Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس ،عمران خان کی بریت کی درخواست مسترد

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،عمران خان کی بریت کی درخواست مسترد

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی بریت کی درخواست مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی: احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کی،عدالت نے وکلا صفائی کو کل نیب تفتیشی افسرپرجرح مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

    یاد رہے کہ 190 ملین پاؤنڈز یا القادر ٹرسٹ کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کنال مالیت کی اراضی حاصل کی۔

    یہ کیس القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے مبینہ طور پر غیر قانونی حصول اور تعمیر سے متعلق ہے جس میں ملک ریاض اور ان کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ذریعے 140 ملین پاؤنڈ کی وصولی میں غیر قانونی فائدہ حاصل کیا گیا۔

    عمران خان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، رقم (140 ملین پاؤنڈ) تصفیہ کے معاہدے کے تحت موصول ہوئی تھی اور اسے قومی خزانے میں جمع کیا جانا تھا لیکن اسے بحریہ ٹاؤن کراچی کے 450 ارب روپے کے واجبات کی وصولی میں ایڈجسٹ کیا گیا۔

  • میجر عزیز بھٹی شہید  کا 59 واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے،مسلح افواج کا خراج عقیدت

    میجر عزیز بھٹی شہید کا 59 واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے،مسلح افواج کا خراج عقیدت

    1965 کی جنگ کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) کا 59 واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے-

    باغی ٹی وی : میجر عزیز بھٹی نے 1965 کی جنگ میں مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا، جس پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور مسلح افواج پاکستان نے میجر راجہ عزیز بھٹی کو ان کی 59ویں برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے جبکہ گجرات میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کے مزار پر تقریب کا انعقاد کیا گیا، میجر جنرل محمد شمریز نے مزار پر پھول رکھے، فاتحہ خوانی کی اور سلامی دی گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میجر عزیز بھٹی شہید کی فرض شناسی، غیر متزلزل عزم اور عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ان کے بہادرانہ اقدامات نے بے شمار لوگوں کو بہادری اور قربانی کی اعلیٰ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج میجر عزیز بھٹی کی یاد کو سلام پیش کرتی ہیں اور ان کی وراثت کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں جو کہ جوانوں کی نسلوں کو عزت اور وقار کے ساتھ ملک کا دفاع کرنے کی تحریک اور ترغیب دیتا ہے ہم اپنے شہداء کے خاندانوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانیوں کا خمیازہ ہمت اور لچک کے ساتھ برداشت کیا،آئیے پاکستان کے دفاع میں لازوال قربانیاں دینے والے میجر عزیز بھٹی، نشان حیدر اور اپنے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں۔

  • جلسے کی ناکامی،پارٹی میں انتشار،عمران خان مزید بدحواس

    جلسے کی ناکامی،پارٹی میں انتشار،عمران خان مزید بدحواس

    پی ٹی آئی جلسے کی ناکامی نے بانی پی ٹی آئی کو مزید بدحواس کردیا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان جب سے اقتدار سے قانونی اور آئینی طریقے سے بے دخل ہوا ہے اور پھر 8 فروری کے ہونے والے شفاف اور پرامن انتخابات میں اس کی جماعت کے شرپسندی کے بیانیے کو ووٹرز نے مسترد کیا ہے اس کے بعد سے بانی پی ٹی آئی نے تقریباً ہر وہ حربہ آزما لیا ہے جس سے وہ اقتدار میں واپس آسکتا ہے مگر اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے، سائفر ڈرامے سے لیکر ریاستی اداروں پر ہرزہ سرائی، دھمکیاں، دھونس، مذاکرات کی کوشش مگر ہر حربہ ناکام ہو چکا ہے۔ آج بھی بانی پی ٹی آئی نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کی جس میں سوائے تضادات کے اور کچھ نہیں تھا۔ موصوف کہتے ہیں کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا تھا اور ساتھ موصوف کہتے ہیں کہ ان کی تو اسٹیبلشمنٹ سے کسی طرح کی کوئی گفتگو ہی نہیں ہو رہی۔دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اس شخص کو کسی طرح کی گھاس نہیں ڈالی جا رہی یہی وجہ ہے کہ بداحواسی یہ شخص اپنی باتوں سے حسب روایت مکرتا اور بیانیے بدل رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک دلچسپ امر یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ مذاکرات صرف فوج سے کئے جائیں مگر ساتھ یہ بھی کہتا میرا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہئے، یعنی مذاکرات کیلئے فوج قبول ہے مگر جرائم کے ٹرائل کیلئے ملٹری کی عدالت قبول نہیں۔

    میڈیا نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں بانی پی ٹی آئی نے دل کھول کر قومی احتساب آرڈیننس پر تنقید کی حالانکہ اسی ترمیم شدہ قانون کے تحت نئے توشہ خانہ ریفرنس میں موصوف کی جانب سے بریریت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، اگر یہ قانونی ترمیم اس کے نزدیک قابل قبول نہیں تھی تو مثال قائم کرتے ہوئے کہہ دیتا میں اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا مگر جو شخص سر تا پیر تضادات کا شکار ہو اس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی۔

    اسلام آباد کے جلسے میں علی امین گنڈاپور نے جس طرح کی گھٹیا زبان استعمال کی اس حوالے سے تمام مکتبہ فکر کی جانب سے شدید تنقید کی اور مذمت کی جارہی ہے۔ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو کیا زیب دیتا ہے کہ وہ سٹیج پر کھڑا ہو کر خواتین کی بے حرمتی کرے اور ریاستی اداروں کو دھمکیاں دے۔۔؟ آج بانی پی ٹی آئی کی طرف سے علی امین گنڈا پور کی تقریر کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ تقریر کا سارا سکرپٹ ذہنی انتشار سے بھرپور شخص کی ذہن کی عکاس تھی۔ اس میں اب کوئی دو رائے نہیں کہ بانی پی ٹی آئی ذہنی انتشار سے بھرپور، حدود و قیود سے آزاد، منتشر خیالات کا مالک انسان ہے جس کے نزدیک قانون یا آئین یا معاشرتی حدود کوئی معنی نہیں رکھتیں۔

    میڈیا نمائندوں کی جانب سے یہ سوال کیا گیا کہ علی امین گنڈاپور کی تقریر پر تو پی ٹی آئی کے رہنما معافی مانگ رہے ہیں جس کے جواب میں بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جو معافی مانگ رہے ہیں وہ ڈرپوک اور بزدل ہیں اس کے اس جواب میں ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس کے بیانیے اور ان کی پارٹی رہنماؤں کے بیانیے میں اب فرق آچکا ہے اور دونوں کے درمیان خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔دوسری طرف بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے رہنماؤں اور کارکن سے اظہار لاتعلقی پرانی روش ہے جس طرح 9 مئی کے بعد بھی اس نے اپنے کارکنوں سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھا۔

    بانی پی ٹی آئی نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کے حوالے سے ہرزہ سرائی کہ بلوچستان آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے کا یہ بیان بانی پی ٹی آئی کا کم اور گولڈ سمتھ بیانیے کی تقلید زیادہ لگ رہا ہے۔ اس طرح کا بیان دے کر وہ بھارتی لابی کے ساتھ ساتھ صہیونی سہولت کاروں کو بھی خوش کرنا چاہتا ہے۔

    سیاسی حلقوں کے مطابق تمام حربوں کی ناکامی کے بعد اب بانی پی ٹی آئی ذہنی بدحواسی کا شکار ہو چکا ہے۔ پارٹی میں جاری انتشار، علیمہ خان اور بشریٰ کی چپقلش نے موصوف مزید ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اس کے ذہنی مریض ہونے کا اس سے بڑاکیا ثبوت ہوگا کہ آئے روز میڈیا نمائندوں سے ہونے والی گفتگو میں اس کی ذہنی پریشانی اور بیانات میں تضاد واضح نظر آتاہے

    اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا،کوئی بات چیت نہیں،عمران خان

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • ارشد شریف قتل کیس،سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر

    ارشد شریف قتل کیس،سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر

    ارشد شریف کیس، سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو ارشد شریف کیس کا فیصلہ دینے سے روکا جائے،ن لیگی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے،مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں،سپریم کورٹ میں شہری شاکر علی نے درخواست دائر کی ،درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے واقعاتی شواہد کے تناظر میں پولیس کو ن لیگی رہنماؤں نواز شریف، حسین نواز، مریم نواز، شہباز شریف، مریم اورنگزیب، سلمان شہباز، اسحاق ڈار، حمزہ شہباز، پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، ناصر بٹ، وقار احمد، خرم احمد، تسنیم حیدر شاہ اور حسن نواز کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی جائے، ملزمان کے نام ای سی ایل اور بیرون ملک ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ انکوائری میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ملزمان کو عہدوں سے ہٹایا جائے، ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کینیا سے منگوائی جائے اور کنٹریکٹر وقار احمد کا ریکارڈ کنیا میں امریکی سفارتخانے اور آئی ایس آئی حکام سے طلب کیا جائے، ارشد شریف کا قتل ایک قومی سانحہ ہے اور ہر شہری اس میں درخواست گزار بن سکتا ہے، درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ اسے سپریم کورٹ ازخود نوٹس کیس میں فریق بننے کی اجازت دی جائے۔

    سپریم کورٹ میں شہری شاکر علی کی جانب سے دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی، اعانت جرم کی دفعات نہیں لگائی گئیں، سابق اور موجودہ چیف جسٹس کو اس معاملے سے آگاہ کیا لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی، سپریم کورٹ ازخود نوٹس کے بعد رمنا پولیس اسٹیشن میں قتل کی ایف آئی آر خرم احمد اور وقار احمد کے خلاف درج کی گئی جس میں اعانت جرم کی دفعات شامل نہیں کی گئیں،ارشد شریف،، شریف خاندان کی کرپشن اور جرائم کے بارے میں کام کر رہے تھے اور ان سے بدلہ لینے کے لیے ان کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں 16 ایف آئی آرز درج کروائی گئیں،جے آئی ٹی رپورٹس کی روشنی میں شریف خاندان کی کینیا میں 2 شوگر ملیں ہیں جہاں ارشد شریف کو جانے پر مجبور کیا گیا اور پھر وہاں بہیمانہ طریقے سے اس کا قتل کیا گیا،پمز اسپتال کی رپورٹس کے مطابق ارشد شریف کو قتل سے پہلے شدید ٹارچر کیا گیا، تسنیم حیدر شاہ کے مطابق عمران خان پر وزیر آباد میں حملہ اور ارشد شریف کے قتل کی منصوبہ بندی حسن نواز نے کی، درخواست گزار نے استدعا کی ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کو اس مقدمے کا فیصلہ دینے سے روکا جائے۔

    ارشد شریف کے قتل سے قبل عمران خان کو بڑی کارروائی کا علم تھا،فیصل واوڈا

    ارشد شریف قتل کیس،نوازشریف،مریم کیخلاف سکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس بند

    ارشد شریف کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس پر کینیا ہائیکورٹ کا فیصلہ، پی ٹی آئی سازشی تھیوریوں کی موت

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم

  • فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں کہتا تھا ناں آپ کو،بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے،اب بھی یہی کہتا ہوں کہ پی ٹی آئی اب بھی ایک اور نومئی کرنے کے درپے ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹکراؤ کے لئے تانے بانے بن رہی ہے،تصادم کا ماحول تیار کر رہی ہے،کل کے جلسے نے میرے خدشات درست ثابت کر دیئے میں نےکہا تھا جلسہ گاہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے وہاں سے بارودی مواد برآمد ہوا ہے، میں نےکہا تھا کہ اشتعال دلائیں گے، جلسہ گاہ میں مقررین نے زہر اگلا، 26 نمبر چونگی پر کیا ہوا، پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس پر پتھر برسائے، لاٹھیاں ماریں،کئی اہلکار زخمی ہوئے، یہ ایک ریہرسل تھی،فائنل راؤنڈ کے لئے، انقلاب کے نام پر اپنے انجام سے بچنے کے لئے، علی امین نے جو زہر اگلا اسکو سمجھنے کی ضرورت ہے،یہ وہی گںڈاپور ہے جو اپنی زمین پر سے اگنے والی فصل کو طالبان کو بھتہ دیئے بغیر نہیں اٹھا سکتا، جس کے صوبے میں جج اغوا کر لیےجاتے ہیں تاوان دے کر رہائی ہوتی ہے، جس کے حقلے سے پاک فوج کے کرنل اور اسسٹنٹ کمشنر بھائی کو مسجد سے اغوا کیا گیالیکن یہ کچھ نہ کر سکے، اس لئے علی امین گنڈا پور نے ریاست کو للکارا اور کہا کہ عمران کو رہا نہ کیا گیا تو اڈیالہ جیل جائےگا اور رہا کروائے گا،کیا جمہوری جدودجہد اسے کہتے ہیں،مریم نواز،خواتین صحافیوں کے بارے میں گنڈا پور نے جو زبان استعمال کی ہماری ثقافت اس کی اجازت نہیں دیتی، علی امین اب صوبے کے وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے، وہ ٹوٹلی ناکام ہو چکے ہیں، اس لئے صوبے کو وسائل کو تصادم میں دھکیل دیا ، اس کا نشانہ پنجاب ہے،جلسے کی آڑ میں تصادم چاہتا ہے ،تصادم ہوا تو خونی اور نومئی سے خطرناک ہو گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ذرا تصور کریں کہ لاہور میں جلسے کی آڑ میں سڑکوں پر بلائے گئے کرائے کے افغان امن امان کو تہس نہس کرنے کی کوشش کریں گے توکیا پنجاب حکومت تماشا دیکھے گی؟ ن لیگ نے گنڈا پور کا چیلنج قبول کر لیا، سب ن لیگی رہنماؤن نے یک زبان ہو کر جواب دیا، اب تصادم کی تاریخ کا اعلان باقی ہے، پی ٹی آئی سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کر چکی ہے، پی ٹی آئی نے تقسیم کی دیوار کھڑی کی، سوسائٹی میں نفرت کا زہر گھولا، نوجوان نسل کو اداروں کے سامنے کھڑا کرنے کی سازش کی، جلسے میں مراد سعید جو چھپا بیٹھا ہے، اپنے ویڈیو پیٍغام میں فائنل راؤنڈ کے لئے اکسا رہا ہے، نوجوان نسل سے باہر نکلنے کے لئے حلف لے رہا تھا.

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • چئیرمین نادرا کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل

    چئیرمین نادرا کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل

    لاہور ہائیکورٹ ،چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کو عہدے سے ہٹانے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    عدالت نے چئیرمین نادرا کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل کر دیا ،عدالت نے چیئرمین نادار کو عہدے پر بحال کردیا ،لاہور ہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کردیا،عدالت نے فریقین کونوتس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری محمد اقبال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی،وفاقی حکومت کے وکیل راشدی نوازنے دلائل دئیے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ چئیرمین نادرالیفٹنینٹ جنرل منیر افسر کی تعیناتی قوانین کےمطابق کی گئی۔نادرا کاڈیٹا لیک ہونے پر وفاقی حکومت نے قوانین کےتحت نئی تعیناتی کی۔سلیکشن کمیٹی نےچھ امیدواروں میں سے میرٹ کےمطابق تعیناتی کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نےنئی تعیناتی کےقوانین میں ترمیم کی توثیق کی۔تعیناتی رولزکے سیکشن سات کو سنگل بنچ نے کالعدم قرار نہیں دہا۔سیکشن سات کی موجودگی میں چئیرمین نادرا کو عہدے سے نہیں ہٹایاجاسکتا۔عدالت عالیہ کےسنگل بنچ نے حقائق کے برعکس فیصلہ سنایا۔عدالت سنگل بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔عدالت چئیرمین لیفٹنینٹ جنرل منیر افسر کو عہدے پربحال کرنے کا حکم دے۔ لاہور ہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کردیا

    آج تک کسی کو شناختی کارڈ نہ بنانے پر سزا نہیں ہوئی، چیئرمین نادرا

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے؟ علی محمد خان کا سوال

    وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے؟ علی محمد خان کا سوال

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس ہوا

    پی ٹی آئی رکن اسمبلی علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات جنہوں نے پارلیمنٹ پردھاوا بولا ان پرآرٹیکل 6 لگناچاہیے،وہ نقاب پوش کون ہیں جو پارلیمنٹ میں گھسے، یہ جمہوریت پر حملہ ہے،پاکستان کے آئین پر حملہ ہے، افسوس ہے ہندوستان، اسرائیل،امریکہ سے نہیں میرے اپنے وطن کے نقاب پوش ایوان میں گھسے،یہ حملہ سپیکر صاحب آپ پر ہے، یہ حملہ شہباز شریف پر ہے یہ حملہ بلاول پر ہے،آپ اس معاملے پر کھڑے ہو جائیں ،اگر آپ کھڑے نہیں ہوتے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا کے چلے جاتے ہیں ،جس طرح نو اپریل کو کھڑا تھا آج بھی کھڑا ہوں ،مریم نواز شریف میرے لیے بہن کی جگہ ہے ،ضرورت ہے قوم اور فوج یکجان ہوکر کھڑے ہوں ،درخواست ہے آپ اپنا کردار ادا کریں ،کل آپ کے بھائیوں کو یہاں سے اٹھایا گیا ،اراکین کو پارلیمنٹ کے سامنے اٹھایا گیا،اگر جناح ہاؤس پہ حملہ پاکستان پہ تھا تو پارلیمنٹ پہ حملہ پاکستان پہ حملہ نہیں ہے ؟

    صاحبزادہ حامد رضا نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل رات میں اپنے ساتھیوں کیلئے یہاں پر آیا تھا ،آج ہم یہاں پر اپنا آئینی کردار ادا کرنے آئے ہیں ،رات کو تین بجکر سولہ منٹ پر قومی اسمبلی میں نقاب پوش داخل ہوئے،ہم مختلف کمروں میں بیٹھے ہوئے تھے ،جب نقاب پوش داخل ہوئے تو کمروں کی لائٹیں بند کردی گئیں ،عامر ڈوگرزین قریشی، شیخ وقاص اکرم اور نسیم شاہ کو گرفتار کیا جاتا ہے ،احمد چھٹہ اور اویس جھکڑ کا پتہ نہیں کہاں پر ہیں ،میں بانی پی ٹی آئی کا اتحادی ہوں اور رہوں گا ،اس ایوان کی کازروائی کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمز کو کہیں کہ مجھے گرفتار کریں ،اگر کہیں پر بھی میرے خلاف ایف آئی آر ہے تو مجھے وہاں پیش کریں،ایف آئی آر میں صرف چار لوگ نامزد تھے ،لوگوں کو گردن سے پکڑ کر گرفتار کیا گیا،بیرسٹر گوہر کو کالر سے پکڑ کر گرفتار کیا گیا،میں کوئی مجرم نہیں ہوں میرے والد نے طالبان کے خلاف تقریر کی ،ہمیشہ دہشت گردی کی خلاف بات کا اگر ریاست یہ صلہ دیتی ہے تو ٹھیک ہے

    پارلیمنٹ کے گیٹ کے اندر اراکین کو گرفتار کیا جاتا ہے تو کیا بچا ہے ،نوید قمر
    پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر گھس کر گرفتاریاں،یہ کیا ہے جو الزامات سامنے آرہے ہیں میرے پاس یقین کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ،یہ پارلیمنٹ اور آئین پر سراسر حملہ ہے ،پارلیمنٹ کے گیٹ کے اندر اراکین کو گرفتار کیا جاتا ہے تو کیا بچا ہے ،آپ کو سنجیدہ انکوائری کرکے کارروائی کرنا پڑے گی ،اگر کارروائی نہیں ہوگی تو سلسلہ نہیں رکے گا،تحقیقات کر کے سنجیدہ ایکشن لینا پڑے گا، ایک ہی راستہ ہے، پارلیمنٹ پر حملہ ادھر سے ہو یا کہیں اور سے ہمیں ایک ہونا ہو گا،

    پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا امتحان ہے ، آپ آئین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا نہیں، محمود اچکزئی
    محمود اچکزئی نے کہا کہ بینظیر اور میاں نواز شریف نے ہمیشہ جمہوریت کی بات کی،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پارلیمنٹ کی بالا دستی کیلئے معاہدہ کیا ، کل جس انداز سے پارلیمنٹ اور آئین کی بے عزتی کی گئی ، آپ سمیت سب نے بار بار آئین کا حلف لیا، یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا امتحان ہے ، آپ آئین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا غیر جمہوری قوتوں کے دم چلے بننے کو ترجیح دیتے ہیں ، سپیکر نے محمود خان اچکزئی کے نامناسب الفاظ حذف کردیئے

    آپ اداروں کو سینگوں پر اٹھا لیں اور پھر کہیں آپ کو کچھ نہ کہا جائے ،رانا تنویر
    وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے اسلام آباد جلسے کے معاہدے کی پاسداری کی،کیا سٹیج پر ماوں بہنوں کو گالیاں دیا جانا انہوں نے کلچر نہیں بنادیا ،آپ رجوع کریں ،کیا نومئی کرکے انہوں نے خود یہ سب کچھ نہیں کیا ،کبھی بنگلہ دیش کا حوالہ دیا جاتا ہے ،یہی جو کررہے ہیں پھر وہی ہوگا،آج پارلیمان کی باتیں سب کو یاد آرہی ہیں ،بلاول نے ان کی حکومت کو قدم بڑھانے کا کہا تھا دیکھ لیا ان کا قدم ،قرآن اٹھاکر کہا گیا کہ رانا ثنا اللہ نے منشیات سمگل کی،ان کے لیڈر کو تو ایکسر سائز مشین ملی ہوئی ہے ،رانا ثنا اللہ کو کہاں رکھا گیا تھا ،آپ اداروں کو سینگوں پر اٹھا لیں اور پھر کہیں آپ کو کچھ نہ کہا جائے ،جب ان کا لیڈر سٹیج سے گرا تو نوازشریف نے اپنی الیکشن مہم دوروز کے لئے روک دی تھی

    جو ہوا قانون کے مطابق ہوا،اٹک پل پر انتظار کریں گے، وزیر دفاع
    وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات ریاست نے احتجاج کیا ،صحافیوں نے احتجاج کیا اِس پر کسی کو کیا اعتراض ہے،گزشتہ روز جوہوا وہ قانون کےمطابق ہوا،صوبہ وفاق پرحملے کی بات کرے گاتوردعمل توآئےگا،کیاپاکستان کا وجو د ایک شخص کےوجود سے نتھی کیاجاسکتاہے ؟ یہ الفاظ، اس قسم کا ری ایکشن جو کل آئے اسکو جسٹی فائی کرتے ہیں، یا یہ کہا جائے کہ پشتونوں کا حملہ لے کرپنجاب پرحملہ آور ہوں گے،پنجاب پرحملے کی بات ہوگی تو کیانتیجہ نکلے گا؟پاکستا ن کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیاگیا ، جب آپ کہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں تو اس کا کیا ری ایکشن آئے گا؟جس قسم کی زبان استعمال کی گئی، اوپر والے بیٹھے ہوئے،ہمارے دوست،کولیگ، انہوں نے بھی احتجاج کیا،آپ بتائیں کہ کبھی بھی اس ایوان کی تاریخ مین اس ہاؤس کی،اور پریس گیلری والے ہرٹ ہوئے ہوں،پاکستان کے وجود کو پرسوں چیلنج کیا گیا، پاکستان کی سالمیت، اتحاد کے خلاف بات کی گئی، فیڈریشن کو چیلنج کیا گیا، اس کے بعد کیا توقع کرتے ہیں، اس قسم کی باتیں کل کے ری ایکشن کو جواز فراہم کرتی ہیں،کل کا عمل پرسوں کا ری ایکشن تھا، پاکستان کے وجود کو پرسوں چیلنج کیا گیا، پاکستان کے فیڈریشن کو چیلنج کیا گیا، اس کے بعد آپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ ہم آپ کا اٹک پُل پر انتظار کرینگے،انکا لیڈر(عمران خان) گاڑی کی ڈگی میں بیٹھ کر باجوہ سے ملاقات کرنے گیا،میں نے علی محمد خان کی دم پر پیر رکھ دیا اب اس چیخیں نکل رہی ہیں ،رویئے درست نہیں ہوں گے یہ کہیں گے کہ ہم نے بات کرنی تو فوج سے، یہ کہاں لکھا ہے کہ فوج سے بات کرے،15 دن کا کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کروانے کا آج دوسرا دن ہے ہم انتظار کررہے کہ وہ آئے لشکر لیکر ،13 دن باقی ہیں،اس نے جو ہمارے بارے کہا ہے ہم اٹک کے پل پر انتظار کریں،انکا تو صرف چیئرمین گرفتار ہے جبکہ میرا لیڈر تو پورے خاندان سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے ضمیر بیچے ہوئے ہیں یہ ڈارمے بند کریں

    خواجہ آصف کی تقریر کے دوران علی محمد خان نے احتجاج کیا تو خواجہ آصف نے کہا کہ یہ اس کابینہ میں شامل تھا جس نے مجھ پر آرٹیکل 6 لگایا،یہ رنگ بازی کر رہا ہے یہ درود شریف پڑھ کر جھوٹ بولتا ہے پھر درود شریف پڑتا ہے،میں نے ان کی دم پر پیر رکھا ہے اس لیے یہ چیخ رہے ہیں

    پارلیمنٹ میں‌جو ہوا،تحقیقات کروا کر مقدمہ درج کروائیں گے،سپیکر ایاز صادق
    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے چیمبر میں تمام پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس طلب کرلیا،ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جو پارلیمنٹ میں ہوا اس پر ایکشن لینا ہوگا،تمام ویڈیوز منگا لی ہیں اور اس پر ذمہ دار کا تعین کرنا ہے،میں اپنے آپ کو بدقسمت سمجھتا ہوں کہ 2014 میں ایک شخص اور اس کے کزن نے حملہ کیا،میں نے ان کے خلاف ایف آئی آر کروائی ،آج بھی جو اس کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر دیں گے ،اجلاس میں تمام پارٹیوں کے اراکین شریک ہوں،

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • پارلیمنٹ ہاؤس میں روپوش پی ٹی آئی اراکین اسمبلی گرفتار

    پارلیمنٹ ہاؤس میں روپوش پی ٹی آئی اراکین اسمبلی گرفتار

    اسلام آباد جلسے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے

    اراکین پارلیمنٹ نے رات پارلیمنٹ میں‌گزارنے کی کوشش کی، سپیکر سے مدد مانگی تاہم پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس سے بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا،اسلام آباد پولیس نے ایم این اے زین قریشی اور شیخ وقاص اکرم کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے گرفتار کیا،رکن قومی اسمبلی نسیم الرحمان، شاہ احد خٹک اور ‏سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا کو بھی گرفتار کرلیا گیا،جنوبی وزیر ستان سے ایم این اے محمد زبیر کو بھی گرفتار کیا گیا، بیرسٹر گوہر، شیر افضل مروت، شعیب شاہین کو بھی گرفتار کیا گیا، زرتاج گل پارلیمنٹ سےفرار ہو گئی تھیں، جمشید دستی بھی بھاگنے میں کامیاب ہو گئے تھے،اسلام آباد پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمر ایوب اور زرتاج گل کو بھی گرفتار کیا جائے گا،پولیس نے ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے ہیں۔ ڈی چوک، نادرا چوک، سرینا اور میریٹ کے مقام سے ریڈ زون مکمل سیل کردیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے علی محمد خان کو گرفتار نہیں کیا، علی محمد خان کا کہنا ہے کہ کل پاکستان میں جمہوریت کی بدترین رات تھی،آمریت میں بھی کبھی اس طرح پارلیمنٹ کا تقدس پامال نہیں کیا گیا ،کل رات جمہوریت پر حملہ کیا گیا ،

    دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر سے گرفتاریاں نامناسب ہیں، 20 ستمبر تک انتظار کریں، 20 ستمبر تک دیکھیں بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے،

    علاوہ ازیں راولپنڈی میں پولیس کی جانب سے سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت اور پی ٹی آئی کے رہنما شہریار ریاض کی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، پولیس نے سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت کی رہائش گاہ دھمیال ہاؤس میں چھاپہ مار کر گھر کی تلاشی لی،اس موقع پر راجہ بشارت گھر پر موجود نہیں تھے،شہریار ریاض کی گرفتاری کے لیے پولیس نے رات گئے پشاور روڈ پر واقع ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے چھاپے کے دوران پی ٹی آئی رہنما شہریار ریاض بھی اپنے گھر پر موجود نہیں تھے، شہریار ریاض اور راجہ بشارت کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج ہے،دونوں پر این او سی کی خلاف ورزی اور کار سرکار میں مداخلت کا الزام ہے

    اسلام آباد پولیس نے جلسے کے موقع پر پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کے واقعے پر پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف تھانہ نون میں مقدمہ درج کیا ہے،درج مقدمے میں انسداد دہشتگردی اور اقدام قتل سمیت 11 دفعات شامل کی گئی ہیں ،مقدمے میں شعیب شاہین اور عامر مغل سمیت 70 سے زائد رہنماؤں اورکارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے،مقدمے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے مرکزی قیادت کی ایما پر 26 نمبر چونگی کے قریب پولیس پر حملہ کیا، ڈنڈوں اور پتھروں سمیت راڈ سے پولیس اہلکاروں پر حملہ کرکے زخمی کیا گیا، سرکاری گاڑی کے شیشے توڑے گئے پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور پولیس اہلکاروں سے سرکاری سامان چھینا گیا۔

    نعیم حیدر پنجوتھا پستول اٹھا کر پولیس پارٹی کے پاس آئے اور کہا 9 مئی کیا بھول گئے ہو؟مقدمہ درج
    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف سنگجانی میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمہ میں انسداد دہشتگردی اور اقدام قتل سمیت 9 دفعات لگائی گئی ہیں،تھانہ سنگجانی کے مقدمے میں نعیم حیدر پنجوتھا سمیت 60 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے،درج مقدمے کے مطابق نعیم حیدر پنجوتھا پستول اٹھا کر پولیس پارٹی کے پاس آئے اور کہا 9 مئی کیا بھول گئے ہو؟ 9 مئی کو بھول جاؤ گے،نعیم حیدر پنجوتھا نے پولیس پر فائرنگ کی، اہلکاروں نے چھپ کر جان بچائی۔

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

    دوسری جانب اسلام آباد جلسہ میں علی امین گنڈا پور کے خطاب اور بیانات پرپی ٹی آئی قیادت بھی ناراض اور تقسیم ہو چکی ہے، آج اسلام آباد میں تحریک انصاف کے رہنما معافیاں مانگتے رہے اور صحافیوں کو مناتے رہے، بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، شبلی فراز نے بار بار معافیاں مانگیں،پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ جلسے میں علی امین گنڈاپو رنے غیر ضروری گفتگو کی،پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہ لینے پر ارکان نے علی امین گنڈاپور کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے،علی امین گنڈا پور نے اپنے خطاب بارے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا تھا، علی امین گنڈا پور کے خطاب کی وجہ سےپی ٹی آئی کے لئے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے رہنما پریشان ہیں.

    علاوہ ازیں عورت فاؤنڈیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنےکا مطالبہ کیا ہے،عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہےکہ علی امین گنڈا پور کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ کی مذمت کرتے ہیں، وزیراعلیٰ کے پی کی زبان دھمکی آمیز تھی، انہوں نے اخلاقی گراوٹ کا ثبوت دیا،علی امین گنڈاپور نے سائبرکرائمز ایکٹ کی خلاف ورزی کی، وزیراعلیٰ کے پی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

  • حافظ سعد رضوی کو 4 سال، اشرف جلالی کو 14 سال کی سزا

    حافظ سعد رضوی کو 4 سال، اشرف جلالی کو 14 سال کی سزا

    گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا اعلان کرنے والے اسلام مخالف ڈچ سیاست دان گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر اکسانے کے الزام میں نیدرلینڈز کی عدالت نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قائد مولانا اشرف جلالی کو سزا سنادی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں پاکستانی رہنماوں پر ان کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا اور سزا بھی ان کی غیر موجودگی میں سنائی گئی۔ عدالت نے مولانا اشرف جلالی کو 14 سال اور حافظ سعد رضوی کو 4 سال قید کی سزا سنائی۔ سعد رضوی اور مولانا اشرف جلالی پر گیرٹ وائلڈرز کے قتل کا فتویٰ دینےکا مقدمہ کیا گیا تھا۔دائیں بازو کے اسلام مخالف ڈچ رکن پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈرز نے سعد رضوی اور مولانا اشرف جلالی کے خلاف ایمسٹرڈیم ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں پاکستان کے مذہبی رہنماوں حافظ سعد رضوی اور مولانا اشرف جلالی پر الزام تھا کہ انہوں نے توہین رسالت کے الزام میں اسلام مخالف سیاستدان گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر لوگوں کو اکسایا۔

    ڈچ پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا کہ مولانا اشرف جلالی نے اسلام مخالف ڈچ سیاستدان کے قتل کا فتویٰ دیا تھا ۔تحریک لبیک پاکستان کے رہنما سعد رضوی پر بھی گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر اکسانے کا الزام تھا مذکورہ معاملے پر ایک خط میں ڈچ حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے پاکستان نے متعدد بار درخواست کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں دیا، حکومت اس معاملے پر پاکستان پر زور دیتی رہے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال ڈچ عدالت نے پاکستان کے سابق کرکٹر خالد لطیف کو 12 سال قیدکی سزا سنائی تھی، خالد لطیف پربھی لوگوں کو اسلام مخالف ڈچ سیاست دان گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر اُکسانےکا الزام تھا عدالت نے خالد لطیف کی غیر موجودگی میں ان پر مقدمہ چلایا اور خالد لطیف کسی بھی موقع پر عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنے اور نہ ہی سزا کے اعلان کے وقت وہ نیدرلینڈ میں موجود تھےڈچ پراسیکیوٹر کے مطابق خالد لطیف نے 2018 میں آن لائن ویڈیو میں گیرٹ وائلڈرز کے قتل پر 23 ہزار ڈالر (اس وقت کے 30 لاکھ پاکستانی روپے) انعام دینےکا اعلان کیا تھاڈچ عدالت نے 38 برس کے سابق پاکستانی بلے باز کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے الفاظ کو ’قتل پر اُکسانے کے مترادف اور دھمکی آمیز‘ قرار دیا تھاخالد لطیف نے دائیں بازو کے اسلام مخالف ڈچ سیاست دان گیرٹ وائلڈرز کے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے اعلان کے بعد یہ ویڈیو پوسٹ کی تھی۔

    2018 میں مسلمانوں اور اسلام مخالفت کے حوالے سے مشہور دائیں بازو کے ڈچ سیاستدان گیرٹ وائلڈرز نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل اور احتجاج کے بعد اس نے یہ مقابلہ منسوخ کردیا تھا۔

  • بریکنگ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور گرفتار

    بریکنگ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور گرفتار

    وزیراعلیٰ خیبر پخونخوا علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر لیا گیا

    علی امین گنڈا پور نے گزشتہ روز جلسے کے دوران دھمکیاں دی تھیں ابھی اطلاعات ہیں کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے،علی امین گنڈا پور کو تحویل میں لیا گیا ہے، ان کے سب نمبرز بند ہیں اور کسی کا کوئی رابطہ نہیں ہے، صحافی حسن ایوب نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے پانچ گھنٹے سے زائد عرصے سے علی امین گنڈا پر کا پتہ نہیں چل رہا – وزیر اعلیٰ کی سیکورٹی اور سٹاف انہیں ڈھونڈنے کی کوشش میں مصروف

    اس کے علاوہ دیگر صحافیوں نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے علی امین گنڈاپور کو گرفتار کر لیا گیا ہے تا ہم آزاد ذرائع سے اسکی تصدیق نہیں ہو سکی، صحافیوں کا دعویٰ کتنا سچ ہے، جلد حقیقت سامنے آجائے گی تا ہم پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد سے علی امین گنڈا پور کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اس سے یہی تاثر جاتا ہے کہ انکی گرفتاری کی خبر درست ہے

    صحافی وقار ستی نے بھی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا پور کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے، ان کےتمام موبائل اور رابطہ نمبر منقطع کر دیے گئے ہیں۔ اگر کسی کو شک ہے یا مذید حقیقت جاننا چاہتا ہے تو خود رابطہ کر کے مذید تسلی کر سکتا ہے۔

    صحافی حماد حسن کہتے ہیں کہ ابھی ابھی علی امین گنڈاپور کے بھائی فیصل امین گنڈاپور ایم این اے سے رابطہ کر کے پوچھا کہ کیا چیف منسٹر پختونخوا گرفتار کر لئے گئے ہیں؟تو انہوں نے انکار کیا !مزید پوچھا کہ وہ کہاں پر ہیں؟تو کوئی جواب نہیں دیا

    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور سے رابطہ نہیں ہو رہا، خدشہ ہے انہیں گرفتار نہ کر لیا گیا ہو۔ علی امین گنڈا پور کے سٹاف کا نمبر بھی بند ہے. اُن کے اسٹاف سے بھی رابطہ نہیں ہو پارہا – ہوسکتا ہے انہیں اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہو؟ پاکستان کی تاریخ میں پہلے ایسا نہیں ہوا ہے کہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو اس طرح سے غائب کیا گیا ہو ؟

    علاوہ ازیں صحافی عمار سولنگی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تحویل میں لینے پر علی امین گنڈاپور آبدیدہ ہو گئے، معافی مانگ لی۔ جذبات کی رو میں بہ گیا تھا، گنڈا پور

    واضح رہے کہ گزشتہ روز علی امین گنڈا پور نے دھمکی دی تھی کہ دو ہفتے میں عمران خان کو رہا کروائیں گے، ساتھ ہی صحافیوں کے بارے بھی نازیبا الفاظ کہے تھے جس پر صحافیوں نے احتجاج کیا تھا اور مقدمہ درج کروانے کا بھی اعلان کیا تھا.

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

    دوسری جانب اسلام آباد جلسہ میں علی امین گنڈا پور کے خطاب اور بیانات پرپی ٹی آئی قیادت بھی ناراض اور تقسیم ہو چکی ہے، آج اسلام آباد میں تحریک انصاف کے رہنما معافیاں مانگتے رہے اور صحافیوں کو مناتے رہے، بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، شبلی فراز نے بار بار معافیاں مانگیں،پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ جلسے میں علی امین گنڈاپو رنے غیر ضروری گفتگو کی،پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہ لینے پر ارکان نے علی امین گنڈاپور کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے،علی امین گنڈا پور نے اپنے خطاب بارے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا تھا، علی امین گنڈا پور کے خطاب کی وجہ سےپی ٹی آئی کے لئے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے رہنما پریشان ہیں.

    علاوہ ازیں عورت فاؤنڈیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنےکا مطالبہ کیا ہے،عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہےکہ علی امین گنڈا پور کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ کی مذمت کرتے ہیں، وزیراعلیٰ کے پی کی زبان دھمکی آمیز تھی، انہوں نے اخلاقی گراوٹ کا ثبوت دیا،علی امین گنڈاپور نے سائبرکرائمز ایکٹ کی خلاف ورزی کی، وزیراعلیٰ کے پی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔