Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • تربت سے گرفتار خاتون خودکش بمبار عدیلہ بلوچ میڈیا کے سامنے رو پڑی

    تربت سے گرفتار خاتون خودکش بمبار عدیلہ بلوچ میڈیا کے سامنے رو پڑی

    تربت سے گرفتار خودکش بمبار خاتون عدیلہ بلوچ نے والدین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اپنی غلطی کا احسان ہے، میری وجہ سے میرے والدین کا سر شرم سے جھک گیا ہے

    عدیلہ بلوچ کا کہنا تھا کہ مجھے اس طرح بہکایا گیا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا،ملک دشمن عناصر نے مجھے بہکایا
    بہکاوے میں اگر خود کش بمبار بننے کے لیے تیار ہو گئی، ملک دشمن عناصر نوجوانوں‌کو اپنے مذموم مقاصدکے لئے استعمال کرتے ہیں،لوگوں کو بلیک میل کر کے اور ورغلا کر لے جایا جاتا ہے.میں پڑھی لکھی نرس ہوں اور مجھے ورغلا کر پہاروں میں لے گئے اور وہاں جا کر مجھے علم ہوا کہ میں نے غلطی کر دی وہاں بہت سختی ھے اور وہاں نوجوانوں کو ورغلا کر لے جاتے ہیں ،میں کوالیفائیڈ نرس اور ڈبلیو ایچ او کا پراجیکٹ چلا رہی ہوں، میں بہت بڑا گناہ کرنے جا رہی تھی، بدقسمتی سے ایسے عناصر کے ساتھ رہی جنہوں نے مجھے بھٹکایا، مجھے ایسے بہکایا گیا کہ میں خودکش حملہ کرنے کیلئے تیار ہو گئی.بلوچ نوجوانوں کو میرا پیغام ہے جو غلطی میں نے وہ آپ مت کریں

    دہشتگرد بلیک میل کرکے بلوچ خواتین کو ورغلاتے ہیں جس کی میں چشم دید گواہ ہوں، عدیلہ بلوچ
    عدیلہ بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ مجھے دہشتگردوں نے ایک نئی اور خوش گوار زندگی کے خواب دکھائے۔دہشتگرد بلیک میل کر کے بلوچ خواتین سے خودکش حملے کرواتے ہیں۔ میں اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر دہشتگردوں کے پاس پہاڑوں پر چلی گئی۔ شرمندہ ہوں،میں نے ایسے نوجوان دیکھے جن کو ورغلایا گیا ہے، حکومت بلوچستان کی وجہ سے میں زندہ ہوں،میرے علاوہ وہاں اور بھی بہکائے ہوئے بلوچ نوجوان موجود تھے، دہشتگردوں کی جانب سے یہ تاثر دینا کہ بلوچ خواتین اپنی مرضی سے خود کش حملہ کرتی ہیں سراسر جھوٹ ہے، دہشتگرد بلیک میل کرکے بلوچ خواتین کو ورغلاتے ہیں جس کی میں چشم دید گواہ ہوں، مجھے اپنے غلط راستے پر چلنے کا احساس تک نہیں ہوا،میرا بلوچ نوجوان کیلئے پیغام ہے کہ جو غلطی میں نے کی ہے آپ نہ کریں،

    عدیلہ بلوچ کے والد کا کہنا تھا کہ دہشتگرد نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور پھر لاپتہ قرار دے دیتے ہیں، بلوچستان حکومت نے بروقت کاروائی کرکے میری بیٹی کو بازیاب کروایا،

    دوسری جانب سینئر مرکزی رہنما مسلم لیگ ن چوہدری نعیم کریم کا کہناہے ، بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تربت سے خاتون خود کش بمبار عدیلہ بلوچ کو گرفتار کرلیا ، سکیورٹی فورسز کی کامیابی پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کو ایک بار پھر بڑے سانحے سے بچا لیا، گرفتار خودکش حملہ آور خاتون عدیلہ بلوچ نے واضح کہا ہے، بلوچوں کو بلیک میل کیا جا رہا ہے،یہ تاثر غلط ہے کہ بلوچ اپنی مرضی سے کارروائیاں کرتے ہیں ،دہشتگرد بلیک میل کرکے بلوچ خواتین کو ورغلاتے ہیں

  • 1973کے آئین کی وجہ سے آج پاکستان طاقتور ملک ہے، بلاول

    1973کے آئین کی وجہ سے آج پاکستان طاقتور ملک ہے، بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے

    سندھ ہائیکورٹ بار میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے لائزر فارم کا شکریہ اداکرتا ہوں،میرااس جماعت سے تعلق ہے جس نے ملک کو آئین دیا،ہم تین نسلوں سے آئین سازی کرتے آرہے ہیں ،جتنا میں آپ لوگوں کو جانتا ہوں کوئی نہیں جانتا ،بچپن سے سندھ ہائی کورٹ آرہا ہوں،اگر آج پاکستان موجود ہے، طاقتور ملک ہے تو صرف 73 کی آئین کی وجہ سے ہے، اقلیتوں و خواتین کے حقوق اور پریس فریڈم بھی اسی آئین کی وجہ سے ہی ہے،پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی مضبوطی کیلئے قربانیاں دی ہیں، میثاق جمہوریت کے مطابق جوڈیشل ریفارمز لے کر آئیں گے،ہم نے آمرانہ دور بھی دیکھا، ماضی میں آئین کو کاغذ کا ایک ٹکڑا سمجھ کر پھاڑا گیا، ہم جوڈیشل ریفامرز لے کر آئیں گے، ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی ،وفاقی، جمہوری آئین دیا ، بینظیر بھٹو نے آمر کے خلاف آئین کیلئے جدوجہد کی ،پاکستان کے نظام کو ٹھیک کرنے کیلئےچارٹر آف ڈیموکریسی پر عملدرآمد کرنا ہو گا ،چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئین کو اصل روح کے مطابق بحال کرنے کی بات کی گئی.

    وفاقی آئینی عدالت ضروری ہے،مجبوری ہے، بلاول
    قانون سازی اور آئین سازی عدالت کے ذریعے نہیں ہوسکتی، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آئینی وفاقی عدالت ضروری ہے مجبوری ہے،آئینی عدالت ہو جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہو اور چیف جسٹس روٹیشن پر آئیگا ہر صوبے سے ہوگا،آج کل بڑی جلدی جلدی کی بات ہو رہی ہے، جلدی کوئی نہیں ہماری نسلوں کی جدوجہد ہے، مانیں جس ذمہ داری کیلئے آپ بیٹھے ہیں وہ پوری نہیں ہورہی، قانون سازی اور آئین سازی عدالت کے ذریعے نہیں ہوسکتی، ایک آمر کو 11 سال سلوٹ مارا گیا، سیاست دان کو 11 سال جیل میں رکھا گیا، نہتی لڑکی نے 1973 کے آئین کی بحالی کیلئے 30 سال جدوجہد کی،

    میں کسی فرد کیلئے کوئی آئین یا قانون نہیں بناؤں گا ،آئینی عدالت بنا کر رہیں گے، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے انصاف کیلئے 45سال انتظار کرنا پڑا ،ہم عدالتی نظام کو طاقتور بنانا چاہتےہیں ، ہم چاہتے ہیں پاکستان کے شہریوں کو جلد انصاف ملے اگر چاہتے ہیں صوبوں کے درمیان فرق نہ رہے توآئینی عدالت ضروری ہے ، مجبوری ہے ،میں یہاں حکومتی ترمیم کے بارے میں بات کرنے نہیں آیا، چارٹر آف ڈیموکریسی ، آئینی عدالت اور عدلیہ میں ریفارم پر بات کرنے آیا ہوں ،ہم جوڈیشل ریفارمز اور آئینی عدالت کا ذکر کرتے آ رہے ہیں ،آئینی عدالت سیاسی کیسز کو دیکھے گی ،وفاقی آئینی عدالت میں ہر صوبے کی برابر نمائندگی ہو گی ، وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس روٹیشن پر ہو گا ،وفاقی عدالت میں ہر صوبے کو چیف جسٹس کی نمائندگی کی باری ملے گی ،ان کیلئے یہ نئی چیز ہے جن کی تاریخ عدم اعتماد سے شروع ہوتی ہے ،آئینی ترمیم کے بغیر ججز کی تعداد کیسے بڑھے گی ، ہم عدالتی نظام کو ٹھیک کرنے نکلے ہیں ، آئین کی بالادستی کیلئے ہم ہی لڑیں گے ، آئینی عدالت بنا کر رہیں گے ،ہم عوام کو انصاف کی فراہمی کیلئے آئینی عدالت بنا کر رہیں گے ،ہم پارلیمان میں آئین و قانون بنانے کیلئے بیٹھے ہیں ، بہتر ہو گا آئین دوسری جماعتوں کیساتھ ملکر بنائیں ،میں کسی فرد کیلئے کوئی آئین یا قانون نہیں بناؤں گا ،

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • پنجاب الیکشن ٹربیونلز کیس،چیف جسٹس کی بینچ سے الگ ہونے کی استدعا مسترد

    پنجاب الیکشن ٹربیونلز کیس،چیف جسٹس کی بینچ سے الگ ہونے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ، پنجاب الیکشن ٹربیونلز کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل بنچ میں شامل ہیں،جسٹس عقیل عباسی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی پانچ رکنی لارجر بینچ کا حصہ ہیں، عدالت نے گزشتہ سماعت پر ٹربیونلز کو کام کرنے سے روک دیا تھا ،عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کو چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ سے مشاورت کی بھی ہدایت کی تھی

    وکیل حامد خان نے کہا کہ مائی لارڈ ہم نے ایک درخواست دینی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں ہمارے لیے آپ قابل احترام ہیں،پہلے آرڈر پڑھنے دیں،آپ براہ مہربانی اپنی نشت پر براجمان رہیئے، ہم آپ کو بعد میں سنیں گے،وکیل درخواست گزار حامد خان نے کہا کہ ہم آپ کے کیس سننے پر اعتراض ہے،میں آپ کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھانا چاہتا ہوں، سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض کر دیا،چیف جسٹس فائز عیسٰی نے الیکشن ٹریبیونل کے کیس میں بنچ سے الگ ہونے کی سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ کی استدعا مسترد کر دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اگر کیس سے الگ ہونا ہے تو ہو جائیے ہمیں کوئی اعتراض نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سلمان اکرم راجہ کے وکیل حامد خان کو اپنی جگہ پر بیٹھنے کا مشورہ دے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان کو روسٹرم سے ہٹنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ کیس سے الگ ہونا ہے تو ہو جائیں ہمیں کیس چلانے دیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریڈر کو اعتراض کی درخواست لینے سے ہی روک دیا، حامد خان کمرہِ عدالت سے ہی چلے گئے

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کے بعد الیکشن ٹریبونلز کا مسئلہ حل ہو گیا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے چار ٹربیونل ججز برقرار رکھے باقی چار الیکشن کمیشن مقرر کرے گا، پنجاب میں الیکشن ٹربیونلز میں سے 4 موجودہ ججز قائم رہیں گے، 4 الیکشن کمیشن مقرر کرے گا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں بتا دیا۔

    ایک درخواست کر کر کے تھک گیا ہوں لیکن کسی نے زحمت نہیں کی، آئین کو دیکھیں آئین کیا کہتاہے،چیف جسٹس
    جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تحریری جواب کے مطابق ہائیکورٹ کی مشاورت سے مسئلہ حل ہو گیا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے 4 ٹربیونلز قائم رکھے باقی چار الیکشن کمیشن مقرر کرے گا،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اس کا مطلب کہ الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میں معاملات طے پا گئے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی بالکل چونکہ قانون بدل گیا تھا اس لیے اب نئے چار ٹربیونلز الیکشن کمیشن مقرر کرے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی مدت 5 سال ہے جو بڑھ نہیں سکتی،اسٹے آرڈر والے کیسز بھی سپریم کورٹ میں آتے ہیں، جو معاملات عدالت کے نہیں انہیں آپس میں حل کریں، ایک درخواست کر کر کے تھک گیا ہوں لیکن کسی نے زحمت نہیں کی، آئین کو دیکھیں آئین کیا کہتاہے،آئین کی کتاب ہے لیکن آئین کو کوئی پڑھنا گوارا نہیں کرتا،

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اختلاف اس بات پر آیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ کے بھیجے گئے ناموں پر انکار کیا،الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے لیکن ٹریبونل کے لیے ججز کی تعیناتی ہائیکورٹس کی مشاورت سے ہوتی ہے، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کوئی معمولی انسان تو نہیں،الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹس دونوں اداروں کے لیے عزت ہے،ٹریبونل میں ججز کی تعیناتی پر پسند نا پسند کی بات اب ختم ہونی چاہیے،

    اگر ججز کی تعداد کیسز کو دیکھتے ہوئے کم ہوئی تو غیر منصفانہ ہوگا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹریبونل کی تعداد کا انحصار کیسز پر ہے، کیسز کو دیکھتے ہوئے ججز کی تعداد پر فیصلہ کریں، اگر ججز کی تعداد کیسز کو دیکھتے ہوئے کم ہوئی تو غیر منصفانہ ہوگا،مجھے نہیں معلوم بلوچستان یا پنجاب میں کتنے کیسز زیر التوا ہیں،آج کل ڈالر کمانے کیلئے جھوٹ بولا جاتا ہے،ڈالرز کی وجہ سے اب میڈیا رپورٹنگ درست نہیں ہوتی، آج کل غلط رپورٹنگ ہو رہی ہے لیکن سپریم کورٹ کا میڈیا سیل نہیں کہ ہم وضاحت جاری کرتے رہیں،سلمان اکرم راجہ اپنے وکیل حامدخان کے ساتھ دوبارہ کمرہ عدالت میں واپس آگئے

    کیا آپ الیکشن ٹربیونلز کیلئے اپنی مرضی کے جج چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس کا سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ
    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو ایک ہفتے میں پنجاب ٹربیونلز کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون کے مطابق نوٹیفکیشن 45دن میں جاری ہونا لازمی ہے، الیکشن کمیشن کے پاس تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے،سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو خط چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو لکھ وہ ہمیں دکھا دیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے رجسٹرار کو بتایا، ایسا ہی میکنزم ہوتاہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کس نے بتایا چیف جسٹس ہائیکورٹ نے رجسٹرار کو خط لکھا؟ آپ کو بتا دوں سپریم کورٹ کے جج کا آرڈر رجسٹرار نے نہیں مانا، آپ کو معلوم ہوگا کدھر ریفر کر رہا ہوں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بات آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں، دونوں کی ملاقات ہوگئی، دونوں مان گئے، ہائیکورٹ نے کس قانون کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا، کیا ہائیکورٹ نوٹیفیکیشن جاری کرسکتاہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وقت کم تھا، انتخابات سر پر تھے، ریٹائرڈ ججز کی تعیناتی میں نے ہائیکورٹ میں چیلنج کی ہوئی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ میں ریٹائرڈ ججز کی تعیناتی چیلنج کی ہوئی تو یہاں بات نہ کریں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ ججز کے نام دے تو الیکشن کمیشن کو انکار کرنے پر ٹھوس وجوہات بتانی چاہیے،

    سلمان اکرم راجہ کے بار بار بیچ جملے میں بولنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ برہم ہو گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار میرے بات کرنے کے بیچ نہ بولیں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن کو عملدرآمد کرنا چاہیے تھا،سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر کوئی فیصلہ دیئے بغیر معاملہ ختم نہیں کر سکتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ اپنی مرضی کے ججز ٹربیونلز کیلئے چاہتے ہیں،جب لاہور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن میں مشاورت ہو چکی تو مزید کیا کرنا چاہیے،آپ چاہتے ہیں ٹربیونلز کا معاملہ ختم ہی نہ ہو،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم کالعدم یا برقرار رکھے بغیر یہ کیس ختم نہیں ہو گا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم عدالتی فیصلوں پر انحصار کریں یا آئین پر؟ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر ہم پابند نہیں،پارلیمنٹ کی مدت مکمل ہونے تک اسٹے آرڈر کی اجازت نہیں دیں گے، عدالت آئین کی پابند ہے، مجھے سروکار نہیں کسی جج نے کیا فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن کو آئین پر پابند کروائیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر سپریم کورٹ پابند نہیں لیکن ہائیکورٹس پابند ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین بہت پیچیدہ کتاب ہے جو صرف ایک دانا شخص ہی سمجھ سکتا ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • عمران خان کا ممکنہ ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواست نمٹا دی گئی

    عمران خان کا ممکنہ ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواست نمٹا دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست و ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے بیان پر درخواست نمٹا دی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور نمائندہ وزارت دفاع عدالت کے روبرو پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے عزیر بھنڈاری اور فیصل فرید چوہدری عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ملٹری ٹرائل کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا،ایسا کوئی فیصلہ ہوا تو قانونی طریقہ کار اپنایا جائے گا،ملٹری ٹرائل کا فیصلہ ہوا تو پہلے سول مجسٹریٹ کے پاس درخواست جائے گی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے جواب کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی۔

    اڈیالہ جیل میں گرفتار سابق وزیراعظم عمران خان کو ملٹری کورٹ کا خوف کھا گیا، عمران خان عدالت پہنچ گئے،9 مئی مقدمات میں ملٹری کورٹ ٹرائل اور فوجی تحویل میں دینے کے ممکنہ امکان کیخلاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، عمران خان کی درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست میں آئی جی اسلام آباد ، آئی جی پنجاب ، ڈی جی ایف آئی اے ،آئی جی جیل خانہ جات کو بھی فریق بنایا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو سویلین کورٹ کے دائرہ اختیار میں رکھنے کو یقینی بنایا جائے اور فریقین کو عمران خان کی کسٹڈی ملٹری اتھارٹیز کو دینے سے روکا جائے۔عمران خان نے درخواست میں فیض حمید کا نام لیے بغیر ذکر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خدشہ ہے کہ چند ہفتے قبل گرفتار سینئر ریٹائرڈ فوجی افسر نو اور دس مئی کے مقدمات میں میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے اور اسی بنیاد پر فوجی تحویل میں دیا جائے گا،

    بات اُن کے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں،عمران خان

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    سپریم کورٹ آف پاکستان نےمخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری تو کردیا ہے مگر اس فیصلے کے بعد اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں سیاسی ججز کا ایک گروہ موجود ہے جو بانی پی ٹی آئی اور اس کی جماعت کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ اس کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں اور تازہ ترین ثبوت پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا کا ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہنا بھی ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ نے مجھے سے پوچھا تھا کہ اگر ہم یہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دیدیں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا جس میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مجھے اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔

    اس کیس کا جب مختصر فیصلہ دیا گیا تھا تو اس وقت بھی قانونی حلقوں نے یہ بات بڑے واضح انداز میں کہی تھی کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں پی ٹی آئی کیلئے سہولت کاری نظر آرہی ہے۔ قانونی ماہرین نے یہ بھی کہا تھا کہ جب اعلیٰ عدلیہ کسی سیاسی جماعت کیلئے سہولت کاری کا کام شروع کردے تو پھر انصاف کا قتل ہوتا ہے اور اس تفصیلی فیصلہ میں ایسا نظر آیا ہے۔

    قانونی ماہرین نے اب تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد بھی کہا کہ ہم نے پہلے بھی کا تھا کہ اور اب بھی اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے میں اعلیٰ عدلیہ کے سیاسی ججز نے آئین کو ری رائٹ کرکے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا ہے ۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ باتیں مفروضوں کی بنیاد پر نہیں کی جا رہی ہیں آئین کے مطابق نظر آتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی ججز کی جانب سے سہولت کاری کی گئی ہے۔

    قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ سہولت کاری کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 66 اور سیکشن 104 میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا حکم قابل عمل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا ماضی میں خیال تھا کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ سابقہ قانون پر دیا جاتا ہے اور قانون میں ترمیم کی جاتی ہے تو فیصلہ قابل عمل نہیں ہوگا۔

    قانونی ماہرین کے مطابق سلمان اکرم راجا کے مذکورہ بالا بیان کے بعد افسوس کی بات یہ ہے کہ جج بھی تاثر کے لحاظ سے’’ میرے جج، تیرے جج ‘‘بن کر ہی دکھا رہے ہیں۔ ججوں کو تو صرف اور صرف آئین اور قانون کے مطابق انصاف کرنا چاہیے۔

    قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اگر جج کا نام سن کریہ اندازہ ہو جائے کہ اُس کا فیصلہ کس سیاسی دھڑے کے حق میں اور کس سیاسی دھڑے کے خلاف ہوگا تو پھر یہ انصاف تو نہ ہوا۔ مگر جسٹس اطہر من اللہ کے حوالے سے جو بات سلمان اکرم راجا نے کی ہے وہ تو اس سے بھی آگے کا معاملہ ہے یعنی ایک اہم ترین کیس کا فیصلہ آنے سے قبل اس بینچ میں شامل جج یہ پوچھ رہا ہے کہ اگر ہم آپ کے حق میں فیصلہ دیدیں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا۔ اس سے بڑھ کر اس کیس میں پی ٹی آئی کی سہولت کاری کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے۔

    قانونی ماہرین یہ سوال بھی کر رہے ہیں سلمان اکرم راجا نے جو بات ٹی وی چینل میں کی ہے کیا جسٹس اطہر من اللہ اس کی وضاحت کرینگے۔۔۔۔۔؟

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے اختلافی نوٹ لکھنے والے ججز کے حوالے سے تو سخت ریمارکس سامنے آئے ہیں کیا اب جسٹس اطہر من اللہ کے حوالے سے سلمان اکرم راجا کے بیان پر وہ کچھ کہنا پسند کرینگے۔

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک ڈی جی آئی ایس آئی تعینات

    لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک ڈی جی آئی ایس آئی تعینات

    لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا

    لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک ۳۰ ستمبر کو اپنی نئی ذمہ داری سنبھالیں گے،لیفٹیننٹ جنرل عاصم اس وقت جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں،لیفٹیننٹ جنرل عاصم اس سے پہلے بلوچستان میں انفنٹری ڈیویژن اور وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کمانڈ کر چکے ہیں،لیفٹیننٹ جنرل عاصم اپنے کورس میں اعزازی شمشیر بھی حاصل کر چکے ہیں،اِس کے علاوہ وہ چیف انسٹرکٹر این ڈی یو اور انسٹرکٹر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ بھی تعینات رہ چکے ہیں،لیفٹیننٹ جنرل عاصم فورٹ لیون ورتھ اور رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز کے گریجویٹ بھی ہیں

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا.

    70 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا.مخصوص نشستوں سے متعلق اکثریتی فیصلہ اردو زبان میں بھی جاری کرنے کا حکم دیا گیا، فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اردو ترجمہ کو کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہیں تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دی جائیں.جو ارکان جس جماعت سے وابستگی کا حلف نامہ دیتے ہیں انہیں اس جماعت کا تصور کیا جائے گا،یہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کی ہی بنتی ہیں – الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے،بطور ایک آئینی ادارہ الیکشن کمیشن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو صاف شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے۔ آئین صرف ایک حکومتی بلیوپرنٹ نہیں بلکہ عوام کی حاکمیت یقینی بنانے پر مبنی دستاویز ہے،آئین سیاسی جماعت بنانے اور عوام کی اس میں شمولیت کا حق دیتا ہے،عوام کی نمائندگی ہی دراصل جمہوریت ہے،انتخابی نشان نہ دینا سیاسی جماعت کے انتخاب لڑنے کے قانونی و آئینی حق کو متاثر نہیں کرتا، آئین یا قانون سیاسی جماعت کو انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے نہیں روکتا، پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے، ،الیکشن میں بڑا اسٹیک عوام کا ہوتا ہے،انتخابی تنازعہ بنیادی طور پر دیگر سول تنازعات سے مختلف ہوتا ہے،یہ سمجھنے کی بہت کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں کے نظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت میں اتنے آزاد امیدوار کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا،پی ٹی آئی کیمطابق ووٹرز نے ان کے پی ٹی آئی امیدوار ہونے کی وجہ سے انہیں ووٹ دیا،

    ستر صفحات کے تفصیلی فیصلے میں 8 ججز کا سپریم کورٹ کے 2 ججز کی اپنے بارہ جولائی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینے کے ریمارکس پر سخت تنقید
    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ افسوس ہے کہ دو ججز (جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان) نے 3 اگست 2024 کے اختلافی نوٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نامناسب تنقید کی ،جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان کاُعمل سپریم کورٹ کے ججز کے منصب کے عین منافی تھا،اس طرح ساتھی ججز کے بارے میں رائے دینا سپریم کورٹ کی ساکھ کو متاثر کرنے کے مترادف ہے، قانونی معاملات پر ہر جج اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے، جس انداز میں 2 ججز نے اکثریتی فیصلے کو غلط کہا، یہ نظام انصاف میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے،

    الیکشن کمیشن 2024 کے انتخابات میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ
    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں سب سے زیادہ زیرِبحث سوال کہ جو درخواست میں استدعا ہی نہیں کی گئی تھی وہ ریلیف دیدیا گیا کا جواب دیا ہے،تفیصلی فیصلے میں کہا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے پاس آرٹیکل 199 میں وہ اختیار موجود نہیں جو سپریم کورٹ کے پاس مکمل انصاف کرنے کیلئے آرٹیکل 187 میں ہے. الیکشن کمیشن کے پاس آرٹیکل 218(3) میں اختیار تھا کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں، پشاور ہائیکورٹ اختیار نہ ہونے کے باعث پی ٹی آئی کی درخواست نہ ہوتے ہوئے صاف شفاف انتخابات پر مکمل انصاف کا وہ فیصلہ نہیں کر سکتی تھی جو سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کر سکتے تھے، پشاور ہائیکورٹ جو کر سکتی تھی اور اس میں ناکام ہوئی وہ یہ ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو معاملہ دوبارہ فیصلہ کرنے کیلئے ریمانڈ بیک کر سکتی تھی،

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی، جسے اس کیس میں ریلیف دیا گیا ہے، ہمارے سامنے ایک درخواست کے ساتھ آئی ہے،اسے اس کیس میں فریق کے طور پر شامل کیا جا سکے۔عام سول مقدمات کے طریقہ کار کے مطابق، پہلے شامل کرنے کی درخواست کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور درخواست گزار کو باقاعدہ طور پر کیس میں فریق بنایا جاتا ہے،اس سے پہلے کہ اسے کسی قسم کا ریلیف دیا جائے۔ جیسا کہ اس فیصلے کے آغاز میں وضاحت کی گئی ہے، یہ ایک عام سول کیس نہیں ہے بلکہ اعلیٰ ترین نوعیت کا مقدمہ ہے، جہاں جمہوریت آئین کی ایک اہم خصوصیت اور عوام (ووٹرز) کے اپنے نمائندے منتخب کرنے کے بنیادی حق کو محفوظ، دفاع کرنا ہے،تاکہ ریاست کے قانون ساز اور انتظامی اداروں کے نمائندوں کا انتخاب ہو سکے۔ پہلے پی ٹی آئی کی درخواست کو منظور کرنے اور پھر اسے ریلیف دینے کی رسمی کارروائی کی زیادہ اہمیت نہیں ہے، جب عدالت کی توجہ عوام (ووٹرز) کے حقِ رائے دہی کے تحفظ پر ہو، جو آئین کے آرٹیکل 17(2) اور 19 کے تحت ضمانت شدہ ہے، اس سے زیادہ کسی بھی سیاسی جماعت کا حق چاہے وہ سنی اتحاد کونسل ہو یا پی ٹی آئی یا کوئی اور جماعت۔درحقیقت، خاص طور پر اس قسم کے مقدمات کے لیے، جہاں عوام کے حقوق شامل ہوں، نہ کہ صرف ان فریقوں کے جو عدالت کے سامنے ہیں، کسی بھی نظامِ انصاف میں طریقہ کار کا مناسب مقام لوگوں کو ان کے حقوق دینے میں مدد فراہم کرنا ہے، نہ کہ اس میں رکاوٹ ڈالنا،88 جب عدالت اپنے عمومی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مکمل انصاف فراہم کرتی ہے، تو یہ عدالت کسی بھی تکنیکی یا عملی قاعدے سے معذور نہیں ہوتی.

    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے 80میں سے 39ایم این ایز کو تحریک انصاف کا رکن ظاہر کیا، الیکشن کمیشن کو کہا وہ باقی 41ایم این ایز کے 15روز کے اندر دستخط شدہ بیان حلفی لیں، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو نوٹیفائی کرے، تمام آزاد ارکان پی ٹی آئی کے ممبر ہیں اگر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ ہوا تو یہ آئین شکنی ہوگی. جو سیاسی جماعت ایک مرتبہ رجسٹر ہوجائے اسے ڈی لسٹ کرنے کا الیکشن کمشین کو اختیار نہیں،سپریم کورٹ کا انتخابی شفافیت کی نگرانی میں کردار جمہوری عمل میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے،عدالت کا "مکمل انصاف” کرنے کا اختیار اس کے آئینی اختیارات میں ایک اہم ہتھیار ہے۔اس اختیار کے ذریعے عدالت جمہوریت کو زوال پذیر ہونے سے روکنے اور مؤثر طریقے سے عوام کے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے۔انتخابی انصاف سے انکار کرنا اور انتخابی شفافیت کو متاثر کرنا جمہوریت کی قانونی حیثیت کو کمزور کر دے گا۔

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر کنول شوذب کی درخواست کو غیر ضروری قرار دے دیا،سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کونسی سیاسی جماعت کو کتنی مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں،ان نشستوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزد کردہ افراد کا انفرادی حق نہیں ہوتا،الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کا ضامن اور حکومت کا چوتھا ستون ہے، الیکشن کمیشن 8 فروری 2024 میں اپنا یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔الیکشن کمیشن بنیادی فریق مخالف کے طور پر کیس لڑتا رہا، الیکشن کمیشن کا بنیادی کام صاف شفاف انتخابات کرانا ہے،الیکشن کمیشن کیجانب سے انتخابی عمل میں نمایاں غلطیوں کے باعث عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے،

    سپریم کورٹ نےبلے کے انتخابی نشان چھیننے کی کارروائی پر تحفظات کا اظہارکیا،عدالت نے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کیلئے بنائی گئی انتخابی رولز کی شق 94 بھی کالعدم قرار دے دی،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ بلے کے نشان والے کیس میں پارٹی کے آئینی حقوق واضح کر دیئے جاتے تو ابہام پیدا ہی نہ ہوتا،الیکشن کمیشن نے بھی اپنے حکمنامہ میں پی ٹی آئی کے آئینی حقوق واضح نہیں کیے،عدالت اور الیکشن کمیشن کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا کہ انتخابی شیڈیول جاری ہو چکا ہے،پارٹی کے اندرونی معاملے پر شہریوں کے ووٹ کے بنیادی حقوق کو ختم نہیں کیا جا سکتا،بلے کے نشان کا فیصلہ نظرثانی میں زیرالتوا ہے اس لئے اس پر رائے نہیں دے سکتے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن رولز کی شق 94 کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا کہا رول 94 آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 سے متصادم ہے، رول 94 مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار سے متعلق ہے، انتخابی رولز الیکشن ایکٹ کے مطابق ہی بنائے جا سکتے ہیں، انتخابی رولز میں ایسی چیز شامل نہیں کی جا سکتی جو الیکشن ایکٹ میں موجود ہی نہ ہو، رول 94 کی وضاحت میں لکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعت اسے تصور کیا جائے گا جس کے پاس انتخابی نشان ہو، رول 94 کی وضاحت آئین کے آرٹیکل 51(6) اور الیکشن ایکٹ کی شق 106 سے متصادم ہے، انتخابی نشان نہ ہونے پر مخصوص نشستیں نہ دینا الیکشن کمیشن کی جانب سے اضافی سزا ہے، واضح قانون کے بغیر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی،آئین میں دیے گئے حقوق کو کم کرنے یا قدغن لگانے والے قوانین کا جائزہ تنگ نظری سے ہی لیا جا سکتا ہے،جمہوریت میں انفرادی یا اجتماعی حقوق میں کم سے کم مداخلت یقینی بنانی چاہیے، انٹراپارٹی انتخابات نہ کرانے کی سزا انتخابی نشان واپس لینے سے زیادہ کچھ نہیں،انتخابی نشان واپس لئے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی جماعت کے آئینی حقوق ختم ہوگئے،

    اکثریتی ججز کی وضاحت، چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،جواب مانگ لیا

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    قومی اسمبلی،تحریک انصاف کا ایک بھی رکن نہیں،پارٹی پوزیشن جاری

    مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں،اسپیکر سندھ اسمبلی کا الیکشن کمیشن کوخط

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں چیف جسٹس کیخلاف دوبارہ درخواست دے دی

    عمران خان کی درخواست میں استدعا کی گئی کہ چیف جسٹس میرے اور پی ٹی آئی سے متعلقہ کسی بھی کا حصہ نہ بنیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ابھی تک اپنے خلاف دائر ریفرنس کو ذاتی حملہ تصور کیا،چیف جسٹس کی اہلیہ متعدد مواقع پر عمران خان کیخلاف بیانات دے چکی ہیں.سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم و بانی پی ٹی آئی کی پہلی درخواست واپس بھجوا دی تھی۔

    دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں حلیم عادل شیخ کی جانب سےپریکسٹس اینڈ پروسیجرآرڈیننس کےخلاف درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست میں فیڈریشن آف پاکستان کوفریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا کہ ماسٹرآف دا روسٹرکےمعاملہ پرسپریم کورٹ میں چیف جسٹس فائزعیسی کا فیصلہ موجود ہے،ایسےمیں آئین کہ بالادستی اورعدلیہ کی آزادی متاثر ہوگی۔

    علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ،پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈینینس 2024 کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر متعلقہ بنچ نہ ہونے کا اعتراض ختم کر دیا،لاہور ہائیکورٹ نے رجسٹرار آفس کو درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،جسٹس فیصل زمان خان نے منیر احمد کی درخواست پر بطور اعتراض کیس سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ اظہر صدیق عدالت میں پیش ہوئے، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے۔صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم یا زیادہ نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت صدارتی آرڈیننس کو کالعدم قرار دے۔ عدالت پٹیشن کے حتمی فیصلہ تک صدارتی آرڈیننس پر عمل درآمد روکنے کا حکم جاری کرے۔

    واضح رہے کہ صدرِمملکت آصف علی زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا تھا،وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا تھا،آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی،ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا،تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی،آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،آرڈیننس میں موجود ہے کہ سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہونگے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہونگی۔

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ، پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے،جسٹس منیب اختر تین رکنی ججز کمیٹی سے باہر ہوگئے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس امین الدین خان کو کمیٹی رکن نامزد کر دیا،جسٹس امین الدین خان سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر ہیں

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • پی آئی اے کی خریداری میں‌ترکش ایئر لائن کی دلچسپی

    پی آئی اے کی خریداری میں‌ترکش ایئر لائن کی دلچسپی

    پی آئی اے کی خریداری کے لئے ایک اور ایئر لائن سامنے آ گئی،ترکش ایئرلائن نے پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کر دی

    وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے تصدیق کی ہے کہ ایک ترکش ایئر لائن نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں میزبان شہزاد اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی جلد تکمیل قریب ہے۔ یہ پروگرام پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے لیے دروازے کھولے گا، جس سے متعدد مواقع پیدا ہوں گے۔جب تک سیاسی ماحول میں استحکام نہیں ہے اور سیاسی درجہ حرارت میں کوئی کمی نہیں آتی، ہم معیشت کے مختلف شعبوں میں ترقی نہیں دکھا سکتے۔ ہم سب کو ریاستی اداروں کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں پاکستانی عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری کر رہی ہے، نجکاری کمیشن بورڈ کا آخری اجلاس 20 ستمبر 2024 کو اسلام آباد میں وزیر برائے نجکاری، چیئرمین نجکاری کمیشن جناب عبدالعلیم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا۔ بورڈ نے پی آئی اے کی نجکاری کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور ریکوسٹ فار اسٹیٹمنٹ آف کوالیفیکیشن (RSOQ) کی شرائط کے تحت اجازت یافتہ تبدیلیوں کے حوالے سے فنانشل ایڈوائزر کی سفارشات پر غور کیا۔ نجکاری کمیشن نے چھ بولی دہندگان کو پری کوالیفائی کیا تھا جن میں فلائی جناح، YB ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی زیر قیادت کنسورشیم ، ایئر بلیو لمیٹڈ، پاک ایتھانول (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے زیر قیادت کنسورشیم ، عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ اور بلیو ورلڈ سٹی شامل ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی یکم اکتوبر 2024 کو منعقد کرنے کا ارادہ ہے۔

    ڈاکٹر فاروق ستار سے پی آئی اے یونینز کے وفود کی ملاقات

    فنی خرابی،پشاور جانیوالی پی آئی اے پرواز کی کراچی لینڈنگ

    ایف اے کی جعلی ڈگری، جنرل( ر )باجوہ کے بھائی کی پی آئی اے ملازمت ختم

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

  • پاکستان میں آئی پی پیز کا کردار،ہوشربا انکشافات منظرعام پر آگئے

    پاکستان میں آئی پی پیز کا کردار،ہوشربا انکشافات منظرعام پر آگئے

    باغی ٹی وی:ایک رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے کردار پر حیرت انگیز حقائق سامنے آئے ہیں، جنہوں نے ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ ذرائع کے مطابق، کچھ آئی پی پیز نے غلط کنٹریکٹس کے ذریعے بغیر بجلی پیدا کیے اربوں روپے کی ادائیگیاں حکومت پاکستان سے وصول کیں۔ جس کا خمیازہ حکومت پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    غلط کنٹریکٹس اور مہنگی بجلی کی پیداوار
    اطلاعات کے مطابق آئی پی پیز نے حکومت پاکستان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں سنگین خامیاں چھوڑیں، جس کا خمیازہ ملک کو بھگتنا پڑا۔ بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں اسی صلاحیت کے ونڈ پاور پلانٹس چار گنا زیادہ مہنگے لگائے گئے، جسے اوور انوائسنگ کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    امپورٹڈ فیول پر انحصار اور کوئلے کے ذخائر کی نظراندازی
    پاکستان میں کوئلے کے وسیع ذخائر کے باوجود، آئی پی پیز نے مقامی وسائل پر انحصار کرنے کے بجائے بجلی پیدا کرنے کے لیے ہائی سپیڈ ڈیزل اور درآمدی کوئلے جیسے مہنگے امپورٹڈ فیول کا استعمال کیا، جس کی وجہ سے بجلی کی پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آئی پی پیز نے امپورٹڈ فیول کی ضرورت سے زیادہ درآمد کی، مگر اس کے باوجود اتنی بجلی پیدا نہیں کی جتنی کا دعویٰ کیا گیا تھا، اور حکومت سے اربوں روپے کی سبسڈی بھی وصول کی۔

    فارنزک آڈٹ سے گریز اور دیکھ بھال کے اخراجات میں دھوکہ دہی
    حکومت پاکستان کی بار بار درخواستوں کے باوجود، آئی پی پیز نے اپنے پلانٹس کا فرنزک آڈٹ کروانے سے انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئی پی پیز نے پلانٹس کی دیکھ بھال کے نام پر اربوں روپے حکومت سے وصول کیے، جبکہ حقیقت میں پلانٹس پر دیکھ بھال کے لیے خرچ کی گئی رقم اس کا ایک چوتھائی بھی نہیں تھی۔

    حکومت پاکستان کا بوجھ اور معاہدوں میں خرابیاں
    ایک حیران کن انکشاف یہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان نے نہ صرف ابتدائی طور پر آئی پی پیز لگانے کے اخراجات برداشت کیے، بلکہ انشورنس اور ٹیکس ڈیوٹی کے شعبے میں بھی مالکان کو سہولیات فراہم کیں۔ تمام اخراجات حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کے باوجود، معاہدے کی مدت ختم ہونے پر پلانٹس حکومت پاکستان کی ملکیت میں نہیں آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق، آئی پی پیز کے بیشتر مالکان لوکل ہیں، لیکن معاہدے جان بوجھ کر کچھ فارنرز کے نام پر کیے گئے تاکہ ان پر مزید کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔

    ملکی معیشت پر اثرات اور ماہرین کی آراء
    توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز کو بھاری ادائیگیاں کرنے کی وجہ سے حکومت پاکستان دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ آئی پی پیز نے اپنی لاگت سے سینکڑوں گنا منافع کما لیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے۔

    آئی پی پیز کی اجارہ داری اور حکومت کے نقصانات
    پاکستان میں زیادہ تر آئی پی پیز پر چند بااثر خاندانوں کی اجارہ داری ہے، جس کی وجہ سے یہ نظام شدید طور پر متاثر ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ آئی پی پیز رضا کارانہ طور پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کر کے قیمتوں میں کمی کرنے پر آمادہ ہیں، لیکن اس کے باوجود آئی پی پیز کی ملی بھگت سے حکومت پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

    ان ہوشربا انکشافات کے بعد عوام اور ماہرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت فوری طور پر ان معاہدوں پر نظرثانی کرے اور ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات اٹھائے تاکہ بجلی کی پیداوار سستی ہو اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔