Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کا خطرہ

    پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کا خطرہ

    فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کے منصوبہ بندی کا انکشاف سامنے آیا ہے

    مختلف ذرائع کی جانب سے فتنہ الخوارج کی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی تصدیق ہوئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق فتنہ الخوارج سے منسلک کئی دہشت گرد پاک افغان بارڈر کراس پار کر کے پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں ،19 اور 20 نومبر کی درمیانی رات فتنہ خوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے پاک افغان بارڈر پار کرنے کی اطلاعات ملی ہیں، فتنہ الخوارج کے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کی مختلف بڑے شہروں میں موجودگی کی اطلاع ہے،نیکٹا نے فتنہ الخوارج کے خطرے کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایات کر دی ہے،

    دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو گھروں سے باہر نکلتے ہوئے خیال کرنا چاہئے، پولیس اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے الرٹ کے بعد سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے،حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سیکیورٹی فورسز کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور اہم مقامات پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے باعث شہریوں کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، حکومتی سطح پر سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی وسائل مختص کیے جا رہے ہیں۔

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

  • جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    امریکہ میں 86 سال کی سزا کاٹنے والی پاکستانی نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی حکومت، فیڈرل بیورو آف پریزنس اور متعدد جیل حکام کے خلاف وفاقی عدالت میں ایک جامع مقدمہ دائر کیا ہے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جانب سے دائر کیا گیا یہ مقدمہ 61 صفحات پر مشتمل ہے اور تقریباً دو ماہ قبل امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ، شمالی ٹیکساس میں دائر کیا گیا۔ اس کی کاپی پاکستانی میڈیا نے حاصل کر لی ہے۔ مقدمے میں ڈاکٹر عافیہ نے جیل کے عملے پر آئینی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان میں جنسی زیادتی، تشدد، طبی سہولتوں کی عدم فراہمی اور مذہبی امتیاز شامل ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ کے وکلاء نعیم ہارون سکھیا، ماریا کری اور کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے شکایت میں ان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تفصیلات درج کی ہیں۔ شکایت کے مطابق 2010 میں ایف ایم سی کارسویل میں قید کے آغاز سے ہی انہیں جیل کے عملے اور دیگر قیدیوں کی جانب سے بار بار جنسی حملوں اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ مرد محافظ انہیں تلاشی کے بہانے ہراساں کرتے اور جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔ ایک واقعے میں تشدد کی شکایت کرنے پر جیل کے عملے نے ان پر تیزاب پھینکنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

    مقدمے کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو ان کے مذہبی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا۔ انہیں جمعے کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور مذہبی اشیاء ضبط کی گئیں۔ جیل حکام نے ان کے امام سے ملاقات کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں۔ ڈاکٹر عافیہ کی شکایت میں ان کے دستاویزی PTSD اور جسمانی بیماریوں کی موجودگی کے باوجود مناسب طبی سہولت فراہم نہ کرنے کو اجاگر کیا گیا۔ وکلاء کے مطابق، یہ امریکی آئین کی آٹھویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔مقدمے میں ایف ایم سی کارسویل جیل کے عملے کی وسیع پیمانے پر بدعنوانی اور خواتین قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دیگر واقعات کا حوالہ دیا گیا۔

    ڈاکٹر عافیہ کی قانونی ٹیم نے جیوری ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے اور ان کے لیے فوری تحفظ، مذہبی رہنمائی تک رسائی اور آزاد طبی دیکھ بھال کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مقدمہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور پاکستان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

    وکیل نعیم ہارون سکھیا کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ڈاکٹر عافیہ کے لیے انصاف کا ذریعہ ہے، جبکہ ماریا کری نے کہا کہ یہ تمام مظلوم خواتین کے لیے امید کی کرن ہے۔ کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے اس کیس کے بین الاقوامی اثرات کو اجاگر کیا۔امریکی فیڈرل بیورو آف پریزنس نے اس زیرِ التواء مقدمے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے امریکا کون کون جائے گا؟رپورٹ عدالت پیش

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

    عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ عدالت

  • پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    پی ٹی آئی احتجاج،وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرسٹر گوہر سے رابطہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا ہے

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین پہلا رابطہ ہوا ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے موجودہ صورتحال پر گفتگو کی،محسن نقوی نے کہا، کسی جلوس،دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔بیلا روس کا وفد آ رہا ہے،محسن نقوی کے رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ پارٹی مشاورت کے بعد آپ کو حتمی رائے سے آگاہ کروں گا۔باخبر ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے تحریک انصاف کل ڈی چوک میں احتجاج پر بضد ہے،حکومت نےایف نائن، سنگجانی میں احتجاج اور دھرنے کی پیشکش کی ہے،تاہم پی ٹی آئی نے انکار کر دیا ہے.

    پی ٹی آئی احتجاج، اسلام آباد کب داخل ہونا؟ پروگرام طے ہو گیا
    پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پلان پارٹی کے بانی کے وکلا اور بہنوں کے مشورے کے بعد طے کیا گیا۔منصوبے کے تحت ملک بھر سے پی ٹی آئی کے قافلے 24 نومبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلوں کو اسلام آباد پہنچنے میں 2 سے 3 دن لگیں گے، اور 26 نومبر کو اسلام آباد میں داخلے کی تیاری کی گئی ہے۔ تمام کارکنان اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنے کا پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا۔ قیادت کے ساتھ علیمہ خان، عظمیٰ خان، اور رانی خان بھی موجود ہوں گی۔

    تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی کا اہم اجلاس ہوا، جس کی علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے صدارت کی،اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج ہر صورت ہوگا، ڈی چوک پر دھرنا ہوگا، تمام رکاوٹیں پار کرکے منزل پر پہنچیں گے، اس بار واپسی نہیں ہوگی، اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 22اور 23 نومبر کی درمیانی رات کو منعقد ہوا، اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے مطابق ہماری پُرامن احتجاجی تحریک کا آغاز مورخہ 24 نومبر کو پاکستان بھر کے ہر شہر سے ہو گا،قافلے اسلام آباد کی طرف اپنے سفر کا آغاز کرینگے۔ اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کے اہداف حاصل نہیں کر لئے جاتے۔ جو مندرجہ ذیل ہیں ۔ پاکستان بھر میں بے گناہ قید پارٹی کے لیڈران، کارکنان اور عمران خان کی رہائی ، 26 ویں آئینی ترمیم کی تنسیخ، 8 فروری کے الیکشن کے حقیقی مینڈیٹ کی بحالی،پولیٹیکل کمیٹی نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اوردہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس بھی لیا اور معاملات کے فوری حل کے زمرے میں حکومتی بے حسی اور بے بسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ،پولیٹیکل کمیٹی نے پارٹی کے کارکنان اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عوام سے اپیل کی کہ وہ پر امن احتجاج میں جوق در جوق شرکت کر کے اسے کامیاب بنائیں۔ تاکہ پاکستان میں آئین اور قانون کے مطابق جمہوری دور کا آغاز ہو سکے۔ ریاست کے عوام کا اعتماد بحال ہو اور ایک بہتر مستقبل کی نوید سنائی دے۔

    موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات
    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج ،وزارت داخلہ نے موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات پی ٹی اے کو صادر کر دیئے،میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب ہی وزارت داخلہ سے خط موصول ہوگیا تھا،آج موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معمول کے مطابق ہے،فی الحال صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اتوار کو موبائل، انٹرنیٹ سروسز معطل کرنے کا احکامات دیئے جائینگے، ذرائع پی ٹی اے

    سابق صدر عارف علوی کی تقریر
    پشاور میں سابق صدر عارف علوی نے پی ٹی آئی کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر پاکستانی کے دل میں ایک امید کی طرح دھڑک رہے ہیں، اور ان کی محبت عوام کے دل سے ختم کرنا ناممکن ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ عمران خان کی جدوجہد آئین، قانون، اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے ہے اور وہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

    موٹرویز اور ٹرانسپورٹ کی بندش
    ملک کی مختلف موٹرویز بشمول پشاور-اسلام آباد اور لاہور-اسلام آباد کو مرمت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق یہ بندش 23 نومبر کی رات 8 بجے سے نافذ ہوگی۔ لاہور کی رنگ روڈ کو بھی 2 دن کے لیے احتجاج کے پیش نظر صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    عوامی مشکلات
    ٹرانسپورٹ اڈوں اور موٹرویز کی بندش کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق روزانہ ایک لاکھ 30 ہزار افراد اسلام آباد آتے جاتے ہیں، اور بندش کے سبب مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو نقصان ہوگا۔ اسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی متاثر ہوگا، جس سے یومیہ 4 سے 5 کروڑ روپے کا نقصان متوقع ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ،علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک بند کر کے ہمارا احتجاج پہلے ہی کامیاب بنادیا ہے، وفاق اور پنجاب حکومت نے بوکھلاہٹ میں موٹروے اور شاہراہیں بند کردیں، پنجاب بھر میں دفعہ 144کا نفاذ، ہوٹلوں اور لاری اڈوں کی بندش ثبوت ہے کہ حکومت کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ ہم ابھی 24 نومبر کے احتجاج کی تیاریوں کےمراحل میں ہیں، حکومت نے ملک بند کرکے ہمارااحتجاج خود ہی کامیاب بنادیا۔ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، حکومت ملک بند کرکے عوام کو تکلیف دے رہی ہے۔بانی پی ٹی آئی کی ایک کال سے حکومت کے اوسان خطاہوگئے ہیں، جیل میں قید ایک شخص نے احتجاج سے قبل ہی حکمرانوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    24 نومبر کو ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں میٹرو سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کے پیش نظر 23 نومبر کو میٹروبس سروس آئی جے پی تا پاک سیکرٹریٹ مکمل بند رہے گی تاہم راولپنڈی میں میٹروبس سروس بحال رہے گی،راولپنڈی صدر اسٹیشن تا فیض آباد تک میٹروبس سروس چلے گی البتہ 24 نومبر کو جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس مکمل طور پر بند رہے گی

    پی ٹی آئی احتجاج، لاہور،اسلام آباد،اہم شاہراہیں بند،کاروبار بند،شہریوں کو مشکلات
    پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، موٹرویز سمیت کئی اہم شاہراہیں بند کردی گئیں،راولپنڈی اور اسلام آباد کو 33 مقامات سے بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لاہور اور فیصل آباد سے وفاقی دارالحکومت کو آنے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں،اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جڑواں شہروں میں داخل ہونے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے،فیض آباد سمیت 6 مقامات کو کنٹینرز رکھ کر بند کر دیا گیا ہے، فیض آباد، آئی جے پی روڈ، روات ٹی چوک، کیرج فیکٹری، مندرہ اور ٹیکسلا روڈ کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ کچہری چوک کو یکطرفہ ٹریفک کے طور پر چلایا جائے گا،

    لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز کھڑے کرکے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ٹھوکر نیاز بیگ ، بابو صابو انٹر چینج ، سگیاں پل ، شاہدرہ چوک بھی بند کر دی گئی ہے جبکہ رنگ روڈ کو بھی دو روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے،فیصل آباد شہر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں، موٹروے ایم 5، سکھر سے رحیم یار خان تک بند کر دی گئی ہے،اسلام آباد میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے رینجرز اور ایف سی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنےکی ہدایت کر دی ہے،اسلام آباد کے تمام تھانوں میں گرفتار افراد کو رکھنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ قیدی وینزبھی اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں،پنجاب بھر میں آج سے 25 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج، جلسے جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد رہے گی۔

    صدر، اے ٹی ڈبلیو اے بلو ایریا راجہ حسن اختر کا کہنا ہے کہ تمام بزنس کمیونٹی کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بلو ایریا میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے حکم کے مطابق، تمام دکانیں، دفاتر، ریسٹورینٹس اور کاروبار مکمل طور پر بند رہیں گے۔دفعہ 144 نافذ ہے،صرف میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔تمام کاروباری افراد سے گزارش ہے کہ اپنے کاروبار بند رکھیں اور گھروں میں آرام کریں۔

    پی ٹی آئی نے احتجاج کے لیے اپوزیشن اتحاد سے کوئی رابطہ یا مشاورت نہیں کی،پی ٹی آئی کے کسی بھی رہنما نے اپوزیشن کی کسی بھی جماعت سے کوئی بات چیت نہیں کی،اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اسلام آباد سے واپس کوئٹہ روانہ ہو گئے،بی این پی سربراہ اختر مینگل دبئی میں ہیں، ان سے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج پر کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، علامہ ناصر عباس بیرون ملک دورے کی وجہ سے احتجاج کا حصہ نہیں ہوں گے

    اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان احتجاج کے لیے پرعزم ،تیاریاں مکمل ہونے کا عندیہ دے دیا ،ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری مکمل تیاری ہے ہر صورت میں اسلام آباد پہنچیں گے،میں اپنے حلقے میانوالی سے قافلے کی صورت میں اسلام آباد پہنچوں گا، ٹک ٹاکر حکومت نے ہمیشہ ہمارے پرامن احتجاج کو روکنے کی کوشش کی ہے، پانی پی ٹی ائی کی فائنل کال ہے کل پورا پاکستان اسلام آباد جائے گا ، میانوالی کی عوام تیار ہے ہمارے کچھ لوگ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں کچھ کل قافلوں کی صورت میں جائیں گے،حکومت جتنی مرضی رکاوٹیں کھڑی کر دے ہم رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام اباد پہنچیں گے،بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے،

    عارف علوی کی کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل،بولے،تشدد ہمیشہ پولیس کرتی
    پی ٹی آئی رہنما ،سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج کے اعلان اور تیاری کے حوالہ سے میری درخواست پوری قوم سے یہ ہے کہ پر امن رہیئے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے جلسے جلوسوں میں پر امن رہی ہے۔ تشدد ہمیشہ پولیس نے کیا۔ دنیا کی پچھلی صدی کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ پر امن عوام پر جب پولس آنسو گیس یا لاٹھی سے حملہ کرتی ہے تو پھر عوام ایسے ظالمانہ مار پیٹ کے بعد سنگ و خشت کا سہارا لیتے ہیں۔ تشدد کے بہانے “پرچم دروغ” کا استعمال ہم نے 9مئی کے دن دیکھا جس کے زہریلے انڈے اور بچے آج بھی نمودار ہو رہے ہیں۔پر امن رہیئے اور اللہ پر بھروسہ کریئے۔ وہی خدا ہے جو اس ملک کے محکوم و مظلوم عوام کو آزادی سے ہمکنار کرے گا۔ انشاللہ

  • سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان ایک بہت ہی مشکل دور سے گزر رہا ہے،خاص طور پر جب ہم درجنوں شہادتوں کو ایک دن میں سہہ رہے ہیں،اتنی شہادتیں کہ ایک دن میں تدفین بھی نہیں ہو سکتی،ایسے وقت میں احتجاج،دھرنوں کی سیاست ظلم ہے، دوسروں کی اولاد،بچوں کے شاندار مستقبل کی بات کریں لیکن اپنے بچوں کو احتجاج میں نہ لائیں، بشریٰ بی بی نے کل ایک تقریر کر دی اس نے بانی پی ٹی آئی اور تحریک انصاف کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے،حالت یہ ہو گئی کہ سلمان احمد جو عمران خان کے پرانے دوست ہیں، ان کو ایک ٹویٹ کرنی پڑی،عارف علوی نے بھی ایک ٹویٹ کی،یہ کوئی چھوٹا بیان نہیں ہے، دو لوگ بانی پی ٹی آئی کی گفتگو عام کر رہے ہیں ایک گنڈا پور دوسری علیمہ، یہ بیان کسی اور سے آتا تو اسکی ویلیو مختلف ہوتی کیا پی ٹی آئی نے اپنے لئے دروازے بند کر دیئے ہیں کیا ڈونلڈ ٹرمپ سے جو امیدیں لگائی ہیں وہ ختم ہو چکی ہیں ، اب یہ والی بات کر کے کیا ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو ری پبلکن پارٹی سے دور کر لیا جس پر یہ لاکھوں ڈالر لابنگ کے لئے لگا چکے، ہمارے ملک میں دہشت گردی کا ناگ سر پھلائے بیٹھا اور ہم یہاں پر کل تک امریکا کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے، پھر باجوہ، پھر لندن پلان اور اب سعودی ولی عہد کو،

    مریم اور نواز شریف نے کھانا کھایاتو پی ٹی آئی نے بٹ کڑاہی والوں پر مقدمہ کروا دیا تھا، عظمیٰ کاردار
    کھراسچ پروگرام میں بات کرتے ہوئےمسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ مجھے پی ٹی آئی کے ساتھ بہت ہمدردی ہے، پی ٹی آئی کی کورکمیٹی یا پارلیمانی پارٹی انکو سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا، یہ سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی کہ جانشین بانی کا مرشد ہے اور خان نے جو پیغام دینا تھا وہ کسی تنظیمی عہدیدار کو نہیں دی گئی بشریٰ کو دی گئی، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو پارٹی رہنماؤں پر شک ہے کہ رہنما کمپرومائزڈ ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ کتنی اعلیٰ گورننس ہے کہ سڑکیں بند کر دیں، انٹرنیٹ بند کردیں، ہوسٹلز بند کر دیں، گورننس کا اور طریقہ نہیں آتا جس پر عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج پر ہم یقین رکھتے ہیں، مریم نواز اور نواز شریف جب تنظیمی پروگرام کے لئے نکلے تھے تو بٹ کڑاہی پر ان لوگوں نے مقدمہ درج کروا دیا کہ نواز شریف کو کڑھائی کیوں کھلائی، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پورا ملک بند کر کے وزیراعلیٰ پنجاب لندن چلی جاتی ہیں، وزیر ماحولیات ان کے ساتھ، چیف سیکرٹری ان کے ساتھ،یوٹیوب کو پیسے آفر ہو رہے ہیں کہ سموگ بارے ہمارے حق میں پروگرام کریں، عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ڈپلومیٹک کمیونٹی رہتی ہے،دفعہ 144 نافذ ہے، قانون اور آئین اجازت نہیں دیتا کہ وہ وہاں آئیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کون سا قانون، آپ نے دفعہ 144 لگائی، چار بندوں کو نہ جانے دیں، ہوٹلوں سے لوگوں کو کیوں نکال رہے ہیں، جس پر عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ میں کل رہ کر آئی ہوں، کچھ بند نہیں ہوا،مبشر لقمان نے ہوٹلز بند ہونے کا نوٹفکیشن دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھیں ،جس پر عظمیٰ کاردار نے کہا کہ کچھ بند نہیں، مبشر لقمان نے کہا کہ موٹروے بند ہو گئی، عظمیٰ کاردار نے کہا کہ کچھ بند نہیں، میں کل آئی ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے انکو کل منع کر دیا ہے،اگر آپ چاہتے ہیں یہ وفاق پر حملہ کریں تو کیا ہو سکتا ہے،ریاست کا حق ہے کہ وہ حملہ آوروں کو روکے، مبشر لقمان نے کہا کہ احتجاج ان کا آئینی حق ہے، غیر آئینی کام نہیں کرتے ہم مفروضے کے طور پر ان کا حق نہیں چھین سکتے، عظمیٰ کاردار نے کہا کہ ان کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں، نومئی کو بھول گئے،گنڈا پور کا بیان بھول گئے،پولیس والوں کے کپڑے پھاڑے گئے، آپ کے سامنے ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اینکر ہوں، میرے پاس بہت کچھ ہے، سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی ہوتا ہی ناں،

    توڑ پھوڑ،احتجاج، تقریریں حل نہیں، مذاکرات سے آگے بڑھا جا سکتا، رضا ہارون
    پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ہارون کا کہنا تھا کہ مذاکرات آگے بڑھنے کا راستہ ہے،پی ٹی آئی کے تین مطالبات ہیں، ایک بھی مطالبہ توڑ پھور کرنے، تقریروں سے حل نہیں ہو گا، یہ مذاکرات سے حل ہو گا جب بات نہیں کریں گے تو کیسے مسئلے حل ہوں گے،24 نومبر ایک کال کی مار ہے،ابھی مذاکرات کی بات چیت شروع ہوئی تھی اس وقت خوشیاں نہیں دیکھی تھیں چہرے پر،

    پی ٹی آئی کی رہنما شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ عمران خان کی بات کی ہے، میری چار ماہ سے عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی، بشریٰ کا کل جو بیان آیا ،اس کا پارلیمانی پارٹی کو نہیں پتہ، جہاں ہمیں خان کا حکم مل رہا ہوتا ہے سر آنکھوں پر، جہاں پر ذاتی رائے مل رہی ہووہ ہم نہیں مانیں گے،ایک ایمبسڈر نے مجھے کہا تھا کہ عمران خان کو ہٹانا ہے مجھے جھٹکا لگا، میں نے اسد قیصر کو یہ ساری بات بتائی، کل جو پینڈورا باکس انہوں نے کھولا ، میں صبح سے دیکھ رہی ہوں کہ پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ بشریٰ نے کسی کا نام نہیں لیا، بحرحال یہ اچھی بات نہیں ہے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل کو جب کیس ہو گا تو چینل کو پیمرا کو جواب دہ ہونا پڑے گا اور مجھے بھی، جتنا مرضی میں مان لوں کہ یہ پی ٹی آئی کا بیان نہیں انفرادی بیان ہے، ڈھول توگلے میں پڑ گیا، شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ میں بغیرتصدیق یا تردید کےاپنی رائے دے رہی تھی،

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • سعودی عرب بارے  بیان، بشریٰ بی بی کیخلاف کئی شہروں میں مقدمے درج

    سعودی عرب بارے بیان، بشریٰ بی بی کیخلاف کئی شہروں میں مقدمے درج

    بشریٰ بی بی کا سعودی عرب بارے متنازعہ بیان، ڈی جی خان ،لیہ، گوجرانوالہ، راجن پور،ملتان میں بشریٰ بی بی کے خلاف ٹیلی گراف ایکٹ 1885 کے تحت مقدمات درج مقدمے درج کر لئے گئے

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ویڈیو بیان کے خلاف ایف آئی آر ڈیرہ غازی خان میں درج کی گئی ہے،ایف آئی آر کے متن کے مطابق بشریٰ بی بی نے لوگوں کو ورغلانے کے لیے نفرت انگیز بیان دیا،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف دفعہ 126 ٹیلی گراف ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

    بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمہ غلام یسین ولد غازی خان، سکنہ ڈاک خانہ نواں جنوبی، چاه سمی والا، تحصیل و ضلع ڈیرہ غازی خان کی مدعیت میں دفعہ 126 ت پ -دی ٹیلی گراف ایکٹ، 1885 – 29 کے تحت درج کیا گیا،درج مقدمے میں کہا گیا کہ سائل شریف شہری محب وطن ہوں اپنے ملک پاکستان کے خلاف کسی قسم کی کوئی بات سننا گوارہ نہ کرتا ہوں مورخہ 21/11/2024 بوقت 9 بجے رات میں اڈا سو جھلی ہوٹل از ان فدا حسین پر دوستوں کے ساتھ چائے پی رہا تھا تو جیو نیوز ٹی وی چینل پرسابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی زوجہ الزام علیہ بشری بی بی کا بیان چل رہا تھا جس میں وہ کہہ رہی تھی کہ جب عمران خان عمرہ پر ننگے پاؤں گئے اور ان کی واپسی پر باجوہ کو کال آئی کہ آپ کسی کو اٹھا کر لائے ہیں ہم توملک پاکستان سے شریعت ختم کرنا چاہتے تھے اور تم شریعت کے ٹھیکداروں کو لے آئے ہو ” ان کی یہ بات اور بیان میرے ملک پاکستان اور سعودی عرب کی خارجہ پالیسی اور اعلیٰ سطحی امور اور باہمی مفاد عامہ کے خلاف ہے جو کہ پاکستان اور پاکستان کی عوام کے جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے عالیجاہ ! الزام علیہ بشری بی بی نے ملک پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی سازش کر کے اور ملک پاکستان اورپاکستان کی عوام کے جذبات مجروح کر کے سخت زیادتی کی ہے گواہان مسمیان – صغیر ولد واحد بخش قوم کچھیل سکنہ دیہ ، دین محمد ولد محمود قوم لنگرانہ سکنہ بستی لنگرانہ موضع نواں جنوبی بھی موجود تھے درخواست پیش کرتا ہوں الزام علیہ بشری بی بی کے خلاف سخت قانونی کاروائی کیا جائے ،تھانہ درخواست جمال نے مقدمہ درج کر لیا ہے

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

    fir

    بشریٰ بی بی پر ڈی جی خان کے بعد راجن پور میں بھی مقدمہ درج
    بشریٰ بی بی کے سعودی عرب بارے متنازعہ بیان پر راجن پور میں بھی مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمہ حاکم دار کی مدعیت میں درج کیا گیا، درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ہم بیٹھے تھے اور موبائل پر خبریں سن رہے تھے جیو نیوز پر بشریٰ بی بی کا ویڈیو بیان نشر کیا گیا جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشر یٰ بی بی بیان کر رہی ہیں کہ ننگے پاؤں مدینہ شریف میں چل رہے تھے ، باجوہ کی کال آئی کہ آپ کو کو اٹھا لائے ہیں ہم تو ملک پاکستان سے شریعت ختم کرنا چاہتے ہیں اور تم شریعت کے ٹھیکہ داروں کو لے آئے ہو، بشریٰ کا یہ بیان میرے ملک پاکستان اور سعودی عرب کی خارجہ پالیسی اور اعلیٰ سطحی امور،اور باہمی مفاد عامہ کے خلاف ہے جو کہ ملک پاکستان اور پاکستانی عوام کے جذبات مجروح کر کے سخت زیادتی کی گئی، گواهان موجود تھے میں ایک محب وطن شہری ہوں اور پاکستان ہے محبت کرنے والا ہوں اس بیان سے دلی طور پر غمزدہ ہوں درخواست ہے کہ سخت قانونی کاروائی کی جائے اور بشریٰ بی بی کے طرف مقدمہ درج کیا جائے .

    بشریٰ بی بی کے خلاف لیہ میں بھی مقدمہ درج
    لیہ میں بھی بشری بی بی کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ تھانہ سٹی لیہ میں اشفاق سہیل کی مدعیت میں درج کیا گیا،مقدمہ بشری بی بی کے حالیہ سعودی حکومت کے حوالے سے بیان پر درج کیا گیا،درج مقدمے میں کہا گیا کہ بشری بی بی کا شریعت کے خاتمے کا بیان خارجہ پالیسی کے خلاف اور ملک کیخلاف سازش ہے،
    بشری بی بی کا بیان پاکستان اور سعودی عرب کے بیچ اعلی سطحی امور اور باہمی مفادات کے خلاف ہے،

    ملتان میں بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ قطب پور میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،گوجرانوالہ کے تھانہ صدر میں بھی بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،تھانہ صدر گوجرانوالہ میں محمد علی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے درج کیے گئے مقدمے کے مدعی کا کہنا ہے کہ ببشریٰ بی بی کا بیان سوچی سمجھی سازش ہے، جس سے جذبات مجروح ہوئے۔

    بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ سابق خاتون اول بشری بی بی کے خلاف بہاولنگر میں بھی ایف آئی آر درج کر لی گئی، بشری بی بی کے خلاف ایف آئی آر تھانہ سٹی بی ڈویژن میں درج کی گئی، ماڈل ٹاؤن کے رہائشی محمد آصف نامی شہری کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی ، ایف آئی آر 1885 کے ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کی گئی ،درج مقدمے میں کہا گیا کہ بشری بی بی کا بیان سوچی سمجھی سازش ہے،پاکستان اور سعودی عرب کی خارجہ پالیسی، اعلی سطحی امور باہمی مفاد عامہ کے خلاف ہے ،

  • سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے بشریٰ بی بی کے بیان کو پاکستان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق تونسہ شریف میں کچھی کینال منصوبے کی بحالی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہاکہ بطور وزیراعظم پاکستان میں اعلان کرتا ہوں کہ کوئی ایسا ہاتھ جو پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی میں رکاوٹ بنے گا، قوم اسے اپنے ہاتھوں سے توڑ دے گی۔ سعودی عرب پاکستان کا مربی دوست، بھائی اور برادر ملک ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، سعودی عرب نے بلاتفریق ہمیشہ پاکستان کے عوام اور حکومتوں کی ہر محاذ پر بھرپور مالی، سفارتی اور عالمی حمایت کی ہے۔ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ہر محاذ پر پاکستان کی وہ مدد کی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے اور بدلے میں کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا، جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کی مدد کرتا ہے سعودی عرب نے ویسے ہی ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی، وہ ملک جس نے کبھی پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور ہمیشہ پاکستان کے لیے اپنے دروازے کھولے۔سعودی بادشاہ اور فرمانروا شہزادہ سلمان جس طرح پاکستان کی مدد کررہے ہیں، ابھی دو تین دورے کرکے آیا ہوں، سعودی فرمانروا نے مجھے کہا کہ آپ منصوبے لے کر آئیں ہم انتظار کررہے ہیں‘۔ جس بھائی کا یہ شفیقانہ رویہ ہے اس کے خلاف زہر اگلا جائے تو وہ کیا کہیں گے کہ پاکستان کے عوام، حکومت اور سیاستدان کیسے ہیں کہ دل میں ہمارے لیے اچھے جذبات رکھنے کے بجائے ایسا زہر آلودہ بیان دے رہے ہیں اور معاشرے میں ایسا زہر گھول رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ اس فطرت کے لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کو اس بیان کا کتنا نقصان ہوگا۔

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی مقبول حکمران کو خطرہ باہر سے نہیں اندر سے ہوتا ہے، اسکے اپنے ہی سازش کرتے ہیں، ہمیشہ کوئی غدار اندر سے قلعے کا دروازہ کھولتا ہے اور قلعے کا دفاع پھر ممکن نہیں رہتا،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہی کچھ بشریٰ بی بی نے عمران خان کے ساتھ کیا،پنکی پیرنی نے جس طرح اپنے شوہر اور جماعت کا خود کش حملہ کیا، اسکے بعد دفاع کرنا کسی کے لئے ممکن نہ رہا، لفظ گولی سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں، زبان کا دیا گھاؤ کبھی نہیں بھرتا،پنکی پیرنی نے بے بنیاد الزام پر مبنی ویڈیو جاری کر کے عمران خان کو وہ زخم دیئے جو کبھی نہیں بھر سکتے، پنکی پیرنی کی ویڈیونے ثابت کر دیا کہ عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں تمام دوستوں کو ناراض کر دیا ،پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار بنا دیا، سرمایہ کاروں کو بھگایا،عمران خان اور پنکی پیرنی جب ارض مقدس اترے تھے تو انکے پاس خاورمانیکا اور انکے بچے بھی تھے،سرکاری وسائل پر اس غیر سرکاری دورے کے دوران کیا سعودی حکومت نے ان کو پروٹوکول نہیں دیا تھا، کیا خانہ کعبہ کا دروازہ نہیں کھولا گیا تھا، کیاانکی خدمت میں قیمتی نادار تحائف نہین پیش کیے گئے تھے، بشریٰ کی بیٹی کی شادی مسجد نبوی میں کرنے کی اجازت نہیں ملی تھی؟ اس دورے کے بعد کیا سعودی ولی عہد کی عمران خان پر عنایت کا سلسلہ بند ہو گیا تھا؟ اگر سعودی عرب نے ہی حکومت ختم کرنے کا کہا تھا تو پھر سائفر کیوں لہرایا،پی ٹی آئی کو اس کیوں کا جواب دینا پڑے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شیر افضل مروت نے بھی اس طرح کی بات کی تھی جس پر عمران خان نے شیر افضل کو معذرت کرنے کا کہا تھا اب وہی حرکت پیرنی نے کر دی جوعمران خان کی مرشد ہے، کس منہ سے باز پرس کرے گا ، پیرنی نے یہ ڈیجیٹل دہشت گردی کیوں کی ہے، اسکے نتائج کیا ہوں گے، میری چڑیل نے بتایا کہ پیرنی کو نئے چلے کے لئے خون چاہئے، بے گناہ انسانوں کا خون سڑکوں پر بہے گا،تو پنکی پیرنی کے مرید خاص عمران خان کو اڈیالہ سے رہائی مل سکتی ہے، اب مسئلہ یہ کی پی ٹی آئی کی لیڈر شپ باہر نکلنے کو تیار نہیں نہ ہی ورکر، جس امریکا کو اپنا دشمن کہا تھا اسی امریکہ کی منتیں کرنے کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کئے جا رہے، پھر جنرل عاصم منیر کے خلاف محاذ بنایا اور اب اسی سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے، کارکنان کو چارج کرنے کے لئے انہیں کسی نئے دشمن کی تلاش تھی جس پر وہ انکو باہر نکال سکیں اسی لئے بشریٰ نے یہ باتیں گھڑیں، وہ سعودی سرمایہ کاری بند کروانا چاہتی ہیں، انہیں اندیشہ ہے پاکستان معاشی بحران سے نکل جائے گا اور اڈیالہ کادروازہ بند ہو جائے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ نے پنکی پیرنی کے بیان کی تردید کر دی ہے، پی ٹی آئی والے بھی وضاحتیں دے رہے ہیں لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ بشریٰ کو روکیں، فائنل کال عمران خان سے واپس نہیں کروا سکے، اب دوسری چال چلی، انہی کی فرمائش پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم نما تجویز دی ہے تا کہ دونوں کوئی حل نکالیں،یہ بات نہ عمران خان کو قبول ہے نہ پنکی پیرنی کو،گنڈا پور کے گھر رہتے ہوئے اس پر بشریٰ اعتماد نہیں کر رہی، ہو سکتا ہے کہ دوبارہ گرفتار ہونے سےپہلے وہ گنڈا پور کو قربانی کا بکرا بنا دے، اس نے تین میسج کل مولانا فضل الرحمان کو کئے، اب مولانا فضل الرحمان چاہیں تو گنڈا پور کو قربانی کا بکرا بنایا جا سکتا ہے

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    بشریٰ بی بی کیا سالن بنانے کا طریقہ بتا رہی ہے؟ عظمیٰ بخاری

    مذاکرات سے معاملات حل ہو جائیں تو بہتر ہے،عمران خان کا گنڈاپور کو مشورہ

  • دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے،آرمی چیف

    دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنے آج پشاور کا دورہ کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ 19 نومبر 2024 کو ہونے والے نیشنل ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے تسلسل اور جلد منعقد ہونے والی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی تیاری کے سلسلے میں کیا گیا۔دورےکے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو علاقے کی موجودہ سیکورٹی صورتحال اور جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کی پیش رفت پر جامع بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور فیلڈ کمانڈرز بھی موجود تھے۔

    شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مادر وطن کے دفاع کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قربانیاں قومی استقامت کی بنیاد ہیں جو مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی اور غیر متزلزل عزم کا مظہر ہیں۔آرمی چیف نے جوانوں کے بلند حوصلے، عملی تیاری اور مختلف خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے غیر متزلزل عزم کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فوج دشمن دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے غیر قانونی عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف قوم اور سیکیورٹی فورسز کے اجتماعی عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مربوط اور مضبوط آپریشنز کے ذریعے پاک فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر امن کے دشمنوں کا پیچھا کرے گی تاکہ دیرپا استحکام اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔قبل ازیں پشاور آمد پر آرمی چیف کا استقبال کور کمانڈر پشاور نے کیا۔

  • سانحہ 9 مئی، اسلام آباد میں پہلا بڑا فیصلہ،10 ملزمان کو تین تین برس کی سزا

    سانحہ 9 مئی، اسلام آباد میں پہلا بڑا فیصلہ،10 ملزمان کو تین تین برس کی سزا

    9 مئی احتجاج ،اسلام آباد میں درج مقدمات میں سے پہلا بڑا فیصلہ آگیا ۔ 10 مظاہرین کے خلاف پہلا بڑا فیصلہ،ضمانت پر رہا ہونے والے دس ملزمان گرفتار،تین تین سال قید کی سزا سنا دی گئی،ملزمان کے خلاف نو مئی 2023 پی ٹی آئی احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا گیا تھا.

    نو مئی احتجاج پر درج اسلام آباد کے مقدمات میں سے پہلے مقدمے کا فیصلہ آگیا۔پی ٹی آئی کارکنان میں دس ملزمان کو تین تین سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ملزمان کے خلاف 10 مئی 2023 کو پی ٹی آئی احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا گیا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ملزمان کو دہشت گردی کی دفعہ میں بری کر دیا گیا، کار سرکار میں مداخلت و دیگر دفعات میں سزائیں سنا دی گئیں۔ملزمان کے خلاف تھانہ آئی نائن پولیس نے 2023 میں فیض آباد کے مقام پر احتجاج کے دوران مقدمہ درج کیا تھا۔مقدمہ میں دس پولیس کے گواہان نے شہادتیں قلمبند کرائیں تھیں۔ملزمان کے خلاف دہشت گردی، توڑ پھوڑ، دھاوا بولنا، پولیس کے ساتھ لڑائی جھگڑا و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    قبل ازیں رواں برس ماہ مارچ میں نو مئی جلاؤ گھیراؤ کیس کا پہلا فیصلہ آ یا تھا جس میں 51 ملزمان کو سزا سنائی گئی تھی،سزا پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی عدالت نے سنائی، گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو گوجرانوالہ کینٹ میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں ملزمان کو سزا سنادی،عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 51 ملزمان کو پانچ پانچ برس قید کی سزا سنائی، انسداد دہشت گردی عدالت کی جج نتاشا نسیم سپرا نے مقدمے کا فیصلہ سنایا،

  • بنوں،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3 خارجی جہنم واصل،دو زخمی

    بنوں،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3 خارجی جہنم واصل،دو زخمی

    بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 3 خوارج جہنم واصل اور 2 زخمی ہو گئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا ، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں 3 خوارج ہلاک اور 2 زخمی ہوئے ہیں،یکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کا مؤثر انداز میں پتہ لگایا اور کارروائی کی،جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کرلیا گیا ہے، ہلاک خوارج سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے، علاقےمیں پائے جانے والے کسی اور خارجی کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نےبنوں میں خوارج کے خلاف کامیاب کاروائی پر سیکورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے، صدر مملکت نےکارروائی کے دوران 3 خوارج جہنم واصل، 2 زخمی کرنے پر سیکورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا۔صدر مملکت نےفتنۃ الخوارج کے خاتمے تک سیکورٹی فورسز کی جانب سے کاروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا.

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنوں میں کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انسانیت کے ان دشمنوں کے مذموم عزائم کو اس طرح خاک میں ملاتے رہیں گے۔ حکومت ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحرک ہے،مکمل خاتمے تک دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری