Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی حمایت اور سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی حمایت اور سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی حمایت اور سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے

    طالبان رجیم کی دہشت گردگروہوں کی پشت پناہی ناصرف افغانستان بلکہ خطے بھر کیلئے سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے ،بین الاقوامی جریدہ نے بھی افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج(ٹی ٹی پی) کے بھیانک گٹھ جوڑ کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا،آسٹریلوی جریدے دی کنورسیشن کے مطابق؛ طالبان رجیم نے افغانستان پرقبضہ کے بعدشر پسند مسلح جتھوں کو حکومتی فورس کا حصہ بنالیا،بھارت اپنے مذموم جغرافیائی اور علاقائی مفادات کیلئے طالبان کی پشت پناہی کررہا ہے، افغان طالبان رجیم نے فتنہ الخوارج کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہ فراہم کررکھی ہے،

    آسٹریلوی جریدے کے مطابق فتنہ الخوارج افغان طالبان کے نام نہاد سیاسی نظام کو پاکستان پر بھی مسلط کرنا چاہتا ہے،طالبان رجیم نے فتنہ الخوارج کو افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کرنیکی چھوٹ بھی دے رکھی ہے ،
    ماہرین کے مطابق؛افغان طالبان اپنے بھارتی آقاؤں کی سرپرستی میں اپنا ناجائز تسلط قائم رکھنے کیلئے دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری کررہے ہیں،پاکستان دنیا کو بارہاافغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے ثبوت پیش کرچکاہے جسکی عالمی سطح پرتائید کی جاچکی ہے

  • خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں، 13 خوارج جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں، 13 خوارج جہنم واصل

    سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دو مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے 13 خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرکے مطابق فورسز نے باڑہ اور بنوں کے علاقوں میں کارروائیاں کی، باڑہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 10 خوارج ہلاک ہوئے جبکہ ضلع بنوں میں آپریشن کے دوران 3خوارج جہنم واصل ہوئے ،علاقے میں خوارج کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے علاقوں بنوں اور باڑا میں کامیاب کارروائی کے دوران 13 خارجیوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا اور وہ ملک کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہیں، جبکہ حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

  • بیت المقدس میں عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیاں، وزرائے خارجہ کی شدید مذمت

    بیت المقدس میں عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیاں، وزرائے خارجہ کی شدید مذمت

    اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کی عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ،الحرم الشریف تک رسائی سے روکنا اور مسیحی رہنماؤں کو چرچ آف دی ہولی سیپلکر میں پام سنڈے کی عبادات سے منع کرنا قابل مذمت ہے،اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی قانونی و تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے،وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین، بشمول بین الاقوامی انسانی قوانین، کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور عبادت گاہوں تک بلا رکاوٹ رسائی کے بنیادی حق کی نفی کرتے ہیں۔

    انہوں نے بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف اسرائیلی پابندیوں کو غیر قانونی اور مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شہر کے مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کا احترام کیا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بطور قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں،وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ،الحرم الشریف کے دروازے مسلسل 30 روز تک بند رکھنے، حتیٰ کہ ماہ رمضان کے دوران بھی، اور عبادت کی آزادی کو محدود کرنے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

    مشترکہ اعلامیے میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے، جبکہ اس کے انتظام و انصرام کا مکمل اختیار اردن کی وزارت اوقاف کے تحت بیت المقدس اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کے ادارے کے پاس ہے،وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر مسجد اقصیٰ کے دروازے کھولے، بیت المقدس کے قدیم شہر میں عائد پابندیاں ختم کرے اور عبادت گزاروں کی رسائی میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو مقدس اسلامی و مسیحی مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیاں اور غیر قانونی اقدامات روکنے پر مجبور کرے۔

  • مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    وزیراعظم کی زیر صدارت خلیجی بحران کے پیٹرولیم مصنوعات پر اثر، پاکستان میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    وزیر اعظم آفس کے مطابق اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ کمزور اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گےاجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ممکنہ ریلیف سے استفادے کیلئے موٹرسائیکل اور رکشوں کے حامل افراد کی ملکیتی رجسٹریشن کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے روابط مربوط کئے جار ہے ہیں.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فی الفور بند کیا موجودہ حالات میں قربانی کا سلسلہ حکومتی اخراجات میں کٹوتی سے شروع کیا. تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کرکے، بچت کے اقدمات سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کیلئے بروئے کار لائی گئی. ڈیجیٹل نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی ریلیف کے اقدامات عام آدمی تک پہنچائیں گے. عالمی سطح پر بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کی بدولت اللہ کے فضل و کرم سے ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا گیا. پاکستان خطے میں امن کے حوالے سے سفارتی محاذ پر بھرپور کوششیں کر رہا ہے.

    اجلاس کو ایندھن کی بچت کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد، آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز اور موجودہ اسٹاک پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو وزیرِ اعظم کے ایندھن کی بچت کے اقدامات پر عملدرآمد اور سادگی مہم پر پیش رفت پر انٹیلیجینس بیورو کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی بچت و سادگی مہم پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے. ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود اور آئندہ کیلئے بھی انتظامات کئے جا رہے ہیں. اشرافیہ کی بڑی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے سے جیٹ فیول کی قیمتو ں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی. بریفنگ. وزیرِ اعظم کی بچت مہم کے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ادویا ت کا وافر ذخیرہ موجود ہے،اجلاس کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کی گئیں.

    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد آصف، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، رانا مبشر اقبال، سردار اویس خان لغاری، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق فاطمی، طلحہ برکی، ارکان قومی اسمبلی انجینئیر قمر الاسلام، ریاض الحق، حافظ محمد نعمان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت، جرات کے نشان کا شاندار ٹیزر جاری

    پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت، جرات کے نشان کا شاندار ٹیزر جاری

    پاک فوج کے دلیر جوانوں کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جرات کے نشان کا شاندار ٹیزر جاری کر دیا گیا۔

    ٹیزر میں شہید میجر سید علی رضا اور حوالدار نثار احمد کی بہادری اور قربانی کے جذبہ کو شاندار انداز میں پیش کیا گیا ہے،ٹیزر ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سینہ سپر پاک فوج کے جوانوں کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے،پاک فوج کے بہادر جوان فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سمیت دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا رہے ہیں،قوم ہر محاذ پر پاک فوج کے شہداء کی غیر معمولی بہادری کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔

    https://x.com/BaaghiTV/status/2038514661105311944?s=20

  • اسحاق ڈار سے مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ،ایران سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار سے مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ،ایران سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات ہوئی ہے، جس میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے مصری وزیر خارجہ کا دفتر خارجہ آمد پر پرتپاک استقبال کیا اور کہاکہ پاکستان مصر کے ساتھ دیرینہ اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، جو مشترکہ تاریخ، مذہب اور خطے و عالمی امور پر ہم آہنگی پر قائم ہیں۔

    ملاقات میں دونوں جانب سے دوطرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیا گیا اور گزشتہ اعلیٰ سطحی رابطوں، بشمول نومبر 2025 میں مصر کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان، کے مثبت اثرات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا،دونوں رہنماؤں نے تعاون کو تمام شعبوں میں مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    دونوں وزرا نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا اس ضمن میں دوطرفہ طریقۂ کار کو فعال بنانے، مشترکہ وزارتی کمیشن اور کاروباری اداروں کے مابین روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ہیپاٹائٹس سی کے خلاف صحت کے شعبے میں مصر کی جاری حمایت کی تعریف کی اور اس تعاون کو خوش آئند قرار دیا۔

    دونوں فریقین نے دفاع اور سیکیورٹی تعاون میں موجودہ مثبت پیش رفت پر اطمینان ظاہر کیا اور تربیتی تبادلوں اور دیگر ادارہ جاتی میکنزم کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا انہوں نے خطے اور عالمی سطح پر جاری حالات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور زور دیا کہ تنازعات کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی فوج کی غزہ اور مغربی کنارے میں جاری جارحیت کی سخت مذمت کی، انہوں نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کرنے میں مصر کے کردار کی بھی تعریف کی، جس میں پاکستان کی امدادی کوششوں میں تعاون شامل ہے۔

    دونوں ممالک نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت کثیر الجہتی فورمز پر قریبی ہم آہنگی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ملاقات میں پاکستان اور مصر کے قریبی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کو دہرایا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ ملاقات حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں بشمول 19 مارچ 2026 کو ریاض میں ہونے والی بات چیت کی پیشرفت کے طور پر ہوئی اور یہ خطے میں بڑھتی ہوئی پیش رفت پر پاکستان اور مصر کے قریبی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔

    بعد ازاں ترکیہ کے وزیر خارجہ دفتر خارجہ پہنچے جہاں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ خطے کی بدلتی صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر مشاورت کر رہے ہیں ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔

    انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہر شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیادونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا دونوں رہنماؤں نے ایران سمیت خطے میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امن و استحکام کے لیے مکالمہ اور مسلسل سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔

    پاکستان اور ترکیہ نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہےکہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روزانہ 2 جہاز آبنائے ہرمز عبور کریں گے اسحاق ڈار نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو ووٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پوسٹ میں ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ایران کا یہ اقدام خوش آئند اور تعمیری ہے، اس کی تعریف ہونی چاہیے،یہ پیشرفت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کا پیش خیمہ ہے، یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک اہم قدم ہے جو اجتماعی کوششوں کو مضبوط کرےگا، مذاکرات، سفارتکاری اور اعتماد سازی ہی آگے بڑھنےکا واحد راستہ ہے۔

    دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آتی ہے تو اس سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کو سہارا ملے گا بلکہ پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں استحکام آنے کا بھی امکان ہے-

  • آپریشن غضب لِلحق کے بعد دہشتگردی میں نمایاں کمی

    آپریشن غضب لِلحق کے بعد دہشتگردی میں نمایاں کمی

    خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات میں آپریشن غضب لِلحق کے آغاز کے بعد 65 فیصد کمی آئی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں سال آپریشن سے پہلے صوبے میں دہشت گردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ آپریشن کے بعد اب تک یہ تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے،سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات رواں سال کے نویں ہفتے میں 48 درج ہوئے، جو آپریشن کے بعد بارہویں ہفتے میں کم ہوکر 12 رہ گئے،وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے، آپریشن کے دوران اسلام آباد اور بنوں میں دہشت گردی حملوں کے ماسٹر مائنڈز اور خطرناک دہشت گرد ہلاک ہوئے جنہوں نے پاکستان پر حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کی۔

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی رکوانے میں پاکستان کا کرداراہم،بھارت خبردار ہو جائے،مبشر لقمان

    مشرق وسطیٰ کشیدگی رکوانے میں پاکستان کا کرداراہم،بھارت خبردار ہو جائے،مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال ، پاکستان کے ثالثی کے کردار بارے پوسٹ کی ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان، ترکی اور مصر ممکنہ عالمی جنگ کو روکنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تینوں ممالک مشکل حالات کے باوجود امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، جن میں پاکستان کی کاوشیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان حالات میں بھارت باز نہیں آیا اور مثبت اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، افغانستان اور بھارت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھانے میں مصروف ہیں،مبشر لقمان نے خبردار کیا کہ آنے والے وقت میں دنیا کے نقشے میں بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ کچھ ممالک کی جغرافیائی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے اور بھارت کو بھی اس حوالے سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے فوجی اڈوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور آنے والے برسوں میں کچھ اڈے بند کیے جا سکتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تین ممالک کو اپنی شناخت کے حوالے سے سنگین خطرات لاحق ہیں، جبکہ دو ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی تقریباً یقینی دکھائی دیتی ہے، آنے والا وقت ہی ان پیشگوئیوں کی حقیقت کو واضح کرے گا۔

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی،اسلام آباداہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا

    مشرق وسطیٰ کشیدگی،اسلام آباداہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں اہم سفارتی سرگرمیاں ہونے جا رہی ہیں، جس کے تحت سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ کل اسلام آباد پہنچیں گے۔

    جیونیوز سے خصوصی گفتگو میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نہ صرف باہمی مشاورت کریں گے بلکہ اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف سے بھی اہم ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات دراصل ترکیے میں طے پائی تھی، تاہم مصروفیات کے باعث انہوں نے برادر ممالک کے وزرائے خارجہ کو اسلام آباد مدعو کیا۔نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے کوششیں کر رہا ہے، جبکہ دوست ممالک بھی اس سلسلے میں بھرپور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔اسحاق ڈار کے مطابق ایران کے ساتھ رابطے اور بات چیت کا عمل جاری ہے، تاہم جاری مذاکرات کے پیش نظر میڈیا پر تفصیلات شیئر کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکا نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی فارمولا پیش کیا تھا، جس کی ایران نے تصدیق کی۔ بعد ازاں ایران نے بھی اپنا جواب پاکستان کے توسط سے امریکا تک پہنچایا۔