Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • شہید کانسٹیبل عبدالحمید کے قتل کا مقدمہ عمران خان،گنڈا پور نامزد

    شہید کانسٹیبل عبدالحمید کے قتل کا مقدمہ عمران خان،گنڈا پور نامزد

    اسلام آباد ،شہید کانسٹیبل عبد الحمید شاہ کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو نامزد کیا گیا ہے

    واقعہ کا مقدمہ تھانہ نون میں پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ،مقدمہ میں دہشتگردی سمیت 12 دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور علی امین گنڈاپور کی ایماء پر عوام اور پولیس کی جان مال کو نقصان پہنچایا گیا ۔تحریک انصاف کے رہنما عامر مغل اور ساتھیوں نے کانسٹیبل عبد الحمید شاہ کو پکڑا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔تشدد کے بعد کانسٹیبل عبدالحمید بے ہوش اور زخمی پایا گیا جس کو اسپتال منتقل کیا گیا ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،

    ڈی چوک احتجاج،17 مقدمے،گرفتار افراد کی تفصیل

    عمران خان کی بہنوں سے کیا”برآمد ” ہوا؟ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    احتجاج کی آڑ میں شرپسندی،افغان بلوائی پیسے نہ ملنے پر پی ٹی آئی پر برس پڑے

    علی گنڈاپور سمیت شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی، محسن نقوی

    قبل ازیں پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس کے شہید کانسٹیبل کی بلوائیوں کے ہاتھوں جان گئی ہے اس کا خون کس کے ہاتھ تلاش کریں کیا اس کے کوئی بنیادی حقوق نہیں ہیں پی ٹی آئی کا پرانا وطیرہ ہے کہ کارکنوں کو پھنسا کر قیادت خود غائب ہو جاتی ہے

  • آئینی ترامیم،بیٹھک کامیاب،مولانا کی حکومت نے سن لی

    آئینی ترامیم،بیٹھک کامیاب،مولانا کی حکومت نے سن لی

    آئینی ترامیم، مولانا فضل الرحمان مان گئے، حکومت نے مولانا فضل الرحمان کی تجویز مان لی ۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس ایس سی او سربراہ کانفرنس کے بعد بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا

    پارلیمانی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان آئینی ترمیم پر اپنا مسودہ دو سے تین دن میں حکومتی ٹیم کے حوالے کرینگے ۔ گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں آئینی ترامیم کے حوالہ سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، حکومت نے مولانا فضل الرحمان کی تجاویز مان لی ہیں، پہلے مرحلے میں آئینی عدالت کے قیام، ججز کے تقرر کے حوالہ سے ترامیم لائی جائیں گی، پیپلز پارٹی، ن لیگ نے مولانا فضل الرحمان کی تجاویز کا مسودہ مانگ لیا، جلد حتمی شکل دے دی جائے گی،پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قانونی ٹیم اپنا مسودہ جے یو آئی ف سے شئیر کرے گی,مولانا نے آئینی عدالت کے قیام پر مشروط رضا مندی ظاہر کی ہے ۔ججز تقرری کے طریقہ کار سمیت دیگر امور پر ترامیم بعد میں لائی جائیں گی ،پھر کثرت رائے سے 26 ویں آئینی ترامیم منظور کی جائیں گی

    مجوزہ ترمیم کےلئے حکومت کو مولانافضل الرحمان کے مسودے پرآنا پڑےگا،مولانا کی حمایت کے بغیر حکومت کے لئے قومی اسمبلی اورسینیٹ میں دوتہائی اکثریت ناممکن ہے، جلد حتمی مسودہ فائنل ہو جائے گا،مولانا فضل الرحمان حکومت کو آئینی ترامیم کے لئے ووٹ دیں گے، حکومتی وفد مولانا فضل الرحمان سے اس ضمن میں کئی ملاقاتیں کر چکا ہے، گزشتہ روز ایوان صدر میں ہونے والی اہم بیٹھک میں معاملات طے پا گئے ہیں.

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • احتجاج کی آڑ میں شرپسندی،افغان بلوائی پیسے نہ ملنے پر پی ٹی آئی پر برس پڑے

    احتجاج کی آڑ میں شرپسندی،افغان بلوائی پیسے نہ ملنے پر پی ٹی آئی پر برس پڑے

    اسلام آباد میں احتجاج کی آڑ میں شر پسندی کرنے والے گرفتار افغان بلوائیوں کے ہوش ربا بیانات منظر عام پر آ گئے

    پر امن احتجاج کا لبادہ اوڑھے پی ٹی آئی کے شر پسند افغان بلوائیوں نے انتشار اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی تمام حدیں پار کردیں،انتشار اور فساد پھیلانے والے متعدد افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا گیا،پی ٹی آئی کی قیادت کی ایما پر انتشار اور بدامنی پھیلانے والے ان گرفتار افغان باشندوں نے ہوشرباء انکشافات کردیے. گرفتار افغان شرپسند کا کہنا تھا کہ میرا نام خیال گل ہے میرا تعلق افغانستان سے ہے،پی ٹی ائی نے مجھے دو ہزار روپے دن کا لالچ دے کر دھرنے پر بلایا اور توڑ پوڑ کرنے کا کہا، پی ٹی آئی قیادت خود بھاگ کر چلی گئی اور ہمیں یہاں پولیس نے پکڑ لیا ہے، پی ٹی آئی قیادت کے بہکاوے میں آنے پر میں شرمندہ ہوں، انکا ساتھ دینا کسی کام نہ آیا، نہ انہوں نے مجھے پیسے دیے اور نہ ہی وہ مجھے دوبارہ نظر آئے ہیں،

    ایک اور شرپسند کا کہنا تھا کہ میرا نام مولا داد ہے اور ہم تینوں دوست پشاور سے پی ٹی ائی کے دھرنے میں شرکت کے لیے آئے تھے،پی ٹی آئی نے ہمیں پیسوں کا لالچ دیا اور اسلام آباد میں توڑ پھوڑ کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کی ہدایات دی،انہوں نے ابھی تک نہ ہمیں پیسے دئیے ہیں بلکہ حوالات میں ہم انکی وجہ سے بند ہیں، ہماری اپنے افغانی بھائیوں سے گزارش ہے کہ کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہ کریں اور نہ کسی کی گاڑی کو آگ لگائیں،

    ایک اور افغان شرپسند کا کہنا تھا کہ میرا نام عبدالرحمن ہے ، میرا تعلق افغانستان سے ہے اور میں پشاور میں مزدوری کرتا ہوں،میں محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کے لیے حلال روزی کماتا ہوں، مگر پی ٹی آئی جیسی شرپسند جماعت چاہتی ہے کہ ہم انکے دھرنوں میں شامل ہوں،پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ ہم اسلام اباد جا کر وہاں دنگا فساد کریں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایں،میری اپنے افغان بھائیوں سے گزارش ہے کہ ان کی باتوں میں نہ آئے ،

    شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کیخلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے،نام نہاد احتجاج کی آڑ میں شرپسندی کی سازش کے تمام تانے بانے جوڑے جا رہے ہیں اور سخت قانونی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں

    عمران خان کی بہنوں سے کیا”برآمد ” ہوا؟ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

  • گنڈا پورکب ،کہاں اور کیسے بھاگے؟گنڈہ پوری تمنا رہ گئی ادھوری

    گنڈا پورکب ،کہاں اور کیسے بھاگے؟گنڈہ پوری تمنا رہ گئی ادھوری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل عمران خان ،تحریک انصاف کے سپورٹرز اور وہ لوگ جو عمران خان کو رہائی دلوانے کے لیے خیبرپختونخواہ سے اسلام آبادپر حملہ آور ہوئے ان سب کےساتھ پرینک ہوگیا ۔ جب علی امین چوبیس گھنٹے سے زائد غائب رہنے کے بعد اچانک صوبائی اسمبلی میں منظر عام پر آگئے۔مسئلہ ان کےمنظرعام آنے پر بھی نہیں ہوا ۔ مگرجو کہانی انھوں نےاسمبلی کےفلورپربیان کی ۔ اسکے بعد سے پوری پی ٹی آئی دنگ ہوکربیٹھی ہوئی ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کوئی گنڈا پور کوفراڈیا کہہ رہا ہے کوئی جھوٹا توکوئی ڈرپوک۔کیونکہ گنڈاپور کاکہنا تھاکہ آئی جی سن لو، میں کل پوری رات ادھر تھا، کسی نے گرفتار نہیں کیا، رات بھر کے پی ہاؤس میں تھا، کے پی ہاؤس میں کئی بار پولیس نے چھاپے مارے، میں دیکھ رہا تھا، پورے بارہ اضلاع سے گزر کر یہاں پہنچا ہوں۔ مطلب وہ جو یوٹیوبرز نے طوفان بدتمیزی پھیلاہوا تھااورجوامریکہ برطانیہ میں مقیم پی ٹی آئی کے انقلابیوں نے شورمچایا ہوا تھاوہ سب کےسب جھوٹے ثابت ہوگئے ۔ خاص طورپر کچھ صحافی تو بہت بری طرح ایکسپوژ ہوچکےہیں ۔اس لیے ان سب نے اب گنڈاپور کونشانےپر رکھ لیاہے۔ صورتحال یہ ہےکہ جب سے گنڈا پور منظر عام پر آئے ہیں یوتھوبرز کے دو گروپس آپس میں ہی دستوگریبان دیکھائی دیتے ہیں۔ یوٹیوبرز کا ایک بڑا گروپ جو بیرون ملک سےپے رول والے معلوم ہوتے ہیں۔جس میں زیادہ تررپورٹرز اور صحافی ہیں ۔ یہ رج کے گنڈا پور کی بجا رہے ہیں۔بلکہ مطالبہ کررہے ہیں کہ گنڈا پور کوفارغ کیاجائے۔اس کی جگہ کسی اور کوموقع دیاجائے۔ دوسر اگروپ ٹک ٹاکرز بنے یوتھیوبرز ہیں جو محسوس ہوتا ہے کہ خیبرپختونخواہ حکومت کے پلے رول پر ہیں جو گنڈا پور کی گواہیاں دے دے پاگل ہوچکے ہیں ۔ کیونکہ گنڈا پور گیا تو انکی نوکری بھی گئی۔ میں ٹاپ پرصنم اور فلک جاوید ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر ایک رائے یہ بھی دی جا رہی ہےکہ گنڈاپور نے جو کچھ کیا وہ پلان کا حصہ تھااور اس پلان عمران خان کو معلوم تھابلکہ ان کا ہی دیا ہوایہ پلان تھا ۔ کہ گنڈاپور نے لوگوں کو اسلام آباد ڈی چوک پہنچا کرغائب ہوجانا ہے ۔ اسکے بعدتحریک انصاف والوں نے الزام ریاست اور اداروں پر لگانا شروع کردینا ہے ۔ جس کےبعدعوام نے غصہ سے بھپر کرریاست پر حملہ آور ہوجاناہے ۔ مگرسب کچھ پلان کےمطابق چلا پر احتجاجی لیڈر شپ سے زیادہ چلاک نکلے اور انھوں نےقیادت کےبغیر ایک بھی انچ آگے بڑھنےسے انکار کیا ۔ اسکی بھی وجہ ہے کہ پوری جماعت ہی شعبدہ بازوں پر مشتمل ہے یہ صرف سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کے لیے اس میں شامل ہوتے ہیں ۔ ویڈیوزبنائی ، تصویریں بنائیں ۔ پیسہ کمایااور بس ۔ نظریہ کیا ہے اصول کیا ہے اس سے ان کوکوئی لینا دینا نہیں ۔ اسی لیے تو کل سے بہت لوگ یہ کہنے پرمجبور ہوچکے ہیں کہ فراڈجماعت ،فراڈ لیڈرشپ ، فراڈ سپورٹرز اور فراڈ فالورز ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جیسےرانا ثنا اللہ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور ڈرامہ ہے اور پوری پی ٹی آئی اس ڈرامے پر لگی تھی کہ وزیراعلیٰ مسنگ پرسن ہے۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ لیڈر روپوش ہوجائے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو کسی ادارے نے گرفتار نہیں کیا، ان کی کے پی ہاؤس سے بھاگنے کی ویڈیو موجود ہے۔فیصل واوڈا نے کہا کہ اداروں پر الزام لگانے والوں کا منہ کالا ہوگیا، صوبے ساری مشینری، پولیس جوان اپنے ساتھ لے گئے پھر روپوش ہوگئے، اپنے بچے ساتھ لائیں،علی امین لوگوں کو چھوڑ کر چلے گئے۔ میری نظر میں گنڈاپور تو صرف پیادہ تھا عمران خان نےپوری پلاننگ کی تھی کہ عوام کوریاست سے لڑادیاجائے یاصوبےکو وفاق سےلڑا دیا جائے۔ آپ دیکھیں نا خیبرپختونخوا پولیس کے سول کپڑوں میں ملبوس چھ اہلکار ڈی چوک سےگرفتار کے گئے جو آنسوگیس، غلیلوں اور پتھروں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملےکر رہے تھے۔ جبکہ مزید پانچ اہلکاروں کو اٹک کے نزدیک سے گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے دو کا تعلق سی ٹی ڈی اور تین کا کےپی پولیس سے ہے۔ پھر دومخصوص قسم کےیوٹیوبر ز فیلڈ سےمسلسل پراپیگنڈہ رپورٹنگ کرتےرہے کہ ڈی چوک میں مظاہرین پر گولیاں چلا دی گئی ہیں بندے مار دیے گئے ہیں ۔ یعنی یہ مسلسل لوگوں کو اشتعال دلاتے رہے ۔میں حیران یہ ہوں کہ یہ اب بھی آزاد گھوم پھر رہےہیں ۔ کسی ایف آئی اےاورپولیس کو یہ نہ دیکھ رہے ہیں نہ پکڑےجا رہےہیں ۔ حقائق یہ ہیں کہ احتجاج کے دوران شرپسندوں سے اسلحہ، آتشی مواد و دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس نےکافی مظاہرین کو پکڑا لیاہے۔ جبکہ تحریک انصاف کے بہت سے کارکناں اب بھی اسلام آباد میں ٹولیوں کی شکلوں میں موجود ہیں ۔ کیونکہ ابھی تک تحریک انصاف نے اپنے احتجاج کی کال ختم نہیں کی ہے ۔ بلکہ انھوں نے مزید لوگوں کی ڈیوٹیاں بھی لگا دی ہیں کہ وہ بھی پہنچیں ۔ آپ دیکھیں ایک جانب انھوں نےپھنسایا ہوا ہےدوسری جانب دہشتگرد اپنی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔جیسے کل کراچی میں ائیرپورٹ سگنل کے قریب زودار دھماکا ہوا جس کے بعد گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ جس میں تین غیرملکی جان بحق اور سترہ افرادزخمی ہوگئے۔ اس سے پہلے یاد ہو تو جب گنڈا پور لاہورپر حملہ آور ہونے کےلیے آئےتھے توخیبرپختونخواہ میں سفیروں کی گاڑی پردہشتگردوں نےحملہ کر دیا تھا ۔ جبکہ انٹرنیشنل میڈیاتحریک انصاف کاجلسہ ہویا دہشتگردی سے متعلق خبریں ۔ اس کی خوب کوریج کر رہاہے ۔ وجہ ایک ہےکہ پاکستان ایس سی او کانفرنس کا میزبان ہے ۔ تحریک انصاف سمیت ایسے تمام عناصر بس دنیا کوایک پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان غیر محفوظ ملک ہے۔ احتجاج جمہوری حق ضرور ہے لیکن ایک صوبے کے سرکاری وسائل استعمال کر کے دوسرے صوبے یا وفاقی دارالحکومت میں انتشار پھیلانے کی کوششوں کے نتیجے میں ایسے مسائل پیدا ہوں گے جو پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہوں گے

    ریئل اسٹیٹ کا سب سے بڑا فراڈ،سیاستدان ،پولیس شامل،ملزمان دبئی فرار

    وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    5 سے 7 ارب کا فراڈ،لاہور کا پراپرٹی سیکٹر لرز اٹھا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

  • 8 اکتوبر کا تباہ کن زلزلہ،19 برس بیت گئے

    8 اکتوبر کا تباہ کن زلزلہ،19 برس بیت گئے

    8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کو 19 برس بیت گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان و آزاد کشمیر میں 8 اکتوبر 2005 کو آنیوالے زلزلے کے 19 برس مکمل ہو گئے ہیں.8 اکتوبر کے زلزلے میں 80 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے زلزلے سے مظفر آباد اور باغ کے بیشتر علاقے متاثر ہوئے تھے 8 اکتوبرکے زلزلے سے 28لاکھ افراد بے گھر بھی ہوئے تھے، اس زلزلے میں مظفرآباد کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا زلزلے کے بارے میں اطلاعات جوں ہی ملک کے مختلف علاقوں میں پہنچیں سیاسی اور سماجی تنظیموں اور سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے متاثرین کے امداد کے لئے اپنے اپنے طور پر سرگرمیوں کا آغاز کردیا تھا اسوقت کے صدرپاکستان جنرل پرویز مشرف نے ایک ریلیف فنڈ بھی قائم کیا جس میں لاکھوں لوگوں نے عطیات دیئے زلزلہ زدگان کی امداد کے سلسلے میں بیرون ممالک بھی پیچھے نہیں رہے۔ 11 نومبر 2005ء کو وفاقی حکومت اور عالمی اداروں کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سلسلے میں 5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، 57 لاکھ افراد متاثر ہوئے،

    آج سے 19سال قبل 8اکتوبر2005 کی صبح کو ہولناک واقعہ پیش آیا،یہ المناک واقعہ 8بج کر 52منٹ پر زلزلے کی صورت میں پیش آیا.ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.6تھی جس نے آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع کے علاوہ خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں کو بھی بری طرح متاثر کیا.اس زلزلے کے فوری اثرات 30لاکھ افراد کے بے گھر ہونے اور ابتدائی تخمینے کے مطابق 88000 اموات کی صورت میں سامنے آئے. کے پی کے صوبے کا ایک خوبصورت شہر بالاکوٹ جوکہ دریائے کنہار کے کنارے موجود ہے، مکمل طور پر تباہ ہوگیا.کئی سکول مکمل طور پر قبرستانوں میں بدل گے.آزاد کشمیر میں مظفر آباد سے لے کر باغ، راولا کوٹ اور کئی دوسرے علاقوں میں تباہی کے ایسے دلدوز منا ظر تھے کہ ان کو دیکھنے کی تاب کسی میں نہ تھی.ایک اندازے کے مطابق 12000 طلباء وطالبات اور 1500 سے زائد اساتذہ اس زلزلے میں زندہ درگور ہو گئے .5 لاکھ سے زائد گھر تباہ ہوئے جبکہ سینکڑوں کلومیٹر کی سٹرکیں، پُل اور ذرائع مواصلات مکمل طور پر تباہ ہوئے.سرکاری عمارتیں اور ہسپتال زمین بوس ہو چُکی تھی، بہت سی عمارتوں میں کام پر پہنچنے والا عملہ بھی اِن عمارتوں کے ملبے کے نیچے دب کر ہلاک ہوگئے.اِن حالات میں یہ ذمہ داری بھی افواجِ پاکستان کے کندھوں پر آ پڑی جسے اِس نے خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کیا.سول، سرکاری و غیر سرکاری ادارے اس زلزلے کی تباہ کاریوں سے مفلوج ہو چکے تھے.مختلف اضلاع سے رابطہ بھی کٹ چکا تھا.پہاڑی و دشوار گزار علاقوں میں ان حالات میں ریلیف کا کام اور بھی مشکل ہو چکا تھا.چنانچہ فوری طور پر 50,000 فوجی جس میں افسر اور جوان شامل تھے، اس وسیع و عریض علاقے میں بحالی کے کاموں کے لیے بھیج دیئے گئے.اس آفت کے دوران سب نے مل کر ایک قوم کے افراد ہونے کا ثبوت دیا اور محبت وایثار کی لازوال داستانیں رقم کرتے ہوئے تاریخ پاکستان میں درخشاں باب کا اضافہ کر دیا

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہےکہ دو ہزار پانچ کا زلزلہ ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں ناقابل ِفراموش تباہی کا باعث بنا ۔ تاہم، اس تباہی کے دوران ہماری قوم نے بے مثال استقامت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا اور متاثرین کی دل کھول کر مدد کی۔قومی استقامت کے دن پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہاکہ اس زلزلے کے بعد گراں قدر تعاون کرنے پر عالمی برادری، دوست ممالک، سول سوسائٹی اور فلاحی تنظیموں کے مشکور ہیں ۔ ۔ صدر مملکت نے کہاکہ بڑھتا درجہ حرارت، غیر متوقع اور شدید موسمی حالات جیسا کہ سیلاب، خشک سالی، گرمی کی لہراور لینڈ سلائیڈنگ سے ہمارے بنیادی ڈھانچے اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے ۔ صدر مملکت نے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کی استعداد ِکار میں اضافہ کریں ۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے "قدرتی آفات” کے حوالے سے استقامت کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہاہےکہ 8 اکتوبر ہمیں 2005کے تباہ کن زلزلے کی یاد دلاتا ہے – ہماری دلی دعائیں ان تمام لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نے اس زلزلے میں جان و مال کا نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے کہاکہ 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد، 2022 کا سیلاب ماضی کے تمام ریکارڈز توڑنے والی ایک بڑی قدرتی آفت تھی۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا ذمہ دار نہ ہونے کے باوجود اس کے بے پناہ مضر اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ غیر متوقع تباہ کن قدرتی آفات کے بارہا وقوع پذیر ہونے سے پہلے سے ہی مسائل کا شکار ہماری معیشت کو تباہ کن دھچکا پہنچایا ہے۔انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے ایسی قدرتی آفات کے لیے قومی ردعمل کے طور پر ایک پائیدار اور مؤثر طریقہ کار وضع کیا ہے۔ ۔ وزیراعظم نےکہاکہ پاکستان کے عوام بحرانوں کے وقت انسانی ہمدردی اور سخاوت کیلئے اپنی مثال آپ ہیں، 2005 کے زلزلے اور 2022 کے سیلاب کے دوران پاکستانیوں کا ردعمل ان کی فیاضی کی روشن مثال رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ اپنی بہادر عوام کی مدد سے ایسی تمام آفات کا مقابلہ کیا ہے اور کرتے رہیں گے ۔

  • فلسطین پر اے پی سی،صدرمملکت،وزیراعظم،نواز شریف و دیگر شریک

    فلسطین پر اے پی سی،صدرمملکت،وزیراعظم،نواز شریف و دیگر شریک

    صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس آج 7 اکتوبر سوموار کو ایوان صدر میں ہو رہی ہے

    آل پارٹیز کانفرنس میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور شہبازشریف شریک ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اے پی سی میں شریک ہیں،مولانا فضل الرحمان، ایاز صادق، بلاول زرداری،چوہدری سالک حسین، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، خالد مقبول صدیقی، راجہ پرویز اشرف،سید یوسف رضا گیلانی ،عبدالعلیم خان،سمیت دیگر شریک ہیں. ثروت اعجاز قادری، انوار الحق کاکڑ، لیاقت بلوچ، احسن اقبال ،خواجہ سعد رفیق، شاہ غلام قادر، امیر مقام، نیئر بخاری، شیری رحمان، نوید قمر بھی اے پی سی میں شریک ہیں.

    ایسی اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو دنیا کو انصاف نہ دے سکے،نواز شریف
    سابق وزیراعظم نواز شریف نے اے پی سی سے خطاب میں کہاکہ دنیا کے اندر خوفناک قسم کی بربریت والا کیس ہے، جس طرح سے غریب فلسطینیوں کا جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے، کوئی سازو سامان نہیں ہے، کوئی ملٹری طاقت نہیں ہے، اس پر جس بے دردی سے ظلم ڈھایا جا رہا ہے،یہ تاریخ کی بدترین مثال ہے، ہم سب کا دن خون کے آنسو روتا ہے جب ہم بچوں کی خون آلودہ تصاویر دیکھتے ہیں، پورے کا پورا شہر اور انکے علاقے کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں، معصوم بچوں کو والدین کے سامنے شہید کیا جا رہا، ماؤں کی گود سے بچے چھین کر شہید کیئے جا رہے ایسا زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، دنیا نے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اس میں انسانی مسئلہ نہیں سمجھتے بہت سا طبقہ مذہبی مسئلے کے طور پر بیان کرتا ہے اور سمجھتا بھی ہے، جس طرح کا غاصبانہ قبضہ اسرائیل نے کیا اور پھر اقوام متحدہ بے بس بیٹھی ہوئی ہے، انکی پاس کردہ قرارداد پر کوئی عمل نہیں ہو رہا، شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں مسئلہ اٹھایا میں نے تقریر کا ایک ایک لفظ سنا، وہ باتیں کیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے لوگوں نے سراہا،یہ صورتحال افسوسناک ہے،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مظالم جاری ہیں ،وہ بڑی ڈھٹائی سے مظالم کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کوبھی کوئی فکر نہیں، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد پر آج تک عمل نہ ہو سکا، ایسی اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو دنیا کو انصاف نہ دے سکے،مجھے یاد ہے کہ یاسر عرفات جب پاکستان آئے تو میری ان سے دوبار ملاقات ہوئی میں نے انکے جذبات سنے ہوئے، انہوں نے بڑی جدوجہد کی فلسطینی عوام کے لئے، فلسطینیوں کا خون رنگ لا کر رہے گا، اللہ بھی دیکھتا ہے، انسانیت کچھ نہیں کر رہی،اس سلسلے میں شہباز شریف جو روڈ میپ دیا اس پر غورو خوض ہونا چاہئے، اسلامی ممالک کو اکٹھے بیٹھ کر فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئے، اسلامی ممالک کی قوت کا استعمال کب کریں گے، ایک پالیسی بنانا پڑے گی ورنہ ہم اسی طرح بچوں کا خون ہوتا دیکھتے رہیں گے، کچھ نہیں کر پائیں گے، اسرائیل کیوں دندناتا پھرتا ہے اسکے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں، انکو بھی سوچنا چاہئے کہ کب تک فلسطین کے لوگوں کے صبر کا امتحان لیں گے.ہمیں عوامی توقعات پر بھی پورا اترنا ہے، جلدی اقدامات کئے جائیں، تاخیر نہیں ہونی چاہئے،پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے، اسرائیلی جارحیت کے سامنے خاموشی اختیار کرنا انسانیت کی ناکامی ہے

    فلسطین کے دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے،مولانا فضل الرحمان
    اے پی سی میں سٹیج سیکرٹری کےفرائض شیری رحمان نے سرانجام دیئے، اے پی سی سے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ناسور کا سب سے اولین فیصلہ 1917 میں برطانیہ کے وزیر خارجہ کے جبری معاہدے کے تحت ہوا، اس وقت سے فلسطین کی سرزمین پر بستیاں قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، ہمیں پاکستان کی پوزیشن معلوم کرنی چاہئے،پاکستان مین 1940 کی قرارداد میں فلسطین میں یہودیوں کی بستیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا، جب اسرائل قائم ہوا تو قائداعظم نے اسے ناجائز بچہ کہا، بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالہ سے پہلا تبصرہ کیا کیا اور اسرائیل کے صدر نے پہلا بیان کیا دیا کہ دنیا کے نقشے پر نوزائدہ اسلامی ملک کا خاتمہ ہمارا مقصد ہو گا، اب ہمین سوچنا چاہئے کہ کس بنیاد پر ہم نے لوگوں کو مواقع فراہم کئے کہ وہ لوگوں کو ٹی وی پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے حمایت کریں ایسا کیوں ہوا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کیوں ہوئیں؟ حماس نے 7 اکتوبر کو حملہ کیا جس نے فلسطین کے مسئلے پر نوعیت ہی تبدیل کر دی، آج فلسطینی ریاست یا دو ریاستی حل کی بات ہو رہی، ہم دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے، یہ عرب کی زمین ہے،یہاں یہودیوں کی بستیوں کا کوئی جواز نہیں ہے، سات اکتوبر کو آج ہم بیٹھے ہیں، کہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں، سیاسی معاملات پر اختلافات رائے ہے لیکن فلسطین پر ہم سب ایک ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر بھی ہمیں یکجہتی دکھانی چاہئے، دنیا کے اعتماد کے لئے داخلی یکجہتی ضروری ہے.50 ہزار مسلمان شہید ہو چکے ہیں، بچے، خواتین، غیر مسلح ، بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن کے جنازے پڑھے گئے یہ وہ تعداد ہے، دس ہزار کے قریب اب بھی ملبوں تلے دبے ہوئے،جن کے جنازے نہ ہو سکے، امت مسلمہ نے ایک سال میں غفلت دکھائی وہ جرم ہے اور ہم اس جرم میں برابر کے شریک ہیں،کیوں مسلمانوں نے انکی مدد کیوں نہیں کی، کیا ہمیں احساس ہے،ہم سے تو جنوبی افریقہ اچھا ثابت ہوا جو عالمی عدالت چلا گیا، اقوام متحدہ نے قرارداد پاس کی تو اسرائیل نے سیکرٹری جنرل کو اسرائیل آنے سے روک دیا، یہ ساری صورتحال لمحہ فکریہ ہے، ایک کانفرنس،قرارداد،اعلامیہ سے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا حق ادا نہیں کر سکتے، ہم سب مصلحتوں کا شکار ہیں کہیں ایسا، ویسا نہ ہو جائے، ہمیں اس کیفیت سے نکلنا ہو گا،سعودیہ ،ترکیہ، ایران ،مصر کے ساتھ ملکر گروپ بنایا جائے اسلامی ممالک کا، جو اس معاملے کو اٹھائے،

    اعلامیہ سے دو ریاستی حل نکالیں،آزاد فلسطینی ریاست چاہئے، حافظ نعیم کا اے پی سی میں مطالبہ
    حماس کا دفتر پاکستان میں ہونا چاہئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اے پی سی سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے ایک سال میں‌85 ہزار ٹن بارود پھینکا ہے، اسی فیصد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، 42 ہزار شہادتیں ہوئی، صحافیوں، ڈاکٹر ،پیرا میڈیکس کی موت ہوئی، ہسپتال تباہ کئے گئے، اسکولوں، مسجدوں، چرچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ انسانیت کے خلاف بدترین عمل ہے جو اسرائیل کر رہا ہے، ہمیں اس پلیٹ فارم سے فلسطین کی آزاد ریاست کا پیغام جانا چاہئے، دو ریاستی حل درست نہیں، ہم اسرائیل کی سٹیٹ کو قابض گروہ سمجھتے ہیں، سٹیٹ سمجھتے ہی نہیں، بانی پاکستان نے بھی یہی کہا تھا،اسرائیل اب خیموں پر حملے کر رہا، فاسفورس بم پھینک رہا ہے، کل ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں ہوں گے، انکی بنیاد دہشت گردی پر ہے، امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا پشت بان ہے، امریکہ اسرائیل کو نقد امدا د دے رہا ہے تو وہیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے، وہی اسلحہ ہمارے بچوں پر ہو رہا انسانیت کی توہین ہو رہی،امریکا نے کتنے لوگوں کا قتل عام کیا، پاکستان کو حماس بارے واضح مؤقف اپنا چاہئے، میرا مطالبہ ہے کہ حماس کا دفتر پاکستان میں ہونا چاہئے، حماس نے الیکشن جیتا ہے،حماس سیاسی جماعت ہے اسکو اختیار نہیں دیا گیا، وہ الیکشن جیتے ہیں،ہمیں کس بات کا ڈر لگتا ہے، امریکا نے ہمیں ابھی تک دیا کیا ہے؟ ہمیں واضح طور پر ان قوتوں کو جو انسانیت کا نام لے کر قتل کرتے ہیں انکو ایکسپوز کرنا چاہئے، وائیٹ ہاؤس کے باہر احتجاج ہو سکتا ہے ہمیں کہا جاتا ہے ایمبیسی کی طرف نہ جائیں، ان رویوں پر غور کرنا ہو گا.دو ریاستی حل کسی صورت قبول نہیں، صرف فلسطین کی آزاد ریاست کی بات کرنی چاہئے،اتحاد میں ہی ہماری نجات ہے، حسن نصر اللہ، اسماعیل ہنیہ کو اسرائیل کا میزائل لگا ہے، انہوں نے شیعہ سنی نہیں دیکھا، ہمیں اس تقسیم کو ختم کرنا ہے، سعودی عرب ایران کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،پاکستان میں اسرائیل کے حق میں جو آواز ہو گی وہ نہیں ہونی چاہئے، کونسا اسرائیل دو ریاستی حل کو مانتا ہے، اعلامیہ سے دو ریاستی حل والی بات نکالنی چاہئے، اگر آپ کے اوپر کوئی پریشر بھی ہے تو نکال دیں، اگر نہیں نکالتے تو ہمارا مؤقف لکھیں کہ ہمیں فلسطین کی آزاد ریاست چاہئے،دو ریاستی حل کو نہیں مانتے.

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے غزہ کے حوالہ سے منعقدہ اے پی سی میں شرکت سے انکار کر دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی ان حالات میں اے پی سی میں شریک نہیں ہو گی،ہمیں فلسطین پر اے پی سی میں شرکت کی دعوت مل گئی تھی، موجودہ حالات میں پارٹی رہنما اور کارکن گرفتار ہیں اور ان حالات میں اے پی سی میں شرکت نہ کرنےکافیصلہ کیا ہے، پی ٹی آئی کی عدم شرکت سے انکا دوہرا معیار واضح ہو گیا ہے، پی ٹی آئی کو فلسطین کے معصوم بچوں سے نہیں بلکہ اسرائیل سے ہمدردیاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اس اے پی سی میں شرکت نہیں کر رہی.

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ شرمناک! تحریک انصاف نے ایک بار پھر اسرائیل نوازی کا ثبوت دیا ہے۔ غزہ پر حملوں کے خلاف حکومتی میزبانی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کر کے پی ٹی آئی نے اپنی حقیقت واضح کر دی۔ پاکستان کے دشمنوں کے یار اب بے نقاب ہو چکے ہیں!

    https://x.com/Ghulam1082345/status/1843244613009854550

    فہمیدہ یوسفی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تحریک انصاف سے کسی قسم کی اچھائی کی امید رکھنا ایسے ہی جیسے آپ شیطان سے کہیں کہ وہ تائب ہوگیا ہے ،پی ٹی آئی نے فلسطین پر حکومت کی منعقدہ اے پی سی میں شرکت سے متعلق فیصلہ تبدیل کرلیا، بیرسٹر گوہر نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے، اس وقت پی ٹی آئی کا کوئی مرکزی رہنما اسلام آباد میں موجود نہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے پہلے اے پی سی میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب فیصلہ تبدیل کرلیا ہے۔

    https://x.com/fahmidahyousfi/status/1843236281687662889

    واضح رہے کہ عمران خان کی حمایت میں حالیہ دنوں میں اسرائیلی اخبارات میں مضامین بھی شائع ہو چکے ہیں.

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • عمران خان کو غیر معمولی سہولیات،ملاقاتیں،ریاست مخالف تشدد کی وجہ قرار

    عمران خان کو غیر معمولی سہولیات،ملاقاتیں،ریاست مخالف تشدد کی وجہ قرار

    لاہور میں تحریک انصاف کا احتجاج اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی ،بانی پی ٹی آئی کو جیل میں غیر معمولی سہولیات اور ملاقاتوں کی اجازت ریاست مخالف تشدد کی وجہ قرار دے دی گئی

    احتجاج کے بعد درج مقدمات کے متن میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی ملاقاتوں کے دوران سیاسی رہنماؤں کو بدامنی و انتشار پر اکساتے ہیں ۔بانی پی ٹی آئی اور ان کی بہنوں سمیت تحریک انصاف رہنماؤں کے خلاف 9 مئی کی طرز پر مقدمات درج کئے گئےہیں،بانی پی ٹی آئی دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج 4 مقدمات میں 109 میں نامزد ملزم قرار دے دیئے گئے،علیمہ خان ،عظمی خان، علی امین گنڈا پور بھی ہائی پروفائل مقدمہ میں نامزد ملزم قراردیئے گئے،پولیس ریکارڈ میں احتجاج پر درج ہونے والے 20 مقدمات کو ہائی پروفائل قرار دیدیا گیا.شیخ امتیاز ، حماد اظہر ، سلمان اکرم راجہ ،علی امتیاز وڑائچ، رانا شہباز احمد ،شبیر گجر بھی دہشت گردی کی دفعات میں نامزد ہیں،تین اکتوبر سے چھ اکتوبر تک پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کے خلاف 23 مقدمات درج ہوئے مقدمات میں پولیس مقابلوں ۔ کار سرکار میں مداخلت ۔ ڈکیتی کی دفعات بھی شامل ہیں،چھ اکتوبر کو دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات میں 129 افراد گرفتار کئے گئے ہیں.

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر احتجاج میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج

    عمران خان کا ممکنہ ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواست نمٹا دی گئی

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

    وفاقی حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ ،پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیا ہے جس کے بعد فتنہ الخورج نے پی ٹی ایم کی حمایت کا اعلان کردیا

    وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے پی ٹی ایم پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،وزارت داخلہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ” پی ٹی ایم ملک میں امن و سیکیورٹی کیلئے خطرہ ہے، 1997 کے انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 11 بی کے تحت پی ٹی ایم پر پابندی عائد کی جاتی ہے“۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست پاکستان میں شرانگیزی اور تقسیم پھیلانے کی غرض سے2014میں قائم ہونے والی جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں کا محور ریاست مخالف ایجنڈہ ہے، پشتون تحفظ موومنٹ نے 11 اکتوبر2024 کوشرانگیزی کی غرض سے ضلع خیبرمیں نام نہاد”پشتون قومی عدالت“ کے انعقاد کا اعلان کر رکھاتھا،تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے غیور پشتون قبائل میں ریاست مخالف نظریات اور نفرت کا بیج بونے والی کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ فتنتہ الخوارج کا سیاسی روپ دھار چکی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے قیام سے لیکر اب تک اس کی سرگرمیاں بظاہر پشتون عوام کے حقوق کی جنگ ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے،اس کا واضح ثبوت حال ہی میں فتنتہ الخوارج کی جانب سے پشتون قومی عدالت کی حمایت کا اعلان ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ پشتون تحفظ موومنٹ آغاز ہی سے پشتونوں کی مظلومیت کو اپنے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ پشتون قومی عدالت کا انعقاد پاکستان کے حالات کو مزید کشیدگی کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے جس کا واضح ثبوت فتنتہ الخوارج کی حمایت کی صورت میں سامنے ہے۔ فتنتہ الخوارج کو اس کی دہشتگرد سرگرمیوں کی بدولت 2011 میں بین الاقوامی سطح پر کالعدم اور فارن دہشتگرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔ فتنتہ الخوراج کے دہشتگردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں جہاں سے افغان طالبان کی سہولت کاری کے ذریعے پاکستان میں حملے کئے جاتے ہیں۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ فتنتہ الخوراج ان پشتونوں کے حقوق کی بات کر رہی ہے جو سب سے زیادہ اس کی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ فتنتہ الخوراج کی جانب سے پشتون قومی عدالت کی حمایت پی ٹی ایم کے ساتھ گٹھ جوڑ کو ثابت کرتی ہے۔

    فتنتہ الخوراج کے بیان کے مطابق ”ہم مظلوم پشتون اقوام بالخصوص آفریدی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں“۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فتنتہ الخوراج کی جانب سے اس قسم کے بیانات پشتون قوم کو تقسیم کر کے اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل ہے۔ پی ٹی ایم کے سرغنہ منظور پشتین کی جانب سے بھی اکثر ایسے بیانات دیئے گئے ہیں جن سے ان کی ملک دشمنی واضح دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح پی ٹی ایم کی جانب سے پاک فوج اور عوام کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے جس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب فتنتہ الخوراج اور پشتون تحفظ موومنٹ مل کر پاکستان کی سا لمیت کے درپے ہیں،ریاست اور ریاستی اداروں کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے ٹھوس پالیسی مرتب کرکے ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ خیبرپختونخوا کے غیور اور باشعور عوام کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ صرف ریاست ہی کرسکتی ہے۔ فتنتہ الخوراج جیسی دہشتگرد تنظیم کے حمایتی اعلان سے پشتون تحفظ موومنٹ کی سیاسی جدوجہد کو شدت پسندی کی جانب موڑا جا رہا ہے۔ مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں فتنتہ الخوراج کمزورہو چکے ہیں جنہیں اب کسی نئے سہارے کی تلاش ہے۔

    چند روز قبل پی ٹی ایم کے منظور پشتین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے بھی ملاقات کی اور پشتون قومی عدالت میں شرکت کی دعوت دی تھی،ایسے شرپسند عناصر کی سرپرستی صرف اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے سوا اور کچھ نہیں

  • حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کے اسرائیل پر تباہ کن حملے کو ایک سال بیت گیا، اسرائیل نے جوابی کاروائی کی، اسرائیل ایک سال گزرنے کے باوجود حماس سے اپنے یرغمالی رہا نہ کروا سکا، ایک برس کے عرصے میں اسرائیل نے حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا،

    حماس نے سات اکتوبر کو گزشتہ برس اسرائیل پر بڑا حملہ کیا تھا،اس حملے میں 12 سو سے زائد اسرائیلی ہلاک جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس نے سات اکتوبر کی صبح ساڑھے چھ بجے 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کئے تھے،راکٹ حملوں کے بعد حماس جنگجوؤں نے اسرائیل میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ بھی کی تھی، اس روز اسرائیل میں ایک مذہبی تہوار منایاجا رہا تھا، حماس نے اس حملے کے دورا سرائیلیوں کو یرغمال بھی بنایا تھا،حماس نے اس حملے کو فلڈ آف الاقصیٰ کا نام دیا تھا

    حماس کے اسرائیل پر بڑے حملے کے بعد اسرائیلی حکومت ،فوج ،سیکورٹی ادارے تنقید کا نشانہ بنتے رہے کہ اسرائیل حماس کے حملے سے بے خبر کیوں تھا؟ اسرائیل نے 8 اکتوبر کو حماس کے حملے کا جواب دیتے ہوئے فضائی حملہ کیا،اسرائیل نے آپریشن سورڈز آف آئرن شروع کیا اور غزہ کا مکمل محاصرہ شروع کر دیا اور غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں رہنے والے تقریباً 15 لاکھ لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا،اسرائیل نے غزہ پر تباہ کن بمباری کی، اسرائیل حملوں کا آج بھی سلسلہ جاری ہے، غزہ میں ایک برس میں قیامت برپا رہی،غزہ کے لوگ پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا شکار ہیں،غزہ کی تقریباً 70 فیصد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں،ہسپتالوں، سکولوں کو بھی اسرائیل نے نشانہ بنایا، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں اب تک 42 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 16,765 بچے ہیں، تقریباً 98 ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں، 10 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں ،تل ابیب میں 1200 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 8,730 زخمی ہو چکے ہیں ، اسرائیلی حملے کے باعث غزہ کی پٹی میں اب تک 80 فیصد تجارتی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔ 87 فیصد سکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، غزہ کی پٹی میں 144,000 سے 175,000 عمارتوں کو نقصان پہنچا ، 36 میں سے صرف 17 ہسپتال کام کر رہے ہیں، سڑکوں کا 68 فیصد نیٹ ورک تباہ ہو چکا ہے اور کھیتی کے لیے موزوں 68 فیصد زمین بنجر ہو چکی ہے،غزہ کی جی ڈی پی میں 81 فیصد کمی آئی ہے۔ 2.01 لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں،تقریباً 20 لاکھ لوگ بے گھر ہیں، 85 ہزار فلسطینی مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک برس کے دوران حزب اللہ ، حوثی اور ایرانی حکومت سے بھی پنگا لے لیا، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ ،حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت ہوئی،جس کے بعد ایران کی جانب سے حملوں نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے ،جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر اسرائیل آج بھی مغربی ممالک کی جانب مدد کے لئے دیکھ رہا ہے اور اتنے فلسطینوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل اپنے تمام یرغمالی نہیں رہا کروا پایا ہے،اسرائیل گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں ٹن بم برسانے اور ہزاروں فوجیوں کے ساتھ زمینی کارروائی کرنے کے باوجود غزہ سے حماس کا وجود ختم نہیں کرسکا اور اسے آج بھی غزہ میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،غزہ جنگ اب لبنان سے آگے شام، عراق تک پہنچ چکی ہے،ایرانی حملوں کے بعد ممکنہ اسرائیلی ردعمل کے بعد اس جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں نے جنگ بندی کی کئی کوششیں کیں مگر سب رائیگاں رہیں اور اسرائیل حماس کے وجود کو ختم کیے بغیر مستقل جنگ بندی پر راضی نہیں ہوا،نومبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد 4 روزہ جنگ بندی پر دونوں فریقین نے عالمی ثالثوں کی موجودگی میں اتفاق کیا اور اس دوران دونوں اطراف سے قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا مگر بعد ازاں جنگ دوبارہ شروع ہوگئی،بعد ازاں امریکی صدر جوبائیڈن اور دیگر ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کئی کوششیں کی گئیں اور ایک موقع پر اسرائیل اور حماس دونوں امریکی صدر کی پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز اور اس کے نکات پر آمادہ بھی ہوئے مگر اسرائیل کے پیچھے ہٹ جانے اور مستقل جنگ بندی نہ کرنے کے باعث معاہدہ نہ ہوسکا۔

    حماس،اسرائیل مذاکرات ختم، جنگ بندی نہ ہو سکی

     حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر احتجاج میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر احتجاج میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج

    پی ٹی آئی احتجاج میں ترنول جی ٹی روڈ بلاک کرنے توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج کر لیا گیا،

    درج مقدمہ میں وزیراعلی کے پی علی امین گنڈا پورسمیت اعظم سواتی عامر مغل عمر ایوب بیرسٹر سیف بھی ملزم نامزد کئے گئے ہیں،مقدمہ دہشتگردی اقدام قتل سمیت 14 سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا.مقدمے میں ساڑھے تین سو کے قریب نامعلوم کارکنان بھی ملزمان نامزد کئے گئے ہیں،مقدمے میں اعظم سواتی پر مالی معاونت، علی امین پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے، مقدمہ میں کہا گیا کہ پولیس ملازمین پر فائرنگ کرکے یرغمال بنا کر حبس بیجا میں رکھا گیاگرفتار ملزمان نے بتایا بانی پی ٹی آئی کا حکم ہے ہر صورت ڈی چوک پہنچنا ہے ،

    قبل ازیں عمران خان کے خلاف تھانہ نصیر آباد میں ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا،مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات سمیت 13 دفعات شامل ہیں،مقدمے میں پی ٹی آئی راولپنڈی کے 13 مقامی رہنما بھی نامزد کیےگئے ہیں۔ مقدمے میں 200 سے 300 نامعلوم ملزمان کو بھی نامزد کیا گیا ہے،ایف آئی آر کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جیل مینوئل سے ہٹ کر ملاقاتوں کی اجازت دی گئی، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں میں ساری منصوبہ بندی کی گئی تھی،ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے ایم ون موٹر وے پر سڑک بلاک کرکے فائرنگ کی جس سے خوف و ہراس پھیلا، ملزمان اسلحہ، ڈنڈے، پیٹرول بم لے کر اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے، ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور توڑ پھوڑ کی،ملزمان روکنےکی کوشش پرپولیس پر حملہ آور ہوئے، ملزمان بانی پی ٹی آئی کی ایما پر ریاست مخالف نعرے لگاتے رہے، ملزمان نے سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے لگائے اور اشتعال پھیلایا۔ملزمان نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کار سرکار میں مداخلت کی۔

    علاوہ ازیں عمران خان سمیت پارٹی کی مقامی قیادت اور کارکنان کے خلاف تھانہ ٹیکسلامیں مقدمہ درج کرلیا گیا،مقدمےمیں دہشتگردی، اقدام قتل،اغوا، ڈکیتی،کارسرکارمیں مداخلت،پولیس اہلکاروں پرحملے کی دفعات شامل ہیں،مقدمے میں بانی پی ٹی آئی سمیت 14 رہنما اور 105 کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے، پی ٹی آئی رہنما جاویدکوثر، راجہ بشارت،شہریار ریاض،راشدحفیظ، ناصر محفوظ، چوہدری امیر افضل و دیگر بھی مقدمے میں نامزد ہیں۔

    عمران خان کا ممکنہ ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواست نمٹا دی گئی

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا