Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کا فتح 2 میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاکستان کا فتح 2 میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاکستان نے فتح 2 میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فتح ٹومیزائل 400کلو میٹر رینج تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، فتح ٹو میزائل تجربےمیں مختلف پیرامیٹرز کو چیک کیاگیا،کامیاب تجربےکےمشاہدے کےموقع پر مسلح افواج کے سینئرحکام،سائنسدان موجودتھے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق صدر مملکت، نگران وزیراعظم اور عسکری قیادت نے کامیاب تجربے پر مبارکباد دی۔فتح دوئم جدید ترین ایویونکس، نیوی گیشن سسٹم اور اچھوتے پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے،یہ ویپن سسٹم 400 کلومیٹر دور تک ہدف کو نشانہ بناسکتا ہے

    واضح رہے کہ پاکستان نے 2021 میں مقامی طور پر تیار کردہ گائیڈڈ راکٹ سسٹم فتح-ون کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔فتح ون میزائل گائیڈڈ ملٹی لانچ میزائل سسٹم کاحصہ ہے۔ میزائل روایتی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہتھیاروں کا نظام پاک فوج کو دشمن کی سرزمین پر مزید اندر تک ہدف کی درستگی کی صلاحیت فراہم کرے گا۔

    شُہداء، غازیوں اوراُن سے جُڑے تمام رِشتوں کو سَلام،آئی ایس پی آر کی نئی ویڈیو جاری

    بھارت کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی،ترجمان پاک فوج کا بڑا اعلان

    فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا، بھارتی وزارت دفاع

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

    پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا۔

  • عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض،سماعت  کل تک ملتوی

    عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض،سماعت کل تک ملتوی

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے حلقہ این اے 122سے کاغذات کی جانچ پڑتال شروع ہو گئی
    پی ٹی آئی وکلاء کے قافلے کی صورت میں پہنچے ، رائے محمد علی بانی چیئرمین عمران خان کی طرف سے ریٹرنگ آفیسر کے سامنے پیش ہوئے،وکیل اعتراض کنندہ نے کہا کہ ہماری کوئی زاتی عناد نہیں ہے،کچھ قانونی باتیں آپ کے سامنے رکھنی ہیں،کاغذات نامزدگی کی منظوری کےلیے تجویز اور تائید کنندہ کا حلقہ سے ہونا ضروری ہے ،الیکشن کمیشن نے پانچ سال کے لیے نااہل کر رکھا ہے ،وکیل سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نااہلی کے خلاف ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے ،ریٹرننگ افسر نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ نے نااہلی معطلی کی ہے ؟ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ابھی تک ہائیکورٹ نے معطل نہیں کی، ریٹرننگ آفیسر نے استفسار کیا کہ کیا امیدوار کے تجوید کنندہ اور تائید کنندہ کا تعلق حلقے سے نہیں ہیں،کیا آپ کے پاس اسکا کوئی ثبوت ہے ، وکیل اعتراض کنندہ نے کہا کہ حلقے سے نہ ہو تو کاغذات نامزدگی مسترد کر دیں.

    سابق چیرمین پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر وکلاء کے دلائل کے دوران پی ٹی آئی زندہ باد کے نعرے لگائے گئے، جس پر لیگی وکلاء اور پی ٹی آئی وکلاء کے درمیان تلخ جملوں کا استعمال ہوا،

    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اعتراض کرنے والے کا حلقہ سے تعلق نہیں،اعتراض قابل سماعت ہی نہیں ہے،
    ریٹرننگ افسر نے عمران خان کےکاغذات نامزدگی پر کارروائی کل تک ملتوی کردی ، ریٹرننگ افسر نے کہا کہ کل دوپہر 12:30 بجے دوبارہ دلائل مکمل کریں،

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ن لیگ میدان میں آ گئی، کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے،عمران خان نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات جمع کروائے تھے، ن لیگ کے سابق رکن پنجاب اسمبلی میاں نصیر احمد نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کیا، میاں‌نصیر احمد نے وکیل سپریم کورٹ محمد رمضان چودھری،بیرسٹر عبدالقدوس سوہل کے توسط سے درخواست دائر کی،میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان سزا یافتہ ہے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں، ریٹرننگ افسر نے عمران خان کے کاغذات پر اعتراض سننے کے لئے 2 بجے کا وقت دے دیا۔

    ن لیگی رہنما ملک نصیر احمد کی عمران خان کے کاغذات نامزدگی کے خلاف درخواست میں مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر کو کاغذات نامزدگی کی مکمل جانچ پڑتال اور اگر ضروری ہو تو مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔عمران خان کے کاغذات پر ان کا تائید کنندہ حلقہ این اے 122 کا ووٹر نہیں عمران خان نے جیل سے جو کاغذات جمع کروائے اس پر جیل سپریٹنڈنٹ کی تصدیق نہیں ہے،

    میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ٹرائل کیا گیا، الیکشن ایکٹ کی دفعہ 167 اور 173 کے تحت اسے سزا سنائی گئی ،مورخہ 05.08.2023 کو انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی اور درخواست بھی دائر کی۔سزا کی معطلی کے لیے (C.M. No.01/2023) اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرنے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی،عمران خان کو الیکشن کمیشن نے سزا سنائی ،سزا کی وجہ سے عمران خان الیکشن نہیں لڑ سکتے،

    میاں نصیر احمد کی درخواست میں کہا گیا کہ ریٹرننگ آفیسر کو الیکشن ایکٹ کی دفعہ 62 کے تحت کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔انتخابی عمل کی سالمیت کو برقرار رکھنے، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ امیدوار ضروری قابلیت کو پورا کرتے ہیں اور قانونی کی تعمیل کرتے ہیں۔درخواست میں عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مبشر حسن اور دیگر کے معاملے میں بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان،یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ،آئین کا آرٹیکل 63(1)(ایچ) جو کہ کسی شخص کو نااہل قرار دیتا ہے،اگر عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں سزا سنائی ہو،ایک انتخاب کنندہ، اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے، اس پر اعتماد کرتاہے۔نمائندے کے لئے ضروری ہے کہ وہ امانت میں خیانت نہ کرے، اپنے آپ کو بدعنوانی یا اخلاقی پستی کے جرم میں ملوث ہونے پر نااہل قرار دیا جاتا ہے،قانونی تقاضے ان قانونی دفعات کی پابندی کے لیے ضروری ہیں،

  • سپریم کورٹ، عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ، عمران خان کی نااہلی ختم کرنے کی اپیل پر فوری سماعت کی استدعا مسترد

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی درخواست کے مقرر کرنے کا معاملہ ،سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی اپیل کو چھٹیوں میں مقرر کرنے کی استدعا مسترد کر دی

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ چھٹیوں میں تین رکنی بینچ دستیاب نہیں، چھٹیوں کے بعد تین رکنی بینچ اس کیس کو سنے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا ہے،ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف درخواست تین رکنی بینچ سن سکتا ہے ،توہین عدالت کی درخواست شاید کل لگ جائے،توہین عدالت کی درخواست آئی ہے اس کو مقرر کرنے سے متعلق چیمبر میں جا کر فیصلہ کریں گے

    قبل ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فیصلہ معطلی اور لیول پلیئنگ فیلڈ کے کیس کی سماعت کے لیے تحریک انصاف کے وکلاء قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کی عدالت پہنچ گئے،تحریک انصاف کے سینئر وائس صدر لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کی ہیں،عمران خان کے خلاف فیصلہ معطلی کی استدعا کی گئی ہے، لیول پلیئنگ فیلڈ کے معاملے میں بھی توہین عدالت دائر کر رکھی ہے، قائمقام چیف جسٹس جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ دونوں درخواستوں کی آفس سے معلومات حاصل کر لیتے ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر میرے اسٹاف سے فائل چھینی گئی اور دھمکایا گیا،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ معاملہ ایڈمنسٹریٹو سائڈ پر دیکھا جائے گا، اس میں کوئی آئینی ایشو نہیں جو عدالت میں لگایا جائے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ تو انصاف سے رسائی سے انکار ہے،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آپ کی درخواست میں بہت ہی سنجیدہ الزامات ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر بروقت کیس جمع ہوتا تو آج اتنی ایمرجنسی نہ ہوتی،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکر رکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، انتخابات قریب ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • نظربندی کا حکم واپس،شاہ محمود قریشی اڈیالہ سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    نظربندی کا حکم واپس،شاہ محمود قریشی اڈیالہ سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے شاہ محمود قریشی کی نظر بندی کا حکم واپس لے لیا

    پولیس نے شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے مقدمات میں گرفتار کرلیا ،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کی 15 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے، سائفر کیس میں سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد شاہ محمود قریشی سائفر کیس میں رہا ہوئے ، جیل سے نکلتے ہیں راولپنڈی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا، بکتر بند گاڑی میں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا.شاہ محمود قریشی کو پولیس دھکے مارتے ہوئے گاڑی تک لے کر گئی، بکتر بند گاڑی میں شاہ محمود قریشی کو بٹھایا گیا، اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا سامان بھی گاڑی تک پہنچایا گیا.

    اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ظلم ، ناانصافی،سپریم کورٹ کے آرڈر کا مذاق اڑایا گیا، مجھے دوبارہ جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، انتقامی سیاست کی جا رہی، بے گنا ہ ہوں،

    رہائی کے فوراً بعد راولپنڈی پولیس نے شاہ محمود قریشی کو تھانہ آر اے بازار کے مقدمے میں گرفتار کیا۔شاہ محمود قریشی کی مقدمہ نمبر 981 اور 708 میں گرفتاری ڈالی گئی ہے، شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے تھانہ آر اے بازار منتقل کردیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی کا جسمانی ریمانڈ لینے کیلئے انہیں ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا،

    میرے والد برصغیر کی سب سے بڑی جماعت کے گدی نشین ،لحاظ نہیں کیا گیا،مہر بانو قریشی
    راولپنڈی: شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی اور وکیل بیرسٹر تیمور ملک جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے ،شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی نے جوڈیشل کمپلیکس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا، ہمیں بتایا گیا کہ کسی نئے مقدمے میں شاہ محمود کو گرفتار کیا گیا، ہمیں نہیں بتایا جارہا کہ نہیں کہاں لے کر گئے، انہیں ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا یا نہیں،میرے والد کی گرفتاری کے وقت نہ رتبے کا لحاظ کیا گیا اور نہ ہی عمر کا، برصغیر کی سب سے بڑی جماعت کے گدی نشین ہیں اس کا لحاظ نہیں کیا گیا،الیکشن لڑنا شاہ محمود قریشی کا حق ہے ان کو دینا چاہیئے،

    شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں ضمانت سپریم کورٹ نے منظور کی تھی، عمران خان کی بھی ضمانت منظور ہوئی تھی تا ہم عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا تیسرا روز

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا تیسرا روز

    عام انتخابات 2024، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تین حلقوں کے لیے ریٹرننگ افسران جانچ پڑتال کر رہے ہیں ،گزشتہ روز دو حلقوں سے 24 امیدواروں کے کاغذات کی اسکروٹنی مکمل کی گئی ہے۔حلقہ این اے 46، این اے 47 اور این اے 48 سے 208 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل 30 دسمبر تک جاری رہے گا۔ سکروٹنی کے پہلے روز حلقہ این اے 46 سے آر او نے گیارہ امیدواروں کو طلب کیا تھا۔11 امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے ۔ ان گیارہ امیدواروں میں جماعت اسلامی کے میاں اسلم بھی شامل ہیں ۔ این اے 48 سے 13امیدوار طلب کیے گئے تھے۔تمام امیدواروں کی سکروٹنی مکمل کر لی گئی ہے۔ حلقہ این اے 47 سے 26 امیدواروں کو آج طلب کیا گیا ہے۔

    پی کے 91 کا ریٹرننگ افسر معطل،الیکشن کمیشن کا اپیل دائر کرنے کا فیصلہ
    پشاور ہائی کورٹ نے ریٹرننگ آفیسر PK-91 کوہاٹ II عرفان اللہ کی بطورِ ریٹرنگ آفیسر تعیناتی کے الیکشن کمیشن کے آرڈر کومعطل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے اس آرڈر کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے۔ پشاور ہائی کورٹ کے مذکورہ آرڈر کے بعد اب یہ حلقہ تکنیکی طور پر بغیر ریٹرننگ آفیسر کے ہے۔ ان حالات میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کےلیے الیکشن کروانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔رپورٹ ،محمد اویس

    پاکستان راہ حق پارٹی چترال این اے 1 میں جماعت اسلامی کے حق میں دستبردار
    پاکستان راہ حق پارٹی چترال نے این اے 1 میں جماعت اسلامی کے حق میں دستبرداری کا اعلان کردیا چترال پریس کلب میں ایک پرھجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ھوئے پاکستان راہ حق پارٹی کےضلع لوئرچترال کے صدرمولاناسراج الدین نےمولانا عبدالاکبر چترالی کےحق میں اپنی کاغذات نامزدگی واپس لینےکااعلان کردیا.

    حلقہ این اے 156سے پی ٹی آئی امیدوار نذیر احمد جٹ کے خلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج
    بورے والاکے حلقہ این اے 156سے پی ٹی آئی امیدوار نذیر احمد جٹ کے خلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج کرلیا گیا، ایف آئی آر کےمتن میں کہا گیا ہے کہ نذیر جٹ کے میٹر میں ٹرمینل میں شنٹ لگا کر بجلی چوری کی جارہی تھی،چوہدری نذیر احمد جٹ کے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی 30دسمبر کو ہے،سابق ایم این اے نذیر جٹ اس وقت سعودی عرب میں مقیم ہیں،مقدمہ ایس ڈی او مدینہ ٹاؤن کی درخواست پر درج ہوا،

    این سے 247، مصطفیٰ کمال کے کاغذات نامزدگی منظور
    عام انتخابات 2024 کے لئے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال کے NA247 ڈسٹرکٹ سینٹرل سے کاغذاتِ نامزدگی منظور کر لئے گئے،اس موقع پر سید مصطفی کمال کے ہمراہ ڈی سی آفس سینٹرل میں ایم کیو ایم کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھے،

    این اے55 سے محمد اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظور
    این اے55 سے محمد اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی مکمل ہو گئی،سربراہ مسلم لیگ (ضیا) محمد اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،دوسری جانب این اے 75 میں پی ٹی آئی کے امیدوار چوھدری عرفان عابد کے تجویز کنندہ کو پولیس نے رات کو گھر سے گرفتار کر لیا ،پی ٹی آئی کے امیدوار عرفان عابد کے تجویز کنندہ کا نام محمد آصف ہے ،چودھری عرفان عابد کا کہنا ہے کہ محمد آصف کو پولیس نے گھر سے اٹھایا تاکہ مجھے الیکشن میں کھڑا ہونے سے روکا جائے،میرے تجویز کنندہ کو پولیس تھانہ ظفروال نے نامعلوم جگہ منتقل کر دیا ہے ۔

    حافظ طلحہ سعید کے این اے 122 سے کاغذات نامزدگی منظور
    پروفیسر حافظ محمد طلحہ سعید کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این اے 122 کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے لئے پیش ہوا تھا، منظور ہو گئے، عمران خان مقابلے میں ہیں ایسی صورتحال چل رہی شاید وہ الیکشن نہ لڑیں اگر وہ الیکشن لڑتے بھی ہیں تو انکا حق ہے، ہمیں امید ہے کہ ہم جیتیں گے،مذہبی جماعتوں کا الیکشن میں اتحاد ہونا چاہئے، خلوص دل سے کوشش کی جائے تو مذہبی جماعتوں کا الائنس بن سکتا ہے،لوگ محنت کر رہے ہیں، ہم خلوص دل کے ساتھ قوم کی خدمت کر رہے ہیں،میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہا ہوں، قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے ہمارے امیدوار میدان میں ہیں

    حافظ سعد رضوی کے کاغذات نامزدگی این اے 50 اٹک سے منظور
    امیر تحریک لبیک پاکستان علامہ حافظ سعد حسین رضوی کے کاغذاتِ نامزدگی حلقہ این اے 50 اٹک سے منظور ہو گئے ہیں،کراچی کے حلقہ NA-246 ضلع غربی سے مفتی علی جہانگیری کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں،کراچی کے حلقہ PS-90 کورنگی سے ریحان محسن قادری کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشست کے لیے حیدرآباد سے خاتون امیدوار شہنیلا خان سروری کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں۔ کراچی کے حلقہ PS-94 کورنگی سے امیر کراچی مفتی قاسم فخری کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ہیں

    اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کے کاغذات نامزدگی مسترد
    اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کی جانب سے پی کے 45 ایبٹ آباد سے الیکشن کیلے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے۔ ریٹرنگ آفیسر نے کہا کہ مشتاق غنی مفرور ہیں، سفری ضمانت کے باوجود واپس نہیں آئے، مشتاق غنی کی اہلیہ فرزانہ مشتاق کے کاغذات منظور کر لئے گئے، مشتاق غنی کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات فیاض نامی شحص نے دائر کیا تھا،

    ن لیگی رہنما عابد شیر علی کے کاغذات نامزدگی منظوری،میاں طاہر جمیل کے بھی منظور
    این اے 102 سے ن لیگ کے امیدوار عابد شیر علی کے کاغذات منظور ہو گئے،پی پی 115 سے ن لیگ کے امیدوار میاں طاہر جمیل کے کاغذات بھی منظورہو گئے،عابد شیر علی اور طاہر جمیل کمشنر آفس میں قائم آر او آفس پیش ہوئے،اس موقع پر عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ بلے کے نشان سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ، یہ نشان بس ہوا میں ہے، اداروں ہر حملہ کرنے والے لاڈلے کیلئے آج بھی انصاف کا معیار الگ ہے،

    این اے 122 لاہور، ن لیگ نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض دائر کردیا
    لاہور این اے 122 میں سابق وزیراعظم عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیا گیا، ن لیگ کے سابق ایم پی اے نصیر احمد نے تحریری اعتراض داخل کرایا، درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان سزا یافتہ ھے الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں

    مریم نواز سزا یافتہ،اثاثے غلط، دستخط جعلی، پی پی 80 میں کاغذات نامزدگی پر اعتراض
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کے حلقہ پی پی 80 سے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے گئے،علی حسن اور مہر طاہر کی جانب سے آر او آفس میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ہم پی پی 80 کے ووٹرز ہیں، مریم نواز نے جو کاغذات نامزدگی جمع کروائے اس پر مریم نواز کے دستخط جعلی ہیں، مریم نواز مختلف کیسز میں سزا یافتہ ہے،اس نے کاغذات نامزدگی میں اثاثے بھی غلط لکھے،مریم نواز کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جائیں

    لاہور کے حلقے این اے 127 سے بلاول کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض
    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض دائر کر دیئے گئے،لاہور کے حلقے این اے 127 سے کاغذات نامزدگی پر اعتراض دائر کیا گیا .شہری محمد ایاز نے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کیا ،بلاول بھٹو زرداری کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کی درخواست ریٹرننگ افسر کو جمع کروا دی ،موقف اپنایا گیا کہ بلاول بھٹو نے اپنے کاغذات نامزدگی میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سے وابستگی طاہر کی ،پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز الگ الگ سیاسی جماعتیں ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان تلوار اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کا نشان تیر ہے، بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کا چیئرمین اور آصف زرداری پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر ہیں، الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق ایک شخص ایک وقت میں ایک جماعت کا رکن ہوسکتا ہے ،یہ الیکشن ایکٹ کی خلاف وزری ہورہی ہے ،بلاول بھٹو کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 28 دسمبر کو ہوگی،محمد ایاز فاروقی نے این اے 127 لاہور سے بلاول بھٹو زرداری کے کاغذات نامزدگی کی منسوخی کے لیے درخواست دائر کر دی۔

    این اے 119 سے صنم کے کاغذات کی سکروٹنی مکمل کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،ملتان کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 149 سے جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،ریٹرننگ آفیسر کے مطابق جاوید ہاشمی کے این اے 149 سے کاغذاتِ نامزدگی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد منظورکیے گئے،سابق نگراں صوبائی وزیر جمال رئیسانی کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیے گئے جمال رئیسانی این اے 264 کوئٹہ سے الیکشن میں حصہ لے رہے

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے این اے 194 لاڑکانہ سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے،ترجمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلا غیر قانونی ہے عدالت میں چیلنج کریں گے،

    زرتاج گل کے کاغذات نامزدگی مسترد
    تحریک انصاف کی رہنما، سابق وفاقی وزیر زرتاج گل کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ہیں، تحریک انصاف کے مطابق زرتاج گل کے تائید اور تجویز کنندہ کو اغوا کر لیا گیا ہے، تائید اور تجویز کنندہ کے ریٹرننگ آفس میں کاغذات کی جانچ پڑتال پر نہ پہنچنے پر کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں۔ اِس معاملے میں کورٹ سے رجوع کیا جائیگا۔زرتاج گل کے وکیل کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،

    این اے 130 لاہور، نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے این اے 130 لاہور سے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں، ن لیگی رہنما بلال یاسین پیش ہوئے تھے،بلال یاسین کا کہنا تھا کہ این اے 130 لاہور سے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی پر کوئی اعتراض نہیں آیا اور وہ منظورہو گئے ہیں،الیکشن میں آٹھ فروری کو نواز شریف اس حلقے سے کامیاب ہو کر وزارت عظمیٰ کے چوتھے بار امیدوار بنیں گے.

  • لیول پلئنگ فیلڈ کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا،تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    لیول پلئنگ فیلڈ کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا،تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکردی

    تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

  • کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا دوسرا روز، الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں متحرک

    کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا دوسرا روز، الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں متحرک

    عام انتخابات2024 کیلئے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے،

    کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل 30 دسمبر تک مکمل ہوگا،8 فرور ی کو عام انتخابات ہوں گے،قومی اور صوبائی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر آج مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی سکروٹنی کا عمل جاری ہے،پورے ملک میں الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں متحرک ہو گئی ہیں،امیدواران کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد میں تشہیری ہورڈنگز لگائے گئے ہیں،اسلام آباد میں مانیٹرنگ ٹیموں نے امیدواران کا تشہیری مواد ہٹانا شروع کر دیا، تمام اضلاع میں الیکشن کمیشن کی مانیٹرنگ ٹیمیں فعال ہو گئی ہیں.

    کراچی سے انتخابات لڑنے والے پارٹی سربراہ کم ہوگئے،2018 میں کئی جماعتوں کے سربراہوں نے کراچی سے الیکشن لڑا تھا،عمران خان، بلال بھٹو، شہباز شریف، خالد مقبول کراچی سے امیدوار تھے،مصطفی کمال نے پی ایس پی کے سربراہ کے طور پر الیکشن لڑا تھا،بانی چئیرمین پی ٹی آئی اور بلاول بھٹو اس بار کراچی کے انتخابی میدان سے باہر ہیں،شہباز شریف اور خالد مقبول اس بار بھی کراچی سے الیکشن لڑ رہے ہیں،مصطفی کمال اپنی جماعت، ایم کیو ایم میں ضم کرچکے ہیں

    ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کی زیر صدارت اسلام آباد میں الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں فیڈرل ڈائریکٹوریٹ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، ڈی آر او کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نمائندگان کی الیکشن ڈیوٹیز کی ٹریننگ کا آغاز تیس دسمبر سے کیا جارہا ہے، الیکشن ڈیوٹیز ٹریننگ لسٹ میں شامل اہلکاروں کی حاضری کو یقینی بنایا جائے،اسلام آباد میں افسران کی ٹریننگ کے لیے دو مختلف جی سکس اور جی سیون میں دو سکولوں کے سینٹرز بنائے گئے ہیں

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے این اے 194 لاڑکانہ سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے،ترجمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلا غیر قانونی ہے عدالت میں چیلنج کریں گے،

    زرتاج گل کے کاغذات نامزدگی مسترد
    تحریک انصاف کی رہنما، سابق وفاقی وزیر زرتاج گل کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ہیں، تحریک انصاف کے مطابق زرتاج گل کے تائید اور تجویز کنندہ کو اغوا کر لیا گیا ہے، تائید اور تجویز کنندہ کے ریٹرننگ آفس میں کاغذات کی جانچ پڑتال پر نہ پہنچنے پر کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں۔ اِس معاملے میں کورٹ سے رجوع کیا جائیگا۔زرتاج گل کے وکیل کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،

    این اے 130 لاہور، نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے این اے 130 لاہور سے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں، ن لیگی رہنما بلال یاسین پیش ہوئے تھے،بلال یاسین کا کہنا تھا کہ این اے 130 لاہور سے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی پر کوئی اعتراض نہیں آیا اور وہ منظورہو گئے ہیں،الیکشن میں آٹھ فروری کو نواز شریف اس حلقے سے کامیاب ہو کر وزارت عظمیٰ کے چوتھے بار امیدوار بنیں گے.

    پیپلز پارٹی نے کے پی میں پہلی بار ہندو خاتون کو جاری کیا ٹکٹ
    پیپلزپارٹی نے بونیر سےہندو اقلیت کی رکن ڈاکٹر سویرا پرکاش کو جنرل سیٹ کے لیے ٹکٹ جاری کیا ہے، خیبر پختونخواہ کے ضلع بونیر میں پہلی ہندو خاتون امیدوار نے پی کے 25 بونیر سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں،ر ڈاکٹر سویرا پرکاش نے پاکستان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے عام انتخابات 2024 میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ، خاتون امیدوار ڈاکٹر سویرا پرکاش کے والد ڈاکٹر اوم پرکاش گزشتہ 35 برسوں سے پیپلزپارٹی سے وابستہ ہیں

    sawera

    قومی اسمبلی کی مخصوص نشست پرمریم اورنگزیب، حنا ربانی کھر سمیت لیگی رہنما شائستہ پرویز جب کہ صوبائی مخصوص نشستوں پرعظمی بخاری،حنا پرویز بٹ اور ذکیہ شاہنواز کے کاغذات منظور کرلیے گئے ہیں، پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو، روبینہ قائم خانی، سعید غنی، تنزیلہ قمبرانی، جمیل سومرو، ٹی ایل پی کی ثروت فاطمہ، ایم کیو ایم کی افشاں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے

    لیاقت بلوچ، لطیف کھوسہ، ناصر بٹ ،مریم اورنگزیب کے کاغذات منظور
    این اے 128 اور این اے 123 سے لیاقت بلوچ کے کاغذات منظور کر لئے گئے ہیں، راشد شفیق کے پی پی 19 سے کاغذات منظور کیے گئے ہیں،تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ کے این اے 127 سے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے،مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ کی کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،ناصر بٹ نے این اے 56 اور پی پی 16 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے،

    جمشید دستی کی حفاظتی ضمانت منظور
    تحریک انصاف کے روپوش رہنما ،سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی منظر عام پر آگئے ،جمشید دستی مظفر گڑھ پولیس کو تھانہ صدر میں قائم ایک مقدمہ میں مطلوب ہیں جمشید دستی نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور پیش ہو گئے، لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نےجمشید دستی کی 2 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی، جمشید دستی اپنے وکیل کے ہمراہ حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں پیش ہوئے، جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے جمشید دستی کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    آصف زرداری، سلیم مانڈوی والا،عبدالقادر پٹیل،شازیہ مری،آسیہ اسحاق،ایاز صادق کے کاغذات منظور
    پیپلزپارٹی کی سحر کامران کے مخصوص نشست کے لئے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،پیپلزپارٹی کی امیدوار خیر النساء مغل کے کاغذات بھی منظور کرلئےگئے، اس موقع پر سحر کامران کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ پیپلز پارٹی کے اتنے امیدوار ضرور ہوں گے کہ مجھے قومی اسمبلی میں سیٹ مل جائے گی،میرے کاغذات منظور ہو گئے ہیں. این اے 232 سے ایم کیو ایم پاکستان رکن رابطہ کمیٹی آسیہ اسحاق کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں.سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے این اے 240 کی نشست پر کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں.سابق صدر آصف زرداری کے حلقہ این اے 207 سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،این اے 243 سے پی پی امیدوار عبدالقادر پٹیل کے فارم بھی منظور ہو گئے،سابق گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب کے این اے 16 ایبٹ آباد سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے جمع کرائے گئے کاغذات منظور کر لیے گئے،لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 121 سے ایم کیو ایم امیدوار عمران اشرف، جی ڈی اے رہنما شمائلہ رضا کے این اے 240 کراچی، این اے 248 کراچی سے پی پی امیدوار فیضان راوت کےکاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،پیپلز پارٹی کی شازیہ مری، تنزیلا لغاری اور سعدیہ جاوید کے خواتین کی مخصوص نشستوں پر کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے.سابق وزیراعظم پاکستان اور موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور امیدوار برائے صوبائی اسمبلی خرم پرویز راجہ کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہونے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم اور پارٹی نشان واپس لینے کے فیصلے کو عبوری معطل کردیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل ہوگا،پشاور ہائی کورٹ نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے ختم ہونے کے بعد پہلے ڈبل بینچ میں کیس سنا جائے۔

    وکیل تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کو تسلیم کیا، الیکشن کے انعقاد میں کوئی بے ضابطگی کا نہیں کہا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست جبکہ اس کے انعقاد کرنے والے پر اعتراض کیا، الیکشن کمیشن نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی سے انتخابی نشان لیا، اب ہم الیکشن میں بطور پارٹی حصہ نہیں لے سکتے،مخصوص نشستیں بھی سیاسی جماعت کو بغیر انتخابی نشان نہیں مل سکتیں، سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کردیا گیا، انتخابی نشان سیاسی پارٹی کی پہچان ہوتی ہے، اسکے بہت سنجیدہ ایشو ہوں گے،انتخابی نشان کے بغیر امیدوار میدان میں نہیں اُترسکتے، ریزرو سیٹ بھی اقلیتی امیدوار کو نہیں مل سکتی ،جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کیلیے جنرل سیکرٹری کے کمیشن بنانے پر اعتراض کیا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو صحیح جبکہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کیجانب سے کمیشن کی تقرری پر اعتراض کیا ، علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کو سوالیہ نشان بنانے کا اختیار نہیں ،الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ،پولیٹکل پارٹیز ایکٹ اور الیکشن ایکٹ واضح ہے اور ان میں اختیارات کا تعین ہے ،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ میں نے فیصلہ نہیں پڑھا، کیا صرف یہی لکھا ہے کہ الیکشن کرانے والے کی تعیناتی غلط ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل الیکشن کمیشن نے یہی لکھا ہے، الیکشن کمیشن پارٹی میں تعیناتیوں پر سوال نہیں اٹھا سکتا، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کرسکتا، اگر الیکشن کمیشن کو یہ اختیارات دیئے گئے تو آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہوگی۔الیکشن کمیشن کے پاس کسی بھی سیاسی پارٹی کے عہدیدار کی تقرری ، انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ، الیکشن کمیشن کے پاس کورٹ کی طرح اختیارات نہیں ہیں ، الیکشن کے حوالے سے معاملات سول کورٹ باقاعدہ ٹرائل کے بعد طے کرتا ہے، 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جنہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض نہیں کیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر سیکرٹری جنرل مستعفی ہوجائے تو کیا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عہدے سنبھالا لیتا ہےاس وقت عمر ایوب تھے،جسٹس کامران حیات نے کہا کہ کیا اسد عمر نے استعفیٰ دیا اور وہ منظور ہوا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی بالکل ، جنوری میں اسد عمر گرفتار ہوئے اور جب واپس آئے تو استعفیٰ دیا، اسد عمر کے بعد عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستگزار کون ہیں ؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواست عام شہریوں کے طور پر دی گئی ،کسی بھی سیاسی پارٹی کو صرف سپریم کورٹ نکال سکتی ہے الیکشن کمیشن کمیشن نہیں، جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ آپ کی پارٹی کے آئین و رولز میں انٹرا پارٹی انتخابات کا کیا طریقہ کار ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ پر ہوگا، رجسٹرڈ ووٹرز ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ، ، انٹرا پارٹی انتخابات رولز ہم نے بنائے ہیں ہم ہی اپ ڈیٹ کرینگے،الیکشن کمیشن ڈائریکشن نہیں دے سکتا، جسٹس کامران حیات نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ کہ رہی ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن نہیں ہوا،آپ یہ کہنا جاتے ہیں کہ اگر الیکشن نہیں کروائیں گے تو پھر پارٹی جرمانہ ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ یہاں تو اس سے بڑا فیصلہ ہوا ہے اور پارٹی کو الیکشن سے ہی باہر نکال دیا،ایک طرف ہمیں کہا جاتا ہے کہ 20دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں دوسری جانب اعتراض کررہے ہیں ، انٹرا پارٹی کے خلاف 14بندوں نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ایک بھی پارٹی ممبر نہیں تھا، الیکشن کمیشن کو بتایا کہ درخواستگزار پی ٹی آئی ممبر شپ کو کوئی ثبوت دیں ، اگر انتخابی نشان نہیں ملا تو ہمیں اقلیتی اور خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں ملے گی، 30دسمبر اسکروٹنی کا آخری دن ہے ہمیں نشان الاٹ کیا جائے،

    جسٹس کامران حیات نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آج نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ ڈویژنل بینچ کا کیس ہے،پی ٹی آئی کی آج ہی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا پشاور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی،انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا، بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، عدالت نے کہا کہ سرکاری وکلاء کو وقفے کے بعد سنتے ہیں.

    دوبارہ سماعت ہوئی جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہاکہ آپ ادھر ادھر جاتے ہیں جو سوال کیا ہے اس پر آ جائیں،وکیل نے کہاکہ پارٹی کو نشان تب الاٹ ہوتا ہے جب وہ الیکشن کرائے اور سرٹیفکیٹ جمع کرائے،جسٹس کامران نے کہاکہ الیکشن شیڈول جاری ہو گیا ہے اب تو نشان نہیں روک سکتے،الیکشن شیڈول جاری ہو گیاہے نشان دینا ہوگا،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کوپشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، درخواست میں پی ٹی آئی کے وکلاء نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے استدعا کی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کرانے کے طریقے پر فیصلے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے پارٹی ممبر ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بلا بھی واپس لے لیا ہے،تحریکِ انصاف نے اپنی درخواست میں الیکشن اور انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو بھی فریق بنایا ہے،عدالت سے سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنانے اور درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے،

    پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ، بیرسٹر علی ظفر
    پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کردیا ہے، عدالت نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن نے کس شق کے تحت فیصلہ کیا؟ یقین ہے ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہوتا ہے، التجا کرتا ہوں کہ آئین و قانون پر یقین رکھیں،پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ہے عدالت نے الیکشن کمیشن کے بلے چھیننے کے آرڈر کو معطل کردیا ہے اور کہا کہ بلے کا نشان واپس کیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا تھا اور بلا ہی رہے گا،بانی پی ٹی آئی چیئرمین تھے اور رہیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں سپریم کورٹ بھی توہین عدالت کا کیس دائر کرنے جا رہے ہیں، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا، اس کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ ہو گا، پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ پری پول ریگنگ ہو رہی ہے، امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی تک چھینے گئے

    قبل ازیں تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا پی ٹی آئی کا نشان تھا اور رہے گا،پرویز خٹک کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے، بیٹ کا نشان صرف الیکشن کمیشن ہی آفر کر سکتا ہے،بیٹ کا نشان آفر کرنے کی ضرورت کیوں تھی؟ پرویز خٹک نے تو تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنی پارٹی بنائی ہے، پرویز خٹک کے بیان سے ان کے اور الیکشن کمیشن کے تانے بانے ملتے ہیں،بانی پی ٹی آئی نے این اے 32 پشاور سے الیکشن کے لیے مجھے نامزد کیا تھا، اپنے حلقے لکی مروت سے بھی قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں، الیکشن کہاں سے لڑنا ہے یہ فیصلہ پارٹی کرے گی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • آرمی چیف کی کرائسٹ چرچ آمد، مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد

    آرمی چیف کی کرائسٹ چرچ آمد، مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد

    کرسمس کے موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی کرائسٹ چرچ راولپنڈی آمد ہوئی

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کرائسٹ چرچ میں کرسمس کی تقریبات میں شرکت کی، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کرسچن کمیونٹی نے آرمی چیف کا خیرمقدم کیا اور تقریب میں شرکت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔آرمی چیف نے پاکستان میں تمام مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد دی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مذہبی برادری کے لیے احترام کا اظہار کیا اور متحد و ترقی پسند پاکستان کے لئے قائد کے حقیقی وژن پر عمل کرنے کے لیے معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ اسلام ہمیں امن، دوستی کا سبق سکھاتا ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستان کے دشمن مذہبی، نسلی اور سیاسی کمزوریوں کو استعمال کرکے دراڑیں ڈالنے پر تلے ہیں، ہمیں ایک پُرعزم اور مضبوط قوم کے طور پر ابھرنے کے لیے متحد اور یکجان ہونا پڑے گا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے درپیش چیلنجز اور مسائل سے نمٹنے کے لیے بیان بازی اور پروپیگنڈہ کی بجائے قومی مسائل کے بارے میں درست نقطہ نظر، سچائی اور علم پر مبنی رائے رکھنے کی اہمیت پر زور دیا،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے قائد اعظم محمد علی جناح کے 148ویں یوم پیدائش پر اُن کے عظیم وژن اور قیادت کو شاندار خراج تحسین پیش کیا، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بابائے قوم کے 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کے دوران قائد کے تاریخی کلمات کا حوالہ دیا کہ آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میں جانے اور آپ اس ریاست پاکستان میں اپنی مساجد یا کسی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے بھی آزاد ہیں،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے تمام شعبوں اور ڈومینز میں پاکستان کی پوری مسیحی برادری کی خدمات اور قربانیوں کا بھی اعتراف کیا،

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب 

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کی مناسبت سے نغمہ جاری

    ہندو برادری بھی شہداء کی عزت و تکریم کے لئے میدان میں آ گئی

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے علمائے کرام و مشائخ کی ملاقات

    امام کعبہ کا پاکستان آنا پاکستانی عوام کے لیے اعزاز کی بات ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

    فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشتگرد ہلاک ،3 زخمی 

  • لیاری سے”بھٹوز” کی سیٹ،پیپلز پارٹی قیادت نے چھوڑ دی،آصفہ بھی نہ آ سکیں

    لیاری سے”بھٹوز” کی سیٹ،پیپلز پارٹی قیادت نے چھوڑ دی،آصفہ بھی نہ آ سکیں

    عام انتخابات، سندھ بھر میں 9 ہزار 140 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں،قومی اسمبلی کی 61 نشستوں کے لیے 2555 امیدواروں نے جب کہ سندھ اسمبلی کی 130 جنرل نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 6585 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں،

    کراچی کے حلقے لیاری سے پیپلز پارٹی کی قیادت ہمیشہ الیکشن لڑتی رہی ہے تا ہم اب 2024 کے عام انتخابات میں لیاری کے حلقے سے پیپلز پارٹی کی قیادت نے کاغذات جمع نہیں کروائے،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ لیاری سے الیکشن لڑیں گے تاہم ایسا نہ ہو سکا، بلاول زرداری نےلیاری سمیت کراچی کی کسی سیٹ پر بھی کاغذات جمع نہیں کروائے، حالانکہ سابق وزیراعظم شہباز شریف کراچی سے کاغذات نامزدگی جمع کروا چکے ہیں،

    پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول زرداری نے پہلا الیکشن 2018 میں لیاری سے ہی لڑا تھا، لیاری سے قومی اسمبلی کی سیٹ "بھٹوز” کے نام سے مشہور ہے تا ہم اس بار پیپلز پارٹی کی قیادت لیاری کی عوام کے ساتھ دھوکہ کر گئی،لیاری کی سیٹ سے بینظیر، آصف زرداری، بھٹو بھی الیکشن لڑ چکے ہیں،سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے 1988 میں لیاری سے الیکشن لڑا تھا، آصف زرداری نے 1993 میں لیاری سے الیکشن لڑا تھا، ذوالفقارعلی بھٹو نے بھی لیاری کی نشست پر عام انتخابات میں حصہ لیا تھاتاہم اس بار لیاری کی سیٹ پر پیپلز پارٹی کی قیادت نے کاغذات جمع نہیں کروائے،بلکہ پیپلز پارٹی کے مقامی امیدوار نے کاغذات جمع کروائے ہیں

    دوسری جانب آصفہ زرداری نے کسی بھی حلقے سے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے، آصف زرداری نے آصفہ کو سیاست میں لانے کا اعلان کیا تھا ،امید کی جا رہی تھی کہ آصفہ الیکشن لڑیں گی تاہم آصفہ کے کہیں سے بھی کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے گئے.31 مارچ 2022کو سابق صدر آصف زرداری نے کہا تھا کہ آصفہ بھٹو کو اگلے انتخابات میں پارلیمانی سیاست میں لے کر آؤں گا،تاہم ایسا نہ ہو سکا

    آصفہ بھٹو زرداری سابق صدر آصف علی زرداری کے تین بچوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ ان کی پیدائش 3 فروری 1993 کو لندن میں ہوئی تھی تاہم اب وہ اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان میں مقیم ہیں اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہتی ہیں۔آصفہ بھٹو زرداری گزشتہ کچھ سالوں سے خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرتی آرہی ہیں تاہم ان کی سیاست میں باضابطہ انٹری پی ڈی ایم کے ملتان جلسے سے ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپنے سیاسی کریئر کی پہلی تقریر کی تھی

    آصفہ نے لانگ مارچ کی قیادت بھی کی تھی اور کراچی سے اسلام آباد بلاول کے ہمراہ تھیں،راستے میں ڈرون سے زخمی بھی ہوئی تھیں.

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ