Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نواز شریف کے بیٹے حسن نواز لندن ہائیکورٹ سے دیوالیہ قرار

    نواز شریف کے بیٹے حسن نواز لندن ہائیکورٹ سے دیوالیہ قرار

    مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسن نواز لندن ہائیکورٹ میں دیوالیہ قرار دے دیے گئے.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق لندن ہائیکورٹ میں حسن نواز کو برطانوی حکومت کے ٹیکس، ریونیو ڈپارٹمنٹ کے ٹیکس کیس میں دیوالیہ قرار دیا گیا۔اس حوالے سے لندن ہائیکورٹ نےحسن نواز کو سال 2023ء کے کیس نمبر 694 کے کیس میں دیوالیہ قرار دیا گیا ہے۔عوامی ریکارڈ رکھنے والے سرکاری یو کے گزٹ نے دیوالیہ ہونے کی تفصیلات شائع کردیں۔کہا گیا ہے کہ حسن نواز فلیٹ 17 ایون فیلڈ ہاؤس، 118 پارک لین کے رہائشی اور کمپنی کے ڈائریکٹر کو کیس نمبر 694 آف 2023 میں ہائی کورٹ میں دیوالیہ قرار دیا جاتا ہے، جو کہ 25 اگست 2023ء کو دائر کیا گیا، دیوالیہ کا حکم 29 اپریل 2024ء کو قرض دہندگان کی طرف سے عدم ادائیگی پر دائر کیے گئے کیس میں جاری کیا گیا۔ دیوانی مقدمہ حسن نواز کے خلاف محکمہ ریونیو اینڈ کسٹمز (HMRC) نے شروع کیا، جس کی نمائندگی کور میکسویل نے کی، برطانیہ کے قوانین کے تحت دیوالیہ کا حکم ذاتی دیوالیہ پن کے عمل کا حصہ ہے، یہ عدالت سے کسی فرد کو جاری کیا جاتا ہے جس سے وہ دیوالیہ ہو جاتا ہے، دیوالیہ پن کے احکامات صرف لندن گزٹ میں شائع کیے جاتے ہیں، جو کہ اسے دیوالیہ کاری سروس سے موصول ہوتے ہیں۔ہ دیوالیہ ہونے والا شخص ڈائریکٹر کے طور پر کام نہیں کر سکتا یا کمپنی کے انتظام میں کسی بھی طرح سے شامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ دیوالیہ پن سے نکل نہ جائے اور جب تک کہ اس نے ڈائریکٹر کے طور پر کام جاری رکھنے کی عدالت سے اجازت حاصل نہ کر لی ہو، جب کہ حسن نواز برطانیہ میں متعدد کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہیں۔ ۔دوسری طرف حسن نواز کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کی قانونی ٹیم مذکورہ کیس کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور جلد ہی اس عدالتی فیصلے کا جواب داخل کرایا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو میں برطانوی ماہر قانون بیرسٹر گل نواز خان نے بتایا کہ کوئی فرد اپنی ادائیگیوں کو سیٹل نہیں کرتا تو حکومت حرکت میں آتی ہے جبکہ سیٹلمنٹ نہیں کر پاتا تو فریق کورٹ میں کیس لے کر جاتا ہے۔ جب کوئی دیوالیہ ڈکلیئر ہوجائے تو دوبارہ کسی کمپنی کا ڈائریکٹر تعینات نہیں ہوسکتا اور دیوالیہ ہونے کے بعد حسن نواز اب کسی کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں بن سکتے۔ دیوالیہ قرار دیے گئے شخص کو دوبارہ قرض لینے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔

    بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری، سردی کی شدت میں اضافہ

    24 نومبر اسلام آباد لانگ مارچ کی سندھ میں تیاریاں جاری

    24 نومبر اسلام آباد لانگ مارچ کی سندھ میں تیاریاں جاری

  • وی پی این غیرشرعی،  فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ممتاز علما ء کرام، مذہبی رہنماؤں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے وی پی این کو غیر شرعی قرار دینے کے فتوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کے مقدس نام کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے

    نجی ٹی وی 365 نیوز کے پروگرام کھرا سچ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوالات علامہ امین شہید، علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر، اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ قبلہ ایاز نے جواب دیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے وی پی این کو غیر شرعی قرار دینے کے فتوے پر بات چیت کی،

    علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ وی پی این کا مسئلہ کیوں اٹھایا گیا کیا پاکستان کے مسائل ختم ہو گئے، یہ مسئلہ حکومت کی ضرورت ہے، حکومت جس حال میں ہے ،سوشل میڈیا سے عوام کو ہر خبر ملتی ہے، آگہی ملتی ہے میں خود اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن رہا ہوں، اب کے فتویٰ پر اعتراض نہیں کروں گا لیکن ان کی مجبوریاں ہیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یعنی آپ نے اللہ سے نہیں ڈرنا، شہباز شریف سے ڈرنا ہے، علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ عوام کو سامنے رکھ کر یا اشرافیہ کو سامنے رکھ کر قانون سازی کرتی ہے،سینیٹ والے بھی اشرافیہ کا حصہ ہے، اس طرح کی قانون سازی میں اشرافیہ کے مفادات ہوتے ہیں، ابھی کل خبر آئی کہ صدر، وزیراعظم کے طیاروں کی مینٹینس کے لئے فنڈز کی منظوری ہوئی ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بھی علاج کے لئے باہر جاتے ہیں، وزیراعلیٰ جاتی ہیں تو وزیر ماحولیات بیگ اٹھانے باہر چلی جاتی ہیں، علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ کسی کو روکنا ہے یا لانا ہے تو اس پر کم از کم اسلام کے مقدس نام کو استعمال نہ کیا جائے،

    فتویٰ اللہ کی رضا کے لیے دینا چاہیے، نہ کہ حکمران کی منشا کے مطابق،علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں آپ کو قرآن کی کون کونسی آیات سناؤں، ہمارے کرتوت کیا ہیں ہمیں شرم آتی ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کو میرا وی پی این نظر آجائے گا دیگر مسائل نظر نہیں آئیں گے، علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے کے اندر میرٹ نہیں ہے، کم از کم ہمیں دین کو مفادات کے لئے یا سرکاری مفادات کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے،رفع الیدین کےبارے میں قوی حدیث ہے، تمام کتب احادیث میں موجود ہیں، اصل جو آج کا مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ فتویٰ اللہ کی رضا کے لیے دینا چاہیے، اس بنیاد پر نہیں کہ حکمران کیا سوچتا ہے، ائمہ نے حکمرانوں کی منشا کے مطابق کبھی فتویٰ نہیں دیا، آزمائشوں کی پرواہ کئے بغیر اسلامی فریضہ کا حق ادا کرنا چاہیے،جو ہمارے ائمہ تھے جس انداز میں انہوں نے کلمہ حق کہا ہمیں بھی حکمران وقت کی جبین کو نہیں دیکھنا چاہئے، جو چیز جتنی حرام ہے وہ حرام ہے، حلال نہیں ہو سکتی، وی پی این جیسے مسائل ہمارے لئے کیوں بنے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمارے اندر اجتہاد کی کمزوری ہے، ہم لوگ اجتہاد نہیں کر رہے یہی سب سے بڑا چیلنج ہے، ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ ماہرین سے بریفنگ لے کر، آن بورڈ لے کر ،یہ سب کچھ نہ کر کے فتویٰ نہیں دیا جا سکتا اسلامی نظریاتی کونسل میں،پاکستان میں 1973 کے آئین میں کوئی شق کا ذکر نہیں، یہ ہے کہ آئین قرآن و سنت سے متصادم نہ ہو،یہ جو ہمارے پاس کلازہے آپ نے جو توجہ مبذول کروائی اس پر بہت بڑی گنجائش موجود ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ علامہ امین شہیدی میں آپ پر اعتراض کروں، آپ میرے سامنے ہیں، آپ لوگوں میں اتنا اتفاق ہے کہ آپ لوگ ایک وقت پر سارے اذان نہیں دے سکتے، نماز نہیں پڑھ سکتے، ان چیزوں پر اجتہاد نہیں ہونا، وی پی این، نیل پالش،یا ہیئر ڈرائی کرنے پر مسائل بن گئے، آنے والی نسل بجائے آپ کی طرف راغب ہو وہ کیا کرے، علامہ امین شہیدی نے کہا کہ میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں یہ صرف مسالک کے درمیان نہیں بلکہ ایک ہی مسلک کے اندر کئی گروپس اور اختلافات موجود ہیں، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاا یک شہر میں ایک ہزار سال زندگی بسر کر یں کبھی انکے مابین اختلافات پیدا نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق چلتے تھے، دین کو خود نہیں چلاتے تھے، مولوی جو اپنے آپ کو انبیا کا وارث سمجھتے ہیں اپنے مفادات، نفع کی جگہ اسلام ، دین کے مطابق اپنی زندگی ڈھالیں تو کوئی اختلاف نہیں ہو گا ،اختلاف تب ہوتا ہے جب ایک دوسرے کی طرف کھینچتے ہیں، جب پیٹ کا ، گزر بسر کا معاملہ ہو تو پھر دین استعمال ہوتا ہے، صورت، شکل دین کی ہوتی ہے لیکن پیچھے دنیا ہے

    علامہ ابتسام الٰہیٰ کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مقدسات کی توہین معاشرے کی اندر فساد یا بگاڑ پیدا کرتی ہے،

    مبشر لقمان کی اجتہاد کی بات سے متفق،اجتماعی اجتہاد کی طرف آنا چاہئے، قبلہ ایاز
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں روشن خیالی دیکھیں وہ کہاں جا رہے ایسے کنسرٹ ہو رہے جو میں اپنی سکرین پر نہیں دکھا سکتا، ہم نارملائز کیوں نہیں ہو جاتے، قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ آپ نے جو اجتہاد کی بات کی تھی میں اس بات پر متفق ہوں، ہمیں اجتماعی اجتہاد کی طرف آنا چاہیے، دنیا میں جو حالات جا رہے اس میں بھی اجتہاد کی گنجائش موجود ہے، سعودی عرب اپنے حالات کے مطابق فیصلے کر رہا ہمیں بھی حالات کے مطابق فیصلے کرنے ہیں

    علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ دین بدلتا نہیں ہے، حلال حرام اور حرام حلال نہیں ہو سکتا اجتہاد کے ذریعے، نماز اجتہاد سے منع نہیں ہو سکتی، جو کچھ ارد گرد کی دنیا میں ہو رہا، سعودیہ میں جو ہو رہا اس کا تعلق مغربی تہذیب سے ہے، یہ ابتدا ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قرآن مجید تو قیامت تک کے لئے بنا ہے جس میں ان گنت مسائل کا حل موجود ہے، ہمیں آج ضرورت ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی بھی ضرورت ہے تو فتوؤں سے زیادہ اجتہاد کی ضرورت ہے، سوچیے گا.

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    واضح رہے کہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے ”وی پی این“ کااستعمال غیرشرعی قراردیدیا۔ حکومت و ریاست کو شرعی لحاظ سے اختیا ر ہے کہ وہ برائی اور برائی تک پہنچانے والے تمام اقدامات کا انسداد کرے،لہذا غیر اخلاقی اور توہین آمیز مواد تک رسائی کو روکنے یا محدود کرنے کے لئے اقدامات کرنا،جن میں وی پی این کی بندش شامل ہے،شریعت سے ہم آہنگ ہے اور کونسل کی پیش کردہ سفارشات و تجاویز پر عمل در آمد ہے،لہٰذا ان اقدامات کی ہم تائید و تحسین کرتے ہیں۔انٹرنیٹ یا کسی سافٹ وئیر(وی پی این وغیرہ) کا استعمال،جس سے غیر اخلاقی یا غیر قانونی امور تک رسائی مقصود ہوشرعا ممنوع ہے۔ریاست کی طرف سے وی پی این بند کرنے کا اقدام قابلِ تحسین ہے۔ وی پی این کا استعمال اس نیت سے کہ غیر قانونی مواد یا بلاک شدہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی جائے، شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔ حکومت کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے ذرائع اور ٹیکنالوجیز کے استعمال پر موثر پابندی عائد کی جائے جو معاشرتی اقدار اور قانون کی پاسداری کو متاثر کرتے ہیں ۔

  • علی امین گنڈا پور عہدے سے فارغ،24 نومبر کی کال نیازی کے گلے پڑ گئی

    علی امین گنڈا پور عہدے سے فارغ،24 نومبر کی کال نیازی کے گلے پڑ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں پہلے تقسیم ،پھر بغاوت ہوئی، اب چڑیل خبر لے آئی ہے کہ ریاست کے خلاف بغاوت کرنے والے عمران خان کے اپنے گھر میں بغاوت پھوٹ پڑی ہے، کیا وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور فارغ ہونے والا ہے،لندن میں کیا کھچڑی پک رہی ہے، بلاول شہباز شریف سے ناراض کیوں ہے، کیا 24 نومبر سے قبل حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت سے ناراض کیوں ہے، کیا حکومتی اتحاد ٹوٹنے جا رہا ہے، بلاول کا اعتراض ہے کہ حکومت کئے گئے وعدے پورے نہیں کر رہی، سوال یہ ہے کہ وعدہ کیا ہے جو پورا نہیں ہوا، شہباز حکومت بنانے کے لئے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان جو معاہدہ ہوا، جس وعدے پر عمل نہیں ہوا،بلاول 26 ویں ترمیم کے سلسلہ میں مولانا فضل الرحمان اور دوسرے سٹیک ہولڈر کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے انہی دنوں خبر آئی تھی کہ سپریم کورٹ کے آٹھ ہم خیال ججز نے فل کورٹ میٹنگ کال کی اور انکا خیال تھا کہ اس ترمیم کو منطوری سے قبل ہی اڑا دی جائے،اسی دوران جسٹس منصور علی شاہ کو پیغام دیا گیا کہ حکومت آپ کو ہی چیف جسٹس نامزد کر رہی ہے،پھر فل کورٹ بنانے کا کیا فائدہ، پارلیمنٹ کو اپنا کام کرنے دیں، جسٹس منصور علی شاہ پر اعتماد کا نتیجہ یہ نکلا کہ آٹھ ججز کی میٹنگ بغیر کوئی فیصلہ کئے ختم ہو گئی، یہ پیغام پیپلز پارٹی کی جانب سے بھجوایا گیا تھا اور مولانا فضل الرحمان کی رضامندی بھی شامل تھی،لیکن جب وقت آیا تو حکومت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس بنا دیا، یہی نہیں بلکہ یہ وعدہ بھی ہوا تھا کہ سپریم جوڈیشل کمیشن میں پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد دو ہو گی وہاں پر بھی ایک سیٹ پر ٹرخا دیا گیا بلاول ناراض ہوئے اور اپنی نامزدگی واپس لے لی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بلاول نے اب کھل کر حکومت پر تنقید کی ہے، اس کی ٹائمنگ بڑی اہم ہے،شہباز شریف اس زعم میں ہیں کہ آئینی بینچ سے مخصوص نشستوں کا فیصلہ آ جائےتو پھر کسی اور کی مدد کی ضرورت نہیں ہو گی،پیپلزپارٹی کی بھی، بلاول کا خیال ہے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ جس ماڈل کے تحت کام کر رہے ہیں وہ عارضی چل سکتا ہے، مستقل نہیں، بلاول کو ججز کی تعیناتی پر بھی اعتراض ہے، نواز شریف لندن میں کچھڑی بنا رہے کہ اب کیا ہو گا، نواز شریف اس ماڈل کو پانچ سال تک چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، نواز شریف جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے بغیر وہ نہیں چل سکتے، امریکہ یاترا کے دوران وہ ٹرمپ انتظامیہ کی سن گن لے آئے ہیں، اب صرف آصف زرداری کی عیادت کرنا باقی ہے، جس دن نواز شریف اور زرداری کی ملاقات ہو گی اس دن گلے شکوے دور ہو جائیں گے، ان دونوں سیاسی جماعتوں نے ماضی کے تجربوں سے سیکھ لیا کہ اتحاد میں ہی بقا ہے، یہ اگر نہیں سیکھا تو عمران خان نے،

    مبشر لقمان کامزید کہنا تھا کہ عمران خان نے احتجاج کے لئے کال دینے کے لئے بہن علیمہ خان کا سہارا لیا،قیادت علیمہ خان کو سونپی تو پارٹی رہنماؤں کو اس فیصلے پر بغاوت کی جرات نہ ہوئی تا ہم بشریٰ نے بغاوت کی اور پنجاب کے اراکین کو پشاور بلا کر ذمہ داری سونپی، کسی کو بریانی،کسی کو قیمے والے نان اور کسی کو چندہ جمع کرنے کا کہا، کارکنان تذبذب کا شکار ہیں کہ علیمہ کی سنیں یا پنکی کی، گنڈا پور نے تو علیمہ خان کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے،وکلا گروپ کو کبھی احتجاجی مظاہروں کا شوق نہیں رہا، رؤف حسن، سلمان اکرم راجہ بھی فیصلہ نہیں کر پار ہے کہ علیمہ کا ساتھ دیں یا پنکی پیرنی کا،

    24 نومبر،حکومت نے کچھ کیا تو پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا، شیر افضل مروت

    چڑیل کی خوفناک مخبری، خون خرابے کی پلاننگ،عمران کی قسمت میں رسوائی

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • 46 امریکی اراکین کانگریس کا عمران کی حمایت میں خط،اندرونی معاملات میں مداخلت

    46 امریکی اراکین کانگریس کا عمران کی حمایت میں خط،اندرونی معاملات میں مداخلت

    تحریک انصاف کے امریکی حمایتیوں کا ایک اور یوٹرن: "امریکی مداخلت نامنظور” سے "امریکی عدم مداخلت نامنظور” تک کا حیرت انگیز سفر ،طے کر لیا

    امریکی کانگریس کے 46 اراکین نےعمران خان کی حمایت میں ایک اور خط لکھ دیا،عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر دیا، اس سے قبل 60 اراکین جو بائیڈن انتظامیہ کو خط لکھ چکے ہیں جن میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن اراکین دونوں شامل ہیں۔تحریک انصاف کے چند امریکی حمایتیوں نے ایک بار پھر قومی مفاد کو نظرانداز کرتے ہوئے سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ حال ہی میں 46 امریکی کانگریس اراکین نے صدر جو بائیڈن کو ایک خط لکھا ہے، جو مختلف سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ خط میں تحریک انصاف کے لیے امریکی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی گئی ہے، لیکن پاکستان کے اصل مسائل، جیسے کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم، دہشت گردی، یا معاشی مدد کی ضرورت کا کوئی ذکر نہیں۔اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ حمایتی واقعی بااثر ہیں یا کہانی کچھ اور ہے؟

    خط میں پاکستان کے اندرونی معاملات، خاص طور پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر زور دیا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی تحریک انصاف نے "غلامی نامنظور” کے نعرے کے ساتھ امریکی مداخلت کی سخت مخالفت کی تھی۔خط میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور سفیر کے کردار پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، اور ان کے رویے میں تبدیلی کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

    ماضی میں عمران خان اور تحریک انصاف نے امریکی سفارت خانے کی سرگرمیوں کے خلاف سخت بیانیہ اپنایا تھا۔ لیکن اب یہی جماعت امریکی مداخلت کی کھل کر درخواست کر رہی ہے، جس سے ان کے بیانیے کی ساکھ پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنی تھی، تو کشمیری عوام کے حق میں کبھی کوئی خط کیوں نہیں لکھوایا گیا؟کیا تحریک انصاف کے حمایتی صرف اپنی جماعت کے مفاد میں امریکی اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہتے ہیں؟کیا تحریک انصاف کی یہ حکمت عملی سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کی واضح مثال نہیں؟

    تحریک انصاف کے حمایتیوں کی یہ پالیسی ان کے اپنے بیانیے سے متصادم ہے۔ "غلامی نامنظور” اور "امریکی مداخلت نامنظور” کے نعروں سے شروع ہونے والا سفر اب "امریکی عدم مداخلت نامنظور” کے مطالبے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف تحریک انصاف کی پالیسیوں کی غیر مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان کی سیاسی حکمت عملی پر بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر آمنہ امان کہتی ہیں کہ امریکی کانگریس کے 46 اراکین کا صدر بائیڈن کو عمران خان کی رہائی کے لیے خط لکھنا غیر ملکی مداخلت کی دعوت دینا ہے۔ اس کے پیچھے صیہونی اور بھارتی لابی کی مشترکہ کوشش واضح طور پر جھلکتی ہے۔ ان میں سے اکثر اراکین جیسا کے بریڈشرمن اسرائیلی لابی اے آئی پی اے سی اور ہاؤس انڈیا کاکس کے ساتھ وابستہ ہیں، جو امریکہ کے اندر مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ عناصر پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے ذریعے ایک ایسے رہنما کو اقتدار میں واپس لانے کے خواہاں ہیں جو ان کے مفادات کو پورا کر سکے۔ ان کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لابیز پاکستانی خودمختاری کو پس پشت ڈال کر اپنے سیاسی اور جغرافیائی عزائم کو تقویت دینا چاہتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف پاکستان کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ہے۔ہاؤس انڈیا کاکس کا چیئرمین روکھنہ عمران خان کا قریبی دوست ہے جو اس کی رہائی کے لیے کافی سرگرم ہے

    https://twitter.com/Amna__Aman/status/1857760712531062893

    امریکی کانگریس اراکین کا عمران کی رہائی بارے خط،پاکستانی اراکین پارلیمنٹ بھی متحرک

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    جمائما گولڈ اسمتھ کا عمران خان کے بارے بیان،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے عمران خان کورہاکرانےکی کوشش ہورہی ،شرجیل میمن
    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ مریکی ارکان کانگریس سے خط لکھوانا گولڈ اسمتھ فیملی کی ہی کارستانی ہے ، اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے عمران خان کورہاکرانےکی کوشش ہورہی ہے،ارکان کانگریس سےبائیڈن کو خط کس نے لکھوایا اور کیا مقصد ہے سب جانتےہیں ، کیاامریکی ارکان کانگریس نےفلسطین اورکشمیرکی صورتحال پرکبھی خط لکھا؟ امریکا میں لابسٹ کو ہائر کیاگیاہےتاکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئےدباؤڈالاجائے، پاکستان میں پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے کروڑوں امریکا میں لابسٹ پرخرچ ہورہےہیں، عالمی لابسٹ کو ہائرکیا جارہا ہےتاکہ پاکستان کے اندرونی معاملےمیں مداخلت کریں،پی ٹی آئی کاایک ہی ایجنڈاہےکہ حکومت پر دباؤ ڈال کر بانی کو رہا کرائیں، عدم اعتماد کےوقت پی ٹی آئی کہتی تھی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور ہم غلام نہیں ، پی ٹی آئی نے امریکا پرہی اپنی حکومت گرانے کی سازش کاالزام لگایا تھا اور آج پی ٹی آئی لابسٹ کےذریعے اُس ہی امریکی حکومت کوخط لکھوا رہی ہے، امریکی ارکان کانگریس سے خط لکھوانا گولڈ اسمتھ فیملی کی ہی کارستانی ہے، گولڈ اسمتھ فیملی اسرائیل کی لابسٹ ہے،بانی پی ٹی آئی پاکستان میں اسرائیل کا اثاثہ ہے، اسرائیلی جریدوں میں آرٹیکلز ہیں کہ پاکستان میں بانی ہی اسرائیل کو سوٹ کرتا ہے، خط وہ لکھوا رہے ہیں جن کا ایجنڈا ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے، ڈاکٹر اسرار نے 20، 25سال پہلے ہی بانی پی ٹی آئی سےمتعلق بتا دیاتھا۔ اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے بانی کو رہا کرانے کی کوشش ہورہی ہے، بانی اپنے دور میں سیاسی مخالفین کےخلاف نیب کو استعمال کرتےتھے،اس وقت خط کہاں تھے؟ اگریہ پاکستانی لابسٹ ہوتے تو کیا کشمیرکیلئے کبھی خط نہیں لکھواتے؟ پی ٹی آئی بانی کی رہائی کےون پوائنٹ ایجنڈےکیلئے ہر حد تک جائے گی، بانی پی ٹی آئی پاکستان میں اسرائیل کا اسٹرٹیجک اثاثہ ہے، بانی کی رہائی کیلئےپی ٹی آئی کی طرف سے حیران کن چیزیں ابھی مزیدسامنےآئیں گی۔

    امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے سیاسی نظام اورعدلیہ کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے،شیری رحمان
    پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے داخلی معاملات میں واضح مداخلت ہے ،ارکان کانگریس کا بائیڈن کو خط حقیقی آزادی کے بیانیے کے تابوت میں ایک اور کیل ہے، کسی بھی دوسرے ملک کے سیاسی و قانونی معاملات میں مداخلت عالمی اصولوں کے خلاف ہے،امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے سیاسی نظام اورعدلیہ کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے، کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کو جائز سمجھنا خطرناک مثال قائم کرتا ہے،پی ٹی آئی کی امریکا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی کوششیں بھی قابل مذمت ہیں، یہ وہی سیاسی جماعت ہے جو ماضی میں امریکی مداخلت پر بیانیہ بناکرسیاست کرتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے خود اسی طرح کی مداخلت کا سہارا لینا دہرا معیار ہے۔صدر آصف علی زرداری نے 12 سال جیل میں گزارے، انہوں نے کبھی بیرونی لابی فرمز کو ایسی درخواستیں لکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا، ملکی سیاسی جماعتیں مسائل، قانونی جدوجہد کے لیے ملکی اداروں پر ہی اعتماد رکھتی ہیں۔

  • سنبھلتی معیشت پی ٹی آئی کو نہ”بھائی”عمران خان کی ایک بار پھر انتشار کی کوشش

    سنبھلتی معیشت پی ٹی آئی کو نہ”بھائی”عمران خان کی ایک بار پھر انتشار کی کوشش

    پاکستان بڑی مشکل سے سنبھلا ہے، لیکن ایک بار پھر انتشار کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ عمران خان، جنہیں ماضی میں بھی اسلام آباد کو سیاسی تجربات کا مرکز بنانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، اب 190 ملین پاؤنڈ کیس اور 9 مئی کیس کے آخری مراحل میں داخل ہونے پر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کے باقی ماندہ افراد کو قربانی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    پشاور میں بشریٰ بی بی کی ارکان اسمبلی کو دھمکیاں، جس میں انہوں نے کہا کہ ہزاروں افراد کو انتشار کے لئے نہیں لے کر آئیں گےتو پارٹی میں جگہ نہیں ہو گی،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شدید مایوسی اور پریشانی کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان کی جماعت جھوٹے پراپیگنڈے، دھمکیوں، اور مالی وسائل کے ذریعے عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ان کے غیر ملکی مفادات پورے ہو سکیں۔

    عمران خان کے وہ بیانات جن میں انہوں نے ملک کی تباہی کو اپنے اقتدار سے مشروط کیا، ان کے عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے لاکھوں شہری بارہا ان کی اقتدار کی خواہش کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ حکومتی اقدامات، جیسے کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنا اور موبائل سروس معطل کرنا، شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔اس دوران عام آدمی کے مسائل جیسے روزگار، بیماروں کی ہسپتال تک رسائی، اور اشیائے خوراک کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اگر 24 نومبر کے قریب بھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو ذمہ دار وہی لوگ ہوں گے، جو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے عوام کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں۔اور حکومت کو انتہائی اقدام پر مجبور کرتے ہیں، 24 نومبر کے قریب حکومت انتشاریوں کو روکنے کے لیے ممکنہ اقدامات کرے گی، شہریوں کو آنے والی مشکلات کا ذمہ دار اڈیالہ میں قید مجرم عمران خان اور اسکے ملکی اور غیر ملکی سرپرست ہوں گی

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • خارجی نور ولی محسود کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب

    خارجی نور ولی محسود کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب

    خارجی نور ولی محسود کا چھپ کر پاکستان میں داخل ہونے کا منصوبہ آشکار ہوا ہے۔

    ذرائع کے مطابق فتنۃ الخوراج کا سرغنہ خارجی نور ولی چھپ کر پاکستان آنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ خارجی نور ولی شوال کی جانب سے پاکستان میں چھپ کر داخل ہو کر ایک ویڈیو ریکارڈ کرائے گا،ویڈیو ریکارڈ کرانے کا مقصد یہ بتانا ہوگا کہ وہ پاکستان میں ہے جبکہ ویڈیو کو ریلیز اس وقت کیا جائیگا جب وہ افغانستان واپس بھاگ چکا ہو گا۔ یہ بات بھی خارج از امکان نہیں کے وہ افغاستان میں ہی ویڈیو ریکارڈ کروا کر اسے پاکستان میں ہونے کا دعویٰ کر دے۔

    اس سے قبل 13 نومبر 2024 کو خارجی نور ولی کی آڈیو لیک منظر عام پر آئی جس میں وہ نچلے درجے کے دہشتگردوں کو واپس نہ آنے کی دھمکی دے رہا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 اور 14 نومبر کی درمیانی شب خارجی نور ولی اور حاجی گل بہادر گروپ کی آپس کی لڑائی میں خودکش حملےمیں 5 دہشتگرد جہنم واصل ہو گئے تھے۔

    دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ خارجی نور ولی کا پاکستان میں چھپ کر داخل ہونا بھی گزشتہ پے درپے واقعات میں ناکامی کی وجہ سے دوسرے دہشت گردوں کی طرف سے آنے والے پریشر کا شاخسانہ لگتی ہے۔ سیکورٹی فورسز کی فتنۃ الخوراج کیخلاف کامیاب کارروائیوں نے خارجی نور ولی کو حواس باختہ کردیا ہے۔ پاک فوج کے روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسٹڈ آپریشنز نےفتنۃ الخوراج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نقصانات کی بدولت فتنتہ الخوارج کی صفوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ خوارج کی بڑی تعداد خارجی نور ولی محسود کی نا اہلی سے متنفر ہو چکی ہے۔ اس کا واضح ثبوت خوراج کےسرغنہ نورولی محسود کی آڈیو لیک ہےجس میں وہ دہشتگردوں کو واپس نہ آنے کی دھمکی دے رہا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق نور ولی محسود کا پاکستان میں دراندازی کرکے ویڈیو پیغام ریکارڈ کرانے کا مقصد اندرونی اختلافات کو چھپانا ہے۔ نچلے درجے کے دہشت گرد فتنہ الخوارج کی افغاستان میں عیاشی کرتی قیادت سے متنفر ہو چکے ہیں۔ خارجی نور ولی محسود کی یہ کوشش بے سود رہے گی کیونکہ اب نچلی سطح کے خارجیوں پر انکی قیادت کی حقیقت واضح ہوچکی ہے

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • 24 نومبر،حکومت نے کچھ کیا تو پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا، شیر افضل مروت

    24 نومبر،حکومت نے کچھ کیا تو پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا، شیر افضل مروت

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ 24 نومبر کو ڈی چوک پر دھرنا ہو گا، ہم ریاستی قوانین پر عمل کریں گے،

    نجی ٹی وی 365 نیوز میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے شیر افضل مروت سے سوال کیا اور کہا کہ مروت صاحب اچھا لگے یا برا لگے، آپ لوگ ایس ایچ او وغیرہ سے نہیں ڈرتے ہوں گے، ہم تو واپڈا کا لائن مین آ جائے تو اس کی بھی منت سماجت شروع کر دیتے ہیں،جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میرا خیال یہ ہے کہ آٹھ فروری کو ان حالات میں ووٹ ڈالنا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے پنجاب کی سیاست کو دیکھیں 1947 سے لے کر اب تک اسٹیبلشمنٹ کی سیاست رہی،پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ووٹ دیا، مبشر لقمان نے کہا کہ اب 24 کو کیا ہو گا، جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہم دھرنے پر پہنچ گئے اور دھرنا جما لیا تو توقع کریں گے کہ حکمران کن کن غلطیوں کا ارتکاب کریں گے، آنسو گیس ، لاٹھی چارج کریں گے، رینجرز یا فوج کو درمیان میں ڈالا، یہ حد سے بڑھ جاتے ہیں تو پھر پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اس بار کتنے سرکاری ملازم ہوں گے، پچھلی بار ریسکیو والے بھی تھے، انکی ضمانتین بھی نہیں ہوئی جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ضمانتیں ہو گئی ہیں اور گاڑیاں بھی لے لی ہیں، سرکاری ملازمین پولیس والے پروٹوکول ہیں، یہ اسکے گارڈ ہیں، جو ساتھ ہوتے ہیں،یہ ہزاروں میں نہیں ہوتے چالیس پچاس ہوتے ہیں، 22 پولیس والے گرفتار ہوئے تھے، 1122 ایمرجنسی ایڈ کے لئے ہے تا کہ اگر کوئی واقعہ ہو تو وہ ساتھ ہوں اور ریسکیو کے کام کریں،

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ 24 تاریخ کو کیا کرنا ہے، شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ لاکھوں لوگوں کو ڈی چوک پر بٹھا دیں، ہم نے اتنے لوگوں کو نکالنا ہے کہ دنیا کی توجہ حاصل کرنی ہے، ہمارے پاس اب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، مبشر لقمان نے کہا کہ علی امین کہتا ہے کہ اڈیالہ کی دیواریں توڑ کر عمران کو نکال لوں گا، جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں کریں گے ریاست کےقوانین پر عمل کریں گے، مبشر لقمان نے کہا کہ پھر آپ ڈی چوک میں دھرنا نہیں دے سکتے، شیر افضل مروت نے کہا کہ کس نے کہا ، احتجاج کا ہمیں حق ہے، ہم کر سکتے ہیں،مویشی منڈی میں ہمیں جگہ دینا ان کی بدمعاشی ہے،احتجاج سے محروم کرنا خلاف قانون ہے، ماضی میں کچھ ایسا ہوا تب بھی ٹھیک نہیں ہوا تھا، ہم پہلے بھی ڈی چوک گئے، مظاہرے بھی کئے اور ہم پر مقدمے بھی ہوئے،

  • وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی، مولانا طارق جمیل نے فتوی غلط قرار دے دیا

    نجی ٹی وی 365 نیوز میں پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے اسلامی نظریاتی کونسل کے فتوے کو غلط قرار دیا، مبشر لقمان نے مولانا طارق جمیل سے سوال کیا کہ وی پی این کا استعمال غیر شرعی ہے کیونکہ یہ برائی کی طرف لے جاتا ہے، کل کو موٹر سائیکل پر بھی پابندی لگا دیجیے گا کہ ایک شخص ہسپتال تو دوسرا فحش اڈے پر جاتا ہے اس لیے اس کو بھی حرام کر دو، کب تک ایسے فتوے آتے رہیں گے

    مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ مجھے تو نہیں پتہ کہ کونسی شرعی کونسل نے فتویٰ دیا، پھر تو موبائل بھی حرام ہےکیونکہ اس میں بھی بہت سی چیزیں ہیں، یہ تنگ ذہنی ہے، فتویٰ درست نہیں ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرے ہاتھ میں موبائل ہے یا پرنٹنگ پریس ہے میں اس میں غلط کاغذات بھی پرنٹ کر سکتا ہے، آج میں نے تلخ سوال کرنا ہے سب سے بڑا گناہ جو مجھے اپنی عقل کے مطابق سمجھ آتا ہے وہ ہے سود جو، اللہ سے اعلان جنگ ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ نہیں بتایا کہ سود سے پاک نظام کیسے بنانا اور چلانا ہے،اس پر مولانا طارق جمیل مسکرا دیئے اور کہا کہ میں نے تو فتویٰ نہیں دیا، مجھے نہیں پتہ کہ کس شرعی کونسل نے فتویٰ دیا، اللہ ہی جانتا ہے میں نے اپنی رائے بتا دی ہے، انکے پاس کوئی دلیل ہو گی،

    واضح رہے کہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے ”وی پی این“ کااستعمال غیرشرعی قراردیدیا۔ حکومت و ریاست کو شرعی لحاظ سے اختیا ر ہے کہ وہ برائی اور برائی تک پہنچانے والے تمام اقدامات کا انسداد کرے،لہذا غیر اخلاقی اور توہین آمیز مواد تک رسائی کو روکنے یا محدود کرنے کے لئے اقدامات کرنا،جن میں وی پی این کی بندش شامل ہے،شریعت سے ہم آہنگ ہے اور کونسل کی پیش کردہ سفارشات و تجاویز پر عمل در آمد ہے،لہٰذا ان اقدامات کی ہم تائید و تحسین کرتے ہیں۔انٹرنیٹ یا کسی سافٹ وئیر(وی پی این وغیرہ) کا استعمال،جس سے غیر اخلاقی یا غیر قانونی امور تک رسائی مقصود ہوشرعا ممنوع ہے۔ریاست کی طرف سے وی پی این بند کرنے کا اقدام قابلِ تحسین ہے۔ وی پی این کا استعمال اس نیت سے کہ غیر قانونی مواد یا بلاک شدہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی جائے، شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔ حکومت کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے ذرائع اور ٹیکنالوجیز کے استعمال پر موثر پابندی عائد کی جائے جو معاشرتی اقدار اور قانون کی پاسداری کو متاثر کرتے ہیں ۔

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

  • ڈیل نہ ڈھیل،فوج کا عمران خان کو جواب، برطانوی اخبار

    ڈیل نہ ڈھیل،فوج کا عمران خان کو جواب، برطانوی اخبار

    پاکستان کی فوج کے سینئر ذرائع نے گارڈین کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا ڈیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، یہ بات اس وقت سامنے آئی جب عمران خان نے کہا کہ وہ جیل سے فوجی قیادت سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    عمران خان، جو اس وقت پاکستان کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، گارڈین نے ان کی قانونی ٹیم کے ذریعے سوالات ارسال کیے تھے۔جس کے عمران خان نے جواب دیئے، عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی گرفتاری اور اگست 2022 میں جیل جانے کے بعد سے فوج کے ساتھ کوئی ذاتی بات چیت نہیں کی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کے طاقتور فوجی ادارے کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کرنے سے انکار نہیں کرتے، حالانکہ ماضی میں انہوں نے فوج کو اپنی حکومت گرانے اور قید میں ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

    عمران خان نے گارڈین کو بتایا، "فوج کے ساتھ کسی ڈیل کا معاملہ اصولوں پر مبنی ہوگا اور عوام کے مفاد میں ہوگا، نہ کہ ذاتی فائدے یا ان سمجھوتوں پر جو پاکستان کی جمہوری اقدار کو نقصان پہنچائیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ "اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر جیل میں زندگی گزارنے کو ترجیح دیں گے۔”

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان، 2018 میں فوج کی حمایت سے اقتدار میں آئے تھے، کیونکہ پاکستانی سیاست میں فوج ہمیشہ سے ایک طاقتور کھلاڑی سمجھی جاتی ہے ،عمران خان کے فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات 2022 میں ٹوٹ گئے تھے، جس کے بعد وہ اقتدار سے ہٹ گئے تھے اور پھر فوج پر اپنی حکومت کے خاتمے اور گرفتاری میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ ا

    عمران خان اس وقت درجنوں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جنہیں وہ فوج اور سیاسی حریفوں کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ جون میں اقوام متحدہ کی ورکنگ گروپ برائے غیرقانونی حراست نے کہا تھا کہ خان کی حراست غیرقانونی ہے۔

    تاہم، جیل میں اپنے وقت کے دوران عمران خان کا فوجی قیادت کے لئےلہجہ نرم پڑا ہے۔ جولائی میں عمران خان نے فوج کے ساتھ "مشروط” بات چیت کرنے کی پیشکش کی تھی، بشرطیکہ وہ "صاف اور شفاف” انتخابات کرانے پر رضا مند ہوں۔ عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 2023 کے فروری کے انتخابات کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے ان میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، اور یہ دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے عوامی ووٹ سے انتخابات جیتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، حالیہ مہینوں میں عمران خان نے فوج کے ساتھ بات چیت کے لیے اور اپنی رہائی کے لیے "غیر مشروط” مذاکرات کی پیشکش کی تھی، تاہم فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ خان کو اپنے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا اور فوج کسی قسم کی ڈیل یا مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

    ایک فوجی ذرائع نے کہا، ” عمران خان کو اپنے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا، وہ فوج سے کسی قسم کی ڈیل کی توقع نہیں کر سکتے۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ سب لوگ قانون کے تحت عمل کریں، لیکن وہ خود اس قانون کا اطلاق اپنے لیے نہیں چاہتے۔”

    موجودہ حکومت، جو کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ایک اتحادی حکومت ہے، کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔ حالیہ مہینوں میں انہوں نے فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں پانچ سال کی توسیع اور سپریم کورٹ کے حوالے سے بعض آئینی ترامیم کی ہیں، جسے پی ٹی آئی نے فوج کے ایجنڈے کی تکمیل اور خان کی رہائی کی راہ روکنے کے لیے قرار دیا ہے۔

    اس دوران عمران خان نے حکومت کے اقدامات اور انتخابات میں دھاندلی کے خلاف 24 نومبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کی ایک "آخری کال” دی ہے۔ پی ٹی آئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ایک مسلسل کریک ڈاؤن کا سامنا ہے اور پارٹی کی بیشتر قیادت جیل یا جلاوطن ہو چکی ہے۔حکومت ابھی تک یہ واضح نہیں کر سکی کہ عمران خان کو کسی فوجی عدالت میں لے جایا جائے گا یا نہیں، جہاں ان پر رشوت ستانی اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ عمران خان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک سابق وزیر اعظم کو فوجی عدالت میں پیش کرنا مضحکہ خیز ہے۔

    عمران خان نے کہا، "کسی بھی سول فرد کو فوجی عدالت میں کیوں پیش کیا جائے، خاص طور پر ایک سابق وزیر اعظم کو؟ یہ مضحکہ خیز ہے۔ فوجی عدالت میں کسی شہری کو مقدمہ چلانے کی واحد وجہ یہ ہے کہ کوئی اور عدالت مجھے سزا نہیں دے سکتی۔”

    عمران خان کی جیل کی حالت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ، ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو انفرادی حراست میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے،تاہم عمران خان نے اس بات کی تردید کی کہ انہیں کوئی خصوصی سہولت فراہم کی گئی ہے اور کہا کہ انہیں ان حالات میں رکھا جا رہا ہے جو انہیں ذہنی طور پر توڑنے اور ان کا حوصلہ پست کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ 15 دن تک، میری کسی سے ملاقات نہیں کروائی گئی سیل میں بجلی نہیں تھی اور بغیر رسائی کے 24 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا تھا۔

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

  • پاکستان خطے اور عالمی امن کے لئے اپنا مثبت  کردار ہمیشہ ادا کرتا رہے گا،آرمی چیف

    پاکستان خطے اور عالمی امن کے لئے اپنا مثبت کردار ہمیشہ ادا کرتا رہے گا،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نےاسلام آباد میں مارگلہ ڈائیلاگ 2024کی خصوصی تقریب سے خطاب کیا ہے،

    مارگلہ ڈائیلاگ 2024کی خصوصی تقریب کا اہتمام اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی کی جانب سے کیا گیا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے "امن اور استحکام میں پاکستان کا کردار” کے موضوع پر گفتگو کی اور علاقائی ہم آہنگی اور بین الاقوامی امن کو آگے بڑھانے میں نمایاں کامیابیوں پر روشنی ڈالی،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں دُنیا کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں غلط اور گمراہ کُن معلومات کا تیزی سے پھیلاؤ ایک اہم چیلنج ہے،دُنیا میں کئی تبدیلیوں کے پیش ِ نظر غیر ریاستی عناصر کا اثر و رسوخ بڑھ جانا بھی ایک اہم چیلنج ہے،عالمی سطح پر معیشت ، افواج اور ٹیکنالوجی میں بے انتہا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں،پرتشدد غیر ریاستی عناصر اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج ہے،ٹیکنالوجی نے جہاں معلومات کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے وہاں گمراہ کن اور غلط معلومات کا پھیلاؤ ایک اہم چیلنج ہے ،جامع قوانین اور قواعد و ضوابط کے بغیر غلط اور گمراہ کن معلومات اور نفرت انگیز بیانات سیاسی اورسماجی ڈھانچے کو غیر مستحکم کرتے رہیں گے،قوا عد وضوابط کے بغیر آزادی اظہار رائے تمام معاشروں میں اخلاقی قدروں کی تنزلی کا باعث بن رہی ہے،عالمی سطح پر مذہبی، فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر عدم مساوات، عدم برداشت اور تقسیم بڑھ رہی ہے،ہمارے مشترکہ مقاصد میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمی صحت کی فراہمی جیسے اہم چیلنجز شامل ہیں

    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارا عزم غیر متزلزل ہے ،آرمی چیف
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا اور خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے،دہشتگرد ی عالمی سطح پر تمام انسانیت کے لئے ایک مشترکہ چیلنج ہے ،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارا عزم غیر متزلزل ہے ،ہماری مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے ایک جامع بارڈر مینجمنٹ رجیم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،فتنتہ الخوارج دنیا کی تمام دہشتگردتنظیموں اور پراکسیز کی آماجگاہ بن چکی ہے ،پاکستان افغان عبوری حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال نہیں ہونے دیں گے اور اس حوالے سے سخت اقدامات کریں گے،ویژن عزمِ استحکام نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم جزو ہے جس کا مقصد دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہے ،بھارت کے انتہا پسند انہ نظریے کی وجہ سے بیرون ملک خاص طور پر امریکہ ، برطانیہ اور کینیڈا میں بھی اقلیتیں محفوظ نہیں ،مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کا ظلم و بربریت بھی ہندوتوا نظریے اور پالیسی کا تسلسل ہے ،مقبوضہ جموں و کشمیر کا اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل ناگزیر ہے ،پاکستان نے ہمیشہ غزہ اور لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ،پاکستان نے غزہ اور لبنان کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر متعدد بارامداد روانہ کی ،پاکستان نے ہمیشہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا ہے،ہم کسی عالمی تنازعہ کا حصہ نہیں بنیں گے مگر دُنیا میں امن و استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ،عالمی امن کی خاطر 235،000پاکستانی اقوام متحدہ کے امن مشن میں اپنا کردار ادا کرچکے ہیں،اقوام متحدہ امن مشنز میں 181 پاکستانیوں نے عالمی امن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،پاکستان 24کروڑ عوام کا ملک ہے جس کی لگ بھگ 63فیصد آبادی 30سال سے کم ہے ،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے،پاکستان دنیا میں زراعت کی پیداوار کے حوالے سے ایک بڑا ملک بن کر ابھرا ہے ،پاکستان میں نادر معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں،پاکستان فری لانسنگ کی مد میں عالمی سطح پر ایک اہم ملک ہے ،پاکستان ان تمام ذخائر ،منفرد جغرافیائی مقام اور سمندری بندرگاہ کی وجہ سے یورپ ، سنٹرل ایشیا اور مڈل ایسٹ میں تجارت کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،پاکستان خطے اور عالمی امن کے لئے اپنا مثبت کردار ہمیشہ ادا کرتا رہے گا

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان