Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کشیدگی کے بعد پاکستان اور ایران میں مثبت پیغامات کا تبادلہ

    ایران اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بادل چھٹنے لگے، دونوں ممالک کے حکام ایک دوسرے کو مثبت پیغامات دے رہے ہیں۔پاکستان اور ایران کے درمیان مثبت پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے

    پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کی صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک بار پھر ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے،پاکستانی وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے حالیہ تناؤ ختم کرنے پر اتفاق کیا ، نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی قومی سلامی کمیٹی کو ایرانی ہم منصب سے بات چیت سے آگاہ کریں گے ،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو میں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا اور کہا ہے کہ پاکستان کے لیے ملکی سلامتی و خودمختاری کا دفاع سب سے اہم ہے ،پاکستان کی سلامتی سےتعلق ریڈ لائینز واضح ہیں ، ایران پڑوسی اور برادر ملک ہے ، معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں ، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا

    قبل ازیں پاکستان اور ایرانی حکام کے مابین مثبت پیغامات کا یہ تبادلہ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہوا ، ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نےبھی پیغامات کے تبادلہ پر اپنا رد عمل دے دیا،ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کچھ مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہیں،ایرانی سفارتکار اور ایڈیشنل سکریٹری امور خارجہ رسول موسوی نے پہلا پیغام بھیجا ، رسول موسوی نے کہا کہ تناؤ کا کا فائدہ دشمنوں اور دہشت گردوں کو ہوگا، دونوں ملکوں کی قیادت یہ بات جا نتی ہے،آج کا سب سے بڑا مسئلہ غزہ میں صیہونیوں کے جرائم ہیں،

    ایڈیشنل سکریٹری رحیم حیات قریشی نے یہ کہہ کر جواب دیا کہ "آپ کے مثبت جذبات کا جواب دیتا ہوں، بھائی رسول موسوی،پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں، مثبت بات چیت کے ذریعے آگے بڑھیں گے ، دہشت گردی سمیت مشترکہ چیلنجرز کے کئے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے".

    ٹویٹر پر مثبت پیغامات کے علاؤہ ایرانی حکومت اور وزیر خارجہ کی جانب سے ابھی مزید پیش رفت سامنے نہیں آئی

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

  • بلوچ یکجہتی کونسل  کی  ماہ رنگ بلوچ کا ریاست مخالف پروپیگنڈہ بے نقاب

    بلوچ یکجہتی کونسل کی ماہ رنگ بلوچ کا ریاست مخالف پروپیگنڈہ بے نقاب

    اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دھرنا ایکسپوز ہوگیا ۔ پاکستانی ریاست کے خلاف بلوچ عسکریت پسندوں کی سازش اپنی موت آپ مر گئی۔ماہ رنگ بلوچ نے فرط جذبات میں خود ہی اپنی پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ اعتراف کیا کہ ایران میں مرنے والوں کے لواحقین دھرنے میں موجود ہیں ۔ دہشت گردوں کو معصوم بنا کر ٹسوے بہانے کی ریاست مخالف سازش خود ہی بے نقاب کر دی۔

    پاکستان نے ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جمعرات کی صبح حملہ کیا تھا ۔ اب ماہ رنگ اعتراف کر رہی ہے کہ ان کے لواحقین دھرنے میں موجود ہیں ۔ یہی تو ریاست کہہ رہی تھی کہ دھرنا دینے والے دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔

    امن دشمن بھارت طویل عرصے سے پاکستان بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے مذموم عزائم کے حصول کے لئے استعمال کر رہا ہے،اسی تناظر میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون ماہ رنگ بلوچ ہے جو کہ بلوچوں کے حقوق اور مظلومیت کالبادہ اوڑھ کر مخالف دھرنے میں شریک ہے،تازہ ترین ویڈیو میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ ایران میں کئے جانے والے سٹرائیک میں ہلاک بلوچ دہشتگردوں کے حوالے سے دھرنے سے خطاب میں اقرار کر رہی ہے کہ ”آپ سب کو اس بات کا اندازہ ہے کہ ایران میں جولوگ مارے گئے ہیں ان کے لواحقین دھرنے میں موجود ہیں“

    ماہ رنگ بلوچ کا یہ بیان اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگرد ایران میں روپوش ہیں جہاں سے پاکستان کیخلاف دہشتگردانہ کارروائیاں کرتے ہیں،کچھ عرصہ قبل ہلاک کئے جانے والے دہشتگرد بالاچ اور اس جیسے بہت سے دہشتگردوں کی نمائندگی کرنے والی ماہ رنگ بلوچ بالاخر سچ زبان پر لے ہی آئیں،ریاست کا روز اول سے یہی موقف ہے کہ یہ دہشت گرد عناصر گھروں سے بھاگ کر بیرون ممالک بالخصوص ایران اور افغانستان میں روپوش ہیں،ایسے میں پاکستان دشمن دہشتگردوں کے لئے ”بلوچ یکجہتی کمیٹی“ کا احتجاجی مظاہرہ عام فہم سے بالاتر ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہ رنگ بلوچ جو عبدالغفار لانگو کی بیٹی ہے، جو بی ایل کا سرغنہ اور ریاستی اداروں پر لاتعداد حملوں میں ملوث تھا،ماہ رنگ بلوچ نے نہ صرف ریاستی وظیفے پر تعلیم حاصل کی بلکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سے اب تک وہ سرکاری تنخواہ کے ساتھ ساتھ متعدد مراعات سے بھی استفادہ حاصل کر رہی ہیں،ماہ رنگ بلوچ ملک دُشمن عناصر کی ایما ء پر جو ریاست مخالف پروپیگنڈہ کر رہی ہے آج وہ آشکار ہو گئی ہے،سوال یہ ہے کہ ”مسنگ پرسن کے نام پر جو پروپگینڈا کیا جا رہا ہے وہ تمام افراد براستہ بلوچستان ایران بھاگ کر روپوش ہو گئے ہیں؟“یہ تمام افراد پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو کر پاکستان بالخصوص بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر لوگوں کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے؟

    جھوٹ کا بازار مسنگ پرسنز کے سنجیدہ اور ہم مسئلے پر لگانا بند کر دیجئے،غریدہ فاروقی
    صحافی و اینکر غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ واہ جی، ماہرنگ بلوچ صاحبہ۔۔ واہ ؛ شکریہ ریاست کے ہی بیانیے کو اپنانے کا اور خود ہی ثابت کرنے کا کہ ریاست سچ کہہ رہی تھی اور یہ کہ میرے سوالات اور میرا بیانیہ مبنی برحق تھا۔ “ایران میں جو لوگ مرے ہیں اٗن کے لواحقین یہاں دھرنے میں موجود ہیں” ؛ ماہ رنگ بلوچ،یہی تو ریاست کہہ رہی ہے کہ وہ عسکریت پسند اور شدت پسند ہیں جو گھر سے بھاگ کر باہر ممالک خصوصاً ایران اور افغانستان میں بیٹھے ہیں۔۔۔ اور یہ کہ یہ لوگ مسنگ پرسنز نہیں ہیں—!!! یہی تو کہا تھا، یہی تو بتایا تھا کچھ ہی عرصہ قبل ۔۔ اب ماہرنگ بلوچ صاحبہ کے اس اعتراف کے بعد یہ دھرنا تو برائے مہربانی لپیٹ دیجیے اور جھوٹ کا بازار مسنگ پرسنز کے سنجیدہ اور ہم مسئلے پر لگانا بند کر دیجئیے۔

    ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کو بڑا سرپرائز دیا ہے، پاکستانی افواج نے ایران کے اندر گھس کر کامیاب آپریشن کیا، متعدد دہشت گرد ہلاک ہو گئے، درجن کے قریب مقامات کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے پاکستان مخالف کاروائی کے پیچھے مقصد کیا ہو سکتا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہناتھا کہ پاکستانی افواج نے ایران پر حملہ کیا،ایران میں ایک سوگ کی صورتحال ہے، حملے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے، پہلی بات یہ ہے کہ ایران نے جن قوتوں کے کہنے پر پاکستان کے خلاف کاروائی کی، ایران کو یقین یا وہم تھا کہ کہ شاید پاکستان مؤثر ردعمل نہیں دے سکتا کیونکہ نگران حکومت ہے، لیکن ایران یہ بھول گیا کہ پاکستا ن ایٹمی قوت ہے، پاکستانی افواج اور خفیہ ایجنسی نے دنیا کے بڑے تنازعات کے اندر اپنی طاقت اور صلاحیت کا لوہا منوایا ہے،پاکستان کو امت مسلمہ کی مدد کی سزا کبھی نہیں دی جا سکتی، پاکستان نے ہمیشہ اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے کاروائی پر جہاں دنیا حیران تھی وہیں پاکستان میں دکھ اور غصے کی کیفیت تھی کہ کس طرح پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا، اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے، پاکستان ایران کو ہمسایہ، برادر ملک سمجھ کر ساتھ کھڑا رہا، ایران کے اس عمل سے امت مسلمہ کو نقصان پہنچا، ایرانی افواج پر حملے امریکہ اور اسرائیل کر رہے ہیں لیکن ایران شام ،عراق اور پاکستان پرحملے کر رہا ہے، ایران نے اسرائیل میں کتنی کاروائیاں کیں، کوئی بھی نہیں ، کیوں؟ نہ ہی اسرائیل کے خلاف آج تک کوئی کاروائی نہیں کی،ایران نے اسرائیلی کاروائیوں کو جواز بنا کر مسلمان ممالک کے خلاف محاذ‌بنا لیا ،پاکستان اس پر خاموش نہیں رہ سکتا تھا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ پاکستانی حملے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے، اس آپریشن کا نام مرگ برسرمچار رکھا گیا، اس میں مارے جانے والے بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے، پاکستان کی ایران میں گھس کر کامیابی کاروائی پاکستانی سیکورٹی اداروں کا منہ بولتا ثبوت ہے، دوست ممالک چاہتے تھےکہ معاملہ آگے نہ بڑھے تاہم پاکستان میں لازم ہو چکا تھا کہ اسی زبان میں جواب دے،پاکستان نے کہا تھا کہ اس کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے، پاکستان نے اپنا سفیر ملک واپس اور ایرانی سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا، ایران نے یہ کاروائی کر کے مسئلہ فلسطین سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی، جو انتہائی دکھ کی بات ہے ایران کی پاکستان مخالف کاروائی دے امت مسلمہ سمیت پوری دنیا میں تشویش پائی گئی ہے.

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

  • ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث تھے،آئی ایس پی آر

    ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث تھے،آئی ایس پی آر

    راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )نے ایران کے علاقے سیستان میں کیے جانے والے حملے پر کہا ہے کہ ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث تھے-

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 18 جنوری کی صبح پاکستان نے ایران میں اسٹرائکس کیں ، ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث تھے، پاکستان نے حملہ آور ڈرونز، راکٹس اور دیگر ہتھیاروں سے کارروائی کیں، سیستان میں بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کی پناہ گاہوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا، یہ آپریشن انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا اور اس آپریشن کا نام مرگ بر رکھا گیا تھا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے ٹھکانے بدنام زمانہ دہشتگرد استعمال کر رہے تھے، پاکستان کی مسلح افواج دہشتگردی کی کارروائیوں کے خلاف پاکستانی شہریوں کی حفاظت کویقینی بنانے کے لیے مستقل تیار ہے، ہمارا عزم ہے پاکستان کی علاقائی حدود کی خودمختاری کو ہر صورت میں محفوظ بنائیں گے، یہ پناہ گاہیں بدنام زمانہ دہشتگرد دوستہ عرف چیئرمین، بجرعرف سوغت، ساحل عرف شفق، اصغرعرف بشام اور وزیر عرف وزی سیت بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے مس ایڈونچر کے بارے میں ہمارا عزم غیر متزلزل ہے، عوام کی مدد سے پاکستان کے تمام دشمنوں کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور آگےبڑھنےکے لیے پڑوسی برادر ممالک سے دو طرفہ امور طے کرنےکے لیے بات چیت اور تعاون کو فروغ دیناچاہتے ہیں-

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

  • پاکستان کا منہ توڑ جواب، ایران میں دہشتگردوں کے سات ٹھکانوں‌ پر حملہ

    پاکستان کا منہ توڑ جواب، ایران میں دہشتگردوں کے سات ٹھکانوں‌ پر حملہ

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

    پاک فضائیہ حرکت میں آ گئی، ایران نے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی تو پاکستان نے پہلے سفارتی تعلقات منقطع کئے ، پھر ایران پر جوابی وار کرتے ہوئے حملہ کرتے ہوئے منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔

    ایران میں قائم دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کا کہنا ہے کہ ایران میں اس کے کیمپوں کو پاکستان نے نشانہ بنایا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، ایران میں پاکستانی فضائی حملوں میں بی ایل ایف کے کم از کم 20 عسکریت پسند ہلاک ہو ئے ہیں،پاکستان ائیر فورس نے ایران کے اندر سات مختلف مقامات پر دہشگردوں کی قیام گاہوں پر حملہ کیا ،بی ایل ایف اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایران نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا بہانہ بنا کر پاکستان کی سویلین آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ہمارے دو بچے شہید کئے۔جواب میں پاکستان نے انٹرنیشنل قوانین کی روشنی میں بھرپور ردعمل کا حق استعمال کرتے ہوئے بڑے نپے تلے انداز میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر جہنم واصل کیا اور ایران پر واضح کیا کہ نشانہ چونکتا ہو تو نشانہ لگانا نہیں چاہئیے۔

    جواب میں ایرانی میڈیا اب بھی شیطانی چالیں چلتے ہوئے حملے سے متعلق مسلسل ڈس انفارمیشن پھیلا رہا ہے۔ ایرانی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی حملے میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ میڈیا پر تباہی کے مناظر کی کچھ ویڈیوز اور تصاویر بھی اپلوڈ کی گئی ہیں

    https://twitter.com/MarkhorTweets/status/1747806434543472706

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر مارخور نامی ٹوئٹر ہینڈلر پر بتا یا گیا کہ پاکستان نے ایران میں موجود دہشت گرد BLA اور BLF کے ٹھکانوں کو بھرپور نشانہ بنایا ہے،پاکستان نے ایران کے اندر 7 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔تمام اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا،فوجی قیادت نے ہمارے آپریشن روم میں رہتے ہوئے دیکھا ، کوئی ایرانی شہری فوجی اہداف بشمول IRGC کو نشانہ نہیں بنایا گیا پاکستانی فوج تیار اور چوکس ہے ایران کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مزید اس طرح کی اشتعال انگیزی نہ دکھائیں-

    پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

    ایران نے حملہ کیا جس کی توقع نہیں تھی تا ہم پاکستان نے صبر کیا، ایران کو موقع دیا کہ وہ غلطی تسلیم کرے اور معافی مانگے، ایک دن انتظار کیا گیا تا ہم ایران نے معافی نہیں مانگی بلکہ ہٹ دھرمی جاری رکھی اور ایرانی وزرا نے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیئے،حالانکہ ایران کو واضح طور پر معذرت کے ساتھ جواب دینا چاہیے تھا اور فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنا چاہیے تھا۔ تاہم ایرانی مغرور ہمارے زخموں پر نمک چھڑکتا رہا، برادر ملک ایران پر جوابی وار کرنا پاکستان کے لیے سیاسی اور فوجی فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ لیکن مزید کشیدگی سے بچنے کی ذمہ داری پوری طرح ایران پر عائد ہوتی ہے۔ مزید اشتعال انگیزی کی صورت میں پاکستان کے پاس اس کو مزید آگے لے جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ ذمہ داری سے برتاؤ کریں، امت مسلمہ کو دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہے اور ہمیں اپنے آپ کو باہمی تصادم میں نہیں گھسیٹنا چاہیے جس میں بہت زیادہ لمبا ہونے کا امکان ہو۔

    ایران پر جوابی کاروائی، پاکستان نے آپریشن کا نام "مرگ بر،سرمچار” رکھا، ترجمان دفتر خارجہ
    پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشن مرگ بر، سرمچار پر پاکستان نے ایران کو جواب دے دیا ہے، پاکستان نے صبح ایران کے صوبے سیستان میں دہشت گردوں کی مخصوص پناہ گاہوں کو نشانا بنایا، پاکستان کی جوابی کاروائی میں متعدد دہشت گر مارے گئے ہیں،ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق سنگین خدشات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے نام نہاد سرمچار بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے،دہشت گرد ایران کے حکومتی عمل داری سے محروم علاقوں میں مقیم تھے، انٹیلی جنس معلومات پر کیے جانے والے اس آپریشن کا نام مرگ بر،سرمچار رکھا گیا،کارروائی پاکستان کے تمام خطرات کے خلاف قومی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کاغیر متزلزل عزم ہے

    پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا ،ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ آج صبح پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف انتہائی مربوط اور خاص طور پر ہدفی فوجی حملوں کا سلسلہ شروع کردیا، انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے، گزشتہ کئی سالوں کے دوران، پاکستان نے ایران کے اندر غیر حکومتی جگہوں پر اپنے آپ کو سرمچار کہنے والے پاکستانی نژاد دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں اپنے سنگین تحفظات کا مسلسل اظہار کیا ہے,پاکستان نے ان دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد کے ساتھ متعدد ڈوزیئرز بھی شیئر کیے ہیں,تاہم ہمارے سنجیدہ تحفظات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ نام نہاد سرمچار بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے, آج صبح کی کارروائی ان نام نہاد سرمچاروں کی طرف سے بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے میں مصدقہ انٹیلی جنس کی روشنی میں کی گئی,یہ کارروائی پاکستان کے تمام خطرات کے خلاف اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے, اس انتہائی پیچیدہ آپریشن کا کامیاب انعقاد بھی پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے, پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا ،پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتا ہے,
    آج کے عمل کا واحد مقصد پاکستان کی اپنی سلامتی اور قومی مفاد کا حصول تھا جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا,بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر، پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کو برقرار رکھتا ہے, اس میں رکن ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری شامل ہے,ان اصولوں کی رہنمائی میں، اور بین الاقوامی قانون کے اندر اپنے جائز حقوق کو بروئے کار لاتے ہوئے، پاکستان کبھی بھی اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو کسی بھی بہانے یا حالات میں چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گا, ایران ایک برادر ملک ہے اور پاکستانی عوام ایرانی عوام کے لیے بہت عزت اور محبت رکھتے ہیں,ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کی لعنت سمیت مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بات چیت اور تعاون پر زور دیا ہے, ہم مشترکہ حل تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے,

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کہتے ہیں کہ پاکستان نے ایران کی کاروائی کا بھرپور جواب دیا ہے۔ آج صبح تقریبا چھ بجے ایران کے اندر ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو تربیت یافتہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ پاک فضائیہ نے ایک ہی دن میں ایران کو انتہائی سخت اور موزوں جواب دیا ۔ ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو بیٹھ جائے، صبر کرے یا پھر جنگ کے لئے تیار رہے، انتخاب اب انہوں نے کرنا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایران جان لے کہ پاکستان نہ عراق ہے نہ شام۔ انہوں نے ہمارے امن کے اقدامات کو کمزوری کی علامت کے طور پر غلط شمار کیا۔ آج صبح پاکستان کی جانب سے جوابی کاروائی انہیں اٹھنے بیٹھنے اور سوچنے پر مجبور کر دے گا۔کل کے برعکس ارنا آج خاموش ہے،ان کی طرف سے ابھی تک کوئی خبر نہیں.

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

  • نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اہم سب سے اہم خبر جس کی ساری دنیا میں بحث ہو رہی ہے کہ ایران نے کل شام پاکستان کی فضائی حدود کی‌ خلاف ورزی کی اور میزائل حملے کئے، ان حملوں‌کا مقصد، ٹارگٹ کیا تھا، پاکستان کا جواب کیا ہے؟ پاکستان کا مخصوص طبقہ کیوں اس پر خوش ہے؟ پاکستان کی قومی سلامتی انکو کیوں نظر نہیں آتی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ پاکستانی وزیراعظم ڈیوس میں ہیں، انکی مختلف رہنماؤں سے ملاقات ہوئی،امریکی خصوصی نمائندے جان کیری اور ایرانی وزیر خارجہ سے بھی ملاقات ہوئی، رات کو ایک دھماکے دار خبر آئی کہ پاکستان پر ایران نے میزائل حملہ کیا اور جیش العدل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جب تک ایران کے سرکاری میڈیا نے اس خبرکو کنفرم نہیں کیا تب تک پاکستان نے کوئی ردعمل نہیں دیا، کافی دیر بعد دفتر خارجہ کا ردعمل آیا،جس میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں ادریس نامی شخص کی دو بچیاں شہید، تین زخمی ہوئیں ایسا کرنا تشویشناک ،غیر قانونی عمل ہے، پاکستان ایران کے مابین رابطے کے متعدد چینل ہونےکے باوجود یہ ہوا، پاکستان نے ایران کے ساتھ شدید احتجاج ریکارڈ کروایا،ایرانی ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلایا گیا، اسکے نتائج کی ذمہ داری ایران پر ہو گی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلا سوال کہ جیش العدل ہے کیا، جیش العدل ایک مسلح عسکریت پسند گروہ ہے جو ایران کا مخالف ہے اور سنی تنظم کے طور پر متعارف کروایا گیا، یہ سیستان اور بلوچستان میں سنی حقوق کا پاسبان کہلاتا ہے، 2009 میں جنداللہ کے سربراہ کو گرفتارو پھانسی دینے کے چند دن بعد اس کا نام سامنے آیا،گزشتہ برسوں کے دوران اس گروہ نے ایران کی فوج کے ساتھ جھڑپیں کیں،کئی مسلح حملے کئے،ایران نے اسے جیش الظلم کا نام بھی دیا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایران پہلے بھی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کر چکا ہے، پاک فضائیہ کے طیارے نےپہلے ایک ایرانی طیارے کو گرایا تھا، ایران کے جنوب مشرق میں ایک پولیس سٹیشن پر گزشتہ ماہ حملے کے بعد بھی پاکستان، ایران کے حالات کشیدہ ہوئے تھے،لیکن پھر معاملات ٹھیک ہو گئے، کل رات ہونے والا حملہ معمولی بات نہیں، رات گئے بغیر بتائے میزائیل داغے گئے اور کوئی اس پر خاموش نہیں رہ سکتا، پاکستان کا ایران پر حملہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں،پاکستان کو ایران پر حملے سے بین الاقوامی سپورٹ بھی ملے گی، ایران کے حمایتی حوثیوں نے امریکہ کی ناک میں دم کیا ہوا ہے، اگر پاکستان نے حملہ کیا تو شاباش امریکہ سے آئے گی، پاکستان ہمیشہ امت کے مفاد میں سوچتا ہے، ایران کے معاملے میں نرمی رکھتا ہے، اس وقت مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے، اسرائیل سمیت تمام ممالک چاہتے ہیں کہ مسلمان ممالک آپس میں لڑ پڑیں، انڈیا کو بھی اس میں فائدہ ہے، اسوقت انڈیا سب سے زیادہ خوش ہے، ایک اور بھی ہے جو سب سے زیادہ خوش ہے اور وہ پاکستان میں ہیں، پاکستان کی سب سے بڑی ،مقبول سیاسی جماعت سمجھتے ہیں، اقتدار میں آنے کے لئے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں یہ پاکستان تحریک انصاف کے لوگ ہیں جو رات کو حملے پر جشن مناتے رہے، وہ ایسی باتیں کرتے رہے جو میں دہرانہیں سکتا یہ وہ نسل ہے جو عمران خان نے تیار کی، جو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہی ہے.ٹویٹر پر فیک اکاؤنٹ بنایا گیا پھر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صحافی بھی ٹویٹ کرتے رہے لوگ اپنے اندر کا زہر اگلتے رہے انکا لیڈر بھی ایسا ہے، جب ایران کے دورے پر گیا تو بھونڈا بیان دیا کہ پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرنی ہو گی، کبھی یہ لوگ عدلیہ پر چڑھ دوڑتے ہیں، قانون سے بالاتر یہ کیوں سمجھتے ہیں ؟

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

  • عمران خان،  پرویز الہیٰ،حماد اظہر ،صنم جاوید،انتخابات سے”آؤٹ”

    عمران خان، پرویز الہیٰ،حماد اظہر ،صنم جاوید،انتخابات سے”آؤٹ”

    لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی۔لاہور ہائیکورٹ نے آر او اور ایپلیٹ ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔بانی پی ٹی آئی کے این اے 122 اور این اے 89 سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے تھے۔

    حماد اظہر بھی آؤٹ، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا فیصلہ برقرار
    حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حماد اظہر کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی۔حماد اظہر نے این اے 129 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،لاہور ہائیکورٹ نے آر او اور ایپلیٹ ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

    ریحانہ ڈار کے کاغذات نامزدگی منظور
    لاہور ہائیکورٹ نے ریحانہ ڈار کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے ،عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ ڈار نے این اے 71 اور پی پی 46 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ،نصیر احمد نے ریحانہ ڈار کے کاغذات نامزدگی منظوری کے اقدام کو چیلنج کیا تھا،عدالت نے ریحانہ ڈار کے کاغذات پر عائد مسترد کردیے تھے،

    لاہور ہائیکورٹ: پرویز الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا گیا،عدالت نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست خارج کر دی،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا

    فواد چودھری، حبا چودھری بھی الیکشن کے لئے نااہل قرار
    لاہور ہاٸیکورٹ: فواد چوہدری کی اہلیہ حبہ چوہدری کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا گیا،عدالت نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست خارج کر دی،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا،فواد چودھری کو بھی الیکشن کے لئےنااہل قرار دے دیا گیا

    لاہور ہاٸیکورٹ: شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا گیا،عدالت نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست خارج کر دی،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا

    لاہور ہائیکورٹ نےصنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا،عدالت نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست خارج کر دی،جسٹس علی باقر نجفی ک سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا

    خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد
    لاہور ہائیکورٹ میں خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،فل بینچ نے خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے۔لاہور ہائیکورٹ نے آر او اور ایپلیٹ ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • ایرانی حملہ، پاکستان کا سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان

    ایرانی حملہ، پاکستان کا سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان

    ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے

    پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔گزشتہ رات ایران نے بلوچستان کے علاقے پنجگور میں فضائی حملہ کیا جس میں دو بچے جاں بحق اور تین شدید زخمی ہوئے ہیں۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی

    واضح رہے کہ ایران نے پاکستان کے اندر بلوچ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے دو ٹھکانوں کو میزائلوں سے ہدف بنایا ،ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ ایران نے پاکستان کے اندر بلوچ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے دو ٹھکانوں کو میزائلوں سے ہدف بنایا ،دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کر لیا،دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

  • بلوچستان پر حملہ،ایرانی جارحیت کا کھلا ثبوت،ایران کی وضاحتیں، پاکستان کی سخت تنبیہہ

    بلوچستان پر حملہ،ایرانی جارحیت کا کھلا ثبوت،ایران کی وضاحتیں، پاکستان کی سخت تنبیہہ

    ایران کی طرف سے سولہ جنوری کو تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہُوئے پاکستان کی بِلا اشتعال فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا،پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت ہے جسکو چھپانے کے لئے جیش العدل کی فیک اور جھوٹی اسٹیٹمنٹس کا سہارا لیا گیا،حملے کے فوری بعد آئی آر جی سی نے اِس حملے کا جواز پیدا کرنے کے لئیے جیش العدل سے منسوب ایک وٹس ایپ بیان ایشو
    کیا تاکہ یہ بیانیہ بنایا جا سکے کے یہ حملہ واقعی جیش العدل کے کیمپ پر ہوا ہے، لیکن پاکستان کا ری ایکشن دیکھ کر ایران کو اپنے اِس غلط اور بے تکی حرکت کا اندازہ ہو گیا ،جیش العدل جسے آئی آر جی سی خود چلا رہی ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کے کسی طرح اِس مسئلے سے جان چھڑائی جائے اِسی لئیے جیش العدل سے دوبارہ جھوٹا بیان دلوایا گیا کہ یہ راکٹس غلطی سے بارڈر کراس کر پاکستان چلے گئے جبکہ اصل میں نشانہ سستان، ایران کے اندر ہی واقع جیش العدل کے اپنے کیمپ تھے

    یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کے ایک دہشت گرد تنظیم خُود آئی آر جی سی کی طرف سے فائر کئے جانے والے راکٹس غلطی سے بارڈر کراس کرنے کی وضاحتیں دے رہی ہے،اِس سے صاف پتہ چلتا ہے کے یہ جیش العدل سے منسوب اکاؤنٹس آئی آر جی سی اور ایرانی انٹیلیجنس خود چلا رہی ہے،حقیقت تو یہ ہے کے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے کیمپس بھی ایران میں موجود ہیں- کلبوشن یادیو بھی ایران سے آپریٹ کرتا رہا ہے،ایران کا یہ خیال کے پاکستان اِس واقع کو کسی بھی صورت نظر انداز کرے گا اُسکی بہت بڑی بھول ہے،

    ایران پاکستان مشترکہ بارڈر ٹریڈ کمیٹی کا اجلاس روک دیا گیا
    دوسری جانب پاکستان اور ایران کے مابین آج مشترکہ بارڈر ٹریڈ کمیٹی کا اجلاس اس وقت روک دیا گیا جب پاکستان نے ایران کے چاہ بہار سے اپنا وفد واپس بلا لیا۔یہ فیصلہ گزشتہ روز ایران کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد کیا گیا، جس سے طے شدہ میٹنگ کے دوران تجارت کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط سمیت متوقع پیش رفت میں خلل پڑا،

    ایرانی حملے میں شہید کمسن بچیوں کی تصاویر،تفیصلات سامنے آ گئیں
    دوسری جانب ایرانی حملے میں شہید اور زخمی ہونے والے بچوں کے نام اور تصاویر سامنے آ گئی ہے، ایرانی حملے میں چار سالہ حمیرہ، اور دو سالہ سلمی کی موت ہوئی ہے جبکہ جمیلہ،عاصمہ، لالو زخمی ہوئی ہیں،واقعہ کے بعد پاکستان نے ایران کو سخت انتباہ جاری کیا ہے،پاکستان نے کہا ہے کہ "نتائج کی ذمہ داری اب مکمل طور پر ایرانیوں پر ہے”پاکستان کی ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور ایران نے متعدد بار پاکستانی سرحدوں اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔
    جون 2017 میں، پاکستان نے F-17 تھنڈر طیارے کا استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ایک ایرانی ڈرون کو کامیابی سے روکا تھا

    iran

    واضح رہے کہ ایران نے پاکستان کے اندر بلوچ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے دو ٹھکانوں کو میزائلوں سے ہدف بنایا ،ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ ایران نے پاکستان کے اندر بلوچ عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے دو ٹھکانوں کو میزائلوں سے ہدف بنایا ،دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کر لیا،دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

  • دوران عدت نکاح کیس، ہم اسٹے آرڈر جاری نہیں کرتے ، عدالت

    دوران عدت نکاح کیس، ہم اسٹے آرڈر جاری نہیں کرتے ، عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: دوران عدت نکاح کیس کے خلاف بشری بی بی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی،وکیل خاور مانیکا راجہ رضوان عباسی روسٹرم پر آ گئے،راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ پہلے شکایت حنیف نامی شخص نے دائر کی تھی ، بشری بی بی کے وکیل سلمان اکرم راجہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے،بشری بی بی کی جانب سے وکیل شعیب شاہین بھی عدالت میں پیش ہوئے، وکیل رضوان عباسی نے درخواست پر اعتراض اٹھا دیا ،کہا کہ اس طرح کی پہلے بھی ایک درخواست دائر ہے ، حنیف نامی شخص کی شکایت کے خلاف درخواست بینچ ون میں زیر التواء ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ وہ درخواست غیر موثر ہو گئی ہے ہم وہ واپس لیتے ہیں،

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ درخواست واپس لینے کا آرڈر کہاں ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ واپس لینے کا آرڈر تو نہیں ہے لیکن ہم وہ درخواست واپس لیتے ہیں ، وکیل سلمان اکرم راجہ نےوکیل شعیب شاہین کو خاموش رہنے کی ہدایت کی، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ درخواست میری ہے خاور مانیکا کی شکایت کے خلاف ہے،آپ میری درخواست سنیں ، جیل میں روزانہ سماعت ہو رہی ہے ، فیصلہ ہو جائے گا ، وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ اگر پہلے درخواست چیف جسٹس کے پاس ہے تو یہ کیس بھی وہیں بھیج دیں ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جب وہ درخواست ہی واپس ہو گئی ہے تو دوسرے بینچ میں بھیجنے کا کیا مقصد ، وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس جو درخواست ہے اس میں وکیل شیر افضل مروت ہیں ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہم جب کہہ رہے کہ ہم نے واپس لے لی ہے وہ درخواست تو کیوں بھیجیں ،جب درخواست واپس لے لی تو آپ اس درخواست کو سنیں ، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ ہم پھر اسٹے آرڈر جاری کردیتے ہیں ، تب تک آپ اس کو دیکھ لیں ،وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ آپ اسٹے آرڈر نہ جاری کریں ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چلیں ہم اسٹے آرڈر جاری نہیں کرتے آپ کہہ دیں آپ گواہوں کے بیانات نہیں کرینگے ،وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ہم انڈر ٹیکنگ دیتے ہیں کہ کل بیانات رکارڈ نہیں کرائیں گے ،اگر پہلی درخواست چیف جسٹس کے پاس ہے تو یہ بھی وہی بھیج دیں ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے فائل چیف جسٹس عامر فاروق کو بھجوا دی

    خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ جب ایک شکایت ہی واپس ہو گئی تو یہ اس کے خلاف دائر درخواست بھی واپس لے لیتے،عدت میں نکاح نہیں ہوا تو دوسرا نکاح کیوں پڑھایا گیا تھا؟ہمارے پاس نکاح پڑھنے والے گواہ ہیں جو کہتے ہیں نکاح دوسری مرتبہ بھی پڑھوایا گیا،

    عدت میں نکاح کے کیس میں بشری بی بی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے حکم امتناع خاور مانیکا کے وکیل کی اس یقین دہانی کے ساتھ نہیں مل سکا کہ وہ کل ٹرائل کورٹ میں گواہ پیش نہیں کریں گے

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ ،بانی تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے عدت کے دوران نکاح کے کیس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایڈیشنل سیشن جج ایسٹ کا گیارہ جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، بشری بی بی اور ان کے قانون شوہر کیخلاف درخواست بدنیتی پر مبنی ہے،عدت کے دوران نکاح کے کیس کو خارج کرنے کا حکم دیا جائے،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے،بشریٰ بی بی نے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام اباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرائی ، درخواست میں کہا گیا کہ عدالتوں نے عدت میں نکاح کو بے قاعدہ کہا، ختم نہیں کیا گیا۔ قرار دیا کہ عدت میں نکاح بے قاعدہ شادی ہے جو عدت کی مدت مکمل ہونے پر باقاعدہ ہو جائے گی عدت میں نکاح کو غیر اسلامی یا شریعت کیخلاف قرار نہیں دیا گیا، بشری بی بی کی درخواست میں اعلی عدالتوں کے فیصلوں کے حوالہ جات دیئے گئے.

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،