Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • توشہ خانہ میں ضمانت، عمران خان نئے کیس میں گرفتار

    توشہ خانہ میں ضمانت، عمران خان نئے کیس میں گرفتار

    اسلام آباد: توشہ خانہ 2 میں ضمانت کے بعد نئی گرفتاری ڈال دی گئی۔

    باغی ٹی وی : عمران خان کو تھانہ نیوٹاؤن راولپنڈی کے مقدمہ میں گرفتار کر لیا ہے مقدمہ جلاؤ گھیراؤ، پتھراؤ، پولیس سے مزاحمت، سرکاری املاک کی نقصان رسانی سمیت دیگر واقعات پر درج کیا گیا،مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات 7ATA, 21-I ATA اور 353, 186, 285,286,148, 149, 427, 109, 188 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کیا گیا ہے،عمران خان کے خلاف تھانا نیو ٹاون میں مقدمہ 28 ستمبر کو درج کیا گیا تھا۔

    ایس ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم عمران خان سے تفتیش کر رہی ہے،عمران خان کو کل جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لئے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس ٹو میں بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کرلی اور انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے،ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو 10، 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی انہیں ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔

  • عمران خان کی آج یا کل رہائی، اصل کہانی کیا؟

    عمران خان کی آج یا کل رہائی، اصل کہانی کیا؟

    سینئر صحافی و اینکر ٔپرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دو بڑی اہم خبریں آج آئی ہیں،ایک ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو میں عمران خان کی ضمانت منظور کر لی، اس پر بہت لوگ مبارکبادیں دے رہے ہیں، قبل از وقت ہی، انکا خیال ہے آج نہیں تو کل عمران خان رہا ہو کر آ جائیں گے، میں نے کہا بتا دوں، یہ تکلیف دہ رات ہے، کچھ بھی ایسا نہیں ہونے والا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری خبر یہ کہ مفتی راغب نعیمی نے یوٹرن لے لیا اور قلا بازی کھا کر دوسری طرف بیٹھ گئے اور بڑی بے فکری سے آ کر انہوں نے علامہ طاہر اشرفی سے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ یہ ٹائپنگ کی غلطی ہے، عمران خان جیل سےباہر نہیں آ رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ توشہ خانہ میں ایک کیس کے ساتھ ضمانت اور وہ بھی شرط پر ہوئی ہے، عدالت نے کہا کہ اس کی‌میں رہائی کا حکم ہے، باقی کیسز پر نہیں، عدالت نے ملزم عمران خان کو پابند کیا ہے، کہ اگر وہ تحقیقات میں تعاون نہیں کرتا تو ضمانت منسوخ ہو جائے گی، عمران خان کے اوپر 12 اہم کیسز ہیں جن میں سے نومئی کے کیسز بھی ہیں،توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، ملک دشمن کاروائیوں کے کیس ہیں، ان میں کسی کیس میں عمران خان کی ضمانت نہیں ہوئی، یہ بھول جائیں کہ عمران خان کل باہر آ رہے ہیں،ویوز لینے کے لئے جھوٹ بولا جا رہا،آج کی تاریخ میں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جو ریلیف دیا یہ عارضی اور مشروط ہے،اگلے دو تین دن میں کوئی رہائی نہیں ہو رہی، لوگوں کو غلط انفارمیشن دی جا رہی پھر لوگ اسی طرح یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مفتی راغب نعیمی نے یوٹرن لیا اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا فتوی نہیں تھا، ٹائپنگ کی غلطی تھی، اس سے بڑا جھوٹ کیا ہو سکتا ہے ،علما حکومت وقت کے فیور میں کچھ کرنا شروع ہو جاتے ہیں تو سوچیں وہ اللہ سے زیادہ کس سے ڈر کر رہے ہیں، مفتی راغب نعیمی پہلے اللہ سے معافی مانگتے اور پھر عوام سے، اس فتوے کے بعد راغب نعیمی کئی پروگرام میں بیٹھ چکے اور اس فتوے کی تصدیق بھی کر چکے ہیں،پہلے دن سے میں کہہ رہا ہوں،جس دن فتویٰ آیا تھا اس دن مولانا طارق جمیل پروگرام میں تھے تو ان سے سوال کیا تھا کہ اگر کوئی آدمی گھٹیا مواد پرنٹ کرتا ہے تو کیا اس پرنٹنگ پریس کو بھی غیر شرعی قرار دے دیا جائے گا، پرنٹ کرنے والا برا ہے، پرنٹنگ پریس تو نہیں، اسکو تو حرام نہیں قرار دیا جا سکتا، یہی وہ چیزیں ہیں جو ہمارے لوگوں میں دین میں اتنی مشکل پیدا کر دی ہے، ہمارے مسلکی اختلافات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ فتوے سن لیں، اللہ تعالیٰ رحم کرے اور ایسے لوگوں سے بچائے، اگر انہوں نے حدیث پڑھی تو پہلی حدیث دیکھ لیں، جب مسلمان سنی سنائی بات آگے بڑھاتا ہے تو وہ اسکے منافق ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے، مفتی صاحب آپکو یہ ٹائپنگ کی غلطی چھ دن بعد یاد آئی، چھ دن تو اس پر آپ اپنے مؤقف پر رہے، پہلے آپ نے میرے پروگرام میں آنا تھا لیکن پھر آپ نے معذرت کر لی، آپ نے کہا تھا ساڑھے آٹھ بجے تک آ جاؤں گا،حافظ طاہر اشرفی نے ایک دن پہلے کنفرم کیاہوا تھا کہ میں آ رہا ہوں آپکے پروگرام میں پھر وہ بھی نہیں آئے،ان کو پتہ تھا کہ میں نے ان سے کیا پوچھنا ہے، ہم نے بتایا ہوا تھا،انکو اندھیرے میں نہیں رکھا ہوا تھا، جب آپ ان کو دینی تعلیم کے ساتھ انکے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو پھر یہ آئیں ، بائیں، شائیں، میرے ہی چینل میں دو پروگراموں میں مفتی راغب نعیمی آ کر بیٹھ گئے لیکن کھرا سچ میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی.

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • آرمی چیف کا ”آئیڈیاز 2024“ کا دورہ

    آرمی چیف کا ”آئیڈیاز 2024“ کا دورہ

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنے کراچی ایکسپو سینٹر میں بین الاقوامی دفاعی نمائش اور سیمینار کا دورہ کیا۔

    دورے کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دوست ممالک کے دفاعی مینوفیکچررز کی فعال شرکت کو سراہا۔نمائش میں کل 557 نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں جن میں سے 333 بین الاقوامی نمائش کنندگان ہیں جبکہ 224 ملکی نمائش کنندگان ہیں۔ 36 ممالک نے نمائش کنندگان کے اسٹالز لگائے جن میں سے 17 ممالک پہلی بار شرکت کر رہے ہیں۔تقریب میں 53 ممالک کے 300 سے زائد غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی اور نمائش اور پاکستان کی دفاعی صنعت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

    نمائش کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے تقریب میں موجود غیر ملکی فوجی حکام اور دفاعی مندوبین کے ساتھ بامعنی بات چیت بھی کی،نمائش میں پاکستان کی طرف سے تیار کردہ جدید ترین ڈرون ”شاہپر تھری“ کی خاص نمائش کی گئی، یہ ڈرون 35,000 فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے اور 24 گھنٹے تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے۔ شاہپر تھری بموں، میزائلوں اور ٹارپیڈو جیسے گولہ بارود کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    آئیڈیاز 2024 کا 12 واں ایڈیشن 19 نومبر کو شروع ہوا اور 22 نومبر 2024 کو اختتام پذیر ہوگا۔قبل ازیں آرمی چیف کی کراچی آمد پر کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے پرتپاک استقبال کیا۔

    مایوسی پھیلانے اور ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے آج کدھر ہیں؟ کیاان کو جواب دہ نہیں ٹھہرانا چاہیے؟آرمی چیف
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شہر قائد کراچی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مایوسی پھیلانے اور ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے لوگ آج کدھر ہیں؟ کیاان کو جواب دہ نہیں ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل پر کامل یقین ہے، ایک سال پہلے چھائے ہُوئے مایوسی کے بادل آج چھٹ چکے ہیں،میں نے گزشتہ نشست میں بھی کہا تھا کہ "مایوسی مسلمان کے لیے حرام ہے”،آج پاکستان کی معیشیت کے تمام اعشاریے مثبت ہیں، اگلے برس تک انشاء اللہ مزید بہتر ہوں گے،کوئی چیز بشمول سیاست ملک سے مقدم نہیں، ہم سب کو ذاتی مفاد پر پاکستان کو ترجیح دینی چاہیے، ریاست ماں کی طرح ہے اور اس کی قدر لیبیا، عراق اور فلسطین کے عوام سے پوچھنی چائیے،یاد رکھیں ! پاکستان کے علاوہ ہماری کوئی شناخت نہیں ہے، جتنی بھی مشکلات ہوں اگر ہم سب مل کر کھڑے ہو جائیں تو کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا، آپ اپنا پیسہ لے کر پاکستان آئیں، عوام بھی کمائے اور ملک بھی ترقی کرے،دہشت گردی کی پشت پناہی غیر قانونی کاروبار والے کرتے ہیں جن کے پیچھے مخصوص عناصر ہوتے ہیں، پاکستان کی ڈیجیٹل سرحدوں کی حفاظت اور عوام کی ڈیجیٹل سیکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے،

  • دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فوج کی قربانیاں اور حکومتی ناکامیاں

    دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فوج کی قربانیاں اور حکومتی ناکامیاں

    پاکستان فوج دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہی ہے، جہاں فتنہ الخوارج اور بلوچ دہشت گردوں جیسے خطرات پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں حکومتی ناکامیاں اس مشن میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے بہادر سپاہی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، لیکن بدعنوانیوں، اسمگلنگ اور منشیات کی غیر قانونی تجارت جیسے مسائل نے دہشت گردی کے خلاف پیش رفت کو کمزور کر دیا ہے۔ تحریک طالبان اور بیرونی دشمن عناصر کی پشت پناہی ان دہشت گردوں کے حوصلے بڑھا رہی ہے۔

    دوسری طرف، سیاسی میدان میں انتشار نے قوم کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بار بار احتجاجی کالز اور 24 نومبر کی احتجاجی مہم سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں، جبکہ فوج اپنے 60 سے زائد جوانوں کی قربانی دے چکی ہے جو کہ ایک مختصر مدت میں ایک بڑا نقصان ہے۔دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری قوم کا اجتماعی فریضہ ہے۔ حکومتی کمزوریوں کو دور کرنا، اداروں کو متحد کرنا، اور اس فتنے کے خلاف ایک مشترکہ محاذ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان موجودہ چیلنجز کے پیش نظر مزید تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی صفوں کو مضبوط کرتے ہوئے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

    عدلیہ کی توجہ سیاسی مقدمات پر،دہشتگردوں کو سزائیں کون دے گا؟
    پاکستان میں گورننس کی صورت حال اس وقت ایک سنگین بحران کا شکار ہے۔ عدلیہ کی موجودہ فعالیت پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جہاں ایک سیاسی جماعت کے کیسز نمٹانے میں زیادہ وقت صرف کیا جا رہا ہے، جب کہ ملک میں دیگر اہم مسائل، خصوصاً دہشت گردی اور سیکیورٹی کی صورتحال پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عدلیہ کا کردار انتہائی اہم ہے، مگر جب قومی سلامتی اور امن و امان کا مسئلہ درپیش ہو، تو عدلیہ کو صرف سیاست کے کیسز تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

    دہشت گردی کے خاتمے کا حل تیز تر انصاف، فوجی عدالتیں
    دوسری جانب، دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ دس دنوں میں تقریباً 60 جوانوں کی شہادت نے نہ صرف ان خاندانوں کی زندگیوں کو تباہ کیا ہے بلکہ یہ ایک علامت بن چکی ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہیں۔ 60 لاشیں اور 60 برباد خاندان ایک سنگین حقیقت ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی لہر کس قدر شدت اختیار کر چکی ہے۔ ان تمام معاملات میں فوج تنہا ہے۔ فوج کے جوان اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں، لیکن ان کے سامنے اس وقت ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ ملک میں فوجی عدالتیں نہیں ہیں، جو دہشت گردوں کو تیزی سے سزا دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے دہشت گردوں کی جرات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ عدلیہ ان معاملات میں فیصلہ کرنے سے ڈرتی ہے۔ جب تک عدلیہ اور حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، دہشت گردی کی لہر میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔

    یہ صورتحال ایک چیلنج ہے جس کا حل صرف عدلیہ یا پولیس کے ذریعے نہیں نکالا جا سکتا۔ حکومت، عدلیہ، اور سیکیورٹی اداروں کو مل کر اس بحران کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم گورننس کی بہتری، عدلیہ کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی پر توجہ نہ دیں تو یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے، اور ملک کے استحکام کے لئے یہ سنگین خطرہ بن سکتے ہیں

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    اڈیالہ جیل میں قیدسابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظور کر لی ہےتاہم عمران خان کی رہائی نہیں ہو گی وہ جیل میں ہی رہیں گے، عمران خان پر نومئی کے مقدمات ہیں، پنجاب اور اسلام آباد میں درج کچھ مقدمات میں عمران خان کی ضمانت نہیں ہوئی، تو وہیں عمران خان کو آج ملنے والا ریلیف عارضی ہے

    قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان کو توشہ خانہ ٹو کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت کا ریلیف صرف تکنیکی بنیادوں پر حاصل ہوا ہے۔ عمران خان اب بھی توشہ خانہ سے چیزیں لینے میں قصوروار ہیں، اور دورانِ ٹرائل ان پر فردِ جرم عائد ہونے کا امکان موجود ہے۔عدالت میں ان پر کیس چل رہا ہے، بشریٰ بی بی بھی اس کیس میں ضمانت پر ہیں اور آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے پرا سکیوٹر کو کہا کہ اگر بشریٰ بی بی کیس میں پیش نہیں ہو رہیں تو ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر دی

    اس سے پہلے بھی توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم کردیا تھا۔ موجودہ ضمانت کا سبب نیب وکلا کی جانب سے کیس کو موثر انداز میں نہ لڑنا بتایا جارہا ہے،عمران خان کو اس کیس میں ضمانت تو مل گئی تا ہم عمران خان صادق اور امین نہیں قرار پائے، عمران خان کا توشہ خانہ کیس کا ٹرائل چل رہا ہے اور عدالت نے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا ہے۔ عمران خان کے ضمانت ملنے کے فیصلے پر مٹھائی بانٹنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ عمران خان کو عارضی ریلیف ملا ہے، عمران خان کے لیے قانونی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں، اسی کیس میں عمران خان کو سزا بھی مل سکتی ہے

    عمران خان کے خلاف لاہور میں درج 9 مئی کے 3 کیسز میں ضمانت خارج کی گئی تھی، عمران خان کی راولپنڈی 9 مئی کے 14 مقدمات میں ضمانت کے باوجود ضمانتی مچلکے جمع نہیں کروائے گئے۔عمران خان کے خلاف راولپنڈی میں 28 ستمبر اور 5 اکتوبر کو بھی دہشت گردی کے مقدمات درج ہیں۔

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکلا مسلسل تاخیر کے حربے استعمال کر رہے ہیں، قوی امکان ہے کہ جب فیصلہ آئے گا تو اس کیس میں عمران خان کو سزا ہو گی، کیونکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے قانون کی خلاف ورزی کی، ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروانے کی بجائے بیچ ڈالے،

  • توشہ خانہ ٹو کیس ،عمران خان کی ضمانت منظور

    توشہ خانہ ٹو کیس ،عمران خان کی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں رہا کرنے کا حکم دے دیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست ضمانت منظور کی،عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیے، عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،

    عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بشریٰ بی بی کے ٹرائل کورٹ میں پیش نہ ہو کر فردِ جرم موخر کرانے کا معاملہ اٹھا دیا ،ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر عمیر مجید نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں ملزمان کے کنڈکٹ کا معاملہ عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، بشریٰ بی بی کی اس عدالت نے ضمانت منظور کی تھی، بشریٰ بی بی ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہو رہیں جس کی وجہ سے فردِ جرم تاخیر کا شکار ہو رہی ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بشریٰ بی بی پیش نہیں ہو رہیں اور فردِ جرم تاخیر کا شکار کر رہی ہیں تو ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کریں، ایف آئی اے پراسکیوٹر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اس پر نوٹس جاری کر رکھا ہے،

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نےجیولری کا تخمینہ لگانے والے پرائیویٹ شخص صہیب عباسی کا بیان پڑھا کہ اُس پر پریشر ڈال کر جیولری سیٹ کی قیمت کم لگوائی گئی تو جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سوال پوچھ لیا کہ صہیب عباسی نے تو جیولری سیٹ دیکھا تھا کیا اُس نے بعد میں جیولری سیٹ کی کوئی قیمت بتائی کہ یہ اندازاً کتنے کا ہونا چاہیے؟ وہ نہیں کہتا کہ اسکی قیمت تقریباً اتنی ہونی چاہیے لیکن مجھ پر پریشر ڈال کر کم قیمت لگوائی گئی؟

    دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انعام اللہ شاہ نے عمران خان سے منسوب کر کے دھمکی والی بات خود کر دی ہو گی، اُس نے صہیب عباسی کو خود کہہ دیا ہو گا کہ اگر ایسا نہ کیا تو تمہیں سرکاری کنٹریکٹس کیلئے بلیک لسٹ کر دینگے، ایسا ہو سکتا ہے کہ اُس نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بن کر یہ کہہ دیا ہو،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ جن تین کسٹمز افسران نے قیمت غلط لگائی اُن سے متعلق کیا کارروائی ہوئی؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ کسٹمز افسران سے کوتاہی ہوئی لیکن وہ کرمنل مس کنڈکٹ نہیں تھا، نیب کی جانب سے اُن افسران کے خلاف کوئی محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ چلیں کہہ دیتے ہیں کہ وہ بہت اچھے لوگ ہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ میری رائے کے مطابق یہ سارا کیس تخمینہ لگانے والے پرائیوٹ شخص کی شہادت پر ہے، شہادت کا معاملہ پراسیکیوٹنگ ایجنسی کو ثابت کرنا ہوتا ہے، میں عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کر رہا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کو دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،

    اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے اس توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ہے نیب ، ایف آئی اے ، پولیس ، الیکشن کمیشن نے بھی توشہ خانہ کیس کیا ہے پولیس نے بھی توشہ خانہ جعلی رسید کا کیس بنایا ہوا ہے ،اب ایف آئی اے یہ کیس چلا رہی ہے، میری خواہش ہے کہ عدالت کو کسی فیصلے میں Political Victimization سے متعلق آبزرویشنز دینی چاہئیں، الزام ہے بانی پی ٹی آئی نے ذاتی مفاد کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ، اس چالان میں یہ واضح نہیں مرکزی ملزم کون ہے؟ دو ملزمان ہیں اس میں دفعہ 109 میں کس کا کردار ہے کوئی واضح نہیں ، توشہ خانہ نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی کو 14 سال سزا ہوئی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اسلام آباد پولیس نے کیا مقدمہ بنایا ہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ تھانہ کوہسار پولیس نے جعلی رسیدوں کا مقدمہ بنایا ہے، توشہ خانہ پالیسی کے مطابق تحائف لئے گئے ہیں، اس وقت ان تحائف کی جو مالیت تھی پالیسی کے مطابق ادا کرکے لیا ہے،اس مقدمے کا اندراج ساڑھے تین برس سے زائد تاخیر سے کیا گیا، کوئی جرم نہیں ہوا،جس کیس میں جرم واضح نہ ہو تو کیس مزید انکوائری اور ضمانت کا ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، سلمان صفدر نے کہا کہ میں کچھ چیزوں کو تحریری جمع کروادونگا ، دوران سماعت سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں کہا کہ صہیب عباسی کہتا ہے مجھے بانی پی ٹی آئی نے تھریٹ کیا ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی تو ملاقات ہی صہیب عباسی سے کبھی نہیں ہوئی ،انعام اللہ جس کو گواہ ایف آئی اے نے بنایا ہے اس سے متعلق صہیب عباسی کہہ رہا ہے اس کی ملاقات ہوئی ،کسٹم کے تینوں افسران نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم پر پریشر نہیں تھا،اگر پریشر نہیں تھا تو انہوں نے پھر صحیح قیمت کیوں نہیں لگائی ،صہیب عباسی ایک شخص آتا ہے وہ اپنا بیان بھی قسطوں میں دیتا ہے ،گراف جیولری لسٹ پر الگ اب بلغاری سیٹ پر الگ بیان دیا ہے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے پی ٹی آئی حکومت کی توشہ تفصیلات خفیہ رکھنے کی پالیسی پراہم ریمارکس سامنے آئے ہیں،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت توشہ خانہ کی تفصیلات نہیں بتاتی تھی، ہم پوچھتے تھے تو توشہ خانہ کی تفصیلات چھپائی جاتی تھیں، ہائیکورٹ میں گزشتہ حکومت آرہی تھی کہ توشہ خانہ کا کسی کو پتہ نہیں ہونا چاہیے

    ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکوٹر عمیر مجید ملک نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا، ایف آئی اے پراسکییوٹر نے کیس سے متعلق دستاویزات عدالت میں پڑھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے گواہوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 18 ستمبر کو گواھوں کو نوٹس کیا تھا ، گواہ آئے تھے انہوں نے (پہلے سے نیب کو دئیے)بیانات کی تصدیق کی ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے خود گواھوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ ایف آئی اے تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 19 ستمبر کو میں نے پڑھے تھے ،بلغاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کرایا گیا، ریاست کے تحفے کی کم قیمت لگوا کر ریاست کو نقصان پہنچایا گیا، عمران خان اور اُنکی بیوی دونوں نے فائدہ اٹھایا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو کیسے فائدہ ہوا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب بیوی کو فائدہ ملا تو شوہر کا بھی فائدہ ہوا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ او پلیز، میری بیوی کی چیزیں میری نہیں ہیں،ہم پتہ نہیں کس دنیا میں ہیں ،

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

  • بنوں، خوارج کا چیک پوسٹ پر حملہ،12 جوان شہید

    بنوں، خوارج کا چیک پوسٹ پر حملہ،12 جوان شہید

    بنوں میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے خود کش حملہ کیا، جس کے دوران 12 اہلکار شہید ہو گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، بنوں کے ایک علاقے میں خوارج نے سکیورٹی فورسز کی مشترکہ چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 6 خوارج مارے گئے، جبکہ ان کی جانب سے کیے گئے خودکش حملے میں سکیورٹی فورسز کے 12 اہلکار شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں 10 سکیورٹی اہلکار اور 2 فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار شامل ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے خوارج کے حملے کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور مزاحمت کی اور ان کی چیک پوسٹ میں داخل ہونے کی کوشش کو کامیابی سے روک دیا۔ تاہم، خوارج نے اپنی ناکامی کے بعد بارود سے بھری ہوئی گاڑی کو چیک پوسٹ کی دیوار سے ٹکرا دیا۔خودکش دھماکے کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی دیوار کا ایک حصہ گر گیا اور قریبی انفرااسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس سے 12 شہادتیں ہوئیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف عزم مزید مضبوط کرتی ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے پرعزم ہیں،دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا،امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    بنوں حملے میں شہدا کی تفصیلات سامنے آ گئیں
    صوبیدار عمران احمد فاروقی شہید کا تعلق ضلع گوجرانوالہ سے ہے،صوبیدار عمران احمد فاروقی شہید کی عمر 44 سال ہے،شہید نے 25 سال پاک فوج میں رہتے ہوئے دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دیا،شہید نے سوگواران میں اہلیہ، بیٹا اور بیٹی چھوڑی ہیں۔
    29 سالہ حوالدار محمد جاوید اقبال شہید کا تعلق ضلع سرگودھا سے ہے،حوالدار محمد جاوید اقبال نے 14 سال پاک فوج میں رہتے ہوئے دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دیا،شہید کے سوگواران میں اہلیہ ، چار بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
    34 سالہ نائیک طہماس احمد شہید کا تعلق ضلع ایبٹ آباد سے ہے، نائیک طہماس احمد شہید نے 15 سال پاک فوج میں گزارے، نائیک طہماس احمد شہید کے سوگواران میں والدین، اہلیہ اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
    39 سالہ نائیک باسط فرید شہید کا تعلق ضلع ہری پور سے ہے،نائیک باسط فریدشہید نے 17 سال تک دفاع وطن کا مقدس فریضہ سرانجام دیا،شہید کے سوگواران میں والد، اہلیہ اور بیٹا شامل ہیں۔
    33 سالہ سپاہی صفدر علی شہید کا تعلق ضلع بارکھان سے ہے،سپاہی صفدر علی شہید نے 13 سال پاک فوج میں گزارے،سپاہی صفدر علی شہید کے سوگواران میں اہلیہ ، بیٹا اور بیٹی شامل ہیں۔
    32 سالہ سپاہی اسد بشیرشہید کا تعلق ضلع کوہلو سے ہے،سپاہی اسد بشیر شہید نے 13 سال تک وطن عزیز کا دفاع کیا،شہید کے سوگواران میں والدین اور اہلیہ شامل ہیں۔
    38 سالہ سپاہی اعجاز حسین شہید کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان سے ہے،سپاہی اعجاز حسین شہید نے 13 سال پاک فوج میں گزارے،شہید کے سوگواران میں اہلیہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔
    23 سالہ سپاہی عاطف خان شہید کا تعلق ضلع میانوالی سے ہے،سپاہی عاطف خان شہید نے ایک سال پاک فوج میں گزارا،سپاہی عاطف خان شہید کے سوگواران میں والدین شامل ہیں۔
    30 سالہ سپاہی امان اللہ شہید کا تعلق ضلع کرک سے ہے،سپاہی امان اللہ شہید نے 8 سال تک وطن عزیز کا دفاع کیا،سپاہی امان اللہ شہید کے سوگواران میں اہلیہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
    22 سالہ سپاہی شاہ زمان شہید کا تعلق ضلع لوئر دیر سے ہے،سپاہی شاہ زمان شہید نے پاک فوج میں ایک سال گزارا۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے بنوں میں خوارج دہشتگردوں کے حملے میں 12 جوانوں کی شہادت پر اِظہار افسوس کیا ہے،صدر مملکت نےدفاع وطن میں جان کا نذرانہ پیش کرنے پر پاک فوج کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا ، صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پوری قوم مادر وطن کی سلامتی کیلئے جامِ شہادت نوش کرنے والوں کو سلام پیش کرتی ہے، صدر مملکت نےدہشتگردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا، صدر مملکت نےدہشتگردی کے واقعے میں شہادت پانے والے جوانوں کیلئے بلندی درجات کی دعا کی،صدر مملکت نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اِظہار افسوس کیا اور صبر جمیل کی دعا کی،

    فتنہ الخوارج کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنوں میں سیکیورٹی فورسز اورایف سی اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والے فتنہ الخوارج کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ملک سے دہشتگردی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بنوں کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر خوارجی دہشتگردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جام شہادت نوش کرنے والے 12 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہید جوانوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے، محسن نقوی نے کہا کہ وطن کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔وطن کے امن کی خاطر جانیں نچھاور کرنے والے پاک فوج کے جوان قوم کے ہیرو ہیں،شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ نبھائیں گے۔

    سینئر مرکزی رہنما مسلم لیگ ن چوہدری نعیم کریم کا کہناہے ، بنوں مالی خیل میں چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کی حملے کی کوشش ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، 12 جوانوں کی شہادت پر قوم کو فخر ہے، سکیورٹی فورسز کی شہادت ملک و قوم کی حفاظت کی ضامن ہے، فائرنگ کے تبادلے میں 6 خوارج بھی ہلاک ہوگئے، قوم دہشتگردوں کیساتھ مقابلے میں سکیورٹی فورسز کیساتھ صف اول میں موجود ہے، پاکستان زندہ باد

  • ہم صدر، وزیراعظم، اسپیکر اور اسمبلی ممبران سب کو نکال دیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

    ہم صدر، وزیراعظم، اسپیکر اور اسمبلی ممبران سب کو نکال دیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نےکام نہ کرنے والے سرکاری عہدیداران کو برطرف کرنے سے متعلق درخواست خارج کردی۔

    آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے فارغ رہنے اور کام نہ کرنے والے سرکاری عہدیداران کو برطرف کرنے سے متعلق درخواست پرسماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے درخواست گزار سے کہا کہ آپ کی درخواست میں استدعا ہےتمام سرکاری ملازمین کام نہیں کرتے فارغ کیا جائے، آپ ان سرکاری افسران کی نشاندہی کریں اور متعلقہ اداروں سے رجوع کریں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست میں کسی سرکاری افسر کا ذکر نہیں کیا،جسٹس جمال مندوخیل نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ آپ کا کون سا کام نہیں ہوا؟عدالت کو آگاہ تو کریں، کیا مطلب ہے؟ ہم صدر، وزیراعظم، اسپیکر اور اسمبلی ممبران سب کو نکال دیں؟ آئینی بینچ نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔

    کوئی کہتا ہے کہ ہماری عدلیہ کا نمبر 120 واں ،کوئی کہتا 150 واں ، معلوم نہیں ایسے نمبر کہاں سے آتے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل
    علاوہ ازیں آئینی بینچ نے سائلین کو سپریم کورٹ تک رسائی نہ ملنے سے متعلق درخواست بھی خارج کر دی ،درخواست گزار نے کہا کہ 90 فیصد سائلین کو سپریم کورٹ تک رسائی نہیں ملتی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم آپ کے دلائل براہِ راست سن رہے ہیں، اس سے زیادہ کیا رسائی چاہیے؟ آپ تو اپنے ہی ادارے کو برباد کر رہے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ ہماری عدلیہ کا نمبر 120 واں ہے اور کوئی کہتا ہے 150 واں ہے، معلوم نہیں ایسے نمبر کہاں سے آتے ہیں؟

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

  • میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب

    میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر عمیر مجید ملک پیش نہ ہو سکے تھے ، وکیل سلمان صفدر اور پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے، عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی عدالت پہنچ گئیں،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو ضمانت کیس،عدالت جو بھی فیصلہ کرے لیکن میڈیا میں پہلے سے ہے کہ ضمانت منظور ہو جائے گی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو چھوڑ دیں، اُن سے خود کو مستثنیٰ کر لیں،میڈیا میں کہا جاتا ہے کہ جان کر بیمار ہو گیا، جان کر نہیں آیا، میڈیا اگر سنسنی نہیں پھیلائے گا تو ان کا کاروبار کیسے ہوگا، جسٹس میاں گل حسن اونگزیب نے صحافیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب میں ان کا کیا کروں انکو کمرہ عدالت سے نکال دوں آپ چاہتے کیا ہیں،پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ہمیں بہت کالیں آئی ہیں کہ یہ کیا چل رہا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ میڈیا سے دور رہیں مجھے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جان بوجھ کر بیمار ہوئے،

    اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی تمام پراسیکوشن ایجنسیز نے اس توشہ خانہ کیس پر ہاتھ سیدھا کیا ہے نیب ، ایف آئی اے ، پولیس ، الیکشن کمیشن نے بھی توشہ خانہ کیس کیا ہے پولیس نے بھی توشہ خانہ جعلی رسید کا کیس بنایا ہوا ہے ،اب ایف آئی اے یہ کیس چلا رہی ہے، میری خواہش ہے کہ عدالت کو کسی فیصلے میں Political Victimization سے متعلق آبزرویشنز دینی چاہئیں، الزام ہے بانی پی ٹی آئی نے ذاتی مفاد کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ، اس چالان میں یہ واضح نہیں مرکزی ملزم کون ہے؟ دو ملزمان ہیں اس میں دفعہ 109 میں کس کا کردار ہے کوئی واضح نہیں ، توشہ خانہ نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی کو 14 سال سزا ہوئی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اسلام آباد پولیس نے کیا مقدمہ بنایا ہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ تھانہ کوہسار پولیس نے جعلی رسیدوں کا مقدمہ بنایا ہے، توشہ خانہ پالیسی کے مطابق تحائف لئے گئے ہیں، اس وقت ان تحائف کی جو مالیت تھی پالیسی کے مطابق ادا کرکے لیا ہے،اس مقدمے کا اندراج ساڑھے تین برس سے زائد تاخیر سے کیا گیا، کوئی جرم نہیں ہوا،جس کیس میں جرم واضح نہ ہو تو کیس مزید انکوائری اور ضمانت کا ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، سلمان صفدر نے کہا کہ میں کچھ چیزوں کو تحریری جمع کروادونگا ، دوران سماعت سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں کہا کہ صہیب عباسی کہتا ہے مجھے بانی پی ٹی آئی نے تھریٹ کیا ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی تو ملاقات ہی صہیب عباسی سے کبھی نہیں ہوئی ،انعام اللہ جس کو گواہ ایف آئی اے نے بنایا ہے اس سے متعلق صہیب عباسی کہہ رہا ہے اس کی ملاقات ہوئی ،کسٹم کے تینوں افسران نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم پر پریشر نہیں تھا،اگر پریشر نہیں تھا تو انہوں نے پھر صحیح قیمت کیوں نہیں لگائی ،صہیب عباسی ایک شخص آتا ہے وہ اپنا بیان بھی قسطوں میں دیتا ہے ،گراف جیولری لسٹ پر الگ اب بلغاری سیٹ پر الگ بیان دیا ہے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے پی ٹی آئی حکومت کی توشہ تفصیلات خفیہ رکھنے کی پالیسی پراہم ریمارکس سامنے آئے ہیں،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت توشہ خانہ کی تفصیلات نہیں بتاتی تھی، ہم پوچھتے تھے تو توشہ خانہ کی تفصیلات چھپائی جاتی تھیں، ہائیکورٹ میں گزشتہ حکومت آرہی تھی کہ توشہ خانہ کا کسی کو پتہ نہیں ہونا چاہیے

    ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکوٹر عمیر مجید ملک نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا، ایف آئی اے پراسکییوٹر نے کیس سے متعلق دستاویزات عدالت میں پڑھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے گواہوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 18 ستمبر کو گواھوں کو نوٹس کیا تھا ، گواہ آئے تھے انہوں نے (پہلے سے نیب کو دئیے)بیانات کی تصدیق کی ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے خود گواھوں کے بیانات پڑھے ہیں ؟ ایف آئی اے تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 19 ستمبر کو میں نے پڑھے تھے ،بلغاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کرایا گیا، ریاست کے تحفے کی کم قیمت لگوا کر ریاست کو نقصان پہنچایا گیا، عمران خان اور اُنکی بیوی دونوں نے فائدہ اٹھایا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو کیسے فائدہ ہوا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب بیوی کو فائدہ ملا تو شوہر کا بھی فائدہ ہوا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ او پلیز، میری بیوی کی چیزیں میری نہیں ہیں،ہم پتہ نہیں کس دنیا میں ہیں ،

    توشہ خانہ ٹو کیس بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت میں وقفہ کر دیا گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ڈویژن بنچ کی سماعت کے بعد کیس رکھ لیتے ہیں ،

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے،آرمی چیف

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے،آرمی چیف

    اسلام آباد: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں نیشنل ایکشن پلان پر ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا،اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی سمیت انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے،اجلاس کا مرکزی ایجنڈا پاکستان کی انسداد دہشت گردی (CT) مہم کو دوبارہ فعال کرنا تھا۔ شرکاء کو ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا اور کمیٹی کو خیبر پختونخوا، بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،کمیٹی نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سکیورٹی فورسزکےآپریشنزپر اطمینان کا اظہار کیا،نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی نے بلوچستان میں دہشتگرد تنظیموں کےخلاف جامع فوجی آپریشن کی منظوری دے دی۔

    اجلاس میں طے کیا گیا کہ مذہبی انتہا پسندی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جرائم اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے دشمن قوتوں کی طرف سے پھیلائی گئی گمراہ کن مہمات کا سدباب کیا جائے گا، ان چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ایک متحد سیاسی آواز اور قومی بیانیہ ضروری ہے۔

    سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے اور مکمل قومی ہم آہنگی کو انسداد دہشت گردی مہم کی کامیابی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا، اجلاس میں نیکٹا (NACTA) کو دوبارہ فعال کرنے اور قومی و صوبائی سطح پر انٹیلی جنس فیوژن اور تھریٹ اسسمنٹ سینٹرز کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔

    اجلاس میں ایک جامع حکمت عملی اپنائی گئی جس میں سفارتی، سیاسی، معلوماتی، انٹیلی جنس، سماجی و اقتصادی اور عسکری کوششوں کو شامل کیا گیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے اضلاع کی سطح پر کوآرڈی نیشن کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اپیکس کمیٹی کے مطابق اجلاس میں بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں، بشمول مجید بریگیڈ، بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر اے ایس کے خلاف ایک جامع فوجی آپریشن کی منظوری دی گئی۔ ان تنظیموں پر الزام ہے کہ وہ معصوم شہریوں اور غیر ملکیوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی اجلاس سے خطاب میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان کی سلامتی کو لاحق ہر خطرے کو ختم کرنے کے لیے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور حکومت کی جانب سے امن و استحکام کے اقدامات کو بھرپور حمایت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، اس جنگ میں کوئی یونیفارم میں ہے اور کوئی یونیفارم کے بغیر اور ہم سب کو مل کردہشت گردی کے ناسور سے لڑنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم سب پر آئین پاکستان مقدم ہے، آئین ہم پرپاکستان کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے اور جوبھی پاکستان کی سکیورٹی میں رکاوٹ بنے گا، ہمیں کام کرنے سے روکے گا اسے نتائج بھگتنا ہوں گے پاکستان آرمی اورقانون نافذ کرنے والے ادارےگورننس میں موجود خامیوں کو روزانہ اپنے شہیدوں کی قربانی دےکرپوراکر رہے ہیں۔

    اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھاکہ پاکستان کی معیشت سب کی کاوشوں سے استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، اہم پہلو ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے، ترقی اور خوشحالی کیلئے ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام اہم ہے۔

    وزیراعظم نے کہاکہ صوبوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کیلئے وفاق کی مدد کی، آج پاکستان کا اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، ہماری آئی ٹی ایکسپورٹس میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، ترقی تب ہوگی جب ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری ہو اور میری دعا ہے یہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو۔

    وزیراعظم کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف پروگرام کیلئے ہمیں سعودی عرب، یو اے ای اور چین کی مدد لینا پڑی ہمیں ٹیکس بیس بڑھانا ہے لیکن یہ راتوں رات نہیں ہوگا، سب کو ہاتھ بٹانا ہوگا، ہمارے پاس اربوں روپے کے معدنی ذخائر ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب نے ایگری کلچر ٹیکس میں لیڈ لی ہے، وزیراعلیٰ کے پی نے بھی کابینہ سے ایگری کلچر ٹیکس منظور کرالیا ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھاکہ کیا دھرنا پاکستان کے مفاد ہے؟ ہمیں بیٹھ کرٹھنڈے دل سے سوچنا ہے، فیصلہ کرنا ہے دھرنے اورلانگ مارچ کریں یا ترقی کیلئےکام کریں؟ کیا ملک اس وقت دھرنے، جلوس اور لانگ مارچ کامتحمل ہوسکتاہے؟ ہمیں ملکی خوشحالی کیلئے مل بیٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

    وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ طے شدہ اقدامات کو تندہی سے آگے بڑھائیں اور ان کے بروقت نفاذ کو یقینی بنائیں،وزیراعظم نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ، عوام کے تحفظ اور اقتصادی و سماجی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے مربوط اور مستقل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔