Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سائفر کیس،عید سے پہلے سزا معطلی کی استدعا،عدالت نے بھی فیصلہ سنا دیا

    سائفر کیس،عید سے پہلے سزا معطلی کی استدعا،عدالت نے بھی فیصلہ سنا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کالعدم قرار دے کر بری کرنے کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سلمان صفدر صاحب، ایک مختصر کا حصہ رہ گیا ہے جس پر آپ نے اپنے دلائل دینے ہیں، ہم نے گزشتہ روز چارجز سے متعلق آپ سے کچھ چیزوں پر معاونت طلب کی تھی،سلمان صفدر نے کہا کہ میری بحثیت وکیل زمہ داری ہوگی کہ ہر اینگل آپ کے سامنے رکھ سکوں، ویسے تو ایک وکیل جب ہاتھی نکال لیتا ہے تو ججز کہتے ہیں دم کی پرواہ نہ کرو، ہم وکلاء نے رمضان میں اتنی محنت سے دلائل دیے ہیں تو کسی ایک فریق کو عید سے پہلے عیدی مل جانی چاہیے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں، پراسیکیوشن کو بھی سننا ہے، عید ہونے یا نہ ہونے کا اس میں کوئی معاملہ نہیں ہے،بیرسٹر سلمان صفدر نے سائفر کیس میں سزا معطلی کی استدعا کی جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی سزا معطل کرکے کیا کرنا، ابھی مرکزی اپیلوں پر فیصلہ کریں گے،سلمان صفدر نے کہا کہ عمومی طور پر جب کوئی وکیل ہاتھی نکال دے تو دم نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن آپ پر یہ سیکشنز لگی ہوئیں ہیں آپ نے اس حوالے سے عدالت کی معاونت کرنی ہے ، سلمان صفدر نے کہا کہ رمضان میں جب آپ کام کرتے ہیں تو عید سے پہلے عیدی ملنے کا تقاضا ہوتا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ حامد علی شاہ صاحب دلائل کے لیے جتنا وقت چاہییں گے ہم انہیں دیں گے ،عید ہونے نا ہونے کا اس میں کوئی معاملہ نہیں ہم نے قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں،

    سلمان صفدر نے کہا کہ آج میں اپنے تمام دلائل قسط وار تقریبآ پندرہ منٹ میں مکمل کرونگا، ایک دستاویز کے حوالے بات ہورہی مگر وہ دستاویز فائل میں ہی موجود نہیں،ایک میرے پاس الزام آیا کہ سائفر کو ٹویسٹ کیا اور واپس بھی نہیں کیا، ایک اور الزام ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو پبلک کیا،الزام یہ بھی ہے کہ سائفر پبلک کرنے سے سیکورٹی سسٹم نقصان پہنچایا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ سیکشن فائیو ون اے یا بی میں کسی ایک میں سزا ہونی تھی ، سلمان صفدر نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کونسے شواہد کا سہارا لیکر سزا سنائی گئی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کو سائفر کاپی لاپرواہی اور جان بوجھ کر گم کرنے دونوں شقوں کے تحت سزا سنا دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں میں تو بیک وقت سزا ہو ہی نہیں سکتی، لاپرواہی یا جان بوجھ کر دونوں میں سے کسی ایک میں ہی ہو گی، اگر سائفر کاپی گم کرنے کا الزام ثابت بھی ہو جاتا ہے پھر بھی دو سال زیادہ سزا ہے، اس الزام پر تو زیادہ سے زیادہ دو سال سزا ہو سکتی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ سائفر ڈی کوڈ ہوا، کاپیاں آٹھ لوگوں کو گئی، مگر مقدمہ دو افراد کے خلاف بنایا گیا؟ کہا گیا کہ اس وقت کے وزیراعظم نے سائفر کاپی گما دی؟ ایک چیز بتا دیں، اعظم خان کے بیان کی کیا اہمیت ہے، جب سیکرٹری کے پاس جو چیز آجاتی ہے تو آگے جو موومنٹ ہوتی ہے وہ آفیشل ہوتی ہے ؟ سلمان صفدر نے کہا کہ جج صاحب نے کہا یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، اعظم خان نے بیان دیا کہ سائفر ٹیلی گرام کو ٹویسٹ کیا،میں پانچ صفحات دکھاؤں گا جہاں پراسکیوشن کے چار گواہ ہیں ، یہ گواہ کہتے ہیں کہ سائفر کی کاپی اعظم خان کے پاس آئی ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس سے آگے چلیں یہ تو اعظم خان خود مانتے ہیں کہ انہیں کاپی آئی اور وہ انہوں نے آگے وزیر اعظم کو دی،سائفر ڈی کوڈ ہوا، آٹھ کاپیاں تیار ہو کر مختلف لوگوں کو گئیں، وزیراعظم کا سیکرٹری کہتا ہے کہ میں نے وہ بانی پی ٹی آئی کو دے دی تھی،سیکرٹری کہتا ہے کہ بعد میں جب وہ کاپی دوبارہ مانگی تو گم ہو چکی تھی،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جب عمران خان کی سائفر کاپی واپس نہیں آئی تو سات ماہ کے بعد ہی نوٹس کیوں دے دیا گیا؟ عمومی طور پر تو سائفر ایک سال تک کے عرصہ میں واپس آتا ہے، مگر یہاں سائفر کاپی واپس کرنے کے لیے ایک سال کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی کریمنل کیس بنا دیا گیا،ہم ایک ایک لفظ سے کیس کو توڑیں گے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر کاپی عمران خان کو سپردگی کا واحد گواہ اعظم خان ہے؟،اعظم خان کا بیان نکال دیں تو تو سپردگی کا کوئی گواہ نہیں، کس قانون میں ہے کہ سائفر ایک سال کے اندر واپس کرنا ہوتا ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کا یہ کیس ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر یہ ایک سال ہے تو ایک سال خصوصی طور پر لکھا جانا چاہیے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کی ورکنگ سے متعلق بُک موجود ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ وہ بُک کونسی ہے؟سلمان صفدر نے کہا کہ وہ سیکرٹ ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں نا، آپ نام بتائیں،سلمان صفدر نےکہا کہ سیکیورٹی آف کلاسیفائیڈ میٹرزاِن گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ بُک ہے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ یہ ٹاپ سیکرٹ ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ کاپی جج کے پاس تھی؟ سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں، جج کے پاس بھی نہیں تھی اور ہمیں بھی دکھانے نہیں دی گئی، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس کے کچھ سیکشنز تو ہم نے ضمانت کے فیصلے میں بھی لکھے ہیں،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • سپریم کورٹ کے ججز کو بھی دھمکی آمیز خط ملنے کا انکشاف

    سپریم کورٹ کے ججز کو بھی دھمکی آمیز خط ملنے کا انکشاف

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ بھی سپریم کورٹ کے دیگر تین ججز کو خطوط موصول ہوئے ہیں،جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس امین الدین خان کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہوئے ہیں،سپریم کورٹ کے چار ججز کو دھمکی آمیز خطوط یکم اپریل کو موصول ہوئے،چاروں خطوط میں پاؤڈر اور خطرے کے نشان والی تصویر بھی بنی ہوئی ہے ،سپریم کورٹ کے چاروں ججز کو موصول خطوط کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیئے گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خط کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس کی سماعت کے دوران ججز کو موصول دھمکی آمیز خطوط کے معاملہ پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز شہزاد بخاری عدالت کے طلب کر نے پر عدالت میں پیش ہوئے، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سی ٹی ڈی ہمایوں حمزہ بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے، ڈی آئی جی نے عدالت میں کہا کہ ابھی تک کسی کے پاس آئی جی کا چارج نہیں ہے، اس لیے اسلام آباد پولیس کے تمام آپریشنز میں دیکھ رہا ہوں، کیمیائی معائنے کے لیے نمونے بھجوا دیے ہیں، تین سے چار دن میں رپورٹ آ جائے گی،

    عدالت نے ڈی آئی جی سے استفسار کیا کہ کہاں سے خطوط پوسٹ کیے گئے تھے، ڈی آئی جی نے عدالت میں کہا کہ اسٹیمپ نہیں پڑہی جارہی ہیں، آج لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی اسی نام سے خطوط ملے ہیں،دوران سماعت عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ انہیں ہر صورت ریشما کو ڈھونڈنا چاہیے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی اسٹیمپ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، کیا تمام خطوط ایک ہی ڈاک خانے سے آئے ہیں؟ڈی آئی جی پولیس نے عدالت میں کہا کہ ججز کو ملنے والے خطوط پر اسٹیمپ مدھم ہے تا ہم راولپنڈی کی اسٹیمپ پڑھی جاری ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ دونوں افسران نے خطوط کے لفافے دیکھے ہیں؟ایس ایس پی سی ٹی ڈی نے عدالت میں کہا کہ بظاہر راولپنڈی جنرل پوسٹ آفس لگ رہا ہے، جی پی او میں پوسٹ نہیں ہوا کسی لیٹر باکس میں ڈالا گیا ہے، ہم اس لیٹر باکس کی سی سی ٹی وی اور ایریا کی معلومات لے رہے ہیں، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ نے مقدمہ درج کیا، اب تک کی پیشرفت کیا ہے؟ ڈی آئی جی نے عدالت میں کہا کہ ہم نے نمونے لیب کو بھیجوا دیے ہیں اور ڈائریکٹر سے میری بات بھی ہو گئی ہے، دوران سماعت پولیس حکام نے عدالت میں انکشاف کیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کو بھی خطوط ملے ہیں،ڈی آئی جی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 4 ججز کو بھی اسی طرح کے خطوط ملے ہیں

    واضح رہے کہ منگل 2 اپریل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 ججز کو موصول ہونے والے مشکوک خطوط میں سے دو کے اندر مشکوک پاؤڈر تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا ہے،عدالتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کویہ خط ایک خاتون ریشم زوجہ وقار حسین نامی خاتون نے بھیجے تھے، دو ججوں کے اسٹاف نےخطوط کھولے تو ان میں پاؤڈر تھا،خط میں ڈرانے دھما کے کے لیے مشکوک نشان بھی موجود تھا۔عدالتی ذرائع نے بتایاکہ اسٹاف نے خط کھولا تو اس کے اندر سفوف تھا اور خط کھولنے کے بعد آنکھوں میں جلن شروع ہو گئی، متاثرہ اہلکار نے فوری طور پر سینیٹائزر استعمال کیا اور منہ ہاتھ دھویا، خط میں موجود متن پر لفظ anthrax لکھا تھا۔

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

  • ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کیلئے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا،عدالت

    ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کیلئے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،عمران خان کی سزا کیخلاف سائفر اپیلوں پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا، سلمان صفدر نے کہا کہ آخری جرح دونوں فریق کرتے ہیں کہ کیس کیا ہے، 342 کا بیان پڑھ کر سنایا گیا تو بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سے 2,2 سوال پوچھے گئے ،سوال پوچھنے کے فوری بعد سزا سنا دی گئی ،342 کا بیان میں ایک حصہ لکھا ہوا کہ جج سزا سنا کر فوری کورٹ سے روانہ ہوگئے ، بکیسے ہوسکتا ہے کہ 342 کے بیان میں یہ کس طرح لکھا ہوا ہے، 342 کا بیان ایک مکالمہ ہوتا ہے جو ججمنٹ سے پہلے ہوتا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ نے 342 کے بیان کو کنفرنٹ کردیا اور بیان سامنے بھی آگیا ہے ، اس ججمنٹ میں پراسکیوشن اور ڈیفنس کے دلائل موجود ہیں ، سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں ججمنٹ میں دلائل نہیں ہیں ،ججمنٹ میں ایک پیراگراف موجود ہے جس میں دلائل کا ذکر کیا گیا ہے کہ ڈیفنس کونسل دلائل سے ثابت نہیں کرسکے ، ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں پراسیکیوشن کے دلائل چار صفحات پر اور وکلا صفائی کا موقف پندرہ سولہ لائنوں میں لکھا، یہ وکلا صفائی بھی سرکار کی جانب سے مقرر کیے گئے تھے، شاہ محمود قریشی کے بطور ملزم بیان سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیا گیا، ہم سے ایسی کیا گستاخی ہوئی کہ ہمیں کورٹ سے باہر کر دیا کہ آپ اب عدالت میں نا آئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ٹرائل کے دوران فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، سلمان صفدر نے کہا کہ جب کیس دو مرتبہ ریمانڈ بیک ہو کر جائے تو جج کو احتیاط سے کیس سننا چاہئے، اتنا پیچیدہ کیس اور دو بار ٹرائل کالعدم بھی ہوچکا تھا پھر بھی ٹرائل کورٹ کو اتنی جلدی کیا تھی ؟ ٹرائل کورٹ کے جج کی فائنڈنگ کے مطابق انہوں نے عمران خان کے وکلا سے گلے شکوے کیے ، انہوں نے trick(تنگ) کا لفظ بہت بار استعمال کیا کہ ہم نے انہیں trick (تنگ) کیا ،ججمنٹ میں بھی یہی لکھا کہ وزیر اعظم نے سائفر ٹیلی گرام کو غلط طریقے سے استعمال کیا، بیرسٹر سلمان صفدرنے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو عدالت کے سامنے پڑھا

    جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ جج نے اپنے فیصلے میں یہ فائنڈنگ دی کہ پاکستان امریکہ تعلقات ختم ہو گئے،ٹرائل جج نے کِس بنیاد پر یہ لکھا کہ تعلقات ختم ہو گئے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ اسد مجید نے ڈونلڈ لو کے ساتھ لنچ کیا اور اس لنچ پر گفتگو کی، ٹرائل جج نے امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید کے بیان کی بنیاد پر لکھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسد مجید نے بھی یہ نہیں کہا، بیرسٹر سلمان صفدر نےکورٹ میں شاہ محمود قریشی کی پبلک گیدرنگ میں تقریر دوبارہ پڑھ کر سنائی،اور کہا کہ اس تقریر پر دس سال قید کی سزا سنا دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عمران خان کے خلاف الزامات سیکرٹ ڈاکومنٹ ڈسکلوز کرنے اور پھر اسے غائب کرنے کے ہیں، آپ نے بتایا تھا کہ دو چارجز لگا دیے گئے، چارج تو ایک لگنا چاہئے تھا، شاہ محمود قریشی پر ڈسکلوز کرنے کا نہیں، معاونت کا الزام ہے،سلمان صفدر نے کہا کہ جج صاحب فیصلے میں لکھتے ہیں کہ ریاست کے اعتماد کا قتل کیا گیا، ملزمان رعائت کے مستحق نہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ سائفر اگر سائفر کے طور پر نہ آتا اور عمومی طور پر بھیجا جاتا تو پھر کیا ہوتا؟اگر سائفر ڈپلومیٹک بیگ کے طور پر آتا تو کیا پھر وزیراعظم اُسے سامنے لا سکتا تھا؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن پھر مسئلہ وہی ہے کہ سائفر میں تھا کیا، وکیل عمران خان نے کہا کہ سائفر ایک سفید کوا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف آپ ایک ملک کو ڈی مارش کر رہے ہیں اور دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ اس سے تعلقات خراب نہ ہوں، اس ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کیلئے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا، ایک دوسرے ملک نے آپکو بہت خوفناک بات کہی ہے اور وہ سائفر میں آئی تو آپ کسی کو بتا نہیں سکتے؟

    سلمان صفدر نے کہا کہ ریاست کے دشمن کیلئے بنے قانون کو سیاسی دشمن کے خلاف استعمال کر لیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ قانون تو اب غیرضروری ہو چکا ہے لیکن 75 سالوں میں کسی اسمبلی نے اس قانون کو ختم کیا؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کبھی بھی عوامی جلسے میں نہیں پڑھا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر کی جب ڈی کوڈ ہونے کے بعد کاپیاں بن جاتی ہیں تو وہ سائفر ہی رہتا ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز نے مجھے سائفر کہنے سے روکا جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر کی جو کاپیاں بنتی ہیں وہ Transliteration کہلاتی ہیں،

    عدالت نےعمران خان اورقریشی کی اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی،سلمان صفدر نے کہا کہ صرف عمران خان نےنہیں بلکہ سب نے واپس دینا تھا لیکن نہیں دیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سلمان صاحب آپ کل تیاری کےساتھ اس پر دلائل دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ آپکےفائدے کی بات ہے،ہاتھی آپ نکال چکے دم بھی نکال دیں،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہوا تو سب سے آگے میں کھڑا ہوں گا ، چیف جسٹس

    عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہوا تو سب سے آگے میں کھڑا ہوں گا ، چیف جسٹس

    ججز کےخط پرسپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کیس کی براہ راست سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان بنچ کا حصہ ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت کا ابھی آغاز ہوا ہے سب چیزوں کو دیکھیں گے،میں کسی وکیل سے انفرادی طور پر ملتا ہی نہیں ہوں، پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار کے نمائندوں سے بات ہوئی ہے، جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ آپ اس کو بھی مان لیں جو آپکا مخالف ہے، عدلیہ کی آزادی پر کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا ، ہمیں اپنا کام کرنے دیں ، ممکن ہے کوئی اور بھی ہم سے بہتر کام کر سکتا ہو، میں کسی دباؤ میں نہیں آتا۔وکیل کہہ رہے ہیں کہ از خود نوٹس لیں کیایہ ان کااختیارہے؟عدالتوں کومچھلی منڈی نہ بنائیں۔نہ کیس مقرر کرنے والی کمیٹی کو عدالت کااختیار کرنا چاہیئے ،نہ عدالت کو کمیٹی کا اختیار استعمال کرنا چاہیئے۔میراتو اصول ہے۔ازخود نوٹس کیس کا قانون واضح ہے ۔جو وکیل کہے سوموٹو نوٹس لیں اسے وکالت چھوڑ دینی چاہیے،چیزیں پہلے ہی میڈیا میں چھپ جاتی ہیں،میں تو کبھی کسی کے پریشر میں نہیں آتا،مداخلت کبھی برداشت نہیں کرتےکسی کا کوئی اور ایجنڈا ہے تو یا چیف جسٹس بن جائے یا سپریم کورٹ بار کا صدر بن جائے،ذاتی حملے کئے گئے،چار سال فل کورٹ میٹنگ نہیں ہوئی کسی نے نہیں پوچھا،ججز کے چیمبر میں کیس فکس کرنےکازمانہ چلا گیا،ہم کوئی پریشر برداشت نہیں کریں گے، ایسا ماحول بنایا گیا کہ کون شریف آدمی یہ خدمت کرے گا، انکوائری کمیشن کے لئے نام چیف جسٹس نے تجویز کئے تھے،کمیشن کیلئے 2 نام تصدق جیلانی اور ناصر الملک ہم نے تجویز کیے تھے،کمیشن کی سربراہی خدمت ہی ہے، جسٹس ریٹائرڈ تصدیق جیلانی کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایسی ایسی باتیں ہوئیں کہ مجھے افسوس ہوا، معاشرے میں کیا ایسی باتیں ہوتی ہیں،تصدق جیلانی پر ذاتی حملے شروع کردیئے گئے،سوشل میڈیا پر جسٹس تصدق جیلانی پر عجیب عجیب الزامات لگائے گئے،جسٹس تصدق جیلانی کے متعلق عجیب عجیب باتیں کی گئیں جس پر مجھے شرمندگی ہوئی،ہم نے ایسے نام تجویز کیے کہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے، سپریم کورٹ کا اپنے اختیارات حکومت یا کمیشن کو دینے کا تاثر غلط ہے،چارسال فل کورٹ میٹنگ نہیں ہوئی سارے وکلا کہاں تھے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میڈیا پر ایسا تاثر بنایا گیا کہ کہ جیسے وفاقی حکومت اپنی مرضی کا کمیشن بنانا چاہ رہی ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شریف آدمی پر حملے ہوں گے تو وہ تو چلا جائے گا وہ کہے گا آپ سنبھالیں، پتہ نہیں ہم نے اس قوم کو تباہ کرنے کا تہیہ کر لیا ہے،یہ تاثر کہ سپریم کورٹ نے اپنے اختیارات حکومت کو یا کمیشن کو دے دیئے بلکل غلط ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت ایسا کوئی عمل نہیں کرے گی نہ اس کا حصہ بنے گی جو عدلیہ کی آزادی پر حرف آنے کا باعث بنے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک جج کو پریشر فیملی، دوستوں، بچوں اور ہر جگہ سے آسکتا ہے، پریشر ورٹیکل اور ہاریزینٹل بھی ہو سکتا ہے، پھر ایک نئی وبا پھیلی ہوئی ہے، وہ سوشل میڈیا ہے، اس کا بھی پریشر ہے،

    تصدق جیلانی کی بات سے متفق ہوں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو آئینی اختیار حاصل ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو فل کورٹ کے بعد جاری پریس ریلیز پڑھنے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہوا تو سب سے آگے میں کھڑا ہوں گا ،عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہوگا تو میں اور سارے ساتھی کھڑے ہونگے،عدلیہ میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے،ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے،انکوائری کمیشن بنانے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں ، اس کو بنانے کا اختیار صرف سرکار کا ہے، ہم خط کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، تصدق جیلانی نے مجھے اختیار دیا کہ معاملے کو حل کروں،میں مشاورت پر یقین رکھتا ہوں،تصدق جیلانی کی بات سے متفق ہوں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو آئینی اختیار حاصل ہے

    سرینہ فائز نے اپنی ایف آئی آر میں فیض حمید اور شہزاد اکبر کو نامزد کیا ،کوئی ایکشن نہیں ہوا،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ کو ایک شخص نے قتل کی دھمکیاں دی ہیں، آپ کی اہلیہ سرینہ فائز نے اپنی ایف آئی آر میں فیض حمید اور شہزاد اکبر مرزا کو نامزد کیا، سرینہ قاضی فائز عیسٰی کی درخواست پر کوئی ایکشن نہیں ہوا،خط میں لکھے واقعات سال پرانے ہیں،خط میں لکھے گئے مندرجات کی انکوائری ضروری تھی، وفاقی حکومت آج بھی ہر قسم کی تعاون کے لئے تیار ہے، ایک طرف عدلیہ کی آزادی ہے دوسری طرف حکومت کی اپنی ساکھ داؤ پر ہے،ہم کسی صورت عدلیہ کی آزادی کو متاثر نہیں ہونے دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں کئی مرتبہ ججز کا خط پڑھا ہے، پوری سنجیدگی سے لے رہے ہیں، وضاحت کردوں کہ خط سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا گیا، سابق جج شوکت صدیقی کیس کا تذکرہ بھی اس خط میں ہے،اگرججز تحفظات کا اظہار کریں تو اُنہیں کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے،سوشل میڈیا کی نئی وباء پھیلی ہوئی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ
    حکومت ایسا کوئی عمل نہیں کرے گی جس سےعدلیہ کی آزادی متاثر ہو، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سے جب میں اور جسٹس منصور علی شاہ ملے جس میں جسٹس منصور نے ان سے کہا کہ آپ نے خط سپریم جوڈیشل کونسل کو تحریر کیا ہے ہم سپریم جوڈیشل کونسل کے دو ممبران ہیں پوری کونسل نہیں تو ججز نے کہا کہ جو آپ بہتر سمجھتے ہیں وہ کریں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے 2023 میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال سے ملاقات کی تو اُس میں سینئر ترین جج ہوتے ہوئے مجھے یا بعد والے طارق مسعود صاحب کو نہیں بلکہ جسٹس اعجاز الاحسن صاحب کو بٹھایا گیا، شرطیں لگی تھیں کہ الیکشن نہیں ہوں گے، ہم نے ۱۲ دن میں اس کیس کا فیصلہ کیا،جہاں آئین کی خلاف ورزی ہوگی حکومت کے خلاف سخت ایکشن لیں گے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم نے سوموٹو لیا ہے تو ہمیں کچھ کرنا ہو گا، اگر ہائیکورٹ کا جج چیف جسٹس کو کچھ ایسا بتائے تو وہ اُس پر کچھ کرے، یا اگر ماتحت عدالت کا جج کچھ بتائے تو اس پر کچھ کیا جائے اور اگر چیف جسٹس کچھ نہ کرے تو اس کو بھی دیکھا جائے،

    ججز کا خط،سپریم کورٹ نے معاونت کیلئے تحریری معروضات مانگ لی،سماعت ملتوی
    سپریم کورٹ نے معاونت کیلئے تحریری معروضات مانگ لی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بھی سوال اٹھا سات ججز بیٹھے ہیں فل کورٹ کیوں نہیں بیٹھا؟جتنے ججز اسلام آباد میں دستیاب تھے وہ یہاں موجود ہیں، دوسرے شہروں میں جانیوالے ججز عید کے بعد دستیاب ہونگے، ہم عدالت میں وزیراعظم کو نہیں بلا سکتے، پتہ ہے کیوں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کو استثنٰی حاصل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز نے کھل کر بات نہیں کی لیکن اشارہ کر دیا ہے، آج آئین کی کتاب کھول کر لوگوں کو بتائیں، حکومت کو نوٹس دینگے تو اٹارنی جنرل یا سیکرٹری قانون آ جائیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد میں زرہ برابر بھی کوتاہی نہیں ہوئی، یہ بات نہ کریں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو روک دیا ،

    ججز خط پر سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے سماعت 29 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے فل کورٹ بنانے کا عندیہ دے دیا ہے

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    ججز کے خط نے ثابت کردیا کہ نظام انصاف مفلوج ہوچکا، لہذا چیف جسٹس مستعفی ہو ، پی ٹی آئی

    6 ججز کا خط ،پی ٹی آئی کا کھلی عدالت میں اس پر کارروائی کا مطالبہ

    6ججزکا خط،سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

  • انٹرنیٹ پر ملکی سلامتی کو خطرہ تھا،ٹویٹر بندش کیس میں حکومت کا  عدالت میں جواب

    انٹرنیٹ پر ملکی سلامتی کو خطرہ تھا،ٹویٹر بندش کیس میں حکومت کا عدالت میں جواب

    ٹویٹر کی بندش کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے‌صحافی احتشام عباسی کی درخواست پر سماعت کی،عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو 17 اپریل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایکس بندش کے خلاف دیگر عدالتوں میں بھی کیس ہے، دیکھتے ہیں کون پہلے ایکس کھلواتا ہے،جوائنٹ سیکریٹری داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہو کر رپورٹ جمع کروائی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وزارت داخلہ سے آئے تو ہیں، اب دیکھتے ہیں کیا لائے ہیں؟جوائنٹ سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیز کی رپورٹ پر ٹویٹر بند کیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” کوئی لکھت پڑھت بھی تو بتائیں، یہی کہا تھا کہ تفصیلات لے کر آئیں، یہ کونسا طریقہ ہے؟ یہ کیا رویہ ہے؟ عدالت کی معاونت کریں، نہ فائل لائے نہ کچھ اور، آپ بتا دیں کیا وجہ لکھواؤں؟ کیا سیکریٹری داخلہ کو بلائیں؟ ہر چیز جام کی ہوئی ہے، سب کچھ بند کیا ہوا ہے، جوائنٹ سیکریٹری صاحب زبانی نہیں ہر چیز لکھ کر دیں کہ کیا سیکیورٹی تھریٹ ہے”۔ جوائنٹ سیکریٹری داخلہ نے عدالت میں کہا کہ انٹرنیٹ پر ملکی سلامتی کو خطرہ تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکیومنٹس دکھائیں، زبانی کلامی بات نہیں ہو گی، تقریر نہیں کرنی وجوہات بتائیں، تقریر میں آپ سے زیادہ کر لیتا ہوں، یہ کیا ہے؟ اس رپورٹ سے تو بہتر میرا سیکریٹری رپورٹ بنا دے گا،جوائنٹ سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ دوسرا صفحہ دیکھ لیں،عدالت نے سوال کیا کہ یہ کیا طریقہ ہے کورٹ میں پیش ہونے کا، کیا آپ پہلی بار پیش ہوئے ہیں، کوئی ثبوت بھی ہوں گے ناں، آئی بی کی رپورٹ پرآپ نے ایکس بند کردیا، اس میں کوئی وجوہات نہیں لکھی ہوئیں، صرف قیاس پر مبنی رپورٹ ہے، آج ہم کیوں سن رہے ہیں، پچھلے ہفتے ہو چکی ہیں یہ باتیں، سیکریٹری داخلہ کو بلائیں اِن کے بس کی بات نہیں، اس سے متعلق دوسری عدالتوں کے فیصلے ہیں تو وہ بھی جمع کرا دیں، جو باتیں دوسری عدالت میں کی گئیں وہ یہاں نہ کریں، کیا کروں؟ کیا لکھواؤں کہ سرکار تھکی ہوئی ہے، کام نہیں کر سکتی، آپ صرف منتیں ترلے کر رہے ہیں، چیز کوئی نہیں آپ کے پاس، ہر ادارے میں بدنیتی ہے، کیا کہوں، سیکریٹری داخلہ کو بلاؤں گا تبھی کچھ ہو گا، قومی سلامتی کو بھی کوئی خطرہ ہو تو اس کی بھی وجوہات بتائیں

    ٹویٹر کی بندش، پشاور ہائیکورٹ نے کئے نوٹس جاری،جواب طلب

    ٹویٹر کی بندش، شہری کی درخواست پر نوٹس جاری

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    واضح رہے کہ پاکستان میں ایکس (ٹوئٹر) کی سروس 17 فروری رات 10 سے بند کی گئی ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،گزشتہ روز بھی ایکس کی سروس آدھا گھنٹہ بحال ہونے کے بعد پھر ڈاون ہوگئی تھی،پی ٹی اے نےایکس (ٹوئٹر) کی بندش پر موقف دینے سے گریز کیا ہے،

    سوشل میڈیا صارفین ٹویٹر چلانے کے لئے وی پی این کا استعمال کر رہے ہیں،کچھ وی پی این کا سرور اسرائیل میں ہے،پی ٹی اے کی وجہ سے پاکستانی صارفین کا ڈیٹا اسرائیل جارہاہے،ٹویٹر کی پاکستان میں بندش کے حوالہ سے پی ٹی اے مکمل خاموش ہے،اور کسی قسم کا کوئی بیان یا وضاحت جاری نہیں کی گئی

    واضح رہے کہ پاکستان میں کئی بار انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سروسز کی بندش سامنے آئی ہیں، آٹھ فروری کو عام انتخابات کے روز سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کی گئی تھی، اس سے قبل پی ٹی آئی کے جلسے کے موقع پربھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس بند کر دی گئی تھیں.

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو خطوط کے ذریعے تھریٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو خطوط کے ذریعے تھریٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو مشکوک خطوط موصول ہو گئے، ایک جج کے اسٹاف نے خط کھولا تو اس کے اندر پاؤڈر موجود تھا اسلام آباد پولیس کی ایکسپرٹس کی ٹیم اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئی خط کے اندر ڈرانے دھمکانے والا نشان بھی موجود تھا، کسی خاتون نے بغیر اپنا ایڈریس لکھے خط ہائیکورٹ ججز کو ارسال کئے ،پاؤڈر کیا ہے ؟ ابھی ایکسپرٹس کی ٹیم تحقیقات میں مشغول ہے، عدالتی عملے کے مطابق خط کھولا تو آنکھوں میں جلن شروع ہو گئی، متاثرہ اہلکار نے فوری طور پر سینیٹائزر استعمال کیا اور منہ ہاتھ دھویا، خط میں موجود متن پر لفظ anthrax لکھا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو مشکوک خط ملنے کے بعد اسلام آباد پولیس کی ٹیم ہائیکورٹ میں موجود ہے تحقیقات جاری ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ انتظامیہ نے دہشتگردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کو فوری طلب کر لیا

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے سائفر کیس کے اختتام پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 8 ججوں کو خطوط ملے ہیں جن میں اینتھرکس (پاوڈر) پڑا ہے اسی لیے ہم نے سائفر کیس کی سماعت تاخیر سے کی،بنیادی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کو تھریٹ کیا گیا ،

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    ججز کے خط نے ثابت کردیا کہ نظام انصاف مفلوج ہوچکا، لہذا چیف جسٹس مستعفی ہو ، پی ٹی آئی

    6 ججز کا خط ،پی ٹی آئی کا کھلی عدالت میں اس پر کارروائی کا مطالبہ

    6ججزکا خط،سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

  • سائفر کیس،کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟عدالت

    سائفر کیس،کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر و دیگر عدالت پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکوشن ٹیم میں حامد علی شاہ، ذولفقار نقوی و دیگر عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دو گواہوں کے بیانات پڑھنا چاہوں گا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر کے بارے میں بتائیں کہ وہ ڈاکومنٹس فائل میں کیسے آتا ہے ،سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے تین گواہ پر کیس چلا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اعظم خان کا 154 کا بیان پڑھ دیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بیان کا خاص حصہ پڑھیں جو کیس سے تعلق رکھتا ہے ،

    بیرسٹر سلمان صفدر نے اعظم خان کا 164 کا بیان پڑھا اور کہا کہ اعظم خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سائفر کو پبلک کرنے کا کہا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر اعظم خان نے پڑھا تھا ، جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس نے کہا تو اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ اعظم خان نے سائفر پڑھا، سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی سے کہا کہ سائفر کی ڈی کوڈ کاپی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ایک بیان میں کچھ اور ہے اور دوسرے میں کچھ اور؟ کیا آپ نے اعظم خان کو کنفرنٹ کیا تھا کہ اس وقت آپ نے یہ کہا تھا اور اب آپ نے کچھ اور کہا ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان پر ہم نے نہیں ڈیفنس کونسلز نے جرح کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی اجلاس میں جو ہوا یا بتایا وہ تو ریکارڈ کا حصہ ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ جی نیشنل سکیورٹی کی میٹنگ ہوئی، ڈی مارش ہوا ، گواہوں نے بتایا کہ کاپی ایس پی ایم میں تھی ،انچارج ایس پی ایم نے بتایا کہ اس کے سامنے کاپی گم ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بنی گالا میں جو میٹنگ ہوئی وہ آفیشل میٹنگ تھی ، سلمان صفدر نے کہا کہ وہ میٹنگ ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے ، سائفر معاملے پر نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا ،اجلاس کے بعد سائفر وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا ، اس مقدمے میں کئی ملزمان نکالے گئے اور کئی الزامات واپس لئے گئے، اعظم خان نے بنی گالہ میٹنگ کے منٹس لکھے، 31 مارچ 2022 کو نیشنل سکیورٹی میٹنگ ہوئی،سرکار کیس بنائے تو کیا ہونا نہیں چاہیے کہ تمام کاغذات سامنے رکھے، اعظم خان کے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے بیان میں فرق ہے،پرانے بیان سے پِھرنا ملزم کے حق میں جاتا ہے،

    جسٹس میاں‌ گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ سائفر کو ٹوسٹ کیا، گواہ نے اس متعلق ایسا کیا کہا؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اعظم خان کے بیان میں تبدیلی کیا تھی وہ بتائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ اعظم خان نے ایسا کیا کہا کہ جس سے پراسیکیوشن کا کیس خراب ہوا ہو؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اعظم خان کا بیان تو مستقل رہا اور وہ اپنے پچھلے بیان سے نہیں ہٹے، اعظم خان کا بیان ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے سائفر گم ہو گیا،اعظم خان بتا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے جلسے میں دستاویز لہرایا، وہ یہ تو نہیں کہہ رہا کہ ڈاکومنٹ کیا تھا جس سے لگے کہ سائفر واپس مل گیا تھا، سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے یہ کبھی نہیں کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جان بوجھ کو سائفر کاپی گمائی،گواہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اس کے سامنے سائفر کاپی کی تلاش کا کہا، اعظم خان عدالت میں بیان میں کہہ رہا ہے کہ سائفر Misplace ہو گیا، مِس پلیس الگ لفظ ہے اس سے کوئی بدنیتی نظر نہیں آتی،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے کہا ہے کہ شب معراج کے روز میرے کھانے میں ہارپک(Harpic) کے 3 قطرے ملائے گئے تھے، صحافیوں نےکاونٹر سوالات کیے تو بشریٰ بی بی نے صحافیوں سے بدتمیزی کی، تلخ کلامی بڑھی تو عمران خان کو بشریٰ بی بی کو روکنا پڑا، عمران خان نے وضاحت دی کہ بشریٰ نے پہلےمیڈیا کو ڈیل نہیں کیا۔

    اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ پنجابی کہاوت ہے کہ بندہ بندے نوں کھا جاندا اے، جج اور اداروں کو بندے کھاتے دیکھا تو اس کہاوت کی سمجھ آئی ہے۔ میرے امریکی ایجنٹ ہونے سے متعلق پارٹی میں باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، مجھے بنی گالہ میں باعزت طریقے سے رکھا گیا ہے، پہلے کھڑکیاں بند رکھی جاتی تھی اب کچھ دیر کے لیے کھول دی جاتی ہیں،گزشتہ سماعت پر میں نے جو خان صاحب کی زندگی کو درپیش خطرات ہیں ان پر بات کی تھی لیکن میڈیا نے اسے رپورٹ نہیں کیا، مجھے جیل میں بھی کسی نے بتایا تھا کہ کھانے میں ہارپک ڈالا گیا اس کا نام نہیں بتاؤں گی،تحقیق سے پتا چلا کہ ہارپک سے ایک ماہ بعد طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے، مجھے آنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے سینے اور معدے میں تکلیف ہوتی ہے، کھانا اور پانی بھی کڑوا لگتا ہے۔

    بشریٰ بی بی سے ایک صحافی نے پوچھا کہ پہلے آپ کی جانب سے بیان آیا تھا کہ شہد میں کچھ ملایا گیا ہے، اب کہا جا رہا ہے کہ ہارپک کھانے میں ڈالا گیا؟ جس پر بشریٰ بی بی نے کہا کہ پہلے شہد میں بھی کچھ ملایا گیا تھا، اب کھانے میں بھی ہارپک ملایا گیا ہے۔ صحافی نے پھر پوچھا کہ زہر والے معاملے کی انکوائری ہوئی تو آپ کے پاس کیا ثبوت ہے؟ اس پر انہوں نے غصے سے کہا کہ میں کہاں سے ثبوت لاؤں اور گفتگو ختم کردی،بشریٰ بی بی کے رویے پر صحافیوں نے عمران خان سے احتجاج کیا تو عمران خان نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے میڈیا کو کبھی ڈیل نہیں کیا ان کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیں اور نہ ہی ان کی باتوں کا برا منائیں

    مجھے ڈرانے کے لیے بشریٰ بی بی کو زہر دیا جا رہا ہے،عمران خان
    عمران خان کا کہنا تھا کہ میری بیوی کے ساتھ جو کیا گیا وہ خطرناک ہے،شہباز شریف کے خلاف تمام گواہان ہارٹ اٹیک کی وجہ سے مارے گئے چند ماہ میں سب کی موت ہو گئی،مجھے ڈرانے کے لیے بشریٰ بی بی کو زہر دیا جا رہا ہے،بشری بی بی کو زہر دیا جائے گا تو کیا میں خاموش بیٹھوں گا؟

    صحافی نے سوال کیا کہ شوکت عزیز صدیقی نے جنرل فیض پر الزامات لگائے تھے اس وقت آپ وزیراعظم تھے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض ہو یا کوئی اور تحقیقات ہونی چاہیئے جنرل فیض کی تقرری میں نے نہیں کی تھی،جنرل باجوہ نے ہمیں واضح طور پر کہا تھا کہ اگر چپ نہ بیٹھے تو کیسز بنائے جائیں گے اور سزائیں بھی ملیں گی، وزیر خزانہ اور ایس ائی ایف سی جو مرضی کر لیں ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئے گی،ملک میں سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم کر دیا گیا ہےملک میں معیشت سست روی کا شکار ہے ملک تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے،پنجاب میں فاشزم ہے پرامن احتجاج بھی نہیں کر سکتے، مجھے عمر ایوب سے جان بوجھ کر کٹ اف کیا گیا ہے تاکہ مشاورت نہ ہو سکے، ججز کو آواز اٹھانے پر سیلوٹ کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ وہ ملک کو بچا لیں،

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروا دی

    قومی اسمبلی ،سپیکر کیسے غیر قانونی کام کرتے رہے،من پسند افراد کی بھرتیاں، لوٹ مار،سب سامنے آ گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    شک ہےبشریٰ بی بی کو بنی گالہ میں زہر دیا گیا،عمران خان کا دعویٰ
    راولپنڈی:190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی گئی،نیب کی جانب سے پیش کئے گئے ایک گواہ کا بیان ریکارڈ وکلاء صفائی نے جرح بھی مکمل کرلی۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔نیب کے پراسیکیوٹر امجد پرویز اور سردار مظفر عباسی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء ظہیر عباس چودھری، عثمان گل، بیرسٹر علی ظفر و دیگر پیش ہوئے۔کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔دوران سماعت عمران خان کا احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا سے مکالمہ ہوا،عمران خان نے کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں دعویٰ کیا کہ شک ہے انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بنی گالہ میں زہردیا گیا ہے،مجھے پتہ ہےاس کے پیچھےکون ہے، بشریٰ بی بی کی جلد اور زبان پر نشانات پڑ گئے ہیں، عدالت بشریٰ بی بی کےمکمل میڈیکل چیک اپ اور انکوائری کرانے کا حکم دے، بشریٰ بی بی کا معائنہ شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم یونس سے کرایا جائے۔عدالت نے عمران خان کوبشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی درخواست دینےکی ہدایت کی۔

  • اہلیہ بارے جھوٹی خبر،  کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس برہم

    اہلیہ بارے جھوٹی خبر، کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس برہم

    سپریم کورٹ، ایف آئی اے کی جانب سے صحافیوں کو نوٹسز، کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،پریس ایسوسی ایشن کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ کیس میں کچھ بھی ارجنٹ نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ بیرسٹر حیدر وحید کہاں ہیں؟ وکیل نے کہا کہ وہ میڈیا ریگولیشن سے متعلق اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ مگر وہ عدالتی کارروائی کے لیے نہیں آئے، کیا ان کی پٹیشن آزادی اظہار کو یقینی بناتی یا مزید روکتی؟ ان کے کیس میں درخواست گزار کون تھے؟ 2022 سے یہ درخواست کس بنیاد پر دائر تھی؟ کیا ان کامقصد پورا ہو گیا ہے؟ درخواست گزاروں میں کوئی چکوال کا تھا کوئی اسلام آباد کا، کون سا مشترکہ مفاد تھا جو ان درخواستگزاروں کو ساتھ لایا تھا؟ میڈیا میں بھی بڑی منتخب رپورٹنگ ہوتی ہے، اب یہ رپورٹ نہیں ہو گا کہ یہ 6 درخواستگزار غائب ہو گئے، اسی لیے ہم نے کہا تھا کہ ہم اپنا یوٹیوب چینل چلائیں گے، کیا حیدر وحید والی درخواست کا کوئی پٹیشنر عدالت میں ہے؟

    بعد ازاں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ کیا اس طرح کی درخواست عدالت کا غلط استعمال نہیں ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ بالکل یہ عمل کا غلط استعمال ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ایسی درخواستیں عدلیہ کی آزادی یقینی بناتی ہیں یا اسے کم کرتی ہیں؟ اس پٹیشن کے تمام درخواستگزاروں کو نوٹس کر کے طلب کیوں نہ کریں؟اٹارنی جنرل نے بھی درخواستگزاروں کو نوٹس جاری کرنے کی حمایت کردی،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ عوامی مفاد کی درخواست واپس نہیں ہو سکتی، آرمی چیف کی توسیع سے متعلق ریاض حنیف راہی والی درخواست بھی واپس نہیں لینے دی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کہیں آپ کی ان لوگوں سے عدالت کے باہر ہی سیٹلمنٹ تو نہیں ہوگئی ہے؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہم ایک صحافتی ادارہ ہیں ایسی سیٹلمنٹ کے وسائل نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں پیسے ہی ہوں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہا گیا ہو آئندہ میری خبر اچھی چھاپ دینا

    سپریم کورٹ نے میڈیا ریگولیشن والی پٹیشن کے درخواست گزاروں کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے،

    اس کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کوئی اور ارجنٹ معاملہ ہے؟ اس پر بیرسٹر صلاح الدین کا مطیع اللہ جان کیس کا حوالہ دیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل اگر میں ایک کیس کو اوپن اینڈ شٹ کہوں تو وہ مطیع اللہ جان کیس کا ہے، آپ کے پاس اس واقعے کی ویڈیو موجود ہے، حکومت اخبار میں اشتہار کیوں نہیں دیتی کہ ان لوگوں کی تلاش ہے؟ اگر آپ کچھ نہیں کرتے تو ایسا آرڈر آئے گا جو آپ کو پسند نہیں آئے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے انٹرویو ریکارڈ کیا تھا؟ یہ کیسی صحافت ہوئی؟ آج کل سلیکٹو رپورٹنگ ہوتی ہے اس لئے ہم اپنا یوٹیوب چینل چلائیں گے، ایسی ایسی خبریں چلتی ہیں جن کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہوتی،اگلے ہی دن میری اہلیہ کے بارے میں غلط خبر چل گئی، کہا گیا وہ ایک میٹنگ میں بیٹھی ہوئی تھیں، تو کیا ہم سارا دن بیٹھ کر وضاحتیں جاری کرتے رہیں؟ پھر کہا جائے گا چیف جسٹس کی بیوی نے تو تردید جاری نہیں کی، کیا تاثر جائے گا اس خبر سے کہ چیف جسٹس کی اہلیہ آفیشل میٹنگ میں بیٹھی تھیں؟ تھوڑا سا خوف کریں، ہمارا نہیں تو اللہ تعالیٰ کا خوف کر لیں، کبھی کبھی سچ بول لیں،جھوٹی خبر پر دو چار پروگرام بنائو، چلائو اور یوٹویب سے پیسہ کمائو، خبر غلط ہو تو پھر یوٹیوب سے ہی کاٹو، میرے خلاف کیا جھوٹی خبر چلتی ہے آئی ڈونٹ کیئر، ادارے کی ساکھ تباہ ہوتی ہے، ایسی خبر چلانے والوں کو کیا توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟ کیا فرد جرم عائد کر کے انہیں جیل بھیجیں؟ اپنے تھمب نیل اور اپنی خبر میں انہوں نے یہی کہہ دیا، کیا زیادہ ری ٹوئٹس ، لائکس سے پیسے کمائے جارہے ہیں؟ کیا کسی صحافی پر جھوٹ بولنا ثابت ہوجائے تو صحافتی ادارے اس کی ممبر شپ ختم کریں گے؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ وارننگ دے کر، شوکاز کر کے ممبر شپ ختم کر سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کیا ہو جائے گا؟ آپ افسر آف کورٹ ہیں حل بتائیں، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہتک عزت کا قانون پاکستان میں اتنا مضبوط نہیں اس لیے یہ سب ہوتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "کیا وکلا نے کبھی اپنے ممبر کے خلاف کارروائی کی ہے؟ صحافیوں نے کی ہے؟ یہ سب تو ٹریڈ یونین بن گئی ہیں، ہم نے تو آپ کو اپنے ادارے میں کر کے دکھایا آپ بھی کر کے دکھائیں نا”۔کیا پیسے کمانے کیلئے ایسی خبریں خود سے تیار کی جاتی ہیں،
    اگر کوئی صحافی اپنی خبر میں جھوٹا ثابت ہو تو اس کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ برطانیہ میں ہتک عزت کا قانون بہت مضبوط ہے، برطانیہ میں پاکستانی چینلز بھاری جرمانے عائد ہونے کے سبب نشریات جاری نہیں رکھ سکتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب اگر کسی کو نوٹس جاری کرکے طلب کریں تو سارے ہمارے سامنے کھڑے ہو جائیں گے،وہ معاشرے ترقی کرتے ہیں جہاں اداروں میں اندرونی احتساب ہو، ہم نے تو اپنا احتساب کرکے دکھایا،

    عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے تحریری دلائل بھی طلب کرلیے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ سابقہ بینچ کی دوبارہ دستیابی پر کیس دوبارہ مقرر کیا جائے گا

    صحافیوں کو جاری نوٹسز سے متعلق کیس،اگرگزشتہ درخواست پر فیصلہ ہو جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،چیف جسٹس

    مونال ریسٹورنٹ کیس،ریکارڈ فوراً پیش کریں ورنہ توہین عدالت کا نوٹس،چیف جسٹس برہم

    اسقاط حمل کو جرم کی تعریف سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    ججز کے خط نے ثابت کردیا کہ نظام انصاف مفلوج ہوچکا، لہذا چیف جسٹس مستعفی ہو ، پی ٹی آئی

  • سینیٹ انتخابات،اسلام آباد سے حکمران اتحاد کے دو امیدوار کامیاب

    سینیٹ انتخابات،اسلام آباد سے حکمران اتحاد کے دو امیدوار کامیاب

    سینیٹ انتخابات، پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے
    سینیٹ کی دو نشستوں پر انتخاب،پولنگ کا وقت ختم، پریزائیڈنگ افسر نے ہال کے دروازے مقفل کرنے کا حکم دے دیا،کسی کو اب داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی

    اسلام آباد کی دونوں نشستوں پر حکومتی اتحاد کے امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں،قومی اسمبلی سے حکومتی اتحاد کے امیدوار اسحاق ڈار ٹیکنوکریٹ نشست پر کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے 224 ووٹ لیے جبکہ انکے مقابلے میں سنی اتحاد کونسل کے امیدوار راجہ انصر محمود کو 81 ووٹ ملے،قومی اسمبلی سے جنرل نشست پر رانا محمود الحسن سینیٹ کے رکن منتخب ہوگئے۔قومی اسمبلی میں سینیٹ کی دو نشستوں پر کل 310 ووٹ کاسٹ ہوئے،اسلام آباد سے جنرل نشست پر 7 ووٹ مسترد ہوئے،اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست کے لئے پیپلز پارٹی کے رانا محمود الحسن 224 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،جنرل نشست کے لئے آزاد امیدوار فرزند حسین شاہ 79 نے ووٹ حاصل کئے

    سینیٹ انتخابات، سندھ سے پیپلز پارٹی 10 سیٹیں جیت گئی،فیصل واوڈا بھی کامیاب
    سندھ اسمبلی میں سینیٹ کی 12 نشستوں میں سے 10 نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں،انتخاب میں ایک نشست پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا،سندھ سے سینیٹ کی جنرل نشست پر پیپلز پارٹی کے اشرف علی جتوئی ،دوست علی جیسر کامیاب ہوئے،کاظم علی شاہ ، مسروراحسن اور ندیم بھٹو بھی سندھ سے سینیٹ کی جنرل نشست پر کامیاب ہوئے،ایم کیو ایم کے امیدوار عامرچشتی بھی کامیاب قرار پائے،آزادامیدوار فیصل واوڈا بھی کامیاب قرارپائے،ٹیکنوکریٹ کی2 نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار سرمد علی اور ضمیرگھمرو کامیاب ہوئے،

    پنجاب اسمبلی میں سینیٹ الیکشن میں کل 356ووٹ کاسٹ ہوئے،ن لیگ کے محمد ارنگزہب نے 128، مصدق ملک نے 121 ووٹ لیئے،سنی اتحاد کونسل کی ڈاکٹر یاسمین راشد نے 106 ووٹ لئے،ایک ووٹ مسترد ہوا

    سینیٹ کی 30 نشستوں پر الیکشن کے لیے پولنگ کا عمل ختم ہو گیا ہے،سینیٹ الیکشن کی پولنگ کے لیے قومی اسمبلی کا ہال پولنگ اسٹیشن میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں الیکشن کمیشن کا عملہ فرائض انجام دے رہا ہے،مہیش کمار ملانی نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ،میاں خان بگٹی نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ،حسین الہی نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ،تزئیں اختر نیازی اور سردار شاہجہاں یوسف نے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا، سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے سینیٹ الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا،رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی ہال میں جاری سینیٹ کے ضمنی انتخاب کے لئے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی ہال میں جاری سینیٹ کے ضمنی انتخاب کے لئے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے قومی اسمبلی ہال میں جاری سینیٹ کے ضمنی انتخاب کے لئے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی ہال میں جاری سینیٹ کے انتخاب کے لئے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا

    اسلام آباد میں ایک جنرل اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست پر الیکشن ہورہا ہے جہاں پیپلز پارٹی نے محمود الحسن اور (ن) لیگ نے اسحاق ڈار کو امیدوار نامزد کیا ہے جب کہ سنی اتحاد کونسل کے فرزند حسین اور راجہ انصر محمود الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

    سینیٹ الیکشن کے لیے ممبران قومی اسمبلی کیلئے الیکشن کمیشن نے ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بال پوائنٹ کے ذریعے بیلٹ پیپرز پر ترجیحات درج کرنا ہوں گی، ترجیحی امیدوار کے نام کے سامنے 1 لکھنا ہوگا، دوسرے امیدوارکے سامنے 2 لکھنا ہوگا، ترجیح صرف انگریزی یا اردو میں درج کرنا ہوگی، اردو اورانگریزی کو ملاکرلکھنے سے ووٹ مسترد ہوگا، ہندسہ 1 ایک سے زائد ناموں کے سامنے درج ہونے سے ووٹ مسترد ہوگا، کسی امیدوارکے نام کے سامنے ہندسہ 1 کےساتھ کوئی دوسراہندسہ درج نہ ہو۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخاب ملتوی کر دیئے گئے،صوبائی الیکشن کمشنر نے انتخاب ملتوی کرنے کا اعلان کیا،الیکشن کمیشن کا عملہ سامان سمیت اسمبلی سے روانہ ہو گیا، ترجمان کا کہنا ہے کہ انتخاب ملتوی کرنے کا اعلامیہ بعد میں جاری کیا جائیگا،

    خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن کیلئے ووٹنگ شروع نہ کرانے کی ہدایت
    الیکشن کمیشن حکام کا صوبائی الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا سے رابطہ ہوا ہے،الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر کو خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن کیلئے ووٹنگ شروع نہ کرانے کی ہدایت کردی،الیکشن کمیشن نے ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن کی مزید ہدایات تک خیبرپختونخوا اسمبلی میں ووٹنگ شروع نہ کرائی جائے،

    خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست
    خیبر پختو نخوا کی 7 جنرل، 2 خواتین اور 2 ٹیکنو کریٹ کی نشست پر انتخاب ہونا ہے جو مخصوص نشست والے اراکین کا حلف نہ لیے جانے کی وجہ سے تنازع کا شکار ہے، اپوزیشن اراکین نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے جس میں استدعا کی گئی ہےکہ مخصوص نشستوں پر ان کے 25 اراکین سے حلف لیا جائے، حلف نہ لیاجائے تو الیکشن ملتوی کیا جائے،اپوزیشن کے اگر ان 25 اراکین سے حلف لیا گیا اور اس کے بعد انتخابات ہوئے تو اپوزیشن کو سینیٹ کی 11 میں سے 4 نشستیں ملیں گے، اگر حلف نہ لیا گیا تو 11 میں سے 10 نشستیں حکومت کو ملنے کا امکان ہے،ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کیلئے تیاریاں مکمل ہیں اور انتخابی مواد پولنگ اسٹیشن پہنچا دیا گیا ہے، صوبائی الیکشن کمشنر شمشاد خان پریزائیڈنگ افسر کے فرائض انجام دینگے، پولنگ صبح 9 سے شام 4 بجے تک جاری رہے گی،علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسبملی میں اپوزیشن کے احمد کریم کنڈی نےصوبائی الیکشن کمشنر کو درخواست دے دی جس میں الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہمارے 25 ارکان سے ابھی تک حلف نہیں لیا گیا اس لیے سینیٹ الیکشن ملتوی کیا جائے۔

    سینیٹ کا اجلاس بھی پانچ اپریل کو بلانے کی تجویز سامنے آئی ہے،سینیٹ سیکرٹریٹ نے سمری وزارت پارلیمانی امور کو بھجوا دی ۔سینیٹ اجلاس میں نو منتخب سینیٹرز حلف اٹھائیں گے،وزارت پارلیمانی امور صدر سے سینیٹ کے پہلے اجلاس کےلیے پریزائیڈنگ آفیسر مقرر کرنے کی بھی درخواست کرے گی

    پی ٹی آئی کا سندھ میں سینیٹ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان

    گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے صوبے میں سینیٹرز بلامقابلہ منتخب کرنے کا مطالبہ دیا

    بلوچستان، سینیٹ کی تمام 11 خالی سیٹوں‌پر امیدوار بلامقابلہ منتخب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

    پنجاب میں بڑا معرکہ،سات سینیٹر بلا مقابلہ منتخب

    سینیٹ کی تمام نشستیں ہم جیتں گے ،پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد ہے،سپیکر پنجاب اسمبلی
    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ایوان آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری ججز خط پر اپنی رائے ہیں اس کے بنیادی ڈھانچے پر بات کرتا ہوں ،اگر خط لکھا گیا تو ان بنیادی ڈھانچے کے مطابق تعیناتی کیسے ہوتی ہے ،اگر بنیادی ڈھانچے نے اس کی تعیناتی واضح کر دی سب سامنے آئے گا ،سینیٹ کی تمام نشستیں ہم جیتں گے ،پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد ہے اس کے مطابق وہ ہمیں سپورٹ کر رہی ہے.

    پیپلزپارٹی پنجاب کے پارلیمانی وفد نے سینیٹ کی 5 مخصوص نشستوں کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت کا اعلان کردیا،پیپلزپارٹی پنجاب کے پارلیمانی وفد نے پارلیمانی لیڈر علی حیدرگیلانی اور ندیم افضل چن کی قیادت میں پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز سے ملاقات کی اور سینیٹ الیکشن پر تبادلہ خیال کی،ملاقات میں پیپلزپارٹی نے پنجاب سے سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ، خواتین اور اقلیتی نشست پر ن لیگ کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔

    پاکستان کی عوام بانی تحریک انصاف کیساتھ کھڑی ہے،عمر ایوب
    سنی اتحاد کونسل کے رہنما عمر ایوب پارلیمنٹ پہنچ گئے،اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کا پرفارما سب نے سائن کیا ہوا ہے اور بہت سے لوگ منتخب ہوئے،پہلے ہم سے نشان چھینا گیا جسکی ہم شدید مذمت کرتے ہیں،الیکشن کمیشن اس پر پوری طرح ملوث تھا،بانی پی ٹی آئی کے امیدواران کو باہر رکھا گیا،ہمارے نشان ہم سے چھین لیا گیا انکو لگتا تھا اس سے فرق پڑے گا،لوگوں نے ہمارے مختلف نشان ڈھونڈے اور اس پر ووٹ کاسٹ کیا،لاکھوں ہزاروں کی تعداد سے ہمارے لوگ جیتے ہیں،ہم نے ثابت کیا کہ ہمارے پاس اکثریت ہے،ہمارے پاس فارم 45 کی بناء پر 180 سیٹیں ہیں،حقیقت یہ ہے کہ انکے پاس کوئی ووٹ نہیں ہیں،ہمارے ساتھیوں کے خلاف جنہوں نے حلف لیا غلط کیا اور یہاں آکر ممبر قومی اسمبلی بنے ہوئے ہیں،الیکشن کمیشن آف پاکستان حکومت کا صرف ذیلی ادارہ ہے،چیف الیکشن کمشنر ہو یا دیگر کمشنر ہوں یہ صرف ایک ذیلی ادارے کے ہیں،ملک میں آئین اور قانون کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے،ہائیکورٹ کے 6 ججز اٹھ کر گئے ہیں کے ایجنسیوں کی مداخلت اداروں میں نیچے تک ہے،سپریم کورٹ نے کہا ایک کمیشن بنائیں اور یہ اس کے ساتھ سلیم اللہ کلیم اللہ کھیلتے رہے،سپریم کورٹ سے حکومت پر پریشر پڑا تو کل ایک 7 رکنی بینچ بنایا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ یہ فل کورٹ ہو تاکہ پتہ چلے حقیقت کیا ہے،پاکستان کے ایوانوں میں جمہوریت ہونی چاہئیے،جو مرضی یہ کر لیں پاکستان کی عوام بانی تحریک انصاف کیساتھ کھڑی ہے، کھڑی تھی اور کھڑی رہے گی، جلد وائٹ پیپر شائع کرنے والے ہیں، جس میں فارم 45 کے مطابق ہماری 180 نشستیں ہیں، یہ تو فارم 47 والے ہیں،انہیں سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں،ع