Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عراق کا پاکستانی جے ایف-17 تھنڈر طیاروں میں دلچسپی کا اظہار

    عراق کا پاکستانی جے ایف-17 تھنڈر طیاروں میں دلچسپی کا اظہار

    
آئی ایس پی آر کے مطابق عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاکستان فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی تربیت کو سراہتے ہوئے اس سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سرکاری دورۂ عراق کے دوران عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ محند غالب محمد راضی الاسدی سے ملاقات کی۔‎بیان کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ عسکری تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں مشترکہ تربیت، صلاحیت سازی اور عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔‎آئی ایس پی آر نے بتایا کہ عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جدید نظام کی تعریف کی، عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اٹھانے کی خواہش ظاہر کی اور جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ سپر مشاق تربیتی طیاروں میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ عراقی فضائیہ کے سربراہ نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔

  • ترکی کی پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت کی خواہش

    ترکی کی پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت کی خواہش

    ترکیے نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کردی۔

    غیر ملکی میڈیا ادارے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد سے مشرق وسطیٰ اور اس سے بہت آگے تک طاقت کا توازن تبدیل ہوجائے گا،خیال رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ برس مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں لکھا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی، یہ بات نیٹو اتحاد کے آرٹیکل پانچ کی طرح ہے اور ترکیے پہلے سے نیٹو اتحاد کا رکن ہے،بلوم برگ کے مطابق ترکیے کو پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شامل کرنے کے لیے تینوں ملکوں کے درمیان معاہدہ جلد ممکن ہے۔

  • وزیراعظم  سے متحدہ عرب امارات کے معروف بزنس گروپ کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے معروف بزنس گروپ کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے معروف بزنس گروپ کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید موثر معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کی سمت بڑھ رہے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے، دیرینہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں جو باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے حالیہ دورۂ پاکستان نے دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید تقویت دی ہے اور تعاون کے فروغ کے لیے سازگار فضا قائم کی ہے۔وزیراعظم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حالیہ اعلیٰ سطحی روابط اور تبادلوں سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے نجی شعبوں اور سرمایہ کاروں کے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد میسر ائی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل جدت، بلاک چین اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں بزنس ٹو بزنس (B2B) تعاون کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں،اماراتی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری، جدت اور عالمی روابط اور پاکستان کی افرادی صلاحیت و قوت معاشی ترقی کے لئے نہایت مفید شراکت داری ہے۔

    سجوانی گروپ کے وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور معاشی شراکت داری کے مواقعوں پر مزید تعاون کرنے کی عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی مضبوط حمایت کے ساتھ نجی شعبے کے اشتراک میں اضافہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔متحدہ عرب امارات کی سجوانی گروپ کے وفد نے پاکستان میں پرتپاک استقبال اور میزبانی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم نے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا.

  • بہترین سفارت کاری، پاکستان خطے میں مرکز نگاہ بن گیا،عالمی جریدہ

    بہترین سفارت کاری، پاکستان خطے میں مرکز نگاہ بن گیا،عالمی جریدہ

    عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہےکہ بہترین سفارت کاری کی بدولت پاکستان خطے میں مرکز نگاہ بن گیا ہے۔

    عالمی جریدے کے مطابق چین نے پاکستان کے خطے میں بڑھتے مؤثرکرداراوربہترین سفارت کاری کو بھرپوراندازمیں سراہا ہے، حکومت، ریاستی اداروں اور عوام کے قومی معاملات پریکساں دوٹوک مؤقف کی عالمی سطح پرپذیرائی ہورہی ہے، بہترین سفارت کاری کی بدولت پاکستان خطے میں مرکز نگاہ بن گیا ہے۔ چین پاکستان کومعاشی طور پرمضبوط اور سرحدوں سےباہربھی مؤثرکردار اداکرنے والاملک تصورکرتا ہے، امریکا سے اچھے تعلقات کے ساتھ پاک چین دوستی بھی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، چین، پاکستان کے عالمی او رعلاقائی معاملات میں اہم کردار کی حمایت کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چین سلامتی کونسل اور ایس سی او کی صدارت کے لیے پاکستان کو بہترین اور موزوں تصورکرتا ہے، پاکستان بھی چین کےساتھ متعدد شعبوں میں اسٹرٹیجک شراکت داری کو اہم سمجھتاہے، چین نےایک بارپھرپاکستان کی خودمختاری،آزادی اورعلاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہارکیا ہے، چین نےمسئلہ کشمیر کےسلامتی کونسل کی قراردادوں کےمطابق حل پر زور دیا ہے، چین نے افغان حکومت پر اعتدال پسندی اورپڑوسیوں کے ساتھ اچھےتعلقات پر زور دیا ہے، چین خطے اور عالمی سطح پر پاکستان کی موجودہ پالیسیوں کی بھرپور حمایت کر رہاہے،ماہرین کے مطابق خطے اور عالمی سطح پر پاکستان کی موجودہ پالیسیوں کی حمایت پاکستانی مؤقف کی بھرپورتوثیق ہے۔

  • سیکیورٹی فورسز کی ایک ہی روز میں  بڑی کارروائیاں، 27 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کی ایک ہی روز میں بڑی کارروائیاں، 27 دہشت گرد ہلاک

    قابلِ اعتماد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے ایک ہی دن میں ملک کے مختلف علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی متعدد کامیاب کارروائیاں انجام دیں، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 27 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان، کرم، بنوں اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ معلومات موصول ہوئیں، جس کے بعد مربوط اور ہدفی آپریشنز کیے گئے۔میر علی، شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔دوغار، کرم ایجنسی میں مقابلے کے بعد 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔اسپن وام، شمالی وزیرستان میں ایک بڑے آپریشن کے دوران 8 دہشت گرد مارے گئے۔دٹہ خیل، شمالی وزیرستان میں فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 2 دہشت گردوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔زمرن رینجز، ضلع کیچ، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر کارروائی کی، جس میں 5 دہشت گرد مارے گئے۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق تمام کارروائیاں انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں انجام دی گئیں، جن کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے گئے۔سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے، جبکہ عوام کے تعاون کو بھی اس جنگ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

  • وفاقی حکومت کا مجوزہ رمضان پیکج،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلے

    وفاقی حکومت کا مجوزہ رمضان پیکج،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی حکومت کے مجوزہ رمضان اور پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں کی پچھلے سال رمضان پیکج کی شفافیت پر مستند آڈٹ ادارے کی طرف سے رپورٹ پر ستائش کی،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پچھلے سال سے وفاقی حکومت نے غریب عوام کو رمضان پیکج کی بدولت ارزاں نرخوں پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کے لیے شفاف نظام ترتیب دیا ہے ۔ ملک میں کئی دہائیوں سے جاری یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے، مالی بے ضابطگیوں، بدنظمی اور غریبوں کے استحصال کا رائج نظام حکومت نے شفاف نظام میں تبدیل کر دیا۔ تمام متعلقہ ادارے آنے والے رمضان کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ موثر اور سود مند پیکج اور سفارشات مرتب کریں ۔ یوٹیلٹی سٹورز میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد اپنے حق سے محروم تھے۔ غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ غریب عوام میں رمضان پیکج کے امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے تاکہ عوام کی عزت و تکریم مجروح نہ ہو۔ عوام کو امدادی رقوم کی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہمی کیش لیس معیشت کے حصول کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگی۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی رمضان پیکج کی تقسیم میں شمولیت سے کیش لیس اکانومی کو فروغ ملے گا. تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی رقوم میں غریب عوام کے دائرہ کار اور شمولیت کو ممکن حد تک وسیع کیا جا سکے۔ رمضان پیکج میں پچھلے سال سے بہتر اور موثر ادائیگی کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع حکمت عملی اور سفارشات جلد پیش کی جائیں۔مؤثر نگرانی کے لئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے.

    دوران اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں عالمی شہرت یافتہ اور مستند آڈٹ فرم نے حکومتی پیکج کو موثر اور شفاف قرار دیا ،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سوشل پروٹیکشن والٹ نظام رائج کیا جارہا ہے، جس کے تحت مستحق افراد میں مفت سمز تقسیم کی جارہی ہیں اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم اسی سم کے ذریعے ڈیجیٹلی تقسیم کی جائیں گی. رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں کسی قسم کی مالی بدعنوانی یا سنگین انتظامی بدنظمی کی نشاندہی نہیں کی گئی. اجلاس میں بتایا گیا کہ پچھلے سال رمضان پیکج میں کسی قسم کی مالی بے ضابطگی یا سنگین انتظامی بدنظمی و بدعنوانی نہیں پائی گئی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، براۓ، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ، وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین نادرہ اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی

  • فیلڈ مارشل دہشتگردی کیخلاف جنگ کو لیڈ کر رہے ہیں، وزیراعظم

    فیلڈ مارشل دہشتگردی کیخلاف جنگ کو لیڈ کر رہے ہیں، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ آج بھی جاری ہے، خوارج کو ہمسایہ ممالک سے مدد مل رہی ہے، دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

    وزیراعطم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل دہشتگردی کیخلاف جنگ کو لیڈ کر رہے ہیں، معرکہ حق میں بھارت کو ایسا سبق سکھایا جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ کے پی کی طرح بلوچستان میں بھی دہشتگردی نے مشکلات پیدا کیں، دہشتگردی کیخلاف افواج پاکستان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،فیلڈمارشل سید عاصم منیر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو لیڈ کر رہے ہیں، افواج پاکستان کی قربانیوں کو اگر ہر روز بھی یاد کیا جائے تو وہ کم نہ ہوں گی،پاک فوج، لیویز اور عام شہریوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی،

  • مصطفیٰ کمال کن ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل کہتے

    مصطفیٰ کمال کن ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل کہتے

    ایم کیو ایم کے رہنما، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عمران فاروق قتل کیس کا ماسٹر مائنڈ الطاف حسین ہے، پاکستانی عدالتیں فیصلہ دے چکی ہیں، افتخار حسین کو عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار کیا گیا، افتخار حسین الطاف حسین کا ہی فون سنتا ہے

    سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کرمنل مائنڈ آدمی ہےجیسے مافیاز کام کرتے ہیں ویسے ہی الطاف حسین کام کرتا ہے جو الطاف کے سامنے سوال کرتا تھا وہ دنیا سے چلا گیا، عمران فاروق الطاف حسین سے لڑائی کرتے تھے، بات کرتے تھے، ایم کیو ایم کے اس وقت کے سب لوگوں‌کو پتہ ہے جب انکا قتل ہو وہ ناراض تھے سیکرٹریٹ نہیں آتے تھے، پہلے بھی کئی بار وہ ناراض ہو چکے تھے، الطاف حسین سے کوئی سوال کر لے تو وہ نظروں میں آ جاتا ہے وہ تو نظروں میں تھے،جب پارٹی میں کچھ نہیں تھا تب پانچ، چھ ،سات لوگوں میں یہ شامل تھے، غلط بات پر روکنا ٹوکنا ان کا حق تھا لیکن الطاف حسین ہوش میں ہوتے تو وہ مارنے کی ہدایت نہ دیتے وہ تو ہفتوں ،ہفتوں نشے میں رہتے، انکی رات کی کال خراب ہوتی تھی پھر شام کو پھر دن دو بجے کی بھی کال خراب ہونے لگی، ہم نے لندن میں ہفتوں‌گزارے،ٹی وی والوں کو کہتے تھے کہ الطاف کی کال نہ اٹھانا،پہلے ہم سے رابطہ کرنا، جو مارنے والی ٹیمیں تھیں ان کو کال کر دی گئی کہ تمہارے قائد کو تنگ کر رہا ہے تو اس کے بعد قتل ہو گیا،یہ میں نہیں کر رہا، میں الزام نہیں لگا رہا،لندن میں قتل ہوا ہے، لندن میں پاکستانی پولیس، پاکستانی عدالت نہیں ہے، وہاں ریاست ،نظام ہے،اسکاٹ لینڈ یارڈ نے سارے کیس کو ٹریس آؤٹ کیا، قاتلوں‌کی تصویریں نکالیں، جو آرڈر دینے والے ہیں سب کو نکال لیا، قتل کرنے والے پکڑے گئے، قاتل جنہوں نے آرڈر دیا، مبارکباد دی، جس کو کال ریسیو ہوئی اس کا نام افتخار حسین ہے، الطاف کا کزن ہے اور الطاف کا فون وہی استعمال کرتے ہیں، ان کو مبارکباد دی گئی،افتخار حسین پاکستان آئے قاتلوں سے ملے ،پھر وہ لندن گئے تو انکو ہیتھرو ایئر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا،یہ میں نہیں کہہ رہا یہ میڈیا میں‌رپورٹ ہوا ہے،لندن میں پاکستان جیسی گرفتاری نہیں ہوتی،وہاں کسی کو گرفتار کرنے کے لئے شواہد جمع کر کے پہلے عدالت پیش ہونا پڑے گا، وارنٹ جاری ہوتے ہیں پھر گرفتاری ہوتی ہے، پولیس ویسے نہیں پکڑ سکتی،پولیس نے عدالت میں قتل کیس کے ثبوت دکھائے ہوں گے تو وارنٹ ملے ہوں گے،مارنے والے جب پاکستان پکڑے گئے تو برطانیہ نے کہا کہ ہمارے حوالے کریں یہ آ کر بیان دیں گے لیکن پاکستان اور برطانیہ میں قیدیوں کے تبادلہ کا کوئی معاہدہ نہیں اس لئے برطانیہ کے حوالہ نہیں کیا گیا،اسکے بعد برطانوی حکام پاکستان آئے اور یہاں کیس چلا، الطاف حسین کو قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا،پاکستان کی عدالت کو برطانیہ نے ثبوت دیئے،جس کے بعد یہ فیصلہ آیا، پاکستانی میڈیا نے سب نے اسکو نشر کیا،

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ قتل کیس میں افتخار حسین کی گرفتاری ہوئی، تین لوگ جو یہاں پکڑے گئے تھے انکو پاکستان برطانیہ کے حوالے کر دیتا اور یہ قیدی بیان دیتے تو الطاف حسین ماسٹر مائنڈ گرفتار ہو جاتے، یہاں کی عدالت نے الطاف کو مفرور قرار دیا ہے،

    سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال ہی ایم کیو ایم ہے اور ایم کیو ایم ہی مصطفیٰ کمال ہے، پی ایس پی ختم ہو چکی ہے، میں ایم کیو ایم کی سنٹرل کیبنٹ کا ممبر ہوں،چیئرمین کے بعد کسی کو عہدہ نہیں ملا، 11 لوگوں نے ملکر چیئرمین بنایا،یہ سوال کہاں سے آ رہا کہ ایم کیو ایم کوئی اور ہے مصطفیٰ کمال کوئی اور ہے،ایم کیو ایم مرکزسے پریس کانفرنس کا دعوت نامہ جاری ہوتا ہے اور پریس کانفرنس ہوتی ہے.

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کو گواہ بنانے کی ایمان مزاری کی درخواست قانونی قدم نہیں سیاسی حکمت عملی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کو گواہ بنانے کی ایمان مزاری کی درخواست قانونی قدم نہیں سیاسی حکمت عملی

    عدالت نے ایمان مزاری کی ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست مسترد کر دی

    ایمان مزاری کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطورِ پراسیکیوشن گواہ طلب کرنے کی کوشش خالصتاً ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد عدالت کے فورم کو انصاف کے تقاضوں کے بجائے ادارہ جاتی تنازع اور میڈیا بیانیے میں بدلنا تھا۔ قانون اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ ملزم کو پراسیکیوشن کے گواہوں کے تعین کا کوئی اختیار حاصل نہیں، اس کے باوجود ایک اعلیٰ آئینی عہدے کو بلاجواز گھسیٹنا عدالتی عمل کی سنگینی کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

    عدالت کے سامنے ایمان مزاری اور ان کے معاونین اس بنیادی سوال کا کوئی قانونی جواب پیش نہ کر سکے کہ وہ کس شق کے تحت ڈی جی آئی ایس پی آر کو پراسیکیوشن گواہ بنوانا چاہتے ہیں۔ یہ خاموشی خود اس درخواست کے کھوکھلے پن کا ثبوت بن گئی۔ جج نے واضح اور غیر مبہم انداز میں یہ اصول دہرایا کہ عدالتیں افراد یا عہدوں سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ صرف قانونی نکات اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ محض کسی ادارے یا عہدے کا نام لے لینا اسے مقدمے کا لازمی فریق نہیں بنا دیتا۔قانون اس حوالے سے بالکل دو ٹوک ہے کہ پراسیکیوشن کے گواہوں کا تعین ریاست کا اختیار ہوتا ہے، نہ کہ ملزم کا۔ ایمان مزاری اس بنیادی نکتے کو ثابت کرنے میں ناکام رہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا اس مقدمے یا ان مبینہ ٹوئٹس اور بیانات سے کوئی براہِ راست تعلق ہے جن کی بنیاد پر کیس قائم کیا گیا۔ محض کسی اعلیٰ آئینی عہدے کا نام شامل کر دینا کسی بھی درخواست کو قانونی وزن فراہم نہیں کرتا، اور یہی نکتہ اس کیس میں سب سے نمایاں ہو کر سامنے آیا۔

  • پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوا مئی تنازع میں جنگ بندی کیلئے بھارت نے تیسرے ملک سے مداخلت کروائی۔

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت کا دہشتگردی پر من گھڑت بیانیہ اور پاکستان کے خلاف جارحیت حقائق کو نہیں چھپا سکتا، بھارت خطے میں امن کا مسلسل خلل ڈالنے والا کردار ادا کرتا رہا ہے، بھارت نے بیرونِ ملک ماورائے عدالت قتل کیے اور ہمسایوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی، کلبھوشن جیسے آپریٹوز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی گئی، بھارت نے مطلوب مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں، بھارت میں اقلیتوں کو بڑھتی ہوئی ہراسانی اور جبر کا سامنا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیری سیاسی رہنما اور سول سوسائٹی کے ارکان قید ہیں، سینئر کشمیری رہنما شبیر شاہ کئی برسوں سے طویل قید کا سامنا کر رہے ہیں، خاتون کشمیری رہنما آسیہ اندرابی بھی طویل عرصے سے بھارتی حراست میں ہیں، دیگر کشمیری سیاسی رہنما بھی دہائیوں پر محیط قید و بند کی سزا کاٹ رہے ہیں، یاسین ملک کو جعلی مقدمے میں سزا سنائی گئی، کشمیری صحافی عرفان مجید بھارتی حکام کی انتقامی کارروائیوں کے باعث جیل میں ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے خلاف بیرونی جارحیت اور دھمکیوں کی پاکستان نے مخالفت کی ہے، ایران پر پابندیوں کی پاکستان نے ماضی میں مخالفت کی اور آئندہ بھی کرتا رہے گا،جوہری معاہدے سے متعلق پابندیوں کو غیر تعمیری قرار دیا گیا، ایران کی اندرونی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، پاکستان کسی بھی پڑوسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا،پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط اور کثیر الجہتی نوعیت کا ہے، سعودی عرب سے کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرض پر کسی حتمی معاہدے کی اطلاع نہیں،کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد کی جائے گی، پاک سعودی دفاعی تعاون جاری ہے جو دوطرفہ فریم ورک کے تحت آگے بڑھ رہا ہے، سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کے کسی فیصلے کی معلومات نہیں، فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں