Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کوئٹہ،خود کش دھماکہ کرنیوالا ماہ رنگ بلوچ کا مسنگ پرسن نکلا

    کوئٹہ،خود کش دھماکہ کرنیوالا ماہ رنگ بلوچ کا مسنگ پرسن نکلا

    کوئٹہ میں خودکش کرنے والا رفیق بزنجو حسب توقع ماہرنگ کانام نہاد  مسنگ پرسن نکلا

    رفیق بزنجو مجیدبرگیڈ کاحصہ تھااسکے لئے ماہرنگ اپنےدھرنوں میں انصاف مانگتی رہی۔اسکے اہلخانہ کوچند ٹکوں میں خرید کر ریاست کو بلیک میل کرتی رہی۔اب رفیق بزنجو نے کوئٹہ میں ریلوے سٹیشن پر خود کش حملہ کیا ہے جس میں 27 افرادکی موت ہوئی ہے، ساٹھ سے زائدافراد زخمی ہیں ، سوال یہ ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کے خلاف اب کیا کاروائی ہو گی، رفیق بزنجو کو ایک عرصے تک مہرنگ بلوچ مسنگ پرسنز کے طور پر ظاہر کرتی رہی مگر آج رفیق بزنجو کی کی گمشدگی سےمطلق پروپیگنڈہ تب بے نقاب ہوا جب کوئٹہ ریلوے اسٹیشن حملے کےحوالہ سے بی ایل اےمجید بریگیڈ نے رفیق بزنجو کی تصویر اور پریس ریلیز جاری کی۔کوئٹہ دھماکے کی عالمی دنیا مذمت کر رہی ہے، امریکہ، روس، ترکی سمیت کئی ممالک نے مذمت کی لیکن ماہ رنگ بلوچ کے منہ سے ابھی تک ایک لفظ نہیں نکلا،ماہ رنگ بلوچ جانتی ہوتی ہے کہ اس کے یہ مسنگ پرسن ماما قدیر کے کیمپ میں چھپے ہوتے ہیں وہی ماما قدیر ان کو بی ایل اے دہشتگرد تنظیم میں بھرتی کرواتا ہے اور ریاست کے خلاف ان کے ہاتھ میں بندوق تھماتا ہے۔

    بولان میں مارے جانے والے دہشتگرد ہوں یا کراچی سٹاک ایکسچینج حملے میں ملوث یہ زہریلے مسنگ پرسنز کئی معصوم جانیں نگل جاتے ہیں اور ماہ رنگ بی بی چپ سادھ لیتی ہے۔ پہاڑوں پر جا کر بی ایل اے کو پیارے ہو جانے والے دہشتگردوں کے نام پر ریاست کو بلیک میل کرنے والوں سے سوال ضروری ہے۔ جب تک دہشتگرد تنظیموں سے جڑے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کے خلاف کاروائی نہیں ہو گی،یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔

    رفیق بزنجو عالمی دہشتگرد بی ایل اے کا کارندہ تھا ،اس واقعہ کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ماہ رنگ بلوچ کو دہشتگردی کی سہولت کاری میں گرفتار کرنا چاہیئے ،اور شہداء کو انصاف فراہم کرنا چاہیئے ،بی ایل اے مجید بریگیڈ کے خلاف بےرحم آپریشن فوری شروع کرنا چاہیئے ،اور جو اس آپریشن کی مخالفت کرے اسے بھی دہشتگردوں کی سہولت کاری کے جرم میں گرفتار کر نا چاہئے

    کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خود کُش حملہ کرنے والے بی ایل اے کے دہشت گرد محمد رفیق بزنجو کی تفصیلات اور تصویر بی ایل اے نے سوشل میڈیا پر شیئر کی ،اس تصویر کا فورنزک آڈٹ کرنے پر پتہ چلتا ہے کے یہ دہشت گرد سر سے پاؤں تک غیر ملکی اسلحہ اور سامان سے لدا ہوا ہے،تصویر میں دہشت گرد محمد رفیق نے امریکی ساخت کی ایم فور رائفل اٹھائی ہوئی ہے جو صرف افغانستان میں ڈالروں سے خریدی جا سکتی ہے،دہشت گرد رفیق نے ہوشربا طور پر جو یونیفارم پہنا ہوا ہے وہ بھی یو ایس میرین کور کا ہے ،اِسی طرح ایمونیشن میگزین جیکٹ اور ٹوپی بھی امریکی ساخت کی ہے ،بھارتی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے مہیا کئے جانے والے ڈالروں سے بی ایل اے یہ سازو سامان افغانستان سے خرید کر معصوم پاکستانیوں کا قتل عام کر رہی ہے،پوری قوم کو ان فارن فنڈڈ دہشت گردوں کے قلع قمع کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ ملکر چلنا ہوگا تاکہ ان ملک دشمنوں کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے

    دہشتگردوں کی سہولت کار،ملک دشمنوں کی ایجنٹ،ماہ رنگ بلوچ پر مقدمہ درج

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    بی ایل اے دہشت گرد طلعت عزیز ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو گئے

  • فلسطینی طلبا کا راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں شاندار خیرمقدم،دل جیت لئے

    فلسطینی طلبا کا راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں شاندار خیرمقدم،دل جیت لئے

    پاکستان کی تعلیم دوستی، بھائی چارے کی واضح مثال، فلسطینی طلبا نہ صرف پاکستان آئے بلکہ یونیورسٹی میں ان کا شاندار خیر مقدم کر کے پاکستانی حکام نے فلسطینی طلبا کے دل جیت لئے،

    فلسطین، غزہ سے تعلیم کے لئے آئے میڈیکل کے44 طالب علم راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کا حصہ بن گئے جن میں 11 طالبات اور 33 طلبا ہیں،پاکستان آنے والے غزہ کے طالب علم اب راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کریں گے۔پاکستان آنے والے طالب علم غزہ کی ال الازہر یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے،پاکستانی حکومت کی کوشش سے فلسطینی طلبا کا وفد پاکستان آیا جہاں ایئر پورٹ پر طلبا کا شاندار خیر مقدم کیا گیا، وہیں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے بھی طلبا کی ملاقات کروائی گئی، بعد ازاں فلسطینی طلبا کو راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ دیا گیا،راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی آمد پرفلسطینی طلبا کو ڈاکٹر جہانگیر سرور، ڈاکٹر عمر اور ڈاکٹر رضوان تاج نے خوش آمدید کہا،اس موقع پر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے طلبا و طالبات نے فلسطینی طلبا کا پرتپاک استقبال کیا، پھول پیش کیے،پرنسپل راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر جہانگیر سرور نے طلبا کو وائٹ کوٹ پہنائے۔وائس چانسلر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر عمر نے طلبا کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں فلسطینی طلبا کے استقبال کے لیے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں یونیورسٹی کے چانسلر، فیکلٹی ممبرز، اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے چانسلر نے کہا، "ہم خوش ہیں کہ ہم ان طلبہ کی تعلیم کے سفر کو جاری رکھنے میں مدد کر سکے ہیں۔ اس فیصلے نے ہمیں انسانیت کے تئیں اپنے عزم کو مزید مستحکم کرنے کا موقع دیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ نوجوان اپنی محنت سے نہ صرف اپنی زندگیوں میں کامیاب ہوں گے، بلکہ دنیا بھر میں امن، ہم آہنگی اور ترقی کے سفیر بھی بنیں گے۔”

    راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی نے الفاظ سے زیادہ اہمیت دینے والے ایک قدم اٹھاتے ہوئے غزہ کی الازہر یونیورسٹی کے میڈیکل طلبہ کو اپنے ادارے میں خوش آمدید کہا ہے۔ یہ قدم ایک نئی اُمید، انسانیت کے جذبے اور تعلیم کے فروغ کے عزم کی علامت ہے۔غزہ کے میڈیکل طلبہ کے لیے راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں پذیرائی کا یہ لمحہ نہ صرف ان طلبہ کے لیے بلکہ ان کے والدین، اساتذہ اور ان کی کمیونٹی کے لیے بھی ایک نیا آغاز ثابت ہو گا۔ ان طلبہ کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے یہ تعاون ایک منفرد نوعیت کا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ انسانیت اور تعلیم کی طاقت مشکل ترین حالات میں بھی ترقی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

    پاکستان کی جانب سے فلسطینی طلبا کو پاکستان میں تعلیم دلوانے کا یہ فیصلہ دراصل دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان ایک نئے تعلیمی تعاون کا آغاز ہے۔ غزہ میں پیدا ہونے والی مشکلات اور امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے پاکستان نے اپنی مدد پیش کی ہے تاکہ ان میڈیکل طلبہ کو اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کا موقع مل سکے۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں ایک مثبت پیغام ہے کہ تعلیمی تعاون اور انسانیت کی خدمت کے راستے کبھی نہیں رکنے چاہیے۔

    غزہ کے میڈیکل طلبا نے اس موقع پر جذباتی انداز میں شکریہ ادا کیا اور اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے منتظمین اور اساتذہ کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ کیا۔

    فلسطینی طلبا کی پاکستان آمد اور راولپنڈی میڈکل یونیورسٹی میں انکا شاندار استقبال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تعلیم کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے، بلکہ اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ دُنیا بھر کے تعلیمی ادارے انسانیت کے مفاد میں آپس میں تعاون کر کے بہتر کل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔یہ دلوں کو جوڑنے والی کہانی غزہ کے میڈیکل طلبہ کے لیے ایک نئی امید، ایک نیا عزم اور ایک نئی منزل کی نمائندگی کرتی ہے۔ راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی نے یہ ثابت کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں انسانیت کا درد مشترک ہے اور جب تک ہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے، تب تک ترقی ممکن نہیں۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی میڈیکل یونیورسٹیز میں زیر تعلیم فلسطینی طلباء و طالبات سے ملاقات کی تھی،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان میں زیر تعلیم فلسطینی طلباء و طالبات کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے اور فلسطینی طلبا و طالبات سے ملاقات کی، تقریب میں وفاقی وزیر عطا تارڑ،و دیگر بھی موجود تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جتنا ہمارا گھر ہے اتنا ہی آپ کا گھر بھی ہے۔پاکستان میں 145 فلسطینی طلباء کی موجودگی شروعات ہے,پاکستان فلسطینیوں کا دوسرا گھر ہے ،تمام طلبا کے اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے گی ،آپ مہمان نہیں ہمارے بھائی ہیں ،اس موقع پر تقریب کے دوران فلسطینی طلبا کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی حکومت اور الخدمت فاؤنڈیشن کے مشکور ہیں، یہاں ہمارا خیال اپنے بچوں کی طرح رکھا گیا ہے۔

    یحییٰ سنوار کی موت کیسے ہوئی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تفصیلات

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

  • دہشتگردی کسی صورت برداشت نہیں، مکمل خاتمہ کریں گے، آرمی چیف

    دہشتگردی کسی صورت برداشت نہیں، مکمل خاتمہ کریں گے، آرمی چیف

    کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے فوجی اہلکاروں کی نمازِ جنازہ کوئٹہ گیریژن، بلوچستان میں ادا کی گئی۔

    اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ، وزیراعلیٰ بلوچستان، گورنر بلوچستان، صوبائی وزراء اور فوجی و سول حکام کی بڑی تعداد موجود تھی۔نمازِ جنازہ کے بعد آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں سے ملاقات کی۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس موقع پر دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزم کو دوبارہ دوہراتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو کبھی بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج اور عوام کا عزم و ارادہ یکجا ہے۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام پاکستانیوں کی حمایت، فوجی و سول اداروں کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ ملک کا مستقبل پرامن اور خوشحال بنایا جا سکے۔اس سے قبل کوئٹہ پہنچنے پر آرمی چیف کا استقبال کور کمانڈر بلوچستان نے کیا۔

    واضح رہے کہ آج صبح بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں خاتون سمیت 26 افراد جاں بحق اور 62 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔پولیس نے بتایا تھا کہ دھماکا جعفر ایکسپریس کے گزرنے کے وقت ریلوے اسٹیشن کے اندر پلیٹ فارم میں ہوا۔دھماکے کے وقت مسافر ریلوے اسٹیشن میں جعفر ایکسپریس سے پشاور جانے کی تیاری میں مصروف تھے، ریلوے حکام نے کہا تھا کہ ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ گھر کے قریب ہوا جبکہ ٹرین اب تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی۔کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات نے ریلوے اسٹیشن پر دھماکے کے خودکش ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے آگاہ کیا تھا کہ دھماکے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    سپریم کورٹ کی ہفتہ وار رپورٹ میں مقدمات کی تعداد کم

    عوام کو 115پارکوں کا تحفہ ، کھیل کے میدانوں کو آباد کیا، ،جماعت اسلامی کراچی

    کوئٹہ دھماکے کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ

  • پی ٹی آئی کا امریکی غلامی سے آزادی کا سفر امریکی جھنڈا لہرانے تک جاپہنچا

    پی ٹی آئی کا امریکی غلامی سے آزادی کا سفر امریکی جھنڈا لہرانے تک جاپہنچا

    پی ٹی آئی کے صوابی جلسے میں امریکی جھنڈا لہرا دیا گیا
    امریکی غلامی سے آزادی ،سے لے کر امریکی پرچم اٹھانے کا سفر پی ٹی آئی نے کامیابی سے طے کر لیا،

    عمران خان نے امریکی غلامی سے آزادی کی تحریک چلائی، عمران خان جیل میں ہیں تو پی ٹی آئی نے آج صوابی جلسے میں امریکہ کاپرچم لہرا دیا،ایسے لگ رہا ہے کہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد پی ٹی آئی کی امریکی غلامی کا سفر ختم ہو گیا ہے اور اب پی ٹی آئی امریکہ سے عمران خان کی رہائی کے لئے مدد مانگ رہی ہے، آج صوابی میں پی ٹی آئی کے ایک جلسے کے دوران ایک کارکن نے امریکی جھنڈا لہرا دیا، جس پر وہاں موجود دیگر کارکنوں نے فوری طور پر احتجاج کیا اور انہیں جھنڈا نیچے کرنے کا کہا۔ تاہم، اس کارکن نے امریکی جھنڈا ہاتھ میں پکڑے رکھا ،جلسہ گاہ میں موجود شرکاء نے اس جھنڈے کی طرف اشارے کیے، جس کے بعد قریب کھڑے کارکنوں نے امریکی جھنڈا چھیننے کی کوشش کی، اس دوران دھکم پیل بھی ہوئی، لیکن آخرکار جھنڈا نیچے کروا لیا گیا اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جس پر عوامی ردعمل بھی آنا شروع ہوگیا ہے،

    یہ واقعہ پاکستانی سیاست میں ایک غیر معمولی نوعیت کا تھا، کیونکہ امریکی جھنڈے کا اس طرح جلسے میں لہرایا جانا ایک حساس معاملہ بن گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کا یہ اقدام جہاں ایک طرف کچھ حلقوں میں تنقید کا سبب بنا، وہیں دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ پاکستان میں ایسے کسی غیر ملکی جھنڈے کو جلسوں یا سیاسی سرگرمیوں میں لہرایا جانا کس حد تک مناسب ہے؟اس کے برعکس، پی ٹی آئی کے حامی اس واقعے کو محض ایک کارکن کا ذاتی عمل مانتے ہیں اور اس کا پارٹی کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں سمجھتے۔ تاہم، سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کا وائرل ہونا واضح کرتا ہے کہ ایسے واقعات پر عوامی رائے تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب یہ بین الاقوامی تعلقات یا قومی وقار سے جڑے ہوئے ہوں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فرحان ورک کہتے ہیں کہ یہ ویڈیو آج پاکستان کی سب سے وائرل ویڈیو ہونی چاہئے ،تحریک فساد نے صوابی جلسی میں امریکی جھنڈا لہرا دیا۔کیا اس سے زیادہ بے غیرتی، ڈھٹائی اور بے شرمی ہوسکتی ہے؟ہم نے بہت پہلے آپ کو بتا دیا تھا کہ انکا حقیقی ایجنڈا امریکی بیس KPK لانا ہے، سافٹ لانچ آج ہوگئی ہے

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے آج صوابی میں جلسہ کیا ہے جس میں علی امین گنڈا پور نے نومبر میں ہی عمران خان کی رہائی کے لئے فائنل کال دینے کا اعلان کیا ہے،

  • مریں گے،ماریں گے،عمران کی رہائی تک واپس نہیں آئیں گے،علی امین گنڈاپور

    مریں گے،ماریں گے،عمران کی رہائی تک واپس نہیں آئیں گے،علی امین گنڈاپور

    پاکستان تحریک انصاف آج صوابی میں جلسہ کر رہی ہے، جلسہ میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پہنچ چکی ہے

    صوابی جلسے کے لیے صوابی ، مردان ،نوشہرہ اور پشاور سے تعلق رکھنے والے ہر رکن اسمبلی کو ایک ہزار کارکن لانے کا ٹاسک دیاگیا جبکہ دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کو 5، 5سو افراد لانے کی ہدایت کی گئی تھی، جلسہ گاہ میں کرسیاں اور لائٹس لگائی گئی ہیں۔قافلے پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، پی ٹی آئی خواتین ونگ کی اراکین بھی جلسہ گاہ پہنچ چکی ہے،

    علی امین گنڈا پور نے جلسے سے خطاب میں اعلان کیا کہ نومبر میں ہی عمران خان کی رہائی کے لئے کال دی جائے گی، اس کال کے بعد تب تک واپس نہیں جائیں گے جب تک عمران خان رہا نہیں ہوں گے.

    جلسہ گاہ میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے شہرام ترکئی کا کہنا تھا کہ عمران خان جب جب اور جہاں جہاں بلائیں گے ہم پہنچیں گے، آج صوابی کے میدان میں عوام نے جعلسازوں کو رد کر دیا ہے، جو قانون سازی کرنی ہے کر لو،عمران خان ڈٹ کر کھڑا ہے، اور ہم بھی ساتھ کھڑے ہیں، جب تک جو لوگ جیلوں میں ان کی رہائی تک جیلوں میں نہیں بیٹھیں گے، فارم 47 کو عوام نے مسترد کر دیا ہے

    صوابی جلسہ گاہ کے مقام پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے دھرنا دیے جانے کا بھی امکان ہے، تاہم اسلام آباد کی جانب مارچ نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے نئی تاریخ کا اعلان کیاجائے گا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپورصوابی جلسہ گاہ پہنچ چکے ہیں، بیرسٹر گوہر بھی جلسہ گاہ پہنچ چکے ہیں،

    پی ٹی آئی کے صوابی میں جلسے کے دوران امریکی جھنڈا لہرا دیا گیا، پی ٹی آئی کا ایک کارکن جلسہ میں امریکی جھنڈا لے گیا جس کے بعد کارکنان کی آپس میں تلخ کلامی ہوئی ہے، امریکی جھنڈا لے جانے والے کارکن کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، بعد ازاں امریکی پرچم لہرانے والے کو پولیس نے حراست میں لے لیا.

    تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات وقاص اکرم شیخ صوابی جلسہ گاہ پہنچے انہوں نے شرکا سے خطاب میں کہا کہ پنجاب کی طرف سے آنے والے راستوں کو کنٹینر سے بند کیا ہوا ہے۔ پنجاب کے لوگوں کو جلسے میں شرکت سے روکنے کی کوشیش کی جا رہی ہیں۔ کے پی قیادت میں جلسہ منعقد کیا گیا ہے، پنجاب کے لوگ مہمان ہیں، آج صرف ایک ہی دن کا جلسہ ہے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی جدوجہد آخری مراحل میں ہے۔جب خان کال دے تو کم تعداد میں نہ نکلنا بڑی تعداد میں نکلنا تب عمران خان رہا ہوگا، گھروں میں بیٹھ کر مشورے مت دینا بلکے ہمارے ساتھ میدان میں نکلنا، عمران خان کے سپاہی نکلیں گے اور عمران کی رہائی کے لئے ہر آواز پر لبیک کہیں گے، خان آواز دے گا تو ہر شخص گھر سے نکلے گا،پھر میدان سجے گا، آنسو گیس، ربڑ گولیوں، فسطائیت کا سامنا کرنا پڑے گا پھر خان کی رہائی ممکن ہو گی، گھر بیٹھنے والوں سے نہیں پوچھ سکتا، نکلو گے تو وزیراعلیٰ، چیئرمین ایم این اے، ایم پی اے ساتھ ہوں گے،

    عمرایوب کا کہنا تھا اس بار کفن باندھ کرمیدان میں نکلنا ہے،اہم پیغام آج دیا جائے گا اس کو گھر گھر پہنچانا ہے، آج وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم مستقبل کے لئے، پاکستان کے لئے نکلیں، ہمارے غیور لوگ موجود ہیں، ہمارے اراکین موجود ہیں، قیادت موجود ہے، کارکنان موجود ہیں، فسطائیت کے باوجود ،جیلوں میں ڈالے جانے کے باوجود ہمارے ساتھی نہیں ٹوٹے،ہم انکو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،ہم سب عزم کرتے ہیں جو مشن عمران خان بتائیں گے،ہم نے اس پر عمل کرنا ہے، پاکستان میں مہنگائی ہے، افراتفری ہے، اسکی ذمہ دار حکومت ہے،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ نومبر میں عمران خان کال دیں گے، تب تک واپس نہیں آئیں گے جب تک عمران خان رہا نہیں ہوں گے، عمران خان ہمیں اسی نومبر کے مہینے میں کال دے گا وہ کال یہ ہو گی کہ ہم گھر سے نکلیں گے اور گھر والوں کو بتا کر نکلیں گے کہ تب تک واپس نہیں آئیں گے جب تک عمران خان کو رہا نہ کروالیں،حقیقی آزادی لینے تک ہماری جنگ جاری رہے گی، ہم مریں گے اور ماریں گے، نومبر میں عمران خان کی فائنل کال، علی امین گنڈا پور نے کارکنان سے حلف لے لیا.

  • لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

    سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پر لندن میں حملہ کرنے والے 23 پاکستانیوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں ڈال دیے گئے ہیں۔

    نجی میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اعلیٰ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، جن 23 پاکستانیوں پر حملے کا الزام ہے، ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ ان افراد میں تحریک انصاف کی سابق رکن قومی اسمبلی ملائیکہ بخاری اور لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے مظاہروں میں مشہور ہونے والے شایان علی کا نام بھی شامل ہے۔پاکستانی حکام نے برطانوی حکومت کو ان افراد کی حوالگی کے لیے خط لکھا ہے۔ اگر یہ افراد پاکستان واپس آتے ہیں تو ان پر پاکستان میں درج مقدمات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ فہرست کے مطابق، ان افراد میں سعدیہ فہیم، فہیم گلزار، ماہین فیصل، سدرہ طارق اور حبا عبدالمجید کے نام بھی شامل ہیں۔وقاص چوہان ،محسن حیدر ضمیر اکرم ، سردار تیمور،محمد پرویز علی اور رخسانہ کوثر کے نام شامل ہیں،لسٹ میں شیخ محمد جمیل ،مہران حبیب ذہیر احمد ،رحمان انور، اور محمد صادق خان کے نام بھی شامل ہیں،خدیجہ کاشف ،محمد نوید افضل ،شہزاد قریشی ،سلیمان علی شاہ اور بلال انور کے نام شامل ہیں،پی سی ایل میں ان تمام افراد کے شام شامل کیے گئے ہیں جو مقدمے میں درج ہیں 23 افراد کے علاوہ 153 مزید افراد کے نام بھی پی سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں ،23 افراد کے پاسپورٹ معطل بھی کر دئے گئے ہیں،تمام شامل افراد کی حوالگی کے لیے برطانوی حکام کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے،پاکستان لائے جانے کی صورت میں ان افراد کو گرفتار کر کے شامل تفتیش کیا جائے گ

    لندن پولیس کی جانب سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنے والے ملزمان جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے کےخلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، اور انہیں بہت جلد پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لندن پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لئے اہم شواہد جمع کر لئے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ گزشتہ ماہ لندن میں ہوا تھا، جس کے بعد پاکستانی حکام نے فوری طور پر برطانوی حکام سے رابطہ کیا تھا۔ لندن پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کی ہیں اور جلد ہی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ملزمان کو قانونی طریقے سے پاکستان واپس بھیجا جائے گا تاکہ ان کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزارت خارجہ نے برطانوی ہائی کمیشن کو اس معاملے میں قانونی کارروائی کے حوالے سے ہدایات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے والے تمام عناصر کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

  • کوئٹہ لہولہو،ریلوے اسٹیشن پر دھماکہ،27 افراد جاں بحق،62 زخمی

    کوئٹہ لہولہو،ریلوے اسٹیشن پر دھماکہ،27 افراد جاں بحق،62 زخمی

    کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر دھماکا ہوا ہے،جس میں 27 افراد جاں بحق ہوئے ہیں،پاکستان ریلو ے نے ابتدائی انکوائری رپورٹ جار ی کر دی ہے-

    ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے میں 27 افراد جاں بحق جب کہ 62 سے زائد زخمی ہیں، زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا پو،ریلوے حکام کے مطابق پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس نے9 بجے روانہ ہونا تھا ،ٹرین ابھی تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی ، دھماکاریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ گھر کے قریب ہوا ،دوسری جانب سول اسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹر نور اللہ کے مطابق اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، طبی امداد کے لیے اضافی ڈاکٹرز اور عملہ طلب کرلیا گیا ہے۔ایس ایس پی آپریشنز محمد بلوچ نے کہا ہے کہ بظاہر دھماکا خود کش لگتا ہے، مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    کوئٹہ دھماکہ، عوام خون دینے ہسپتال جائیں تماشا دیکھنے نہ آئیں، کمشنر کوئٹہ
    کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکہ ہوا ہے ، دھماکے میں 24 افراد جاں بحق ہوئے ، دھماکے میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا، عوام خون عطیہ کرنے کے لئے ہسپتال جائیں، عوام تماشہ دیکھنے کے لئے اسٹیشن اور ہسپتال نہیں آئیں ، بس اڈوں ، اسٹیشن اور رش والی جگوں پر جانے سے گریز کریں، خود کش کو روکنا انتہائی مشکل ہے، دہشتگرد ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں ، دھماکہ خودکش تھا جسکی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کرلی ،

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ ریلوے سٹیشن کے قریب دھماکے کی شدید مذمت کی ہے،وزیراعظم نےجاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ہے،وزیراعظم نے زخمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے،وزیراعظم کی جانب سے بلوچستان حکومت سے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی گئی ہے، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ معصوم اور نہتے شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والے دہشتگردوں کو بہت سخت قیمت ادا کرنی پڑے گی،دہشتگردی کی عفریت کے خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر سرگرم عمل ہیں

    صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ چکے ہیں، واقعے کی رپورٹ بھی طلب کرلی گئی ہے اور دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہےبم ڈسپوزل اسکواڈ موقع سے شواہد اکٹھے کر رہا ہے، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے اور نقصانات کا تعین کیا جارہا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اعلیٰ انتظامی حکام سے رابطہ کر کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث عناصر تک پہنچ چکے ہیں، صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری ہیں اور متعدد واقعات میں ملوث دہشت گرد پکڑے جا چکے ہیں،بلوچستان سے دہشت گردوں کا قلع قمع کریں گے۔

    پاکستان ریلوے نے کوئٹہ دھماکہ کی ابتدائی انکوائری رپورٹ جاری کر دی ہے-
    پاکستان ریلوے کی جانب سے ابتدائی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کی نوعیت خود کش لگتی ہے،دھماکے کے وقت پلیٹ فارم نمبرایک پر کوئی ٹرین موجود نہیں تھی.جعفر ایکسپریس نے ساڑھے 8 بجے پلیٹ فارم نمبر 1 پرپہنچنا تھا،دھماکے سے پلیٹ فارم نمبر2 پرموجود مسافر محفوظ رہے،دھماکے کی نوعیت خودکش لگتی ہے،دھماکہ کی پہلی اطلاع کوئٹہ کنٹرول آفس سے 8 بج کر 40 منٹ پرموصول ہوئی۔

    کوئٹہ ڈی سی سعد بن اسد کا کہنا تھا کہ دھماکے کے حوالے سے الرٹ جاری کیا تھا،ریلوے اسٹیشن کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ریلوے پولیس کی ہے،انتظامیہ الرٹ جاری کرتی ہے تو اس کا کچھ مقصد ہوتا ہے،ریلوے کی سیکیورٹی کا آڈٹ کیا جائے گا،دہشت گرد اوپن راستے سے ریلوے اسٹیشن کے اندر آیا۔ آئی جی ریلوے پولیس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ریلوے اسٹیشن پر اٹھارہ پولیس اہلکار تعینات تھے،کہاں پر سیکورٹی لیپس تھا،دیکھ رہے ہیں۔

    کوئٹہ دھماکہ،27 جاں بحق، 62 زخمی، مقدمہ درج
    کوئٹہ: ریلوے اسٹیشن خودکش دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا گیا، مقدمہ ریلوے پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل، اقدام قتل، دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، ریلوے اسٹیشن خودکش دھماکے میں 27 افراد جاں بحق، 62 زخمی ہوئے ہیں،

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ہفتہ کے روز کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ قرار دیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی خبروں سے گہرا دکھ پہنچایا ہے۔انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ زخمیوں کی مدد کریں اور ہسپتال میں میڈیکل ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی ۔ مولانا فضل الرحمان نے اللہ تعالیٰ سے ان کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی۔ مولانا فضل الرحمان نے اس افسوسناک واقعے سے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    کوئٹہ ریلوے اسٹیشن دھماکہ کے زخمیوں کی عیادت ،رکن قومی اسمبلی کوئٹہ صوبائی جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ نے پارٹی وفدکے ہمراہ سول ہسپتال ٹراما سینٹر کا دورہ کیا زخمیوں کے عیادت کیا،وفد میں پارٹی رہنماحیدر خان اچکزئی سحر گل خان نثار اچکزئی شامل تھے،

    ریلوے اسٹیشن دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دھماکہ خودکش تھا حملہ آور نے 7 سے 8 کلو دھماکہ خیر مواد جسم سے باندھا تھا ۔خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضا ٹیسٹ کیلئے فرزانزک لیب بھجوائے جائیں گے ،خودکش حملہ اور کی شناخت کیلئے نادرا سے مدد لی جائے گی ۔دھماکے میں سیکورٹی فورسز کی 16جوان شہید اور 43 زخمی ہوئے ہیں ۔

  • سپریم جوڈیشل کونسل،کمیشن کے الگ الگ اجلاس، اعلامیہ جاری

    سپریم جوڈیشل کونسل،کمیشن کے الگ الگ اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز خط پر کوڈ اف کنڈکٹ 209(8) پر غور کیا گیا،جوڈیشل کونسل کا کوڈ ججز کے علاوہ دیگر اداروں پر لاگو ہوتا ہے،کوڈ اف کنڈکٹ کے معاملے پر مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،آئیندہ اجلاس میں کوڈ اف کنڈکٹ ترمیم پر غور کیا جائے گا،

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دوپہر 1 بجے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جناب جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عامر فاروق، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کونسل نے مختلف ایجنڈا آئٹمز پر تفصیلی بحث کی۔ اس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز بنانے اور اس کے سیکرٹریٹ کے قیام کا معاملہ بھی شامل تھا۔ کونسل نے رجسٹرار کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کونسل کے رولز بنانے کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس کا مسودہ آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ چیئرمین کو 3 ماہ کے لیے کونسل کے سیکرٹری کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک قابل فرد کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ یہ فرد کونسل کے اجلاسوں کی نگرانی کرے گا اور اصول سازی کے عمل کو مضبوط کرے گا۔

    سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209(8) کے تحت ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم پر بھی غور کیا اور اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جائزہ لیا۔ کونسل نے اس معاملے پر مشاورت کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مختلف اداروں کے سربراہان پر اس ضابطہ اخلاق کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔اس کے علاوہ، کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججوں کے خلاف دائر کردہ دس شکایات کا بھی جائزہ لیا۔ کونسل نے شکایت کنندگان سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ ہونے پر ان شکایات کو مسترد کر دیا۔کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ماہانہ بنیادوں پر باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ مقدمات کا بروقت فیصلہ کیا جا سکے اور بیک لاگ کو ختم کیا جا سکے۔ غیر سنجیدہ شکایات کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ کیلئے جج کی نامزدگی پر اتفاق نہ ہوسکا
    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ،اجلاس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوا،اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بنچ کی تشکیل کے سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر غور کیا گیاسندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد شفیع صدیقی کی پیش کردہ تجویز کی توثیق کی گئی،سندھ ہائیکورٹ کے تمام موجودہ معزز جج صاحبان آئینی بنچوں کے ججوں کے لیے نامزد کیا گیا،سندھ ہائیکورٹ کے تمام ججز آئینی بنچوں کیلئے 24 نومبر تک کام جاری رکھ سکیں گے،جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 25 نومبر کو ہو گا،

    دوسری جانب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ پر تجاویز آئی ہیں، فیصلہ ہوا آئندہ اجلاس تک سندھ ہائی کورٹ ججز آئینی مقدمات سن سکتے ہیں، ہائی کورٹ میں ابھی 12 ججوں کی آسامیاں بھی خالی ہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے تھوڑی دیر کے لیے ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کی، پاکستان بار کے نمائندے اختر حسین اہلیہ کی بیماری کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 25 نومبر تک موخر کیا گیا ہے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • بی ایل اے دہشتگرد طلعت عزیز ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل،اہم انکشاف

    بی ایل اے دہشتگرد طلعت عزیز ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل،اہم انکشاف

    بی ایل اے دہشت گرد طلعت عزیز ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو گئے
    صوبائی وزیر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں طلعت عزیز کہا کہ میں جن لوگوں میں بیٹھتا تھا ان کا تعلق بی ایل سے تھا، میری دشمنی کسی سے نہیں ہے، میں پوری قوم سےدرخواست کرتاہوں ایسے لوگوں سے بچا جائے،بی ایل اے ایک دھشت گرد تنظیم ہے۔ میری طرح کئی نوجوان اس منفی پروپیگنڈے کا شکار ہیں، میں نے اچھے نمبروں سے تعلیم حاصل کی، یونیورسٹی میں سکالر شپ ملی، وہاں ایسے طلبا تھے جو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مجھے کہتے تھے کہ میں بلوچستان کی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھاؤں، چھٹیوں میں طلبا نے احتجاج کے لئے قائل کیا اور کہا کہ ایک ایسے تنظیم کا حصہ بنوں جو لوگوں کا قتل عام کرتی ہے،مجھے کہا گیا پہاڑوں پر نئی زندگی ملے گی، بی ایل اے والوں نے مجھے کہا کہ پنجابیوں سے ہماری جنگ ہے میں نے کہا کہ پنجابی میرے بھائی میں نہیں مار سکتا، ان دہشت گردوں کا ایک ہی مقصد تھا عدم استحکام، میں ایک پاکستانی ہوں، بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے،میں اپیل کرتا ہوں خدارا ان کے بہکاوےمیں نہ آ جائیں، میں نے اپنا مستقبل گنوا دیا،مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ قوم کوگمراہ کیاجا رہا ہے، ان لوگوں نے اتنا گمراہ کیا کہ خاندان اور والد کی عزت کے بارے میں بھی نہیں سوچا،دہشتگرد تنظیمیں ہتھیار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے بلوچ اسٹوڈنٹ کا استعمال کرتی ہیں،بی ایل اے ان کا مسئلہ پنجابیوں سے ہیں۔میں پنجاب یونیورسٹی میں تھرڈ ائیر کا طالبعلم ہوں۔مجھے قائل کیا گیا کہ بلوچستان کی آزادی کے لیے ہتھیار اٹھاؤں۔پہاڑیوں پر گیا تو دیکھا کہ اور بھی پڑھے لکھے نوجوان گمراہ ہے حالات دیکھ کر وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا۔

    دوسری جانب صوبائی وزیرعبدالرحمٰن کھیتران نے کہا کہ دہشتگردوں کےنیٹ ورک کوپکڑرہے ہیں، ریاست کیخلاف جو بھی جائےگا وہ دہشتگرد ہوگا،کون سی آزادی تحریک ہے جہاں معصوم لوگوں کونشانہ بنایاجارہا ہے، یہ کون سی قومیت ہے کہ معصوم بچوں کو شہید کر کے آپ آزادی لینا چاہتے ہیں، کیا یہ آزادی ہے یا وحشی پن ہے؟ دہشت گرد نہتے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں، یہ وحشی لوگ ہیں، ہم نے بلوچستان کی تاریخ میں تعلیم کے لیے سب سے بڑا بجٹ دیا،ہم اپنے بچوں کو دنیا کی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ آپ آئیں، ریاست سب کو اپنے سینے سے لگاتی ہے

    دہشتگردوں کی سہولت کار،ملک دشمنوں کی ایجنٹ،ماہ رنگ بلوچ پر مقدمہ درج

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں آٹھویں درخواست دائر

    26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں آٹھویں درخواست دائر

    اسلام آباد،26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے

    سپریم کورٹ میں بی این پی سربراہ اختر مینگل فہمیدہ مرزا، محسن داوڑ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے 26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کیا ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا گیا ہے،دائر درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے لیے جس طرح ووٹ مینج کیے گئے اس کی تحقیقات کروانے کا حکم دیا جائے، آئینی ترمیم کی شق 7، 14، 17 اور 21 کو غیر آئینی قرار دیا جائے،درخواست میں وفاق، جوڈیشل کمیشن، خصوصی پارلیمانی کمیٹی، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور الیکشن کمیشن کے افسران کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست دائر کرنے کے موقع پر محسن داوڑ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سپریم کورٹ کے باہرمیڈیا سے بات چیت بھی کی،محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کو پورے ملک نے دیکھا کس طرح پاس کیا گیا، 26 ویں آئینی ترمیم کو ہم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے،فہمیدہ مرزا اور اختر مینگل بھی درخواست گزاروں میں شامل ہیں، پارلیمنٹ میں عوامی رائے کا مذاق اڑایا گیا، نہ اس پر کوئی بحث ہوئی اورنہ کوئی طریقہ کار فالو کیا گیا، کے پی کی سینیٹ میں نمائندگی نہیں تھی، مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ میں اور محسن داوڑ 26 ویں آئینی ترمیم چیلنج کرنے سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف آج دوسری اور مجموعی طور پر آٹھویں درخواست دائر کی گئی ہے،چار نومبر کو جماعت اسلامی پاکستان نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخوا ست وکیل عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں استدعا کی کہ 26 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی صرف سینیارٹی کے اصول پر ہی ممکن ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے چیف جسٹس کا تقرر غیر آئینی ہے26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کے تقسیم کے اصول کے منافی ہے، یہ کالعدم قرار دی جائے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف