Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آسیہ اندرابی کو سزا کا فیصلہ انصاف کا قتل ہے، پاکستان

    آسیہ اندرابی کو سزا کا فیصلہ انصاف کا قتل ہے، پاکستان

    پاکستان نے کشمیری سیاسی رہنما آسیہ اندرابی کودہلی کی ایک عدالت کی جانب سے عمرقید اور ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو تیس تیس سال قیدبامشقت کی سزا کو یکسر مستردکر دیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ انصاف کاقتل اوربھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کا عکاس ہے،ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس فیصلے کو ایک وسیع تر رجحان کا حصہ سمجھتا ہے جس کے تحت سیاسی بنیادوں پر مقدمات قائم کر کے اختلافی آوازوں کو دبانا اور کشمیری عوام کے جائز حقوق کیلئے آواز اٹھانے والوں کو خوفزدہ کرناہے،ترجمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے حصول میں جموں و کشمیر کے عوام کیلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

  • عمران خان کے بیٹوں کی  لندن میں پاکستان مخالف مہم اور مظاہروں کے ماسٹرمائنڈ کیساتھ فوٹو وائرل

    عمران خان کے بیٹوں کی لندن میں پاکستان مخالف مہم اور مظاہروں کے ماسٹرمائنڈ کیساتھ فوٹو وائرل

    پاکستان کے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان کیلئے منفی پروپیگنڈا کرنے والے شخص عارف اجاکیہ کے ساتھ فوٹو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے-

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دونوں بچوں کی عارف اجاکیہ کے ساتھ ملاقات ہوئی جس کی فوٹو وائرل ہو گئی،سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جرنلسٹ اظہر جاوید کی جانب سے شئیر کی گئی فوٹو میں عمران خان کے بیٹوں کو عارف اجاکیہ کے ساتھ خوشگوار موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے-

    تصویر شئیر کرتے ہوئے انہوں نےتشویش کا اظہار کیا کہا کہ یہ صرف متنازعہ نہیں ہے ، یہ گہرائی سے متعلق ہےعمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم، عارف آجاکیہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ایک شخص جو لندن میں پاکستان مخالف مہم اور مظاہروں کے لیے جانا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے عناصر کے ساتھ اتحاد کا انتخاب سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے کیا یہ جہالت ہے، تکبر ہے یا جان بوجھ کر؟کیا وہ اس پیغام کو سمجھتے ہیں جو وہ دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانیوں کو بھیج رہے ہیں؟ یا اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا؟

    ایک سوشل میڈیا صارف سفینہ خان نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے عارف اجاکیہ کیساتھ جینوا میں ، یہ وہ عارف اجاکیہ ہیں جو اپنے آپکو فخر کیساتھ انڈین نا صرف کہتے ہیں بلکہ بھارتیوں کیساتھ ملکر پاکستان کے خلاف مظاہرے بھی کرتے ہیں-

    واضح رہے کہ بھارت کی مسلم دشمن ہندوتوا حکومت نے کشمیر میں ہونے والے واقعہ کیخلاف لندن میں جمعہ کو ایک مظاہرہ کا انتظام کیا اس مظاہرہ میں ماتھے پر تلک لگائے عارف اجاکیہ نے بھر پور شرکت کی تھی اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی تھی-

    سوشل میڈیا پر جاری معلومات کے مطابق عارف اجاکیہ، الطاف حسین کا قریبی ساتھی ہے اور بھارتی اہلکاروں سے روابطہ میں پل کا کردار ادا کرتا ہے۔
    اجاکیہ نے بھارت جاکر ایک تقریب میں اسلام ترک کرکے ہندومذہب قبول کرلیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق بھارت کی مسلم دشمن ہندوتوا حکومت نے کشمیر میں ہونے والے واقعہ کیخلاف لندن میں جمعہ کو ایک مظاہرہ کا انتظام کیا اس مظاہرہ میں ماتھے پر تلک لگائے عارف اجاکیہ نامی ایک ایسے شخص کی شرکت ہے جو باقاعدگی سے ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کے گھر اور دفتر جاتا ہے عارف اجاکیہ نے ہندوؤں کے حلیہ میں صرف پاکستان کیخلاف ہونے والے مظاہرے میں ہی شرکت نہیں کی بلکہ کھل کر پاکستان اور اسلام کو گالیاں بھی دیں۔

    عارف اجاکیہ یہ شخص فرانس کا شہری ہے نوے کی دہائی میں یہ شخص الطاف حسین کے دست راست محمد انور کا زاتی ملازم تھا محمد انور اور الطاف حسین نے اس شخص کو 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے جمشید ٹاؤن کا ناظم بنادیا مگر اس نے مختصر عرصہ میں ہی اسقدر کرپشن کیا کہ علاقے میں اسکے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے اس سے بڑی غلطی اجاکیہ نے یہ کی کہ کرپشن کے مال میں سے نہ تو الطاف حسین کو حصہ دیا اور نہ ہی انور کو جسکی پاداش میں اسکو نظامت سے برطرف کردیا گیا۔

    محمد انور نے اس واقعہ کے بعد عارف اجاکیہ کو کھڈے لائن لگادیا مگر جب الطاف حسین نے محمد انور کو کھڈے لائن لگایا تو عارف اجاکیہ کو بحال کرکے پاکستان دشمنوں سے روابط کیلئے مقرر کردیا گزشتہ چند برسوں میں عارف اجاکیہ کئی مرتبہ بھارت جاچکا ہے جہاں اس نے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے دئیے گئے ایک استقبالیہ میں اسلام ترک کرکے ہند مذہب قبول کرلیا (استغفراللہ) اور کئی چینلز پر بیٹھ کر اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔

    بھارتی خفیہ ایجنسی “را” نے عارف اجاکیہ کو پاکستان اور اسلام کے خلاف بولنے کیلئے ایک یوٹیوب چینل بھی بناکر دیا ہے جس پر بیٹھ کر یہ مسلسل پاکستان اور اسلام کیخلاف زہر اگلتا ہے جس کے عوض را کی جانب سے اسکو ایک خطیر رقم دی جاتی ہے۔

    ایک ماہ قبل الطاف حسین نے بلوچستان کے مسئلہ پر انٹرنیٹ سے کچھ مواد چوری کرکے اسے اپنی کتاب کے طور پر شائع کیا تو اس نام نہاد کتاب کی تقریب رونمائی میں مہمانان خصوصی کے طور پر پاکستان دشمن خان آف قلات اور عارف اجاکیہ کو مدعو کیا گیا باخبر زرائع کا کہنا ہے اجاکیہ گزشتہ چند ایک سال سے الطاف حسین اور بھارتی انٹیلیجنس اہلکاروں کے درمیان پل کا کام کررہا ہے جس کے لئے وہ باقاعدگی کے ساتھ الطاف حسین کے گھر جاتا ہے۔

    جبکہ ایک طرف الطاف حسین صبح و شام جنرل عاصم منیر سے معافی کی بھیک مانگ رہا ہے اور دوسری جانب عارف اجاکیہ جیسے دین و قوم فروش سے ملکر پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے۔

  • دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی : افغان طالبان  رجیم کا سفاک چہرہ  بے نقاب

    دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی : افغان طالبان رجیم کا سفاک چہرہ بے نقاب

    بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی نے افغان طالبان رجیم کا سفاک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔

    افغان طالبان رجیم دہشت گردی کی حمایت اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کے سبب دنیا بھر کے لیے ناقابل قبول ہو چکی ہے طالبان رجیم کے جابرانہ قوانین افغان شہریوں کے بنیادی حقوق اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔

    امریکی تھنک ٹینک فارن پالیسی ان فوکس کے مطابق طالبان رجیم کے سخت گیر نظام اور عالمی سطح پر تنہائی نے افغان ریاست کی قانونی حیثیت اور شہر ی حقوق کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، افغان طالبان کے القاعدہ اور فتنۃ الخوارج جیسے دہشتگرد گروہوں کے ساتھ تعلقات برقرار ہیں اور یہ ان کے خلاف کارروائی سے بھی گریزاں ہیں، افغان طالبان رجیم کا خودمختاری کا دعویٰ محض ایک ڈھونگ ہے اور عالمی سطح پر ایک ملک کے سوا کسی نے اسے باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ، بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت اور پہچان نہ ہونے کی وجہ سے طالبان رجیم افغانستان کی نمائندگی کے لیے مکمل قانونی درجہ نہیں رکھتی ۔

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی شدت پسند اور غیر جمہوری پالیسیوں کے باعث افغانستان عالمی سطح پر تنہا اور اقتصادی و انسانی بحران کا شکار ہےافغان طالبان کی القاعدہ اور فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی)جیسے گروہوں کی پشت پناہی محض ایک داخلی معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے سیکیورٹی رسک ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطہ

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس دوران خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی و عالمی امن و استحکام سے متعلق امور اور جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کی،وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی سلامتی اور خودمختاری پر حملوں کی مذمت کی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیشہ اور مضبوطی سے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

  • 
وائٹ ہاؤس کی تصدیق: ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان ایران معاملے پر رابطہ

    
وائٹ ہاؤس کی تصدیق: ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان ایران معاملے پر رابطہ

    
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم رابطہ کیا ہے۔
    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق یہ بات چیت انتہائی حساس نوعیت کی تھی اور اس کا مقصد ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ امریکا میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرتا، اس لیے اس حوالے سے سامنے آنے والی قیاس آرائیوں کو حتمی نہ سمجھا جائے جب تک کوئی باضابطہ اعلان نہ کیا جائے۔
    ‎ذرائع کے مطابق یہ رابطہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جہاں مختلف ممالک جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے رابطے خطے میں امن کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔

  • صدر مملکت کی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو  فوجی اعزازات دینے کی منظوری

    صدر مملکت کی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو فوجی اعزازات دینے کی منظوری

    صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پاکستان کی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو مجموعی طور پر 1,989 فوجی اعزازات دینے کی منظوری دے دی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ان اعزازات میں 23 ہلالِ امتیاز (ملٹری)، 100 ستارۂ امتیاز (ملٹری)، 136 تمغۂ امتیاز (ملٹری)، 11 ستارۂ بسالت، 475 تمغۂ بسالت اور 130 امتیازی اسناد شامل ہیں، 175 تمغۂ خدمت (ملٹری) کلاس اول، 319 تمغۂ خدمت (ملٹری) کلاس دوم اور 620 تمغۂ خدمت (ملٹری) کلاس سوم دینے کی بھی منظوری دی گئی ہے، جبکہ 378 چیف آف آرمی اسٹاف تعریفی کارڈز بھی دیے جائیں گے۔

    صدر سیکرٹریٹ کے مطابق یہ اعزازات یومِ پاکستان کے موقع پر وزیر اعظم کی سفارش پر اور آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 259(2) کے تحت دیے جائیں گے۔

  • اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان نے ایک بار پھر سفارتکاری اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتکاری کی وکالت کی ہے اور یہی مؤقف اب بھی برقرار ہے-

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا پاکستان، ترکیہ اور مصر کی جانب سے سفارتی سطح پر کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خطے کے اہم ممالک امریکا اور ایران کےدرمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

  • امریکہ ایران  کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان کا اہم کردار

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان کا اہم کردار

    امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان کے ساتھ ترکیہ اور مصر نے بھی کشیدگی میں کمی لانے کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔رائٹرز کے دعوے کے مطابق تینوں ممالک نے عباس عراقچی اور اسٹیو وٹکوف کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کیے ہیں۔بات چیت کا مقصد موجودہ کشیدگی میں کمی لانا تھا جس کے نتائج بھی سامنے آ چکے ہیں 5 دن کیلئے امریکی حملے روک دیئے گئے ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ خطے کے اہم ممالک پس پردہ رابطوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق، ترکی، مصر اور پاکستان گزشتہ چند دنوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ممالک ایسے وقت میں رابطے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں جب حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔یہ پیش رفت ایک وسیع تر علاقائی سفارتی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد کشیدگی میں کمی یا ممکنہ جنگ بندی کے امکانات تلاش کرنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ دنوں میں ترکی، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں انہوں نے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔ادھر دیگر سفارتی چینلز بھی متحرک ہیں۔ قطر، مصر اور برطانیہ نے امریکی تجاویز ایرانی حکام تک پہنچائی ہیں۔ ان تجاویز میں ممکنہ امن معاہدے یا جنگ بندی کے لیے سخت شرائط شامل ہیں، جن میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو پانچ سال کے لیے معطل کرنا، یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنا، اور نطنز جوہری تنصیب، اصفہان جوہری تنصیب اور فردو جوہری تنصیب جیسے مراکز کو بند کرنا شامل ہے۔
    مزید برآں، تجاویز میں جوہری تنصیبات اور سینٹری فیوجز کی سخت بین الاقوامی نگرانی، خطے میں میزائل کی حد 1000 کلومیٹر تک محدود کرنا، اور حزب اللہ، حوثی تحریک اور حماس جیسے گروہوں کی مالی و عسکری مدد ختم کرنا بھی شامل ہے۔

    وزیر خارجہ ترکی نے جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف ممالک سے وسیع مشاورت کی ہے، جس میں ایرانی اور مصری حکام کے ساتھ ساتھ امریکی اور یورپی عہدیداران سے بھی بات چیت شامل ہے۔اسی دوران عمان، مصر، پاکستان اور ترکی کے سینئر سفارتکار خاموشی سے تہران کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

  • وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو،ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار

    وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو،ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    وزیراعظم نے ایرانی صدر اور برادر عوامِ ایران کو عیدالفطر اور نوروز کی مبارکباد پیش کی۔ ایرانی صدر نے بھی ان جذبات کا پرتپاک انداز میں جواب دیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔بطور ہمسایہ برادر ملک، وزیراعظم نے جاری کشیدگی کے تناظر میں بہادر ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں و متاثرین کی جلد صحتیابی اور سلامتی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم نے خلیجی خطے میں جاری خطرناک صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر انہوں نے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔انہوں نے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔پاکستان کی قیادت کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

  • خلیجی بحران پر پاکستان کا واضح مؤقف، امن کیلئے کوششیں تیز،سب سے پہلے پاکستان

    خلیجی بحران پر پاکستان کا واضح مؤقف، امن کیلئے کوششیں تیز،سب سے پہلے پاکستان

    ہر صبح جب آپ اٹھتے ہیں تو پاکستان کے خلیجی بحران میں کردار کے بارے میں ہزاروں مختلف آراء سننے کو ملتی ہیں۔ ان میں سے اکثر پی ٹی آئی سے وابستہ اکاؤنٹس، بھارتی ٹرولز اور افغان طالبان کے ترجمانوں کے ہوتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان سے خوش نہیں، کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے کہنے پر ایران پر حملہ کرنے والا ہے، جبکہ کوئی الزام لگاتا ہے کہ پاکستان اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔

    ان تمام ٹرولز میں ایک بات مشترک ہے، انہیں پاکستان کی پالیسی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، اور ان سب کی خواہش ہے کہ پاکستان کو اس تنازع میں گھسیٹا جائے، تاکہ دراصل ایک اینٹی پاکستان ایجنڈا پورا کیا جا سکے۔ان تمام منفی پروپیگنڈوں کے باوجود، پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے ، پاکستان مخلصانہ طور پر تنازع کے خاتمے کا خواہاں ہے اور اس کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جس پر ایران اور خلیجی ممالک دونوں کو اعتماد ہے، حتیٰ کہ امریکہ بھی پاکستان کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان نے خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک، خصوصاً سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخ، مذہبی وابستگی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ اسٹرٹیجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) اسی تعلق کا مظہر ہے۔ پاکستان کا اسٹرٹیجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ سے عزم اور حجاز مقدس کے دفاع کا وعدہ ناقابلِ متزلزل ہے۔ اس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی اس کے لیے اسرائیل، بھارت یا افغانستان کی توثیق درکار ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں، ایرانی پارلیمنٹ میں گونجنے والا “تھینک یو پاکستان” اس کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان نے اس تنازع کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے روکنے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ اسرائیل اس تنازع کو طول دینے اور پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے، خلیجی ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچایا جائے، ایران کی عسکری صلاحیت کو ختم کیا جائے، اور یوں مشرق وسطیٰ میں اپنی بالادستی قائم کر کے “گریٹر اسرائیل” منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان سمجھتا ہے کہ اس تنازع کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان یہ بھی سمجھتا ہے کہ ایران کو سعودی عرب پر حملے روکنے چاہئیں کیونکہ اس سے تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی اس بات پر بھی تعریف کرتا ہے کہ اس نے اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا اور جواب دینے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود جنگ سے گریز کیا۔

    یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اس صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ حکومتیں اپنی عوام کی سلامتی کی ذمہ دار ہوتی ہیں، اس لیے سعودی عرب کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے لامحدود تصور کیا جائے،یہ ایک خطرناک غلطی ہو سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا تو یہ تنازع بے قابو ہو کر پورے خطے اور اس سے باہر تک پھیل سکتا ہے، جس سے اسرائیل کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ ایران کو اس کا ادراک کرنا چاہیے اور اسی کے مطابق قدم اٹھانے چاہئیں۔ خلاصہ یہ کہ پاکستان کی پالیسی کشیدگی کو کم کرنا، امتِ مسلمہ کا تحفظ کرنا اور اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنانا ہے۔ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کا عزم مضبوط ہے اور ایران کی خودمختاری کے لیے اس کی حمایت بھی ثابت شدہ ہے۔ ان شاء اللہ پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں گی، جبکہ یہ نام نہاد دانشور اور اینٹی پاکستان عناصر جو چاہیں کہتے رہیں۔ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے “سب سے پہلے پاکستان” اور یہ کبھی تبدیل نہیں ہوگی۔