Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آپریشن غضب للحق کی عارضی معطلی کی خلاف ورزی کا دعویٰ مضحکہ خیز قرار

    آپریشن غضب للحق کی عارضی معطلی کی خلاف ورزی کا دعویٰ مضحکہ خیز قرار

    پاکستان کی وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کے ترجمان کا آپریشن غضب للحق کی عارضی معطلی کی خلاف ورزی کا دعویٰ مضحکہ خیز قرار دیدیا۔

    وزارت اطلاعات نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد کارروائیوں اور سرحد پار سےحملوں کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گاوزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی، حقیقت یہ ہے کہ افغان رجیم کے دعوے بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں،وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ افغان طالبان کی جانب سے پروپیگنڈے کا مقصد دہشت گردی کی کارروائیوں کا جواز پیدا کرنا ہے، پروپیگنڈا شاید طالبان رجیم کے اندر موجود مخالفین کی طرف سے بھی شروع کیا جاسکتا ہے،وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان واضح کرچکا ہے کہ کسی بھی کارروائی پر عارضی وقفہ ختم ہوجائے گا۔

  • ایرانی میزائل حملہ،حیفہ آئل ریفائنری کمپلیکس نشانہ، ہنگامی صورتحال نافذ

    ایرانی میزائل حملہ،حیفہ آئل ریفائنری کمپلیکس نشانہ، ہنگامی صورتحال نافذ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران جمعرات کے روز حیفہ میں واقع آئل ریفائنری کمپلیکس پر ایرانی میزائل حملہ کیا گیا، جس کی تصدیق تین اسرائیلی ذرائع نے بین الاقوامی میڈیا کو کی ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق میزائل حملہ مرکزی ریفائنری کمپلیکس کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جو اسرائیل کی سب سے بڑی توانائی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور حیفہ بے کے علاقے میں ایندھن اور کیمیکل پیداوار کا بڑا مرکز ہے۔حملے کے فوری بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور نقصان کا جائزہ لینے کا عمل شروع کردیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ملی، تاہم صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔اسرائیل کی فائر اینڈ ریسکیو اتھارٹی کے مطابق فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ دیگر ٹیمیں ممکنہ خطرناک کیمیکل مواد کے اخراج کے خدشے کے پیش نظر علاقے کی مکمل تلاشی لے رہی ہیں۔ حکام نے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے نہ صرف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست جھڑپوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    اسرائیل کے پاس صرف دو ریفائنریاں ہیں۔حیفا ریفائنری (بازان) اسرائیل کی سب سے بڑی اور انتہائی اہم ریفائنری ہے جو ملک کے تقریباً 50–60 فیصد ایندھن کی فراہمی کرتی ہے (60% ڈیزل اور 50% پٹرول)۔ یہ روزانہ تقریباً 197,000 بیرل تیل پروسیس کرتی ہے، یعنی اسرائیل کی نقل و حمل، ہوا بازی اور فوجی ایندھن کا بڑا حصہ اسی پر منحصر ہے۔ ایرانی میزائلوں نے ابھی اس کو نشانہ بنایا ہے۔

  • ایندھن بچاؤ پالیسی پر اہم اجلاس، حکومت کا کفایت شعاری پر زور

    ایندھن بچاؤ پالیسی پر اہم اجلاس، حکومت کا کفایت شعاری پر زور

    
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی ذخائر، کھپت اور پیٹرولیم کارگوز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور آئندہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزید انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی بروقت ہدایات کے باعث ایندھن کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملی ہے۔
    ‎شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں غیر مستحکم صورتحال کے باعث ایندھن کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مزید بچت اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
    ‎اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ ان پالیسیوں کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے اشرافیہ پر زور دیا کہ وہ مثال قائم کرتے ہوئے بچت کو فروغ دیں۔
    ‎حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں احتیاط برتیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کار پولنگ کو فروغ دیں تاکہ ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے۔
    ‎اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت اور وفاقی وزرا نے شرکت کی اور بدلتی صورتحال کے مطابق حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

  • مذہبی جذبات کو  تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔فیلڈ مارشل

    مذہبی جذبات کو تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔فیلڈ مارشل

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہےکہ پاکستان میں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی میں اہل تشیع علما سے ملاقات کی جس میں انہوں نے قومی سلامتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی پرتبادلہ خیال کیا،اس موقع پر فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کا کہنا تھا کہ اتحاد، رواداری اورقومی یکجہتی کے فروغ میں علما کا کردار کلیدی ہے، غلط معلومات اورفرقہ وارانہ بیانیے کی روک تھام کے لیے علما اپنا کردار اداکریں،پاکستان میں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی، مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، افغان طالبان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائےگا، دہشتگردوں اور ان کے ٹھکانے جہاں کہیں بھی ہوئے نشانہ بنایا جائےگا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علما کی جانب سے تشدد کی بھرپورمذمت کی گئی اورامن و استحکام کے لیے سکیورٹی اداروں کی حمایت کا اعلان بھی کیا گیا، آپریشن غضب للحق سے متعلق فیلڈمارشل نے دہشتگردوں کے مکمل خاتمےکا عزم بھی کیا۔

  • افغان طالبان کو  فیصلہ کرنا  ہےکہ ان کے لیے ٹی ٹی پی اہم ہے یا پاکستان،ترجمان پاک فوج

    افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہےکہ ان کے لیے ٹی ٹی پی اہم ہے یا پاکستان،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہےکہ پاکستان افغان طالبان سے بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن وہ پہلے دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کریں، افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہےکہ ان کے لیے ٹی ٹی پی اہم ہے یا پاکستان، ان کے لیے دہشت گردی اہم ہے یا امن۔

    جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میر سے گفتگو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے دہشت گردوں کو اپنے پاس چھپا کر رکھا ہوا ہے، حتیٰ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں، پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن پہلے دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرو اور اپنے ملک میں دہشت گردی کے مراکز کو ختم کرو ۔

    ‘افغان طالبان نے صومالیہ کی الشباب کو دعوت دی ہےکہ افغانستان آجائیں’
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دنیا کو پتہ ہونا چاہیے افغان طالبان نے صومالیہ کی الشباب کو دعوت دی ہےکہ افغانستان آجائیں آپ کو جگہ دیتے ہیں، اسامہ کے بیٹے کے ساتھ بھی ان کا رابطہ ہے اور حمزہ بن لادن کو کہا ہےکہ افغانستان آجائیں آپ کو جگہ دیتے ہیں۔ افغانستان پوری دنیا کے دہشت گردوں کا مرکز بنا ہوا ہے، پاکستان نے ان کا راستہ روکا ہوا ہے، یہ صرف پاکستان کے عوام کی جنگ نہیں یہ خطے اور پوری دنیا کی جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں۔

    شروع انہوں نے کیا ہے پاکستان نے جواب دیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی نےکابل میں افغان رجیم کے اسلحےکے ذحیرے اور ڈرون اسٹوریج کو نشانہ بنایا جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہو رہا تھا ، یہ کارروائی بھی افغان طالبان کے ان 53 حملوں کے جواب میں کی گئی جو انہوں نے پاکستان میں ہماری چیک پوسٹوں پر کیے۔ شروع انہوں نے کیا ہے، پاکستان نے جواب دیا ہے ، ہم دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرتے ہيں تو یہ اپنی ملیشیا لےکر وہاں پہنچ جاتے ہیں ، ہم نے ان کی 81 لوکیشنز پر اسٹرائیک کی ہیں اور یہ سارے حملے دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والے انفرا اسٹرکچر پر کیے گئے ہیں ، یہ وہ تمام انفرا اسٹرکچر ہيں جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو سپورٹ مل رہی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کابل میں ہدف افغان طالبان کے گولا بارود اور ہتھیاروں کے علاوہ ڈرون طیاروں کا ڈپو تھا، یہ گولا بارود پھٹنے سے جو دھماکے ہوئے انہیں پورے شہر نے دیکھا، حملے میں سویلینز کی ہلاکتوں کا پروپیگنڈہ جھوٹ ہے، طالبان کے اکثر جنگجو وردی نہیں سویلین لباس پہنتے ہیں اور طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں ۔

    ہمیں افغان بہن بھائیوں سے مسئلہ نہیں وہ تو خود مظلوم اور اس رجیم کے ظلم کا شکار ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمیں افغان بہن بھائیوں سے مسئلہ نہیں وہ تو خود مظلوم ہیں اور اس رجیم کے ظلم کا شکار ہیں، ہم نے افغانوں کو نہیں دہشت گردوں کو حملے کا نشانہ بنایا، حملوں کے فوری بعد وزارت اطلاعات ان حملوں سے متعلق اپ ڈیٹ دیتی ہے، ہم واضح طور پر بتاتے ہیں کہ آج یہاں ان اہداف کو نشانہ بنایا گیا، کابل میں ملٹری کیمپ اور ایمونیشن اسٹوریج سائٹ تھی اس کو ٹارگٹ کیا، جہاں ایمونیشن ہو وہاں حملہ ہو تو اس کے بعد وہاں بارود پھٹنا شروع ہوجاتا ہے اور یہ دنیا نے دیکھا، ہم افغانستان میں اہداف کو نشانے بنانے میں بہت زیادہ محتاط ہیں، افغان طالبان رجیم جھوٹے دعوے کرتے ہیں اوربعد میں پوسٹس ڈیلیٹ کردیتے ہیں، کوئی ان سے پوچھے کہ ایمونیشن اسٹوریج میں ڈرگ اسپتال کیوں بنایا گیا تھا، یہاں پر کسی زمانے میں انھوں نے نشئی افراد کو یرغمال بنایا ہوا تھا، جتنے خودکش حملہ آور یہاں پاکستان میں پھٹتے ہیں نشئی ہوتے ہیں یا نشے کے زیر اثر ہوتے ہیں افغان طالبان رجیم کی پرانی عادت ہے یہ نشئیوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    ‘ ہم نے افغانستان پرجنگ مسلط نہیں کی، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے’
    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان پرجنگ مسلط نہیں کی، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہید ہوچکے ہیں، ہم دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، ترلائی مسجد دھماکے میں معصوم لوگ شہید ہوئے، دہشت گرد افغانستان سےآیا وہاں پر تربیت حاصل کی تھی، وانا کیڈٹ کالج میں حملہ کیا گیا، ہلاک پانچوں دہشت گرد افغان شہری تھے، پولیس،شہریوں اور مساجد پر حملے ہو رہے ہیں، دہشت گرد افغانستان سے آرہے ہیں، ان دہشت گرد تنظیموں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے، خارجی نورولی،خارجی بشیر زیب، خارجی گل بہادر افغانستان میں ہیں۔

    بھارت افغان طالبان کو ڈرون طیارے دے رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
    انہوں نے کہا کہ افغان طالبان دہشت گرد تنظیم ہے جو اس ملک پر قابض ہوئی ہے یہی یواین کہہ رہا ہے، افغانستان میں کوئی ڈرون بنانے کی فیکٹری نہیں تو کونسا ملک ان کو دے رہا ہے؟ بھارت افغان طالبان کو ڈرون طیارے استعمال کرنے کے لیے دے رہا ہے، مشرق وسطیٰ میں بہترین دفاعی نظام ہے اس کے باوجود کچھ جگہ اہداف نشانہ بنے، افغانستان سے آئے تمام ڈرون طیارے ہم نے مار گرائے۔

    ‘پہلے ہم جب بات کرتے تھے تو یہ کہتے تھے صبر کریں، اب یہ کریں صبر ‘
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم نے دہشت گردوں کو سرکاری عمارتوں میں چھپایا ہوا ہے، پہلے ہم جب بات کرتے تھے تو یہ کہتے تھے صبر کریں، اب یہ کریں صبر ، تم یہاں پاکستان کے بچوں کو شہید کرو اور ہم تمہارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں ؟ پاکستان نے کب بات چیت سے انکار کیا، ہم نے تو کئی بار ان سے ہرفورم پر بات کی، ہم دوست ممالک سے کہتے ہیں آپ گارنٹی دیں، دنیا میں کیا کوئی ان کی گارنٹی دے سکتا ہے؟ اس دہشت گردی میں منشیات بھی کردار ادا کر رہی ہے، اسلام میں کہاں لکھا ہےکہ دہشت گردی کریں یا خودکش حملے کریں، اسلام میں کہاں لکھا ہےکہ خواتین سے جانوروں کی طرح سلوک کریں، کسی کو کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی کہ پاکستان میں دہشت گردی کرے، پاک افغان سرحد پر ہونے والی اسمگلنگ سے بھی ملک کو نقصان ہوتا تھا،کراس بارڈر دہشت گردی میں کمی آئی ہے، اسمگلنگ کم ہوئی ہے ۔

  • خواتین سے کہوں گی کسی غلط سرگرمی کا حصہ نہ بنیں،گرفتارخاتون خودکش حملہ آور کی اپیل

    خواتین سے کہوں گی کسی غلط سرگرمی کا حصہ نہ بنیں،گرفتارخاتون خودکش حملہ آور کی اپیل

    سکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے خودکش حملے کے لیے تیار کی گئی نوجوان لڑکی کو گرفتار کرلیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ وزیر داخلہ ضیا لانگو و دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس دوران بی ایل اے کی جانب سے خودکش حملوں کے لیے تیار کی گئی لڑکی لائبہ کو بھی موجود تھیں،پریس کانفرنس میں لائبہ نے بتایا کہ اسے خودکش مشن کے لیے تیار کیا جارہا تھا کہ اسے خضدار سے گرفتار کرلیا گیا، تمام خواتین سے کہوں گی کسی غلط سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔ ضلع خضدار کے علاقے تحصیل زہری کی رہائشی ہوں، کمانڈر ابراہیم نے میرا رابطہ دل جان سے کرایا ،کمانڈر ابراہیم ذہن سازی کرکے مجھے خودکش حملہ آور بنانا چاہتا تھا،کمانڈر دل جان نے کہا کہ بی وائے سی کی ڈاکٹر صبیحہ کے پاس لے کر جائے گا خودکش حملے کی تیاری کیلئے، تنظیمی گفتگو اور نظریات سے متاثر ہو کر وہ اس راستے پر چلنے کے لیے تیار ہو گئی۔ بعد ازاں کمانڈر ابراہیم نے اس کا رابطہ دل جان سے کروایا، جہاں اسے ہدف دیا گیا کہ مزید لڑکیوں کو بھی اس سرگرمی کے لیے تیار کرے۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشتگرد بلوچ خواتین کا استحصال کر رہے ہیں، لائبہ کہ کہانی سب کے سامنے ہے، بی ایل اے نے خواتین کا احترام ختم کیا، بلوچوں کو لاحاصل مقاصد کی طرف دھکیل دیا گیا ہے،بلوچستان کے عوام حکومت سے خود حساس معلومات شیئر کر رہے ہیں، سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی نے بڑی تباہی سے بچالیا اور بلوچستان کو محفوظ بنایا۔

  • کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ افغان میڈیا نے کیا بے نقاب

    کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ افغان میڈیا نے کیا بے نقاب

    افغان میڈیا نے کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

    افغان میڈیا کے مطابق حملے کے دوران ہلاکتوں ، خون کے آثار اور بڑی تباہی کے نشانات نہیں ملے، افغان طالبان حکام کے بحالی مرکز پر حملے کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ کابل میں بحالی مرکز کے قریب لگی آگ معمولی نوعیت کی تھی، بحالی مرکز کے قریب آگ قریبی طالبان فوجی کیمپ پر حملے کے باعث لگی۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان نے بھی 400افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔افغان میڈیا کی رپورٹر نے بھی اسپتال میں موجود عینی شاہدین کے ذریعے طالبان رجیم پروپیگنڈا آشکار کیا۔

    افغان میڈیا کے مطابق اس وقت کابل سینٹرل اسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے کیے، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر تباہ کیا۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ نے اس سے پہلے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز پر حملے میں چار سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے اسپتال پر حملے کا جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی اور افغان طالبان رجیم کو جھوٹی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا پڑیں۔

    کابل اور ننگرہار میں حالیہ کارروائیوں کے بعد پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی ہسپتال یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔پاکستانی مؤقف کے مطابق 16 مارچ 2026 کی شب کیے گئے حملے مکمل طور پر مخصوص عسکری اور دہشت گردی سے متعلق اہداف کے خلاف تھے، جن میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہیں، تکنیکی انفراسٹرکچر اور وہ مراکز شامل تھے جو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔‎حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کو پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا گیا اور تمام اہداف کی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے ویڈیو شواہد بھی فراہم کیے گئے، جن میں ثانوی دھماکے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔‎پاکستانی حکام نے طالبان کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ کسی منشیات بحالی مرکز یا ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا، اور اسے پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔
    ‎مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے اور یہ کارروائیاں انہی خطرات کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں۔‎پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ضروری اقدام جاری رکھے گی

  • ‏ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق

    ‏ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق

    ایران نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ کے شہید ہونے کی بھی تصدیق کردی ہے۔اس سے پہلے علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہاتھ سے لکھا پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔قبل ازیں اسرائیل نے ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا تھا۔

    باغی ٹی وی کو تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی رہنما علی ریجانی کی ایک مبینہ اسرائیلی حملے میں اپنے بیٹے سمیت موت ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی افواج کی جانب سے کیا گیا،مقامی ذرائع اور بعض غیر سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ نے ایران میں شدید صدمے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس خبر کے حوالے سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق تہران میں سکیورٹی اداروں کے اندرونی حالات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نظام گزشتہ کئی برسوں سے کمزور ہو چکا ہے اور اس میں سنگین خامیاں موجود ہیں، جس کے باعث اس نوعیت کے حملے ممکن ہو رہے ہیں۔دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کی حکومت یا معتبر عالمی ذرائع اس واقعے کی تصدیق نہیں کرتے، اس خبر کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

    صدر ٹرمپ علی لاریجانی کے قتل پر کہا کہ ان کے اعلیٰ ترین شخص کو دراصل کل قتل کر دیا گیا تھا۔وہ مظاہرین کے قتل کا ذمہ دار تھا۔ وہ شخص جو پچھلے دو ہفتوں کے دوران 32,000 افراد کے قتل کا ذمہ دار تھا – وہ مظاہرین کے قتل کا انچارج تھا۔میرا مطلب ہے کہ انہوں نے 32,000 سے زیادہ لوگ مارے ہیں۔

    علی ہاشم لاریجانی آملی 1958ء میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور اپنا بچپن وہیں گزارا۔ اس کے بعد، ان کے والد شیخ مرزا ہاشم آملی، ستر کی دہائی میں بعث پارٹی کی جانب سے کی جانے والی جبری ملک بدری کے نتیجے میں ایران ہجرت کر گئے۔ان کے والد، شیخ المیرزا ہاشم آملی، حوزہ علمیہ قم کے بڑے مراجع اور فقہاء میں شمار ہوتے تھے۔ علی لاریجانی کے بھائی بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں، جن میں صادق لاریجانی (سابق چیف جسٹس) اور جواد لاریجانی (انسانی حقوق کے مشیر) شامل ہیں۔

    قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی میں پبلک پالیسی کے سینئر پروفیسر سلطان برکات کے مطابق ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت سے جنگ کے سفارتی حل تک پہنچنا مزید مشکل اور طویل ہو جائےگا۔عرب میڈیا کے مطابق پروفیسر سلطان برکات کا کہنا ہے کہ لاریجانی کی شہادت ایرانی نظام میں سخت گیر عناصر کو مضبوط کرے گی اور ساتھ ہی سفارتی حل فی الحال کچھ مزید دور ہوجائےگا۔انہوں نےکہا کہ لاریجانی دونوں سیاسی دھڑوں سے بات کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایران میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔برکات کے مطابق وہ نہایت تعلیم یافتہ ہیں اور مغرب کے علاوہ ایرانی قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں سے بھی بات کرنا جانتے ہیں، یہ ان لوگوں کے لیے بڑا نقصان ہے جو فوجی تصادم کے بجائے متبادل حل چاہتے ہیں

    علی لاریجانی ایران کی دوسری اہم ترین شخصیت ہیں ۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے پیچھے لاریجانی ہیں ۔لاریجانی نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفہ میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں بھی ڈگریاں رکھتے ہیں ۔ 6 کتابوں کے مصنف ہیں ۔ آج بھی ایران کی داخلی اور خارجی سیاست میں ان کی رائے کو حرفِ آخر کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ریاست کے گہرے رازوں کے امین اور مشکل وقت میں تزویراتی فیصلے کرنے والے دماغ سمجھے جاتے ہیں۔امریکہ اور مغربی طاقتیں علی لاریجانی کو ایک "سخت گیر لیکن حقیقت پسند” حریف سمجھتی تھیں۔ امریکی تھنک ٹینکس کا ماننا تھا کہ لاریجانی نظریاتی طور پر انقلاب کے وفادار ہیں، لیکن وہ جذبات کے بجائے عقل اور مصلحت کے ساتھ بات چیت کرنا جانتے ہیں۔ امریکہ انہیں ایک ایسا "شطرنج کا کھلاڑی” سمجھتا تھا جو میز پر بیٹھ کر سخت ترین سودے بازی کر سکتا ہے۔ اگرچہ وہ امریکہ کے سخت ناقد رہے ہیں، لیکن انہوں نے ہمیشہ سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کی حمایت کی، جس کی وجہ سے مغرب انہیں ایک "قابلِ اعتبار مذاکرات کار” کے طور پر دیکھتا تھا۔

    دوسری جانب پاسدارن انقلاب نے پاسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی شہادت کی تصدیق کردی ہے،عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں پاسیج فورس کے تنصیبات پر حملہ کیا جس میں غلام رضا سلیمانی شہید ہو گئے.

  • پاکستان نے رابطہ کیا تو روس اسے سستا تیل فراہم کرے گا۔روسی سفیر

    پاکستان نے رابطہ کیا تو روس اسے سستا تیل فراہم کرے گا۔روسی سفیر

    پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے رابطہ کیا تو روس اسے سستا تیل فراہم کرے گا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے روسی سفیر البرٹ پی خوریف کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو تیل بیچنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاسکتا ہے، تیل کی خریداری کے لیے پاکستان کے روس سے رابطے کا ابھی تک میرے علم میں نہیں، پاکستان نے رابطہ کیا تو اسے سستا تیل دیں گے، توانائی کا شعبہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کا اہم ترین ستون ہے، ایران کے ساتھ کئی دہائیوں سے فوجی اور تکنیکی تعاون ہے، ایران کا ردعمل امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف تھا جوخلیجی آبناؤں میں موجود ہیں، ایران کی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مزید کچھ نہیں کہنا،صورتحال غیریقینی ہے،ٹرمپ کی فوجی مہم جوئی پر پوری دنیا حیران ہے، موجودہ کشیدگی کب اورکیسے ختم ہوگی، اس کی پیشگوئی ممکن نہیں، صورتحال پیچیدہ ہے،ہم ایران میں بچیوں کے اسکول پرحملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ایران میں اسکول پر حملے میں 170 بچوں کی ہلاکت قابل مذمت ہے، تمام فریقین سے مطالبہ ہے کہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں، مسائل کا حل اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت سیاسی وسفارتی طریقے سے نکالا جائے۔

    روسی سفیر البرٹ پی خوریف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اوراسرائیل نے ایران پرطاقت کا استعمال کرکے بحران کو مزید بڑھایا، امریکا اور اسرائیل ایران کی قیادت کو کمزورکرنے کی کوشش کررہے ہیں، اسلامی دنیا میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

  • پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے وزیرِ پیٹرولیم مزید متحرک ہوں،وزیراعظم

    پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے وزیرِ پیٹرولیم مزید متحرک ہوں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس کو کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے. انٹیلی جینس بیورو تمام اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی رپورٹ پیش کرے گی.ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا ضروریات کے مطابق مناسب ذخیرہ موجود ہے. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے وزیرِ پیٹرولیم مزید متحرک ہوں.حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں.

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے، اور پیٹرولیم مصنوعات کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے، تاکہ کسی قسم کی بے قاعدگی کی فوری نشاندہی ہوسکے ،تمام کابینہ ارکان نے رضاکارانہ طور تنخواہیں نہیں لیں. سرکاری محکموں کی تیل کی کٹوتی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ بچت کے اقدامات سے موجودہ صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے ملک میں ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے. ورک فرام ہوم کے حوالے سے سرکاری ای-افس کی سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی کنیکٹیویٹی کے انتظامات وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی جانب سے کیے جا چکے ہیں .
    اجلاس میں نائب وزیراعظم وز وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔