Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    مسلم لیگ ن کے سابق سینئر رہنماؤں ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کی،نئی سیاسی جماعت کا نام "عوام پاکستان ” رکھا گیا ہے،اس موقع پر مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عوام پاکستان کی ابتدائی لانچنگ تقریب چھ جولائی کو اسلام آباد میں کی جائے گی.بجٹ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے نہیں کہاتھا کہ آپ ایم این ایز،ایم پی ایز کو فنڈ دیں،آئی ایم ایف نے زرعی ٹیکس کی بات کی تھی ادھرحکومت نے استثنیٰ دیا ،کیا ایران سے تیل پر ٹیکس نہ لینے کا آئی ایم ایف نے کہا تھا ،درمیانی طبقے کا جو استحصال ہورہا ہے اسکاآئی ایم ایف نے نہیں کہا تھا ،12سگریٹ کمپنیاں ٹیکس نہیں دیتی ،ڈیڑھ دوسو ارب روپے کی چوری کرتی ہیں، کیا آئی ایم ایف نے کہا سگریٹ کمپنیوں پرٹیکس نہ لگائیں، آپ مڈل کلاس،سیلری کلاس لوگوں کو استحصال کررہے ہیں،

    اس موقع پر سابق وزیراعظم،شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہر قیمت پر اقتدار کی سیاست سے اتفاق نہیں تھا، میری کوئی ناراضگی نہیں ہے لیکن میں اس سیاست کا حصہ نہیں،ایک وقت آتا ہے کہ آپ فیصلہ کرتے ہیں،میں نے فیصلہ کیا ہے اور یہ میرا حق ہے،پیسے کی بندربانٹ کو بند کیا جائے،ریفارمز کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا،کیا ٹیکس لگانے والوں پر ٹیکس نہیں لگنا چاہیے ؟حکومتی اقدامات کے اتحادی بھی ذمہ دار ہیں،خطے میں سب سے مہنگی زمین ، بجلی ،گیس پاکستان میں ہے،موجودہ بجٹ معیشت، عوام کے ساتھ ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،یا ملک کی معیشت رہے گی یا یہ بجٹ رہے گا،جس کشتی میں آپ اورمیں سوار ہیں اس میں سوراخ ہیں،ابھی بھی وقت ہے حکومت اس معاملے کو دیکھے ،پاس ہونے والا بجٹ پاکستان کی تاریخ کا بدترین بجٹ ہے، یہ بجٹ اور معیشت دونوں اکھٹے نہیں چل سکتے، بجٹ نافذ کرنے کی کوشش کریں گے تو معیشت تباہ ہو جائے گی، جو ٹیکس ادا کر رہے ہیں ان پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے، اب بھی وقت ہے کہ بجٹ پر نظر ثانی کی جائے،

    کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ سگریٹ بنانے والوں‌سے بھی ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکتے،شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ یہ پہلی دفعہ دیکھنے میں آرہا ہے آمدن حکومت کی ہے ٹیکس آدمی دے رہا ہے، دودھ، بچوں کے کھانے، میڈیکل سرجیکل اشیاء، خیراتی اسپتال پر ٹیکس لگا دیا،کیا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش دودھ خریدنے والے اور تنخوای دار برداشت کرینگے، ان حالات میں معیشیت کیسے آگے بڑھے گی، آج اپنے اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے، حکومت کیا اپنے اخراجات کم نہیں کر سکتی تھی؟ کیا ضروری تھا مہنگائی سے پسے وہ لوگ جو ٹیکس دیتے ہیں ان پر ہی اضافی بوجھ ڈالیں، ہر آدمی جانتا ہے کہ ایک تہائی رقم سیدھی جیبوں میں جاتی ہے، ڈیزل، ایل پی جی کی اسمگلنگ پر ٹیکس اکھٹا کر لیں تو ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں، ایک طبقہ ہے جس کی آدھی آمدن حکومت لے جائے گی، اگر عوام پر بوجھ ڈالنا تھا تو پہلے اپنے اخراجات کم کرتے،عوام کو بھی نظر آتا کہ حکومت ہمارے بارے میں سوچ رہی ہے، 500ارب روپیہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ترقیاتی منصوبوں کی مد میں بانٹے جائیں گے، یہ پانچ سو ارب 22 فیصد سود پر لیں گے، اضافی قرضہ لیں گے، کیا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش دودھ خریدنے والے لوگ برداشت کریں گے اگر ایک سال ایم این ایز گلیاں سڑکیں نہیں بنائیں گے تو کیا ملک میں ترقی نہیں ہو گی؟ اس 500 ارب کا کتنا حصہ کرپشن میں جاتا ہے ہر آدمی جانتا ہے، کم از کم ایک تہائی سیدھی جیبوں میں جاتی ہے، ہم کس قسم کی حکومت چلا رہے، سوچ کیا ہے، اپنے اخراجات کم نہیں کر رہے، سینکڑوں ارب کے سگریٹ بنتے ہیں، آپ کے سامنے بنتے ہیں، کھلم کھلا ٹیکس چوری ہو رہی، کیا ایف بی آر کو پتہ نہیں، کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ سگریٹ بنانے والوں‌سے بھی ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکتے، آج آپ کو اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے،

    معاملات اسی طرح چلتے رہے تو جلد عوام کا صبر جواب دے جائے گا، حکومت کے سائز کو چھوٹا کیا جائے،شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ان حالات میں کون سی غیرملکی سرمایہ کاری یہاں آئے گی، زمین مکان بیچنے پر ٹیکس لگا دیا ہے، حاضر، ریٹائرڈ فوجی اور سرکاری ملازمین کو آپ نے چھوٹ دے دی ہے، حاضر، ریٹائرڈ اور سرکاری ملازمین کو چھوٹ پر کوئی جواز نہیں دے سکیں گے، کل لوگ کہیں گے انہیں استثنیٰ مل سکتا ہے تو مجھے کیوں نہیں، کوئی نان فائلز آپ کو پراپرٹی پر 45 فیصد ٹیکس ادا نہیں کرے گا، یہ آپ کی خام خیالی ہو گی، وزیرِ خزانہ جواز پیش کریں ناں کہ تنخواہ دار طبقے کو کیوں دبا رہے ہیں، کیا ٹیکس لگانے پر ہاں ہاں کرنے والوں پر خود ٹیکس نہیں لگنا چاہیے؟ اگلے سال بجٹ میں کیا کریں گے، کیا تنخواہ دار پر 60فیصد ٹیکس کریں گے؟ریفنڈز کی ادائیگی وقت پر نہیں ہوتی،وزیر خزانہ تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں کو دبا رہے ہیں،معاملات اسی طرح چلتے رہے تو جلد عوام کا صبر جواب دے جائے گا، حکومت کے سائز کو چھوٹا کیا جائے،ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ایکسپورٹ ہے،ایکسپورٹ کو بڑھانا ہے،ہمیں ڈالرز چاہئیں، ہمیں روزگار پیدا کرنا ہے،انڈسٹری کو ریلیف دینا ہے،ایکسپورٹر پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا،ریٹیلر جو مال خریدیں گے بیچیں گے انکو آدھا ٹیکس دینا پڑے گا،بجٹ میں مفاد پرست ٹولے کو چھوٹ دی گئی ہے، کچھ طاقتور لوگوں نے فاٹا میں انڈسٹری لگائی اور ٹیکس چھوٹ حاصل کی ، فاٹا میں لگائی گئی ٹیکس فری فیکٹریاں عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہیں،یہ فیکٹریاں بغیر سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی کے مال بنا رہی ہیں، انکو 5 سال بنا دیئے گئے تھے،فاٹا کی عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں مل رہا، وہاں طاقتور لوگ ہیں جنہوں نے فیکٹریاں لگائیں اور حکومت کو بلیک میل کر کے پھر مدت بڑھوانا چاہ رہے ہیں،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • پارٹی چھوڑنے والوں کی واپسی کیلئے عمران خان کی ہدایت پر کمیٹی قائم

    پارٹی چھوڑنے والوں کی واپسی کیلئے عمران خان کی ہدایت پر کمیٹی قائم

    سابق وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف چھوڑنے والے رہنماؤں کی واپسی کے لئے کمیٹی بنا دی ہے

    کمیٹی کی سفارشات کے بعد پی ٹی آئی چھوڑنے والے رہنماؤں کی پارٹی میں واپسی ہو گی، عمران خان کی ہدایت پر ایک سات رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کی سربراہی اڈیالہ جیل میں قید شاہ محمود قریشی کریں گے،عمران خان کی ہدایت پر قائم کردہ کمیٹی میں بیرسٹر گوہر، شبلی فراز، اسد قیصر، شہر یار آفریدی، شاندانہ گلزار شامل ہیں، شاندانہ گلزار خواتین کے کیسز اور پارٹی چھوڑنے کی وجوہات پر رپورٹ دیں گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جیل میں قید پی ٹی آئی قیادت کی رہائی تک کسی بھی رہنما کی پارٹی میں واپسی کو روک دیا گیا ہے، عمران خان کی جیل سے رہائی کے بعد ہی کسی بھی رہنما کی تحریک انصاف میں واپسی کا حتمی فیصلہ ہو گا.کمیٹی اپنی سفارشات عمران خان کو بھجوائے گی جس کے بعد وہ اپنا فیصلہ سنائیں گے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف میں ان دنوں شدید اختلافات چل رہے ہیں،عمر ایوب نے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے،پی ٹی آئی میں متحرک ترین رہنما شیر افضل مروت بھی ناراض ہیں اور احتجاجی سیاست سے دور ہیں، پی ٹی آئی میں دھڑے بن چکے ہیں، فواد چودھری بھی دوبارہ واپسی کے لئے متحرک ہو چکے ہیں اور پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن پر مسلسل الزامات عائد کر رہے ہیں، حامد خان کہہ چکے ہیں کہ فواد چودھری کوو اپس نہیں لیا جائے گا،پی ٹی آئی بلوچستان کے رہنما بھی موجودہ سیاسی قیادت سے نالاں ہیں، شیر افضل مروت نے شبلی فراز کے استعفیٰ مطالبہ کیا ہے تو اراکین اسمبلی بھی اختلافات کا شکار ہیں، ایسے میں اب آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی مزید زوال پذیر ہو گی.

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ ، سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے سماعت کی،وکیل الیکشن کمیشن سکندر مہمند نے کہا کہ کوشش کروں گا آدھے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کر لوں،پی ٹی آئی کے پارٹی ٹکٹ پر بیرسٹر گوہر کے بطور چیئرمین دستخط ہیں،ٹکٹ جاری کرتے وقت تحریک انصاف کی کوئی قانونی تنظیم نہیں تھی،پارٹی تنظیم انٹرا پارٹی انتخابات درست نہ کرانے کی وجہ سے وجود نہیں رکھتی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ 22 دسمبر کو جاری شدہ ہیں، انٹراپارٹی انتخابات کیس کا فیصلہ 13 جنوری کا ہے تب تک بیرسٹر گوہر چیئرمین تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات 23 دسمبر کو کالعدم قرار دیدیے تھے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ 26 دسمبر کو معطل ہوچکا تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ غلطی کہاں سے ہوئی اور کس نے کی ہے یہ بھی بتائیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کئی امیدواروں نے پارٹی وابستگی نہیں لکھی اسی وجہ سے امیدوار آزاد تصور ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اصل چیز پارٹی ٹکٹ ہے جو نہ ہونے پر امیدوار آزاد تصور ہوگا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس معاملے پر میں اور آپ ایک پیج پر ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پیچ پھاڑ دیں مجھے ایک پیج پر نہیں رہنا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے جاری کردہ پارٹی ٹکٹس کی قانونی حیثیت نہیں،حامد رضاء نے 13 جنوری پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ جمع کرایا،حامد رضاء کے کاغذات نامزدگی اور سرٹیفیکٹ میں تضاد ہے

    حامد رضا ایک سے دوسری جماعت میں چھلانگیں لگاتے رہے،وکیل الیکشن کمیشن
    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین تھے اور ہیں،صاحبزادہ حامد رضا خود کو پارٹی ٹکٹ جاری کر سکتے تھے،صاحبزادہ حامد رضا نے خود کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا، حامد رضا نے کاغذات نامزدگی میں لکھا کہ ان کا تعلق سنی اتحاد کونسل سے ہے جس کا پی ٹی آئی سے اتحاد ہے، حامد رضا نے پی ٹی آئی کا پارٹی ٹکٹ جمع کرایا تھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے حامد رضا کے کاغذات منظور کر لئے تھے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے بیان حلفی میں ڈیکلریشن پی ٹی آئی نظریاتی کا جمع کرایا تھا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ حامد رضا کو آزاد امیدوار قرار دینے سے پہلے کیا ان سے وضاحت مانگی گئی تھی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حامد رضا نے درخواست دے کر شٹل کاک کا انتخابی نشان مانگا تھا، ریکارڈ میں پارٹی ٹکٹ نظریاتی کا نہیں بلکہ پی ٹی آئی کا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد کاغذات نامزدگی میں تضاد پر کوئی نوٹس کیا گیا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریٹرننگ افسر سکروٹنی میں صرف امیدوار کی اہلیت دیکھتا ہے انتخابی نشان کا معاملہ نہیں،حامد رضا خود کو سنی اتحاد کونسل کا امیدوار قرار نہیں دینا چاہتے تھے، حامد رضا ایک سے دوسری جماعت میں چھلانگیں لگاتے رہے،چودہ جنوری سے سات فروری تک تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات کروا سکتی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات ہوتے بھی تو کیا فرق پڑنا تھا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان مل جاتا اور وہ انتخابات کیلئے اہل ہوجاتی،

    آرٹیکل 218(3) کے تحت پی ٹی آئی کو رعایت دے سکتے تھے، وکیل الیکشن کمیشن
    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اس صورتحال میں تو انتخابی شیڈول ہی ڈسٹرب ہوجاتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اتنی خاص رعایت کس قانون کے تحت ملنی تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی انتخابات کا معاملہ کئی سال سے الیکشن کمیشن میں زیرالتواء تھا، الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی انتخابات تو ہوچکے تھے معاملہ ان کی قانونی حیثیت کا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218(3) کے تحت پی ٹی آئی کو رعایت دے سکتے تھے،

    گزشتہ انتخابات میں باپ پارٹی کو کے پی میں مخصوص نشستیں کیسے دی گئی تھیں؟ جسٹس عائشہ ملک
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے کسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں کی تھی، غلط تشریح کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا پورا موقف خراب ہوجاتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس سوال کا جواب دے چکا ہوں، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن لڑا نہ ان کا کوئی امیدوار کامیاب ہوا، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں باپ پارٹی کو کے پی میں مخصوص نشستیں کیسے دی گئی تھیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ باپ پارٹی کو نشستیں دینے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا،باپ پارٹی کو نشستیں دینے کے معاملے پر کوئی سماعت نہیں ہوئی تھی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک معاملے پر دو مختلف موقف کیسے لے سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا باپ پارٹی نے الیکشن میں حصہ لیا تھا؟ کیا ایسی کوئی پابندی ہے کہ کسی بھی اسمبلی میں نشست ہو تو مخصوص سیٹیں مل سکتی ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ آئین و قانون کے مطابق آٹھ فروری کو پانچ عام انتخابات ہوئے تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہر اسمبلی کیلئے الگ عام انتخابات ہوتے ہیں، الٰیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل مکمل کر لئے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک وکیل نے ایک کیس میں کچھ موقف اپنایا شام کو کچھ اور، مختلف موقف کا سوال ہونے پر وکیل نے کہا میں اب زیادہ سمجھدار ہوگیا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے اپنے نوٹ میں کچھ معلومات مانگی تھیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کا نوٹ میں نہیں پڑھ سکا،

    الیکشن کمیشن نے عدالت کو صرف ایک فارم دکھایا ہے دوسرا نہیں،بیرسٹر گوہر
    عدالت نے بیرسٹر گوہر کو روسٹرم پر بلا لیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ سے پوچھا تھا کہ پارٹی ٹکٹ جمع کرایا تھا یا نہیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بطور پارٹی امیدوار اور آزاد امیدوار بھی کاغذات جمع کرائے تھے، الیکشن کمیشن نے عدالت کو صرف ایک فارم دکھایا ہے دوسرا نہیں،عدالتی فیصلہ رات گیارہ بجے آیا ہمیں آزاد امیدوار شام چار بجے ہی قرار دیدیا گیا تھا،ایک امیدوار ایک حلقہ کیلئے چار کاغذات نامزدگی جمع کروا سکتا ہے، پارٹی ٹکٹ کے کئی خواہشمند ہوتے ہیں جسے ٹکٹ ملے وہی امیدوار تصور ہوتا ہے، الیکشن کمیشن نے عدالت سے کاغذات نامزدگی چھپائے ہیں،

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کا کیس، جے یو آئی نے الیکشن کمیشن کے دلائل اپنا لئے
    معاون وکیل نے کہا کہ فاروق نائیک عدالت نہیں پہنچ سکے، پیپلزپارٹی کے وکیل اور شہزاد شوکت نے مخدوم علی خان کے دلائل اپنا لئے، وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جے یو آئی ف الیکشن کمیشن کے دلائل اپنا رہی ہے، اقلیتوں کی پارٹی میں شمولیت کے حوالے سے مس پرنٹ ہوا تھا جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی، اقلیتوں کے حوالے سے الگ سیکشن موجود ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے درست کام کیا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کل تو مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس میں کچھ اور کہہ رہے تھے اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کررہے تھے۔ وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آئینی ادارے کے ساتھ ہیں،مسلم لیگ ن کے بیرسٹر حارث عظمت نے تحریری دلائل جمع کرا دیے.جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ امیدواروں کو آزاد قرار دینا غلط تھا تو پارٹی شمولیت کا 3 دن کا وقت دوبارہ شروع ہوگا۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سُپریم کورٹ کے فیصلے نے کسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں کی تھی، غلط تشریح کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا پورا موقف خراب ہوجاتا۔

    دوران سماعت جسٹس منیب اختر اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک دوسرے کو جواب دیا،جسٹس منیب اختر الیکشن کمیشن کو ملبہ کسی اور جگہ گرانے کی بجائے پھر اس نقطہ پر لے آئے جس وجہ سے بلا چھینا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ذمہ داری لینے کا کہہ دیا، سپریم کورٹ کے فیصلہ سے بری الذمہ ہوگئے،جسٹس منصور علی شاہ نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو "نامناسب” کہا تو چیف جسٹس معاملہ عمران خان پر لے گئے

    الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟چیف جسٹس
    وکیل الیکشن کمیشن نے بار بار 13 جنوری بلے سے متعلق کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی الیکشن کرائے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا ٹھیک نہیں ہوئے،پشاور ہائی کورٹ نے کہا ٹھیک ہوئے، لیکن سپریم کورٹ میں معاملہ آیا تو سپریم کورٹ نے کہا الیکشن کمیشن کا موقف درست ہے اور بلا چھین لیا،

    سپریم کورٹ ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کتنا وقت لیں گے ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے 45 منٹ درکار ہوں گے، سماعت میں مختصر وقفہ کردیا گیا ۔

    عدالت نے مولوی اقبال حیدر کو دلائل سے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے الیکشن نہیں لڑا تو آپ ہمارے لئے کوئی نہیں ہیں،اپنا کیس چلانا ہو تو کالا کوٹ نہیں پہن سکتے،

    مجبور نہ کریں ورنہ پچھلی باتیں کھولنے پر آئیں تو بہت کچھ کھل جائے گا، چیف جسٹس
    پنجاب اور بلوچستان حکومت نے اٹارنی جنرل کے دلائل اپنا لئے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بھی اٹارنی جنرل کے دلائل اپنا لئے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی نوٹس پر بطور ایڈووکیٹ جنرل دلائل دوں گا، متفرق درخواست میں تحریری دلائل جمع کروا چکا ہوں،الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ سے مطمئن نہیں ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کے پی کے میں انتخابات درست نہیں ہوئے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ فیصل صدیقی کے دلائل سے اتفاق کرتا ہوں، گزشتہ انتخابات میں کے پی کے میں باپ پارٹی نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا،باپ پارٹی کے پاس کے پی میں کوئی جنرل نشست نہیں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ باپ پارٹی میں تین افراد نے شمولیت اختیار کی تھی، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ آزاد کی شمولیت پر الیکشن کمیشن نے باپ پارٹی کو مخصوص نشست دی تھی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ باپ پارٹی کی بلوچستان میں حکومت تھی، قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی بھی تھے، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے باپ پارٹی کیلئے باقاعدہ نیا شیڈیول جاری کیا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے اور اب مختلف موقف اپنایا ہے، الیکشن کمیشن آج کہتا ہے گزشتہ انتخابات میں کیا گیا ان کا فیصلہ غلط تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا کے پی حکومت نے اس وقت یہ فیصلہ چیلنج کیا تھا؟ اگر چیلنج نہیں کیا تھا تو بات ختم،پی ٹی آئی کے2018 میں بھی پارٹی انتخابات نہیں ہوئے تھے، پی ٹی آئی کو 2018 میں انتخابی نشان کیسے ملا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس پر جائیں گے تو چیئرمین سینٹ کا انتخاب بھی کھل جائے گا،مجبور نہ کریں ورنہ پچھلی باتیں کھولنے پر آئیں تو بہت کچھ کھل جائے گا، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ باپ پارٹی نے کے پی اسمبلی کیلئے کوئی فہرست جمع نہیں کرائی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جو فارمولہ الیکشن کمیشن نے پہلے اپنایا تھا اب کیوں نہیں اپنایا جا رہا،ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے دلائل مکمل ہو گئے

    اسمبلی میں نشستیں مکمل نہیں ہوں گی تو آئین کا مقصد پورا نہیں ہو گا،اٹارنی جنرل
    ‏سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت یقینی بنانے کیلئے مخصوص نشستیں رکھی گئیں،مخصوص نشستیں صرف سیاسی جماعتوں کو متناسب نمائندگی سے ہی مل سکتی ہیں، خواتین کو پہلی مرتبہ سینیٹ میں بھی بڑی تعداد میں نمائندگی 2002 میں ملی، سال 1990 سے 1997 تک خواتین کی مخصوص نشستیں ختم کر دی گئی تھیں،17ویں ترمیم میں خواتین کی مخصوص نشستیں شامل کی گئیں،اسمبلیوں کی نشستیں جنرل انتخابات اور پھر مخصوص نشستوں سے مکمل کی جاتی ہیں، اسمبلیوں میں نشستوں کو مکمل کرنا ضروری ہے،آئین کا مقصد خواتین، غیر مسلمانوں کو نمائندگی دینا ہے،اگر اسمبلی میں نشستیں مکمل نہیں ہوں گی تو آئین کا مقصد پورا نہیں ہو گا،متناسب نمائندگی کے اصول کا مقصد ہی نشستیں خالی نہ چھوڑنا ہے، مخصوص نشستوں کیلئے آزاد امیدواروں کا شمار نہیں کیا جا سکتا،

    جو فارمولہ آپ بتا رہے ہیں وہ الیکشن رولز کے سیکشن 94 سے متصادم ہے،جسٹس شاہد وحید کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ متناسب نمائندگی کے اصول کا مقصد ہی نشستیں خالی نہ چھوڑنا ہے، مخصوص نشستوں کیلئے آزاد امیدواروں کا شمار نہیں کیا جا سکتا،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یہ بات آپ کس بنیاد پر کر رہے ہیں، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ جو فارمولہ آپ بتا رہے ہیں وہ الیکشن رولز کے سیکشن 94 سے متصادم ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا فارمولہ نئے قانون میں بھی تبدیل نہیں ہوا۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 95 کچھ کہتا ہے اور 94 کچھ لیکن آپ کی کوشش ہے کہ ہم 95 سے ہو کر 94 کو پڑھیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں 2002 سے یہی فارمولا استعمال ہو رہا ہے ؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سال 2002 میں الیکشن ایکٹ 2017 نہیں تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مخصوص نشستوں کا فارمولہ نئے قانون میں بھی تبدیل نہیں ہوا،

    آزاد امیدواروں کو پارٹی ارکان سے کم تر نہیں سمجھا جا سکتا،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سارا تنازع شروع ہی سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کرنے پر ہوا،اس نکتے پر بعد میں جواب دوں گا،اصل نکتہ یہ ہے کہ کوئی مخصوص نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے بعد پہلا انتخاب 2018 میں ہوا تھا،آپ 2002 کی مثال دے رہے ہیں جو بہت پرانی بات ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا تعین ہوا لیکن انہیں دی نہیں گئیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے بغیر آزاد امیدوا مخصوص نشستیں نہیں مانگ سکتے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر سنی اتحاد والے ارکان آزاد ہیں تو ان کی مخصوص نشستوں کا تعین کیوں کیا گیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آزاد امیدواروں کو پارٹی ارکان سے کم تر نہیں سمجھا جا سکتا،آزاد امیدوار مقررہ وقت میں کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ بن سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے حساب سے انگریزی میں لکھی بات بہت آسان ہے،اتنے دن ہوگئے آرٹیکل 51 کی تشریح کرتے ہوئے ہم مفروضوں پر کیوں چل رہے ہیں، اپنی سوچ اور نظریہ آئین پر مسلط نہیں کیا جا سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مشکلات آپ کے بنائے ہوئے رولز پیدا کر رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کاش میرا دماغ چیف جسٹس جیسا ہوتا تو پڑھتے ہی سمجھ جاتا، اتنی کتابیں اسی لئے پڑھ رہے ہیں کہ سمجھ آ جائے، کمزور ججز کو بھی ساتھ لیکر چلیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلہ ایسا لکھنا چاہیے کہ میٹرک کا طالبعلم بھی سمجھ جائے،آئین اور قانون ججز اور وکلاء نہیں عوام کیلئے ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں جس کا جو حق ہے اس کو ملنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر حق کی بات ہے تو اس کا مطلب ہے آپ آدھا فیصلہ کر چکے، حق کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے آئین کو دیکھنا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فارمولا تو الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے، جس کو الیکشن کمیشن چاہے آزادامیدوار بنا دے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ آزاد امیدواروں نے چیلنج کیا؟ کیا ہمارے سامنے کوئی آزاد امیدوار آیا؟

    الیکشن 2018 میں الاٹ کی گئی نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات طلب
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بنیادی سوال بڑی سیاسی جماعت کو غلط تشریح کرکے انتخابات سے باہر کرنا ہے، نشستوں کی تقسیم بعد کی چیز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی الیکشن کمیشن سے مانگا کیا جا رہا ہے، عدالت نے الیکشن 2018 میں الاٹ کی گئی نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے آزاد امیدواروں کی سیاسی جماعتوں میں شمولیت سے پہلے اور بعد نشستوں کی تقسیم کی تفصیلات بھی طلب کر لیں.

    عدالت نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل 1:30 بجے تک سماعت کرینگے کیونکہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل دلائل مکمل کر لونگا، مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کل 1:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ 6 مئی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کو اپنا مینڈیٹ واپس لینے کیلئے یہ اعتراف کرلینا چاہئیے کہ الیکشن والے دن بہت بڑی فاش غلطی ہوئی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

  • عدالت پیش نہ ہونے پروزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وارنٹ جاری

    عدالت پیش نہ ہونے پروزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے وارنٹ جاری

    انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے وارنٹ جاری کر دیئے گئے، عدالت نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی،

    عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تھانہ سنگجانی اور آئی 9 میں درج مقدمات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، اس دوران علی نواز اعوان، واثق قیوم، عامر کیانی اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے تاہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور عامر مغل کے وکلا کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی، دوران سماعت جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” کسی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست قبول نہیں ہو گی، یہ کوئی وجہ نہیں کہ میں شہر سے باہر ہوں تو پیش نہیں ہو سکتا، حاضری پوری نہ ہونا ملزمان پر ہے یا کورٹ پر ہے”۔وکیل نے کہا کہ حاضری پوری کرنا ملزمان پر ہے، جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام غیر حاضر ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رہے ہیں، آئندہ پیشی پر حاضری کی مکمل یقین دہانی کرائی جائےگی تو پھر وارنٹ کا معاملہ دیکھیں گے۔

    وکلا صفائی کی جانب سے کہا گیا کہ ایک موقع دیا جائے اگلی پیشی پر تمام ملزمان پیش ہوں گے، جس پر عدالت نے کہا کہ جو ملزم 8 تاریخ کو نہیں آئیں گے ان کو اشتہاری قرار دوں گا، عدالتی مفرور کو اشتہاری قرار دینے کیلئے 30 دن ضروری نہیں ہیں، میں نے ان کیسز کو انجام تک پہنچانا ہے، آپ کا ہی اس میں فائدہ ہو گا،اگر کیسز میں جان ہوئی تو چلیں گے ورنہ فارغ ہوں گے،ایک تماشا بنا ہوا ہے ایک آتا ہے دو نہیں آتے، 8 جولائی کو کوئی بیمار ہو، بخار ہے، کچھ بھی ہو، جو نہ آیا اسےاشتہاری قرار دیں گے، عدالت نے دونوں مقدمات کی سماعت 8 جولائی تک ملتوی کر دی۔

    عدالت نے عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی سے متعلق سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے تحریری جواب بھی طلب کر لیا۔

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • عمران خان کی رہائی سے کوئی خطرہ نہیں،خواجہ آصف کی پھر مذاکرات کی پیشکش

    عمران خان کی رہائی سے کوئی خطرہ نہیں،خواجہ آصف کی پھر مذاکرات کی پیشکش

    وزیردفاع خواجہ آصف نے عمران خان کو ایک بار پھر بات چیت کی پیشکش کی ہے
    برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہناتھا کہ عمران خان کی رہائی سے کوئی خطرہ نہیں، سیاست میں اپ ڈاؤن آتے رہتے ہیں انہیں خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے،وہ نہیں سمجھتے کہ بانی پی ٹی آئی وزیراعظم کی بات چیت کی پیشکش کو سنجیدہ لیں گے، لیکن حکومت بات چیت کیلئے تیار ہے، اگر سیاسی طاقتیں مل کر ملک کے لیے بہتری کا راستہ نکالنا چاہتی ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو کیا اعتراض ہوگا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن عزم استحکام فوج نہیں، حکومت کی ضرورت ہے، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ضروری تھاکہ ہم از سر نو صف آرائی کرتے، نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے آپریشن عزم استحکام پر کوئی اعتراض نہیں کیا، خیبر پختونخوا کے عوام کی اکثریت آپریشن کی حمایت کرے گی، پچھلی حکومت میں 4 سے 5 ہزار افراد کو افغانستان سے لا کر بسایا گیا، جس سے افغانستان میں موجود عناصر کو محفوظ ٹھکانے ملے وہ آکر ان کے گھروں میں رہتے اور کارروائیاں کرتے رہے، انہیں لڑنے، لوگوں کو مارنے اور دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں آتا، ماضی میں فاٹا کےلیے جو ایجنڈہ طے ہوا لیکن اس کا فالو اپ نہیں ہوا۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،چیف جسٹس

    انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین صرف مخصوص نشستوں پر نہیں براہ راست منتخب ہو کر بھی آ سکتی ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ،قرآن کریم کا پہلا لفظ اقرا ہے جو مرد اور عورت کی تقسیم نہیں کرتا ،قومی اسمبلی میں براہ راست کے علاوہ خواتین کیلئے 18 فیصد مخصوص نشستیں ہیں،بدقسمتی سے غیرت کے نام پرقتل ہوتے رہے ہیں ، یہ درحقیقت غیرت کے نام پرنہیں تکبرسے قتل ہوتے ہیں،اسلام میں خواتین کو اتنا تحفظ حاصل ہے جتنا مغرب میں نہیں،اسلام نے خواتین کو بہت حقوق دیے ہیں، ہمارے ہاں خواتین کو مسماۃ بلایا جاتا ہے، اسلام میں کسی کے نام کو بگاڑنے سے منع کرنے کے احکامات ہیں ہم اپنا مثبت کلچر بھول گئے ہیں، ہمارے ملک میں خواتین کو وراثت کا حق نہ ملنا ایک اہم مسئلہ ہے.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اپنے ساتھ ہر سیاسی تقریب میں اپنی بہن کو ساتھ لے کر جاتے تھے، آئین کے آرٹیکل 25 کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین کے لیے اقدام اٹھانے چاہئیں، میں آئین پاکستان سے کچھ مثبت چیزیں بتانا چاہتا ہوں، ہم دیگر ممالک کی طرف دیکھتے ہیں مگر اپنی تاریخ بھول گئے ہیں، آئین ملازمت کے مقامات پر خواتین کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، خواتین تعلیم کےشعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں،خواتین کو ملکی ترقی کے لیے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، مرد حضرات بھی شکایات کر رہے ہیں کہ خواتین کے لیےکوٹہ سسٹم ہوتا ہے، ایوان میں مجموعی طور پر خواتین کی نمائندگی کی شرح 22فیصد ہے، زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی شمولیت کے لیے اقدامات کیے جائیں، اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر آنے والی کئی خواتین کی کارکردگی مردوں سے بہتر ہوتی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کامزید کہنا تھا کہ کسی خاتون پر جھوٹی تہمت لگانے پر اسلام اور ہمارے قانون میں قذف کی حد مقرر ہے، اسلام میں خواتین کی کردار کشی قابل سزا جرم ہے، اسلام میں قذف کی سزا 80 کوڑے مارنا ہے، آج تک نہیں سنا کہ کسی کو قذف پر کوڑے مارے گئے ہوں، اسلام میں زنا ثابت کرنے کے لیے 4 گواہان کی شرط لازم ہے، چارگواہان کی شرط پوری کیے بغیر عورت کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے،غیرت کے نام پرقتل کی اصطلاح غلط استعمال کی جاتی ہے، اصل معنی تکبر کی بنیاد پر قتل ہے، اسلام میں تکبر کی سخت ممانعت ہے، آئین میں لکھا ہے خواتین کی نمائندگی ہر شعبے میں ہوگی، آرٹیکل 25 بھی مساوی سلوک کی بات کرتا ہے، قانون شہادت کے آرٹیکل 122 کے تحت ثبوت کا سارا بوجھ پراسکیوشن پر ہوتا ہے، مجھے کچھ غلط فہمیاں دور کرنی ہیں۔

    عدلیہ میں آنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی،جسٹس منصور علی شاہ

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • پی ٹی آئی مشکل میں،صاحبزادہ حامد رضا کا علیحدگی کا عندیہ

    پی ٹی آئی مشکل میں،صاحبزادہ حامد رضا کا علیحدگی کا عندیہ

    تحریک انصاف مشکل میں پھنس گئی، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا،

    تحریک انصاف نے عام انتخابات کے بعد سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے تھے، پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات کی وجہ سے بلے کا نشان واپس لیے جانے کے بعد پی ٹی آئی امیدواروں نے آزاد الیکشن لڑا تھا، پی ٹی آئی نظریاتی کا نشان لینے کی کوشش کی گئی تھی تا ہم نظریاتی کے چیئرمین اختر ڈار نے پریس کانفرنس کر کے اتحاد سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا، آزاد امیدوار الیکشن جیتے تو پی ٹی آئی نے باہمی مشاورت کے بعد سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کیا، عمران خان بھی سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کے خواہاں تھے، تاہم اب حالیہ سیاسی منظر نامے میں پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل میں جلد طلاق ہونے والی ہے کیونکہ سنی اتحاد کونسل کےسربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا ہے،

    موجودہ حکومت کے خلاف تحریک انصاف تحریک چلانا چاہ رہی ہے، وہیں جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں، مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی رہنماؤں میں متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملکر تحریک چلائیں اور حکومت پر دباؤ بنائیں تا ہم جے یو آئی کو ابھی بھی پی ٹی آئی پر تحفظات ہیں، جن کو ختم کرنے کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، ایسے میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میں اور میری مولانا فضل الرحمان کیساتھ سیاسی اتحاد کی مخالفت کرتے ہیں”۔

    صاحبزادہ حامد رضا نے مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے بعد ساتھی کو چھوڑ جاتے ہیں یہ فن صرف انہی کو ہی آتا ہے،مولانا کہتے تھے کہ عورت کی حکمرانی حرام ہے اور محترمہ کی ہی حکومت میں ہی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنے نوازشریف کے ساتھ تھے، پھر دوسری سائیڈ پر ہوگئے،مولانا صاحب اب کتنی خوبصورتی کے ساتھ حکومت میں حصہ دار ہیں، شاید مولانا گورنربننا چاہ رہے ہیں

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کا بیان ایسے وقت میں آیا جب پی ٹی آئی اور جے یو آئی رہنماؤں کی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں،صاحبزادہ حامد رضا کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان کا اتحاد بن جاتا ہے تو وہ پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں.

    صاحبزادہ حامد رضا نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ چاہتے ہیں کہ ہم بندوقیں ہاتھ میں پکڑ کر نکلیں تو یہ ممکن نہیں، تشدد کی طرف جانا ہماری پالیسی ہے ہی نہیں،میں نے تجویز دی کہ حکومت کو وقت دیں، اگر اس وقت تک بانی پی ٹی آئی کو رہا نہیں کرتے تو ہمیں مستعفی ہوجانا چاہیے اصولی طورپر مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہئیں، اگر ہمیں مخصوص نشستیں نہیں دیتے توپھر ہماری طرف سے بی جے پی کو دے دیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمر ایوب نے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے،پی ٹی آئی میں متحرک ترین رہنما شیر افضل مروت بھی ناراض ہیں اور احتجاجی سیاست سے دور ہیں، پی ٹی آئی میں دھڑے بن چکے ہیں، فواد چودھری بھی دوبارہ واپسی کے لئے متحرک ہو چکے ہیں اور پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن پر مسلسل الزامات عائد کر رہے ہیں، حامد خان کہہ چکے ہیں کہ فواد چودھری کوو اپس نہیں لیا جائے گا،پی ٹی آئی بلوچستان کے رہنما بھی موجودہ سیاسی قیادت سے نالاں ہیں، شیر افضل مروت نے شبلی فراز کے استعفیٰ مطالبہ کیا ہے تو اراکین اسمبلی بھی اختلافات کا شکار ہیں، ایسے میں اب آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی مزید زوال پذیر ہو گی.

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • قازقستان،شنگھائی تعان تنظیم اجلاس،شہباز شریف ہوں گے شریک،مودی سے ملاقات؟

    قازقستان،شنگھائی تعان تنظیم اجلاس،شہباز شریف ہوں گے شریک،مودی سے ملاقات؟

    وزیراعظم شہباز شریف2سے6جولائی آذربائیجان،قازقستان کا دورہ کریں گے۔آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس سے خطاب کریں گے،

    وزیراعظم شہباز شریف اس دورے کے دوران روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر سے ملاقات کریں گے،وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت کابینہ کا وفد بھی شامل ہو گا، قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں 2 سے 3 جولائی تک کانفرنس ہو گی، اس دوران وزیراعظم کی جہاں‌اہم ملاقاتیں ہوں گی وہیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی کی اہم ملاقاتیں ہوں گی، آستانہ کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم مودی نے بھی شریک ہونا تھا تا ہم مودی کانفرنس میں جا نہیں رہے،مودی کی نمائندگی بھارتی وزیر خارجہ کریں گے، 2 سے 3 جولائی تک ہونے والی آستانہ کانفرنس کے موقع پر الگ سے بہت سی سفارتی سرگرمیاں ہوں گی۔

    2005 میں پاکستان اور بھارت آستانہ میں سربراہ کانفرنس کے دوران تنظیم کے آبزرور بنے تھے، 2017 میں آستانہ میں دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم کے باقائدہ رکن بنے تھے۔

    پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں آئی تھیں کی پاکستانی اور بھارتی وزیراعظم کی کانفرنس کے موقع پر ملاقات ہو گی تا ہم بھارتی وزیراعظم کانفرنس میں شریک نہیں ہو رہے، بھارتی وزیر خارجہ اور پاکستانی وزیر خارجہ کی ملاقات متوقع ہو سکتی ہے.

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت

    امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت

    مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے اراکین نے بابنگ دہل یہ اقرار کر لیا ہے کہ ان کی تمام سیاسی جدوجہد کا محور صرف اور صرف صہیونی پالیسیوں اور بھارتی لابیوں کی حمایت اور اس کے اثر و رسوخ کے ذریعے اقتدار کا حصول ہے

    قومی اسمبلی میں جمعۃ المبارک کو جو قرارداد پیش کی گئی اس کے اہم نکاتوں میں سے سب سے اہم نکات امریکی کانگرس سے یہ مطالبہ بھی تھا کہ وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے بہیمانہ مظالم، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی تشدد کے خلاف بھی اپنا موقف اختیار کرے اور اس کی مذمت کرے

    واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی کانگرس کے بعض اراکین کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں پاکستان میں منعقدہ انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور یہ قرارداد امریکی کانگرس سے منظور کرانے میں پاکستان دشمن قوتیں بالخصوص صیہونی اور بھارتی لابی اور مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم اراکین تھے جن کے ان دونوں لابیوں سے قریبی تعلقات ہیں اور اس سلسلے میں انہیں بانی مخصوص سیاسی جماعت کی مکمل آشیرباد حاصل ہے

    افسوس ناک بات یہ ہے کہ مخصوص سیاسی جماعت کے حامیوں نے آج جس قرارداد کو پھاڑ کر ریزہ ریزہ کیا وہ قرارداد دراصل غزہ، مقبوضہ کشمیر اور بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت میں پیش کی گئی تھی

    یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مخصوص سیاسی جماعت کا یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ وہ صیہونی طاقتوں اور بھارتی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اس قرارداد کو پھاڑ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔؟

    یہاں یہ سوال بھی ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ کیا وہ اسرائیل اور بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔۔؟

    افسوس ان نام نہاد مذہبی جماعتوں اور اسلام کا نعرہ بلند کرنے والی شخصیات پر بھی ہے جو آج مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر مظلوم مسلمانوں کے خلاف صف آرا نظر آئیں-

    یہ ایک تاریخی سانحہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے – کیا اقتدار کی ہوس نے مخصوص سیاسی جماعت کو اندھا گونگا اور بہرا کر دیا ہے ۔۔۔۔؟

    کیا ایبسولوٹلی ناٹ(Absolutely Not) کا نعرہ اب اقتدار کے حصول کے لیے ایبسولیوٹلی یس(Absolutely Yes) میں تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔؟۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    سابق وزیراعظم عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت کا فیصلہ نیب نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا، نیب نے عمران خان کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر دی

    چیئرمین نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، کیس مقرر ہونے کے بعد فیصلہ ہونے تک اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اختیارات استعمال کیے، اسلام آباد ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کی طرح گواہان کے بیانات نہیں لے سکتی، عدالتِ عالیہ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا،

    نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں القادر ٹرسٹ کے لیے پیسے منتقلی کے حوالے سے تفصیلات تحریر کی گئی ہیں،درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ضمانت منظوری کے طریقہ کار پر 9 سوالات اٹھائے گئے ہیں ،کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف ریفرنس کرپشن اور کرپٹ پریکٹس پر بنایا گیا تھا،عمران خان کے خلاف ریفرنس آئین اور نیب آرڈیننس کو مدِ نظر رکھ کر بنایا گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے گواہان کا بیان ناقابلِ اعتماد قرار دیا جو دراصل اختیار ٹرائل کورٹ کا ہے،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنایاتھا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی تھی،،عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل