Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں ایک اور سنگِ میل

    پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں ایک اور سنگِ میل

    اسلام آباد: پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کویت کے تعاون سے رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ جدید اور مکمل طور پر ڈیجیٹل اسلامی بینک آئندہ ماہ پاکستان میں اپنے باقاعدہ آپریشنز کا آغاز کرے گا۔ حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں بینک میں 10 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جسے پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال اور جاری اصلاحاتی عمل پر عالمی اعتماد کا واضح اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کو کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی (KIA) کی معاونت حاصل ہے، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے اس منصوبے کی مؤثر سہولت کاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے مالیاتی شعبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جو نہ صرف اسلامی بینکاری کے فروغ میں مدد دے گا بلکہ ڈیجیٹل معیشت کے استحکام میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا۔مشیرِ وزیر خزانہ خرم شہزاد نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی سمت، مالیاتی اصلاحات اور پالیسی تسلسل پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کی عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان مالیاتی، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جو مستقبل میں مزید مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار کرے گا۔خرم شہزاد کے مطابق رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی (Digital Transformation) کے عمل کو تیز کرے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بینکاری نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل بینکاری کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ افراد، خصوصاً نوجوانوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی آبادی کو مالیاتی نظام سے جوڑنا ہے تاکہ مالی شمولیت (Financial Inclusion) کو فروغ دیا جا سکے۔

    حکام کے مطابق رقمی بینک مکمل طور پر ڈیجیٹل اسلامی بینک کے طور پر کام کرے گا، جہاں شریعہ کے مطابق جدید مالیاتی مصنوعات اور خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام سے نہ صرف اسلامی بینکاری کے شعبے میں مسابقت بڑھے گی بلکہ پاکستان کو خطے میں ڈیجیٹل اسلامی مالیات کے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر متعارف کرانے میں بھی مدد ملے گی۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری کے باعث پاکستان میں جدید اور پائیدار مالیاتی نظام کی بنیاد مضبوط ہو رہی ہے۔ عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اصلاحات کے درست راستے پر گامزن ہے اور مستقبل قریب میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو مجموعی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور مالیاتی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • وادی تیرہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے کی  بے بنیاد خبروں کی تردید

    وادی تیرہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے کی بے بنیاد خبروں کی تردید

    وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے وادی تیرہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے کی بے بنیاد خبروں کی تردید کی گئی ہے

    وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وادیٔ تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے،یہ دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں، ان دعوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سیکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے ، وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادیٔ تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا، قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں، ان انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران پُرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے، اِن کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے، یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مقامی آبادی خود خوارج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، اس نوٹیفیکیشن کے تحت (اطلاعات کے مطابق 4 ارب روپے) کی رقم جاری کی گئی ہے یہ رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضاکارانہ طور پر آبادی کی نقل و حرکت کے پیشِ نظر رکھی گئی ہے،اس اقدام کا مقصد پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کرنا ہے، جس میں ٹرانسپورٹ، خوراک کی فراہمی، نقد امداد، اور عارضی قیام و رجسٹریشن مراکز کا قیام اور انتظام شامل ہے، اس دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی، اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے، اور یہ عمل کیمپوں کے بغیر بھی انجام دیا جائے گا، صوبائی حکومت یا اُس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اِس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے، ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور بدقسمتی سے سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے،

  • پاک بحریہ کا بحرہند میں کامیاب ریسکیو آپریشن،سری لنکن شہری کو بچا لیا

    پاک بحریہ کا بحرہند میں کامیاب ریسکیو آپریشن،سری لنکن شہری کو بچا لیا

    پاک بحریہ نے بحر ہند میں طویل فاصلے پر کامیاب ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے سری لنکن شہری کو بچا لیا۔

    اعلامیے کے مطابق پاک بحریہ کے جہازوں تبوک اور معاون نے کھلے سمندر میں بحری جہاز پر موجود سری لنکن شہری کا کامیاب طبی انخلاء کیا،سری لنکن شہری کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی، ریسکیو آپریشن سری لنکن میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹرکی درخواست پر شروع کیا گیا، پاک بحریہ نے اطلاع ملتے ہی فوری طور پر اپنے جہاز روانہ کیے اور بیمار رکن کو بحفاظت نکال لیا، مریض کو فوری طور پر پاک بحریہ کے جہاز تبوک پر ضروری طبی امداد فراہم کی گئی،سری لنکن حکام اور متاثرہ فرد کے اہل خانہ نے فوری ردعمل اور تعاون پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  • متنازع ٹویٹ کیس : ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا،تحریری حکمنامہ جاری

    متنازع ٹویٹ کیس : ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا،تحریری حکمنامہ جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سزا کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی جانب سے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا،عدالت نے مختلف دفعات میں مجموعی طور پر دونوں ملزمان کو 17، 17 برس قید کی سزا سنائی۔تحریری فیصلے کے مطابق 22 اگست 2025 کو NCCIA نے PECA Act کی دفعات 9، 10، 11 اور 26A کی متواتر خلاف ورزی پر ملزمان ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف FIR 234/25 درج کی۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ سنگین الزامات کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا اور محض شاملِ تفتیش کیا گیا، جو کہ آغازِ مقدمہ ہی پر غیر معمولی رعایت شمار ہوتی ہے۔بعد ازاں 29 اگست 2025 کو ایمان مزاری نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی، جسے فوری طور پر منظور کر لیا گیا۔ 5 ستمبر کو وکیل کی عدم موجودگی کے جواز پر ضمانت کی سماعت مؤخر کی گئی، اور 11 ستمبر کو درجن بھر وکلا کی موجودگی میں دونوں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور کر لی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ملزمان کی جانب سے کیس کو غیر سنجیدگی سے لینے کے بیانات اور میڈیا پر عدالتی کارروائی کی تضحیک کا سلسلہ جاری رہا۔

    13 ستمبر کو استغاثہ نے چالان جمع کرایا اور کیس 17 ستمبر کو دوبارہ جج افضل مجوکہ کو مارک ہوا۔ عدالت کے متعدد طلب ناموں کے باوجود ملزمان 20 اور22 ستمبر کو پیش نہ ہوئے، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہوئے۔ 24 ستمبر کو ملزمان پیش ہوئے، اپنے وکلا تبدیل کیے، اور عدالت نے وارنٹ منسوخ کر دیے، حالانکہ اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ناقابلِ ضمانت وارنٹ کے اجراء کے بعد ضمانت خود بخود منسوخ تصور ہوتی ہے۔مورخہ 30 ستمبر کو فردِ جرم کے لیے کیس تین مرتبہ کال ہوا مگر ملزمان پیش نہ ہوئے۔ وکیل کے ذریعے فردِ جرم پڑھ کر سنائی گئی، لیکن ملزمان کی عدم پیشی برقرار رہی۔ بعد ازاں وکیل نے وکالت نامہ واپس لے لیا اور عدالت نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے۔1 اکتوبر کو نئے وکیل قیصر امام پیش ہوئے، جن کی درخواست پر وارنٹ منسوخ کیے گئے اور ناقابلِ ضمانت ضمانت بھی بحال کر دی گئی۔ ملزمان نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جو انہیں فراہم کی گئی۔ 7 اکتوبر، 11 اکتوبر، 13 اکتوبر، 16 اکتوبر، 20 اکتوبر اور 24 اکتوبر کو بھی ملزمان نے مختلف بنیادوں پر التوا کی درخواستیں دیں، کبھی وکیل کی عدم دستیابی، کبھی میعاد درکار ہونے کے نام پر، اور کبھی عدالتی احکامات کو چیلنج کرنے کے جواز پر۔ عدالت نے ہر موقع پر رعایت اور مہلت فراہم کی۔مورخہ 29 اکتوبر کو عدالت نے دن میں متعدد مرتبہ کیس کال کیا، مگر ملزمان بارہا غیر حاضر رہے۔ نتیجتاً ہادی علی چٹھہ کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔مورخہ 30 اکتوبر کو ملزمان پر دوبارہ فردِ جرم عائد کی گئی۔ ایمان مزاری کے وکیل قیصر امام اور سٹیٹ کونسل نے ملزمان کے سامنے ہی فردِ جرم کا جواب دیا اور وارنٹ منسوخی کی درخواست پیش کی۔

    اس موقع پر ہادی علی چٹھہ نے عدالت میں غیر مہذب طرزِ عمل اختیار کیا، تاہم وکیل کی معذرت پر عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وارنٹ منسوخ کر دیے اور مچلکے بحال کر دیے۔ عدالت نے استغاثہ کو اگلی تاریخ پر گواہ دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت دی۔مورخہ 5 نومبر 2025 کی سماعت کے دوران ملزمان نے عدالت کے خلاف غیر شائستہ رویہ اپنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ انہوں نے عدالت کے خلاف MIT کو درخواست دی ہے، اس لیے عدالت سماعت آگے نہ بڑھائے۔ بدتمیزی کے باعث سماعت ملتوی کرنا پڑی۔ بعد ازاں ملزمان نے شہادت ریکارڈ ہونے کے دوران دوبارہ ہنگامہ کھڑا کیا، حتیٰ کہ اپنے وکیلوں سے بھی بدسلوکی کی اور عدالت سے فرار ہو گئے، جس پر دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔ وکیل قیصر امام نے اس صورتحال کے باعث وکالت سے معذرت کر لی۔

    6 نومبر کو ملزمان دوبارہ پیش نہ ہوئے، مگر بعد ازاں 12 بجے کے بعد حاضر ہو کر وارنٹ منسوخی کی درخواست جمع کرائی اور نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔ عدالت نے ایک بار پھر وارنٹ منسوخ کر دیے اور مہلت عطا کی۔مورخہ 8 نومبر، 14 نومبر اور 17 نومبر 2025 کی سماعتوں میں بھی ملزمان مسلسل غیر حاضر رہے، کبھی وکیل کی تبدیلی، کبھی ریاستی وکیل پر اعتراضات، اور کبھی “کچھ دیر میں پہنچنے” کے جواز پر سماعت ملتوی کرواتے رہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سٹیٹ ڈیفنس کونسل کی تبدیلی ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹی کے اختیار میں ہے اور اس فیصلے کو ہائی کورٹ ہی چیلنج کر سکتی ہے۔ ملزمان کو متعدد بار وکیل مقرر کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔اس تمام عرصے میں عدالت نے غیر معمولی تحمل اور نرمی کا مظاہرہ کیا، جو کسی عام شہری کو میسر نہیں ہوتی، مگر اس کے باوجود ملزمان نے التوا، غیر حاضری، وکیل بدلنے, ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مختلف ریلیف اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کو معمول بنا کر ٹرائل کے عمل میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کیں۔ مورخہ 19 نومبر 2025 کو دونوں ملزمان نے ایک بار پھر عدالت میں ٹرائل کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ ملزمہ ایمان زینب مزاری کی جانب سے ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دوپہر کے بعد جمع کرائی گئی، جبکہ ملزم ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہو کر شفاف ٹرائل کے عمل میں مداخلت کرتا رہا۔عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ملزم کے نامناسب طرزِ عمل کے باوجود کسی قسم کی تعزیری کارروائی عمل میں نہیں لائی۔

    ایمان زینب مزاری کی ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی گئی اور استغاثہ کے گواہان کی شہادت ریاستی کونسل کی موجودگی میں ریکارڈ کی گئی۔ملزم ہادی علی چٹھہ نے نہ صرف کارروائی میں مداخلت کی بلکہ اپنی اہلیہ کی وکیل کو بھی عدالت کے احاطے سے نکل جانے پر مجبور کیا۔اس کے بعد ملزمان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ پہنچ گئے جہاں دونوں عدالتوں نے غیر معمولی ریلیف دیتے ہوئے دوبارہ شہادتوں کو ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔اس مقدمہ میں دونوں ملزمان کے 8 وکلا کے وکالت نامے عدالت میں جمع ہیں لیکن ہادی علی چٹھہ نے کراس ایگزیمینیشن خود کی۔ جب آخری گواہ رہ گیا تو دوبارہ ملزمان اپنی پرانی حرکتوں پہ آ گئے اور عدالت کی کاروائی میں رخنے ڈالنے کا آغاز کیا۔ ایمان مزاری طبیعت خرابی کے باعث استثنیٰ مانگتی رہی جو عدالت نے بغیر کسی میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے دو دن تو منظور کی تیسرے دن کاروائی کا حکم دیا تو دونوں ملزمان پھر مفرور ہو گئے جس پر عدالت نے وارنٹ جاری کئے اور ضمانت کینسل کر دی۔

    اس پر دوبارہ 20 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر معمولی ریلیف دیتے ہوۓ دونوں ملزمان کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیا اور 3 دن میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا۔ 22 اگست سے پانچ مہینے گزر چکے ہیں۔ عدالتی کاروائی 4 مہینے سے جاری ہے۔ اس میں اب تک 44 دن عدالتی سماعتیں اور پیشیاں ہوئی ہیں۔ ایک بیانیا بنایا گیا کہ ایمان کا کیس جج مجوکہ دن میں بار بار کال کرتے ہیں جو کہ نارمل نہیں۔ بلکل صحیح بات ہے, کیونکہ ملزمان عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتے۔ عدالت صبح سے آوازیں لگانا شروع کرتی ہے اور کبھی دونوں غائب , کبھی ایک حاضر دوسرا غائب, لیکن عدالت صبر سے ان کی چالاکیاں دیکھنے کے باوجود انتظار کرتی ہے کہ دونوں ملزمان پورے ہوں تو کاروائی کا آغاز کیا جائے۔ یہ سہولت پاکستان میں اور ملزمان کو میسر نہیں۔ لیکن 5 گواہان پر جرح مختلف بہانوں کے زریعے التوا میں ڈالی جا رہی ہے۔ کس چیز کا ڈر ہے۔ جب ٹوئیٹس کی ہیں تو ان کا دفاع کریں۔ ایمان مزاری کی ٹوئیٹس دہشتگرد تنظیموںBLA وغیرہ اور proscribed persons جیسے کہ مہرنگ بلوچ کے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے علاوہ لسانی تفریق کو نمایاں کرتی ہیں ۔ ان کی ٹوئیٹس میں ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹ پہ مبنی بیانیہ ہوتا ہے جو کہ PECA کے تحت جرم ہے۔ دونوں ملزمان کا مجموعی رویہ واضح طور پر دانستہ، ارادی اور مسلسل کوششوں پر مبنی ہے، جن کا مقصد ٹرائل کے عمل کو متاثر کرنا، روکنا اور عدالت کی کارروائی میں خلل ڈالنا ہے۔ملزمان نے عدالت کے وقار کو مجروح کیا، قانونی عمل میں دانستہ طور پر رکاوٹ ڈالی اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مسلسل سبوتاژ کیا۔

  • پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی لہر، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، معیشت مستحکم

    پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی لہر، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، معیشت مستحکم

    خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر پالیسیوں اور حکومتی اصلاحات کے باعث پاکستانی معیشت میں استحکام آنا شروع ہو گیا ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد واضح طور پر بحال ہو رہا ہے۔ مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور معاشی بحالی سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش اور اولین انتخاب بنتا جا رہا ہے۔

    خرم شہزاد کے مطابق سازگار معاشی پالیسیوں، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کار دوست اقدامات نے عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے سرمایہ کاری کے مواقع روشن ہوئے ہیں اور مختلف شعبوں میں غیر ملکی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔حالیہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سرمایہ کار سینٹیمنٹ سروے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری پر اعتماد 61 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستانی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔مشیرِ خزانہ کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنی نیسلے نے پاکستان میں 60 ملین امریکی ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے اور پاکستان کو علاقائی ایکسپورٹ حب بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیسلے پاکستان سے 26 ممالک کو برآمدات کرے گا جس سے مقامی مینوفیکچرنگ مضبوط اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

    اسی طرح آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی اسٹیٹ آئل کمپنی آف آذربائیجان ریپبلک (سوکار) رواں فروری میں پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو حتمی شکل دے گی۔ خرم شہزاد کے مطابق سوکار پاکستانی مارکیٹ کی وسعت، بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب اور اصلاحات کی رفتار کی معترف ہے اور پاکستان کو طویل المدتی توانائی شراکت دار قرار دے چکی ہے۔خرم شہزاد نے بتایا کہ گزشتہ 15 سے 18 ماہ کے دوران 20 سے زائد غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پاکستان آنے والی کمپنیوں میں گوگل، بی وائی ڈی، آرامکو، وافی، ابو ظہبی پورٹس، سیمسنگ، ترکیش پٹرولیم، نووا منرلز سمیت دیگر عالمی ادارے شامل ہیں۔لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں مالی سال 2026 کے جولائی تا نومبر کے پانچ ماہ میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں گاڑیوں کی فروخت میں 32 فیصد، سیمنٹ کی فروخت میں 10 فیصد، کھاد کی فروخت میں 24 فیصد اور موبائل فونز کی فروخت میں 20 فیصد اضافہ ہوا، جو صارفین اور صنعت کاروں کے اعتماد کی بحالی کا واضح ثبوت ہے۔مشیرِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں 1.17 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا جو معیشت کی بحالی کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 سال بعد پہلی بار 2.1 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا جبکہ مہنگائی 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ گئی۔مزید برآں مالی سال 2025 میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، قرضہ جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد پر آ گیا اور بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کا 2.4 فیصد رہا۔

    مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں ترسیلات زر 19.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو 11 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی ایکسپورٹس 437 ملین امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ خرم شہزاد کے مطابق درآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ خام مال، درمیانی اجزاء اور سرمایہ کاری کی اشیاء پر مشتمل ہے جو پیداواری سرگرمیوں کے مستحکم ہونے کا مظہر ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کا سازگار ماحول، بڑھتا ہوا معاشی استحکام اور عالمی کمپنیوں کی دلچسپی ملک کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔ معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے لیے موافق فضا عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مضبوط اشارہ ہے اور یہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ منظور

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ منظور

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2025ء کی منظوری دیدی، اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابا کیا۔

    خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر 2 اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہوگئے، نعرے لگائے اور احتجاجی بینر لہرائے، اسپیکر نے اپوزیشن ارکان کو احتجاج نہ کرنے کی ہدایت کی۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت جاری ہے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2025ء منظور کرلیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے بل پر اعتراضات عائد کیے تھے، بل میں پیپلزپارٹی کی ترمیم منظور جبکہ جے یو آئی کی ترمیم مسترد کردی گئی۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران دانش اسکولز اتھارٹی بل بھی منظور کرلیا گیا، دانش اسکولز اتھارٹی ترمیمی بل 2025ء کی شق 3 اور4 میں ترامیم کی گئیں۔

    پارلیمنٹ نے گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ کا بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا بل کے تحت خواتین، مرد، خواجہ سرا، بچوں اور دیگر کمزور افراد کے تحفظ مدد اور بحالی کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے گا۔

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،مجلس شوریٰ نے سانحہ گل پلازہ پر تعزیتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی،قرارداد میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ فائر فائٹر فرقان علی کو خراج تحسین پیش کرتی ہے،پارلیمنٹ حکومت سندھ کو متاثرین کے خاندانوں کو سہولیات فراہم کرنے کی سفارش کرتی ہے،

  • ڈیووس: بلاول  کی  وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر  سےملاقات

    ڈیووس: بلاول کی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سےملاقات

    سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات ہوئی۔

    ملاقات میں ملکی اور بین الاقوامی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی اقتصادی فورم جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارم پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ قومی ایجنڈے پر کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی امن، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کو عالمی سطح پر مؤثر سفارتکاری جاری رکھنی چاہیے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی و معاشی صورتحال، خطے میں امن و سلامتی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور پاکستان کے مثبت عالمی کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو عالمی برادری کے ساتھ مضبوط روابط استوار کرتے ہوئے اقتصادی سفارتکاری کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

    علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ورلڈ بینک کے صدر اجے پال سنگھ بنگا سے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی جس میں پاکستان میں رہائش اور صفائی و نکاسی آب کے منصوبوں سے متعلق گفتگو ہوئی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی و جغرافیائی حالات کے تناظر میں پاکستان کے مؤقف کو بھی پیش کیا

  • برف باری،شدید موسم،پاک فوج کی جانب سے تیراہ میں امدادی سرگرمیاں

    برف باری،شدید موسم،پاک فوج کی جانب سے تیراہ میں امدادی سرگرمیاں

    برف باری ، شدید موسم، پاک فوج کی جانب سے تیراہ سے عارضی انخلاء کرنے والے شہریوں کے لیے برف باری کے دوران امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    برف باری اور شدید سرد موسم کے دوران پاک فوج نقل تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال کر رہی ہے. برف باری کے دوران پاک فوج اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں پے ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے -متاثرہ افراد کو خوراک، گرم رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات مسلسل فراہم کی جا رہی ہیں۔برف باری کے دوران متاثرہ خاندانوں کے لیے ٹرانسپورٹ اور نقل مکانی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے منظم کیا جا رہا ہے۔بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی خصوصی دیکھ بھال کے لیے الگ انتظامات کیے گئے ہیں۔برف باری کے دوران متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر بحران کی تشخیص اور صورتحال کی نگرانی کے لیے ٹیمیں موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت حل نکالا جا سکے۔پاک فوج کے یہ اقدامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست مشکل وقت میں اپنے شہریوں کی حفاظت اور کفالت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔

  • غزہ بورڈآف پیس میں شمولیت،حکومت ایوان کو اعتماد میں لے،اپوزیشن

    غزہ بورڈآف پیس میں شمولیت،حکومت ایوان کو اعتماد میں لے،اپوزیشن

    اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہےکہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پر حکومت ایوان کو اعتماد میں لے۔

    قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نےکہا کہ وزیراعظم نے فلسطین کے لیے غزہ بورڈ آف پیس کو بغیر مشورہ خوش آئند قرار دیا، حکومت نے ایوان کو نظر انداز کردیا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ایوان میں لائے بغیر اس معاملے پر فیصلہ کرنا غلط ہے، بورڈ آف پیس میں کن شرائط پر شامل ہوئے؟ بتایا جائے۔ اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف اس معاملے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔ ج

    ے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت انتہائی اہم معاملہ ہے، پاکستان کا اس بورڈ میں جانا فقط ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنا ہے۔ حکومت کا فرض ہےکہ وہ بتائےکہ کیا فیصلے کر رہی ہے، آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے چلیں مت لیں، مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ہوتے ہوئے کیا متوازی حیثیت نہیں رکھتا؟ ہماری پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، فلسطینی بہت مجبور حالت میں ہیں مگر ہم اپنی پالیسی تو ٹھیک رکھیں۔ بورڈ آف پیس کا رکن اس قصائی نیتن یاہو کو بنایا گیا ہے جس نے فلسطینی عوام کا قتل عام کیا ہے اور آگے بھی ایسے ہی قتل عام کا ارادہ رکھتا ہے،آج بھی وہاں بمباریاں ہورہی ہیں، اس مجلس میں نیتن یاہو اور شہباز شریف شانہ بشانہ بیٹھے ہونگے۔غزہ پیس بورڈ میں جانا فقط ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنا ہے

    وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جواب میں کہا کہ امت مسلمہ اور قومی مفاد کے تحت فیصلے کرنے ہوتے ہیں، غزہ کی تعمیرنو اور مستقل فائر بندی کے لیے بورڈ آف پیس میں جانےکافیصلہ کیا، اس بات پر ہمیں اتفاق رائے کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔

  • صحافی کالی بھیڑیں نہیں،عظمیٰ بخاری  معافی مانگیں،ورنہ الیکشن نہیں ہوں‌گے،اعظم چوہدری

    صحافی کالی بھیڑیں نہیں،عظمیٰ بخاری معافی مانگیں،ورنہ الیکشن نہیں ہوں‌گے،اعظم چوہدری

    لاہور پریس کلب کے انتخابات میں صدر کے امیدوار، سینئر صحافی اعظم چوہدری نے پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جانب سے صحافیوں کو کالی بھیڑیں اور شرپسند کہنے ،لاہور پریس کلب کے انتخابات دسمبر سے جنوری تک کروانے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے

    اعظم چوہدری کا کہنا تھاکہ عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کی اور پریس ریلیز جاری کی، صحافیوں کو شرپسند ،کالی بھیڑیں کہا، یہ بھی کہا کہ انتخابات پریس کلب کے انکی مرضی کے مطابق دسمبر اور جنوری میں ہوں گے، آپ کو کیسے یہ حق مل گیا کہ مداخلت کریں،صحافیوں کی تقسیم کریں، پریس کلب کے انتخابات کا فیصلہ کریں، صحافیوں کو کالی بھیڑیں کہیں ہم الیکشن لڑیں،ہاریں جیتیں یہ صحافیوں کا اندرونی معاملہ ہے، ہم الیکشن لڑ رہے تھے ، ایک سیدھا ایجنڈہ ہوتا ہے کمیونٹی کے مفاد کا، روزگار کے تحفظ کا ،پلاٹوں کا، یہ اب انہوں نے نیا ایجنڈہ پیدا کر دیا، کہ صحافیوں کو کالی بھیڑیں کہا،شرپسند کہا، یہ انتخاباب تب ہو گا جب حکومت معافی نہیں مانگے گی اور صدر جنہوں نے پریس ریلیز جاری کروائی جب تک وہ معافی نہیں مانگیں گے تب تک ہم انتخابات نہیں ہونے دیں گے