Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • محنت کشوں کے قتل میں مطلوب بی ایل اے کا مفرور دہشتگرد بشیر جہنم واصل

    محنت کشوں کے قتل میں مطلوب بی ایل اے کا مفرور دہشتگرد بشیر جہنم واصل

    گوادر کے علاقے سربندر میں 7 مظلوم محنت کشوں کے قتل میں مطلوب بی ایل اے کا مفرور دہشتگرد بشیر جہنم واصل کر دیا گیا

    دوران پیشگی ملزم بشیر کے مہرنگ ، بلوچ یکجہتی کمیٹی ، سوشیل میڈیا کے استعمال اور دہشتگرد تنظیموں سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے، بشیر نامی دہشتگرد نے بتایا کے کس طرح بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دہشتگرد تنظیمیں بلوچ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکساتی اور جرم کرنے پر مجبور کرتی ہیں ،مزید براں مہرنگ بلوچ جیسی خواتین کا کردار محض دہشتگرد کارروائیاں اور لوگوں کو جھوٹ ، نفرت اور فریب کے جال میں پھنسانا ہے- بشیر کوسٹل ہائیوے پولیس کا ملازم بھی تھا ،

    8 اور 9 مئی 2024 کی شب سربندر، گوادر میں کام کرنے والے پنجابی محنت کشوں کو بشیر نامی بی ایل اے کمانڈر نے اپنے ساتھیوں سمیت بے رحمی سے قتل کیا تھا ،10 مئی کو زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے سربندر میں اس سفاکانہ قتل ، بلوچ یکجتی کمیٹی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی تھی،31 مئی کو تعینات وزیر داخلہ ضیاء لانگو صاحب نے بشمول سی ٹی ڈی ، سانحہ سربندر کے 2 ملزم گرفتار ہونے کے متعلق ہنگامی پریس کانفرنس منعقد کی ،31 مئی سے 10 نومبر 2024 تک ملزم دہشتگرد بشیر جوڈیشل لاک اپ میں زیر حراست تھا اور مختلف دفعات میں کورٹ میں پیش ہو چکا تھا- دوران پیشگی ملزم نے اعتراف جرم کے ساتھ بی ایل اے سے تعلق کا بھی اعتراف کیا

    10 نومبر کی رات ملزم بشیر لاک اپ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا- چنانچہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس بارے میں اطلاع کر دیا گیا تھا ،21 نومبر کی رات خفیہ اطلاعات ملتے ہی،اور مقامی لوگوں کی نشاندہی پر گرینڈ آپریشن کیا گیا – 21 نومبر کوسیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران آپریشن میں بشیر ہلاک ہوگیا ،بشیر کے اعتراف جرم کی خبر دہشتگرد تنظیم کو ہو چکی تھی – بشیر کو فرار کرانے میں کالعدم تنظیم بی ایل اے پس پردہ ہے،ہمیشہ کی طرح دہشت گردوں کے سہولت کار اس بار بھی بشیر جیسے خطرناک دہشت گرد کو معصوم بنا کر پیش کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں

    دہشتگردوں کی سہولت کار،ملک دشمنوں کی ایجنٹ،ماہ رنگ بلوچ پر مقدمہ درج

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • پی ٹی آئی احتجاج، قافلہ برہان پہنچ گیا،قیدیوں کی گاڑی کو لگائی گئی آگ

    پی ٹی آئی احتجاج، قافلہ برہان پہنچ گیا،قیدیوں کی گاڑی کو لگائی گئی آگ

    اسلام آباد میں احتجاج کے لیے پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں برہان کے قریب ڈھوک گھرسے روانہ ہو چکا ہے،

    پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق قیادت علی امین کر رہے ہیں، بشریٰ بی بی کی گاڑی ان کے پیچھے ہے،احتجاجی قافلے میں ہزاروں افراد شریک ہیں،برہان انٹرچینج پر کرینز کی مدد کے بغیر ہی رکاوٹوں کو ہٹایا گیا، اس موقع پر مظاہرین نے پتھراؤ کیا تو پولیس اپنی قیدیوں کی وین چھوڑ کر پیچھے ہٹی جس کر مظاہرین نے پولیس گاڑی پر قیدی نمبر 804 لکھ دیا ، بعد ازاں قیدیوں کی وین کو آگ لگا دی گئی،

    سات گھنٹے کی مزاحمت کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے کٹی پہاڑی عبور کر لی
    کٹی پہاڑی کو عبور کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا تھا تا ہم اب پی ٹی آئی کارکنان نے کٹی پہاڑی کو عبور کر لیا،پی ٹی آئی کے کارکن رات سے لیکر اب تک اس پہاڑی کو کراس کرنے کی کوشش کررہے تھے، ہزاروں پولیس اہلکاروں چاروں طرف سے لگائے گئے ہیں،کٹی پہاڑی کے موقع پر پولیس کی جانب سے شیلنگ کی جارہی ہے تو وہیں پی ٹی آئی کارکنان پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں،تحریک انصاف کے کارکنوں کی کٹی پہاڑی سے رکاوٹیں کاٹ کر، راستہ بنا کر آگے کی جانب پیشقدمی ہو گئی ہے،تاہم پولیس کی جانب سے اگلی رکاوٹیں براہمہ بھاتر انٹرچینج پر کھڑی کی گئی ہیں

    کارکنا ن کو گرفتار کرنے پر مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا
    علاوہ ازیں پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنان کو گرفتار کیا تو پی ٹی آئی نے پولیس کے 3 اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا جس کے بعد پی ٹی آئی رہنما اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بھائی عمر امین گنڈا پور نے پولیس سے مذاکرات کئے، جس کے بعد پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کو رہا کیا تو وہیں پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس والوں کو بھی رہا کر دیا، پی ٹی آئی کارکنان کا کہنا ہے کہ ہم اسی طرح کام کرتے رہیں، پولیس نے ہمارے بندے پکڑے تو ہم پولیس کو پکڑیں گے

    رات برہان انٹرچینج کے قریب ڈھوک گھر میں گزارنے کے بعدتحریک انصاف کا احتجاجی قافلہ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہو گیا ہے، پی ٹی آئی کے احتجاجی قافلے نے گزشتہ روز صوابی سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کیا تھا اور احتجاج میں شامل پی ٹی آئی رہنماؤں اور ورکرز نے رات برہان کے قریب ڈھوک گھر میں موٹر وے پر گزاری تھی، قافلے میں شامل کچھ افراد نے رات گاڑیوں اور کچھ نے سڑک پر گزاری تھی،صبح ہوتے ہی پی ٹی آئی کے قافلے نے اسلام آباد کی جانب دوبار سفر کا آغاز کر دیا ہے اور قافلے نے ہزارہ انٹر چینج کراس کر لیا ہے۔

    دوسری جانب احتجاج کے پیش نظر حکومت نے اسلام آباد کے راستے بند کر دیے ہیں اور دارالحکومت کو جانے والے زيادہ تر راستوں پر کنٹیرز کھڑے کر دیے گئے ہیں،چھبیس نمبر چُنگی کنٹینر لگا کر مکمل سیل کر دی گئی ہے اور وہاں رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ سری نگر ہائی وے بھی زیرو پوائنٹ کے مقام پر بند کر دی گئی ہے،ایکسپریس وے بھی کھنہ پل کے مقام پر دونوں طرف سے بند کر دی گئی ہے۔ کھنہ پل پر رکھے گئے ایک کنٹینر میں آگ بھڑک اٹھی تاہم اس کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔ ائیر پورٹ جانے والے راستے پر بھی کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ فیض آباد سے اسلام آباد کا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے،

    راولپنڈی سے پی ٹی آئی کا کوئی بڑا قافلہ تاحال اسلام آباد داخل نہ ہوسکا، روات، مندرہ، چکری اور 26 نمبرچونگی سمیت33 اہم داخلی راستوں پراضافی نفری تعینات ہے، راولپنڈی میں پولیس کے خصوصی دستوں کا گشت جاری ہے،فیض آباد انٹرچینج، آئی جے پی روڈ اور ڈبل روڈ کنٹینرز لگا کر بند رکھے گئے ہیں جب کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل سروس بحال ہے اور ڈیٹا سروس بند ہے۔

    صحافیوں کے روپ میں پی ٹی آئی کے یو ٹیوبر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو بھی گرفتار کرنے کا فیصلہ
    اسلام آباد انتظامیہ نے آئی نائن میں سی آئی اے کی بلڈنگ کو سب جیل قرار دے دیا ہے۔ چیف کمشنر اسلام آباد نے وزارت داخلہ کی منظوری سےباضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ، نوٹیفکیشن کے مطابق سی آئی اے کی بلڈنگ کو آرٹیکل پریزنرز ایکٹ 1894 کے سیکشن3 کے تحت سب جیل قرار دیا گیا ہے۔دوسری جانب صحافیوں کے روپ میں پی ٹی آئی کے یو ٹیوبر اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کو بھی گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی ٹی آئی کے یہ کارکن صحافیوں کے روپ میں ڈی چوک میں پولیس کی مکمل حکمت عملی سے لیڈر شپ کو آگاہ کررہے ہیں، اسلئے حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کو گرفتار کیا جائے.

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے اتحادی رہنما ًمحمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے اسلام آباد کا باقی ملک سے زمینی رابطہ منقطع کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ایسی کارروائیاں جمہوری اصولوں کے خلاف ہیں

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    برطانیہ،عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کا تاریخی احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پشاور سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب احتجاج کے لیے روانہ ہونے والا پاکستان تحریک انصاف کا قافلہ، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں حضرو انٹرچینج پہنچ گیا۔پشاور سے علی امین گنڈا پور کارواں کی قیادت کر رہے تھے تاہم اب بشریٰ بی بی نے قیادت سنبھال لی ہے اور کہا ہے کہ اب احتجاجی قافلے کی قیادت میں کروں گی،

    پی ٹی آئی کی کال پر آج لوگوں کی بڑی تعداد باہر نہیں نکل سکی اسلئے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے فیصلہ کیا کہ وہ خود باہر نکلیں گی اسطرح شاید لوگ نکل آئیں،علاوہ ازیں بشریٰ بی بی کو علی امین گنڈاپور پر اعتبارنہیں ہےاسلئے وہ خود اسے مانیٹر کرنے آرہی ہیں۔کیونکہ گزشتہ احتجاج میں علی امین گنڈا پور اسلام آباد پہنچ کر غائب ہو گئے تھے،بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کے مابین روانگی سے قبل لڑائی ہوئی تھی، بشریٰ بی بی نے کارواں کے شرکا سے بھی خطاب کیا اور کہا کہ جلدی چلیں خان کو لئے بغیر واپس نہیں آیا،

    احتجاجی قافلے کے دوران پی ٹی آئی کارکنان نے علی امین گنڈا پور سے مطالبہ کیا کہ ڈی چوک کی بجائے اڈیالہ جائیں گے، جس پر علی امین گنڈا پور نے کہا پارٹی جو فیصلہ کرے گی اس کے مطابق عمل ہو گا،پارٹی حتمی فیصلہ کرے گی،علی امین گنڈا پور نے اڈیالہ جانے کے لئے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کا فیصلہ کر لیا ہے، دوسری جانب اڈیالہ جیل کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے،

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر حکومت نے دارالحکومت جانے والے اکثر راستے بند کر دیے ہیں۔ متعدد راستوں پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ چھبیس نمبر چُنگی کنٹینر لگا کر مکمل سیل کر دی گئی، اور وہاں رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔سری نگر ہائی وے، زیرو پوائنٹ کے مقام پر بند کر دی گئی ہے۔ایکسپریس وے، کھنہ پل کے دونوں طرف سے بند کر دی گئی۔ائیرپورٹ جانے کا راستہ کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔فیض آباد سے اسلام آباد یہ راستہ بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    راولپنڈی پولیس نے فیض آباد اور آئی جے پی روڈ پر پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کارروائی کی۔ لاٹھی چارج کے بعد تقریباً 60 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق، وہاں 100 سے 150 کارکن موجود تھے جنہیں منشتر کر دیا گیا۔پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں سے 490 کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ 100 کارکن لاپتہ ہیں۔

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری یہ تنازع سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔حکومت نے دارالحکومت کو بند کر کے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس اقدام سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے حکومت پر تنقید بڑھ سکتی ہے۔ عمران خان اور ان کی جماعت اس احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کریک ڈاؤن اور راستوں کی بندش عوامی حمایت کو کم کر سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ جب تک بیرونی قافلے اسلام آباد نہیں پہنچتے ہم احتیاط کریں گے اور ورکرز اپنی انرجی بچا کر رکھیں گے ہم سٹریٹجی کے تحت چلنا ہے،پی ٹی آئی رہنما شہر یار آفریدی کا کہنا ہے کہ ہم واپسی کے تمام راستے بند کرکے آئے ہیں اب عمران خان کی رہائی کے بغیر کسی صورت واپسی نہیں ہوگی، پوری قوم کی للکار ہے کہ عمران خان کو رہا کرو، لوگ بدترین ظلم کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں،پی ٹی آئی رہنما مومنہ باسط کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے ٹیکسلا کے مقام پر ہزارہ کے قافلے پر شدید شیلنگ ہوئی۔ ہم وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے قافلے تک جلد پہنچ جائینگے۔ عوام نکلے عمران خان کے لیے ۔

    احتجاج کی کال پر وفاقی دارالحکومت کے داخلی اور خارجی راستے سیل ہیں اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈی چوک کا دورہ کیا اور پولیس اہلکاروں کو شاباش دی، اسلام آباد میں احتجاج کے دوران چھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہو ئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے.

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر  سے غائب

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    تحریک انصاف کی احتجاج کی کال، بشریٰ بی بی قافلے کے ہمراہ، تاہم عمران خان کی بہن علیمہ خان کہیں نظر نہ آئیں،

    پی ٹی آئی کے احتجاج میں پارٹی قیادت اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے، خیبر پختونخوا سے روانہ ہونے والے قافلے اسلام آباد کی حدود میں پہنچ چکے ہیں، بشریٰ بی بی جن کے بارے میں کل کہا تھا کہ وہ بیمار ہیں،احتجاج میں شریک نہیں ہوں گی وہ قافلے کے ہمراہ ہیں، تاہم علیمہ خان، جو عمران خان کی بہن ہیں، اس اہم موقع پر غیر موجود رہیں، دن بھر علیمہ خان کسی بھی شہر میں نظر نہ آئیں، نہ کسی قافلے کی قیادت کی نہ شریک ہوئیں، علیمہ خان کہاں ہیں ، عمران خان نے اپنی بہن علیمہ خان سے ہی 24 نومبر کے احتجاج کی کال دلوائی تھی تا ہم احتجاج کے روز علیمہ خان منظر عام سے غائب ہیں،علیمہ خان کی غیر موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ وہ پارٹی کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک سمجھی جاتی ہیں، اور ان کی عدم شرکت نے قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یہ بھی ممکن ہے کہ علیمہ خان نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر شرکت نہ کی ہو اور وہ روپوش ہوں جب قافلہ اسلام آباد پہنچے تو علیمہ خان منظر عام پر آجائیں،

    سوشل میڈیا پر علیمہ خان کی غیر موجودگی موضوع بحث بن گئی۔ کچھ صارفین نے ان کی غیر موجودگی پر تنقید کی، ایک صارف نے سوال اٹھا یا کہ علیمہ خان کدھر ہیں،

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ابھی تک علیمہ خان کا قافلہ نہیں نظر آیا

    اب تک پی ٹی آئی کی قیادت نے علیمہ خان کی غیر موجودگی پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔پی ٹی آئی قیادت علیمہ خان کی احتجاج میں عدم شرکت پر خاموش ہے،

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • بیلاروس کا 75 رکنی وفد اسلام آباد،محسن نقوی نے استقبال کیا

    بیلاروس کا 75 رکنی وفد اسلام آباد،محسن نقوی نے استقبال کیا

    وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر بیلاروس کا 75 رکنی وفد سرکاری دورے پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے استقبال کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کل سے 27 نومبر تک پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف نے بیلاروس کے صدر کو دورے کی دعوت دی تھی۔بیلاروس کے صدر کی وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات ہوگی، ملاقات میں تعلقات، مختلف شعبوں پر تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، دورے میں متعدد معاہدوں، مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر بیلا روس کے وزیر اعظم رومن گولو و چینکو سے ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے دو طرفہ تعلقات خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، زرعی مشینری، مشترکہ طور پر ٹریکٹرز کی تیاری اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔شہباز شریف نے بیلاروس کو ایس سی او کا مکمل رکن بننے پر مبارکباد پیش کی تھی اور ’شنگھائی اسپرٹ‘ کو فروغ دینے میں بیلاروس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔اس موقع پر رومن گولوو چینکو نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے مفاد کے تمام شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

    کرم تصادم، فریقین نے 7 دن کے لئے سیز فائر پر اتفاق کر لیا

    یو اے ای، مغوی اسرائیلی ربی کی لاش مل گئی

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

  • پی ٹی آئی احتجاج، قافلے روانہ،منزل اسلام آباد، سینکڑوں گرفتار،حکومت بھی تیار

    پی ٹی آئی احتجاج، قافلے روانہ،منزل اسلام آباد، سینکڑوں گرفتار،حکومت بھی تیار

    پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال، اسلام آباد سیل، راستے بند، مختلف شہروں سے قافلے چل پڑے، علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی بھی قافلے کے ہمراہ، پنجاب میں رکاوٹیں، متعدد گرفتار کر لئے گئے.

    خیبرپختونخوا کے تینوں قافلے پنجاب کی حدود میں داخل ہوچکے ہیں۔ پختونخوا کے جنوبی اضلاع، میانوالی اور بلوچستان سے آئے ہوئے قافلے میانوالی موٹروے پر ہیں۔ ہزارہ ڈویژن کے اضلاع، کشمیر اور گلگت بلتستان کا قافلہ خان پور روڈ کے ذریعے ٹیکسلا کے قریب پہنچ چکا ہے۔ پشاور اور سوات ریجن کا قافلہ اٹک کے قریب ایم ٹو موٹروے پر ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، کرک اور بلوچستان کے قافلوں کو لیڈ کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور پنجاب کی حدود میں داخل ہوچکے ہیں،قافلے میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان شریک ہیں،

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب
    خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شریک ہیں، بشریٰ بی بی ایک الگ گاڑی میں سوار ہیں جس کے چاروں اطراف سیکورٹی کی گاڑیاں ہیں، پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ بشریٰ بی بی رابطے میں ہیں اور تمام احتجاجوں کی مانٹیرنگ کر رہی ہیں،بشریٰ بی بی پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی رابطے کر رہی ہیں اور ہدایات دے رہی ہیں، بشریٰ نے قافلے کے دوران شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھیں، ہم تیز چلتے ہیں، ایسے ٹائم ضائع ہو رہا ہے، ہم نے خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا

    خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلے میں کتنے ہزار افراد، اعدادوشمار سامنے آ گئے
    صحافی و تجزیہ کار حماد حسن ایکس پر کہتے ہیں کہ پشاور سے آنے والے جلوس میں 8 سے 10 ہزار تک لوگ ہیں ،
    ہزارہ انٹرچینج پر مزید 4 سے 5 ہزار تک لوگ ہونگے ، ہکلہ انٹرچینج پر جنوبی اضلاع کا جلوس بھی 4، 5 ہزار کا ھے،
    کل جلوس 20 ہزار کے آس پاس،93 صوبائی اور 30 سے زائد قومی ممبران پر تقسیم کریں تو فی ممبر تقریبا 150 افراد لے کر آئے

    تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے جبکہ انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف راستوں کو بند کردیا ہے جب کہ تمام راستوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    تحریک انصاف کی احتجاج سے متعلق حکمت عملی سامنے آگئی،آج پشاور سے قافلہ دیر سے روانہ ہوا، راستے میں صوابی میں پڑاؤ ہوگا، کل بھی ممکنہ طور پر اسلام آباد کا رخ نہیں کیاجائےگا،صوابی میں کل بھی قافلوں کا انتظار کیاجائےگا، تحریک انصاف کا پلان احتجاج کو ایک ہفتے تک لے کر جانے کا ہے، ممکنہ طور پر ڈی چوک بھی نہیں آئیں گے، حکومت کو سرپرائز دیں گے، اسلام آباد میں کسی اور مقام کا رخ کریں گے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بشریٰ بی بی کو صوابی سے واپس روانہ کردیں گے،

    بشریٰ بی بی بھی پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے لیے پشاور سے روانہ ہو چکی ہیں، پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ احتجاج میں شرکت کیلئے بشریٰ بی بی بھی پشاور سے نکل گئی ہیں،بشریٰ بی بی الگ گاڑی میں روانہ ہوئی ہیں، صوبائی وزیر پختون یار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بشریٰ بی بی بھی قافلے میں موجود ہیں، روانگی سے قبل بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور میں لڑائی بھی ہوئی، علی امین گنڈا پور نے بشریٰ کو احتجاج میں آنے سے منع کیا لیکن بشریٰ بی بی بضد رہیں کہ وہ جائیں گی،مریم ریاض وٹو کا کہناتھا کہ سب کو بشریٰ بی بی کی فکر تھی، لوگ انہیں منارہے تھے کہ وہ نہ نکلیں،ان کی جان کو خطرہ ہے، رب کے راستے پر چلنے والوں کو ان چیزوں کی کہاں فکر ہوتی ہے ،بانی کی فیملی کا کوئی فرد بھی احتجاج میں ہو آپ نے ان کی حفاظت کرنی ہے،کوئی کچھ بھی کہے بانی پی ٹی آئی کو رہا کروائے بغیر واپس نہیں جانا۔

    جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی بھی شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہے،اسلام آباد میں 6 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں اور جگہ جگہ کنٹینر اور خار دار تاریں لگا کر راستے بند کیے گئے ہیں تاکہ کوئی بھی ریڈ زون میں داخل نہ ہو سکے۔

    پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف پنجاب بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں اب تک پی ٹی آئی راکین صوبائی و قومی اسمبلی سمیت 500 کے قریب رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

    مختلف شہروں میں تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، اسلام آباد پولیس نے 300 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا جبکہ ڈیرہ غازی خان سے 85 افراد پکڑ لیے، پی ٹی آئی ارکان اسمبلی عامر ڈوگر، زین قریشی اور معین ریاض کو ملتان سے حراست میں لیا گیا، تینوں ایم این ایز کو نقصان امن کے خطرے کے تحت نظر بند کر دیا گیا ہے، پولیس نے چیچہ وطنی سے ایم این اے رائے حسن نواز کو بھی گرفتار کرلیا ہے، سابق ناظم رانا مبشر اور سابق سیکرٹری بار رانا جواد کو بھی گرفتار کر لیا گیا، گرفتار کارکنوں کو ساہیوال تھانہ فتح شیر منتقل کر دیا گیا ہے،سرگودھا روڈ سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے بشارت ڈوگر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، فیصل آباد میں ایم پی اے بشارت ڈوگر سمیت دو بسوں میں سوار پی ٹی آئی کے 32 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا، کوٹلی سے اسلام آباداحتجاج میں شرکت کیلئے جانے والے صدر پی ٹی آئی اور کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا،پولیس کے مطابق سینئر نائب صدر پی ٹی آئی آزادکشمیر رفیق احمد نیئر بھی زیرحراست ہیں۔ شاہدرہ میں علی اعجاز بٹر اور یاسر گیلانی کارکنوں کے ہمراہ نکل آئے،چیئرمین یو سی اعظم ورک سمیت 6 کارکنان گرفتار کر لئے گئے، پولیس ملحقہ گلیوں تک کارکنان کا پیچھا کرتی رہی

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ کریک ڈاؤن اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر پکڑے گئے کارکنوں کی تعداد 490 ہو گئی ہے جبکہ متعدد علاقوں سے 100 سے زائد کارکن لاپتا بھی ہیں،پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے انفارمیشن سیکرٹری حافظ ذیشان کو لاہور کے چوبرجی چوک سے گرفتار کر لیا گیا جبکہ سرگودھا روڈ پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور کارکنوں کی ریلی موٹر وے کمال پور انٹر چینج کی طرف روانہ ہوگئی،

    بارات کی شکل میں اسلام آباد جانے والے27 پی ٹی آئی کارکن گرفتار
    سرگودھا روڈ پر بارات کی شکل میں اسلام آباد جانے والے27 پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا، کارکنوں نے گاڑیوں کو سجایا ہوا تھا، ایک شخص کو دلہا بنا کر فرنٹ پر گاڑی رکھی ہوئی تھی، مشکوک جانتے ہوئے پولیس نے روک کر گرفتار کرلیا ،گرفتاری پر پتہ چلا کہ بارات کی شکل میں پی ٹی آئی کارکنان کا قافلہ اسلام آباد جا رہا تھا،پی ٹی آئی کارکنان پھولوں سے سجی گاڑیوں میں سوار سرگودھا روڈ کے راستے جارہے تھے۔ قافلے میں شامل 11 جیپ، 22 کاریں اور بسوں کو قابو کرلیاگیا۔گاڑیوں میں سوار درجنوں کارکنان کو بھی حراست میں لےلیاگیا

    صداقت عباسی فیض آباد پل سے گرفتار،بولے میں احتجاج کا حصہ نہیں
    پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا،صداقت عباسی کو پولیس نے فیض آباد پل سے گرفتار کیا اور انہیں قیدی وین میں بیٹھا کر روانہ ہوگئی،صداقت عباسی کا گرفتاری کے وقت کہنا تھا کہ میں تو گھر جارہا تھا، میرا احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    وفاقی دارالحکومت میں کل تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے دو روز سے اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے بند ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، آج پی ٹی آئی نے اسلام آباد پہنچنا تھا مگر ابھی تک قافلے راستوں میں ہیں،احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت کے لیے پنجاب اور کے پی سے مختلف قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جنہیں روکنے کے لیے حکومت نے مختلف مقامات پر کنٹینر کھڑے کر دیے ہیں۔

    ترجمان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ اڈیالہ میں ناحق قید قوم کے حقیقی قائد کی کال پر پوری قوم آج حقیقی آزادی کیلئے بیدار اور متحرک ہے، عوامی تائید و حمایت سے یکسر محروم کٹھ پتلی سرکار پورے ملک میں کرفیو لگا کر خود رکاوٹوں اور کنٹینرز کے پیچھے چھپ گئی ہے بدترین خوف میں مبتلا بےغیرت حکمران ہیسٹیریا اور ہیجان میں شہروں کو کاٹ کر، موٹرویز اور سڑکیں کھود کر، آبادیوں کو محصور کر کے، خندقیں کھود کر اور انٹرنیٹ بند کر کے خود کو محفوظ بنانے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، لاقانونیت اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والا نظام سر سے لیکر پیر تک لرز رہا ہے، اور قوم اپنی حقیقی آزادی کی منزل آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی ہے، چوری چکاری پر مبنی اس نظام کی واحد امید ریاستی مشینری اور عوام کے مابین پرتشدد تصادم سے اپنے لئے زندگی کشید کرنے کی امیدیں لگائے ہوئے ہیں،پوری ریاستی مشینری کیلئے ہمارا پیغام ہے کہ ریاست کے مالک عوام ہیں، آپ عوام کے خادم ہیں اور انہی کے ٹیکسوں سے تنخواہیں پاتے ہیں،عوام کے جان و مال کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہے، عوام آپ اور آپ کے بچوں کے مستقبل کیلئے تمام تر قربانیاں دیتے ہوئے نکل رہے ہیں،عمران خان کی کال پر اور ان کی خصوصی ہدایات کے مطابق عوام مکمل طور پر نہتّے اور پرامن ہیں اور آپ کے خلاف کسی یلغار کیلئے نہیں قانون کی حکمرانی اور پاکستان کے مستقبل کیلئے نکل رہے ہیں، پرامن احتجاج کے شرکا کے خلاف کسی قسم کی طاقت، تشدد اور اشتعال انگیز کارروائی سے مکمل گریز کریں اور پرامن احتجاج میں رخنہ اندازی کی کسی کوشش کو کندھا نہ دیں، مینڈیٹ چوروں کے خلاف قوم کی پرامن سیاسی جدوجہد کو ذاتی لڑائی بنانے اور مجرموں کو کسی فالس فلیگ آپریشن کے غلاف میں لپیٹ کر سیاسی حیات سونپنے کی کوششوں سے گریز کریں،24 نومبر کا یہ دن ملکی تاریخ میں حقیقی آزادی کا عنوان بن کر طلوع ہوا ہے، کسی چیرہ دست کو اپنے آزادی اور مستقبل داغدار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،عوام اور کارکنان طے شدہ پروگرام کے تحت پرامن انداز میں آگے بڑھیں، کپتان اور پاکستان آپ کے منتظر ہیں،

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

    9مئی کے واقعہ کی اصل ذمہ دار مریم نواز اور نواز شریف ہیں۔ صاحبزادہ حامد رضا
    سنی اتحاد کونسل پاکستان اور قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ مریم کی حکومت نے پولیس کو پرو پولیٹیکل فورس بنا دیا ہے۔وفاقی وزراء حکومت کے نہیں فسادیوں کے وزراء ہیں۔ پنجاب حکومت کے بدترین کریک ڈاؤن کے باوجود بہت بڑی تعداد اسلام آباد کی طرف روا ں دواں ہے۔ ایک گھنٹے میں چار، چار پریس کانفرنس کرنے والی حکومتی وزراء کے اوسان خطا ہوچکے ہیں۔ عطاء تارڑ کونسلر نہیں بن سکتے مگر فارم 47کی وجہ سے انہیں بھی وزیر بنا دیا گیا۔ کسی تحریک انصاف کے رہنما نے گرفتاری کی پیش کش نہیں کی بلکہ چیلنج کیا کہ گرفتار کرکے دکھائیں۔ بہت بڑی تعداد میں سنی اتحاد کونسل کا قافلہ فیصل آباد سے اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ مرکز اہلسنّت جامعہ رضویہ پر پولیس گردی فسطائیت کی بدترین مثال ہے۔ علماء و طلباء کو ہراساں کیا جارہا ہے۔میری گرفتاری کے لیے میرے دفتر اور رہائش گاہ پر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد روانگی سے قبل اپنے حلقہ میں کارکنان سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ پنجا ب اور وفاق میں نااہل ٹولہ کی حکومت کا دھڑن تختہ ہونے والا ہے۔ تحریک انصاف میں کوئی گروپ نہیں صرف عمران خان گروپ ہے۔ مسلم لیگ ن کا وطیرہ ہے کہ وہ حقائق کو مسخ کرتی ہے۔ پرتشدد سیاست اور انتقامی سیاست کے رویوں کی مذمت کرتا ہوں۔ ملک میں معیشت کا ستیاناس تحریک انصاف نہیں مسلم لیگ ن کی حکومت نے کیا ہے۔پنجاب بھر سے 10ہزار کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ پنجاب میں شدید ترین کریک ڈاؤن کرکے بھی کہا جارہا ہے کہ احتجاج کے لیے لوگ نہیں نکلے۔ قوم اب جاگ چکی ہے۔ مسلم لیگ ن کی چا ل بازیوں سے قوم واقف ہے۔ 9مئی کے واقعہ کی اصل ذمہ دار مریم نواز اور نواز شریف ہیں۔

    حکومتی کے منفی ہتھکنڈوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو خود ہی کامیاب بنا دیا’ مسرت جمشید چیمہ
    پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ حکومت کے منفی ہتھکنڈوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو خود ہی کامیاب بنا دیا ہے ،دنیا کے کسی مہذب ملک میں پر امن احتجاج کو روکنے کیلئے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال نہیں کئے جاتے جو فارم 47مارکہ حکمران ٹولہ کر رہا ہے ،موٹرویز اورجی ٹی روڈ کو بند کر دینے سے عمران خان کی قیادت میں جاری جدوجہد کے آگے بندھ نہیں باندھا جا سکتا،ظلم اور جبر کی تاریک رات جلد ختم ہوگی ۔ گفتگو کرتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ ساری قوم عمران خان کی جدوجہد کے شانہ بشانہ ہے اس لئے جعلی حکمران حواس باختہ ہو چکے ہیں ، ان کے چہروں کے رنگ زرد پڑے ہوئے ہیں جو اصل حالات کی خبر دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم عمران خان کے بیانیے کو اس لئے دل سے قبول کرتی ہے کیونکہ وہ ملک و قوم کی بات کرتا ہے ، وہ دہائیوں سے پسنے والے طبقات کو صرف اپنے اور اپنی اولادوں کیلئے سوچنے والے حکمرانوں سے چھٹکارا دلانا چاہتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی تمام اداروں کا دل سے احترام کرتی ہے ، ہم نے ہمیشہ یہ بات کی ہے کہ ادارے آ ئین میں متعین کردہ اپنے کردار کے مطابق چلیں۔

    ہم نے کشتیاں جلا دی ہیں، شہادت، یا غازی ہو کر نکلیں گے،سیمابیہ طاہر
    پی ٹی آئی رہنما سیمابیہ طاہر کا کہنا تھا کہ ہم ان سے ہار ماننے والے نہیں بھر پور مقابلہ کریں گے،اگر یہ سوچتے ہیں ہمیں ہرا دیں گے، ہم نے کشتیاں جلا دی ہیں، یا شہادت، یا غازی ہو کر نکلیں گے،مطالبات منوائے بغیر نہیں جائیں گے، کتنی دیر شیلنگ کریں گے، ہم سب کی جیت ہو گی، مطالبات پورے ہوں گے، عمران خان کی رہائی ہو گا.

    پی ٹی آئی احتجاج،اٹک گاڑی کو آگ لگا دی گئی،میانوالی،خان پور میں جھڑپیں،پولیس سے شیل چھین لئے
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور صوابی انٹرچینج پار کر گئے ہیں،عمر ایوب کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے، عمر ایوب کے اسلام آباد پہنچنے پر علی امین کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوگا، قافلے میں آئے لوگ اٹک کے مقام پر موٹروے کے اطراف گھنے درختوں میں چھپ گئے، اور علی امین گنڈا پور کے قافلے کا انتظار کر رہے ہیں،علی امین گنڈاپور صوابی ریسٹ ایریا پہنچے تو نعرے لگا کر کراؤڈ چارج کیا اور کہا کہ کارکن سب آگے چلیں، اپنی طاقت راستہ کھولنے میں لگانی ہے، سب متحد ہو کر چلیں، ایک دوسرے کی طاقت بنو، پہلے مشینری کو راستہ دیں،اسد قیصر بھی قافلے کے ہمراہ رواں دواں ہیں

    پی ٹی آئی کے کارکنوں نے غازی ٹول پلازہ کے قریب آگ لگانے کی کوشش کی، جس کے باعث غازی انٹرچینج پر کھڑی ایک گاڑی کو بھی آگ لگ گئی، گاڑی میں سوار 4 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے، پی ٹی آئی ورکرز نے ہی زخمیوں کو گاڑی سے باہر نکالا

    ڈیرہ اسماعیل خان میں ایم 14 سی پیک داؤد خیل میپل لیف سیمنٹ کے قریب پل کے اوپر موجود پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کا تصادم ہوا، پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی جبکہ ربڑ بلٹ سے بھی فائرنگ کی گئی، جس کے باعث کارکن واپس جانے لگے۔ کچھ کارکن شیلنگ ماسک اور غلیل اٹھائے آگے بڑھتے رہے،اس دوران پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا،

    پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ہمارے قافلے صوابی سے بھی نکل چکے ہیں ہم بہت ساری جگہوں پر رکاوٹیں ہٹا رہے ہیں لیکن انشاء اللہ ہم منزل پر ضرور پہنچیں گے ۔

    خان پور کے قریب کارکنان او رپولیس میں جھڑپیں ہوئیں، اس موقع پر پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس سے ڈنڈے چھین لئے اور راستہ کلیئر کروا لیا،اس موقع پر پولیس سے پی ٹی آئی کارکنان نے شیل بھی چھین لئے،میانوالی میں بھی پی ٹی آئی کارکنان کی جھڑپیں ہوئی، اس دوران پولیس سے شیل چھین لئے گئے،جنوبی پنجاب سے زرتاج گل کی قیادت میں قافلہ روانہ ہوا،

    ایکس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ انکے بھائی خالد لطیف مروت کا قافلہ داؤد خیل میں روکا گیا ہے اور سخت ترین شیلنگ کر رہے ہیں، لیکن انشاءاللہ کچھ بھی کر کے ڈی چوک تک ہم پہنچ رہے ہیں۔آدھے گھنٹے تک قبیلے کے اور لوگ ا رہے ہیں مل کر یہ بند راستے ہم کھولیں گے اور ڈی چوک کی طرف روانہ ہوں گے انشاءاللہ”

  • احتجاج کے معاملے پر بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور میں سخت جملوں کا تبادلہ

    احتجاج کے معاملے پر بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور میں سخت جملوں کا تبادلہ

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاج ہر صورت ہوگا اور رکاوٹوں کی صورت میں پلان بی پر عمل کیا جائے گا،جبکہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی ملک عامر ڈوگر ، زین قریشی ، معین قریشی کو پولیس نے نقص امن کے خدشے کے پیش نظر گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پشاور سے پی ٹی آئی کا قافلہ اسلام آباد کے لئے روانہ ہو گیا صوبائی وزیر پختون یار نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں روانہ ہونے قافلے میں پی ٹی آئی کے رہنماء اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور سے روانگی سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کارکنوں کے ہمراہ دعا مانگی ۔

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے لیے پشاور سے روانہ ہو گئی ہیں، پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ احتجاج میں شرکت کیلئے بشریٰ بی بی بھی پشاور سے نکل گئی ہیں، بشریٰ بی بی الگ گاڑی میں گئی ہیں، صوبائی وزیر پختون یار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بشریٰ بی بی بھی قافلے میں موجود ہیں-

    دوسری جانب بشریٰ بی بی کی ترجمان مشال یوسفزئی نے احتجاج کو لیڈ کرنے کے معاملے پر علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کے درمیان تنازع کی خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور میں احتجاج کے معاملے پر کسی قسم کا تنازع نہیں ہے۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی میں احتجاج کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آگئے، بشریٰ بی بی اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا،ذرائع کے مطابق آج 11:30 بجے بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کے درمیان احتجاج پر حصہ لینے پر تکرار ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی پشاور سے احتجاج کو لیڈ کرنا چاہتی ہیں جبکہ علی امین گنڈا پور کہہ رہے ہیں بشریٰ بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، لڑائی کے بعد بشریٰ بی بی اپنی گاڑی میں بیٹھی رہیں جبکہ علی امین واپس اپنے گھر چلے گئے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ رات پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی اہم میٹنگ ہوئی جس میں درپیش مشکلات پر تفصیلی بات چیت کی گئی،اجلاس میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا دیں گے، جہاں رکاوٹیں ملیں گی اسی جگہ پر احتجاج شروع کر دیں گے جس دن رکاوٹیں ہٹائی جائیں گی اسی دن اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کر دیا جائے۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ٹرانسپورٹ سسٹم روک دیا گیا ہے، موٹروے بھی بند کر دی گئی ہے اور رکاوٹیں بھی لگائی گئی ہیں لیکن جیسے ہی اسلام آباد کھلے گا اسی دن اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کر دیں گے۔

    دوسری جانب پولیس کے مطابق پی ٹی آئی ارکان اسمبلی عامر ڈوگر، زین قریشی اور معین ریاض کو حراست میں لے لیا گیا ہے پی ٹی آئی کے تینوں رہنما احتجاج میں شرکت کے لیے اسلام آباد جا رہے تھے، تینوں ایم این ایز کو نقصان امن کے خطرے کے تحت نظر بند کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بشری بی بی نے عامر ڈوگر، زین قریشی اور معین ریاض کو پارٹی سے نکال دیا ہے،واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے، سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے واضح کیا تھا کہ احتجاج میں رہنماؤں کی کارکردگی کی بنیاد پر اگلے عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیا جائے گا۔

    بشریٰ بی بی نے پارٹی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ احتجاج کے دوران گرفتاریوں سے بچیں جبکہ احتجاج کے لیے مؤثر تحریک اور وفاداری کی بنیاد پر ہی پی ٹی آئی میں ان کے مسقبل کا فیصلہ ہوگا۔انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ کسی بھی رہنما کی پارٹی کے ساتھ دیرینہ وابستگی بھی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کی ضمانت نہیں دے گی اگر وہ احتجاج کے دوران توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر گزشتہ روز اسلام آباد پولیس نے بھی کومبنگ آپریشن کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے 300 کارکنوں کو حراست میں لیا تھا-

    لاہور لٹن روڈ پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں تصادم ہوا، جس کے بعد متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، پولیس نے حافظ ذیشان اور دیگر کارکنوں کو گرفتار کرلیا،پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے، پی ٹی آئی کے راہنما ندیم عباس بارا موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ لاہور پی ٹی آئی احتجاج میں بہت کم کارکن موجود تھے۔

    ادھر پی ٹی آئی کے احتجاج کے معاملے پر چیچہ وطنی سے پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی رائے حسن نواز خان کو بھی گرفتار کرلیا گیا چیچہ وطنی پولیس نے بائی پاس قافلے سے گرفتار کیا، پولیس رائے حسن نواز کو گاڑی سمیت اپنے ہمراہ لے گئی۔

    ملتان میں پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج پر پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کے داماد زاہد ہاشمی سمیت متعدد کارکنان کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس نے سینیٹر عون عباس بپی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، عون عباس بپی کے 6 ملازمین کو گرفتار کرلیا،جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ جاوید مون کو بھی گرفتار کرلیا گیا، فرخ جاوید مون کارکنوں کے ہمراہ احتجاج کے لیے جارہے تھے، فروخ جاوید مون کو پولیس نے جناح اہسپتال سے گرفتار کیا۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد میں احتجاج کے باعث قافلے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں سے روانہ ہوگئے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے لیے پی ٹی آئی کا قافلہ سوات سے روانہ ہوگیا، قافلہ صوبائی وزیر فضل حکیم کی قیادت میں روانہ ہواقافلے میں کارکنان کی بڑی تعداد شریک ہے، قافلہ چکدرہ انٹر چینج پہنچے گا جہاں دیگرعلاقوں کے کارکنان بھی قافلے میں شامل ہوں گے۔

    اسلام آباد میں اتوار کی دوپہر 12 بجے کے قریب فیض آباد پہنچنے والے پی ٹی آئی کے درجن کے قریب کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا، یہ کارکن فیض آباد کے پل کے پاس جمع ہوئے تھے جہاں پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی۔

    بانی پی ٹی آئی کی فائنل کال پر ضلع مانسہرہ کی مختلف تحصیلوں سے قافلے مانسہرہ پہنچنا شروع ہوگئے، بالاکوٹ ، بفہ پکھل ، اوگی اور تور غرسے قافلہ مانسہرہ کی طرف آنا شروع ہوگئےمانسہرہ اور ریسٹ ایریا سے کچھ ہی دیر بعد قافلہ موٹروے ریسٹ ایریا سے ڈی چوک کے لیے روانہ ہوگا جبکہ مانسہرہ اور برہان انٹرچینج پر خیبرپختونخواہ کے تمام جلوس اکھٹے ہوں گے۔

    نوشہرہ میں اسلام آباد جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر سیل کردیئے گئے، اٹک پل پر پنجاب کے سائیڈ پر بڑے بڑے کنٹینرز لگا دیئے گئےپنجاب پولیس کی بھاری نفری اٹک پل پر تعینات ہے، پنجاب پولیس پی ٹی آئی کے قافلوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے جبکہ پی ٹی آئی کے قافلے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے روانہ ہوگئے۔

    پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر موٹروے ٹول پلازہ اسٹاف کیبن چھوڑ کر دفتر چلے گئے، گاڑیاں ٹول پلازہ پر ٹیکس ادا کیے بغیر موٹروے پر جانے لگیں،ٹول پلازہ اسٹاف کا کہنا ہے کہ ہدایات جاری کی گئیں کہ ٹول پلازہ چھوڑ کر چلے جائیں۔

    ادھر سلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی احتجاج کی کال کے پیش نظر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے کراچی پولیس کو عام دنوں کی ڈیوٹیز پر طلب کر لیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کی جانب سے جاری احکامات میں آج اتوار کی چھٹی اور ہفتہ وار آف اور دیگر چھٹیوں پر موجود افسران اور اہلکاروں کو ڈیوٹیز پر بلوا لیا گیا ہے ایڈیشنل آئی جی کراچی نے تمام ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز، ایس پیز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو تھانوں یا علاقوں میں موجود رہنے کا حکم دیا ہے جبکہ تھانوں کے انویسٹی گیشن انچارجز اور دیگر دفتری اسٹاف کی بھی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں، ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ دفاتر اور تھانوں میں آج ورکنگ ڈے کی حاضری یقینی بنائیں، رخصت اور ہفتہ وار ریسٹ پر موجود اہلکار بھی حاضر ہوں۔

  • پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    تحریک انصاف باز نہ آئی،ملک دشمن اقدامات پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکے اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے چلائی جانے لگی،پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلز نے پنجاب اور اسلام آباد کے سینئر پولیس افسران کے خلاف ایک منظم مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور ان افسران کو دھمکیاں دینا ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس افسران کے خلاف مہم واٹس ایپ، فیس بک، ایکس،تھریڈز،پر چلائی جا رہی ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے آئی جی پنجاب عثمان انور،آئی جی اسلام آبادعلی رضا رضوی،ڈی آئی جی لیاقت ملک، سی سی پی او لاہوربلال صدیق کمیانہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے

    اطلاعات کے مطابق، پی ٹی آئی کے واٹس ایپ گروپس اور دیگر آن لائن فورمز کے ذریعے پولیس افسران کے خلاف جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈہ مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد پولیس افسران کی عزت کو مجروح کرنا اور ریاستی اداروں کے وقار کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ صورتحال ایک سنگین سوال اٹھاتی ہے کہ کیا پاکستان ایک "بنانا ریپبلک” بن چکا ہے، جہاں کوئی بھی بغیر کسی خوف کے ریاستی اہلکاروں کو دھمکیاں دے سکتا ہے اور ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کر سکتا ہے؟ کیا اس گھناونے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ریاست کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو ریاستی افسران کو ہراساں کرنے اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں۔ یہ وقت ہے کہ سخت اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا جائے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلر اور مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے، تا کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہو سکیں

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم میں پولیس افسران کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں،پولیس افسران کے خلاف پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی یہ منظم مہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے سوشل میڈیا پر جعلی مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے.

    یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے کسی کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائی ہو، پی ٹی آئی کی جانب سے اداروں کے خلاف متعدد بار مہم چلائی جا چکی ہے اور وہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں،کبھی عدالتوں کے خلاف، کبھی پاک فوج کے خلاف،کبھی پولیس کے خلاف، کبھی میڈیا کے خلاف، کوئی بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ سے محفوظ نہیں ہے

  • پی ٹی آئی احتجاج میں بشریٰ بی بی کا شامل ہونے سے انکار

    پی ٹی آئی احتجاج میں بشریٰ بی بی کا شامل ہونے سے انکار

    پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، بشریٰ بی بی احتجاج کے لیے متحرک تھیں، بندے اور پیسے جمع کرنے کے ٹاسک دیئے، اب احتجاج میں شمولیت کی باری آئی تو بشریٰ بی بی خود بھاگ گئیں ،

    تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 24 نومبر کے احتجاج میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے،بشریٰ بی بی کی ترجمان مشعال یوسفزئی کا کہنا تھاکہ بشریٰ بی بی خرابی طبیعت کے باعث احتجاج میں شریک نہیں ہوں گی،اس اعلان کے بعد پی ٹی آئی کارکنان میں مایوسی پھیل گئی ہے، گزشتہ روز علیمہ خان نے بھی کہا تھا کہ بشریٰ احتجاج میں شریک ہوں گی یا نہیں اس پر ان سے خود ہی سوال کیا جائے،پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا بھی کہنا تھا کہ احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ عمران خان کا ہو گا، وہ کہیں گے تو احتجاج مؤخر ہو گا ہم کچھ نہیں کر سکتے،بشریٰ بی بی پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ میں شریک نہیں ہوں گی،وہ گھریلو خاتون ہیں، ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،بشریٰ عمران کا پیٍغام پہنچا رہی تھی پارٹی تک، سیاست میں وہ ان نہیں ہیں،عمران اسکا شوہر جیل میں ہے ، پیغام بشریٰ ہی دے سکتی ہے، اسکا حق ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا، اسکو سیاست نہیں کہتے،

    بشریٰ بی بی اڈیالہ سے رہائی کے بعد پشاور گئیں اور وہیں مقیم ہیں، بشریٰ کی آڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو بندے لانے کا ٹاسک دیا ،اور پارٹی ٹکٹ نہ دینے کی دھمکی بھی دی، بشریٰ نے قوم سے ویڈیو خطاب بھی کیا جس میں سعودی عرب متنازعہ بات چیت کی، اس واقعہ کے بعد بشریٰ بی بی کے خلاف کئی شہروں میں مقدمے درج ہو چکے ہیں، بشریٰ بی بی کو گرفتاری کا ڈر ہے اسلئے وہ احتجاج میں شامل نہیں ہو رہیں،بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں،

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

  • وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کرم جانے والے وفد کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ

    وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کرم جانے والے وفد کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ

    پاراچنار میں خیبر پختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، خیبر پختونخوا حکومت کا وفد پارا چنار گیا تھا، ہیلی کاپٹر میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی سربراہی میں وفد موجود تھا۔

    فائرنگ کے واقعہ کے بعد ہیلی کاپٹر کی محفوظ لینڈنگ ہوئی ہے، خیبر پختونخوا حکومت کا وفد محفوظ رہا، وفد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر روانہ ہوا تھا،وفد کرم میں امن و امان کا جائزہ لینے اور امن جرگے کو دوبارہ فعال کرنے کے لیےجا رہا تھا، وفد میں چیف سیکریٹری اسلم چوہدری، کمشنر کوہاٹ ڈویژن، ڈی آئی جی کوہاٹ اور دیگر شریک تھے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی آج پارا چنار کا دورہ کرنا تھا تا ہم خراب موسم کی وجہ سے پارا چنار کا دورہ ملتوی ہوا، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کا وفد پارا چنار گیا تھا

    واضح رہے کہ ضلع کرم کی تحصیل پارا چنار میں 21 نومبر کو مسافر گاڑیوں کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں 42 اموات کے بعد علاقے میں احتجاج جاری ہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، کمشنر کوہاٹ ڈویژن، ڈی آئی جی کوہاٹ اور ڈی پی او سمیت دیگر اعلی افسران پر مشتمل وفد کرم کے حالات کا جائزہ لینے اور امن و امان کی بحالی کے لیے جرگے کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے کرم روانہ ہوا تھا،

    پارا چنار میں تین روزہ سوگ کے اعلان کے سلسلے میں آج مارکیٹیں تیسرے روز بھی بند ہیں۔ پاراچنار کے داخلی راستے پر گذشتہ روز بابِ کرم کے نام سے سڑک پر بنے ایک دروازے کو مظاہرین کی جانب سے جلایا گیا، گزشتہ روز شام کے وقت کچھ مظاہرین نے مرکزی بگن بازار میں دکانوں اور قریبی گھروں کو آگ لگائی تھی۔

    کرم سانحہ اور سیاست کا گھناؤنا کھیل

    کرم واقعہ،ایرانی صدر،ترجمان امریکی سفارتخانہ کی مذمت

    کرم واقعہ، خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی