ایم کیو ایم کے رہنما، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عمران فاروق قتل کیس کا ماسٹر مائنڈ الطاف حسین ہے، پاکستانی عدالتیں فیصلہ دے چکی ہیں، افتخار حسین کو عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار کیا گیا، افتخار حسین الطاف حسین کا ہی فون سنتا ہے
سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کرمنل مائنڈ آدمی ہےجیسے مافیاز کام کرتے ہیں ویسے ہی الطاف حسین کام کرتا ہے جو الطاف کے سامنے سوال کرتا تھا وہ دنیا سے چلا گیا، عمران فاروق الطاف حسین سے لڑائی کرتے تھے، بات کرتے تھے، ایم کیو ایم کے اس وقت کے سب لوگوںکو پتہ ہے جب انکا قتل ہو وہ ناراض تھے سیکرٹریٹ نہیں آتے تھے، پہلے بھی کئی بار وہ ناراض ہو چکے تھے، الطاف حسین سے کوئی سوال کر لے تو وہ نظروں میں آ جاتا ہے وہ تو نظروں میں تھے،جب پارٹی میں کچھ نہیں تھا تب پانچ، چھ ،سات لوگوں میں یہ شامل تھے، غلط بات پر روکنا ٹوکنا ان کا حق تھا لیکن الطاف حسین ہوش میں ہوتے تو وہ مارنے کی ہدایت نہ دیتے وہ تو ہفتوں ،ہفتوں نشے میں رہتے، انکی رات کی کال خراب ہوتی تھی پھر شام کو پھر دن دو بجے کی بھی کال خراب ہونے لگی، ہم نے لندن میں ہفتوںگزارے،ٹی وی والوں کو کہتے تھے کہ الطاف کی کال نہ اٹھانا،پہلے ہم سے رابطہ کرنا، جو مارنے والی ٹیمیں تھیں ان کو کال کر دی گئی کہ تمہارے قائد کو تنگ کر رہا ہے تو اس کے بعد قتل ہو گیا،یہ میں نہیں کر رہا، میں الزام نہیں لگا رہا،لندن میں قتل ہوا ہے، لندن میں پاکستانی پولیس، پاکستانی عدالت نہیں ہے، وہاں ریاست ،نظام ہے،اسکاٹ لینڈ یارڈ نے سارے کیس کو ٹریس آؤٹ کیا، قاتلوںکی تصویریں نکالیں، جو آرڈر دینے والے ہیں سب کو نکال لیا، قتل کرنے والے پکڑے گئے، قاتل جنہوں نے آرڈر دیا، مبارکباد دی، جس کو کال ریسیو ہوئی اس کا نام افتخار حسین ہے، الطاف کا کزن ہے اور الطاف کا فون وہی استعمال کرتے ہیں، ان کو مبارکباد دی گئی،افتخار حسین پاکستان آئے قاتلوں سے ملے ،پھر وہ لندن گئے تو انکو ہیتھرو ایئر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا،یہ میں نہیں کہہ رہا یہ میڈیا میںرپورٹ ہوا ہے،لندن میں پاکستان جیسی گرفتاری نہیں ہوتی،وہاں کسی کو گرفتار کرنے کے لئے شواہد جمع کر کے پہلے عدالت پیش ہونا پڑے گا، وارنٹ جاری ہوتے ہیں پھر گرفتاری ہوتی ہے، پولیس ویسے نہیں پکڑ سکتی،پولیس نے عدالت میں قتل کیس کے ثبوت دکھائے ہوں گے تو وارنٹ ملے ہوں گے،مارنے والے جب پاکستان پکڑے گئے تو برطانیہ نے کہا کہ ہمارے حوالے کریں یہ آ کر بیان دیں گے لیکن پاکستان اور برطانیہ میں قیدیوں کے تبادلہ کا کوئی معاہدہ نہیں اس لئے برطانیہ کے حوالہ نہیں کیا گیا،اسکے بعد برطانوی حکام پاکستان آئے اور یہاں کیس چلا، الطاف حسین کو قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا،پاکستان کی عدالت کو برطانیہ نے ثبوت دیئے،جس کے بعد یہ فیصلہ آیا، پاکستانی میڈیا نے سب نے اسکو نشر کیا،
مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ قتل کیس میں افتخار حسین کی گرفتاری ہوئی، تین لوگ جو یہاں پکڑے گئے تھے انکو پاکستان برطانیہ کے حوالے کر دیتا اور یہ قیدی بیان دیتے تو الطاف حسین ماسٹر مائنڈ گرفتار ہو جاتے، یہاں کی عدالت نے الطاف کو مفرور قرار دیا ہے،
سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال ہی ایم کیو ایم ہے اور ایم کیو ایم ہی مصطفیٰ کمال ہے، پی ایس پی ختم ہو چکی ہے، میں ایم کیو ایم کی سنٹرل کیبنٹ کا ممبر ہوں،چیئرمین کے بعد کسی کو عہدہ نہیں ملا، 11 لوگوں نے ملکر چیئرمین بنایا،یہ سوال کہاں سے آ رہا کہ ایم کیو ایم کوئی اور ہے مصطفیٰ کمال کوئی اور ہے،ایم کیو ایم مرکزسے پریس کانفرنس کا دعوت نامہ جاری ہوتا ہے اور پریس کانفرنس ہوتی ہے.