Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • شاہ بحرین نے صدر زرداری کو ریاست کےاعلیٰ ترین ایوارڈ  سے نواز دیا

    شاہ بحرین نے صدر زرداری کو ریاست کےاعلیٰ ترین ایوارڈ سے نواز دیا

    منامہ: صدر مملکت آصف علی زرداری کو بحرین کا اعلیٰ ترین ایوارڈ عطا کردیا گیا۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق بحرین کے دورے پر موجود صدر آصف علی زرداری کی قصر القضیبیہ آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، شاہ حمد بن عیسیٰ آل خليفہ کے درمیان ملاقات ہوئی دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق ہوا پاکستان اور بحرین کے برادرانہ تعلقات کو نئی جہت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    ملاقات میں صدر آصف علی زرداری کو بحرین کا اعلیٰ ترین ایوارڈ وسام الشیخ عیسی بن سلمان آل خلیفۃ من الدرجۃ الأولی عطا کیا گیا صدر مملکت کو اعلیٰ ترین اعزاز دونوں برادر ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور گرانقدر خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 48 گھنٹوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم

    صدر مملکت اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسی آل خلیفۃ کے درمیان ون آن ون ملاقات میں تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    صدر مملکت نے بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، انہوں نے زراعت، آئی ٹی، صحت، سیاحت اور انفرا اسٹرکچر میں مشترکہ منصوبوں پر زور دیا ملاقات کے دوران دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون پاک بحرین تعلقات کا اہم ستون قرار پایا، ملاقات میں عالمی و علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال، اتحاد اور تحمل پر زور دیا گیا۔

    صدر مملکت نے کہا کہ بحرین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دوطرفہ تعلقات کا مضبوط پل ہے، صدر مملکت نے بحرین میں مقیم ایک لاکھ 16 ہزار پاکستانیوں کے لیے سہولیات فراہم کرنے پر تشکر کا اظہار کیا ملاقات میں کنگ حمد یونیورسٹی اسلام آباد کو پاک بحرین دوستی کی علامت قرار دیا گیا دونوں رہنماؤں کا اقوامِ متحدہ سمیت عالمی فورمز پر قریبی رابطہ رکھنے پر اتفاق ہوا۔

    عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے بیان پر سخت ردِعمل

    شاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کا دورہ دوطرفہ تعلقات میں اہم سنگِ میل ہے انہوں نے بحرین میں پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا،بعدازاں صدر آصف علی زرداری اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔

  • وزیراعظم کی ورلڈ لبرٹی فنانشل  امریکی وفد سے ملاقات، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر معاہدہ

    وزیراعظم کی ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکی وفد سے ملاقات، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر معاہدہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکا کے وفد نے ملاقات کی جس کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل اور کراس بارڈر ادائیگیوں کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

    حکومتِ پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فائنانشل امریکا سے وابستہ ادارے ایس سی فائنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان بدھ کے روز ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اور سرحد پار مالیاتی جدت میں تعاون کو فروغ دینا ہے، اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔

    اس ضمن میں جاری حکومتی اعلامیے کے مطابق اس معاہدے کا مقصد ’سرحد پار لین دین کے لیے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگی کے ڈھانچوں پر منظم مکالمے اور تکنیکی فہم کو فروغ دینا‘ ہے،پاکستان کی جانب سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب جبکہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کی جانب سے اس کے سی ای او زکری وِٹکوف نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

    وزیراعظم کی ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکی وفد سے ملاقات، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر معاہدہ

    وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کے اپنے وژن سے آگاہ کیا، جس کا مقصد شہریوں کے لیے رابطہ کاری، رسائی، شفافیت اور کھلے پن میں اضافہ کرنا ہے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی جدت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کا ایک اہم جزو ہےوزیر اعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فائنانس کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

    ملاقات کے دوران زکری وٹکوف نے پاکستان کے ساتھ محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگی کے ڈھانچے پر کام کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی، جس میں سرحد پار تصفیہ اور زرِ مبادلہ کے عمل میں جدت بھی شامل ہے زکری وٹکوف نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی، جو ملک کو عالمی ڈیجیٹل فائنانس کے میدان میں ایک مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کر رہا ہے ا نہوں نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے اور نئی نسل کے ڈیجیٹل ادائیگی اور سرحد پار مالیاتی نظام کی جدت تلاش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    آئی سی سی کی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس کی نئی رینکنگ جاری

    واضح رہے کہ ورلڈ لبرٹی نے گزشتہ سال کے پہلے نصف میں ٹرمپ خاندان کی ٹرمپ آرگنائزیشن کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا، جس میں غیر ملکی اداروں سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل تھی گزشتہ مئی میں ابوظہبی کی سرکاری تحویل میں موجود سرمایہ کاری کمپنی ایم جی ایکس نے ورلڈ لبرٹی کے اسٹیبل کوائن کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج بائنانس میں 2 ارب ڈالر کے شیئرزخریدے تھے۔

    پاکستان نقدی کے استعمال میں کمی اور ترسیلاتِ زر جیسے سرحد پار ادائیگی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل کرنسی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جو زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے جولائی میں کہا تھا کہ مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی کے پائلٹ منصوبے کے اجرا کی تیاری کر رہا ہے اور ورچوئل اثاثہ جات کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

    ایک سازش کے تحت سندھ کی کردار کشی کی جاتی ہے، بلاول بھٹو زرداری

  • گرل فرینڈ سے ملاقات کیلئے پہنچنے والا بی ایل ایف کمانڈر انجام کو پہنچ گیا

    گرل فرینڈ سے ملاقات کیلئے پہنچنے والا بی ایل ایف کمانڈر انجام کو پہنچ گیا

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،گرل فرینڈ سے ملاقات کیلئے پہنچنے والا بی ایل ایف کا انتہائی مطلوب کمانڈر بادل عرف دلدار آواران کولوا سیکٹر میں سیکیورٹی کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔

    بادل عرف دلدار 2013 سے بی ایل ایف کے لکھو گروپ کا حصہ تھا اور 2020 میں اسے کمانڈر کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ وہ متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا، جن میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور 26 اہلکاروں کے زخمی ہونے کے واقعات شامل ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے آواران کے کولوہ سیکٹر میں کامیاب آپریشن کرتے ہوئے بی ایل ایف کے ایک اہم کمانڈر بادل عرف دلدار کو ہلاک کر دیا۔12 جنوری کو، وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں اس وقت مارا گیا جب وہ اپنی گرل فرینڈ سے ملنے ایک مقام پر پہنچا۔ بادل کے قبضے سے اسلحہ،گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے.

  • وفاقی آئینی عدالت،ارشد شریف کیس آخری مراحل میں داخل

    وفاقی آئینی عدالت،ارشد شریف کیس آخری مراحل میں داخل

    ارشد شریف قتل کیس آخری مراحل میں داخل ہوگیا، وفاقی آئینی عدالت نے کیس نمٹانے کا عندیہ دے دیا۔

    وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس میں فریقین کو 5 دن میں تحریری معروضات جمع کروانے کا حکم دیدیا، قرار دیا کہ تحریری معروضات آجائیں پھر مناسب حکم جاری کریں گے۔جسٹس عامر فاروق کا کہنا ہے کہ حقیقیت یہ ہے تفتیش کا عمل کافی سست ہے، ہم کسی کو الزام نہیں دینا چاہتے کہ فلاں کا قصور ہے۔

    وکیل بیوہ ارشد شریف نے کہا کہ سوموٹو کی بنیاد پر کمیشن بنا اور تفتیش ابھی تک چل رہی ہے جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے استفسار کیا کہ کینیا میں ابھی تک کیا ہوچکا ہے ، وکیل بیوہ ارشد شریف نے کہا کہ ہم نے کینیا میں کیس کیا تھا اس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا ، ہم نے کینیا کی عدالت سے ایکسڈنٹ سے قتل کا وقوعہ بنانے کی استدعا کی تھی ، کینیا کی عدالت نے ہماری استدعا منظور کرکے تفتیش کا حکم دے دیا تھا ،ابھی تک کینیا کی تفتیش میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ،ہماری پاکستان کی حکومت سے بھی یہی درخواست ہے اور اس عدالت میں آنے کا مقصد بھی یہ ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ کھڑی ہو ، حکومت اور ہمارے اپروچ کرنے میں فرق ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تھی ،شروع میں کینیا حکومت نے تفتیش میں مدد سے انکار کردیا تھا ،گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان ایم ایل اے ہوا ، مزید تفتیش کے لیے اب جب کینیا حکومت جب ہمیں کہے گی ہم اپنی ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجیں گے ،

    جسٹس عامر فاروق نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم اس کیس میں کیا کرسکتے ہیں ، دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے بعد کیا کیا جا سکتا ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب ہم اس وقت کینیا کا رہ تفتیش کرسکتے ہیں ،جائے وقوعہ پر جائیں گے ، کینیا حکومت جو شواہد دے گی ،

    دوران سماعت عمران فاروق قتل کیس کا تذکرہ سامنے آیا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یاد ہوگا کہ عمران فاروق قتل بھی انگلینڈ میں ہوا تھا ، انگلینڈ میں تفتیش ہوئی ، انگلینڈ پولیس کے ساتھ پاکستان پولیس نے مل کر تفتیش کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران فاروق اور ارشد شریف قتل کی نوعیت تبدیل ہے ،ہم نے چالان جمع کروا دیا ہے دو ملزمان کو نامزد کردیا ہے ، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ دونوں ملزمان اس وقت کینیا میں گرفتار ہیں کیا ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان گرفتار نہیں ہم نے ان کے بلیک وارنٹ جاری کردیے ہیں ، جسسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اب ملزمان کو انٹر پول کے ذریعے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انٹر پول کو ملزمان کی گرفتاری کیلئے خط لکھا ہوا ہے ، اس وقت پاکستان میں تفتیش مکمل ہوچکی ہے ، وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے فون پر رابطہ کیا ہے ، پوری کوشش ہے کہ جلد سے جلد تفتیش مکمل کرلیں .

  • ‎ڈی جی آئی ایس پی آر اور این پی اے سی کی ملاقات، داخلی سلامتی اور قومی بیانیے پر اتفاق

    ‎ڈی جی آئی ایس پی آر اور این پی اے سی کی ملاقات، داخلی سلامتی اور قومی بیانیے پر اتفاق

    
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر سے نیشنل پیس اینڈ کونسل (این پی اے سی) کے وفد نے ملاقات کی، جس میں داخلی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں فتنہ الخوارج (FAK)، افغان طالبان (TTA) اور دیگر ریاست دشمن عناصر کے تناظر میں سکیورٹی چیلنجز زیرِ بحث آئے۔
    اجلاس کے دوران کشمیر اور غزہ کے معاملات پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کی گئی۔ این پی اے سی نے قومی بیانیے کے فروغ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے پاک افواج سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا اور ریاست مخالف بیانیے کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
    ‎این پی اے سی کے نمائندوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا، اور فتنہ الخوارج (FAK) اور افغان طالبان (TTA) کی کھل کر مذمت کی۔
    ‎ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں یکسوئی اور متفقہ بیانیہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مظلوموں کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
    ‎ملاقات میں این پی اے سی اور آئی ایس پی آر نے نفرت انگیزی اور فرقہ واریت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا اور سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو ملک بھر میں پھیلانے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • ‎انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی ممکنہ ڈیل پر بات چیت

    ‎انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی ممکنہ ڈیل پر بات چیت

    
انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے اسلام آباد میں پاکستان ایئر فورس کے سربراہ سے ملاقات کی، جس میں جکارتہ کو لڑاکا طیاروں اور حملہ آور ڈرونز کی فروخت سمیت ممکنہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان کی دفاعی صنعت مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی سازوسامان کی فراہمی سے متعلق بات چیت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ان میں لیبیا کی نیشنل آرمی اور سوڈان کی فوج کے ساتھ ممکنہ معاہدے بھی شامل ہیں، جبکہ پاکستان خود کو خطے میں ایک مؤثر دفاعی سپلائر کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔
    ‎ایک ذریعے کے مطابق بات چیت کا محور جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کی فروخت تھا، جو پاکستان اور چین کی مشترکہ طور پر تیار کردہ ملٹی رول جنگی طیارہ ہے، اس کے علاوہ نگرانی اور ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرونز بھی زیرِ غور آئے۔ دیگر دو ذرائع نے بتایا کہ بات چیت ایک ایڈوانس مرحلے میں ہے اور اس میں 40 سے زائد جے ایف 17 طیارے شامل ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک ذریعے کے مطابق انڈونیشیا نے پاکستان کے شاہپر ڈرونز میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
    ‎ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت طیاروں یا ڈرونز کی ترسیل کا وقت کیا ہوگا یا یہ معاہدہ کتنے برسوں پر محیط ہوگا۔
    ‎انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع اور پاکستان کی فوج دونوں نے اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع سجادری سجامس الدین اور پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے درمیان ہونے والی ملاقات پر بات کرتے ہوئے وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ریکو ریکارڈو سریت نے رائٹرز کو بتایا کہ بات چیت میں مجموعی دفاعی تعاون، اسٹریٹجک ڈائیلاگ، دفاعی اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور طویل المدتی بنیادوں پر باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کے مواقع پر غور کیا گیا، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
    ‎پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور عالمی سکیورٹی صورتحال، اور دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
    ‎انڈونیشیا کی فضائیہ کی جدید کاری
فوجی خریداری سے متعلق بات چیت سے آگاہ ایک اور سکیورٹی ذریعے کے مطابق پاکستان انڈونیشیا کو جے ایف 17 تھنڈر طیارے، فضائی دفاعی نظام، اور انڈونیشین ایئر فورس کے جونیئر، مڈ لیول اور سینئر افسران کے لیے تربیت، نیز انجینئرنگ اسٹاف کی تربیت پر بھی بات کر رہا ہے۔
    ‎ریٹائرڈ ایئر مارشل عاصم سلیمان، جو اب بھی فضائیہ کے معاہدوں سے باخبر رہتے ہیں، نے رائٹرز کو بتایا کہ انڈونیشیا کے ساتھ ڈیل پائپ لائن میں ہے اور جے ایف 17 طیاروں کی تعداد 40 کے قریب ہو سکتی ہے۔
    ‎گزشتہ ماہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا، جہاں دوطرفہ تعلقات، بالخصوص دفاعی تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔
    ‎انڈونیشیا حالیہ برسوں میں اپنی پرانی فضائی بیڑے کی جگہ جدید طیارے شامل کرنے کے لیے بڑے دفاعی معاہدے کر چکا ہے۔ 2022 میں فرانس سے 8.1 ارب ڈالر مالیت کے 42 رافیل طیاروں کی خریداری کی گئی، جبکہ گزشتہ سال ترکی سے 48 کان فائٹر جیٹس کا آرڈر دیا گیا۔ جکارتہ چین کے جے 10 طیاروں کی خریداری پر بھی غور کر چکا ہے اور امریکا سے ایف 15 ای ایکس طیاروں کے حصول کے لیے بات چیت جاری ہے۔

  • باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،14ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،14ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی نے اپنے کامیاب سفر کے ساتھ 14 برس مکمل کر لئے

    باغی ٹی وی کے 14برس مکمل ہونے پر باغی ٹی وی ٹیم نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،باغی ٹی وی کے 14برس مکمل ہونے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں نےبھی مبارکباد کے پیغام بھجوائے ہیں، اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ،

    باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان نے 14برس قبل باغی ٹی وی کا آغاز کیا جس کا سفر اب بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے ،ڈیجیٹیل میڈیا کے سب سے بڑے ادارے باغی ٹی وی نے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 14 سال مکمل کرلیے ہیں‌،باغی ٹی وی کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی، باغی ٹی وی نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں-

    اردو ۔انگلش. پشتو.دری، چائنیز پانچ زبانوں میں باغی ٹی وی کی نشریات چل رہی ہیں ،باغی ٹی وی کا یوٹیوب چینل دنیا بھر میں مقبول ہے ۔ہر سال رمضان المبارک میں باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح لائیو نشر کی جاتی ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج کی کوریج کرنے پر حکومت کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود باغی ٹی وی نے کوریج جاری رکھی ۔حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی کوریج کی ویڈیوباغی ٹی وی کے یوٹیوب سے ڈیلیٹ بھی کروائی گئی ہیں ۔تحریک لبیک کی کوریج کی وجہ سے باغی ٹی وی ٹویٹر کا بلیو ٹک بھی ختم کروایا گیا ہے،

    باغی ٹی وی نام کی مناسبت سے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں ظلم جبر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ ریاست پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو باغی ٹی وی صحافتی میدان میں ہر وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار نے بھی باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کی بلکہ درجنوں بار مودی سرکار کے زیر اثر ہیکرز کی جانب سے باغی ٹی وی کی ویب سائٹ ہیک کرنے کی ناکام کوشش بھی کی گئی-

    باغی ٹی وی کی 14 ویں سالگرہ کے موقع پر سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے، روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین وتاریخی بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم، سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد، دعوت اسلامی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ عثمان عطاری، اسلام آباد سے سینئر صحافی پروفیسر طاہر نعیم ملک،کراچی سے ملک ضمیر،ہیلپنگ ہینڈ کے میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری،آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم عالی، المصطفیٰ ٹرسٹ کے رکن محمد نواز کھرل،حامد رضا، لاہور سے صحافی جان محمد رمضان، دارالسلام کے میڈیا ہیڈ ارشاد احمد ارشد، ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ ضلع تلہ گنگ کے چیئرمین ملک امتیاز لاوہ، تلہ گنگ پریس کلب کے وائس چیئرمین ملک ارشد کوٹگلہ،سمیت دیگر نے مبارکباد کے پیغامات بھجوائے اور نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باغی ٹی وی نے معاشرے میں حقیقی اور مثبت صحافت کو فروغ دیا جس کا سہرا مبشر لقمان کے سر جاتا ہے، امید کرتے ہیں کہ باغی ٹی وی کا سفر کامیابی سے جاری و ساری رہے گا.

  • مبشر لقمان کی 63ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    مبشر لقمان کی 63ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی و اینکرپرسن،باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان کی 63ویں سالگرہ کی تقریب 365 نیوز کھرا سچ کے دفتر میں منعقد کی گئی۔ اس موقع پر ٹیم کھرا سچ، باغی ٹی وی کے ارکان اور 365 نیوز کے ساتھیوں کی موجودگی میں مبشر لقمان نے کیک کاٹا۔ تقریب میں شریک تمام عملے نے انہیں مبارکباد دی اور ان کی صحت مند اور خوشحال زندگی کے لیے دعا کی۔

    تقریب میں نوید شیخ ایگزیکٹو پروڈیوسرکھراسچ، ارسا سہیل پروڈیوسر، عبدالرؤف پروڈیوسر، علی رضا ایسوسی ایٹ پروڈیوسر،اور باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز حیدر اعوان شامل تھے۔شرکاء نے مبشر لقمان کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے حق گوئی اور جرات مندانہ انداز کو سراہا۔ یاد رہے کہ مبشر لقمان اپنی بے باک صحافت، جرات مندانہ تجزیوں اور سچائی کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ دیانت داری اور اصولوں پر مبنی صحافت کے ذریعے پاکستانی میڈیا میں اپنا مقام بنایا ہے۔

    مبشر لقمان باغی ٹی وی کے سی ای او اور کھرا سچ پروگرام کے میزبان ہیں۔ باغی ٹی وی اور کھراسچ کی ٹیم نے ان کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستانی صحافت کا ایک چمکتا ستارہ قرار دیا، جو عوام کو حقائق سے روشناس کرانے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔تقریب کے دوران شرکاء نے مبشر لقمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی سالگرہ کو ایک یادگار موقع قرار دیا۔ ان کی جرات مند اور بے خوف صحافت پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک قابل تقلید مثال ہے، جس نے ہمیشہ عوام کے لیے سچائی کا راستہ روشن کیا ہے۔

  • عوامی مسائل پر خیبر پختو نخوا حکومت کی کوئی توجہ نہیں ،وزیراعظم کے سامنے اراکین پھٹ پڑے

    عوامی مسائل پر خیبر پختو نخوا حکومت کی کوئی توجہ نہیں ،وزیراعظم کے سامنے اراکین پھٹ پڑے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندگان نے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا کی مجموعی سیاسی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور گورننس سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل کا مکمل ادراک ہے اور وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے تحت ان مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔خیبر پختو نخوا میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کا حل وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

    شرکا نے بتایا کہ خیبر پخونخوا کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے. گورننس نام کی کوئی چیز نہیں. صحت، تعلیم، انفرا سٹرکچر، اور عوامی فلاح کے حوالے سے خیبر پختونخوا کی حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی موجود نہیں. عوامی مسائل پر خیبر پختو نخوا حکومت کی کوئی توجہ نہیں ھے ،وزیراعظم نے عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے ہری پور میں پورے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات میں میرٹ پر لیپ ٹاپ تقسیم کئے. ان نوجوانوں سے مل کر خوشی ہوئی اور یہی نوجوان پاکستان کا مستقبل کا اثاثہ ہیں. ان نوجوانوں کے لئے آیندہ بھی میرٹ پر لیپ ٹاپ دینے کی پالیسی جاری رہے گی تاکہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں.

    وزیر اعظم نے خیبر پختونخواہ میں وفاق کے زیر اہتمام ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جو کہ پشاور کا دورہ کرے گی اور عوامی نمائندگان سے مل کر ان منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لے گی. ملاقات میں ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاللہ تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناللہ، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، بابر نواز ایم این اے، ثمر بلور ایم این اے، اختیار ولی (کوآرڈینیٹر وزیراعظم)، مرتضیٰ جاوید عباسی سابق ڈپٹی اسپیکر، زاہد خان سابق سینیٹر، ڈاکٹر عباداللہ ایم پی اے، پیر صابر شاہ، سردار مشتاق سابق ایم این اے، شاہ جی گل آفریدی سابق ایم این اے، شہاب الدین خان رحمت سلام خٹک اور بہرہ مند تنگی موجود تھے۔

  • پاکستان میں افغان طالبان کی مبینہ موجودگی، قاری عمر لغمانی کی ویڈیو وائرل

    پاکستان میں افغان طالبان کی مبینہ موجودگی، قاری عمر لغمانی کی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر ایک چونکا دینے والی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں افغان طالبان سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو قاری عمر لغمانی کو پاکستان کے ایک غیر ظاہر کردہ علاقے میں فلمایا گیا دکھایا جا رہا ہے۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستان میں افغان طالبان کی مبینہ موجودگی سے متعلق خدشات اور سوالات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو حالیہ دنوں میں لیک ہوئی جس میں مذکورہ شخص خود کو قاری عمر لغمانی ظاہر کرتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ویڈیو کی صداقت ثابت ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی داخلی سلامتی اور سرحدی انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ ہو سکتا ہے۔سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق ویڈیو کو پاکستان کے ایک نامعلوم علاقے میں فلمایا گیا دیکھا جا سکتا ہے، یہ ویڈیو پاکستان میں افغان طالبان کی موجودگی کو بے نقاب کرتی ہے ،اس پر تحقیقات اور کاروائی کی ضرورت ہے،سرحد پار سے پاکستان میں دہشتگردی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں،اب افغان طالبان کی موجودگی خطرے کی گھنٹی ہے.