیا گیا وفد امریکہ میں اہم میٹنگز میں بھی دیر سے پہنچا ۔ فوزیہ صدیقی کا ویزا بھی امریکی ایمبیسی نے منظور نہ کیا ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں حکومت اور وزارت خارجہ کی سستی پر عدالت برہم ہو گئی،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ یہاں ہیں،وفد نے کتنے دن وہاں رکنا،مسٹر سمتھ وہاں اکیلے ہیں، سفیر نے بھی کچھ نہیں کیا،آپ کی طرف سے سستی ہے اور وقت پر معاملات درست نہیں،وزارت خارجہ پیرا وائز کمنٹس جمع کرائے اور مکمل رپورٹ دے،کیوں ایسا ہوا اور سفارتخانے نے کیا کیا،

    دوسری جانب ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے بعد سینیٹر طلحہ محمود نے بتایا کہ میری تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی ہے، ڈاکٹر عافیہ بچوں، والدہ، بہن کو یاد کر رہی تھیں ، انکا کہنا تھا کہ عافیہ نے کہا کہ مجھے رہا کروا جائے، سینیٹر طلحہ کا کہنا تھا کہ یہاں ہماری بہت سی ملاقاتیں ہوئی ہیں، لوکل کمیونٹی کو بھی ساتھ ملایا ہےتا کہ کیس میں مدد کریں، ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ جانے والا صدر بہت سے لوگوں کو رہا کر دیتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کی درخواست بھی امریکی صدر کی ٹیبل پر آئے،

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    عافیہ صدیقی کیس، امریکا جانیوالے وفد کی مالی معاونت ،وزیراعظم نے دستخط کر دیئے

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    سندھ اسمبلی میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے قرارداد متفقہ طور پر منظور

  • سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کے کیس کی سماعت ہوئی

    آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر تمام مقدمات کی سماعت موخر کر دی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آج صرف فوجی عدالتوں والا مقدمہ ہی سنا جائے گا،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پہلے اس نکتے پر دلائل دیں کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات آئین کے مطابق ہیں،کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے ہر شخص کو اس کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پہلے بتائیں عدالتی فیصلے میں دفعات کالعدم کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس پہلو کوبھی مدنظر رکھیں کہ آرمی ایکٹ 1973کے آئین سے پہلے بنا تھا، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں خرابیاں ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کو اتنا بے توقیر تو نہ کریں کہ اسے خراب کہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں میرے الفاظ قانونی نوعیت کے نہیں تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کل بھی کہا تھا کہ نو مئی کے واقعات کی تفصیلات فراہم کریں،فی الحال تو ہمارے سامنے معاملہ صرف کورکمانڈر ہائوس کا ہی ہے،اگر کیس صرف کور کمانڈر ہائوس تک ہی رکھنا ہے تو یہ بھی بتا دیں،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام تفصیلات آج صبح ہی موصول ہوئی ہیں،تفصیلات باضابطہ طور پر متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرائوں گا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جن دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان کے تحت ہونے والے ٹرائل کا کیا ہوگا؟نو مئی سے پہلے بھی تو کسی کو ان دفعات کے تحت سزا ہوئی ہوگی، خواجہ حارث نے کہا کہ عمومی طور پر کالعدم ہونے سے پہلے متعلقہ دفعات پر ہونے والے فیصلوں کو تحفظ ہوتا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو اُن ملزمان کے ساتھ تعصب برتنے والی بات ہوگی،

    سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کو فیصلے سنانے کی اجازت دے دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا یا رہائی کا حتمی فیصلہ اپیلوں کے فیصلوں سے مشروط ہو گا، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو 85ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی، آئینی بینچ نے واضح کیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہونگے۔جن ملزمان کو سزائوں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے،

    فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی آئینی بنچ نے 26 ویں ترمیم کا کیس جنوری کے دوسرے ہفتے میں سننے کا عندیہ دے دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جنوری کے پہلے ہفتے فوجی عدالتوں کا کیس ختم ہوا تو 26 ویں ترمیم کا کیس دوسرے ہفتے سنیں گے،

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

  • شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے پاکستان واپس پہنچے،چارٹرڈ طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچا، پاکستان پہنچنے پر وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستانی شہریوں کا استقبال کیا،اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو خیریت سے ملک واپس آنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،پاکستانیوں کی باحفاظت واپسی پر لبنان کے وزیراعظم کے شکر گزار ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کو باحفاظت وطن واپس لایا جائے.شام سے پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ وطن واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تشکیل دیا گیا.شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں. شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے.وزیرِاعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی.حکومت نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے میں معلوماتی ڈیسک اور رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کیا.وطن واپسی پر تمام شہریوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا ہے.امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے تک کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور پاکستانی سفارت خانے کا معلوماتی ڈیسک 24 گھنٹے فعال رہے گا.اللہ کا شکر ہے کہ شام سے طیارہ باحفاظت پاکستان پہنچ چکا ہے.حکومت کا یہ انتظام اس جذبہ کی علامت ہے کہ پاکستانی جہاں بھی مشکل میں ہوں وہ تنہا نہیں.پاکستانی قوم کی خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں.این ڈی ایم اے اور پاکستان کے سفارتخانوں نے انتھک کام کیا،

    شام میں پھنسے تین سو اٹھارہ پاکستانیوں کو بیروت سے چارٹر طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا،وزیراعظم شہباز شریف نے لبنانی وزیراعظم سے رابطہ کرکے شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا میں مدد کی اپیل کی تھی جس پر لبنان نے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کیے ،ذرائع کے مطابق ان شہریوں کو بذریعہ سڑک شام سے لبنان پہنچایا گیا، جہاں سے آج انہيں خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی شہریوں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے پر متعلقہ حکام کو خراج تحسین پیش کیا اور شام سے مزید پاکستانیوں کے انخلاء کیلئے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے پاکستانیوں کے باحفاظت انخلاء پر لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کیلئے پرعزم ہے۔

  • احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے طےکرلیا احتجاج کرینگے، اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کی تنظیم یا علما سے کوئی اختلاف نہیں، شکایت صرف اور صرف صدر مملکت سے ہے،صدر مملکت نے آئینی مدت میں مدارس بل پر دستخط نہیں کیے، صدر دستخط نہ کرے تو دس دن بعد بل قانون بن جاتا ھے، بالکل ویسے ہی جیسے صدر علوی نے ایک بار جب دستخط نہ کئے تو حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ ہماری رائے میں ایکٹ پاس ہوچکا، نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ مدارس رجسٹریشن کو غیر ضروری گھمبیر بنایا جا رہا ہے،مدارس بل پر عدالت جانا پڑا تو جائیں گے، احتجاج کرنا پڑا تو کریں گے‘آئینی ترمیم کے بعد بل پر دستخط کیوں روکا گیا؟ لاہور میں نواز شریف اور شہباز شریف سے گفتگو میں اتفاق رائے ہوا ،آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی مشاورت ہوئی،جنہوں نے علماء کو بلایا وہی تنازع کے ذمہ دار ہیں،بل کی تیاری میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں شامل تھیں،مدارس اور تعلیمی ادارے 1860 کے ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست،ذمہ دار لوگ ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، 16 دسمبر کو ہمارا اجلاس ہو رہا ہے، اگر ہمیں عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے، علما سے گزارش ہےکہ جنہوں نے آپ کو اکسایا یہی اس معاملے کے ذمہ دار ہیں ،یہ ملک، آئین اور پارلیمنٹ کا بھی مذاق بنا رہے ہیں، جب سرکار اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرے گی تو عوام میں جانے کے علاوہ راستہ نہیں،نواز شریف،آصف زرداری اس وقت دونوں ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں، مثال موجود ہے جب سابق صدرعارف علوی نے دستخط نہیں کیے تو اس وقت حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا، اس سے زیادہ اس حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کرم میں قتل عام ہو رہا ہے، جنوبی اضلاع میں سورج غروب ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے، تمام مکاتب فکر نے ہمارے موقف کی بھرپور حمایت اور تائید کی ہے، مذاکرات کرنا اچھی بات ہے۔ مسائل حل ہو تے ہیں تو بہتر ہے، اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے،

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

  • توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    توشہ خانہ ٹو، عمران،بشریٰ پر فرد جرم عائد

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشری بی بی پر جیل ٹرائل کے دوران فرد جرم عائد کر دی گئی

    کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل عدالت پیش ہوئیں، عمران خان کو بھی عدالت پیش کیا گیا،توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کر دی،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہ 18 دسمبر کوطلب کرلئے

    عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے، بشریٰ رہائی کے بعد بنی گالہ سے ہوتی ہوئی پشاور پہنچ چکی ہے

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

  • پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاززہرابلوچ نے ہفتہ واربریفنگ میں کہا ہے کہ ساتواں پاکستان ،تاجکستان مشترکہ کمیشن کا اجلاس اسلام آبادمیں ہوا.فریقین نے توانائی ،سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا.

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فرانس نے سلامتی معاملات کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کی.پاکستان اور فرانس نے باہمی طور پر چیلنجز کا سامنا کرنے پر اتفاق کیا.پاکستان غزہ میں غیرمشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتاہے.پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.شام کی سلامتی اور خود مختاری کی حمایت کرتے ہیں.عالمی برادری اسرائیل کو جنگی جرائم پر جوابدہ ٹھہرائے.فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بربریت کاسلسلہ جاری ہے.اسرائیل کی جانب سے گولان کی پہاڑیو ں پر قبضہ قابل مذمت ہے.مقبوضہ کشمیرکے عوام کی سیاسی، اخلاقی اورسفارتی حمایت جاری رکھیں گے.کشتواڑ میں کشمیریوں کی جائیدادوں پر بھارتی قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ خلیل الرحمٰن حقانی کی وفات پر وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے دکھ کا اظہار کیا ہے ،ہم سمجھتے کہ دہشتگردی کی ہر کاروائی کی مذمت کرنی چاہیئے،ہم افغان حکام سے رابطے میں ہیں اور اس واقعے کی تفصیلات حاصل کر رہے ہیں

    نو منتخب امریکی صدر کے حلف میں پاکستانی حکام کی شرکت پر ترجمان دفتر خارجہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ
    امریکی صدر کی تقریب حلف برادری کے دعوت نامہ کے حوالے سے اب تک کوئی معلومات نہیں ہیں.

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    ثانیہ عاشق کے سپیشل ایجوکیشن تعلیمی اداروں کے دورے

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

  • نواز ، زرداری،گیلانی کیخلاف توشہ خانہ  ریفرنس سپیشل جج سنٹرل کو بھیج دیا گیا

    نواز ، زرداری،گیلانی کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس سپیشل جج سنٹرل کو بھیج دیا گیا

    اسلام آباد: احتساب عدالت نے توشہ خانہ گاڑیوں کے حوالے سے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق و موجودہ صدر آصف علی زرداری، سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی اور دیگر اہم شخصیات کے خلاف دائر ریفرنس کو ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی) کے سپیشل جج سینٹرل کو بھیجنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

    احتساب عدالت نمبر 3 کی جج، عابدہ سجاد نے آج محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی تحقیقات اور مزید کارروائی ایف آئی اے کرے گی۔ ان شخصیات پر الزام ہے کہ انہوں نے توشہ خانہ سے مہنگی گاڑیاں غیرقانونی طور پر حاصل کیں، جس سے ملکی خزانے کو نقصان پہنچا۔ نیب نے اس کیس کو ایف آئی اے کو بھیجنے کی درخواست کی تھی تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں۔احتساب عدالت کی جج عابدہ سجاد نے فیصلہ سناتے ہوئے ریفرنس ایف آئی اے کے سپیشل جج سینٹرل کو بھیج دیا ،ملزمان کی جانب سے کیس ایف آئی اے ایجنسی کو بھیجنے کی استدعا مسترد کر دی گئی،نیب کیجانب سے کیس ایف آئی اے عدالت میں بھیجنے کی استدعا کی گئی تھی

    17 اپریل کو نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو توشہ خانہ کی گاڑیوں سے متعلق ریفرنس میں کلین چٹ دی تھی ، نیب نے احتساب عدالت میں رپورٹ جمع کروا ئی تھی ، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ نواز شریف کو مقدمے سے بری کر دے۔

    واضح رہےکہ احتساب عدالت میں نیب کے دائر کردہ ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے, نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے.مارچ 2020 میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے  آصف علی زرداری سمیت دو وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں ’توشہ خانے‘ سے بیرون ملک سے تحائف کی صورت ملنے والی قیمتی کاریں خریدنے کا نیا ریفرنس دائر کیا تھا.

    نیب کے مطابق ان عوامی عہدیداروں نے خلاف ضابطہ توشہ خانے سے قیمتی گاڑیاں خریدی ہیں۔ توشہ خانے میں صدور اور وزرائے اعظم کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کو رکھا جاتا ہے اور کوئی بھی اسے گھر نہیں لے جا سکتا۔ نیب کے ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی پر سنہ 2004 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائی جانے والی پالیسی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا.

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    مفتی قوی نے مجھے گاڑی میں نشانہ بنایا،غلط کام کیا:حریم شاہ نے شرمناک حرکتوں کوبیان کرتے ہوئے شرم نہ کی

    میرا وجود ،میرا جسم ….. نازیبا ویڈیو کے بعد مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو آ گئی

    مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے

    مفتی عبدالقوی کی خاتون کے ساتھ رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    معروف مذہبی سکالرمفتی عبدالقوی کو حریم شاہ نے تھپڑرسید کردیا :آوازدورتک سنائی دی

    کراچی:ہوٹل کےکمرے میں حریم شاہ کےساتھ کچھ وقت گزارا:پھر کیا ہوا:مفتی عبدالقوی نےسچ سچ بتادیا

  • غیر متعلقہ شخص کو ڈسپلن کے نیچے لانا آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی نہیں؟جسٹس مندوخیل

    غیر متعلقہ شخص کو ڈسپلن کے نیچے لانا آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی نہیں؟جسٹس مندوخیل

    سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹس فیصلہ کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی، وفاقی حکومت کے وکیل خواجہ حارث نےدلائل دیئے ، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملٹری کورٹ کے زیر حراست افراد کی ایف آئی آر کی نقول نہیں دی گئی۔وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری کورٹس کیس میں عدالتی فیصلہ دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک حصہ میں آرمی ایکٹ دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا۔دوسرے حصہ میں ملزمان کی ملٹری کورٹ میں کسٹڈی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس کا پورا کیس آرٹیکل 8 کے گرد گھومتا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا پانچ رکنی بینچ نے آرمی ایکٹ دفعات کو آرٹیکل 8 سے متصادم قرار دیا۔ آرمی ایکٹ کی دفعات کو آرٹیکل 8 سے متصادم ہونے کا کیا جواز فیصلہ میں دیا گیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جو شخص آرمڈفورسز میں نہیں وہ اس کے ڈسپلن کے نیچے کیسے آ سکتا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اگر قانون اجازت دیتا ہے تو ڈسپلن کا اطلاق ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک شخص آرمی میں ہے اس پر ملٹری ڈسپلن کا اطلاق ہوگا۔ایک شخص محکمہ زراعت میں ہے اس پر محکمہ زراعت کے ڈسپلن کا اطلاق ہوگا۔اگر کوئی شخص کسی محکمہ میں سرے ہیں نہیں اس پر آرمی فورسز کے ڈسپلن کا اطلاق کیسے ہوگا۔کیا غیر متعلقہ شخص کو ڈسپلن کے نیچے لانا آرٹیکل 8 کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مخصوص حالات میں سویلین پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے، عدالت کے پاس آرمی ایکٹ دفعات کو کالعدم کرنے کا اختیار نہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اس طرح تو اگر کوئی اکسانے کا سوچے تو آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا، کیا آرمی ایکٹ نے آئین کے آرٹیکل8کا سیکشن 1 غیرمؤثرنہیں کردیا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں بھی فیئر ٹرائل کا آرٹیکل 10 اے موجود ہوتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سب سے بڑا عہدہ صدر مملکت کا ہے، اگر صدرہاؤس پرحملہ ہو تو ملزم کا ٹرائل انسداد دہشتگردی عدالت میں ہوگا مگر آرمی املاک پر حملہ ہو تو ٹرائل ملٹری کورٹس میں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ فیصلہ قانون سازوں نے قانون سازی سے کیا ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملٹری کورٹس کے زیر حراست افراد کی ایف آئی آر کی نقول نہیں دی گئیں، کیا ملٹری کورٹ ٹرائل میں وکیل کی اجازت ہوتی ہے؟ کیا ملٹری کورٹ میں ملزم کو تمام مواد فراہم کیا جاتا ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے جواب دیا جی ملٹری کورٹ میں ملزم کو وکیل اور تمام متعلقہ مواد فراہم کیا جاتا ہے۔،جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا اگر ایک فوجی اپنے افسر کا قتل کردے تو کیس کہاں چلے گا؟ خواجہ حارث نے جواب دیا قتل کا کیس عام عدالت میں چلے گا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جانب سے کیس کی مزید کل تک ملتوی کردی گئی ہے۔

    بہن کی عیادت کیلئے جانے والی 5 بہنیں ٹریفک حادثے میں جاں‌بحق

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی پیش،ضمانت منسوخی درخواست نمٹا دی گئی

    صدر زرداری سے بلاول ہاؤس میں چینی کاروباری وفد کی ملاقات

  • ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

    ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، فیض حمید پر فردجرم عائد ہوئی، کون کون کٹہرے میں آئے، نواز شریف کو بم سے اڑانے کی سازش،سول نافرمانی کی کال،کیا ہے عمران خان کی اگلی چال،کال کوٹھڑی یا پھانسی کا پھندہ،ڈو اور ڈائی کا وقت آ چکا ہے،

    مبشر لقمان آفیشل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس شدت سے پی ٹی آئی ٹرمپ کا صدارتی منصب سنبھالنے کا انتظار کر رہی تھی، اسی طرح پاکستان میں اسی شدت سے فیض حمید کے کورٹ مارشل بارے بڑی خبر کا انتظار کر رہے تھے، جنرل عاصم منیر کی تعیناتی سے لے کر اب تک پی ٹی آئی ہر میچ ہارتی آئی ہے، یہ میچ بھی پی ٹی آئی ہار گئی، آرمی چیف نے خود احتسابی کا وعدہ پورا کیا،طاقتور ترین جنرل فیض حمید پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے، دو الزامات ہیں، کرپشن والے معاملے کی بات ثابت شدہ ہے، ٹاپ سٹی ہاؤسنگ کے مالک کا بیان ریکارڈ پر ہے،جنرل فیض حمید کو کلین چٹ ثاقب نثار نے دی تھی، ریاستی مفادات کو ٹھیس پہنچانے، سیاسی مقاصد کے لئے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات معمولی نہیں، کورٹ مارشل میں تب تک فرد جرم عائد نہیں ہوتی جب تک ناقابل تردید شواہد حاصل نہ کر لئے جائیں، اب صرف ضابطے کی کاروائی کی جائے گی اور پھر سزا سنائی جائے گی،کرپشن پر تو قید کی سزا کافی ہے، ریاست کے خلاف بغاوت کی سزاپھانسی ہے، حالات بتا رہے ہیں کہ فیض حمید کو پھانسی اور عمر قید کی سزائیں اکٹھی سنائی جائیں گی،مشکل یہ ہے کہ پھانسی کا پھندہ ایک،گردنیں دو، بچے گا کون،فیض حمید یا عمران خان

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس دن فیض حمید کو تحویل میں لیے جانے کی خبر آئی تھی اسی دن انتشاری ٹولے اور عمران خان نے کہہ دیا تھا کہ فیض حمید جانے اور فوج جانے،ہمارا فیض حمید سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، فیض حمید پر عمران خان نے کوئی یوٹرن نہیں لیا، جو مؤقف اپنایا تھا آج بھی وہی دوہرا رہے ہیں، فیض حمید کیخلاف کاروائی آگے بڑھے گی تو عمران خان کے لئے اس موقف پر کھڑا رہنا مشکل ہو جائے گا،عمران خان کا سارا نیٹ ورک ابتدائی تحقیقات کے دوران ہی بے نقاب ہو گیا تھا، فیض حمید جن شخصیات کے ذریعے انتشاری ٹولے سے رابطے میں تھے وہ رابطہ کار بھی بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں، فیض حمید نے اپنی گردن بچانی ہے تو کسی اور کی گردن پیش کرنی ہو گی،نو مئی کے بعد مراد سعید کی ویڈیو ریکارڈ پر ہیں جس میں وہ اکسا رہا ہے کہ جگہیں دکھا دی ہیں جائیں حملے کریں، یہی کام 26 نومبر کو کیا گیا، نومئی کو مراد سعید اور 26نومبر کو یہ ذمہ داری پنکی پیرنی کو سونپی گئی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید نے وکیل کی خدمات حاصل کر لی ہیں، فوج بھی ایک وکیل دے گی، عمران خان کو زعم ہے کہ وہ شکست تسلیم نہیں کرتا،لیکن اب عمران خان ہار گیا، اس کا غرور خاک میں مل گیا، سائفر لہرایا منہ کی کھائی، آزادی کے جھوٹے خواب کی تعبیر پورے قوم نے بھگتی، نومئی کو فوج میں بغاوت برپا کرنے کی مذموم کوشش کی ناکامی سے دوچار ہوا، جلسوں سے ملک کو انتشار میں دھکیلنے کی کوشش کی، ناکام ہوا، فائنل کال کی کال دی تو پنکی سمیت سب دم دبا کر بھاگ گئے،یہ فتنہ پہلے بھی ناکام ہوا تھا پھر بھی ناکام ہو گا، فیض حمید اسے نومئی کا ماسٹر مائنڈ ثابت کر ے گا،پھندا ایک ہے گردنیں دو ہیں، مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے گھر جاتی امرا کے باہر کسی نے مشتبہ ڈیوائس پھینکی، وہ شخص پکڑا گیا، اس بم نما ڈیوائس سے باردو نہیں ملا لیکن معاملہ کچھ بھی ہو سکتا ہے، فسادی ٹولہ کچھ بھی کر سکتا ہے، انہی کی دھمکیوں کی وجہ سے اے این پی کو انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں ملا، مولانا فضل الرحمان گھر تک محدود ہو گئے تھے، نواز شریف کے گھر کے باہر سے ڈیوائس کا ملنا پیغام،دھمکی ہو سکتی ہے، اسکو سنجیدہ لیا جائے، ورنہ ذرا سی غفلت کسی سانحے سے دوچار نہ کر دے

    فیض حمید کیخلاف ٹرائل سبوتاژ کرنے کیلیے سول نافرمانی کی کال دی گئی،طلال چودھری

    فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ جاری ہونا اہم پیشرفت ہے۔مصطفیٰ کمال

    فیض حمید کیخلاف چارج شیٹ،عمران کا بچنا ممکن نہیں، فیصل واوڈا

    فیض حمیدکیخلاف چارج شیٹ،اصل مجرم عمران اور پی ٹی آئی قیادت

    فیض حمید کو چارج شیٹ کر دیا گیا 9 مئی کے الزامات بھی شامل