کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے سانحے پر شہر بھر کے تاجروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
واقعے کے خلاف اور متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر کراچی کے تاجروں نے تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے آج مکمل طور پر مارکیٹس بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عتیق میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں تین ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ سینکڑوں تاجر مکمل طور پر تباہ ہو کر سڑکوں پر آ گئے ہیں۔عتیق میر نے مطالبہ کیا کہ حکومت متاثرہ تاجروں کے لیے بولٹن مارکیٹ طرز کا ریلیف پیکیج فوری طور پر متعارف کرائے، جس میں بلا سود قرضے، ٹیکس میں چھوٹ، کرایوں میں رعایت اور متاثرہ دکانداروں کو فوری مالی امداد شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا سانحہ گل پلازہ پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تاجروں، صنعتکاروں اور چیمبر عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سانحے کی وجوہات کا جائزہ لینے اور متاثرین کی مدد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اجلاس کے بعد جاری بیان میں کراچی چیمبر نے وفاقی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تاجروں کو فوری معاوضہ دیا جائے اور آتشزدگی کے اسباب کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔متاثرہ تاجروں نے سندھ حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کچھ لٹوا کر سڑکوں پر آ گئے ہیں، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ سانحے کو کئی دن گزر جانے کے باوجود نہ تو کوئی حکومتی نمائندہ ان سے ملنے آیا اور نہ ہی کسی قسم کی فوری امداد فراہم کی گئی۔ بعض تاجروں نے یہاں تک کہا کہ "ہمیں تو کوئی پانچ روپے دینے والا بھی نہیں۔”
تاجروں اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کی تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا فوری نوٹس لیا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے تو گل پلازہ جیسا سانحہ رونما نہ ہوتا۔