Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج ،100انڈیکس ایک لاکھ سےزائد پوائنٹس  عبورکرگیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج ،100انڈیکس ایک لاکھ سےزائد پوائنٹس عبورکرگیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج ،100انڈیکس ایک لاکھ سےزائد پوائنٹس عبورکرگیا

    اسٹاک ایکسچینج 790 پوائنٹس کی تیزی سے 1 لاکھ پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبورکرگیا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 1233پوائنٹس کا اضافہ ہوا،کاروبارکے دوران انڈیکس ایک لاکھ 502پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھاگیا، 28 نومبر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں گولڈن ڈے بن گیا،نومبر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں ریکارڈ کامہینہ ثابت ہوا،معاشی اشارے بہتر ہونے سے مارکیٹ میں سرمایہ کارسرگرم ہیں

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس کے 1 لاکھ پوائنٹس سے تجاوز پر پوری قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ اسٹاک ایکسچینج کا تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ پوائنٹس سے تجاوز کرنا حکومتی پالیسیوں پر کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے بھروسے کی عکاسی کرتا ہے.اس سنگ میل کو عبور کرنے کیلئے حکومتی معاشی ٹیم اور ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے مصروف عمل حکام لائق تحسین ہیں.اپنی قوم سے عہد کیا تھا کہ ملکی معاشی استحکام اور ملکی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھاؤنگا. پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے اپنی سیاست کی قربانی دی، اللہ کے فضل و کرم سے قربانی رائیگاں نہیں گئی. ملکی استحکام و ترقی کے دشمن ملک کو دوبارہ ڈی ریل کرنے کی مزموم و ناکام کوششیں کر رہے ہیں. ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی ہوئی ہے، شرح سود 15 فیصد اور ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے. ملکی ترقی کیلئے یونہی محنت کرتے رہیں گے. ملکی ترقی و خوشحالی کے دشمنوں کو اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دینگے.

    ہر تاریخی کام، ہر ریکارڈ مسلم لیگ ن کے دور میں ہوتا ہے.وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نےسٹاک مارکیٹ کے1 لاکھ پوائنٹس کی تاریخی حد عبور کرنے پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ الحمداللہ۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج نئی تاریخ رقم ہوئی. پاکستان سٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین پرفارمنگ ایکوئٹی مارکیٹ کادرجہ حاصل کر چکی. ہر تاریخی کام، ہر ریکارڈ مسلم لیگ ن کے دور میں ہوتا ہے. وزیر اعظم شہباز شریف اور انکی معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں. سٹاک مارکیٹ کا 1لاکھ پوائنٹس عبور کرنا معیشت پر بڑھتے اعتماد کا واضح ثبوت ہے.یہ ریکارڈسرمایہ کاروں کے اعتماداورحکومتی دانشمندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے.سرمایہ کاروں کا اعتماد دلیل ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے.وزیر اعظم شہبازشریف کی پالیسیاں عالمی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش ثابت ہورہی ہیں،

  • بشریٰ بی بی کو گنڈاپور ٹیم نے حبس بے جا میں رکھا ہوا،بہن کا دعویٰ

    بشریٰ بی بی کو گنڈاپور ٹیم نے حبس بے جا میں رکھا ہوا،بہن کا دعویٰ

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ بشریٰ بی بی ڈی چوک سے جانا نہیں چاہتی تھی، ان کو زبردستی نکالا گیابشریٰ بی بی کو نہیں معلوم کہ ان کو کہاں رکھا گیا ہے،بشریٰ بی بی علی امین گنڈا پور کی ٹیم کے حبس بے جا میں ہیں،

    نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے مریم ریاض وٹو کا کہنا تھا کہ میری جب بشریٰ سے بات ہوئی تو بڑی مشکل سے بات ہوئی،کافی گھنٹے بعد،کیونکہ یہ بتایا جا رہا تھا کہ وہ کے پی چلی گئی ہیں، مجھے یقین نہیں آ رہا تھا ، میں سب کو فون کر کے پوچھ رہی تھی،کسی نے میری بات نہیں کروائی، میں نے کہا کہ وہ صحیح ہیں تو بات کروائیں، پھر پریس کانفرنس کا کہا گیا، کہ ہو رہی ،جب میری آج بات ہوئی تو بشریٰ کا کہنا تھا کہ مجھے انہوں نے وہاں سے نکالا، فائرنگ ہو رہی تھی،وہ نکلیں تو گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا، جب گاڑی آئی تو ان کے گارڈ کو دوسری گاڑی میں بھیج دیا گیا، جس کے بعد بشریٰ اور انکے گارڈز الگ ہو گئے، بشریٰ کے گارڈز کی گاڑی پیچھے رہ گئی تھی،اب بشریٰ کو نامعلوم جگہ منتقل کر دیا گیا ہے یہ سیکورٹی کا بہانہ بنائیں گے، میں نے جب بشریٰ سے پوچھا کہ پریس کانفرنس ہونی ہے تو بشری نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میں کہاں ہوں اور کیا ہو رہا،

    مریم ریاض وٹو کا مزید کہنا تھا کہ واضح ہو جائے گاکہ بشریٰ بی بی حبس بے جا میں ہیں، انکی موومنٹ اب انکی مرضی سے نہیں ہے، میری آج ہی بشریٰ سے بات ہوئی ہے،گنڈا پور کی ٹیم نے میری بات نہیں کروائی، میری بات ہونے کے بعد بشریٰ کو کسی اور مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے،بشریٰ کا خاندان سے کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، میں نے گنڈا پور کو کال کی جواب نہین آیا، سلمان اکرم راجہ نے بھی کال کا جواب نہیں دیا،اس وقت کسی نے بھی کچھ نہیں بتایا، میں عمران خان تک یہ سب باتیں پہنچاؤں گی، سیکورٹی ریزن ہے یا کوئی اور وجہ، بشریٰ کے نمبر بھی بند ہیں، بشریٰ بی بی کو کےپی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے، انھیں نہیں پتا اس وقت وہ کہاں موجود ہیں۔

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • پر تشدد احتجاج،عمران،بشریٰ،گنڈاپور و دیگر پر اسلام آباد میں 8 مقدمے درج

    پر تشدد احتجاج،عمران،بشریٰ،گنڈاپور و دیگر پر اسلام آباد میں 8 مقدمے درج

    وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے بعد پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سمیت پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مجموعی طور پر 8 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں انسداد دہشت گردی، اسمبلی ایکٹ کی خلاف ورزی، پولیس پر حملوں، اور اغوا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے جانے والے مقدمات میں تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور، سلمان اکرم راجہ، اور شیخ وقاص سمیت پارٹی کے بانی عمران خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ، ہزاروں نامعلوم افراد بھی ان مقدمات میں شامل کیے گئے ہیں۔اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے جانے والے مقدمات میں درج دفعات میں کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی، پولیس اہلکاروں پر حملے اور عوامی تحفظ کے لئے نافذ قوانین کی خلاف ورزی جیسے الزامات شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سرکاری عملے کو ہراساں کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے کے حوالے سے کارروائی کی گئی۔

    یہ مقدمات اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے گئے ہیں،تھانہ شہزاد ٹاؤن،تھانہ سہالہ،تھانہ بنی گالہ،تھانہ کھنہ،تھانہ شمس کالونی،تھانہ ترنول،تھانہ نون،تھانہ نیلور میں درج ایف آئی آرز میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں عوامی امن کو متاثر کرنے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کی کوششیں شامل ہیں۔مظاہروں کے دوران دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے تحت اسلام آباد میں کسی بھی قسم کے عوامی اجتماع کو منع کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اس پابندی کو نظرانداز کرتے ہوئے شہر میں احتجاج کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی۔

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • بیلاروس کے صدر کا  قربانیوں پرپاک فوج کو خراج تحسین

    بیلاروس کے صدر کا قربانیوں پرپاک فوج کو خراج تحسین

    بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں رہنماوں نے باہمی دلچسپی اور علاقائی تعاون و سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی، ملاقات کے دوران باہمی تعاون اور تعلقات کو مزید وست دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے عالمی اور علاقائی امور میں بیلاروس کے کردار کو سراہا اور دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کیا۔قبل ازیں عوامی جمہوریہ چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین جنرل ژانگ یوشیا نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ون آن ون ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال، علاقائی استحکام کے لیے اقدامات اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے ہرموسم کے دیرینا مثالی تعلقات باہمی اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر کھڑے ہیں جب کہ پاک چین تعلقات اور تاریخی شراکت داری وقت کی کسوٹی پر ہمیشہ پورا اترے ہیں۔پاک فوج کے سربراہ نے بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال میں پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونے پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ وائس چیئرمین ژانگ یوشیا نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے حوالے سے پاکستان کی ثابت قدمی کو سراہا۔انہوں نے انسداد دہشت گردی کی جاری کوششوں میں پاک فوج کے عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی اور اس پائیدار تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے چین کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اداکارہ نرگس کی درخواست پر عابدہ عثمانی کو ایف آئی اے طلبی کا نوٹس

    اٹک میں پی ٹی آئی رہنماوں وکارکنان کےخلاف 7 مقدمات درج

    بشری بی بی کا پریس کانفرنس،گنڈاپور کے ساتھ جانے سے گریز

    بشری بی بی کا پریس کانفرنس،گنڈاپور کے ساتھ جانے سے گریز

  • فسادیوں اور ملک دشمنوں کو مزید موقع نہیں دینا، وزیراعظم

    فسادیوں اور ملک دشمنوں کو مزید موقع نہیں دینا، وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد ان فسادیوں اور ملک دشمنوں کو مزید موقع نہیں دینا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں شہید پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔کابینہ کو پی ٹی آئی کے احتجاج سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر بریفنگ دی گئی اور بریفنگ میں انہیں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے ملکی معیشت کو یومیہ 190 ارب روپے تک نقصان ہوا۔کابینہ نے پرتشدد کارروائیوں میں ملوث شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے رعایت نہ برتی جائے جب کہ کابینہ نے وزارت داخلہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد میں احتجاج کی وجہ سے کاروبار بند تھا، بہترین حکمت عملی سے احتجاج کا خاتمہ کیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرپسندوں پر قابو پایا۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ احتجاج سے معیشت کو بہت نقصان پہنچا، اسلام آباد میں تحریک انتشار کی جانب سے فساد برپا کیا گیا جب کہ احتجاج کی وجہ سے عوام کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وزیراعظم کہتے ہیں کہ گذشتہ روز فسادیوں کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ نیچے چلی گئی اور ایک ہی دن میں اسٹاک مارکیٹ نے غوطہ کھایا اور 4 ہزارپوائنٹس نیچے چلے گئی جب کہ کچھ دن پہلے اسٹاک مارکیٹ 99 ہزار 300 پوائنٹس پر چلی گئی تھی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فسادیوں کو ملک کی ترقی ہضم نہیں ہورہی، سرمایہ کاری وہاں جاتی ہے جہاں امن و سکون ہو، اسلام آباد میں ہونے والے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2014 سے پہلے اسلام آباد پر چڑھائی کا کوئی تصور نہیں تھا، پی ٹی آئی نے پُرتشدد احتجاج کی بنیاد رکھی جب کہ ایس سی او کانفرنس کے دوران بھی احتجاج کی کال دی گئی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر اہم موقع پر پُرتشدد احتجاج کیا جاتا ہے، دو راستے ہیں پاکستان کو خوشحال کرنا ہے یا آئے روز دھرنے دینے ہیں جب کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی واحد آپشن ہے اور آج کے بعد ان فسادیوں اور ملک دشمنوں کومزید موقع نہیں دینا۔

    پی ٹی آئی پروپیگنڈےکو پمز اسپتال نے نقاب کردیا

    اوچ شریف: حساس مقامات کی ناقص سکیورٹی، شہری عدم تحفظ کا شکار

    سپریم کورٹ بار کا نقوی اور گنڈاپورسے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  • 9 مئی مقدمات،عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد

    9 مئی مقدمات،عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جناح ہاؤس سمیت 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے ضمانتیں بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کی۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر مقدمات میں نامزد کیا گیا، 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ جب 9 مئی ہوا، اس وقت بانی پی ٹی آئی عمران خان گرفتار تھے بعد ازاں وہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت بھی کرچکے ہیں۔انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 30 مقدمات میں حکومت کے خلاف فیصلے ہو چکے ہیں، 25 کے قریب فیصلے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں، ہر مقدمہ میں مدعی پولیس والے ہیں، حکومت گوگلی، لیگ بریک، آف بریک دوسرا، تیسرا پھینک چکے ہیں، کبھی کہتے ہیں سازش اس طرح ہوئی، پھر کہتے ہیں نہیں اس طرح سے سازش ہوئی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان ڈیڑھ سال سے جیل میں ہیں، درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانتیں منظور کی جائیں۔تاہم پراسکیوشن نے عمران خان کی ضمانتوں کی مخالفت کی اور ضمانتیں مسترد کرنے کی استدعا کی۔اسپیشل پراسکیوٹر نے دلائل دیے کہ جو فیصلے پیش کیے گئے ان کا ان کیسز سے تعلق نہیں ہے، ملزم کے اشارے پر 200 تنصیبات پر حملے کیے گئے سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ آج حقیقی جہاد کا دن ہے۔ رینجرز اور پولیس اہلکار شہید ہوئے، ملزم کہتا ہے کہ میں تو جیل میں ہوں، عدالت ضمانتیں مسترد کرے۔عدالت نے عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔بعد ازاں، لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں منظور کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔واضح رہے کہ عمران خان نے جناح ہاؤس ،عسکری ٹاور شادمان جلاؤ گھیراؤ کے 8 مقدمات میں ضمانتیں دائر کر رکھی ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ برس 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

    سپریم کورٹ بار کا نقوی اور گنڈاپورسے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    چیئمپنز ٹرافی: ہائبرڈ ماڈل کے تحت کرانے کا پلان سامنے آگیا

    بلوچستان اسمبلی ، پی ٹی آئی پر پابندی کی قرار داد کل پیش کی جائے گی

    سبرامنیم سوامی کا اڈانی اسکینڈل پر مودی سے استعفے کا مطالبہ

  • آرمی چیف سے چینی  سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین کی ملاقات

    آرمی چیف سے چینی سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین کی ملاقات

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے وفد نے بھی ملاقات کی جس دوران باہمی اعتماد اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عاصم منیر نے بین الاقوامی اور علاقائی ماحول میں تبدیلیوں کے باوجود پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا، چینی جنرل ژانگ یوشیا کو جی ایچ کیو آمد پر پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا، انہوں نے یادگارِ شہداء پر پھول رکھے اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق چین کی عسکری قیادت سے ملاقات میں آرمی چیف نے کہا کہ پاک چین تاریخی دوستی نے ہر مشکل وقت کا مقابلہ کیا ہے، یہ تاریخی شراکت داری مزید بڑھنے کے لیے تیار ہےجنرل ژانگ یوشیا نے اسٹریٹیجک پارٹنر شپ سے متعلق پاکستان کی ثابت قدمی کی تعریف کی جب کہ چینی سینٹرل ملٹری کمیشن نے انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف بھی کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ژانگ یوشیا نے پائیدار تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے چین کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

  • مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    سوشل میڈیا پر چند لوگوں کی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شیلنگ سے کئی مظاہرین کی اموات ہوئی ہیں۔ مظاہرین کی اموات کی خبر جھوٹی اور من گھڑت ہے۔ اپنی ناکامیوں اور کو تاہیوں کو چھپانے کے لیے ایک بار پھر من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کی اموات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ کل رات کے پولیس اور رینجرز آپریشن میں کسی قسم کے آتشی اسلحے کا استعمال نہیں کیا گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مختلف مقامات پر کاروائیاں، پی ٹی آئی کے شر پسند گرفتار۔ گرفتار شر گرفتار شر پسندوں سے اسلحہ ، غلیلیں، پتھر اور دیگر اشیاء بھی ، برآمد ۔ گرفتار شر پسندں کے قبضے سے آنسو گیس کے شیل بھی بر آمد کئے گئے۔ پر تشد د احتجاج میں خیبر پختو نخواہ کے سرکاری ملازمین اور اہلکار بھی شامل تھے۔اب تک راولپنڈی سے 400، اٹک پتھر گڑھ سے 410، چکوال سے 44، مری سے 3 اور میانوالی سے 8 شر پسند گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اس پر تشدد احتجاج کے دوران پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی شہاد تیں بھی ہوئیں ۔ متعدد پولیس اور رینجرز کے اہلکار زخمی بھی ہوئے ، جن میں چند کی حالت تشویشناک ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ احتجاج کسی طور پر بھی پر امن نہیں تھا۔ اس احتجاج کا مقصد صرف اور صرف ملک میں بدامنی پھیلانا تھا۔ گرفتار شر پسندوں کیخلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔

  • اسلام آباد ،گرفتاریاں شروع،بشریٰ ،گنڈا پورایک ہی گاڑی میں فرار

    اسلام آباد ،گرفتاریاں شروع،بشریٰ ،گنڈا پورایک ہی گاڑی میں فرار

    اسلام آباد، پی ٹی آئی کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا
    رینجرز و پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے،اس موقع پر علاقے کی لائٹس بند کی گئی ہیں، مظاہرین نے پی ٹی آئی کے کینٹینر کو آگ لگا دی ہے، اسلام آباد میں مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں ، پی ٹی آئی کی قیادت کارکنان کو اسلام آباد لا کر بے یارومدد گار چھوڑ کر غائب ہو چکی ہے، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی گاڑی کو کارکنان نے حصار میں لے رکھا ہے،پی ٹی آئی کارکنان قیادت سے نالاں ہیں، کارکنان کا کہنا ہے کہ ہم نے کفن سر پر باندھا ہوا ہے، ڈرنا نہیں ہے باہر نکلو،لیڈر بلٹ پروف گاڑی میں کیوں ہیں، عوام کی قربانی کو ضائع نہ کریں آگے چلیں ،

    پی ٹی آئی کی قیادت کے فون بند، چار سو سے زائد مظاہرین گرفتار،بلیو ایریار وڈ خالی
    رات ہوتے ہی تحریک انصاف کی تمام مرکزی قیادت غائب ہو گئی ہے، سب کے فون نمبر بند ہو گئے، کارکنان سڑکوں پر موجود ہیں اور گرفتاریاں دے رہے ہیں، کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بلیو ایریا میں خیبرچوک اورکلثوم پلازہ کےدرمیان گرفتاریوں کا عمل ہوا، ساڑھے چار سو مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا، بلیو ایریا شر اور انتشار پسندوں سے خالی کروا لیا گیا، بلیو ایریا اس وقت مکمل طور پر کلیئر کروا لیا گیا ہے،بلیو ایریا روڈ مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا،مظاہرین اپنی گاڑیاں تک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں،

    بشریٰ،گنڈا پور کی گرفتاری نہیں ہوئی، زلفی بخاری کی تردید
    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی گاڑی کو بھی گھیرے میں لے لیا گیا ہے، تاہم کارکنان کی جانب سے گرفتاری کےلئے مزاحمت کی گئی،علیمہ خان ،عظمی خان ،بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور شاندانہ گلزار تاحال ورکرز کے درمیان ڈی چوک کے قریب جناح ایونیو پر موجود ہیں، پولیس کی بھاری نفری گاڑی کے قریب پہنچ چکی تھی تا ہم کارکنان کی مزاحمت کے بعد بشری فرار ہو گئی

    پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور محفوظ ہیں گرفتاری نہیں ہوئی،

    بشریٰ بی بی اور گنڈا پور کارکنان کو بے یارو مددگار چھوڑ کر ایک ہی گاڑی میں فرار،نجی ٹی وی کا دعوی
    دوسری جانب نجی ٹی وی جیو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں پولیس آپریشن کے دوران خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی ایک ہی گاڑی میں فرار ہو گئے ہیں۔ دونوں رہنما اس وقت بلیو ایریا میں موجود تھے اور وہاں چند پی ٹی آئی کے کارکن بھی گاڑیوں کے قریب تھے۔ تاہم، جیسے ہی پولیس کا آپریشن شدت اختیار کرتا گیا، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نے ڈی چوک سے فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق، دونوں رہنما ایک ہی گاڑی میں جناح ایونیو سے فرار ہوئے، اور بشریٰ بی بی کی گاڑی کا رخ کے پی ہاؤس کی جانب موڑا گیا۔ اسلام آباد پولیس کی ایک اسکواڈ ان کی گاڑی کا تعاقب کر رہی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کی گاڑی کا رخ کے پی ہاؤس کے بجائے خیبر پختونخوا کی طرف موڑ دیا گیا،اب اطلاعات کے مطابق بشری بی بی کی گاڑی ہری پور کے راستے خیبر پختونخوا حدود میں داخل ہوگئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق بشریٰ بی بی کی گاڑی پیر سوہاوہ کی جانب مڑ ی، امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ بشریٰ بی بی پیر سوہاوہ سے ہری پور میں داخل ہونے کی کوشش کرے گی۔

    جو عمران خان حکم کریں گے ہم ویسا ہی کریں گے،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پشتو میں ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا ہےکہ ریاست ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے مگر یہاں ریاست نے ہمارے ساتھ ظلم شروع کیا ہے اور یہ ظلم آخری حد تک پہنچ گیا ہے، ہمارے لوگوں کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا ہے زخمی کیا گیا ہے ہم کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے یہی لڑیں گے یہی مریں گے،عمران خان کے لیے ہمارا تن من دھن سب قربان اور ہم قربان کرتے بھی آئے ہے عمران خان کو یہ پیغام دیں گے کہ اب تو انہوں نے سیدھی گولیاں چلانی شروع کردی ہے اسکا کیا جواب دیں انہیں؟ جو عمران خان حکم کریں گے ہم ویسا ہی کریں گے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے یہی رہیں گے

    بشری بی بی کا ڈرائیور پولیس نے گرفتار کرلیا، اعلی افسران اور پولیس کی بھاری نفری بشری بی بی کی تلاش میں ہے،پولیس کی جانب سے مونال کے قریب سخت ناکہ بندی کر دی گئی ہے، آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بشری بی بی کسی صورت اسلام آباد کی حدود سے باہر نہ جانے پائیں،ہر صورت بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا جائے.

    حکومت کا پلان بی، مظاہرین کی واپسی پر بھی گرفتاریاں ہونگی،راستے پھر بند
    علاوہ ازیں واپس جاتے ہوئے مظاہرین کو گرفتار کرنے کا پلان سامنے آ گیا،پولیس نےدوبارہ روڈ بلاک کرناشروع کردیے۔کے پی کے سے پنجاب آنےوالے مقامات بلاک کر دیئے گئے، اٹک خورد پل سےپشاور روڈکو کنٹینرز لگاکربلاک کردیا ،ایبٹ آباد روڈ کوجھاری کس کےمقام سےبلاک کردیاہے۔

    دوسری جانب پولیس اور رینجرز کی جانب سے جناح ایونیو کو پی ٹی آئی مظاہرین سے خالی کروالیا گیا ہے جس کے بعد مظاہرین گھروں کو لونٹا شروع ہوگئے ہیں، پولیس اور رینجرز نے شدید شیلنگ کی اور پی ٹی آئی مظاہرین سےجناح ایونیو خالی کراتے ہوئے مظاہرین کو خیبر پلازہ سے آگے تک دھکیل دیا

    ایکس پر صحافی غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ اطلاعات کے مطابق بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور اب احتجاج میں موجود نہیں۔ غالبا چلے گئے۔ آپریشن گرفتاریاں پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو دونوں لیڈران موجود نہیں۔ پی ٹی آئی کارکنان البتہ مار بھی کھا رہے ہیں، شیلنگ بھی کھا رہے ہیں گرفتار بھی ہو رہے ہیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ آخر اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے سے لے کر اب تک بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی گرفتاری بھلا کیوں نہیں ہو سکی

    دوسری جانب سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کہتے ہیں کہ اطلاعات آرہی ہیں کہ بشریٰ پیرنی اور علی امین گنڈا پور دونوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ دھرنا سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی، لیکن وہاں موجود بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے نظر نہیں آئے، اور مشتعل ہجوم نے ان کے کنٹینر کو آگ لگا دی ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کہتے ہیں کہ ایکسپریس ہائی وے پر نقاب پوش افراد جدید اسلحہ اور آنسو گیس کے شیلز کے ساتھ دیکھے گئے، جو خیبرپختونخوا حکومت کے وسائل سے لیے گئے ہیں۔ اِن کی تمام تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں اب نتائج کاعمل شروع ہو چُکا ہے ۔ یہ عناصر نہ صرف ریاستی اداروں پر حملے کر رہے ہیں بلکہ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ رینجرز اور پولیس پر حملے ناقابل برداشت ہیں، ریڈ زون میں پیش قدمی کو ناکام بنایا گیا ہے۔ یہ دہشت گرد ہیں، ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جائے گی، اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • بشریٰ بی بی کی ہٹ دھرمی،تحریک انتشار کا فساد، حساب کون لے گا

    بشریٰ بی بی کی ہٹ دھرمی،تحریک انتشار کا فساد، حساب کون لے گا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لئے بشریٰ بی بی ،علی امین گنڈا پور اسلام آباد پہنچ چکے ہیں،
    خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل سے ہزاروں افراد کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے والی پی ٹی آئی قیادت نے اس بار پھر سانحہ نومئی کو دوہرا دیا،دو پولیس اہلکار شہید ہوئے تو وہیں پی ٹی آئی شرپسند نے تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے ذریعے کچل کر شہید کر دیا،اسلام آباد میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، پنجاب میں داخل ہوتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا اور پھر اپنے کارکنان کو چھڑوانے کے بعد انکو چھوڑا گیا، پی ٹی آئی مظاہرین نے اسلام آباد میں درختوں کو آگ لگائی، تو وہیں میڈیا ہاؤسز پر بھی حملے کئے، صحافیوں پر بھی تشدد کیا،22 پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ، ، پنجاب پولیس کے 2اہلکار شہید،119 کےقریب زخمی ہوئے،اسلام آباد پولیس کے 11 اہلکار شدید زخمی ہوئے،

    پاکستان تحریک انصاف نے24 دسمبر کو عمران خان کی رہائی کے نام پر احتجاج شروع کیا لیکن عمران خان کے کہنے پر سنگجانی میں جلسہ کرنے کی بجائے پی ٹی آئی کے لوگ بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ڈی چوک پہنچ گئے جس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ سارا احتجاج نما فساد کس کے لیے اور کس کے کہنے پر کیا جا رہا ہے، احتجاج تو پر امن ہوتا ہے لیکن یہ قافلہ پشاور سے نکلنے کے بعد رستے میں آنے والی ہر جگہ سے لوٹ مار اور چوری کرتا رہا کہیں سیب کے باغات اجاڑ دیے تو کہیں پولیس کی وین ہی چوری کر لی گئی، دوسری جانب مارچ کے شرکاء کے پاس مبینہ طورپر امریکن اسلحہ اور ہتھیار موجود ہیں، یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ سارا مارچ اور احتجاج جس شخص کے نام پر شروع کیا گیا اب اسی شخص کی بات کیوں نہیں مانی گئی اور بشری بی بی جو خود کو گھریلو خاتون اور سیاست سے دور بتاتی تھیں وہ شروع سے ہی اس سارے احتجاج اور مارچ کی قیادت کر رہیں ہیں آخر کیوں وہ خون خرابے اور عمران کی بات نہ مان کر اپنی بات پر ڈٹی ہوئیں ہیں

    پی ٹی آئی کے احتجاج کی قیادت بشریٰ بی بی کر رہی ہیں، بشریٰ بی بی نے ہی اعلان کیا کہ ڈی چوک جائیں گے، بشریٰ بی بی کے کہنے پر علی امین گنڈا پور چل رہے ہیں اور بشریٰ ہی پارٹی رہنماؤں کو ہدایات دے رہی ہیں،عمران خان اسلام آباد کے کسی مضافاتی علاقے میں احتجاج کے لئے مان گئے تھے تا ہم بشریٰ نہ مانی، بشریٰ کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے نہ صرف پولیس اہلکاروں کی جانیں گئیں بلکہ اسلام آباد شہر میں کاروبار زندگی بند ہونے کی وجہ سے معیشت کو بھی کڑا نقصان پہنچا،پی ٹی آئی احتجاج کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ اربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔

    پی ٹی آئی کے احتجاج کا مقصد حالیہ سیاسی حالات میں عمران خان کی قیادت کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمات کی نوعیت کے بارے میں آواز اٹھانا تھا۔ لیکن اس احتجاج کے دوران جو واقعات رونما ہوئے، انہوں نے اس سوال کو جنم دیا کہ آیا یہ احتجاج کسی جواز پر مبنی تھا یا محض سیاسی مقاصد کے لیے تھا۔پی ٹی آئی اس شخص کے لئے احتجاج کر رہی جس کو عدالتوں نے سزا سنائی، گھڑی چوری کا مقدمہ ہوا، توشہ خانہ ٹو کا مقدمہ چل رہا ،بشریٰ بی بی پر بھی مقدمہ زیر سماعت ہے،190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آنا باقی ہے، نو مئی کے مقدمے چل رہے ہیں،بشریٰ و عمران نے اپنے دو ر اقتدار میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور اب قانون کا سامنا کرنے کی بجائے خود قانون ہاتھ میں لے رہے ہیں، بشریٰ بی بی کی خواہش ہے کہ عمران خان کو جیل سے عدالتی فیصلوں کی بجائے دھرنا دے کر رہا کروایا جائے تا ہم ایسا ہو نہیں سکتا، کیونکہ حکومت عمران خان کو این آر او دینے سے انکار کر چکی ہے.

    اس تمام صورتحال کے بعد، حکومت اور ریاستی اداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور کسی قسم کی رعایت نہ دینے کا اصول اپنایا جائے گا ، پی ٹی آئی کے احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کےعوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے، پی ٹی آئی والے احتجاج میں مبینہ طور پر ماضی کی طرح افغان شرپسندوں کو بھی ساتھ لائے ہیں،احتجاج کے دوران ہونے والی اموات اور مالی نقصان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ احتجاج کا مقصد کچھ بھی ہو، لیکن اس کی نوعیت اور طریقہ کار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پرامن احتجاج کی ضرورت ہے، نہ کہ ریاستی اداروں اور عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش، ریاستی ادارے اب اس احتجاج کے بعد کسی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہیں ہیں اور یہ وقت آ گیا ہے کہ قیادت اپنے اقدامات کا حساب دے۔

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان