Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نیب کیسز میں جیل ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکلاء شعیب شاہین، سوزین جہاں عدالت پیش ہوئے،وفاق سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل جبکہ نیب سے امجد پرویز اور رافع مقصود عدالت پیش ہوئے،عدالت نے رپورٹس کی کاپیاں درخواست گزار وکلاء کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،

    شعیب شاہین نے کہا کہ رپورٹس آگئی ہیں مگر ابھی پڑھی نہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ رپورٹ کی روشنی میں عدالت کو مطمئن کرنا ضروری ہوگا،اس کیس کو کل سماعت کے لیے رکھتے ہیں،شعیب شاہین کا نیب ریفرنسز میں اسٹے دینے کی استدعا مسترد کر دی گئی، شعیب شاہین نے کہا کہ دو دن کے لئے ہی سٹے دیں دے کوئی فرق نہیں پڑتا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیس کوئی ختم یا مکمل نہیں ہورہا،جو چیزیں دینے ہیں بس کل کو شعیب صاحب گلہ نہ کریں کہ یہ دیا ہے یہ نہیں،عدالت نے کیس کی سماعت کل تک کےلئے ملتوی کردی

    واضح رہے کہ بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • پاکستانی حملے میں ایران میں جہنم واصل ہونیوالے دہشت گردوں کی تفصیلات

    پاکستانی حملے میں ایران میں جہنم واصل ہونیوالے دہشت گردوں کی تفصیلات

    ایران کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو پاکستان نے بھی فوری جوابی کاروائی کی اور ایران کے میزائل حملوں کا جواب دیا، پاکستان کی کاروائی کے دوران ایران میں بلوچ لبریشن فرنٹ کے دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، پاکستانی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی ابتدائی تفصیلات سامنے آگئی ہیں.
    baloch

    دوستہ عرف چیئرمین
    پاکستان کے حملے میں ایرانی سرزمین پر ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں دوستہ عرف چیئرمین، ساحل عرف شفق، محمد وزیرعرف وازو، سرور ولد اصغر اور بجرعرف سوغات شامل ہیں،پاکستانی حملے میں ہلاک ہونے والا دہشت گرد دوستہ عرف چیئرمین ضلع پنجگور کا رہائشی تھا جس نے 2013 میں بلوچ لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی، یہ بی ایل ایف کے کمانڈر فضل شیر عرف طاہر گروپ کا رکن تھا،دوستہ عرف چیئرمین زامران سیکٹر میں منشیات فروشی اور لوٹ مار میں ملوث تھا،
    دوستہ کی بیوی اور تین بچے یعنی ہانی دوست، بابر دوست اور چراغ دوست ایران کے شہر شماسر میں آباد ہیں۔ وہ بی این ایم کی مرکزی کونسل کے رکن بھی تھے۔یہ پروم سیکٹر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد حملوں میں ملوث رہا، اس کے علاوہ 20 ستمبر 2019 کوپروم میں اسکول اور ایف سی پوسٹ، 23 مئی 2020 کو پروم کے علاقے میں ایف سی کی پوسٹ اور 4 ستمبر 2022 کو یوسف پوسٹ پرہونے والے بارودی سرنگ کے دھماکے میں بھی دہشتگرد دوستہ عرف چیئرمین ہی ملوث تھا،پاکستان کے حملے میں ہلاک ہونے والادہشتگرد دوستہ عرف چیئرمین 19 جنوری 2023 کو اخلاق عرف شوکت کے اغوا میں بھی ملوث تھا، اس نے گزشتہ سال 12 اپریل 2023 کو ایف سی کے قافلے کو نشانہ بنایا

    سرور بھی جہنم واصل
    ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں اصغر عرف بشام کا بیٹا سرور بھی شامل ہے جو ضلع پنجگور کا رہائشی تھا، اس نے 8 جون 2021 کو فرنٹیئر کور کی پیٹرولنگ پارٹی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، فروری 2023 میں اصغر بشام نے پنجگور کے بس اسٹینڈ پر فائرنگ کرکے محمد انصر کو شہید کیا اور 21 نومبر 2023 کو اصغر بشام کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سپاہی نے جام شہادت نوش کیا۔ 20 جولائی 2021 کو پنجگور کی تحصیل پاروم میں اس کے شرپسندوں نے سڑک کی تعمیر کرنے والی پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک ڈرائیور زخمی ہو گیا تھا، فروری 2023 میں، اس نے پنجگور میں حاجی یاسین مارکیٹ کے قریب بس ٹرمینل پر ہنڈائی شہزور پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کی وجہ سے سپاہی محمد انصار شہید ہوئے،

    محمد وزیر عرف وازو بھی انجام کو پہنچا
    ہلاک ہونے والا دہشتگرد محمد وزیر عرف وازو ابتدائی طور پر 2013/14 میں بلوچ ریپبلکن آرمی میں شامل ہوا اور اس نے 2019 میں بلوچ لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی، دہشتگرد محمد وزیر عرف وازو بی ایل ایف کے دہشتگرد عابد عرف چاکر کا بھائی تھا، دہشتگرد پروم، گوارگو اور ضلع پنجگور میں متعدد دہشتگردانہ سرگرمیوں کا حصہ تھا،محمد وزیر عرف وازو نے ضلع پنجگور کے احمد اللہ اور عامر کو ٹارگٹڈ حملے میں شہید کیا، دہشتگرد نے4 مارچ 2023 کو پل ناکہ پوسٹ پر گرنیڈ حملہ کیا، یکم مئی 2023 کوکسٹم آفس ایریا کے قریب ایف سی کانوائےکو بارودی سرنگ کا نشانہ بنایا۔ 14 ستمبر 2020 کو اس نے پنجگور کے علاقے واشبود میں ایک شہری معصوم احمد اللہ کو قتل کر دیا۔وزیر نے مارچ 2022 میں عزیز نامی ایک معصوم شخص کی ٹارگٹ کلنگ کی، 26 مئی 2023 کو، وہ گرڈ اسٹیشن پر دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھا۔ وزیر شامیسر، ایران میں دہشت گردوں کے لیے رہائش کا انتظام کرنے کا ذمہ دار تھا۔

    علی عرف عطا بھی جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں میں شامل ہے، جس کا تعلق آواران کی تحصیل مشکی کے گاؤں گجلی سے ہے، وہ عبید عرف ڈوڈگپ گروپ کا حصہ تھا اور بعد میں اس نے خود کو سرور کے گروپ سے اتحاد کر لیا، علی ذاکر کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا۔▪️ اس نے مشکے قلعے پر آتشزدگی کے حملے کی قیادت کی جس میں وزیر نامی ایک بے گناہ آدمی مارا گیا تھا، 21 جولائی 2022 کو، اس نے مشکے میں ایک فوجی قافلے پر آئی ای ڈی دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ فوجی زخمی ہوئے۔

    ہلاک ہونے والا ایک دہشتگرد بجر عرف سوغات 2016 سے بی ایل ایف کا حصہ تھا، بجر عرف سوغات پروم سیکٹر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر متعدد دہشتگردانہ حملوں میں ملوث تھا، اس نے 7 مارچ 2023 کو نذیر ولد بہرام کو اس کی رہائش گاہ سے اغوا کیا، 4 مارچ 2023 کو پل ناکہ پوسٹ پر گرنیڈ حملہ کیا۔

    ہلاک دہشتگردوں میں ساحل لنگ عرف شفق بھی شامل تھا جو معصوم پاکستانیوں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد دہشتگرد حملوں میں ملوث رہا، ساحل لنگ دہشتگرد بلبل کا بھائی تھا جو مارگٹ اور ہرنائی کے علاقے میں بھتے اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔

    ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں ایک اعظم بھی شامل ہے، جو ابا مشکے کے گاؤں قندہاری کے رہنے والا تھا، اس نے 2010 میں بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی جبکہ اس کے تین بھائی محمد علی عرف جہانیز، نیاز محمد اور علی مبارک بی ایل ایف کے سرگرم عسکریت پسند ہیں۔ ان کے خاندان نے 2012/13 میں مشکے چھوڑ دیا۔ وہ لیاقت سجنا گروپ کا حصہ تھا اور بعد میں سرور عرف درک کے گروپ سے منسلک ہو گیا،وہ ستمبر 2023 میں سرور کے گروپ سے مشکے پر قبضہ کرنے کے لیے ایران سے منتقل ہونے کا منصوبہ بنا رہا تھا لیکن منصوبہ بدل گیا اور اس نے سرور کے سیکنڈ ان کمانڈ کے طور پر ایران سے کام جاری رکھا۔وہ بہت سے دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا اور ایران کی طرف سے تمام لاجسٹک سپورٹ کا ذمہ دار تھا۔

    مختصر یہ کہ ایران میں فوجی حملوں میں بی ایل ایف کے اہم کمانڈروں کی ہلاکت بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی،اسکے بعد پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہ,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ، ایرانی سفیر کو واپس بھیجا،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

  • سوشل میڈیا  استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں،مرتضیٰ سولنگی

    سوشل میڈیا استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں،مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ 13 جنوری کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ایک کیس پر فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے بعد ایک عدلیہ خلاف مہم چلائی گئی۔عدلیہ مخالف مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرات داخلہ نے ایک فیصلہ کیا۔ وزرات داخلہ نے 16 جنوری کو ایک کمیٹی تشکیل دی۔آئین پاکستان آرٹیکل 19 ہمیں آزادی رائے کی حد بھی بتاتا ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں،پانچ سو سے زائد اکاؤنٹس کو چیک گیا ہے،ایف آئی اے سائبر ونگ باریک بینی سے تمام اکاؤنٹس کو دیکھ رہا ہے

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ الیکشن کے قریب جاتے ہی جھوٹ، بہتان تراشی اور ہیجان پیدا کرنے والی معلومات میں اضافہ ہوگا، عوام سے اپیل ہے ایسی معلومات صحیفہ نہیں ہے، آگے پھیلانے سے پہلے اُس کی تصدیق کریں،لوگوں کو گلہ اور شکایت ہے تو 8 فروری کو وہ اپنے نمائندے منتخب کرلیں گے، کچھ یوٹیوبرز کے اکاونٹ میں ڈالرز تو آجاتے ہیں لیکن پاکستانی عوام کو اُس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، گھٹیا اور غلط معلومات جب آپ کے فون میں آئیں تو عوام سے اپیل ہے کہ اپنی عقل کا استعمال کریں، اُس جھوٹ کو آگے نہ بڑھائیں، ایک وہ لوگ ہیں جن کا کاروبار جھوٹ ہے، شام کو اُنہوں نے ڈھائی بندوں کو پکڑ کر اپنا وی لاگ بنا دیا،جس میں اُنہوں نے کہا کہ گدھے نے گھوڑے کو جنم دیا اور سورج کل مغرب سے طلوع ہو گا اور مشرق میں غروب ہو گا، اسلام آباد میں جنوری کے مہینے میں درجہ حرارت 55 ڈگری ہوگا، اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ایسی خبر کو ثواب کا کام سمجھ کر ہر طرف شئیر کرنے لگ جاتے، سوشل میڈیا کو استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کو خبر دار کرتے ہیں، عدلیہ کیخلاف گھٹیا اور غلیط مہم چلانے پر سینکڑوں اکاؤنٹ بند کیے،کوئی بھی شخص قانون کی خلاف ورزی کرے، اس پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، قانون اس میں کسی قسم کی تخصیص یا تمیز نہیں کرتا، جھوٹ پھیلانا کچھ لوگوں کا کاروبار ہے، کچھ لوگ عوام کو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں، ہمیں جھوٹ اور غلط معلومات سے چوکنا رہنا ہوگا،عوام ایسی غلط اور جھوٹی خبروں کو آگے بڑھانے سے پہلے تصدیق کریں،عدلیہ کے خلاف مہم ملک کے اندر اور بیرون ملک سے چلائی گئی،

    احمد شمیم پیر زادہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کے پاس اسلام، اخلاقیات، عدالت اور سیکیورٹی اداروں سے متعلق توہین پر مواد کو ہٹانے کا اختیار رکھتے ہیں،اس صورتحال میں ہمارا بنیادی کام انٹرنیٹ بلاک کرنا اور مواد کو ڈیلیٹ کرنا ہے، سوشل میڈیا کی آؤٹ ریچ بہت زیادہ اور آسان ہے لیکن لوگوں کو اس کے استعمال کا شعور نہیں،

    کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ ریاستی اداروں پر سے عوام کا اعتماد ختم کریں،ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ
    ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جس اکاؤنٹ اور شخص کی شناخت کرتے ہیں، اُن کےخلاف قانون کے تحت سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی، ‏500 سے زیادہ اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے، باقی کی مانیٹرنگ کررہے ہیں،اِن کے خلاف کارروائی کرینگے، کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ ریاستی اداروں پر سے عوام کا اعتماد ختم کریں،سوشل میڈیا کو ہتھیار کے طور پر اداروں کےخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے، جب کارروائی شروع کرینگے تو سب کو نظر آئے گا،

    سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری رویوں کی ضرورت ہے،مرتضیٰ سولنگی
    قبل ازیں نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نےپائیڈ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات جمعرات 8 فروری 2024ءکو ہوں گے، پاکستان کے عوام اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے،مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے،انتخابات کے حوالے سے تمام مفروضے اور افواہیں دم توڑ چکی ہیں،آئین کے تحت پاکستان کو منتخب نمائندے چلائیں گے،انتخابات کے حوالے سے میڈیا کو ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا ہوگی، عام انتخابات کے حوالے سے میڈیا کی ذمہ داری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، معیشت، خارجہ پالیسی، تعلیم اور صحت سمیت اہم امور منشور کا حصہ ہوتے ہیں، بنیادی مسائل پر بحث ہونی چاہئے، لوگوں کے اجتماعی شعور میں اضافہ ہونا چاہئے، آج ہمیں آبادی میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا ہے،ہمیں اپنی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا ہوگا، وعدوں اور دعوﺅں کی تکمیل سیاسی جماعتوں کا ہی کام ہے،عوام کے اجتماعی شعور میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے، 18 ویں ترمیم سے صوبوں کو بااختیار بنایا گیا، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری رویوں کی ضرورت ہے، امید ہے ہم ملک کو درپیش اصل مسائل کے حل کی طرف جائیں گے،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • خیبر پختونخوا والو، آپ بھی جھوٹے شخص کے جھانسے میں آگئے؟ نواز شریف کا سوال

    خیبر پختونخوا والو، آپ بھی جھوٹے شخص کے جھانسے میں آگئے؟ نواز شریف کا سوال

    مسلم لیگ ن کے مرکزی قائدین کی پاکستان بھر میں سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں

    مانسہرہ میں‌نواز شریف نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ میں آج یہاں وزیراعظم بننے نہیں آیا، میں آپ سے ووٹ لینے آیا ہوں-مُجھے آپ سے دس سال کے بعد مل کے خُوشی ہورہی ہے لیکن مُلک کے حالات دیکھ کے خُوشی نہیں ہورہی- مُجھے آپ سے دُور رکھا گیا۔2018 میں اگر ہماری حکومت کی مدت پوری ہونے دی گئی ہوتی تو اگلی حکومت بھی انشاءاللہ ہماری ہوتی ،اب نعروں سے دوبارہ پاکستان تعمیر نہیں ہو گا اس کے لئے بہت محنت کرنا ہو گی آپ عوام میرے کندھوں کے ساتھ کندھا ملائیں،

    میرے دور میں سبزی 10 روپے کلو، پٹرول 60 روپے،چینی پچاس روپے تھی،نواز شریف
    نواز شریف کا کہنا تھا کہ مریم نے کہا تھا میں نے آپکے ساتھ مانسہرہ ضرور جانا ہے،میں ہیلی کاپٹر سے آیا آج مانسہرہ کو دیکھا ہے، مجھے مانسہرہ ویسا ہی لگا جو 40 سال پہلے تھا، کوئی تبدیلی نہیں آئی، یہاں 10سال جن کی حکومت رہی انہوں نے یہاں کیا بنایا،خیبر پختونخوا کے عوام سے پوچھتا ہوں، انہوں نے مانسہرہ کا کیا سنوارا؟ میں وزیراعظم تھا، ایک پارٹی کا یہاں وزیراعلیٰ تھا، جو پارٹی یہاں 10سال رہی انہوں نے کیا بنایا؟ آپ کیسے ایک جھوٹے شخص کے جھانسے میں آگئے؟ ہم نے ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، ہم نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرکے سستی بجلی اور گیس دی، میرے دور میں لوگوں کو روزگار ملا، مجھے نہ نکالا جاتا تو آج مانسہرہ میں خوبصورت ترین ایئرپورٹ ہوتا، ہمیں مدت پوری کرنے دی ہوتی تو آپ نے اگلی حکومت بھی ن لیگ کو دینی تھی،آپکو یاد ہونا چاہیے سبزیاں 10روپے کلو بکتی تھیں،پٹرول 60 روپے لٹر تھا، چینی 50 روپے کلو تھی، گھی بھی سستا تھا، جہنوں نے ملک بگاڑنا تھا وہ ملک برباد کرکے چلے گئے اب یہ ملک دوبار سجے گا اس لئے ہم سب کو ملک کر محنت کرنی ہوگی،مجھے نہ نکالا جاتا تو میٹروبس بناتے ، مظفر آباد تک ٹرین ہوتی، کراچی تک موٹروے بنانے کا منصوبہ تھا لیکن وہ سکھر تک ہی رہ گیا، میری حکومت ہوتی تو مانسہرہ کا کوئی نوجوان بیروزگار نہ ہوتا،
    ظالموں نے پاکستان کا ستیاناس کر دیا، پاکستان کو گرا دیا، نواز شریف تو بہت عمدہ پاکستان چھوڑ کر گیا تھا، یہاں دس برس جن کی حکومت رہی ہے انہوں نے مانسہرہ میں کیا بنایا کیا سنوارا۔ اس جماعت کی حکومت چیئرمین سب کو آپ جانتے ہیں کیا انہوں نے نیا کے پی بنایا کوئی تبدیلی یا بہتری نہیں آئی۔ اگر کسی نے کچھ بنایا ہے تو موٹر وے پر جاکر دیکھے نواز شریف نے کیا بنایا ہے،

    آپ عزت اور غیرت والے لوگ ہیں، کیا یہ خیبرپختونخوا کا کلچر ہے کہ جلسوں میں خواتین کو آوازیں کسو؟ مریم نواز
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ خیبرپختونخوا جیتے جاگتے لوگوں کا صوبہ ہے ، کوئی تجربہ گاہ نہیں،نوازشریف نے کہا پاکستان میری جان کا ٹکڑا ہے لیکن الیکشن مانسہرہ سے لڑوں گا،پورے پاکستان میں سے نوازشریف نے الیکشن کا انتخاب کیا تو مانسہرہ سے کیا،کسی نے کہا بلوچستان کسی نے سندھ تو کسی نے کہا پنجاب سے لڑیں، مجھے پورے کے پی میں بلین ٹری نظر آئے بلکہ درخت مافیا تھے،جو درخت لگے تھے ان کو بھی کاٹ کر لکڑی بیچ کر پیسے کھا گئے،یہاں رشوت کا بازار گرم ہوا، انہوں نے اپنی جیبیں بھریں،کوئی گرین لائن یا میٹرو بس سروس ہی دکھا دو جو تم نے بنائی ہو؟کوئی دانش اسکول ہی دکھا دو جو تم نے عوام کیلئے یہاں بنایا ہو؟کسی اسکول میں کلاس کا ایک کمرہ ہی دکھا دو جو تم نے یہاں بنایا ہو؟ان سے کوئی 5منصوبوں کا ہی پوچھ لو تو پروگرام سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں،آپ عزت اور غیرت والے لوگ ہیں، کیا یہ خیبرپختونخوا کا کلچر ہے کہ جلسوں میں خواتین کو آوازیں کسو، آج وہ جو بھی بھگت رہے ہیں، بد دعا نہیں دینا چاہتی، انسان کے اعمال قبر تک پیچھا کرتے ہیں، نوازشریف کی مانسہرہ سے محبت کا ثبوت ہے کہ انہوں نے کیپٹن صفدر کو آپ کی خدمت کے لئے وقف کردیا ہے،مریم نواز شریف نے مانسہرہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دو نئے ضلع بنانے کا اعلان کر دیا.

    قبل ازیں ،قائد ن لیگ میاں محمد نوازشریف اور چیف آرگنائزر ن لیگ مریم نواز مانسہرہ پہنچ گئے،صدر ن لیگ خیبرپختونخوا انجینئرامیرمقام ، مرکزی رہنما ن لیگ کیپٹن (ر) صفدر اور دیگر لیگی رہنماؤں نے استقبال کیا، نواز شریف نے ہیلی کاپٹر کے زریعہ جلسہ گاہ کا فضائی چکر لگایا،

    ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ قائد محمد نوازشریف مانسہرہ پہنچ گئے.ہیلی کاپٹر مانسہرہ جاتے ہوئے ہزارہ موٹر وے کے اوپر سے گزر رہا ہے،ہزارہ موٹر وے ہزارہ ہی نہیں پورے خیبرپختون خوا کے عوام کے لئے نوازشریف کا تحفہ ہے ، یہ اُس وعدے کی عملی تعبیر ہے جو نوازشریف نے ہزارہ اور خیبرپختون خوا کے عوام سے کیا تھا۔ پاکستان کے کونے کونے میں نوازشریف کے عوام کو دئیے ایسے تحفے دیکھے جا سکتے ہیں
    nawaz

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف آج لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت کرینگے، شہباز شریف اپنے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 123 میں انتخابی ریلی نکالیں گے،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 124 سے امیدوار رانا مبشر اقبال، پی پی 163 سے امیدوار میاں عمران جاوید، بی بی وڈیری اور طلحہ برکی بھی ان کے ہمراہ ہوں گے ،انتخابی ریلی کے دوران شہباز شریف کو خوش آمدید کہنے کے لئے 31 مقامات پر استقبالیہ کیمپ لگائے جائیں گے،شہباز شریف کچھ استقبالیہ مقامات پر لیگی کارکنوں سے خطاب بھی کرینگے،شہباز شریف انتخابی ریلی کا آغاز لاہور کے مضافاتی علاقے گجومتہ سے کرینگے،شہباز شریف ریلی کی قیادت کرتے ہوئے گجھومتہ سٹاپ سے ہو کرکاہنہ ، سنٹرل پارک سوئے آسل تک مختلف مقامات پر استقبالیہ کیمپ لگائے جائیں گے ،مقامی رہنماؤں کی جاںب سے شہباز شریف کا استقبال کرنے کے لیے تیاریاں کی گئی ہیں.

    مریم نواز کے جلسے میں پارٹی پرچم پھاڑنے والے طالب علموں پر مقدمہ درج

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

     نواز شریف کے مخالف عبرت ناک انجام کو پہنچ رہے ہیں

  • مثبت روشنی دکھانے سے معاشرہ تبدیل ہوسکتا ہے،چیف جسٹس

    مثبت روشنی دکھانے سے معاشرہ تبدیل ہوسکتا ہے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےصحافیوں کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس ورکشاپ میں دعوت دی،کورٹ رپورٹرز کے ذریعے ہی عدالتی کارروائی عوام تک پہنچتی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہآئین کا آرٹیکل 17 آزادی صحافت سے متعلق ہے ،بچپن میں میری والدہ کپڑے دھوپ میں ڈالتی تھیں جن سے جراثیم ختم ہوتے تھے، امریکی جج نے کہا تھا کہ سب سے اچھی جراثیم کش روشنی سورج کی ہے، میڈیا کے ذریعے دھوپ اور روشنی عوام تک پہنچتی ہے، دھوپ سے کیڑوں مکوڑوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے ،دھوپ اور روشنی دکھاتے چلے جائیں تو معاشرہ تبدیل ہو سکتا ہے،معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، سپریم کورٹ نے اپنے ہی ادارے سے متعلق معلومات کا بھی حکم دیا، آئین کے آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے، کچھ روز قبل ایک درخواست آئی جس میں شہری نے سپریم کورٹ کے ملازمین کی تفصیلات مانگی تھیں، سپریم کورٹ کا ادارہ آپ کا ہے یہ عوام کا ادارہ ہے یہ آپ کے پیسوں سے چل رہا ہے ،ہم نے فیصلہ لکھا کہ شہریوں کو اگر معلومات تک رسائی ہو گی تو یہ اداروں کے لیے اچھا ہے،معلومات سے ہی اداروں کے احتساب بھی ہوتا ہے، چیف جسٹس بننے کے بعد اہم مقدمات کو براہ راست دکھانا بھی شروع کیا، سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے اسے ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ آرٹیکل 19 کے تابع ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ مقدمات نمٹائیں،ہم اہم کیسز کی براہ راست کارروائی دکھا رہے ہیں، لوگ کارروائی کو سمجھنے کے بعد اُس پر بات کریں،لائیو سپریم کورٹ ٹرانسمیشن کا سہرا جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ کے سر ہے۔عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی تجویز کی تمام ججوں نے تائید کی تھی

    اگر کسی قوم کی تقدیر بدلنا ہو تو سب سے اہم چیز ہے تعلیم،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے خود کو عوام کے سامنے احتساب کیلئے پیش کیا ہے، سپریم کورٹ کچھ دیر بعد اپنی کارکردگی کی سہ ماہی رپورٹ جاری کر رہی ہے یہ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ کی پہلی کارکردگی رپورٹ ہے، اطہر من اللہ صاحب ہمیشہ کی طرح بہت سمارٹ لگ رہے ہیں،سترہ ستمبر سے سولہ دسمبر تک کی سہ ماہی رپورٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہے،17 ستمبر کو حلف اٹھایا آج چیف جسٹس بنے 3 ماہ مکمل ہو چکے ہیں،میرے 3 ماہ کے اب تک کے دور میں پانچ ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کتنے مقدمات کا فیصلہ ہوا اور کتنے نئے دائر ہوئے، تین ماہ میں پانچ ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے ہیں،رپورٹ میں اہم فیصلوں کے لنک بھی موجود ہیں، رواں ہفتے 504 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 326 نئے دائر ہوئے، بلا مانگے معلومات فراہم کرنے سے شفافیت آتی ہے،

    چیف جسٹس کا سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کی یادگار بنانے کا اعلان
    سپریم کورٹ کے سامنے سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں،سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کی ایک یادگار بھی بنا رہے ہیں، یادگار عوام کیلئے کھلی ہو گی، پہلے لوگ سپریم کورٹ کے سامنے سڑک پر کھڑے ہوکر تصاویر بنواتے تھے،سپریم کورٹ میں پچاس لوگوں کے لیے اضافی پارکنگ بھی بنائی گئی ہے، کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری کیلئے سات ایکڑ اراضی ہائیکورٹ کے پاس مختص کی گئی تھی، سیکرٹری ہائوسنگ کو کہا کہ 36 وفاقی عدالتیں اور ٹربیونلز کو اس مختص زمین پر منتقل کیا جائے،تمام وفاقی عدالتیں اور ٹربیونلز کرائے کی عمارتوں میں چل رہے تھے، عدلیہ کا ہدف ایک ہی ہونا چاہیے، اچھے ججز تعینات کریں، ساتھی ججز کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھیں یہ سوچیں کہ دیگر ججز بھی آپ کا ہاتھ بٹانے آئے ہیں۔کسی بھی قوم کی تقدیر بدلنا ہو تو میرے خیال میں اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ ہے تعلیم،مجھے کسی نے کہا تھا صحافیوں کو حال دل نہ سنایئے گا،کہاگیا تھا ایک شعر سنا دیتا ہوں
    صحافیوں کو کہاں حال دل سنا بیٹھے
    یہ ایک بات کئی زاویوں سے لکھیں گے
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے حال دل نہیں سنایا،سچائی میں ہی ہماری نجات ہے، ہدف ہر شہری کا سچائی ہونا چاہیے ہم سے اتفاق ہو یا نہ ہو،

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس عدالتی حکم پر ضبط

    ٹیکنالوجی کے دور میں ریاستیں اظہار رائے کو کنٹرول نہیں کر سکتیں،جسٹس اطہرمن اللہ

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

    190 ملین اسکینڈل کیس ،ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس عدالتی حکم پر ضبط کرلیے گئے۔
    ملک ریاض اور علی ریاض کے منجمند اثاثہ جات اور بنک اکاونٹس کی دستاویزات جاری کر دی گئی ہیں،ملک ریاض کی منجمند گاڑیوں میں لینڈ کروزر، بی ایم ڈبلیو گاڑیاں شامل ہیں،اشتہاری ہونے پر ملک ریاض اور علی ریاض کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا گیا تھا،ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر 9قیمتی ترین پلاٹ،52 بیش قیمت کاریں اور 78 بینک اکاؤنٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،

    عدالت نے حکم میں نیب کو کہا ہے کہ بحریہ ٹاون اور ملک ریاض حسین کے تمام خاندان کی تمام جائیدادیں ایک ہفتے میں منجمد کردی جائیں، تمام بڑے دفاتر کی جائیدادیں بھی منجمد کردی جائیں،جائیدادوں میں بحریہ ٹاون دفاتر، بحریہ سینما، بحریہ سکول بلڈنگ، بحریہ مرکی اوربحریہ میڈیا ہاوس بھی شامل ہیں، عدالت نے ملک ریاض، علی ریاض ملک، فیصل سرور، ملک حبیب اور سیلمان خان کی تمام جائیدادیں اوربینک اکاونٹس منجمد کیے جارہے ہیں۔ بحریہ ٹاون کی تمام گاڑیاں، بینک اکاونٹس اور دفاتر کی جائیدادیں بھی منجمد کی جائیں گی

    عدالت نے ملک بھر کے ریونیو افسران کو ملزمان کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسران کو ان کے ناموں پر رجسٹرڈ گاڑیاں ضبط کرنے کا حکم دیا گیاعدالت نے کمرشل بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ ان کے کھاتوں کو منجمد کریں اور لین دین یا سرمایہ نکالنے کی اجازت نہ دیں، عدالت نے ان ملزمان کی ملکیتی جائیدادوں سے کرائے کی آمدنی حاصل کرنے کے لیے نیب کے ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر کو بطور ”رسیور“ بھی مقرر کیا۔

    قبل ازیں 190 ملین پائونڈ کیس میں چھ ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا گیا۔ اشتہاری قرار دینے والوں میں ملک ریاض اور علی ریاض بھی شامل ہیں.عدالت میں شریک ملزمان سے متعلق تفتیشی آفیسر نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا،شریک ملزمان میں ملک ریاض، علی ریاض ملک، فرحت شہزادی، ضیاء السلام نسیم، شہزاد اکبر اور ذلفی بخاری شامل ہیں

    ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج
    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملک ریاض کی جانب سے انکے وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کیں۔ایک درخواست وڈیو لنک کے ذریعے پیشی دوسری درخواست حاضری سے استثنیٰ کی تھی۔تیسری درخواست ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی تھی۔عدالت نے ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج کردی۔وڈیو لنک اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں فاروق ایچ نائیک نے واپس لے لیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملزم عدالت میں خود پیش نہیں ہوتا استثنیٰ نہیں دے سکتے،

    واضح رہے کہ سات دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغازہو ا تھا،احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم عدالت میں پیش ہوئے، رپورٹ جمع کرائی، ریفرنس میں شریک 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، ملزم ملک ریاض، مرزا شہزاد اکبر، ضیاء المصطفی نسیم کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی،ملزم ذلفی بخاری، احمد علی ریاض، فرحت شہزادی کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، رپورٹ کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہونے دے رہے، خود کو چھپا رکھا، ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے دینے کا مقصد قانونی نظام کو خراب کرنا ہے، عدالت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ملزمان مفرور ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے، احتساب عدالت سیکشن 87 کے تحت مفرور ملزمان کےخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے،ملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں، ملزمان کے آبائی، رہائشی علاقوں میں بھی اشتہارات کو اونچی اواز میں پڑھا جائے.

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں، ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • نواز شریف کو سزا سنانیوالے جج محمد بشیر نے عمران خان کیسز کے فیصلے سے قبل چھٹی مانگ لی

    نواز شریف کو سزا سنانیوالے جج محمد بشیر نے عمران خان کیسز کے فیصلے سے قبل چھٹی مانگ لی

    سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر عمران خان کے مقدمات پر فیصلہ سنانے سے پہلے ہمت ہار بیٹھے. اپنی ریٹائرمنٹ تک طبی بنیادوں پر چھٹی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور وزارتِ قانون کو خط لکھ دیا

    نیب عدالت کے جج محمد بشیر کی طبیعت خراب،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اپنی ریٹائرمنٹ تک بیماری کی چھٹیوں کیلئے خط لکھ دیا۔ جج محمد بشیر 14 مارچ 2024 کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں ،جج محمد بشیر نے 24 جنوری سے 14 مارچ تک چھٹیوں کیلئے خط لکھا، جج محمد بشیر نے خط اسلام آباد ہائیکورٹ اور وزارت قانون انصاف کو خط لکھ دیا۔ جج محمد بشیر کی جانب سے لکھا گیا خط ہائیکورٹ اور وزارت قانون انصاف کو موصول ہو گیا۔ جج محمد بشیر نے خط میں لکھا کہ طبعیت کی ناسازی کے باعث ڈیوٹی سرانجام نہیں دے سکتا۔

    دو دن قبل بھی جج محمد بشیر کی اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کے بعد طبیعت خراب ہو گئی تھی جس کے بعد وہ ہسپتال گئے اور اپنا طبی معائنہ کروایا،

    جج محمد بشیر تین بار توسیع لے کر 12 سال اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج رہے اور 14 مارچ 2024 کو ریٹائر ہو جائیں گے.

    جج محمد بشیر کے چھٹی پر چلے جانے کے بعد فوری طور پر کسی دوسرے جج کو احتساب عدالت کا چارج دینا ہو گا کیونکہ بصورتِ دیگر عمران خان کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر چلنے والے نیب مقدمات تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا.

    جج احتساب عدالت محمد بشیر نے چھ وزرائے اعظم اور سابق صدر کے خلاف کرپشن کیسز کی سماعت کی ،نواز شریف، آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی سمیت پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے کیسز جج محمد بشیر نے سنے ، جج احتساب عدالت محمد بشیر 14مارچ 2024 کو ریٹائر ہوجائیں گے، جج احتساب عدالت محمد بشیر 60 سال عمر پوری ہونے پر مارچ 2024ء کو ریٹائر ہوجائیں گے،

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنائی تھی، بعد ازاں نواز شریف کی پاکستان آمد کے بعد توشہ خانہ کیس میں نواز شریف نے جج محمد بشیر کی عدالت کے سامنے ہی سرنڈر کیا تھا،عمران خان بھی جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش ہو چکے ہیں.اب توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیسز کی سماعت جج محمد بشیر ہی اڈیالہ جیل میں کر رہے ہیں

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • اظہار رائے کو پنپنے دیا ہوتا توپاکستان دو لخت ہوتا نہ ہمارے لیڈر سولی پر چڑھتے،جسٹس اطہرمن اللہ

    اظہار رائے کو پنپنے دیا ہوتا توپاکستان دو لخت ہوتا نہ ہمارے لیڈر سولی پر چڑھتے،جسٹس اطہرمن اللہ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے کورٹ رپورٹرز کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشکور ہوں منتظمین کا جنہوں نے سیمینار میں شرکت کا موقع دیا،یہ موضوع انتہائی اہم ہے،کورٹ رپورٹرز اور صحافیوں کیساتھ وکلاء تحریک میں رابطہ رہا،کورٹ رپورٹرز کو علم ہوتا ہے کونسی چیزیں کرنی ہیں یا نہیں کرنی،پروفیشنل اقدار ہر کورٹ رپورٹر کو ادراک ہوتا ہے،میں نے کورٹ رپورٹرز کے زریعے بہت ساری چیزیں سیکھی ہیں،

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بنیاد بھی اظہار رائے کے پہراہے میں اچھی نہیں رہی،قائد اعظم کی تقریر کو ریاست نے سینسر کیا،وہاں سے ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوا،بدقسمتی سے ہماری آدھی سے زیادہ تاریخ ڈکٹیٹر شپ سے گزری جہاں میڈیا کی آزادی نہیں ہوتی،آزادی اظہار رائے میں صحافیوں کا کلیدی کردار رہا ہے،صحافیوں نے آزادی اظہار رائے کیلئے کوڑے بھی کھائے،ایک ملزم کے خلاف کتنا ہی بڑا الزام کیوں نہ ہوئے، اسکی معصومیت کا عنصر موجود رہتا ہے،میں جج بنا تو پہلا کیس ایک ضمانت کا سنا,ملزم 16 سال کا لڑکا تھا ،الزام ایک بینر لگانے کا تھا، ٹرائل کورٹ نے ضمانت مسترد اس لیے کی تھی کہ سپریم کورٹ کے جج کا معاملہ تھا،کسی نے یہ پتا چلانے کی کوشش نہیں کہ وہ بینرز لگوائے کس نے تھے،بحیثیت جج ہم اپنی کوئی چیز چھپا نہیں سکتے،عدلیہ پر دو طرح کی تنقید ہوتی ہے،الزام لگایا جاتا ہے کہ دانستہ طور پر فیصلے ہو رہے ہیں،ایک وہ تنقید ہوتی ہے جسے میں پسند نہیں کر رہا اسے ریلیف کیوں ملا,وقت کے ساتھ سچائی سامنے آ جاتی ہے،توہین عدالت کے اصول برطانیہ میں جج کے تحفظ کیلئے نہیں بنے,کسی ناپسندیدہ شخص کو ریلیف ملنے پر ججز پر تنقید کی جاتی ہے، جج کو کبھی کسی تنقید سے گھبرانا نہیں چاہئے، تنقید ہر ایک کرے مگر پھر عدلیہ پر اعتماد بھی کرے,ایک خودمختار جج پر جتنی بھی تنقید ہو اس کو اثر نہیں لینا چاہیے، اگر کوئی جج تنقید کا اثر لیتا ہے تو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتا ہے،اظہار رائے کو دبانے کی کوشش نہیں کرنی چائیے، کورٹ رپورٹرز کے لیے ایک نیا چیلنج بھی ہے، رپورٹنگ کے ساتھ وی لاگ بھی کیا جاتا ہے، جوڈیشری کو خائف نہیں ہونا چائیے،تمام چیزوں کا حل آئین میں ہے، حل اظہار رائے کا احترام کرنا ہے،فیصلے غلط ہیں یا صحیح وہ سچائی کی صورت میں سامنے آئینگے، کسی جج کو اظہار رائے پر قدغن نہیں لگانی چاہیئے، سچ ہی آخر میں قائم ؤ دائم رہتاہے

    جب کوئی سیاسی لیڈر کمزور ہوتا ہے اسے عدالتی سزا سے پہلے ہی سزا دی جا چکی ہوتی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ کاکہنا تھا کہ مجھ پر الزامات لگتے رہے کہ وٹس ایپ پر کسی سے رابطے میں ہوں، کبھی کہا جاتا ہے کہ میں نے 2 پلاٹ لے لئے مگر مجھے الزامات سے فرق نہیں پڑتا، سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہئے،اظہار رائے کو پنپنے دیا ہوتا تو نہ پاکستان دو لخت ہوتا نہ ہمارے لیڈر سولی پر چڑھتے، سچ سب کو پتہ تھا، سچ کو دباتے دباتے 75 سال میں ہم یہاں تک پہنچ گئے،1971 میں کورٹ رپورٹنگ اور میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان کبھی نا ٹوٹتا۔جب کوئی سیاسی لیڈر کمزور ہوتا ہے اسے عدالتی سزا سے پہلے ہی سزا دی جا چکی ہوتی ہے، ذوالفقار علی بھٹو ٹرائل زمانے کے اخبارات دیکھ لیں جرم ثابت ہونے تک بے گناہی کا تصور موجود نہیں تھا،

    ٹیکنالوجی کے دور میں ریاستیں اظہار رائے کو کنٹرول نہیں کر سکتیں،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کی مخالفت بہت قوتیں تھیں ، سپریم کورٹ سے توقع کی جارہی تھی کہ اٹھارویں ترمیم کالعدم قرار دے گی، مجھ سے پوچھنے پر میں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اٹھارویں ترمیم کالعدم قرار نہیں دینی چاہئیے،میں نے کہا میری رائے ہے کہ سپریم کورٹ کو کسی آئینی ترمیم کو نہیں چھیڑنا چاہیے، میں نے کہا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اگر کالعدم ہو گئی تو استعفیٰ دے دوں گا، اگلے روز سرخی لگی کہ اطہر امن اللہ نے عدالت کو دھمکی دی،اظہار رائے سر عام ہونی چاہئیے،مجھے اعتزاز احسن نے کہا کہ اس خبر کا کچھ کرتے ہیں تو میں نے کہا نہیں میں نے یہی کہا تھا، اظہار رائے کی حوصلہ افزائی کرنی چائیے، بحثیت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ چار سالوں میں کھبی عدالتی رپورٹنگ پر اثر انداز نہ ہوا، ایک غریب مالی نے پوچھا کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟ میں نے مالی سے پوچھا کہ تمہارے ارد گرد سچائی ہے؟ مالی نے کہا آج کل سچ کا دور نہیں ہے،سچ سب کو معلوم ہے، میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ کسی کورٹ رپورٹر کو بتاوں کے اس کے اصول کیا ہیں، اگر 1971 میں میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان دولخت نا ہوتا، ہر ایک کو اپنے آپ سے سوال پوچھنا چاہئے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں، کیا ہم آج اصول پر کھڑے ہیں؟ ہم آج بھی اپنی مرضی کے فیصلے اور گفتگو چاہتے ہیں، ٹیکنالوجی کے دور میں ریاستیں اظہار رائے کو کنٹرول نہیں کر سکتیں،ججز اس صورتحال میں بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا حل آئین اظہار رائے کی آزادی دے کر دے چکا،

    جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ ہم اچھے ہیں یا برے یہ ہمارے فیصلے طے کرتے ہیں،کسی جج کو کسی کورٹ رپورٹ پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اسے بتائے کیا رپورٹ کرنا ہے، جھوٹ جتنا بھی بولا جائے آخر سچ کا ہی بول بالا ہوتا ہے،
    جب کوئی ایدھی امین کی طرح اظہار رائے پر پابندی لگاتا ہے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • قومی سلامتی کمیٹی  اجلاس،ایرانی جارحیت کا جواب دینےپرمسلح افواج کو خراج تحسین

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،ایرانی جارحیت کا جواب دینےپرمسلح افواج کو خراج تحسین

    ایران کیساتھ کشیدہ صورتحال پر وزیراعظم انوار الحق کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت عسکری و سول قیادت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئی،قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد ،سربراہ پاک فضائیہ ،پاک بحریہ،نگرن وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی،نگران وزیرخزانہ ڈاکٹرشمشاد اختر،سیکرٹری داخلہ،سیکرٹری خارجہ ،انٹیلی جینس اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہیں،

    نگران وزیر خارجہ نے سفارتی محاذ اور اعلی عسکری حکام کی پاک ایران سرحدی صورتحال پر مفصل بریفنگ دی،وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی وزیرخارجہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے قومی سلامتی کمیٹی کو آگاہ کیا۔دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی گفتگو میں تمام تنازعات کو سفارتی طور پرآگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی،اجلاس میں دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ، قومی سلامتی کمیٹی نے سفارتی رابطوں اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر اطمینان کااظہار کیا،اجلاس میں ایران کو دیئے گئے جواب پر بھی مکمل بریف کیا گیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کی سلامتی کو مقدم رکھا جائے گا، قومی سلامتی کمیٹی نے دفاع وطن کے لئے مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا،

    قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کی سالمیت اورخودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کرنے کا اعادہ کیا، اجلاس میں نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ہمارا جواب موثر اور اہداف کے حصول پر مبنی تھا، پاکستان ایک پرامن ملک ہے، تمام ہمسائیوں سے امن کیساتھ رہنا چاہتے ہیں،

    نگران وزیراعظم انوارالحق پاکستان نہیں تھے تاہم انہوں نے ایرانی حملے کے بعد دورہ مختصر کیا اور پاکستان پہنچے،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ہو گا، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی،اسکے بعد پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہ,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ، ایرانی سفیر کو واپس بھیجا،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

  • عمران خان نے 2018  کے عام انتخابات میں "سلیکٹڈ” ہونے کا اعتراف کرلیا

    عمران خان نے 2018 کے عام انتخابات میں "سلیکٹڈ” ہونے کا اعتراف کرلیا

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کی ہے

    سابق وزیراعظم عمران خان نے 2018ء کے عام انتخابات میں "سلیکٹڈ” ہونے کا اعتراف کرلیا، عمران خان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے 2018ء کے انتخابات میں ہماری کمزور حکومت بنوائی تاکہ ہمیں کنٹرول کر سکے،ہمیں اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے تھا، گزشتہ انتخابات میں بہت سے حلقوں میں ہمارے اُمیدواروں کو نہایت کم مارجن سے کروایا گیا، آئندہ الیکشن 2024ء میں واضح اکثریت نہ ملی تو اس بار اپوزیشن میں بیٹھیں گے،میری دوسری بڑی غلطی جنرل باجوہ کو ایکسٹنشن دینا تھی، میں جنرل باجوہ کی میٹھی میٹھی باتوں میں آ گیا تھا، اس الیکشن میں گندے گندے عجیب سے انتخابی نشان دے دیئے ہیں،‏نواز شریف انتخابی مہم چلانے کیلئے نکلا ہے،16ماہ میں معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا گیا، بتائیں 16 ماہ میں کن ’’ریلو کٹوں‘‘ کی حکومت تھی؟اب یہ ’’ریلو کٹوں‘‘ کی کھچڑی بنانا چاہتے ہیں،

    خاور مانیکا کمزور،میں مر جاتا بیان نہ دیتا،بندوقوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے، عمران خان
    عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم مذاکراتی ٹیم نے شرط رکھی تھی کہ الیکشن چیف جسٹس بندیال کے ہوتے ہوئے نہیں ہونے چاہییں اس کے بعد کی تاریخ رکھیں یہ شرط ہم کیسے مان سکتے تھے ہم تو 90 روز میں آئینی الیکشن کی بات کر رہے تھے ، ‏دوران سماعت اعظم خان نے سچ بولا ہے،حقائق بیان کئے ہیں، اس لئے اُسے تھپکی دی، ‏بندوقوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے، مذاکرات سے ہی حل نکلتا ہے،‏یحییٰ خان کی بھی کوشش تھی کہ وہ ہنگ پارلیمنٹ بنائے تاکہ وہ خود مضبوط رہے،لوٹوں کا حال اس الیکشن میں دیکھنے والا ہو گا،میں آج بھی کہتا ہوں، انہوں نے بھاگنا ہے ، جب یہ ہاریں گے تو یہ بھاگیں گے،ہمارے رہنما جیسے ہی مہم کے لئے نکلتے ہیں، گرفتار کر لئے جاتے ہیں، میں سیاسی آدمی ہوں، میرے پاس بندوق نہیں، ڈائیلاگ کے ذریعے ہی بات کرنی ہے، عدت کیس میں جو کیا گیا ایسا میں نے کسی ملک میں کسی کو کرتے نہیں دیکھا، خاور مانیکا کمزور آدمی نکلا میں ہوتا تو مر جاتا ایسا بیان نہ دیتا،ہماری ٹاپ لیڈرشپ کو اِنہوں نے نااہل کرا دیا، ابھی انڈر 16 کو بھی نہیں کھیلنے دے رہے، پلان کے حوالے سے آپ کو سب کچھ نہیں بتا سکتا کیونکہ وہ بھی دیکھ رہے ہیں، وہ ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں، یہ ڈرے ہوئے ہیں،

    سارے مجرموں کو آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے شکست دوں گا،عمران خان
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر عمران خان کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ بھی کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام :فروری 8 آزادی اور غلامی میں فرق کا دن ہے،مجھے یقین اور اعتماد ہے کہ میری قوم آزادی کے ساتھ کھڑی ہے، اپنے ووٹ سے پاکستان کی آزادی کو محفوظ بنائے گی،قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے والا گروہ 8 فروری کو انتخاب پر ڈاکہ ڈال کر قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا چاہتا ہے، قوم کو غلام بنائے رکھنے کیلئے لندن منصوبے کے تحت ایک سرٹیفائیڈ مجرم کو انصاف کا قتل کرکے وطن واپس لایا گیا ہے،اس سرٹیفائیڈ مجرم کو عوام کی مرضی کے برعکس ملک پر مسلّط کرنے کیلئے عدل کے نظام کو تباہ و برباد اور آئین کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں،سیاست کے ریلو کٹّے کو میچ جتوانے کیلئے بلّے کا نشان چھین کر اکیلے میدان میں اتارا گیا ہے مگر اس کے باوجود بدترین دھاندلی کی کوششیں کی جارہی ہیں،میری قوم خصوصاً ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور میرے کارکنان نے ہمّت اور دلیری سے ظلم کا مقابلہ کرکے میرا سر فخر سے بلند کیا ہے،جیل میں بیٹھ کر اللہ کے فضل اور اپنی قوم کی مدد سے ان سارے مجرموں کو آئین و قانون کے اندر رہتے ہوئے شکست دوں گا،رائے عامہ کے تمام آزاد اندازے تحریک انصاف کی بے پناہ مقبولیت اور تین چوتھائی جیسی تاریخی اکثریت سے انتخاب کے اشارے دے رہے ہیں،قوم آزادی کا انتخاب کرکے تحریک انصاف کو قانون کی حکمرانی، دستور کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کا مینڈیٹ دینا چاہتی ہے،دستور مخالف قوتیں 8 فروری کا انتخاب لوٹ کر قوم کو غلام رکھنے میں کامیاب ہوئیں تو چور اُچکّے راج کریں گے اور ملک کی کشتی مزید بھنور میں اترے گی،ظلم اور جبر سے ملک کو لاقانونیت کی راہ پر ڈالنے والوں سے اپنے ووٹ کی طاقت سے حساب لینا ہوگا،دھونس اور دھاندلی کی بےپناہ ریاستی کوششوں کے باوجود عوام کو 8 فروری کو نکل کر آزادی اور غلامی میں سے کسی ایک کا فیصلہ کن انداز میں تعیّن کرنا ہوگا،چاہتا ہوں میری قوم کا ہر فرد تیاری کرے اور اپنے ووٹ کے ذریعے پاکستان کو دستور و قانون کی راہ پر ڈالنے کیلئے 8 فروری کو ووٹ ڈالے اور اپنے ووٹ کی حفاظت یقینی بنائے-

    عمران خان کی فیملی نے سماعت سے قبل جج سے کمرہ عدالت میں ہیٹرلگانے کے احکامات جاری کرنے کامطالبہ کیا، جس پر جج صاحب نے کہا کرتے ہیں کچھ! اتنی سردی میں کمیونٹی ہال میں کھلے عام سماعت اور ہیٹر نہیں.

    بغیر تیاری آجاتا ہے، میں مطمئن نہیں،عمران خان نے لطیف کھوسہ کو اہم کیس کی پیروی سے ہٹا دیا
    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے وکیل لطیف کھوسہ کو کیس کی پیروی سے ہٹا دیا،عمران خان کا کہنا تھا کہ بغیر تیاری آجاتا ہے، میں مطمئن نہیں، عمران خان نے اپنی لیگل ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہونے پر نیب کیسز کی پیروی کرنے والے وکلا کی ٹیم کو تبدیل کردیا ،عمران خان نے رواں ہفتے اپنی لیگل ٹیم سے مشاورت کے دوران عدم اطمینان کا اظہار کیا، عمران خان نے بیرسٹر علی ظفر اور سکندر ذوالقرنین کو نیب کیسز کی پیروی کرنے کی ہدایت کر دی.

    القادر ٹرسٹ کیس، وکلا تبدیل، عمران ،بشریٰ پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی
    190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم کی کاروائی 24 جنوری تک موخر کر دی گئی ہے،اس کیس میں عمران خان نے قانونی ٹیم تبدیل کر لی اب بیرسٹر علی ظفر ، سکندر ذوالقرنین سلیم اور محمد عثمان گل اس کیس کی پیروی کریں گے قانونی ٹیم کی تبدیلی کی وجہ سے آج جیل سماعت میں فردجرم عائد نہ ہو سکی، اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کیس کی سماعت کی، ملزمان کی جانب سے لطیف کھوسہ، شہباز کھوسہ، عثمان گل، سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ نیب کی جانب سے امجد پرویز، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی اور عرفان بھولا پیش ہوئے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے ریفرنس میں وکلاء تبدیل کرنے کی درخواست دی گئی اور منظور ہونے پر نئی وکلاء ٹیم میں بیرسٹر علی ظفر، سکندر ذوالقرنین اور عثمان گل کو شامل کرلیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کے نئے وکیل علی ظفر کی عدم موجودگی کے باعث فرد جرم عائد نہ ہوسکی،دوران سماعت سابق وزیراعظم عمران خان نے عدالت میں بیان دیا کہ فرد جرم میں لکھی قانونی اصطلاحات وکیل ہی سمجھا سکتے ہیں، وکیل کی غیر موجودگی میں چارج قبول ہی نہیں کرتا، یہ سب کچھ خلائی مخلوق کرنل صاحب جو دیکھ رہے ہیں وہ کرا رہے ہیں، عمران خان نے یہ کہہ کر عدالت میں لگے کیمرے کی جانب دیکھا اور ہاتھ ہلاکر اونچی آواز میں بولا ’’ کرنل صاحب! میں عمران بول رہا ہوں۔ عمرن خان کے اس اقدام پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں فرد جرم کی کارروائی 24 جنوری تک مؤخر کردی۔

    ہمارے امیدواروں کے پوسٹرز پر قیدی نمبر 804 لکھا جائے گا،عمران خان

    کیا کروں، انڈیا پر حملہ کر دوں،عمران خان کا بھارتی پر حملے پر ردعمل اور آج ایران کو ملا جواب

    بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی مسترد 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ