Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پانچ کروڑ کا جرمانہ نہیں دیا،الیکشن نہ لڑیں گھربیٹھیں، چیف جسٹس،درخواست مسترد

    پانچ کروڑ کا جرمانہ نہیں دیا،الیکشن نہ لڑیں گھربیٹھیں، چیف جسٹس،درخواست مسترد

    سپریم کورٹ نے جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار عبدالحفیظ لونی کو الیکشن لڑنے سے روک دیا

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 252 سے انتحابات میں حصہ لینے سے متعلق کیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ نے جے یو آئی امیدوار عبدالحفیظ کی اپیل مسترد کردی اور الیکشن ٹربیونل اور بلوچستان ہائیکورٹ کا کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا،وکیل نے عدالت میں کہا کہ عبدالحفیظ لونی کی نیب کیس میں سزا پوری ہوچکی، الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا مؤکل صرف 2 سال اور 2 ماہ جیل میں رہا، نیب کورٹ نے 10 سال کی سزا اور 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا تھا،آٹھ سال تک آپ کا مؤکل پے رول پر جیل سے باہر رہا، آپ کے مؤکل نے 5 کروڑ کا جرمانہ ادا نہیں کیا، ایسے لوگ بلوچستان کے عوام کی نمائندگی نہ کریں، الیکشن نہ لڑیں گھر بیٹھیں، الیکشن میں آپ کا خرچہ ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ 5 کروڑ کا جرمانہ ادا نہ کرنے پر اس کی جائیداد ضبط ہونی چاہیے

  • کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر پرویز الہیٰ نے سپریم کورٹ میں کی اپیل

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر پرویز الہیٰ نے سپریم کورٹ میں کی اپیل

    سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ،پرویز الٰہی نے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،اپیل میں الیکشن کمیشن، الیکشن ٹربیونل کو فریق بنایا گیا ہے،اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا 13 جنوری 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، امیدوار محمد سلیم کے اعتراضات کی بنیاد پر میرے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے، مجھ پر اعتراض اٹھایا گیا کہ لاہور ماڈرن آٹا ملز میں میرے شیئر ہیں، جن فلور ملز کا الزام لگایا گیا وہ ناصرف غیر فعال ہے بلکہ اس کے نام پر کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں کھولا گیا، اس فلور مل کے شیئر میں نے کبھی نہیں خریدے، غیر فعال فلور مل اثاثہ نہیں ہوتی، اس فلور مل کی بنیاد پر مجھے الیکشن لڑنے سے روکا نہیں جا سکتا،

    درخواست میں کہا گیا کہ یہ اصول طے شدہ ہے کہ ہر ظاہر نہ کرنے والے اثاثے پر نااہلی نہیں ہو سکتی،کسی اثاثے کو ظاہر نہ کرنے کے پیچھے اس کی نیت کا جانچنا ضروری ہے، جو شیئر میرے ساتھ منسوب کیے جا رہے ہیں ان کی کل مالیت 24850 روپے بنتی ہے،میں نے اپنے کل اثاثے 175 ملین روپے ظاہر کیے ہوئے ہیں،ان اثاثوں میں 57 ملین روپے سے زائد نقد رقم بھی ظاہر کی گئی ہے،میرے لیے اتنے معمولی شیئر نہ ظاہر کرنا بدنیتی قرار نہیں دی جا سکتی، یہ اعتراض بھی لگایا گیا کہ میں نے اسلحہ کے 7 لائسنس ظاہر نہیں کیے،کاغذات نامزدگی میں اسلحہ لائسنس ظاہر کرنے کا کوئی کالم ہی نہیں ہے،

  • ہر پوسٹر پر  عمران خان کی تصاویر ، بلّا اہم نہیں، لوگ  عمران خان کو جانتے ہیں،ممبر الیکشن کمیشن

    ہر پوسٹر پر عمران خان کی تصاویر ، بلّا اہم نہیں، لوگ عمران خان کو جانتے ہیں،ممبر الیکشن کمیشن

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر کیس کی سماعت انتخابات کے بعد تک ملتوی کر دی گئی

    عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ہوئی،ممبر الیکشن کمیشن سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے سماعت کی،وکیل شعیب شاہین اور فیصل چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے مطابق حاضری لگانے آ گیا ہوں، میری درخواست ہے کہ سماعت ملتوی کر دی جائے،لاء ونگ نے کہا کہ گواہان کے بیانات اور شواہد ریکارڈ ہونے ہیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ 8 فروری کے بعد سماعت رکھ لیں، انتخابات تک کمیشن بھی مصروف ہے، تاثر جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک جماعت کے خلاف ہے، ممبر الیکشن کمیشن خیبر پختون خوا نے کہا کہ ہم پارٹی نہیں ہیں،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ مختلف جگہوں پر دفعہ 144 لگا دی ہے، جلسے جلوس نہیں کرنے دیے جا رہے، تحریک انصاف کا انتخابی نشان بھی چھین لیا گیا،ممبر الیکشن کمیشن خیبر پختون خوا نے کہا کہ بلّے کے بغیر بھی الیکشن لڑا جا سکتا ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عوام کو یہ بات کیسے سمجھائیں،ممبر الیکشن کمیشن کے پی نے کہا کہ شعیب صاحب آپ کے ہر پوسٹر پر عمران خان کی تصاویر لگی ہیں، بلّا اہم نہیں، لوگ عمران خان کو جانتے ہیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کو تیار ہیں، نشان لے کر پانچ سال کے لیے پارٹی تحلیل کردی گئی، الیکشن کمیشن گواہوں کے بیانات 15 فروری کے بعد قلم بند کرے،ممبر اکرام اللّٰہ خان نے کہا کہ ایک سال سے زائد ہو گیا کیس میں التواء پر التواء ہو رہا ہے، وکیل شعیب شاہین کی درخواست پر سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی

    صحافی حافظ طاہر خیلیل کا توہین الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف سلطانی گواہ بننے سے صاف انکار
    سینئر صحافی حافظ طاہر خیلیل نے توہین الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف سلطانی گواہ بننے سے صاف انکار کر دیا،حافظ طاہر خلیل کا کہنا تھا کہ میں اس کیس متعلق کچھ نہیں جانتا ،مجھے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں،میں اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کسی سیاستدان کے خلاف گواہ بنوں،صحافی جو سوچتا ہے وہ لکھ دیتا ہے،ہم کسی عدالت میں جانے کے روادار نہیں ہیں،میں نے اخبار میں مضمون لکھا اور میں اس کے ساتھ کھڑا ہوں،میں نے ماضی میں بھی ممتاز بھٹو کے خلاف گواہ بننے کی بجائے استعفی دینا مناسب سمجھا تھا،میں پوچھوں گا کہ میری مرضی کے بغیر الیکشن کمیشن نے نام کیوں استعمال کیا،میں نے گزشتہ سماعت پر بھی واضح کیا تھا کہ سوائے ارٹیکل کی وضاحت کے کوئی گواہی نہیں دوں گا،توہین الیکشن و کمشنر کیس میں بطور گواہ سینئر صحافی طاہر خلیل کا نام بطور گواہ سامنے آیا تھا

  • سائفر کیس،دوران سماعت شاہ محمودقریشی اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    سائفر کیس،دوران سماعت شاہ محمودقریشی اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    سائفر کیس کی سماعت دوران شاہ محمود قریشی پراسیکیوٹر پر برہم ہوگئے اور دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،دوران سماعت تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ جج صاحب کی گارنٹی پر میرے ساتھ ہاتھ ہوا ہے تصدیق نہ ہونے کے باعث این اے 150، این اے 151 اور پی پی 218 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے،میں نے کاغذات نامزدگی کی تصدیق کا کہا تو جج صاحب نے کہا میرا حکم نامہ ساتھ لگا دو، جج صاحب کے حکم نامے کے باوجود میرے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے،جسٹس ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب ہم نے قانونی طریقہ کار پورا کردیا تھا.

    اس دوران پراسیکیوٹر بولے تو شاہ محمود قریشی غصے میں آگئے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اپنے بنیادی حقوق کی بات کر رہا ہوں، یہ بیچ میں کیوں بول رہے ہیں؟ جس کے بعد شاہ محمود قریشی اور پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔شاہ محمود قریشی نے پراسیکیوٹر کو کہا کہ تم اوپر سے آئے ہو، کون ہو تم، تمہاری کیا اوقات ہے؟ پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے شاہ محمود قریشی کو جواباً کہا کہ تمہاری کیا اوقات ہے؟ جج شاہ محمود قریشی کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست جمع کرائی، جس پر جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا کہ یہ آپ کا حق ہے، ہم اس درخواست کو دیکھ لیتے ہیں، آپ کے جو حقوق ہیں وہ آپ کو ملیں گے،

    آج دوران سماعت سائفر کیس میں استغاثہ کے مزید 6 گواہوں کے بیان قلم بند کیے گئے، مجموعی طور پر 25 گواہوں کے بیان قلم بند کر لیے گئے ہیں،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء کل سے گواہوں پر جرح کا آغاز کریں گے،عدالت نے سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید کا سائفر کیس میں بیان قلمبند کر لیا گیا، اسد مجید نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پاکستان ہاؤس میں ہونے والی ملاقات اور بات چیت کو سائفر کے ذریعے سیکرٹری خارجہ کو بھجوائی گئی، دونوں سائیڈز کو معلوم تھا کہ میٹنگ کے منٹس لیے جا رہے ہیں، خفیہ سائفر ٹیلی گرام میں "خطرہ” یا "سازش” کے الفاظ کا کوئی حوالہ نہیں تھا، مجھے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں بھی بلایا گیا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں ڈی مارش ایشو کرنے کا فیصلہ ہوا، میں نے ڈی مارش ایشو کرنے کی تجویز دی تھی، سائفر معاملہ پاکستان امریکہ تعلقات کیلئے دھچکا ثابت ہوا.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • جیل ٹرائل ان کیمرا ٹرائل نہیں ہوتا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    جیل ٹرائل ان کیمرا ٹرائل نہیں ہوتا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ اور 190 ملین پائونڈ کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نےسماعت کی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل منور اقبال دگل اور نیب اسپیشل پراسیکیوٹر امجد پرویز ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اسی نوعیت کے ایک کیس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلہ دے رکھا ہے،مناسب ہو گا کہ یہ کیس بھی اُسی عدالت میں منتقل کر دیا جائے، ہماری استدعا ہے کہ دونوں مقدمات کے ٹرائل پر حکمِ امتناعی جاری کر دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل ٹرائل ان کیمرا ٹرائل نہیں ہوتا، صرف وہ پیرامیٹرز دیکھنے ہیں کہ جیل ٹرائل کے طریقہ کار کو فالو کیا گیا یا نہیں،یہ نیب کیس ہے، ہم نے دیکھنا ہے کہ کیا نیب لا میں کچھ الگ ہے؟اٹارنی جنرل کو آنے دیں، ہم اس کو دیکھ لیتے ہیں،

    جیل ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا

    نوٹیفکیشن ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل جیل میں کیا جائے، ریفرنس ابھی آیا ہی نہیں تھا تو آپکو کیسے پتہ چلا کہ دائر ہونا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    دوبارہ سماعت ہوئی، اٹارنی جنرل عدالت پیش ہوئے،عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے کیس دوبارہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل بینچ کو منتقل کرنے کی استدعا کر دی،شعیب شاہین نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پہلے اسی نوعیت کے کیس پر فیصلہ دے رکھا ہے کیس اُسی بنچ کو دوبارہ بھیج دیا جائے جو پہلے سُن رہا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے چھٹی سے واپس آنے تک دونوں مقدمات کے ٹرائل پر حکمِ امتناعی جاری کر دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ حکمِ امتناعی جاری نہیں کرتے، کیس ایسے ہی اُس بنچ کو بھیج دیتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اِس عدالت کے سامنے تمام فریقین موجود ہیں، یہاں دلائل کیوں نہیں دینا چاہتے؟وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اُس بنچ نے پہلے اِس نوعیت کی درخواست پر فیصلہ دے رکھا ہے اس لئے کیس منتقل کرنے کی استدعا کی باقی ہم نے بنچ پر اعتراض نہیں کیا یہاں دلائل دینے کیلئے بھی تیار ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے دلائل شروع کریں ہم دیکھ لیں گے کہ وہ فیصلہ نیب کیس میں بھی متعلقہ ہے یا نہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے جیل ٹرائل کیلئے خط کب لکھا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب نے 13 نومبر کو خط لکھا اور سمری 14 نومبر کو بھیجی گئی،عدالت نے استفسار کیا کہ نیب نے ریفرنس کب دائر کیے؟وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایک ریفرنس 4 جبکہ دوسرا 20 دسمبر کو دائر کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت نے ریفرنسز دائر ہونے سے پہلے جیل ٹرائل کی منظوری دیدی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن عدالت کے جیل سماعت کیلئے تھے ٹرائل کیلئے نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل جیل میں کیا جائے، ریفرنس ابھی آیا ہی نہیں تھا تو آپکو کیسے پتہ چلا کہ دائر ہونا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرائل کا لفظ لکھنا غلطی ہو سکتی ہے، جیل سماعت کیلئے نوٹیفکیشن کیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    سپریم کورٹ،سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،لارجر بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں،خواجہ حارث روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اور عرفان رامے کا وکیل ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ نے کوئی جواب جمع کروایا ہے؟ کیا آپ نے اپنے اوپر لگے الزامات مانے ہیں ہیں مسترد کئے ہیں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنے سابق رجسٹرار کو بھی نوٹس جاری کیا تھا،

    وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ میں سابق چیف جسٹس انوار کانسی کی نمائندگی کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان سے استفسارکیا کہ خان صاحب اب اس کیس کو کیسے چلائیں ؟ حامد خان نے کہا کہ میرا کیس واضح ہے کہ جوڈیشل کونسل کو انکوائری کرنی چاہیے، جوڈیشل کونسل کی کاروائی کے دوران ہمیں ہمارے گواہان پیش کرنے کی اجازت دی جائے،فیض حمید الزامات کی تردید کر رہے ہیں، یہی ہمارا کیس ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو پہلے انکوائری کروانا چاہئے تھی، انکوائری میں ہمیں فیض حمید پر جرح کا موقع ملتا، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا انکوائری کی گئی تھی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب شوکت صدیقی نے تقریر تسلیم کر لی تھی تو انکوائری نہیں کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کہہ چکے حقائق کی انکوائری نہیں ہوئی،

    کیل حامد خان کی شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کی استدعا
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شوکت عزیز صدیقی کیس حل کیا ہے ؟ حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کالعدم کر دیں تو پھر بغیر انکوائری یہ سمجھا جائے گا آپ کے الزامات درست ہیں ،حامد خان نے کہا کہ پھر آپ سپریم جوڈیشل کونسل کو ریمانڈ بیک کر دیں ، وکیل حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کی استدعا کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں عدلیہ کی آزادی اور اداروں کی ساکھ کا معاملہ ہے، ہم ایک سکے کو ہوا میں پھینک کر فیصلہ نہیں کر سکتے ۔اگر شوکت صدیقی کے الزامات سچے نہیں تو کیا ہوگا؟شوکت صدیقی جو کہہ رہے ہیں مخالف فریق اسے جھٹلا رہے ہیں،کون سچا ہے کون نہیں یہ پتا لگانے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟انکوائری میں اگر ثابت ہو آپ کے الزامات درست ہیں کیا پھر بھی عہدے ہٹایا جا سکتا ہے؟ہمیں مسئلے کا حل بھی ساتھ ساتھ بتایا جائے،اگر انکوائری کے بعد الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو کیا جج کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار رہے گا،جن پر الزامات لگایا گیا ہم نے انکو فریق بنانے کا کہا،اب سچ کی کھوج کون لگائے گا؟ہم مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں، دوسری طرف سے یہ بات ہو سکتی ہے کہ الزامات کو پرکھا ہی نہیں گیا،

    مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آگے کیسے بڑھیں دونوں فریقین میں سے کوئی سچ سامنے نہیں لارہا،پوری قوم کی نظریں ہم پر ہیں ،یہاں آئینی اداروں کی تکریم کا سوال ہے،ان حالات میں سوال یہ ہے کہ ہم کیا حکمنامہ جاری کریں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر الزامات درست بھی ہیں تو کیا شوکت عزیز صدیقی کا بطور جج طریقہ کار مناسب تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر بھی دو طرح کی ہوتی ہیں،جج پر تقریر کرنے پر پابندی نہیں ہے، ایسا ہوتا تو بار میں تقاریر پر کئی ججز فارغ ہوجاتے،مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے،برطانیہ میں ججز انٹرویو بھی دیتے ہیں، امریکہ میں سپریم کورٹ ججز مباحثوں میں بھی حصہ لیتے ہیں،کیا عدالت خود اس معاملے کی تحقیقات کر سکتی ہے؟بلاوجہ الزام لگانا کسی حکومت کے ماتحت ادارے پر بھی اچھی بات نہیں، جس پر الزام لگایا گیا میں اسے ادارہ نہیں بلکہ حکومت کے ماتحت ادارہ کہوں گا،

    شوکت عزیز صدیقی پر ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کا الزام لگا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس آئینی طور پر ریمانڈ ہوسکتا ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس واپس نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت عزیز صدیقی ریٹائر ہوچکے، بطور جج بحال نہیں ہوسکتے،سپریم جوڈیشل کونسل اب شوکت عزیز صدیقی کا معاملہ نہیں دیکھ سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم ہوئی تو الزامات درست تصور ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ فیض حمید پر تقریر میں کوئی الزام لگایا گیا نہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے، جوڈیشل کونسل نے کہا عزیز صدیقی نے عدلیہ کو بے توقیر کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ کی بے توقیری کا معاملہ کہاں سے آ گیا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کو پبلک میں جا کر تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی پر ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کا الزام لگا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کو عوامی اور سیاسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے شہرت حاصل کرنے کیلئے تو تقریر نہیں کی ہوگی،

    تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں،چیف جسٹس
    وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پوری انکوائری کالعدم قرار دیکر معاملہ دوبارہ کونسل کو بھیجا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ ایسا کر سکتی ہے، وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کونسل نے مکمل انکوائری ہی نہیں کی، وکیل فیض حمید نے کہا کہ معاملہ دوبارہ کونسل کو نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج مدت بھی ختم ہو چکی، جو الزامات لگائے گئے وہ باتیں نہ کونسل کے جوابات میں کہی گئیں نہ ہی تقریر میں آئیں، شوکت عزیز صدیقی کی اپنی تقریر ہی کافی ہے کہ انھوں نے مس کنڈکٹ کا مظاہرہ کیا،تقریر میں عدلیہ کی تضحیک کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں، آپ ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ پڑھ لیں،

    عدالت جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے تو شوکت صدیقی ریٹایرڈ جج تصور ہونگے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان چیف جسٹس کے طلب کرنے پر کمرہ عدالت پہنچ گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی چیلنج نہیں ہوسکتی،اگر عدالت جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے تو شوکت صدیقی ریٹایرڈ جج تصور ہونگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کو تسلیم نہیں کیا گیا،سوال یہی ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کی اپیل منظور ہوجائے تو نتائج کیا ہونگے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جج کیخلاف ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ پہلے شکایت آئے اور بغیر انکوائری برطرفی کی سفارش ہو تو کیا ہوگا؟کیا جج کے پاس اپنی صفائی دینے کیلئے کوئی فورم نہیں ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس نکتے کو طے کرنے کی ضرورت ہے کہ جوڈیشل کونسل جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کیس سن سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تمام فریقین تسلیم کر رہے ہیں مکمل انکوائری نہیں ہوئی،جب کسی جج کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو پوچھا جاتا ہے اسکا شفاف ٹرائل کا حق کہاں جائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کسی بغیر تحقیقات کیے کسی کو ہوا میں اڑا دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو بغیر انکوائری ہٹانا طے شدہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے،

    جسٹس ر انور کاسی کے وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ کو کیس ریمانڈ بیک کرنے سے آئین نہیں روکتا، عدالت مکمل انصاف کے دائرہ اختیار میں بھی جا سکتی ہے، حامد خان نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا جہاں جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا گیا، ایک تفصیلی فیصلہ آنا چاہئے جج کو ہٹانے سے پہلے انکوائری کیوں ضروری ہے، 1956 اور 1962 کے آئین میں صدارتی ریفرنس کے بغیر جج کو ہٹایا نہیں جا سکتا تھا،1973 کے آئین میں بھی پہلے یہی شرط تھی ،2005 میں پہلی بار آئین میں صدارتی ریفرنس کے علاوہ طریقہ کار متعارف کرایاگیا،

    جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ شوکت صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا،کیا جب کونسل ازخود کارروائی کرے تو بھی انکوائری کرنا ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کونسل نے خود کیسے کارروائی کا آغاز کیا ہمیں رجسٹرار آفس کا نوٹ دکھائیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ سیکرٹری کونسل کیسے ہو سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کونسل نے ہی سیکرٹری کونسل کو کہا ہو، کونسل میں کتنی مرتبہ کیس لگا،حامد خان نے کہا کہ صرف ایک مرتبہ کیس لگا جس میں شوکت صدیقی کو بلایا گیا تھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے،شوکت عزیز صدیقی پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے کیس میں انکوائری لازم ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شوکت صدیقی کیخلاف شکایت کس نے کی یا رجسٹرار نے خود سب کچھ کونسل کو بھیجا،رجسٹرار کس حیثیت میں جج کے خلاف کونسل کو نوٹ لکھ سکتا ہے؟

    وکیل حامد خان نے کہا کہ جب شوکت صدیقی کے الزامات آئے تو جسٹس ر انور کاسی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی جاری تھی،شوکت صدیقی کے الزامات مسترد کرنے پر انور کانسی کو بری کر دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب ہم سپریم جوڈیشل کونسل پر ایسے انگلیاں نہیں اٹھائیں گے،

    سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل پر واچ ڈاگ نہیں ہے،ہمیں آئین سازوں کے بنائے بیلنس کو برقرار رکھنا ہو گا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ کیخلاف ریفرنس کی بنیاد تقریر ہے، آپ اس تقریر کے متن سے انکار نہیں کر رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک مضبوط آئینی باڈی ہے، آپ کہہ رہے تھے انکوائری کمیشن بنا دیں لیکن جوڈیشل کونسل کی موجودگی میں کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟آرٹیکل 210 پڑھیں تو سپریم جوڈیشل کے پاس وسیع آئینی اختیارات ہیں،ہر آئینی باڈی یا ادارے کے پاس آزادانہ فیصلے کا حق ہے، سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی آئینی ادارے کی نگران نہیں ہے، سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے،موجودہ کیس میں بہت محتاط چلنا ہو گا کہ کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نا ہو، شوکت صدیقی کیس کا فیصلہ بھی 50 سالوں تک عدالتی نظیر کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے،

    جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ریکارڈ دیکھیں تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ شوکت صدیقی کو موقع نہیں دیا گیا، دو ماہ سے زیادہ کارروائی چلی ، ان کے جوابات کا جائزہ بھی لیا گیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ پر الزام یہ نہیں تھا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں یا غلط،آپ پر الزام تھا کہ پبلک میں عدلیہ کو بدنام کیا، آپ نے اس تقریر سے انکار تو نہیں کیا تھا،

    کیا ججز کی قسمت کا فیصلہ ایس ایچ او کے ہاتھ میں دے دیں؟ چیف جسٹس
    سندھ بار کے وکیل صلاح الدین ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں شوکت صدیقی کے الزامات پر الگ سے انکوائری ہوسکتی ہے، اگر الزامات غلط ثابت ہوئے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کا کالعدم شدہ فیصلہ بحال ہو جائے گا؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ الزامات غلط ثابت ہوئے تو شوکت صدیقی کیخلاف فوجداری کارروائی ہوسکتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے بغیر سابق جج کیخلاف فوجداری کارروائی کیسے ممکن ہے؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہججز قانون سے بالاتر نہیں ہوتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کوئی بھی انکوائری کمیشن کیسے قائم کر سکتی ہے؟ کیا ججز کی قسمت کا فیصلہ ایس ایچ او کے ہاتھ میں دے دیں؟مجھے تو یہ دلیل سمجھ نہیں آ رہی، کچھ آگے بڑھنے والی بات کریں، مناسب ہوگا اپنے نکات تحریری طور پر دیں،

    کیا ایک جج کے پنشن بحالی سے عدلیہ کی آزادی بحال ہو جائے گی؟ چیف جسٹس
    جسٹس عرفان سعادت خان نےکہا کہ کیا شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب نہیں ہوئے؟ اس نکتے پر عدالت کی کوئی معاونت نہیں کی گئی، یہ تو سب کہ رہے ہیں کہ انکوائری نہیں ہوئی، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ اگر تقریر حقائق کے خلاف تھی تو شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار محدود ہے، اگر عدالت چاہے تو کمیشن بنا کر شوکت صدیقی کے الزامات کی انکوائری کر سکتی ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 184 تین کے تحت معاملے کی انکوائری کر سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم گواہان کے بیانات اور ان پر جرح کریں؟ صلاح الدین نے کہا کہ ہائیکورٹ بھی آرٹیکل 199 کے تحت یہ اختیار استعمال کرتی ہے تو سپریم کورٹ بھی کر سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی رائے یا احساسات نہیں قانونی معاونت درکار ہے، آپ نے 184 تھری کی درخواست دائر کی تو صرف جج کی پنشن بحالی کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ریٹائرڈ جج کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک نکتے کا جائزہ لے رہے ہیں کہ انکوائری کیوں نہیں ہوئی تھی، ہم پرانے کورس کو درست کر رہے ہیں،اگر آپ ایک جج کی ذاتی حثیت میں پنشن بحالی چاہتے ہیں تو پھر آپ کی 184 تھری کی درخواست خارج کر دیتے ہیں، آپ کی درخواست سے مفاد عامہ کا کیا معاملہ طے ہو گا؟کیا ایک جج کے پنشن بحالی سے عدلیہ کی آزادی بحال ہو جائے گی؟

    ایک جج کو ہٹانا اتنا ہی آسان ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے خطرے کا سبب ہے،چیف جسٹس
    حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اصول طے کر چکی ہے کہ جج کو مکمل انکوائری کا موقع ملنا چاہئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 10اے شفاف ٹرائل کی بات کرتا ہے، کسی نائب قاصد کو بھی ہٹانے کیلئے پورا طریقہ کار طے شدہ ہے، ہم بنیادی انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کر سکتے،انکوائری کو نظر انداز کرکے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ کو ایک لائن کھینچنی ہے، سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے درمیان فرق کی لکیر کھینچی ہے،اداروں کی تضحیک کا سوال ہے، سوال یہ ہے کہ جج نے جو کہا سچ ہے یا سچ نہیں ہے، ملاقاتوں کی نفی کی گئی ہے،ہم ہوا میں طے نہیں کر سکتے، ہوا میں طے نہیں کر سکتے کون سچ کہہ رہا ہے کون سچ نہیں کہہ رہا،ایک جج کو ہٹانا اتنا ہی آسان ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے خطرے کا سبب ہے،عوام کو سچ جاننے کا مکمل حق ہے، یہ عوامی معاملہ ہے، کیا ہم کونسل کو بھیج سکتے ہیں یا نہیں سوال یہ بھی اہم ہے، ہم فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں، اگر ضرورت سمجھی تو کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر بھی کر سکتے ہیں،

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • 8 فروری ووٹ کی طاقت سے  بلاول کو وزیر اعظم بنانا ہے،آصفہ بھٹو

    8 فروری ووٹ کی طاقت سے بلاول کو وزیر اعظم بنانا ہے،آصفہ بھٹو

    لاہور:آصفہ بھٹو نے پی پی 160 میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر کسی کو مفت علاج ملنا چاہییے،ہم نے ہسپتال بناٰئے ہیں،پیپلز پارٹی صرف غریبوں کا سوچتی ہے،پورے ملک سے لوگ سندھ میں علاج کروا رہے ہیں،
    لوگوں کی مشکلات ہماری مشکلات ہیں،سندھ میں غریبوں کے لیے سیلاب متاثرین کے لیے گھر بن رہے ہیں،صرف پیپلز پارٹی لوگوں کو گھر دیتی ہے،صرف پیپلز پارٹی آپکی روٹی روزی کا سوچتی ہے،ہم آپکی تنخواہ دگنی کریں گے،دوسرے لوگ صرف نعروں کی سیاست کر رہے ہیں،8 فروری کو تیر پر نشان لگا کر بلاول بھٹو کو موقع دیں،جب ہم مل کر کام کریں گے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں نہیں روک سکتی ہم مل کر پاکستان کی تقدیر بدلیں گے،الیکشن والے دن بلاول کو ووٹ دیں ،اور اس کو کامیاب بنائیں،چاہتے ہیں امیر اور غریب کے لئے صحت کی ایک جیسی سہولیات ہوں، بلاول بھٹو زرداری کے دس نکاتی ایجنڈہ میں تمام مسائل کا حل موجود ہے،

    https://twitter.com/A_NabiKhoso/status/1749759969111544014

    شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو کی این اے 127 کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ٹاؤن شپ آمدہوئی ہے،آصفہ بھٹو زرداری کا مثالی استقبال، دخترِ شہید محترمہ بینظیر بھٹو شہریوں میں گھل مل گئیں،اس موقع پر آصفہ کا کہنا تھا کہ 8 فروری ووٹ کی طاقت سے آپ لوگوں نے چئیرمین پی پی پی کو وزیر اعظم بنانا ہے،شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے خواتین کو خود مختار بنانے کے لیے ہمیشہ کام کیا، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے فرسٹ ویمن بینک، خواتین کے پولیس اسٹیشن اور دیگر ادارے بنائے،صدر آصف علی زرداری نے بی آئی ایس پی پروگرام کے ذریعے خواتین کو خود مختار بنایا، نوجوان 8 فروری گھروں سے خاندان سمیت نکل کر تیر پر مہر ثبت کریں، نوجوان قیادت ہی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے، دیگر جماعتیں امیر کو امیر جبکہ غریب کو مزید غریب کرنے کا پروگرام لے کر سامنے آئی ہیں،جب جب پی پی پی اقتدار میں آئی، محنت کشوں نے سکھ کا سانس لیا،

    آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ این اے 127 کے عوام 8 فروری کو یقینی طور پر ایک بہتر مستقبل کے لیے تیر پر مہر لگائیں گے، آصفہ بھٹو زرداری کے ہمراہ ثمینہ خالد گھرکی، پی پی 162 کے پارٹی امیدوار منظر عباس کھوکھر، اسلم گِل، شہلا رضا، آمنہ نعمان ،شبانہ واثق ، فہیم ٹھاکر ودیگر موجود تھے،بی بی آصفہ بھٹو زرداری کے ہمراہ نعمان علی قاسم، صائمہ شاہد تسنیم چوہدری، نرگس فیض ، شیج عرفان، سونیا خان، امجد ایڈوکیٹ، سعید فہیم ٹھاکر ودیگر بھی موجود تھے

     آصفہ بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری پہنچ کر خطاب کیا،

    آصفہ زرداری الیکشن 2024 میں خود الیکشن نہیں لڑ رہی تا ہم وہ امیدواروں کی انتخابی مہم چلائیں گی، آصف زرداری نے آصفہ کو سیاست میں لانے کا اعلان کیا تھا ،امید کی جا رہی تھی کہ آصفہ الیکشن لڑیں گی تاہم آصفہ کے کہیں سے بھی کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے گئے.31 مارچ 2022کو سابق صدر آصف زرداری نے کہا تھا کہ آصفہ بھٹو کو اگلے انتخابات میں پارلیمانی سیاست میں لے کر آؤں گا،تاہم ایسا نہ ہو سکا

    آصفہ بھٹو زرداری سابق صدر آصف علی زرداری کے تین بچوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ ان کی پیدائش 3 فروری 1993 کو لندن میں ہوئی تھی تاہم اب وہ اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان میں مقیم ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہتی ہیں۔آصفہ بھٹو زرداری گزشتہ کچھ سالوں سے خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرتی آرہی ہیں تاہم ان کی سیاست میں باضابطہ انٹری پی ڈی ایم کے ملتان جلسے سے ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپنے سیاسی کریئر کی پہلی تقریر کی تھی

    آصفہ نے لانگ مارچ کی قیادت بھی کی تھی اور کراچی سے اسلام آباد بلاول کے ہمراہ تھیں،راستے میں ڈرون سے زخمی بھی ہوئی تھیں.

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • توشہ خانہ ،القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان نے ضمانت کی درخواست کی دائر

    توشہ خانہ ،القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان نے ضمانت کی درخواست کی دائر

    بانی تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ضمانت کی دو درخواستیں دائر کر دیں،بانی تحریک انصاف نے احتساب عدالت کا فیصلہ کلعدم قرار دینے کی استدعا کر دی،عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخؤاست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک ضمانت منظور کی جائے ،احتساب عدالت نے دونوں کیسوں میں ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کر دی تھی ،درخواست میں چیئرمین نیب ، ڈی جی نیب، تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیسز کا ٹرائل مکمل ہونے تک ضمانت منظور کی جائے، مقدمات سیاسی انتقام اور بدنیتی پر مبنی ہیں ،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    قبل ازیں بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • ژوب میں آپریشن، سات دہشتگرد جہنم واصل

    ژوب میں آپریشن، سات دہشتگرد جہنم واصل

    پاک افغان سرحد کے قریب انٹیلیجنس کی اطلاع پر آپریشن ،ژوب میں دہشت گردوں سے مقابلہ، 7 دہشت گرد مارے گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے علاقے ژوب میں فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشتگرد جہنم واصل ہو گئے ہیں، ہلاک دہشتگرد سکیورٹی فورسز پر حملوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھے، ان کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیزمواد بھی برآمد کیا گیا جب کہ علاقے میں پائے جانے والے دیگر دہشتگردوں کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں

    ہندو برادری بھی شہداء کی عزت و تکریم کے لئے میدان میں آ گئی

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے علمائے کرام و مشائخ کی ملاقات

    امام کعبہ کا پاکستان آنا پاکستانی عوام کے لیے اعزاز کی بات ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

    فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشتگرد ہلاک ،3 زخمی 

  • فیض آباد دھرنا کیس،انکوائری کمیشن اپنا کام  مکمل کرے،چیف جسٹس

    فیض آباد دھرنا کیس،انکوائری کمیشن اپنا کام مکمل کرے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے انکوائری کمیشن کے ٹی او آرز بڑھا دیئے،انکوائری کمیشن کو ایک ماہ کی توسیع دی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ے کہا کہ انکوائری کمیشن کو دیکھنا تو حکومت کا کام ہے،کب تک کمیشن کو وقت دیا گیا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 14 فروری تک انکوائری کمیشن کو توسیع دی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے کمیشن اپنا کام مکمل کرے،عدالت نے کہا کہ مناسب حکم جاری کیا جائے گا، سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کر دی ہے،

    واضح رہے کہ نومبر 2023ء میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا,

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس