Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کراچی: موبائل چوری کے الزام میں بدترین تشدد، متاثرہ نوجوان چل بسا

    کراچی: موبائل چوری کے الزام میں بدترین تشدد، متاثرہ نوجوان چل بسا

    کراچی میں موبائل چوری کے الزام میں بدترین تشدد کا نشانہ بننے والا نوجوان چل بسا۔

    باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ ملزمان نے شہری پر 22 ستمبر کو مارٹن کوارٹر کے علاقے میں تشدد کیا تھا اور ویڈیو بھی بنائی تھی۔پولیس حکام کے مطابق تشدد کے دوران مقتول زبیر کے جسم کے مختلف حصوں پر جلانے کے نشان ہیں، بدترین تشدد کے بعد چاروں ملزمان شہری کو چھوڑ کر فرار ہوگئے، مقتول کی لاش کو سول اسپتال پوسٹ مارٹم کیلیے منتقل کردیا گیا۔ایس ایس پی ایسٹ فرخ رضا کے مطابق مقتول چند روز اسپتال میں زیر علاج رہا پھر دم توڑ گیا، واقعہ کا مقدمہ پوسٹ مارٹم کے بعد درج کیا جائے گا، ملزمان کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کر دیا تو ملک میں انارکی ہوگی، نیپرا

    یونیورسٹی روڈ اکھاڑ دیا ، 15منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، علی خورشیدی

    کراچی میں رواں سال ڈکیتوں نے100 افراد کی جان لے لی

  • صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو نشان پاکستان سے نوازا

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو نشان پاکستان سے نوازا

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو پاکستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز، نشان پاکستان، سے نوازنے کی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد کی۔ یہ تقریب ایک اہم موقع پر منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزراء، اور اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ نشان پاکستان دینے کی تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، اور گورنر پنجاب بھی موجود تھے، جو کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا مظہر ہیں۔ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کا یہ دورہ پاکستان وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ہو رہا ہے، اور وہ گزشتہ روز پاکستان پہنچے تھے۔وزیر اعظم ہاؤس میں انور ابراہیم کا شاندار استقبال کیا گیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے انور ابراہیم کو گارڈ آف آنر پیش کیا، جو پاکستان کے ساتھ ان کی مضبوطی کی علامت ہے۔

    دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے مابین دوطرفہ ملاقات ہوئی، جس میں وفود کی سطح پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مختلف مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کا تبادلہ ہوا۔ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، زراعت اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر انور ابراہیم نے کہا کہ ملائیشیا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی روابط اور ثقافتی ہم آہنگی ہیں، جو کہ مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔دونوں رہنماؤں نے غزہ اور کشمیر سمیت علاقائی امور پر اپنے پختہ موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری ان مسائل کے حل کے لیے یکجا ہو تاکہ امن اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
    یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات کی مضبوطی کی ایک مثال ہے، اور اس میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے عزم و ارادے کا واضح اظہار نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے مابین دوستی کے ایک نئے باب کا آغاز کرتی ہیں، جو مستقبل میں مختلف شعبوں میں مشترکہ ترقی کی راہیں ہموار کرے گی۔

  • پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کا عزم، مشرکہ پریس کانفرنس

    پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کا عزم، مشرکہ پریس کانفرنس

    پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے جمعرات کو وزیراعظم ہائوس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے لیے اہم عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، زراعت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا اور غزہ اور کشمیر جیسے اہم علاقائی امور پر اپنے پختہ موقف کا اعادہ کیا۔اجلاس کے بعد، وزیراعظم شہباز شریف اور انور ابراہیم نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی بات چیت میں دوطرفہ مفاد کے مختلف شعبوں پر تفصیل سے غور کیا گیا، جن میں فلسطین اور کشمیر سمیت عالمی امور میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان ملائیشیا کو سالانہ 200 ملین ڈالر مالیت کا حلال گوشت اور 100,000 میٹرک ٹن باسمتی چاول برآمد کرے گا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے یہ بات واضح کی کہ ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان کل تجارت 1.4 بلین امریکی ڈالر ہے، جس میں پام آئل، ملبوسات، ٹیکسٹائل، کیمیکلز اور الیکٹرک مصنوعات شامل ہیں۔

    دفاع اور سرمایہ کاری میں تعاون
    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "ہم نے تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے علاوہ دفاع، سیاحت، زراعت، گرین انرجی، ہنر مند افرادی قوت اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں مزید تعاون کی راہیں تلاش کرنے کے لیے شاندار اجلاس کیا۔” انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر تجارت اور سرمایہ کاری میں نئے افق کی تلاش کریں گے تاکہ دونوں قوموں کے روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم نے پاکستان کے چاول کی درآمد میں رکاوٹوں کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے جلد ہی کراچی میں ملائیشین ٹریڈ آفس کھولے گا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے فلسطینیوں کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہم نے غزہ کی دل دہلا دینے والی صورتحال پر بات چیت کی، جہاں معصوم بچے اور خواتین جان سے جا رہے ہیں۔” انہوں نے اسرائیلی افواج کی طرف سے جاری نسل کشی کی مذمت کی اور فوری جنگ بندی پر زور دیا۔
    اسی طرح، مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کو جلد ہی ان کا حق ملے گا۔”

    تجارتی معاہدوں کا تبادلہ
    دونوں وزرائے اعظم نے مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) اور تعاون کی ایک دستاویز کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب کے دوران، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) اور ملائیشیا ایکسٹرنل ٹریڈ ڈویلپمنٹ کوآپریشن کے درمیان تجارتی تعاون پر مفاہمت کی یادداشت اور پاکستان-ملائیشیا بزنس کونسل (پی ایم بی سی) اور ملائیشیا-پاکستان بزنس کونسل (ایم پی بی سی) کے درمیان حلال تجارت میں تعاون کے لیے ایم او یو کا تبادلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور ملائیشین کمیونیکیشن اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (ایم سی ایم سی) کے درمیان تعاون کی ایک دستاویز پر بھی دستخط کیے گئے۔
    وزیر اعظم انور ابراہیم نے اس موقع پر معروف شاعر علامہ محمد اقبال کی تصانیف کا بہاسا میلیو میں ترجمہ پیش کیا اور اپنی کتاب "ایشیائی نشاۃ ثانیہ” کی اردو کاپی بھی پیش کی۔
    یہ ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارتی اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ایک مضبوط باہمی تعلقات کی تشکیل کا عزم کیا ہے، جس سے نہ صرف دونوں ملکوں کی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ خطے کے امن اور ترقی میں بھی کردار ادا کرے گا۔

  • آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    آرٹیکل 63 اے:پی ٹی آئی کی عدالتی کارروئی سے علیحدگی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آرٹیکل 63 اے تشریح نظرِ ثانی کیس کی عدالتی کارروئی سے علیحدہ ہو گئی-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں پر سماعت کررہا ہے، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل بینچ میں شامل ہیں۔

    وکیل علی ظفر نے کہا ہے کہ عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگئی ہے، ملاقات میں پولیس افسران بھی ہمراہ بیٹھے رہے، ملاقات کوئی وکیل اور کلائنٹ کی ملاقات نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی نے خود ویڈیو لنک پر پیش ہونے کی استدعا کی ہے، پہلے معلوم ہو جائے کہ بانی پی ٹی آئی کو خود دلائل کی اجازت ملتی ہے یا نہیں، ان سے ملاقات آزادانہ نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کون سی خفیہ باتیں کرنا تھیں، آپ نے صرف آئینی معاملے پر بات کرنا تھی، علی ظفر صاحب، آپ بلا جواز قسم کی استدعا کر رہے ہیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، میں باںی پی ٹی آئی کی ہی بات کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ افسر آف کورٹ ہیں، 5 منٹ ضائع ہو چکے۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے بینچ کی تشکیل درست نہیں، حصہ نہیں بنیں گے، اگر بانی پی ٹی آئی کو اجازت نہیں دیں گے تو پیش نہیں ہوں گے، حکومت کچھ ترامیم لانا چاہتی ہے، بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں بینچ قانونی نہیں اس لیے آگے بڑھنے کا فائدہ نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار عمران خان کا نام کیوں لے رہے ہیں، نام لیے بغیر آگے بات کریں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے بات کرنی ہے تو آج سے نہیں بلکہ شروع سے کریں، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں جو بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ آپ کرنے نہیں دے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سیاسی گفتگو کر رہے ہیں تاکہ کل سرخی لگے، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ آج بھی اخبار کی ایک سرخی ہے کہ آئینی ترمیم 25 اکتوبر سے قبل لازمی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اس بات کا معلوم نہیں، حکومت آئینی ترمیم لا رہی ہے اور تاثر ہے عدالت ہارس ٹریڈنگ کی اجازت دے گی، ہم اس بات پر آپ پر توہین عدالت لگا سکتے ہیں، کل آپ نے ایک طریقہ اپنایا، آج دوسرا طریقہ اپنا رہے ہیں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں، آپ ہماری عزت کریں، ہارس ٹریڈنگ کا کہہ کر بہت بھاری بیان دے رہے ہیں، ہارس ٹریڈنگ کیا ہوتی ہے؟ آپ کو ہم بتائیں تو آپ کو شرمندگی ہو گی، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ ہارس ٹریڈنگ کو روکتا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالتوں کا مذاق بنانا بند کریں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت نے 63 اے پر اپنی رائے دی تھی کوئی فیصلہ نہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں اگلے 7 منٹ میں کمرۂ عدالت سے باہر ہوں گا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ویری گُڈ، ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔

    وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ اگر کیس کا فیصلہ دیتے ہیں تو مفادات کا ٹکراؤ ہو گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جو بول رہے ہیں اسے نہ سنیں گے نہ ریکارڈ کاحصہ بنائیں گے، کیا آپ بطور وکیل یا عدالتی معاون ہمیں دلائل دے سکتے ہیں؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ بطور عدالتی معاون دلائل دے سکتا ہوں، جس کے بعد سپریم کورٹ نے علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

    سپریم کورٹ بار اور پیپلزپارٹی نے علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا، چیف جسٹس نے علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ آپ کے دلائل سے مستفید ہونا چاہتے تھےعلی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کہتے ہیں بینچ قانونی نہیں، اس لیے آگے بڑھنے کا فائدہ نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بار بار عمران خان کا نام کیوں لے رہے ہیں، نام لئے بغیر آگے بات کریں۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا اگر صدارتی ریفرنس پر فیصلہ نہیں رائے ہے تو اس پر عملدرآمد کیسے ہو رہا ہے؟ کیا صدر نے کہا تھا یہ رائے آگئی ہے، اب ایک حکومت کو گرا دو؟چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ کو یاد ہے حاصل بزنجو نے ایک سینیٹ الیکشن پر کیا کہا تھا، سینیٹ جیسے ادارے میں الیکشن کے دوران کیمرے لگائے گئے، علی ظفر صاحب آپ کیوں ایک فیصلے سے گھبرا رہے ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ آپ دلائل دیں شاید ہم یہ نظر ثانی درخواست مسترد بھی کر سکتے ہیں جس پر علی ظفر نے بطور عدالتی معاون دلائل کا آغاز کر دیا،علی ظفر نے کہا کہ 63 اے کے حوالے سے صدر نے ایک رائے مانگی تھی، اس رائے کے خلاف نظرثانی دائر نہیں ہو سکتی، صرف صدر پاکستان ہی اگر مزید وضاحت درکار ہوتی تو رجوع کر سکتے تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ایک درخواست آپ نے بھی اس کیس میں دائر کی تھی جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ہم نے فلور کراسنگ پر تاحیات نااہلی مانگی تھی، اس پر عدالت نے کہا آپ اس پر پارلیمان میں قانون سازی کر سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا 63 اے کا فیصلہ دینے والے اکثریتی ججز نے رائے کا لفظ لکھا یا فیصلے کا لفظ استعمال کیا؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ یہ تو اس عدالت نے طے کرنا ہے کہ وہ رائے تھی یا فیصلہ، چیف جسٹس نے کہا کہ مطلب آپ اس حد تک نظر ثانی کی حمایت کرتے ہیں کہ لفظ فیصلے کی جگہ رائے لکھا جائے۔

    جسٹس جمال مندو خیل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میں اور جسٹس میاں خیل پہلے والے بنچ کا بھی حصہ تھے، ہم دونوں ججز پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، علی ظفر نے جواب دیا کہ اعتراض کسی کی ذات پر نہیں بلکہ بنچ کی تشکیل پر ہے۔

    علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ بار کی اصل درخواست تحریک عدم اعتماد میں ووٹنگ سے متعلق تھی، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس اور آئینی درخواستوں کو غلط طور پر ایک ساتھ یکجا کیا، عدالت نے آئینی درخواستیں یہ کہہ کر نمٹا دیں کہ ریفرنس پر رائے دے چکے ہیں، نظر ثانی کا دائرہ اختیار محدود ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی آئین یا سزائے موت سے ناخوش ہوسکتا ہے لیکن عملدرآمد کرنے کے سب پابند ہوتے ہیں، کیا کوئی جج حلف اٹھا کر کہ سکتا ہے آئین کی اس شق سے خوش نہیں ہوں، ہر ڈکٹیٹر کہتا ہے تمام کرپٹ ارکان، اسمبلی اور ایوان کو ختم کر دوں گا، سب لوگ ملٹری رجیم کو جوائن کر لیتے ہیں، پھر جمہوریت کا راگ شروع ہو جاتا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین میں دیئے گئے حق زندگی کے اصول کو کافی آگے بڑھا چکی ہے، کسی بنیادی حق کے اصول کو آگے بڑھانا آئین دوبارہ تحریر کرنا نہیں ہوتا، آئین میں سیاسی جماعت بنانے کا حق ہے، یہ نہیں لکھا کہ جماعت الیکشن بھی لڑ سکتی ہےعدالتوں نے تشریح کر کے سیاسی جماعتوں کو الیکشن کا اہل قرار دیا، بعد میں اس حوالے سے قانون سازی بھی ہوئی لیکن عدالتی تشریح پہلے تھی، عدالت کی اس تشریح کو آئین دوبارہ تحریر کرنا نہیں کہا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جج کون ہوتا ہے یہ کہنے والا کہ کوئی رکن منحرف ہوا ہے؟ پارٹی سربراہ کا اختیار ہے وہ کسی کو منحرف ہونے کا ڈیکلیئریشن دے یا نہ دے، ارکان اسمبلی یا سیاسی جماعتیں کسی جج یا چیف جسٹس کے ماتحت نہیں ہوتیں، سیاسی جماعتیں اپنے سربراہ کے ماتحت ہوتی ہیں۔

    جسٹس امین الدین خان نے استفسارکیا کہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کا انتخاب کون کرتا ہے؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ ارکان پارلیمان اپنے پارلیمانی لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ووٹ کرنے کا حق تو رکن پارلیمنٹ کا ہے، یہ حق سیاسی جماعت کا حق کیسے کہا جا سکتا ہے جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ ارکان اسمبلی کو ووٹ دینے یا نہ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دیتی ہے، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت پر عمل نہ کرنے پر پارٹی سربراہ نااہلی کا ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس حساب سے تو پارٹی کیخلاف ووٹ دینا خودکش حملہ ہے، ووٹ بھی شمار نہیں ہوگا اور نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا، اگر کوئی پارٹی پالیسی سے متفق نہ ہو تو مستعفی ہو سکتا ہے؟علی ظفر نے کہا کہ یہ امید ہوتی ہے کہ شاید ڈی سیٹ نہ کیا جائے اور نشست بچ جائے، عدالت نے قرار دیا کہ کسی کو ووٹ کے حق کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تشریح جمہوری ہے؟ ججز منتخب نہیں ہوتے انہیں اپنے دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے، آپ تو جمہوریت کے بالکل خلاف بات کر رہے ہیں، تاریخ یہ ہے کہ مارشل لاء لگے تو سب ربڑ سٹیمپ بن جاتے ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ملکی تاریخ کو مدنظر رکھ کر بات کرتے ہیں، اسی مقصد کیلئے پارلیمانی پارٹی بنائی جاتی ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک پارٹی سربراہ کا اختیار ایک جج استعمال کرے تو کیا یہ جمہوری ہوگا؟ جج تو منتخب نہیں ہوتے، انحراف کے بعد کوئی رکن معا فی مانگے تو ممکن ہے پارٹی سربراہ معاف کردے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ تاریخ میں تو یہ ہے کہ آمریت آئے تو سب 10 سال چپ کر کے بیٹھ جاتے ہیں، جیسے ہی جمہوریت آتی ہے، سب شروع ہو جاتے ہیں، میگنا کارٹا کے بعد برطانوی جمہوریت سے آج تک وہاں کئی لوگ ناخوش ہیں، اس کے باوجود وہاں جمہوریت چل رہی ہے، یہاں بھی جمہوریت چلنے دیں۔

    پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے کہا کہ 63 اے کے فیصلے میں لکھا ہے ہارس ٹریڈنگ کینسر ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ غلط الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، جج صرف یہ طے کر سکتا ہے کوئی چیز آئینی و قانونی ہے یا نہیں، یہ کوئی میڈیکل افسر ہی بتا سکتا ہے کینسر ہے یا نہیں۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں ووٹ نہ گنے جانے کے حوالے سے قانون سازی کیوں نہ کی؟ تحریک عدم اعتماد آنے والی تھی، اس وقت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا گیا، اس وقت پارلیمنٹ کی جگہ سپریم کورٹ کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، ریفرنس دائر کرنے کے بعد ڈپٹی سپیکر نے تحریک عدم اعتماد اڑا دی، یہاں چیف جسٹس سے کچھ ججز نے رابطہ کیا تو سوموٹو لیا گیا۔

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 63 اے کا فیصلہ صرف ایک جج کے مارجن سے اکثریتی فیصلہ ہے، کیا ایک شخص کی رائے پوری منتخب پارلیمان پر حاوی ہے؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ پارلیمان کو اگر یہ تشریح پسند نہ ہو تو وہ کوئی دوسری قانون سازی کر سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک بندہ سوچتا رہے میں فلاں فلاں کو قتل کروں گا مگر کرے نہ تو کیا سزا ہوگی؟ کیا میں سرخ اشارہ محض توڑنے کا سوچوں تو کیا میرا چالان ہو سکتا ہے؟جمہوریت اس لئے ڈی ریل ہوتی رہی کہ یہ عدالت غلط اقدامات کی توثیق کرتی رہی، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ کل یہاں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ دے کر دیکھیں، کیا ایسے ڈرا دھمکا کر فیصلہ لیں گے،سوشل میڈیا پر چل رہا ہوتا ہے فلاں جج نے ایک ٹھاہ کر دیا، فلاں نے وہ ٹھا کر دیا، اداروں کو اہم بنائیں، شخصیات کو نہیں۔

    علی طفر نے کہا کہ جو کچھ باہر چل رہا ہے اس پر میں آنکھیں بند نہیں کر سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ میں اندر کی بات بتا رہا ہوں، اندر کچھ نہیں چل رہا، وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ میرا مشورہ ہوگا آپ تمام ججز آپس میں مل کر بیٹھیں، ججز رولز بنا لیں، سکون ہو جائے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ججز کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ ادارہ ٹوٹ گیا ہے،آپ ہمیں مفت کا مشورہ دے رہے ہیں تو ایک مفت کا مشورہ ہمارا بھی ہے، آپ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر معاملات طے کر لیں، پھر کہہ دیا جائے گا آپ نے مشورہ دیا ہے، ہم صرف ساتھ بیٹھنے کا کہہ رہے ہیں، بیٹھ کر جو مرضی کریں۔

    علی ظفر نے کہا کہ میں نے ساڑھے 11 بجے کے بعد جو بھی گفتگو کی وہ بطور عدالتی معاون کی، بطور وکیل بانی پی ٹی آئی میں کیس کی کارروائی کا حصہ نہیں ہوں،اس کے ساتھ ہی عدالتی معاون علی ظفر نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔

    عدالت نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کیا ’آپ نے باعزت طریقے سے دلائل دیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ کے مشورے پر انشاء اللہ غور کریں گے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ نیو گینی میں منحرف رکن کا ووٹ نہ گنے جانے کا قانون بنایا گیا تھا، نیو گینی میں عدالت نے اس قانون کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا میں کسی جمہوری ملک میں ووٹ نہ گننے کا قانون نہیں، امید ہے ایک دن ہم بھی میچیور جمہوریت بن جائیں گے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نےپیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا صدر مملکت نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی اکثریتی رائے سے متفق ہیں یا اقلیتی سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ صدر مملکت کی جانب سے ریکارڈ پر کچھ نہیں آیا کہ کس سے متفق ہیں کس سے نہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت معاملہ صدر مملکت کو بھیج دیں کہ وہ فیصلہ کریں کس رائے سے متفق ہیں؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے معاملہ صدر مملکت کو بھجوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواستیں بھی ریفرنس کے ساتھ ہی نمٹائی گئی ہیں، آئینی درخواستیں نمٹانے کا معاملہ صدر مملکت کو نہیں بھیجا جا سکتا، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ریفرنس پر آنے والے رائے کی ریاست پابند ہوگی، ریاست سپریم کورٹ کی رائے کی پابند ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر کوئی رکن ووٹ نہ ڈالے تو وہ بھی نااہل ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے جماعت کا سربراہ رکن کے نہ پہنچنے کی وجہ تسلیم کر لے، آرٹیکل 63 اے واضح ہے تو اس کی تشریح کی کیا ضرورت ہے، سپریم کورٹ میں منحرف اراکین کی اپیلیں بھی آنی ہوتی ہیں، اگر عدالتی فیصلہ ہی نااہلی کا باعث بنے تو اپیل غیر موثر ہو جائے گی۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایت تحریری صورت میں ہی تصور کی جائے گی، حسبہ بل کیس کے مطابق ریفرنس پر رائے جس نے مانگی اس پر رائے کی پابندی لازم ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر صدر مملکت رائے پر عمل نہ کرے تو کیا ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ عدالت صدر مملکت کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔

    فاروق ایچ نائیک نے منحرف رکن سے متعلق پی ٹی آئی کی عائشہ گلالئی کیس کا بھی حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے نام غلط لیا، شاید آپ کو ان سے پبلکلی معافی مانگنی پڑ جائے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ یہ گلالئی پشتو کا لفظ ہے جس کا مطلب بھی دیکھ لیں۔

    بعد ازاں عدالت نے آرٹیکل 63 اے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر نظرثانی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیاسپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، فیصلہ پانچوں ججز نے متفقہ طور پر سنایا ہے۔

    بعدازاں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے عمران خان کو نہ سنے جانے پر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا ہے، عمران خان کو موجودہ بینچ پر اعتراض ہے، ہمارا موقف واضح ہے کہ بینچ کو قانون کے مطابق تشکیل نہیں دیا گیا۔

    واضح رہے کہ 17 مئی 2022ء کو اُس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکن لارجر نے صدر مملکت کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس پر تین دو کی اکثریت سے فیصلہ دیا تھا۔

    ججز نے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ منحرف ارکان اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں کیا کیا جائے گا اور پارلیمنٹ ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے پانچ رکنی لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

  • ملائیشین وزیراعظم کی وزیراعظم ہاؤس آمد، گارڈ آف آنر  پیش کیا گیا

    ملائیشین وزیراعظم کی وزیراعظم ہاؤس آمد، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

    اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملائیشیا کے ہم منصب داتو انور ابراہیم نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: ملائیشیا کے وزیراعظم داتو انور ابراہیم 3 روزہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں، جمعرات کے روز ملائیشین ہم منصب وزیرِاعظم ہاؤس پہنچے تو وزیراعظم شہباز شریف نے مرکزی دروازے پر معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیااس موقع پر پاکستان اور ملائشیا کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ ملائیشیا کے وزیراعظم کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

    وزیراعظم نے معزز مہمان سے وفاقی کابینہ کاتعارف کرایا جبکہ ملائیشین وزیراعظم نے محمد شہباز شریف سے اپنے وفد کا تعارف کرایااس موقع پر داتو سری انور ابراہیم نے وزیراعظم ہاؤس میں پودا لگایا۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    بعدازاں دونوں رہنماؤں کے مابین دوطرفہ ملاقات کے ساتھ ساتھ وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی جس کے ساتھ ساتھ پاکستان ملائیشیا دوطرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں و معاہدوں کا تبادلہ ہوا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر ملائیشیا کے وزیر اعظم پاکستان کا 3 روزہ سرکاری دورہ کر رہے ہیں،ملائیشیا کے وزیر اعظم کے ہمراہ اعلی سطح کا کاروباری شخصیات و سرمایہ کاروں کا وفد بھی پاکستان آیا ہے، وفد پاکستانی کاروباری شخصیات و سرمایہ کارو ں سے ملاقات کرے گا جس سے دونوں ممالک کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، دونوں ممالک کے مابین تجار ت و سرمایہ کاری میں تعاون کے لیے ملائیشیا کے وزیراعظم پاکستان-ملائیشیا بزنس فورم میں شرکت بھی کریں گے۔

    عمران خان کی 6 اور بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں عبوری …

  • پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    باغی ٹی وی: انتشاری جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے ہنگامہ آرائی، ہلڑ بازی اور ملک کا امن تہہ و بالا کرنے کیلئے جلسے جلوسوں اور احتجاج کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے، جسے وہ سیاسی جدوجہد کا نام دیکر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیل میں بند انتشاری ذہن کا مالک دراصل ایک منصوبہ بندی کے ذریعے سب کچھ کر رہا ہے اور یہ ایک ایسا وقت میں کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے معاشی اشاریے بہتر مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کی انتشاری ذہنیت کو یہ گوارا نہیں ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر چلے اور اس سارے عمل کو روکنے کیلئے اس نے خیبرپختونخوا کے شدت پسند وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے ذریعے ملک کو برباد کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔

    اگر نگاہ دوڑائی جائے تو معاشی اعداد و شمار کے مطابق افراط زرجو مئی 2023ء میں 38 فیصد تک چلا گیا تھا، آج یہ سنگل ڈیجیکٹ یعنی کم ہو کر 9.6 فیصد پر آچکا ہے۔ جون 2023ء میں ڈالر 333.5 روپے تک جا پہنچا تھا مگر آج جی ڈی پی کی نمو میں ریکوری سے کرنسی ایکسچینج ریٹ اور روپیہ مستحکم ہو گیا ہے آج ڈالر 277.72 روپے تک آچکا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف

    آئی ایم ایف کی جانب سے 7 ارب ڈالر مالیت کا پروگرام منظور کیا گیا۔ بہترین معاشی اقدامات کے باعث پاکستان کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی سٹاک ایکسچینج بن کر ابھری۔ سٹاک مارکیٹ میں سرفہرست 86 کمپنیوں نے 1.7 ٹریلین روپے کا ریکارڈ منافع کمایا۔ جون 2023ء میں کے ایس ای 100 انڈیکس 41452.69 پوائنٹس پر تھا آج یہ انڈیکس 82463.05 پوائنٹس پر پہنچ چکا ہے۔

    وفاقی حکومت تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی بڑی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، ہماری برآمدات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔بہتر معاشی اشاریوں کے باعث موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ سی سی 2 سے سی سی 3 کردی ہے، بہتری ہوتی معیشت کے پیش نظر حکومت نے اس کے فوائد عام عوام تک بھی منتقل کرنا شروع کردیئے ہیں اور سب دیکھ رہے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت ہر پندرہ روز کے بعد کم کی جا رہی ہے اسی طرح سب سے عام استعمال اور ضروری چیز آٹے کی قیمت جسے کچھ عرصہ قبل پر لگ چکے تھے اب غریب آدمی کیلئے بھی قابل خرید ہے۔

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

    سب سے سنجیدہ اور تشویشناک امر یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملائیشین وزیراعظم اپنے پہلے دورہ پاکستان پر موجود ہیں تو پی ٹی آئی کا خیبرپختونخوا کا وزیر اعلیٰ جو شرپسندوں کے جتھے لیکر کبھی حملہ آور ہوتا ہے اسلام آباد، کبھی لاہور اور کبھی راولپنڈی تو اس نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور ساتھ ہی دھمکی بھی دے رہا ہے کہ اگر ایک گولی چلے گی تو وہ دس گولیاں چلائے گا۔ اسی بیانیے کو پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا وائرل بھی کر رہا ہے یعنی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہلڑ بازی کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔اس سے پہلے 9مئی کا سانحہ اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں کہ کس طرح معصوم لوگوں کو ورغلاء کر اُن کو ریاست کے سامنے کھڑا کیا گیا اور بعد میں پی ٹی آئی کی قیادت نے اُس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

    اس طرح کے شرپسند اعلانات اور دھمکیوں سے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس وقت پاکستان میں مکمل طور پر سیاسی عدم استحکام ہے۔ یہی ایجنڈا یہ شرپسند جماعت اپنے سوشل میڈیا پر پھیلا رہی ہے اور باہر بیٹھے پاکستانیوں، اہم شخصیات کویہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، وہاں کوئی بھی غیر ملکی دورہ اور سرمایہ کاری نہیں کی جا سکتی۔

    امریکی خفیہ ایجنسی نے چین، ایران اور شمالی کوریا میں جاسوسوں کی بھرتیاں …

    پی ٹی آئی کی جانب سے اس شدت پسندی اور شرپسندی کا بڑا ایجنڈا پاکستان میں 15 اور 16 اکتوبر کو ہونے والی ایک بڑی شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس بھی ہے، جسے وہ سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہی ہے سب واضح نظر آرہا ہے کہ 4 اکتوبر کو انہوں نے ڈی چوک میں احتجاج کی کال دی ہے ظاہر ہے کہ جب ملائیشین وزیراعظم پاکستان میں موجود ہے تو وفاقی حکومت میں ویسے ہی سکیورٹی ہائی الرٹ ہو گی اور انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اس شرپسند جماعت کے سیاسی جتھوں کو روکیں گے جس سے یہ بے قابو ہو جائیں گے اور ٹکراؤ ہونا نوشتہ دیوار ہے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم ایک بڑا بین الاقوامی فورم ہے جس میں پاکستان سمیت دوست ملک چین، روس، بھارت، بیلوروس، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان جیسے ممالک شامل ہیں اور اس کی فورم کی اس خطے میں اپنی ایک اہمیت ہے۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    ایک ایسی کانفرنس جس کی بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت ہے اس کے انعقاد پر پاکستان یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ یہ ملک بڑے ممالک کے سربرہان کی میزبانی کیلئے تیار ہے اس موقع پر شرپسند جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال دینا، ڈنڈے، اسلحہ اور خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کے ساتھ ساتھ شرپسند عناصر کو لیکر دھرنا دینے کی دھمکی یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ جماعت ملک دشمن ایجنڈے پرچل رہی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرکے اپنے مذموم مقاصد کا حصول ہے۔

  • نواز شریف کا جارہانہ خطاب: عمران خان، خیبرپختونخوا حکومت اور عدلیہ پر سخت تنقید

    نواز شریف کا جارہانہ خطاب: عمران خان، خیبرپختونخوا حکومت اور عدلیہ پر سخت تنقید

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک جارحانہ خطاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، خیبرپختونخوا حکومت اور عدلیہ پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم عمران خان کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ ڈی چوک میں کھڑے ہوکر ایک منتخب وزیراعظم کو رسہ ڈالنے کی دھمکیاں دینے والا شخص آج جیل میں ہے۔ نواز شریف نے کہا، "یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔”نواز شریف نے لاہور میں پنجاب حکومت کے تحت شروع کیے گئے ‘اپنی چھت اپنا گھر’ اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پنجاب پر یلغار کی باتیں ہو رہی ہیں۔ نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان لڑائی کرانا چاہتے ہیں تاکہ خون خرابہ ہو؟ انہوں نے کہا، "یہ کبھی نہیں ہوگا، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
    نواز شریف نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں بیٹھے شخص سے پوچھا جانا چاہیے کہ اس نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایک ارب درختوں کا منصوبہ اور دیگر بڑی اسکیمیں کہاں ہیں؟ نواز شریف نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت صرف مار دھاڑ میں نمبر ون اور کارکردگی میں صفر ہے۔نواز شریف نے آئی ایم ایف سے متعلق اپنی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ن لیگ کی حکومت میں آئی تو انہوں نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا تھا، لیکن مخالفین نے دوبارہ آئی ایم ایف کا سہارا لیا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ کی سیاست اور خدمت کی سیاست میں واضح فرق ہوتا ہے اور ن لیگ ہمیشہ عوام کی خدمت کی سیاست کرتی آئی ہے۔
    نواز شریف نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس آج بھی وہ آڈیو موجود ہے جس میں ثاقب نثار کہہ رہے تھے کہ "نواز شریف کو نکالنا ہے اور عمران خان کو لانا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے اس آڈیو پر سوالات نہیں اٹھائے جو افسوس کی بات ہے۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ ریاست کے ستونوں نے پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور 5 ججوں نے 25 کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا، لیکن ان سے کسی نے سوال نہیں کیا۔نواز شریف نے واضح طور پر کہا کہ ان عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے جو پاکستان میں افراتفری اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ملکی ترقی کو پیچھے دھکیلا اور عوام کو دھوکے میں رکھا۔
    نواز شریف نے ‘اپنی چھت اپنا گھر’ اسکیم کو پنجاب حکومت کا ایک شاندار منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ یہ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرنے کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ن لیگ کی حکومت کو کام کرنے دیا جاتا تو آج ملک میں کوئی بھی بے گھر نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا، "ہمیں کبھی اڑھائی سال تو کبھی تین سال بعد نکال دیا گیا، جس کی وجہ سے ملکی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر توجہ دیتی آئی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمیں ہمیشہ کام سے روکا گیا۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت جب بھی ترقی کے چار قدم آگے بڑھتی، مخالفین آٹھ قدم پیچھے دھکیل دیتے، جو کہ پاکستان کی بدقسمتی ہے۔
    نواز شریف نے اپنے خطاب میں ن لیگ کی حکومت کی کارکردگی کا بھرپور دفاع کیا اور پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عوامی خدمات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے عناصر سے نمٹا جائے جو ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔نواز شریف کا یہ خطاب ان کے مستقبل کے سیاسی عزائم اور عوام کی حمایت کے حصول کی کوششوں کا حصہ تھا، جس میں انہوں نے اپنی پارٹی کی خدمات کو اجاگر کیا اور مخالفین پر سخت تنقید کی۔

  • اسرائیلی شہر میں فائرنگ، 8 افراد ہلاک، 7 زخمی

    اسرائیلی شہر میں فائرنگ، 8 افراد ہلاک، 7 زخمی

    اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے قریب واقع اسرائیلی شہر جافا میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی کو موصول غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعہ منگل کو حال ہی میں یروشلم اسٹریٹ پر تعمیر کیے جانے والے ایک لائٹ ریل اسٹیشن پیش آیا۔امریکی نیوز چینل کے مطابق مقامی حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ مبینہ طور پر دہشت گرد حملہ ہے۔حکام کا مزید کہنا ہے کہ لوگوں کے ایک ہجوم پر فائر کرنے والے کم از کم دو افراد کو پکڑا گیا ہے۔

    ایران کے میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی: اسرائیلی فوج

    واضح رہے کہ آج ہی ایران نے اسرائیل پر سینکڑوں میزائل فائر کیے ہیں جن میں اسرائیل نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کا اعلامیہ جاری کیا۔

  • ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملہ: ایک نئی جنگ کا آغاز

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملہ: ایک نئی جنگ کا آغاز

    ایران نے اسرائیل پر ایک بڑی میزائل حملہ کیا ہے، جس کی تصدیق اسرائیلی فوج نے کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل کے شہر تل ابیب کو ہدف بنا کر 400 بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس کے بعد پورے اسرائیل میں سائرن بجنے لگے ہیں۔ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال میں ایک نئی شدت کا باعث بن سکتا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق، ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کا نشانہ تل ابیب تھا، جہاں مختلف مقامات پر سائرن کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں، اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے فوری طور پر ایک جنگی کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ اس نازک صورتحال پر غور کیا جا سکے۔ اسی دوران، امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ میٹنگ بلالی ہے تاکہ اس حملے کے مضمرات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
    امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، حالیہ دنوں میں یہ افواہیں گئیں کہ ایران آئندہ 12 گھنٹوں کے اندر اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس کے جواب میں، نیو یارک ٹائمز نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بم شیلٹر کے قریب رہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اس صورت حال کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
    اس حملے کے پس منظر میں، یہ بات اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس وقت، عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کشیدہ صورتحال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
    ادھر امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد قومی سلامتی کا اجلاس طلب کر لیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا اسرائیل کا بھرپور دفاع کرے گا، میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بھی اپنی جنگی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ایران کی طرف سے داغے جانے والے اردن کی فضا سے گزر کر اسرائیل کی طرف جا رہے ہیں جب دوسری جانب لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پرراکٹ حملے شروع کر دیے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے اس حملے کو حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی شہادت کا بدلہ قرار دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس واقعے کے جواب میں شدید کارروائی کر رہا ہے۔
    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی حکومت اور امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا تھا کہ ایران آئندہ چند گھنٹوں میں اسرائیل پر مزید حملے کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ خدشات اس وقت بڑھ گئے تھے جب اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کو ہدف بنایا تھا، جس کے بعد ایران کے سخت ردعمل کا امکان تھا۔
    اسرائیل کے دفاع کے لیے، رواں برس اپریل میں شام میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے بعد، امریکہ اور مغربی اتحاد اس وقت سامنے آئے تھے جب ایران نے اسرائیل پر بیک وقت میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔یہ حملہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کی ایک نئی مثال ہے، جس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کشیدہ صورت حال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

  • شمالی وزیرستان ہیلی کاپٹر حادثہ: دو روسی اور ایک بیلاروسی پائلٹ کی ہلاکت، روسی سفارت خانے کی تصدیق

    شمالی وزیرستان ہیلی کاپٹر حادثہ: دو روسی اور ایک بیلاروسی پائلٹ کی ہلاکت، روسی سفارت خانے کی تصدیق

    اسلام آباد: 28 ستمبر کو خیبر پختونخواہ کے علاقے شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے کے حوالے سے روسی سفارت خانے نے باضابطہ بیان جاری کیا ہے، جس میں اس افسوسناک واقعے میں دو روسی اور ایک بیلاروسی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر شیوہ آئل فیلڈ کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا اور حادثے میں چھ افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔روسی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "پاکستان میں واقع روسی سفارت خانے کی جانب سے نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ 28 ستمبر کو شمالی وزیرستان خیبر پختونخواہ میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے میں دو روسی شہریوں نکولائی ریباکووچ اور سیمویل مردوئین، اور ایک بیلاروسی پائلٹ سرگئی کوشیلوف کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے”۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہم اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کے اہل خانہ اور احباب سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔یہ افسوسناک حادثہ 28 ستمبر بروز ہفتہ شمالی وزیرستان کے شیوہ آئل فیلڈ کے قریب اس وقت پیش آیا جب ماڑی پیٹرولیم کمپنی کا چارٹرڈ ہیلی کاپٹر اڑان بھرتے ہی تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کا شکار ہونے والا ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر تھا، جس میں تین غیر ملکی پائلٹس سمیت کریو اور 14 مسافر سوار تھے۔
    ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے میں چھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ آٹھ زخمی ہوئے۔ایوی ایشن ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر پاکستان میں چارٹرڈ پروازیں فراہم کرنے والی کمپنی "پرنسلے جیٹ” نے روس سے ویٹ لیز پر حاصل کیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر عملے سمیت لیز پر لیا گیا تھا۔ حادثے کی وجوہات کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم ابتدائی رپورٹوں کے مطابق تکنیکی خرابی اس حادثے کا سبب بنی۔روس اور بیلاروس کی حکومتوں کے درمیان اس حادثے کے بعد تعاون کا عمل جاری ہے، جبکہ پاکستانی حکام بھی حادثے کی تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ روسی اور بیلاروسی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے حادثے کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔حادثے کے بعد جائے وقوعہ کی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں، جن میں تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام نے علاقے کو فوری طور پر سیل کر دیا تھا اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا۔ ماڑی پیٹرولیم کمپنی کی جانب سے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کمپنی اس افسوسناک واقعے کی مکمل تحقیقات میں تعاون کرے گی۔ کمپنی کے بیان کے مطابق، "ہم حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہیں۔”