Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان اور خطے کے امن کیخلاف بھارت اور افغانستان کی منظم سازش بے نقاب

    پاکستان اور خطے کے امن کیخلاف بھارت اور افغانستان کی منظم سازش بے نقاب

    پاکستان اور خطے کے امن کیخلاف بھارت اور افغانستان کی منظم سازش بے نقاب ہوگئی، پاکستان کی عالمی اہمیت سے خائف بھارت دنیا کے امن کا دشمن بن گیا۔

    افغانستان کے ساتھ مل کر بھارت نے اسٹریٹجک ڈس انفارمیشن حملہ کیا، مشرق وسطیٰ میں امن کی پاکستانی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا خطرناک منصوبہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق ایران کے نام پر پاکستان کیخلاف منظم پروپیگنڈا آپریشن لانچ کیا گیا، جعلی ایرانی شناخت کے ذریعے پاکستان میں نفرت پھیلانے کا بیانیہ گھڑنے کا انکشاف ہوا ہے۔آئی این این ایران نیوز اور ایران ٹی وی جیسے گھوسٹ ایکس اکاؤنٹس سے ڈس انفارمیشن پھیلائی گئی، پاکستان پر امریکا کیلئے تیل ترسیل کا جھوٹا الزام لگا کر نفرت انگیز پروپیگنڈے کو بنیاد فراہم کی گئی، ایرانی شناخت رکھنے والے درجنوں اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے آپریٹ کیے جارہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کیخلاف مصنوعی ایرانی ردعمل افغانستان سے آپریٹ اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا گیا، افغان نیٹ ورک کو بطور پرولفریٹررز استعمال کرنے کا ثبوت بھی سامنے آگیا۔

    بھارتی ڈس انفارمیشن حملے کا مقصد امن کوششوں کے کلیدی کردار پاکستان کو متنازع بنانا تھا، بیانیہ سازی، کنٹرول اور اسٹریٹجک ڈائریکشن بھارتی اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی۔سازش میں ٹائمز آف ایران نیوز مرکزی پروپیگنڈا حب قرار دیا گیا ہے، بھارت سے آپریٹ ہونے والا پلیٹ فارم عالمی سطح پر جھوٹ پھیلاتا رہا، ڈس انفارمیشن مہم کے پورے آپریشن کے ماسٹر مائنڈ اکاؤنٹس بھارتی نکلے۔

    “پاکستان نے ایران سے غداری کی” کا بیانیہ کسی مستند خبر یا حقیقی واقعے پر مبنی نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی، منظم اور مربوط ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ تھا۔اس ٹویٹ میں دکھائےگئے infographics اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ یہ مہم بھارت اور افغانستان سے منسلک آپریٹرز کے درمیان ایک مشترکہ اور مربوط (coordinated) نیٹ ورک کے ذریعے چلائی گئی، جہاں جعلی ایرانی شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بیانیہ تخلیق اور پھیلایا گیا۔ اس مہم کا آغاز ان اکاؤنٹس سے ہوا جو خود کو ایرانی ظاہر کرتے تھے، جیسے INN Iran National News (
    @INNewx
    ) اور Iran TV (
    @Irania_TV

    دستاویز میں یہی پیٹرن “initiator” اکاؤنٹس کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں ابتدائی مواد ایرانی شناخت کے پردے میں تیار کیا جاتا ہے تاکہ بیانیہ مستند اور مقامی معلوم ہو، حالانکہ اس کا کنٹرول بیرونی نیٹ ورک کے پاس ہوتا ہے۔
    ان پلیٹ فارمز نے بغیر کسی تصدیق شدہ ثبوت کے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان امریکہ کے لیے تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کر رہا ہے، جس کے ذریعے ایک مصنوعی ایرانی ردعمل تخلیق کیا گیا۔

    دستاویز کے مطابق اس نوعیت کے اکاؤنٹس درحقیقت ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھے جو اپنی اصل شناخت اور جغرافیائی وابستگی چھپا کر بیانیہ گھڑتے ہیں۔ بعد ازاں اس بیانیے کو وسعت دینے کے لیے افغان بیسڈ اکاؤنٹس کو بطور proliferators اور amplifiers استعمال کیا گیا۔ W.A. Mubariz (115 ہزار فالوورز) اور Burhan Uddin (86 ہزار فالوورز) جیسے اکاؤنٹس نے اس بیانیے کو مزید بڑھایا اور اسے معاشی غداری اور مذہبی حساسیت سے جوڑ کر عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی۔یہ مرحلہ دستاویز میں دکھائے گئے اسٹرکچر سے مطابقت رکھتا ہے جہاں افغان نیٹ ورک بیانیے کو تیزی سے پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی دوران بھارتی اکاؤنٹس اس پورے آپریشن کے اسٹریٹجک کنٹرولر اور بیانیہ ساز کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ Ravikumar M (114 ہزار فالوورز)، JanNayak Raghu اور Sumit Tomar جیسے اکاؤنٹس نے مسلسل اس بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کو ایک غیر قابلِ اعتماد اور مغربی ایجنڈے کا حصہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔دستاویز میں بھی بھارتی آپریٹرز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جو بیانیہ تشکیل دیتے، اسے سمت دیتے اور مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے amplify کرواتے ہیں۔ اس مشترکہ نیٹ ورک میں Times of Iran News (176 ہزار فالوورز) کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جسے دستاویز میں واضح طور پر “main amplifier” کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس کے بھارت سے آپریٹ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ پلیٹ فارم جھوٹے دعوؤں کو خبر اور تجزیے کی شکل دے کر انہیں قابلِ اعتبار بنانے اور عالمی سطح پر پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

    مزید شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی اور افغان آپریٹرز باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ایرانی شناخت اختیار کر کے اکاؤنٹس چلا رہے تھے، جہاں مسلسل ہینڈل تبدیلی (handle renaming)، مختلف ناموں کا استعمال، اور coordinated پوسٹنگ کے ذریعے ایک ہی بیانیے کو تقویت دی جاتی رہی۔دستاویز کا “initiator → proliferator → amplifier” ماڈل اسی مربوط اور مرحلہ وار آپریشن کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک کثیر سطحی اور مشترکہ آپریشن تھا جعلی ایرانی ذرائع → افغان پھیلاؤ (proliferation) → بھارتی بیانیہ سازی اور کنٹرول → عالمی سطح پر amplification

    یہ تمام شواہد اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ یہ کوئی اتفاقی سوشل میڈیا سرگرمی نہیں بلکہ بھارت اور افغانستان پر مبنی ایک مکمل، منظم اور اسٹریٹجک انفارمیشن وارفیئر مہم تھی، جس کا مقصد خطے میں بداعتمادی پیدا کرنا، مذہبی جذبات کو بھڑکانا، اور پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنا تھا۔

  • آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین اسٹاف لیول معاہدہ طے

    آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین اسٹاف لیول معاہدہ طے

    عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔

    آئی ایم ایف کے مطابق منظوری کے بعدپاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی یعنی پاکستان کو مجموعی طور پر 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالر ملیں گے، پاکستان کو رقم آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد جاری ہوگی اور نئی قسط ملنے سے پاکستان کو ملنے والی رقم 4.5 ارب ڈالر ہو جائے گی،عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں بہتری، منہگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول میں ہے تاہم مشرق وسطیٰ کشیدگی سے معیشت کو خطرات لاحق ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان مالی خسارہ کم کرنے کا عزم رکھتی ہے اور اس حوالے سے ٹیکس نظام بہتر بنانے کیلئے اصلاحات جاری ہیں، غریب عوام کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی، منہگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے امداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، اسٹیٹ بینک منہگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا، ضرورت پڑنے پر شرح سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے،زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، معاشی استحکام بہتر ہوا ہے، تاہم توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ منہگائی بڑھا سکتا ہے۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات کنٹرول کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد شروع ہونے سے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، پاکستان ڈیجیٹل انوائسنگ اور ٹیکس آڈٹ نظام مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، ٹیکس پالیسی آفس درمیانی مدت کی اصلاحاتی حکمت عملی تیار کر رہا ہے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی بہتر تقسیم پر کام جاری ہے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم پر کام جاری ہے،مالی سال 2026 میں 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف ہے، پاکستان کا مالی سال 2027 میں سرپلس 2 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے،پاکستان نے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، غربت میں کمی اور سماجی تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جبکہ منہگائی سے متاثرہ طبقے کو ہدفی امداد دینے کی کوششیں جاری ہیں، پاکستان نے بینکاری نظام کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے مستحکم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ پاکستان نے توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے روکنے کا عزم کیا ہے،پاکستان کی سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری اہم ترجیح ہے، حکومت پاکستان نے مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے، پاکستان بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں کر رہا ہے،موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات تیز کیے جائیں گے جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے گرین ٹرانسپورٹ اور کاربن اخراج میں کمی پر بھی زور دیا جا رہا ہے، پانی کے نظام کی بہتری اور آفات سے نمٹنے کے لیے مالی نظام کی تیاری جاری ہے، پاکستان میں موسمیاتی اہداف کے مطابق توانائی اصلاحات جاری ہیں۔

  • نورولی محسود کو کابل کے حساس علاقے میں پناہ دیئے جانے کا انکشاف

    نورولی محسود کو کابل کے حساس علاقے میں پناہ دیئے جانے کا انکشاف

    قابلِ اعتماد سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کو افغان طالبان کی جانب سے کابل کے حساس علاقے گرین زون (ڈپلومیٹک انکلیو) میں ایک کثیر المنزلہ عمارت میں پناہ دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ عمارت میں دیگر افراد بھی موجود ہیں جنہیں مبینہ طور پر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ نور ولی محسود کو کسی بھی ممکنہ کارروائی سے محفوظ رکھا جا سکے۔سکیورٹی حکام کے مطابق کابل کا گرین زون انتہائی محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں سفارتی مشنز اور اہم سرکاری تنصیبات واقع ہیں، پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان ایک طرف مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کر رہا ہے تو دوسری جانب دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے اپنے اہداف پر مکمل توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

    افغان طالبان حکومت کی جانب سے نور ولی محسود کو پاکستان کے حوالے کرنے کے بجائے اسے سفارتی ڈھال فراہم کرنا ایک خطرناک پیش رفت ہے، جو نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال کو بروقت حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات خطے میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

  • بہترین اور مؤثر سفارتکاری ، پاکستان عالمی امن کا ضامن،امریکی نمائندہ خصوصی کی تصدیق

    بہترین اور مؤثر سفارتکاری ، پاکستان عالمی امن کا ضامن،امریکی نمائندہ خصوصی کی تصدیق

    بہترین اور مؤثر سفارتکاری ، پاکستان عالمی امن کا ضامن بن کر ابھر رہا ہے

    پاکستان نے دنیا میں امن اور استحکام کیلئے کامیاب سیاسی اور ملٹری ڈپلومیسی کا لوہا منوایا ،امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے بطور ثالث پاکستان کے اہم کردار پر مہر ثبت کر دی ،امریکی کابینہ میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا اعتراف کرتے ہوئے اسٹیووٹکوف نے کہا کہ؛ امن معاہدے کے فریم ورک کیلئے 15نکالتی ایکشن لسٹ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی ہے،پاکستان ایران اور امریکا میں بطور ایک ثالث کے اہم کردار ادا کر رہاہے ،پاکستان کے ذریعے ایران کیساتھ مضبوط اور مثبت پیغامات اور مذاکرات سامنے آئے ہیں

    عالمی ماہرین کے مطابق ؛پاکستان اپنی مدبرانہ پالیسیوں اور بہترین حکمت عملی کے باعث پوری دنیا کو متاثر کرنے والی جنگ کو رکوا رہاہے ،امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار پاکستان کی اہمیت اور عالمی سطح پر بھر پور اعتماد کا عکاس ہے ، پاکستان متوازن تعلقات اور کامیاب سیاسی و ملٹری ڈپلومیسی کے باعث اپنی عالمی ساکھ کو مزید مستحکم کر رہاہے ،

  • طالبان کی جانب سے داعش کیخلاف کاروائیوں کے جھوٹے دعوے بے نقاب

    طالبان کی جانب سے داعش کیخلاف کاروائیوں کے جھوٹے دعوے بے نقاب

    طالبان کی جانب سے داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں کے دعوے یَکہ خاجی، فاریاب، افغانستان کے واقعات سے بے نقاب ہو گئے ہیں۔

    شفیق اللہ المعروف قاری حکمت کی قیادت میں ایک فعال داعش مرکز جی ڈی آئی (GDI) کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے، جہاں ہر وقت 20 سے 30 جنگجو موجود رہتے ہیں۔ عید کے اجتماع کے دوران داعش خراسان کے سینئر رہنما، سیف البحر المعروف شیخ مقبول اور ابو بکر العراقی المعروف ابو سعد العراقی بھی وہاں موجود تھے۔فاریاب میں داعش کے اس اڈے نے منظم گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    قاری حکمت کے زیرِ انتظام کیمپ کنڑ، نورستان اور ننگرہار سے منتقل کیے گئے دہشت گردوں کی افغانستان کے اندرونی علاقوں تک نقل و حرکت میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔اس نیٹ ورک سے منسلک ناموں میں معاویہ ابو سعد ازبکی، شاہ زور خیری، اور حاجی جان سید المعروف مومن شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کی نقل و حرکت بھی اسی نیٹ ورک کے ذریعے ہو رہی ہے۔ طالبان داعش کا خاتمہ نہیں کر رہے بلکہ اسے منظم اور پناہ فراہم کر رہے ہیں۔

    فاریاب میں عید کے اجتماع میں اعلیٰ درجے کے دہشت گرد، عمر الخراسانی، لقمان الخراسانی، محمد ابو حمزہ ترکستانی، اور ابو یاسر بھی شریک تھے۔یہ کیمپ مستقل طور پر 20 سے 30 جنگجوؤں کی میزبانی کرتا ہے اور طالبان کی سرپرستی میں ایک لاجسٹک اور رابطہ مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔ جب داعش کے کمانڈر جی ڈی آئی کی نگرانی میں کھلے عام سرگرم ہوں تو طالبان کا بیانیہ خود بخود بے اثر ہو جاتا ہے۔حقیقت واضح ہے؛ افغانستان کو علاقائی اور عالمی دہشت گردی کے لیے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

  • ٹرمپ کا پھر شہباز شریف کا ذکر،ایرانی توانائی تنصیات پر 10 دن مزید حملے روکنے کا اعلان

    ٹرمپ کا پھر شہباز شریف کا ذکر،ایرانی توانائی تنصیات پر 10 دن مزید حملے روکنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ایک بار پھر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا ذکر کر ڈالا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم بہت اچھے آدمی ہیں، پاکستانی وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ٹرمپ جنگ نہ رکواتے تو لاکھوں افراد مارے جاتے۔اس کے علاوہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف نے بطورثالث پاکستان کے کردارکو سراہا۔خصوصی مندوب نے کہا پاکستان کی وجہ سے عمدہ اور مثبت پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، ایران کے قائل ہونے کے مضبوط اشارے مل رہے ہیں ۔

    دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مزید 10 روز تک روکنے کا اعلان کردیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صدر ٹرمپ نے جاری بیان میں کہا کہ 6 اپریل 2026 تک وہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے روک رہے ہیں، وہ یہ اقدام ایران حکومت کی درخواست پر کر رہے ہیں۔

    اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے ان تنصیبات پر حملے 5 روز کیلئے روکنے کا اعلان کیا تھا جس کی مدت آج یعنی جمعہ کو ختم ہونا تھی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے اور فیک نیوز میڈیا کی جانب سے جاری خبروں کے برعکس یہ بات چیت عمدگی سے جاری ہے۔

  • افغان مہاجرین کی محفوظ واپسی کے لیے طورخم بارڈر عارضی طور پر کھولنے کا فیصلہ

    افغان مہاجرین کی محفوظ واپسی کے لیے طورخم بارڈر عارضی طور پر کھولنے کا فیصلہ

    حکومتِ پاکستان نے ریاستی پالیسی کے تحت غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کی باعزت، محفوظ اور مرحلہ وار وطن واپسی کے لیے طورخم بارڈر کو عارضی طور پر کھول دیا ہے ۔

    اعلامیے کے مطابق واپسی کا عمل 26 مارچ 2026 کو شروع ہوا، جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں بشمول ایف آئی اے، نادرا، کسٹمز اور نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کو مکمل ہم آہنگی اور تیاری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے طورخم، لنڈی کوتل اور گرد و نواح میں سخت حفاظتی انتظامات نافذ کیے گئے ہیں تاکہ واپسی کے عمل کو ہر قسم کے سیکیورٹی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔

    حکام کے مطابق صرف رجسٹرڈ مقامات، خصوصاً حمزہ بابا کیمپ کے ذریعے مہاجرین کی منظم انداز میں منتقلی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ابتدائی مرحلے میں نقل و حرکت کو کنٹرولڈ رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی بدانتظامی سے بچا جا سکے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی، سرحدی نظم و ضبط اور امیگریشن قوانین کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس میں سکیورٹی فورسز اور سول ادارے مکمل یکجہتی کے ساتھ کردار ادا کر رہے ہیں۔

  • وزیراعظم کی صدر مملکت سے ملاقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال  پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے ملاقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف زرداری کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے،جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا-

    وزیراعظم اور صدر مملکت کی ملاقات ایوان صدر میں ہوئی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ملاقات میں ملکی سکیورٹی، معاشی صورتحال اور تونائی بحران پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی جب کہ وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار پر صدرکو اعتماد میں لیا۔

    ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے خطے کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم اپناکردار اداکرنے کو حاضر ہیں صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ دنیا میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار اداکرنے کے لیے تیار ہے۔

    علاوہ ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں معیشت، توانائی اور علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا گیا،جمعرات کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اجلاس میں شریک ہوئے،یئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ داخلہ محسن نقوی ، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی اجلاس میں شریک ہوئے،قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو ہر میدان میں مضبوط، خودمختار بنایا جائیں گا۔

  • لاہور میں پی ایس ایل کے باعث عوام کو مشکلات، مبشر لقمان کی سخت تنقید

    لاہور میں پی ایس ایل کے باعث عوام کو مشکلات، مبشر لقمان کی سخت تنقید

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکسپر جاری اپنے ایک بیان میں لاہور میں آج سے شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے انعقاد پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کا نظام زندگی بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لاہور "گھٹ رہا ہے” اور اس کی بڑی وجہ ایک ایسا ٹورنامنٹ ہے جسے ان کے بقول نہ تو لوگ دیکھ رہے ہیں اور نہ ہی اس میں کوئی خاص دلچسپی لے رہے ہیں۔ پی ایس ایل جیسے ایونٹ کے انعقاد کے باعث شہر کی بڑی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ یہ سب کچھ محض کریڈٹ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔حقیقت میں قومی ٹیم مسلسل شرمناک شکستوں کا سامنا کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود ذمہ داران اپنی کارکردگی پر شرمندہ ہونے کے بجائے خود ستائشی میں مصروف ہیں۔ یم کی ناقص کارکردگی کے باوجود ایسے ایونٹس کا انعقاد عوامی مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔

    مبشر لقمان نے اس صورتحال کو "شرمناک” قرار دیتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں اور کھیلوں کے نام پر شہری زندگی کو مفلوج نہ کیا جائے۔

  • بلاول کی وزیراعلیٰ سندھ،بلوچستان کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات

    بلاول کی وزیراعلیٰ سندھ،بلوچستان کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات

    خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور قومی سلامتی کے اہم امور پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں موجودہ علاقائی صورتحال اور پاکستان کے سفارتی کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی حکمت عملی زیر بحث آئی۔ وزیراعظم نے بلاول بھٹو زرداری کو ایران،امریکا تنازع میں پاکستان کے کردار اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی شریک تھے۔ دونوں وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے صوبوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ اور اس سے متعلق حکمت عملی پر وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔ ملاقات کو ملکی استحکام اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔