Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرٹیکل 63 اے کیس: آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا،چیف جسٹس

    آرٹیکل 63 اے کیس: آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل نے سپریم کورٹ کے نئے بینچ کی تشکیل پر اعتراض عائد کردیا-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ آرٹیکل 63 اے نظرثانی اپیلوں پر سماعت سماعت کر رہا ہے، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل لارجر بینچ میں شامل ہیں۔

    سماعت کے آغاز پر صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت اور پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل علی ظفر نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو بعد میں سنیں گے ابھی آپ بیٹھ جائیں، جس پر علی ظفر نے کہا کہ ہمیں بینچ کی تشکیل نو پر اعتراض ہے، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سے کہا ہے کہ آپ کو بعد میں سنیں گے، ہم چیزوں کو اچھے انداز میں چلانا چاہتے ہیں آپ بیٹھ جائیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جو ہوا ہے، وہ کورٹ میں بتادوں، کل جسٹس منیب اختر کو خط لکھا، اُنہوں نے وہ پوزیشن برقراررکھی، میں نے جسٹس منصورعلی شاہ کو کمیٹی میں بلایا، وہ نہیں آئے، ان کے سیکرٹری سے رابطہ کیا تو اُن کے اسٹاف نے اُن سے رابطہ کیا، اسٹاف نے بتایا کہ جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل نہیں ہوں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچا، میں نہیں چاہتا دوسرے بینچز کو ڈسٹرب کیا جائے، نعیم افغان کو نئے لارجر بینچ میں شامل کرلیا گیا، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے آج کے اجلاس کے منٹس جاری کیے، کمیٹی کے منٹس سپریم کورٹ ویب سائٹ پربھی اپ لوڈ کردیے گئے ہیں آج کل سب کومعلوم ہے سپریم کورٹ میں کیا چل رہا ہے، آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا، اب لارجر بینچ مکمل ہے کارروائی شروع کی جائے۔

    سپریم کورٹ بار کے وکیل اور صدر شہزاد شوکت نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 18 مارچ کو سپریم کورٹ بار نے درخواست دائر کی، 21 مارچ کو 4 سوالات پر مبنی صدارتی ریفرنس بھجوایا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ریفرنس اور آپ کی درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جاسکتا تھا؟۔

    سپریم کورٹ بار کے وکیل نے کہا کہ 27 مارچ اس وقت کے وزیراعظم نے ایک ریلی نکالی، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر بات نہ کریں۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ اس کیس میں صدارتی ریفرنس بھی تھا اور184/3 کی درخواستیں بھی تھیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنس پر رائے اور 184/3 دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں، دونوں کو یکجا کرکے فیصلہ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ صدراتی ریفرنس پر صرف رائے دی جاسکتی ہے، فیصلہ نہیں دیا جاسکتا، کیا دونوں دائرہ اختیار مختلف نہیں ہیں؟ صدارتی ریفرنس پر صرف صدر کے قانونی سوالات کا جواب دیا جاتا ہے، صدراتی ریفرنس پر دی رائے پر عمل نہ ہو تو صدر کے خلاف توہین کی کارروائی تو نہیں ہوسکتی،میں سرپرائزڈ ہوں کہ کیسے دو حدود ایک ساتھ کلب کی گئیں، اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست دی گئی، اس وقت حکومت کس کی تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سپریم کورٹ بار کے وکیل شہزاد شوکت سے استفسار کیا کہ اس وقت صدر پاکستان کون تھا؟ جس پر شہزاد شوکت نے بتایا کہ اس وقت عارف علوی صدر مملکت تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ وہی حکومت بطورِ حکومت بھی اس کیس میں درخواست گزار تھی، شہزاد شوکت نے آرٹیکل 63 اے پڑھ کر سنا دیا۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ صدر کی جانب سے قانونی سوالات کیا اٹھائے گئے تھے؟ جس پر وکیل سپریم کورٹ بار نے بتایا کہ صدر پاکستان نے ریفرنس میں 4 سوالات اٹھائے تھے، آرٹیکل 63 اے کے تحت خیانت کے عنصر پر رائے مانگی گئی، عدالت نے کہا آرٹیکل 63 اے کو اکیلا کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، عدالت نے قراردیا کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے لیے اہم ہیں، عدالت نے قراردیا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف سیاسی جماعتوں کے لیے کینسر ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فیصلے میں منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کا بھی لکھا گیا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ منحرف ارکان کا ووٹ کاسٹ نہیں ہوگا ڈی سیٹ کرنے کا حکم فیصلے میں نہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ آئین میں تحریک عدم اعتماد،وزیراعظم اوروزیراعلی کا انتخاب اورمنی بل کی وضاحت موجود ہے، جب آئین واضح ہے تو اس میں اپنی طرف سے کیسے کچھ شامل کیا جاسکتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ برطانیہ میں حال ہی میں ایک ہی جماعت نے اپنے وزیراعظم تبدیل کیے، اس دوران جماعت نے ہاؤس میں اکثریت بھی نہیں کھوئی۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ فیصلے میں کہاگیا انحراف کرپٹ پریکٹس جیسا ہے، فیصلے میں کہاگیاکہ کوئی ایک مثال موجود نہیں جس میں انحراف ضمیر کی آواز پر کیا گیا ہو، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کے ضمیر کا معاملہ طے کرنا مشکل ہے، کیا فیصلہ آرٹیکل 95 اور 163 کو متاثر نہیں کرتا؟ کیا پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے جیسا نہیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ جو لوگ سیاسی جماعتیں بدلتے رہتے ہیں انہیں ضمیر والا سمجھیں یا نہیں، فیصلے سے اختلاف کرنے والا جج بھی باضمیر ہوگا یا نہیں، ہم کون ہوتے ہیں کہنے والے کہ تم باضمیر نہیں ہو۔

    صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے دلائل دیے کہ فیصلے میں رضا ربانی کا حوالہ بھی دیاگیا کہ انہوں نے ضمیر کیخلاف جاکر پارٹی کو ووٹ دیا، پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی سربراہ الگ الگ ہدایات دیں تو کیا ہوگا؟ ایسے میں تعین کیسے کیا جاسکتا ہے کہ کس کی ہدایات ماننا ضمیر کی آواز ہوگا؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل62/1ایف پر جسٹس منصورعلی شاہ کا فیصلہ موجود ہے،فیصلے میں وضاحت موجود ہے نااہلی سے متعلق کونسی شقیں ازخود نافذ ہوتی ہیں اورکونسی نہیں۔

    وکیل شہزادشوکت نے استدعا کی کہ گزارش ہےکہ فیصلے کو واپس لیاجائے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں فیصلے میں کیا غلط ہے؟ شہزادشوکت نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ آئین دوبارہ لکھنے جیسا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ فیصلہ صرف یہ نہیں کہتا آپ کا ووٹ گنا نہیں جائے گا، فیصلہ کہتا ہے پارٹی کہے تو ووٹ لازمی کرنا ہے، پارٹی کےکہنے پر ووٹ نہ کرنے پر رکن کے خلاف کارروائی کا کہاں گیا ہے؟ نظرثانی درخواست کب دائر ہوئی۔

    شہزاد شوکت نے بتایا کہ 2022 میں نظرثانی درخواست دائر کی، چیف جسٹس نے کہا کہ عابد زبیری بھی جب صدر سپریم کورٹ بار بنے تو اپیل واپس نہیں لی، سپریم کورٹ بار کے دونوں گروپ نظرثانی درخواست پر قائم رہے، چلیں تسلی ہوئی کہ نظرثانی بار سیاست کی وجہ سے نہیں تھی شہزاد شوکت نے جواب دیا کہ نظرثانی خالصتاً آئینی مسئلہ ہی تھا۔

    وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی نے نظرثانی اپیل کی حمایت کردی چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ نظرثانی کی مخالف کون کررہا ہے؟

    عمران خان کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو دیا کہ بانی پی ٹی آئی کا وکیل ہوں لیکن نوٹس تاحال موصول نہیں ہوا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ویسے بتادیں آپ نظر ثانی کے حامی ہیں یا مخالف ہیں؟

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں نظر ثانی کی مخالفت کروں گا، پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ووٹ نہ گنا جانا آئین میں نہیں لکھا، اگر ووٹ گنا ہی نہیں جائے گا تو مطلب ہے میں نے کچھ غلط نہیں کیا، انحراف کا اطلاق تب ہوگا جب ووٹ گنا جائے گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصلے میں جن ملکوں کے فیصلوں کا حوالہ ہے ان ممالک میں انحراف کی سزا کا بھی بتائیں، فریقین یہ بھی بتائیں کیا صدارتی ریفرنس اور 184/3 کی درخواستوں کو یکجا کیا جاسکتا ہے، پارلیمانی جمہوریت کی ماں برطانیہ ہے وہاں کی صورتحال بتائیں، نظر ثانی منظور ہونا یہ نہیں ہوتا کہ فیصلہ غلط ہے، وجوہات غلط ہوتی ہیں، نظرثانی کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے، آپ فیصلے کا نتیجہ نہیں صرف وجوہات دیکھ سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کی سماعت ملتوی کردیتے ہیں، جو وکلا رہ گئے ہیں، ان کے دلائل کل سنیں گے،بعد ازاں، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 17 مئی 2022 کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے۔

    اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا تھا۔

    بینچ میں شامل جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا جبکہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے اور اس کی نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا۔

    اس معاملے پر مختلف نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں لیکن ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی تھی۔

    آرٹیکل 63 کیا ہے؟

    آرٹیکل 63 اے آئین پاکستان کا وہ آرٹیکل جو فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد اراکین اسمبلی کو اپنے پارٹی ڈسپلن کے تابع رکھنا تھا کہ وہ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کسی دوسری جماعت کو ووٹ نہ کر سکیں اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کے اسمبلی رکنیت ختم ہو جائے۔

    فروری 2022 میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے سوال پوچھا کہ جب ایک رکن اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالتا ہے تو وہ بطور رکن اسمبلی نااہل ہو جاتا ہے، لیکن کیا کوئی ایسا طریقہ بھی ہے کہ اس کو ووٹ ڈالنے سے ہی روک دیا جائے۔

  • وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ملاقات

    وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان ملاقات ہوئی ہے –

    باغی ٹی وی: وزیراعظم آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے گزشتہ شب امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک سربراہانِ حکومت کے اعزاز میں دیئے جانے والے عشائیے میں شرکت کی۔

    عشائیے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی صدر جو بائیڈن نے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا،عشائیے میں دیگر ممالک کے سربراہان مملکت نے بھی شرکت کی۔

    پائیدار اور مضبوط ترقی کی جانب پیش قدمی اب بھی پاکستان کیلئے چیلنج ہے،آئی ایم …

    لاہور:پی ٹی آئی کوجلسے کی اجازت نہ دینے کیٌخلاف درخواست سماعت کیلئے مکمل

    اے این ایف کی کارروائیاں: 12 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد

  • برادر  ممالک کی پاکستان کی معاشی بحالی میں کردار قابل ستائش ہے،آرمی چیف

    برادر ممالک کی پاکستان کی معاشی بحالی میں کردار قابل ستائش ہے،آرمی چیف

    کراچی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ دوست ممالک کی پاکستان کی معاشی بحالی میں کردار قابل ستائش ہے-

    باغی ٹی وی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دورہ کراچی میں تاجروں سے ملاقات کی جس دوران معیشت سے متعلق اہم امور زیر بحث آئے،آرمی چیف نے کہا کہ کراچی کی کاروباری برادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں گے، ایک سال پہلےکہا تھا کہ مایوس مت ہوں، مایوسی گناہ ہے، پاکستان کی خوشحالی کے بارے میں کبھی امید نہیں چھوڑنا، معاشرے میں مایوسی پیدا کرنے کی ناکام کوششوں کو اجتماعی کاوشوں سے شکست دی، پاکستان مختلف شعبوں میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، بے پناہ وسائل اور صلاحیت کے پیش نظرپاکستان اقوام عالم میں اپنا جائز مقام حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    پنجاب کے بیشتراضلاع میں تیز بارشیں،پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مغربی سرحد پر اسمگلنگ پر قابو پانے سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے، دوست ممالک کی پاکستان کی معاشی بحالی میں کردار قابل ستائش ہے، چین، سعودی عرب اور یواے ای کی جانب سے پاکستان کی معاشی بحالی میں کردار قابل ستائش ہے جب کہ گوگل اور دیگر بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں، کاروباری برادری کے تعاون کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہ تھیں، پاکستان کے روشن مستقبل پر سب کو غیر متزلزل اعتماد ہونا چاہیے، فوج غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کے لیے پُرعزم ہے، اس دوران آرمی چیف نے تاجر برادری کو ایس آئی ایف سی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔

    اے این ایف کی کارروائیاں: 12 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد

  • پارلیمنٹ کا قانون یا سپریم کورٹ کا فیصلہ،کس پر عمل کریں؟ الیکشن کمیشن کی درخواست

    پارلیمنٹ کا قانون یا سپریم کورٹ کا فیصلہ،کس پر عمل کریں؟ الیکشن کمیشن کی درخواست

    سپریم کورٹ ،تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے وضاحت کیلئے ایک بار پھر رجوع کر لیا

    الیکشن کمیشن کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ آنے کے بعد عدالتی فیصلے پر رہنمائی کی جائے،12 جولائی کے مختصر فیصلے پر جب وضاحت مانگی گئی تب نیا ایکٹ موجود نہیں تھا، پارلیمنٹ نے الیکشن ترمیمی ایکٹ کی صورت میں اب قانون بنا دیا ہے،بتایا جائے پارلیمنٹ کے قانون پر یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کریں،

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے آٹھ ججز کی وضاحت کےبعد ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں پر اپنا مختصر فیصلہ 12 جولائی 2024 کو سنایا تھا۔ اس کے جواب میں، الیکشن کمیشن نے قانونی مدت کے اندر، یعنی 25 جولائی 2024 کو، اپنی سی ایم اے (CMA) دائر کی تھی۔ تاہم تقریباً 2 ماہ کے بعد، 14 ستمبر 2024 کو سپریم کورٹ نے سی ایم اے پر حکم جاری کیا۔الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوۓ کسی قسم کی تاخیر کا ذمہ دار نہیں ہے۔الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور وہ اپنے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی کو قبول نہیں کرے گا۔ آئینی اداروں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ قطعی طور پر نامناسب ہے۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست پر تحریری وضاحت جاری کی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے 4صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا، الیکشن کی وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ قرار دیدیا۔مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے 8 ججز نے وضاحت جاری کردی ہے،سپریم کورٹ میں مخصوص کے کیس میں الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریک انصاف کی درخواستوں پر 8 رکنی بینچ نے وضاحت جاری کردی ،اکثریتی فیصلہ دینے والے ججوں نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ 12 جولائی کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے ،جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری فیصلہ میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست عدالتی فیصلہ پر عمل در آمد کے راستہ میں رکاوٹ ہے،درخواست درست نہیں،الیکشن کمیشن نے خود بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین تسلیم کیا،الیکشن کمیشن وضاحت کے نام پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کر سکتا،تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور ہے، پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کروانے والے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں،مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے 8 ججوں نے ابہام کو ختم کرنے کیلئے تحریری آرڈر جاری کردیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا، تحریک انصاف مقدمہ میں فریق نہیں تھی، سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن فریق تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے خوشی کا اظہار کیا تھا جبکہ حکومتی رہنماؤں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا

    دوسری جانب سپریم کورٹ،مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کر دی گئی ہے،مسلم لیگ ن نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی،مسلم لیگ ن نے 12 جولائی کے فیصلے پر حکم امتناع کی بھی استدعا کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے کو واپس لے، کیس کے حتمی فیصلے تک سپریم کورٹ فیصلے پر حکم امتناعی دیا جائے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں سنی اتحاد کونسل، حامدرضا اور الیکشن کمیشن سمیت 11 پارٹیوں کو فریق بنایاگیا ہے ،

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • شمالی وزیرستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کی کاروائی، آٹھ دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیر ستان کے علاقے رزمک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، 25 اور 26 ستمبر کی درمیانی شب خارجی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر رزمک میں سیکورٹی فورسز نے کارروائی کی ،اس دوران فائرنگ کے تبادلے کے بعد آٹھ خوارجی جہنم واصل ہو گئے، آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ، دھماکا خیز مواد اور گولیاں ملی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک خوارجی سیکیورٹی فورسزپرحملوں،بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے، علاقے میں ممکنہ خوارجی کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔

    6 ستمبر کو خوارج کی مہمند میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کی کوشش ناکام

    دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کی ہیں، جن میں 5 دہشت گرد جہنم واصل

     وادی تیراہ میں 25 خواج کو جہنم واصل کر دیا گیا

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گوادر میں پر تشدد ہجوم کا سیکیورٹی فورسز پر حملہ،ایک شہید،افسر سمیت 16 فوجی جوان زخمی

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • بحری شعبہ عالمی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،صدر مملکت

    بحری شعبہ عالمی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،صدر مملکت

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں ورلڈ میری ٹائم ڈے منایا جارہا ہے ورلڈ میری ٹائم ڈے ہرسال ستمبر کی آخری جمعرات کو منایا جاتا ہے اس کا مقصد سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں آلودگی سے بھی بچانا ہے

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ورلڈ میری ٹائم ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم ورلڈ میری ٹائم ڈے منا رہے ہیں اور اس سال کا موضوع ، مستقبل میں نیویگیٹنگ: سیفٹی فرسٹ’، سمندری حفاظت اور سلامتی کو آگے بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ بین الاقوامی سمندری تجارت کے بلاتعطل بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ موثر اور محفوظ شپنگ ماحول کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ موضوع ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے اور جدید اور تکنیکی بحری طریقوں کو اپنانے کے لیے فعال اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایسا کرنے سے، ہم نہ صرف آپریشنل کارکردگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے سمندری ماحول کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بناسکتے ہیں کہ ہماری اگلی نسل کو ایک فروغ پزیر اور پائیدار سمندری ماحول ورثہ میں ملے ۔

    صدر مملکت آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ بحری شعبہ عالمی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جو اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بین الاقوامی تعاون کو آسان بنانے میں معاون کردار ادا کرتاہے۔ اس صنعت کا ہر فرد، سمندری مسافروں اور انجینئروں سے لے کر پالیسی سازوں تک، ہمارے سمندروں کی حفاظت، سلامتی اور پائیداری کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس دن، پاکستان سمندری آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم چیلنجوں سے نمٹ کر اپنے بحری ماحولیاتی نظام اور ساحلی علاقوں کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے ایک فعال رکن کے طور پر، پاکستان بین الاقوامی ضوابط اور معیار کی پاسداری کے لیے پوری طرح پرعزم ہے جو میری ٹائم سیفٹی، سیکیورٹی اور ماحولیاتی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔” پاکستان نے مختلف آئی ایم او کنونشنز سے اتفاق کیا ہے، بشمول ہانگ کانگ کنونشن برائے محفوظ اور ماحولیاتی بحری جہازوں کی ری سائیکلنگ جو ماحولیاتی تحفظ اور میری ٹائم آپریشنز کی حفاظت کے لیے پاکستان کے عزم کو واضح کرتا ہے۔ ہم نے اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، اور ہم اس سلسلے میں اپنی مسلسل پیش رفت کا عہد کرتے ہیں۔پاکستان سمندری آلودگی سے نمٹنے کے لیے اپنے ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے، بحری فضلے کے انتظام کے نظام کو بہتر بنانے اور کمیونٹی کی مدد سے چلنے والے منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کے سمندری ماحولیاتی نظام کو درپیش ماحولیاتی نقصان کو کم کرنے کے لیے حکومتی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں، این جی اوز اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان تعاون ضروری ہے۔آج ہم ورلڈ میری ٹائم ڈے منا رہے ہیں، آئیے حفاظتی معیار کو بہتر بنانے، ماحول دوست طرز عمل اپنانے، اور سمندری مسافروں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات اُٹھانے کے عزم کا اعادہ کریں، جو بین الاقوامی بحری تجارت میں ہمارے گمنام ہیرو ہیں۔

    پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں جدید جنگی جہاز بابر اور حنین شامل

    دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی،آرمی چیف

    یوم دفاع پاکستان،ملکی سلامتی کیلئے دعائیں،شہدا کی قبروں پر سلامی

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

  • وزیراعظم کی ایرانی، فلسطینی صدر سے الگ الگ ملاقاتیں

    وزیراعظم کی ایرانی، فلسطینی صدر سے الگ الگ ملاقاتیں

    پاکستان اور ایران نے اقتصادی اور تجارتی تعاون بڑھانے اور گیس پائپ لائن پروجیکٹ کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا ہے

    ایرانی خبرایجنسی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے نیویارک میں ملاقات کی ہے جس میں مسعود پزشکیان نے شہید صدر آیت اللہ رئیسی کے دورہ پاکستان میں کیے گئے سمجھوتوں کو آخری شکل دینے اور ان پر عمل درآمد کے لیے تہران کے عزم کا اعلان کیا،ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تجارتی لین دین میں سہولت کے لیے ریلوے اور روڈ ٹرانسپورٹ کا وسیع نیٹ ورک بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی، سیاسی، مواصلاتی اور سکیورٹی کے تقاضے مد نظر رکھے جائيں،مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ نہ ہوتا تو آج اسرائیل ایسے جرائم کے ارتکاب کی جرات نہ کرتا،ملاقات میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حالیہ حملوں نے ثابت کردیا ہے کہ نیتن یاہو اپنے جرائم کا سلسلہ روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے بلکہ اپنی فسطائیت کا دائرہ پورے خطے میں پھیلانا چاہتے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف کی فلسطینی صدر سے بھی ملاقات ہوئی ہے وزیراعظم میاں محمّد شہباز شریف نے نیویارک میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے موقع پر کہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں ظلم اور نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہیں ، ہمارے دل فلسطینی بھائی ، بہنوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں،شہبازشریف نے کہا کہ میں یہاں پاکستانیوں کے جذبات پہنچانے آیا ہوں ، اسرائیل کی غزہ میں ظلم اور نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہیں ، ہمارے دل فلسطینی بھائی ، بہنوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف کی امریکہ میں ورلڈ بینک کےصدر سے ملاقات ہوئی ہے،ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات میں پاکستان کی میکرو اکنامک اصلاحات کی تعریف کردی۔وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا میں جاری اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائن پر ہونے والی اس ملاقات کو اچھا قرار دیا۔ملاقات میں ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کا کہنا تھا وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کیلئے اپنی ترجیحات واضح طور پر سامنے رکھیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک کی ترقی کے پارٹنر ہیں، پاکستان کے ساتھ شراکت داری کیلئے ٹیکنالوجی، علم اور مالی تعاون پر فوکس کر رہے ہیں۔ورلڈ بینک کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی میکرو اکنامک اصلاحات قابل تعریف ہیں۔

    وزیراعظم اور بنگلہ دیش حکومت کے چیف ایڈوائزر کی ملاقات

    آئی ایم ایف کی شرائط کڑی تھیں،کچھ کا تعلق چین سے تھا،وزیراعظم

    وزیر اعظم کی مالدیپ کے صدر سے ملاقات: تجارت، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی میں تعاون کا عہد

    اسرائیل پر تجارت اور اسلحہ سمیت دیگر پابندیاں لگانے کا وقت ہے،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دنیا بھر بالخصوص یوکرین اور فلسطین میں جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگیں نہ روکی گئیں تو مستقبل تاریک ہوگا، فلسطین میں نسلی کشی پر اسرائیلی قیادت کا احتساب کیا جائے اور اسرائیل پر تجارت اور اسلحہ سمیت دیگر پابندیاں لگانے کا وقت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79 ویں اجلاس کے موقع پر سلامتی کونسل کے ”لیڈر شپ فار پیس” کے موضوع پر اعلیٰ سطحی مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا،وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاکہ اس مباحثہ کے انعقاد پر سلوانیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ، یورپ اور کسی بھی جگہ پر جنگوں کا پھیلائو، عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اور غربت میں اضافہ ورلڈ آرڈر کی بنیادوں کیلئے خطرناک ہے، ہم نے گزشتہ اتوار کو مستقبل کے پیکٹ کو منظور کیا ہے، ہمیں اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیا تو جنگوں سے مستقبل تاریک ہوگا۔ہمیں اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی اور مشرق وسطیٰ میں تنازعہ کے پھیلائو سے روکنا چاہئے، اسرائیل پر تجارت اور اسلحہ سمیت دیگر پابندیاں لگانے کا وقت ہے، فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی قیادت کے جرائم پر ان کا احتساب کیا جائے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاکہ بیروت پر بمباری انتہائی قابل مذمت ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یوکرین میں جنگ بندی اور پرامن حل کیلئے غیر جانبدارانہ منصوبہ بنائے، کشیدگی میں اضافے کی اجازت نہیں دینی چاہئے،سلامتی کونسل دیرینہ تنازعہ جموں و کشمیر کو مزید نظرانداز نہیں کر سکتی، جموں و کشمیر کے مسئلہ سے عالمی امن و سلامتی کو مستقل خطرات لاحق ہیں، سلامتی کونسل کو بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہئے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کیا جائے،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو افغانستان سے بالخصوص فتنہ الخوارج کی دہشت گردی کے خطرات کے دوبارہ ابھرنے کے معاملے سے نمٹنے پر موثر توجہ دینی چاہئے،سلامتی کونسل دہشت گردی کو شکست دینے اور غیر ملکی مداخلت روکنے کیلئے افریقی ممالک کو تعاون فراہم کرے،اقوام متحدہ کے امن مشنوں کو مزید فعال بنایا جائے، اقوام متحدہ کو بڑی طاقتوں کے درمیان جنگ سے بچائو اور بالخصوص ایشیا پیسفک ریجن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حل کیلئے اعتماد سازی کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں، ممالک کے درمیان مقابلہ اچھی بات ہے لیکن اسے تنازعہ میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے،سلامتی کونسل کو طاقت کے غیر قانونی استعمال پر زیرو ٹالرنس کا اعلان کرنا چاہئے اور ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ نئے ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی پر کنٹرول ہونا چاہئے کیونکہ یہ انتہائی خطرناک ہیں۔

  • نواز شریف کا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں لندن جانے کا امکان

    نواز شریف کا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں لندن جانے کا امکان

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اکتوبر کے پہلے ہفتے میں لندن روانہ ہوں گے

    نواژ شریف کا 3 اکتوبر سے 5 اکتوبر کے درمیان لاہور سے لندن کے لیے روانہ ہونے کا امکان ہے، نواز شریف لندن میں اپنا طبی معائنہ کروائیں گے،نواز شریف لندن میں پارٹی کے نئے عہدیداروں سے ملاقات بھی کریں گے، نواز شریف لندن میں اپنے قیام کے دوران طبی معائنہ اور اپنے صاحبزادوں کے ساتھ وقت گزاریں گے،

    نواز شریف 21 اکتوبر کو 4 سال بعد پاکستان واپس آئے تھے،نواز شریف نے الیکشن میں حصہ لیا تا ہم لاہور سے مبینہ طور پر جیتے اور مانسہرہ سے ہار گئے، دو تہائی اکثریت نہ ملنے پر نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیراعظم اور اپنی بیٹی مریم نواز کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنوا دیا تا ہم نواز شریف خود پس پردہ رہ کر کام کر رہے ہیں، گزشتہ دنوں بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لئے نواز شریف نے پریس کانفرنس کی جس میں صحافیوں کو نہیں بلایا گیا بلکہ ریکارڈڈ ویڈیو چلائی گئی، نواز شریف میڈیا کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے ہیں،

    چند روز قبل سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف کا بیگ لندن کے لیے تیار ہے صرف ضروری سامان اٹھانا ہے،یوں لگ رہا ہے کہ نواز شریف کے حوالہ سے عمران خان کی پیشگوئی پوری ہونے لگی ہے

    نواز شریف کی گاڑی کو مری میں نوجوانوں نے روک لیا

    آج بھی میرا وہی سوال ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟نواز شریف

    نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی اجلاس،حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کا فیصلہ

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • غیر ملکی سفارت کاروں کے قافلے پر حملہ،تحقیقاتی کمیٹی قائم

    غیر ملکی سفارت کاروں کے قافلے پر حملہ،تحقیقاتی کمیٹی قائم

    خیبرپختونخوا حکومت نے سوات کے علاقہ مالم جبہ میں غیر ملکی سفارت کاروں کے قافلے پر حملے کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے

    سوات میں غیر ملکی سفارتکاروں کے قافلے پر دہشت گردانہ حملے کے تحقیقات کے لئے خیبر پختونخوا حکومت نے دو رکنی کمیٹی قائم کی ہے، تحقیقاتی کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن اور اسپشل سیکرٹری داخلہ شامل ہیں،تحقیقاتی کمیٹی غیر ملکی سفارتکاروں کے قافلے پر حملے کے واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کرے گی اور تحقیقات کے بعد تفصیلی رپورٹ بھی تیار کر کے صوبائی حکومت کو جمع کرائے گی،،کمیٹی سات روز میں دھماکے کے حوالے اپنی رپورٹ جمع کریگی،

    واضح رہے کہ 22 ستمبر کو سوات میں غیرملکی سفارتکاروں کے قافلے پر حملہ ہوا تھا، واقعہ میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ 3 اہلکار زخمی ہوئے تھے، خوش قسمتی سے حملے میں تمام غیر ملکی سفارتکار محفوظ رہے تھے،ترجمان دفتر خارجہ نے اس واقعے پر اپنے بیان میں کہا کہ دھماکے کی زد میں آنے والی پولیس گاڑی کو آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکار کے خاندان اور زخمیوں کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ترجمان نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جانوں کی قربانی دے کر دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ثابت قدم ہیں۔ انہوں نے ان اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے عزم سے نہیں روک سکتے۔سفارتکاروں کے گروپ کی محفوظ واپسی کے بعد ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور حکومت ہر صورت میں دہشت گردی کے خلاف کاروائی جاری رکھے گی۔

    یہ حملہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے میں ہوا جو ماضی میں دہشت گردی اور شورش کا شکار رہا ہے، لیکن حالیہ سالوں میں امن کی بحالی کے بعد یہاں کے حالات بہتر ہوچکے ہیں۔ تاہم، اس واقعے نے علاقے میں سیکیورٹی چیلنجز کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ حکومت اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سوات اور مالم جبہ کی سڑکیں، جو سیاحتی مقاصد کے لیے اہم تصور کی جاتی ہیں، اس حملے کے بعد خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے اور خطے کی سیاحت اور معیشت متاثر نہ ہو.

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    سوات میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ سکیورٹی خدشات کے باعث بند

  • وزیراعظم اور بنگلہ دیش حکومت کے چیف ایڈوائزر کی ملاقات

    وزیراعظم اور بنگلہ دیش حکومت کے چیف ایڈوائزر کی ملاقات

    نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف سے بنگلہ دیشی حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہوئی ،ملاقات میں دو طرفہ تعلقات ، اقتصادی تعاون کی وسعت پر تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں اہم علاقائی و عالمی امور بھی زیر غور آئے ،ملاقات میں جنوبی ایشاء میں امن، استحکام اور ترقی کی نئی راہیں تلاش کرنے پر غور کیا گیا

    وزیراعظم شہباز شریف کی کویت کے ولی عہد سے ملاقات
    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس کے موقع پر کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد المبارک الصباح سے ملاقات کی۔وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں بشمول سیاسی، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں تعاون اور عوامی اور سماجی تبادلے بڑھانے کے حوالے سے گفتگو کی۔وزیراعظم پاکستان نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت کویت اور پاکستان کے درمیان اقتصادی روابط اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا۔

    Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a meeting with the Crown Prince of Kuwait, His Highness Sheikh Sabah Al-Khaled Al-Hamad Al-Mubarak Al-Sabah on the sidelines of the 79th United Nations General Assembly Session.

    وزیر اعظم شہباز شر یف کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات
    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شر یف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ میں امن مشن کے طور پر پاکستان کی خدمات کو سراہا، سیکرٹری جنرل اور وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان اور مشرق وسطیٰ سمیت خطے میں ہونے والی پیش رفت اور مشترکہ تشویش کے دیگر امور پر تبادلہ خیال بھی کیا،سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ میں امن مشن کے طور پر پاکستان کی خدمات کو سراہا

    pmun

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر عزت مآب رجب طیب ایردوان سے نیویارک میں یواین جنرل اسمبلی کے79ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا اور تجارت،سرمایہ کاری،دفاع سلامتی کے شعبوں میں باہمی طور پر مفید تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔انہوں نے مستقبل قریب میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاکستان-ترکیہ اعلیٰ سطحی سٹریٹجک کوآپریشن کونسل (HLSCC) کے آئندہ 7ویں اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور بالخصوص غزہ میں جاری نسل کشی اور سنگین انسانی صورتحال پر بھی تبادلہِ خیال کیا۔ انہوں نے غزہ میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور گشیدگی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔وزیرِاعظم نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) کے مظلوم عوام کے لیے ترکیہ کی مضبوط اور مستقل حمایت کو سراہا۔ملاقات کے دوران صدر اردوان نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کی جن کی بدولت پاکستان کی معیشت میں استحکام آیا اور وزیرِاعظم کی قیادت اور اقتصادی اصلاحات کے عزم کو سراہا۔ مزید برآں صدر اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف کو سالگرہ کی مبارکباد بھی دی۔

    آئی ایم ایف کی شرائط کڑی تھیں،کچھ کا تعلق چین سے تھا،وزیراعظم

    وزیر اعظم کی مالدیپ کے صدر سے ملاقات: تجارت، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی میں تعاون کا عہد