Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سائفر کیس،عمران خان،شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظور

    سائفر کیس،عمران خان،شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظور

    سپریم کورٹ نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کردیا
    سپریم کورٹ کی جانب سے4 صفحات پر مشتمل ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کیا گیا،جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے 5صفحات پر مشتمل علیحدہ نوٹ بھی لکھا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کا فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا، تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے دوسرے ملک کے فائدے کیلئے سائفر کو پبلک کیا ایسے شواہد نہیں، فیصلے میں دی گئی آبزویشنز ٹرائل کو متاثر نہیں کریں گی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی ضمانت کا غلط استعمال کریں تو ٹرائل کورٹ اسے منسوخ کر سکتی ہے ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5(3) بی کے جرم کا ارتکاب ہونے کے شواہد نہیں ،ملزمان کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے جرم کے ارتکاب کیلئے مزید انکوائری کے حوالے سے مناسب شواہد ہیں،مزید تحقیقات کا فیصلہ ٹرائل کورٹ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی کر سکتی ہے،

    عمران خان کو قید رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ، ان کی رہائی عوام کو موثر اور بامعانی حق رائے دہی کا موقع دے گی، آئین توڑنے والے کسی ڈکٹیٹر نے تو ایک دن جیل نہیں کاٹی،کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت کو مسترد کیا جائے،جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ
    سائفر کیس کی ضمانت کے مقدمے میں جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ لکھا اور کہا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے خواہشمند امیدواران ہیں، سوال کیا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو انتخابات سے قبل گرفتار رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ انتخابات کی پچھلی سات دہائیوں سے تاریخ دیکھنا ضروری ہے، عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی اور شاہ محمود قریشی اعلی عہدے پر ہیں، ملک میں حقیقی انتخابات کے لیے تمام امیدواروں کو یکساں مواقع دینا آئینی ضرورت ہے، عمران خان کو قید رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ، ان کی رہائی عوام کو موثر اور بامعانی حق رائے دہی کا موقع دے گی، آئین توڑنے والے کسی ڈکٹیٹر نے تو ایک دن جیل نہیں کاٹی،کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت کو مسترد کیا جائے،پورا ٹرائل دستاویزی شواہد پر منحصر ہے،ملزمان کی گرفتاری کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا،

    قبل ازیں سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سائفر کیس، سپریم کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کر لی،شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت بھی منظور کر لی گئی،عدالت نے دس دس لاکھ ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ صرف عمران کا نہیں عوامی مفاد کا معاملہ ہے، وہ ابھی سزا یافتہ نہیں صرف ملزم ہیں، کیا آپ 2018 کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں؟عمران خان پر ابھی جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں، انتخابات 8 فروری کو ہیں، جو جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے،کیا حکومت 1970 اور 77 والے حالات چاہتی ہے،عمران کے جیل سے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی نوٹس کر دیتے ہیں آپ کو کیا جلدی ہے، عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جلدبازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لئے ہیں، عدالت نے کہا کہ سپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے، آپ کیوں چاہتے ہیں ٹرائل جلدی مکمل نہ ہو؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیمرا ٹرائل کیخلاف آج ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ دوسری درخواست فرد جرم کیخلاف ہے،

    قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ جو فرد جرم چیلنج کی تھی وہ ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے، نئی فرد جرم پر پرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا، وکیل حامد خان نے کہا کہ ٹرائل اب بھی اسی چارج شیٹ پر ہو رہا ہے جو پہلے تھی، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ پرانی چارج شیٹ کے خلاف درخواست غیرموثر ہوچکی ہے،نئی فرد جرم پر اعتراض ہے تو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں،حامد خان نے استدعا کی کہ مناسب ہوگا آج ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایسا نہ ہو آئندہ سماعت تک ٹرائل مکمل ہوجائے،شام چھ بجے تک ٹرائل چلتا ہے، عدالتی اوقات کار کے بعد بھی ٹرائل چل رہا ہوتا ہے، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ہمارے کیس چلتے نہیں، آپ کا چل رہا تو آپکو اعتراض ہے،فرد جرم والی درخواست غیرموثر ہونے پر نمٹا دیتے ہیں،وکیل سلمان صفدر نےکہا کہ حامد خان درخواست میں ترمیم کر چکے ہیں اب اسے نئی درخواست کے طور پر لیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ترمیم شدہ درخواست بھی ہائیکورٹ سے پہلے ہم کیسے سن سکتے ہیں؟

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں وزارتِ داخلہ کے سیکریٹری شکایت کنندہ ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں طلبی پر 7 ماہ حکمِ امتناع دیے رکھا، 7 ماہ ایف آئی اے خاموش رہا، توشہ خانہ کیس میں ضمانت ہوتے ہی گرفتار کر لیا، عمران خان کو اسلام آباد میں گرفتار کرنے کی 40 مرتبہ کوشش کی گئی، ملک بھر کے دیگر مقدمات اسلام آباد کے 40 کیسز سے الگ ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آڈیو لیک کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت پر ایف آئی اے نے انکوائری شروع کی تھی،سلمان صفدر نے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ 28 مارچ 2022ء کو بنی گالہ میں ہوئے اجلاس میں سائفر کے غلط استعمال کی سازش ہوئی، سابق وزیرِ اعظم پر سائفر کی کاپی تحویل میں لے کر واپس نہ کرنے کا بھی الزام ہے، ایک الزام پورے سائفر سسٹم کی سیکیورٹی رسک پر ڈالنے کا بھی ہے، اسد عمر اور اعظم خان کے کردار کا تعین تفتیش میں ہونا تھا، ایف آئی آر میں 4 ملزمان نامزد ہیں لیکن ٹرائل صرف 2 کا ہو رہا ہے، اعظم خان پر میٹنگ منٹس اور اس کے مندرجات توڑ مروڑ کر تحریر کرنے کا الزام ہے، ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں کردار کے تعین کے باوجود اعظم خان کو گرفتار کیا گیا نہ اسد عمر کو، اعظم خان ملزم کے بجائے سائفر کیس کے مقدمے کے اندراج کے اگلے دن گواہ بن گئے۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو کیسے معلوم ہوا کہ بنی گالہ میں میٹنگ ہوئی تھی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ایف آئی اے ہی بتا سکتی ہے کیونکہ اب تک پراسیکیوشن نے ذرائع نہیں بتائے، سائفر وزارتِ خارجہ سے آیا، پراسیکیوشن کے مطابق سیکیورٹی سسٹم رسک پر ڈالا گیا، وزارتِ خارجہ نے سائفر سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی، سابق وزیرِ اعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، رانا ثناء اللہ نے بطور وزیرِ داخلہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا کہا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا دائرہ وسیع کر کے سابق وزیرِاعظم پر لاگو کیا گیا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ افواجِ پاکستان سےمتعلق ہے جو ملکی دفاع سے جڑا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائفر کا مقدمہ بنا ہے،سائفر کے خفیہ کوڈز کبھی سابق وزیرِ اعظم کے پاس تھے ہی نہیں،

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ سائفرکا حکومت کو بتاتی ہےتاکہ خارجہ پالیسی میں مدد مل سکے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا مقصد ہی یہی ہے کہ حساس معلومات باہر کسی کو نہ جا سکیں، ڈپلومیٹک معلومات بھی حساس ہوتی ہیں لیکن ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے،وکیل نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید نے سائفر حساس ترین دستاویز کے طور پر بھیجا تھا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اس بات پر تو آپ متفق ہیں کہ حساس معلومات شیئرنہیں ہو سکتیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دیکھنا یہی ہے کہ حساس معلومات شیئر ہوئی بھی ہیں یا نہیں، سابق وزیرِ اعظم کے خلاف سزائے موت یا عمر قید کی دفعات عائد ہی نہیں ہوتیں،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کسی سے شیئر نہیں کیا لیکن اسے آن ایئر تو کیا ہی گیا ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ وزارتِ خارجہ سے سائفر اعظم خان کو بطور پرنسپل سیکریٹری موصول ہوا تھا، جس میٹنگ میں سائفر سازش کی منصوبہ بندی کا الزام ہے وہ 28 مارچ 2022ء کو ہوئی، چالان کے مطابق جس جلسے میں سائفر لہرانے کا الزام ہے وہ 27 مارچ 2022ء کو ہوا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل سائفر تو وزارتِ خارجہ میں ہے، وہ باہر گیا ہے تو یہ دفترِ خارجہ کا جرم ہے، سائفر کو عوام میں زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے تقریر میں کہا کہ وزیرِ اعظم کو سازش کا بتا دیا ہے، حلف کا پابند ہوں، اس بیان کے بعد شاہ محمود قریشی 125 دن سے جیل میں ہیں، وکیل سلمان صفدر نے پریڈ گراؤنڈ میں 27 مارچ 2022ء کے جلسے میں شاہ محمود قریشی کی تقریر پڑھ دی اور کہا کہ شاہ محمود نے تقریر میں کہا کہ بہت سے راز ہیں لیکن حلف کی وجہ سے سامنے نہیں رکھ سکتا،

    دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ وزیرِ خارجہ خود سمجھدار تھے، سمجھتے تھے کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں،وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بتا نہیں سکتا اور عمران خان کو پھنسا دیا، وزیرِ خارجہ نے عمران خان کو پھنسا دیا کہ آپ جانیں اور وہ جانیں، شاہ محمود خود بچ گئے اور عمران خان کو کہا کہ سائفر پڑھ دو، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان نے بھی پبلک سے کچھ شیئرنہیں کیا تھا، اگر سائفر پبلک ہو ہی چکا ہے تو پھر سائفر ٹرائل اِن کیمرا کیوں چاہیے پراسیکیوشن کو؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ کس بنیاد پر پراسیکیوشن سمجھتی ہے کہ ملزمان کو زیرِ حراست رکھنا ضروری ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم نے جلسے میں کہا تھا کہ میرے پاس یہ خط سازش کا ثبوت ہے، جلسے میں کہیں نہیں کہا کہ سائفر میں کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ سابق وزیرِ اعظم کو جیل میں رکھنے سے معاشرے کو کیا خطرہ ہو گا؟

    قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ہدایت کی کہ اعظم خان کا بیان پڑھ دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دفعہ 164 کا بیان ملزم کا اعترافی بیان ہوتا ہے، اعظم خان کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا، اعظم خان 2 ماہ لاپتہ رہے، یہ اغواء برائے بیان کا واقعہ ہے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغواء برائے تاوان تو سنا تھا، اغواء برائے بیان کیا ہوتا ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ میرے لیے سب سے آسان الفاظ اغواء برائے بیان کے ہی تھے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغواء برائے بیان ابھی اصطلاح ہے،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے اعظم خان کی گمشدگی پر تحقیقات کیں؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کا بیان دباؤ کا نتیجہ ہے، تفتیشی افسر نے کوئی تحقیقات نہیں کیں، اعظم خان نے واپس آتے ہی سابق وزیرِ اعظم کے خلاف بیان دے دیا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حساس معاملہ ہے اور ہم کوئی آبزرویشنز دینا نہیں چاہتے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا کہ سیاسی دلائل نہ دیں، آپ کو معلوم ہی ہے کہ سیاسی دلائل پر کیسے فیصلے آیا کرتے ہیں

    ایک ماہ اعظم خان خاموش کیوں رہا؟ کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گئے تھے؟ قائمقام چیف جسٹس
    جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ اگر سائفر گم گیا تھا تو سلامتی کونسل کے دو اجلاسوں میں شہباز شریف نے کیوں نہیں بتایا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے حساس دستاویزات پر مبنی ہدایت نامہ پڑھا ہے؟ تفتیشی رپورٹ میں کیا لکھا ہے کہ سائفر کب تک واپس کرنا لازمی ہے؟ نہ پراسیکیوٹر کو سمجھ آ رہی ہے نہ تفتیشی افسر کو تو انکوائری میں کیا سامنے آیا ہے؟ جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ کیا گواہان کے بیانات حلف پر ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ گواہی حلف پر ہوتی ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق گواہ اعظم خان کا بیان حلف پر نہیں ہے،کیا اعظم خان کی گمشدگی کی تحقیقات کی ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ اعظم خان نے واپس آنے کے ایک ماہ بعد بیان دیا، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ماہ اعظم خان خاموش کیوں رہا؟ کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گئے تھے؟ رضوان عباسی نے کہا کہ اعظم خان کے مطابق پی ٹی آئی کا ان پر دبائو تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عباسی صاحب ایسی بات نہ کریں جو ریکارڈ پر نہ ہو،قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ شہباز شریف نے کس دستاویز پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کیا تھا؟ رضوان عباسی نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں سائفر پیش ہوا تھا، قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اصل سائفر پیش ہوا تھا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ رضوا ن عباسی نے کہا کہ ڈی کوڈ کرنے کے بعد والی کاپی سلامتی کمیٹی میں پیش ہوئی تھی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں سزائے موت کی دفعات بظاہر مفروضے پر ہیں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا بنیادی مقصد ملکی سیکیورٹی کا تحفظ ہے، سائفر ڈسکلوز بھی ہوا تو کسی غیرملکی قوت کو کیسے فائدہ پہنچا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو دستاویزات آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق تو غیرملکی طاقت کا نقصان ہوا ہے، انتخابات 8 فروری کو ہیں اور جو شخص جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے، کیا حکومت 1970 اور 1977 والے حالات چاہتی ہے؟ نگران حکومت نے آپ کو ضمانت کی مخالفت کرنے کی ہدایت کی ہے؟ ہر دور میں سیاسی رہنمائوں کیساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟سابق وزیراعظم کے جیل کے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟ اس وقت سوال عام انتخابات کا ہے، اس وقت عمران خان نہیں عوام کے حقوق کا معاملہ ہے، عدالت بنیادی حقوق کی محافظ ہے، سابق وزیراعظم پر جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں،

    آج سرکار ثابت نہیں کر سکی کہ یہ سزائے موت کا کیس ہے،سائفر کیس سے ہوا نکل گئی،وکیل عمران خان
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکی ہے، بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں چار گھنٹے تک سماعت جاری رہی، سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں بانی چیئرمین اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی، سائفر کیس میں ایف آئی اے نے بلاجواز گرفتاری کر رکھی ہے، سائفر کیس حقیقی معنوں میں آج صفر ہو چکا ہے، سابق وزیر خارجہ کو بلاوجہ 125 دن تک جیل میں رکھا گیا،شاہ محمود قریشی اس آرڈر کے بعد رہائی کے حقدار ہیں،آج سرکار ثابت نہیں کر سکی کہ یہ سزائے موت کا کیس ہے،سائفر کیس سے ہوا نکل گئی،

    شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتقام پر مبنی کیس تھا، سپریم کورٹ نے آج شاہ محمود قریشی کو ضمانت دی ہے، آج ہمیں خوشی ہوئی کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور میرے والد کو ضمانت ملی، قید تنہائی میں میرے والد نے چار ماہ گزارے ہیں،

    عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں رہیں گے،سائفر کیس کے فیصلے کے بعد صحافی کا دعویٰ
    سپریم کورٹ سے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت منظوری کے بعد صحافی حسن ایوب نے سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں ہی رہینگے جبکہ دوسری جانب راوی بھی چین ہی چین لکھتا رہے گا ۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • مودی سرکار کے فالس فلیگ آپریشنز  اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں اضافہ

    مودی سرکار کے فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں اضافہ

    انتخابات قریب آتے ہی مودی سرکار کے فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

    ضلع پونچھ کے علاقے سرن کوٹ میں بھارتی فوجی قافلے پر حریت پسندوں کے حملے کا الزام بھی فوراً پاکستان پر لگا دیا، حالانکہ سرن کوٹ ،پونچھ کا علاقہ انڈیا کے اندر ایل و سی سے 15 سے 20 کلومیٹر دور ہے ،را کے جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس اور گودی میڈیا نے پاکستان پر بغیر ثبوت الزام لگانا شروع کر دیا،رواں سال مودی سرکار متعدد فالس فلیگ آپریشن کر چکی ہے،فالس فلیگ آپریشنوں کا مقصد پاکستان مخالف جذبات کو ابھار کر انتخابات میں ہمدردی حاصل کرنا ہے،25 جنوری کو ریپبلک ڈے سے قبل اور 26 اپریل کو راجوڑی میں جی ٹوئینٹی اجلاس کے دوران فالس فلیگ آپریشنوں کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا گیا،21 مئی کو پونچھ، 14 ستمبر کو اننت ناگ اور 28 اکتوبر کو نیلم میں بھی فالس پلیگ آپریشن اور بعد ازاں پاکستان پر الزام لگا دیا

    5 اکتوبر کو بھارتی میڈیا نے راجوری میں دہشتگرد حملے اور پاکستان پر معاونت کا الزام لگایا،حقیقت میں بھارتی میجر نے فائرنگ سے 5 بھارتی فوجی مار دئیے تھے،اپریل میں بھارتی میڈیا نے بھٹنڈہ میں ہونے والے واقعے کو دہشتگردی قرار دے کر الزام پاکستان پر لگا دیا، بعد ازاں عقدہ کھلا کہ بھارتی فوجی نے جنسی زیادتی سے تنگ آ کر 4 ساتھیوں کو مار ڈالا تھا،2014 کے انتخابات سے قبل سرجیکل اسٹرائیک اور 2018 کے انتخابات سے قبل پلوامہ حملے کا ڈرامہ بھی رچایا گیا،مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر ستیا پال ملک اور صحافی رویش کمار بھی پلوامہ حملے کے جعلی ہونے کا انکشاف کر چکے ہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہندوستانی پروپیگنڈا آرمی چیف کے کامیاب دورہ امریکہ کو متاثر کرنے کی مذموم کوشش ہو سکتی ہے، حیران کن طور پر تمام فالس فلیگ آپریشنوں کی اطلاع را کے جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس سے سب سے پہلے بریک کی جاتی ہے، ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں دن بہ دن بگڑتی صورت حال سے گھبرا کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے جسکی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں اندورنی سیکورٹی کے حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں،

    بھارتی کسان نے کس پارٹی کی ٹی شرٹ پہن کر خودکشی کی؟

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

  • لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی وصول کرنے اور جمع کروانے کا سلسلہ جاری ہے

    تحریک انصاف کے رہنما، عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ لاہور سے عام انتخابات میں حصہ لیں گے،لطیف کھوسہ نے لاہور کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے۔وکیل سلمان اکرم راجہ نے این اے 128 سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے۔

    خیبرپختونخوا میں خواجہ سراء نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والی خواجہ سراء صوبیا خان نے آج بروز بدھ اپنے کاغذات کوہاٹ روڈ میں اسسٹنٹ کمشنر سید احسان علی شاہ کے دفتر میں جمع کرائے۔صوبیا خان نے حلقہ پی کے 81 سے صوبائی سیٹ پر آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔
    خواجہ سراء نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کےلیے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے ہیں، صادق سنجرانی این اے 260 اور صوبائی اسمبلی حلقہ 32 سے امیدوار ہوں گے،صادق سنجرانی قومی اور صوبائی اسمبلی دونوں حلقوں کا الیکشن لڑیں گے،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی چاغی سے عام انتخابات میں حصہ لیں گے،

    پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے خواتین کی مخصوص نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے،مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تہمینہ دولتانہ اور کنول لیاقت نےقومی اسمبلی کی مخصوص نشست کے لیےکاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں،استحکام پاکستان پارٹی کی سعدیہ سہیل رانا نے بھی مخصوص نشست کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے ہیں،

    ن لیگ کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئے ،رانا ثنا اللہ نے حلقہ این 100 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ،رانا ثنا اللہ کے کاغذات انکے داماد احمد شہریار اور اہلیہ نبیلہ ثنا اللہ نے جمع کروائے ،کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر ڈی جی ایف ڈی اے میاں آصف کے پاس جمع کروائے گئے.

    تحریک لبیک پاکستان کے امیر علامہ سعد حسین رضوی نے تین جگہ سے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا اپنے آبائی شہر اٹک لاہور اور کراچی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے،

    حافظ عبدالرؤف، حارث ڈار سمیت مرکزی مسلم لیگ کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے لاہور کے متعدد قومی و صوبائی حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ لاہور کے صدر انجنئیر عادل خلیق نے پی پی 145، نائب صدر ملک اعجاز نے این اے 118 سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے۔جنرل سیکرٹری انجنئیر حارث ڈار نے این اے 129،رانا عامر حسین نے این اے 117 سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ، این اے 119 سے حافظ عبد الرؤف بھی نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں۔ پی پی 171 سے مرشد ارسلان، پی پی 147 شیخ صداقت، پی پی 174 ناصر محمود گھمن نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ، پی پی 148 سے ڈاکٹر مقبول،پی پی 168 سے چوہدری عبد الرازق نے بھی متعلقہ آراوز کو کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے، پی پی 163 سے ڈاکٹر عمران پی پی 173 سے حافظ راشد سمیت دیگر حلقوں سے امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں۔اس موقع پر انجینئر حارث ڈار کا کہنا تھا کہ ملک سے الزام تراشی اور پراپیگنڈا کی سیاست کو ختم کریں گے۔ ملک میں حقیقی خدمت کی سیاست کو لیکر آرہے ہیں،نظریہ پاکستان کے محافظ اور پاکستان کے بیٹے میدان میں آچکے ہیں۔8 فروری کرسی کی جیت دن ہوگا۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے راولپنڈی میں کاغذات نامزدگی جمع کروادیئے، ناصر بٹ نے این اے 56 اور پی پی 16 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں.

    مصطفی نواز کھوکھر نے این اے 47 اور 48 کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے، اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ میں این اے 47 اور این اے 48 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے آیا ہوں،لاڈلے میدان میں اتار دئیے گئے ہیں،امید کرتے ہیں الیکشن کمیشن آزادانہ ماحول فراہم کرے گا،کوئی بھی سیاسی جماعت لوگوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔

    سابق پی ٹی آئی رہنماانجینئر افتخار نے این اے 57 سے آزاد حیثیت میں کاغذات نامزدگی جمع کرادئی، سابق پی ٹی آئی رہنما راجہ مامون رشید نے PP- 17 سے آزاد امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے ہیں، جے یو آئی رہنما مولانا اسعد محمود نے حلقہ این اے 43 ٹانک سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے،سابق صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے حیدرآباد دیہی کی صوبائی اسمبلی نشت پی ایس 61 کی سیٹ پر اپنے نامزدگی کاغذات آر او آفس میں جمع کروا دیئے۔۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے پی ایس11 لاڑکانہ سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے، اے این پی کے غلام بلور نے این اے 32 کےلیے کاغذات نامزدگی جمع کروادیئے ہیں.اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف،امید وار ایم این اے حلقہ این اے52 گوجر خان،خرم پرویز راجہ،امید وار ایم پی اےحلقہ پی پی8 گوجرخان اور چوہدری سرفرازخان،امیدوار ایم پی اے حلقہ پی پی 9گو جر خان بروز جمعہ 22 دسمبر2023دن1 بجےاسسٹنٹ کمشنر آفس گوجر خان میں کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے،رہنما پاکستان پیپلز پارٹی خواجہ سہیل منصور نے این اے دو سو پچاس کے لئے بحیثیت امیدوار برائے قومی اسمبلی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروادئیے ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار برائے قومی اسمبلی سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر نے این اے 221 پر کاغذات نامزدگی جمع کروائے

    بیرسٹر عمیر نیازی کی بہن بیرسٹر نامعیہ نیازی نے میانوالی سے قومی اسمبلی NA-89 سے کاغذات نامزدگی حاصل کر لیے،
    تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا،مسلم لیگ ق سے چوہدری سالک نے این اے 64 سے کاغذات نامزدگی وصول کر لئے،جبکہ چوہدری شافع نے پی پی 31 اور 32 سے کاغذات نامزدگی وصول کیے،جبکہ چوہدری شافع اور چوہدری سالک کی جانب سے کل کاغذات جمع کروائے جائیں گے،قومی اسمبلی حلقہ این اے 25 چارسدہ ٹو سے پانچ امیدواران نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں،اے این پی سے ایمل ولی خان،جے یو ائی سے مولانا گوھر شاہ،پاکستان پیپلز پارٹی سے آفتاب عالم اور تحریک لبیک سے الف خان شیرپاؤمدمقابل ہوں گے،قومی اسمبلی حلقہ این اے 7 سے اے این پی کے امیدوار سینیٹر زاہد خان نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے،

    اسلام آباد میں تاجر رہنما چوہدری کاشف نے این اے 47 سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے۔ جماعت اسلامی کے رضا احمد شاہ نے پی پی 17 راولپنڈی سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے این اے 128 ، این اے 123 سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے،لیاقت بلوچ کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ بشارت بلوچ اور حافظ احمد عمیر ہمراہ تھے ،سابق ایم این اے لیاقت بلوچ لاہور سے دو حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں.امیدوار قومی اسمبلی حلقہ این اے 54 بیرسٹر عقیل ملک نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی جمع کروادیئے۔

    بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے NA-112 ننکانہ صاحب سے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کر لیے، اس موقع پر انکا کہنا تھاکہ تحریک انصاف کی ٹکٹ پر الیکشن لڑوں گا،مجھ پر کوئی پریشر نہیں ہے الیکشن کے لیے تحریک انصاف کی تیاری سب سے زیادہ ہے،

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ نے حلقہ این اے 46 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئے۔چوہدری شفیق الرحمان مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کے ضلعی عہدیداران اور پارٹی کارکنوں کے ہمراہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے آر او آفس پہنچے۔ ان کے ہمراہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کے رہنما یاسر عرفات بٹ، انعام الرحمان، محمد شوکت سلفی، میاں عمران، میڈیا کوآرڈینیٹر نوید احمد سمیت حلقے این اے 46 کے علاقہ معززین کی کثیر تعداد موجود تھی، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ کا کہنا تھا کہ میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی قیادت کا شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے این 46 سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا امیدوارنامزد کیا،این اے 46 کے اندر ہماری مہم جاری ہے، زور و شور سے ہماری مہم چلنے کی وجہ ہماری عوامی خدمت کا ماضی ہے،عوام کی قبولیت اور مقبولیت کی وجہ سے این اے 46 میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ پہلے نمبر پر ہوگی،08 فروری کو ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ یہ الیکشن فری اینڈفیئرہوگا، اسلام آباد کی 42 یوسیز میں ہم گئے سب نے کہا کہ پانی کا مسئلہ ہے،ترنول سے گولڑہ تک تمام یوسیز میں صفائی کے مسائل ہیں،این اے 46کے حلقے میں سڑکوں انفراسٹرکچر، صحت سہولیات کی کمی بھی دیکھی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں انتخابات سے قبل کبھی کسی کی کبھی کسی کی ہوائیں چلتی ہیں،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا خدمت کی بنیاد پر عوام کے ساتھ ایک لمبا تعلق ہے،حلقے میں عوامی خدمت کی بدولت آٹھ فروری کو این اے 46 سے کامیابی حاصل کریں گے۔
    چوہدری شفیق الرحمان وڑائچ نے حلقہ این اے 46 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئے

    پنجاب قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر خواتین کی مخصوص نشستوں پر اور اقلیتوں کی نشستوں پر کاغذات کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر 48 کاغذات جمع ہوئے ،خواتین کی صوبائی اسمبلی نشستوں پر 179 خواتین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ، اقلیتوں کی نشستوں پر 46 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے.

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے قومی اسمبلی کے حتمی فہرست جاری کردی جس میں این اے 252 سردار حق نواز بزدار،این اے 253 ملک گامن خان مری کوہلو کم سبی،این اے 254 سعید کرد میرخدابخش بنگلزئی،جھل مگسی کم نصیرآباد،این اے 255 عبدالغفور مینگل نصیرآباد کم جعفرآباد،این اے 256 سرداراخترجان مینگل ،ڈاکٹر قدوس بلوچ،خضدار
    این اے 257 جہانزیب قاسم،لسبیلہ،این اے 258 حاجی زاہد بلوچ ،حاجی عبدالغفار بلوچ،پنجگور کم کیچ،این اے 259 میر حمل کلمتی،ڈاکٹرعبدالغفور بلوچ ،گوادر کم کیچ ،این اے 260 حاجی محمدہاشم نوتیزئی ،حاجی بہادر خان مینگل،این اے 261 سرداراخترجان مینگل ،ٹکری شفقت لانگو،این اے 262 نوابزادہ اورنگزیب جوگیزئی ،ملک مجید کاکڑ بلوچستان نیشنل پارٹی کے نامزد امیدوار ہونگے

    واضح رہے کہ عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی کی وصولی کا آج دوسرا روز ہے،ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کاغذات نامزدگی جمع کروا رہے ہیں،الیکشن شیڈول کے مطابق امیدوار 20 سے 22 دسمبر تک تین روز کے دوران کاغذات نامزدگی جمع کروا سکتے ہیں،

  • بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    بلوچ لانگ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے سپشل رپورٹ جاری کر دی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ 20 دسمبر 5 بجے معلوم ہوا کہ چیئرپرسن بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈاکٹر مہارنگ بلوچ کی قیادت میں کچھ مظاہرین پشاور ٹول پلازہ پر جمع ہیں ،مظاہرین 08 گاڑیوں پر 12 بچوں اور 45 خواتین سمیت تقریباً 250 مظاہرین تھے، ایس ایس پی اور ایس پی صدر نے ان کے ساتھ مذاکرات کیے،مظاہرین کو H-9 سیکٹر میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے جگہ کی پیشکش کی،مظاہرین نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا،دوسرے آپشن کے طور پر F-9 پارک میں رہنے کی پیشکش بھی کی گئی،مظاہرین زبردستی اسلام آباد کے دائرہ اختیار میں داخل ہوئے،مظاہرین نے 26 نمبر چونگی پر سڑکیں بلاک کرنا شروع کر دیں،اسی دوران تقریباً 250 مظاہرین، جن میں سے کچھ لاٹھیوں سے لیس تھے، نیشنل پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے اور دونوں طرف کی سڑکیں بند کر دیں،پولیس نے مظاہرین کو آگاہ کیا کہ ریڈ زون میں احتجاج پر پابندی عائد ہے،

    پریس کلب کے باہر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور الزام پولیس پر عائد کیا،پولیس نے مجموعی طور پر 300 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 5 خواتین شامل ہیں،مظاہرین نے قانون کو ہاتھ میں اور ریاست اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی،

    جو لوگ بلوچستان سے آئے ان کی طرف سے کوئی شرانگیزی نہیں کی گئی لیکن کچھ مقامی افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی، فواد حسن فواد
    حکومت کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی نے مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کی ہے، نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ کل مظاہرین اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوئے، وزیر اعظم نے مزاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، ہم نے مزاکرات کیے بچوں اور عورتوں سے بھی ملے،

    فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ جب مظاہرین اسلام آباد پہنچے تو انتظامیہ نے ان سے رابطہ کیا، پولیس نے مظاہرین کو دو جگہوں کی آفر کی،پریس کلب کے باہر کئی خواتین تئیس دنوں سے بیٹھی ہیں، پریس کلب کے باہر بیٹھی خواتین کو انتظامیہ نے کچھ نہیں کہا،مظاہرین اور پولیس کے درمیان کلیش ہوا، مجبورا پولیس کو مظاہرین کو گرفتار کرنا پڑا،بڑے نقصان سے بچنے کیلئے ریاست کو مجبور کچھ اقدامات کرنے پڑتے ہیں،صرف وہ لوگ تحویل میں ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی،کچھ مقامی افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی ، چہرہ ڈھانپ کر کچھ لوگوں نے پتھراو کیا جس کے بعد صورتحال خراب ہوئی ، جو لوگ بلوچستان سے آئے تھے ان میں سے کسی نے شرانگیزی نہیں کی ،احتجاج روکنا مقصد نہیں تھا ، احتجاج تو 23دن سے جاری ہے ،جولوگ بلوچستان سے آ رہے تھے ان میں سے کسی نے کوئی تشدد نہیں کیا ،کچھ لوگوں کی شناخت اور تحقیقات کا عمل جاری ہے،وزارتی کمیٹی نے قابل شناخت تمام افراد رہا کردئیے ۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،بلوچ مظاہرین کے لیے سیشن عدالت سے بڑی خبر،بلوچ ہیومن ایکٹویسٹ مہارنگ بلوچ سمیت 33 بلوچ مظاہرین کو عدالت پیش کردیا گیا،جوڈیشل مجسٹریٹ نے تمام 33 بلوچ مظاہرین کو رہا کرنے کا حکم دے دیا،بلوچ مظاہرین کو جوڈیشل مجسٹریٹ شبیر بھٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا،پانچ ہزار کے ضمانتی مچلکوں اور ایک لوکل شورٹی کے عوض ضمانت منظور کر لی گئی.

    گرفتار بلوچ خواتین کا کہنا ہے کہ ہم کسی صورت بھی وزیر اعظم کے کہنے پر کوئٹہ واپس نہیں جائینگے،ہم پریس کلب جائیں گے .

    دوسری جانب نیشنل پارٹی کے صدر اور بلوچستان کے سابق وزیراعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے ٹیلوفونک رابطہ ہوا ہے، انہوں نے بلوچ لانگ مارچ کے شرکاء کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج میں شریک خواتین اور بچوں پر رات گئے تشدد اور گرفتاری پرتشویش سے آگاہ کیا.

    دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے شرکاء کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا،کوہلو اور بارکھان میں سینکڑوں افراد کا احتجاج، بلوچستان پنجاب شاہراہ بند کر دی گئی، کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے باہر دھرنا شروع ہو گیا،

    دوسری جانب بلوچ لانگ مارچ پر تشدد کیخلاف عدالت نے آئی جی و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا تھا، بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نےسماعت کے دوران آئی جی و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا۔پٹیشنرز کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں اور کہا کہ پر امن بلوچ مظاہرین کل اسلام آباد پہنچے جن پر لاٹھی چارج اور فورس کا استعمال کیا گیا، پر امن مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا جو غیر قانونی ہے، مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے،دوبارہ سماعت ہوئی،تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہو گئے،سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پاکستانی شہری ہیں اور احتجاج تو ان کا آئینی حق ہے، کسی نے کوئی دہشت گردی تو نہیں کی،آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان نے عدالت میں کہا کہ مظاہرین کے پاس ڈنڈے تھے اور انہوں نے پتھر مارے جس سے کچھ لوگ زخمی ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آبادسے سوال کیا کہ پٹیشن میں 86 لوگوں کے نام ہیں ان کا کیا اسٹیٹس ہے؟ آئی جی نے عدالت میں کہا کہ لسٹ میں جو نام لکھے گئے ہیں ان کی کوئی تفصیل موجود نہیں، ترنول کی ایف آئی آر میں تمام لوگ رہا ہو چکے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ لوگوں کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش بھی کیا ہے یا نہیں؟ تھانہ کوہسار کی ایف آئی آر کب ہوئی ہے؟ جس کے جواب میں آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ مجسٹریٹ کے سامنے ہم نے پیش کر دیا ہے،لاء افسر نے عدالت میں کہا کہ کچھ کو ڈسچارج، کچھ کو جوڈیشل اور کچھ کو شناخت پریڈ کیلئے رکھا ہے،عدالت نے آئی جی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے گا آپ کا کوئی آفیسر کوئی رکاوٹ نہ ڈالے، آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ ہمارے ملک کے بچے ہیں ہم خیال رکھیں گے،عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے کل تک مزید رپورٹ طلب کرلی اور حکم دیا کہ آئی جی کل تک بتائیں کتنے افراد جوڈیشل ہوئے، کتنے گرفتار ہیں اور کتنے رہا ہوئے؟

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت، دکانیں اور سڑکیں بلاک کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت تھانہ کوہسار اور تھانہ ترنول میں مقدمات درج کر لیے ہیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کیخلاف بی این پی نے گورنر بلوچستان کو فوری اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کردی، گرفتار مظاہرین کی رہائی، انکے مطالبات کے حل کیلئے صدر، نگراں وزیراعظم اور دیگر سے ملاقات کریں گے، مسئلہ حل نہ ہوا تو گورنر استعفے دیں گے-

    علاوہ ازیں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے بلوچ مظاہرین سے مزاکرات کے لے کمیٹی بنا دی،کمیٹی تین وفاقی وزرا پر مشتمل ہے ۔کمیٹی فواد حسن فواد۔ مرتضیٰ سولنگی اورجمال شاہ شاملِ ہیں۔کمیٹی مظاہرین سے ابھی مزاکرات کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد، عمران خان کی نااہلی برقرار

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد، عمران خان کی نااہلی برقرار

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ،عدالت نے محفوط فیصلہ سنا دیا،

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس کا سیشن کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی ،بانی پی ٹی آئی کے پاس سزا ختم کرانے کا آپشن ختم ہوگیا ، بانی پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ ہیں،بانی پی ٹی آئی کی پانچ سال کیلئے نااہلی کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن برقرار رہے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر پر حملے کی ابتدائی رپورٹ تیارکر لی گئی

    رپورٹ کے مطابق ثاقب نثار کے گھر پر حملہ 8 بج کر 40 منٹ پر ہوا،پولیس کو حملے سے متعلق اطلاع 9 بجے کی گئی، حملہ آوروں نے گھر کے اندر دیسی ساختہ ہینڈ گرنیڈ پھینکا، حملہ آور ثاقب نثار کے گھر موٹرسائیکل پر آئےتھے،گرنیڈ حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے،گھر کے پورچ میں کھڑی ثاقب نثار کی ذاتی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا، تحقیقاتی ٹیموں نے ابتدائی رپورٹ آئی جی پنجاب کو ارسال کردی،

    سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ گھر کے اندر کسی نے کوئی چیز پھینکی ، دھماکے سے گھر میں گاڑی تباہ ہو گئی، ہم سب گھر والے خیریت سے ہیں ،باہر کھڑے گارڈ اور ملازمین معمولی زخمی ہوئے ، پولیس تفتیش کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے ،تفتیش سے ہی پتہ چلے گا کہ کس نے یہ دھماکہ کیا اور مقصد کیا تھا

    ایڈووکیٹ انجم حمید کا کہنا ہے کہ میں ابھی سابق چیف سے مل کر آئی ہوں،سب صدمے میں ہیں،اللہ کا شکر ہے سب محفوظ ہیں، تمام گھر کے افراد گھر میں تھے،جب دھماکہ ہوا،ان کی بہو اور پوتا ابھی گھر پر پہنچے تھے تو دھماکہ ہوا،یہ دستی بم کا دھماکہ تھا،تین افراد زخمی ہوئے،دو پولیس اہلکار اور ان کا ملازم زخمی ہوا، سابق چیف جسٹس کی گیراج میں کھڑی گاڑی کے بلکل قریب دھماکہ ہوا،پی ڈی ایم کی حکومت نے ان سے سیکورٹی واپس لے لی گئی، اس دھماکے میں ٹارگٹ سابق چیف جسٹس ہی تھے

    بم ڈسپازل اسکواڈ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی رہائشگاہ کو کلئیر قرار دےدیا،بم ڈسپازل اسکواڈ کی ٹیم معائنے کے بعد واپس روانہ ہوگئی،کرائم سین یونٹ اور فرانزک ماہرین کی ٹیمیں شواہد جمع کرنے میں مصروف ہیں،سی ٹی ڈی سمیت دیگر تفتیشی ٹیمیں کیمروں کی فوٹیجز حاصل کرنے میں مصروف ہیں،سربراہ سی ٹی ڈی وسیم سیال بھی ابتدائی معائنے کے بعد روانہ ہو گئے،

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر کے گیراج میں دھماکہ، دھماکے سے گھر کے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے،پولیس کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے کریکر پھینکے گئے، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے،پولیس نے شواہد اکھٹے کر کے تفتیش کا آغاز کر لیا ہے،لاہور پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ،دھماکے کے وقت ثاقب نثار گھر پر موجود تھے،،دھماکہ گیراج مین ہوا ہے،ایمرجنسی کا تعین کرنے کی وجوہات جانی جا رہی ہیں. پولیس کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس کے اہل خانہ محفوظ ہیں، پولیس کانسٹیبل عامر اور کانسٹیبل خرم معمولی زخمی ہوئے،

    آئی جی پنجاب نے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔انسپکٹر جنرل ( آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور سے رپورٹ طلب کرلی، آئی جی پنجاب نے دھماکے میں زخمی اہلکاروں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، ایس ایس پی آپریشنز سمیت سینئر پولیس افسران موقع پر موجود ہیں۔واقعہ کے نتیجہ میں کوئی شدید زخمی نہیں ہے 2 لوگوں کو موقع پہ فرسٹ ایڈ دی گی ہے.

  • عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

    ڈیرہ اسماعیل خان سے جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 44 کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے۔ نواب شاہ سے سابق صدر آصف علی زرداری نے این اے 207 سے انتخابی فارم وصول کیا، مانسہرہ سے ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے این اے 15 کیلئے کاغذات نامزدگی وصول کیے، ملتان سے یوسف رضا گیلانی این اے 148 سے انتخابی دنگل میں حصہ لینے کیلئے تیار ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے بھی این اے 44 کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں، جبکہ سابق سینیٹر وقار احمد خان نے این اے 45 کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک قومی اور دو صوبائی حلقوں سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے، جبکہ سیالکوٹ سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی این اے 70 سے کاغذات وصول کیے ہیں۔ خیرپور سے سابق وزرائے اعلیٰ غوث علی شاہ اور قائم علی شاہ نے کاغذات وصول کیے، جبکہ سابق ارکان اسمبلی پیر صدر الدین شاہ، نفیسہ شاہ، نواب خان وسان نے بھی خیر پور سے ہی کاغذات نامزدگی وصول کرلیے۔سکھر سے پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ، نعمان اسلام شیخ، ناصر شاہ نے کاغذات وصول کیے، بدین سے سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سابق ایم پی اے حسنین مرزا نے کاغذات وصول کیے۔لسبیلہ سے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال، سابق صوبائی وزیر صالح بھوتانی اور اسلم بھوتانی کے کاغذات وصول کیے گئے، جہانگیر ترین کی بیٹی مہر خان ترین نے این اے 155 اور پی پی 227 سے کاغذات نامزدگی وصول کیے۔ مظفرگڑھ سے جمشید دستی نے این اے 175 اور 176 کیلئے کاغذات حاصل کرلیے۔

    جہانگیر ترین نے لودھراں اور ملتان سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلئے ،جاوید ہاشمی ملتان سے الیکشن لڑینگے،حلقہ این اے 242کراچی سے شہبازشریف کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے ،این اے 194 لاڑکانہ سے بلاول بھٹو کیلئے کاغذات نامزدگی وصول کرلیے گئے.چوہدری پرویزالٰہی تین قومی اورتین صوبائی کل چھ حلقوں سے انتخاب لڑیں گےگجرات منڈی بہاؤالدین ،تلہ گنگ سےقومی اورصوبائی اسمبلی کااین اے59،64اور 69سےاورپی پی23، 32اور 34سےالیکشن لڑیں گے،این اے 77 سے عطا تارڑنے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے،این اے 78 سے خرم دستگیر نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے،شرجیل میمن حیدرآباد کے پی ایس 61 سے الیکشن لڑیں گے، صنم جاوید کے والد نےخصوصی نشست پر بیٹی کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے ،سائرہ بانو این اے 210 سے امیدوار ہوں گی، پیپلزپارٹی کے روشن جونیجو کا مقابلہ کریں گی،شیخ راشد نے این اے 55 اور 56 سے اپنے اور شیخ رشید کے کاغذات نامزدگی جمع کر ادیئے.

    شوکت بسرا کا کہنا ہے کہ میرے وکلاء اور میرے دوستوں نے ریٹرننگ آفیسر NA-163 ڈسٹرکٹ بہاولنگر تحصیل فورٹ عباس سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے لیکن فورٹ عباس پولیس نے میرے وکلاء کو بھی گرفتار کر لیا ہے اورکاغذات نامزدگی بھی پولیس کے قبضے میں ہیں .

    فیصل آباد ،دوسرے روز بھی امیدواروں نے 250 سے زائد کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے ، رانا ثناء اللہ نے این اے 100 سے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے، عابد شیر علی نے این اے 102 سے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے ،راجہ ریاض احمد نے این اے 104 سے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے، رانا ثناء اللہ کے داماد احمد شہریار نے پی پی 116 سے کاغذات حاصل کئے ،ڈویژنل صدر نون لیگ اکرم انصاری نے این اے 103 سے کاغذات نامزدگی حاصل کئے ،پی ٹی آئی کے منحرف ایم این اے خرم شہزاد نے این اے 103 سے کاغذات لئے،سابق صدر ڈسٹرکٹ بار شہزاد بشیر چیمہ این اے 99 اور پی پی 106 سے امیدوار ہیں، سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایم اے بابر نے این اے 103 اور دو صوبائی حلقوں سے کاغذات لئے،

    بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16نشستوں کے لئے مختلف حلقوں میں 11 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ،الیکشن کمیشن حکام کے مطابق این اے 252سے 1 ،این اے 256خضدار سے 3 امیدوار وں نے کاغذات جمع کرائے ، این اے 257سے 2،این اے 258سے 1 امیدوار نے کاغذات جمع کرائے ، این اے262کوئٹہ سے 1، این اے 263سے 3 امیدوار وں نے کاغذات جمع کرائے ، بلوچستان اسمبلی 51 نشستوں کےلئے 46کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ، سب سے زیادہ چار چار کاغذات نا مزدگی پی بی 11جھل مگسی اور کوئٹہ 41 پر جمع ہوئے.

    عام انتخابات، 22 دسمبر تک امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کراسکیں گے، امیدواروں کے ناموں کی فہرست 23دسمبر کو جاری کی جائیگی ،

  • ہمارے ارد گرد کے ممالک چاند پر پہنچ گئے اور ہم زمین سے نہیں اٹھ رہے،نواز شریف

    ہمارے ارد گرد کے ممالک چاند پر پہنچ گئے اور ہم زمین سے نہیں اٹھ رہے،نواز شریف

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے ارد گرد کے ممالک چاند پر پہنچ گئے اور ہم زمین سے نہیں اٹھ رہے-

    باغی ٹی وی :ن لیگ کے پارلیمانی بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ارد گرد کے ممالک چاند پر پہنچ گئے اور ہم زمین سے نہیں اٹھ رہے، ایسا لگ رہا تھا کہ ملک پاکستان جلد ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے گا مگر ایسا نہ ہوا، روٹی سستی تھی جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں کہا گیا کہ نواز شریف اور مریم کو ضمانت نہیں دینی انہیں باہر نہیں نکالنا انہیں جیل میں رکھنا ہے ورنہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ دو سال کی محنت کیا تھی؟ وہ یہ تھی کہ ایک ایسے شخص کو لانا تھا جسے ملک چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور اس نے آکر کہا ملک کا بھٹہ بٹھایا، اس نے آتے ہی مہنگائی ہوئی، بجلی مہنگی ہوئی، ہر چیز لوگوں کی پہنچ سے دور ہوگئی، ملک تباہ ہوگیا جب کہ ہمارے دور میں کہا گیا تھا کہ ملک اچھا چل رہا ہے اگلا الیکشن بھی نواز شریف جیتے گا۔

    ٹی 20 سیریز : نیوزی لینڈ کے خلاف قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان

    دوسری جانب سابق وزیراعظم اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے عام انتخابات 2024 میں کراچی سے حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی کاغذات وصول کرنے جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے، اسی دوران شہباز شریف نے بھی شہر قائد سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 242 کے لیے شہباز شریف کا فارم صالحین تنولی نے وصول کیا جو فارم لے کر آج کراچی سے لاہور کے لیے روانہ ہوں گے کل شہباز شریف کا فارم این اے 242 جمع کرادیں گے، مریم نواز کے لیے این اے 237 کراچی سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے۔

    عمران خان تین حلقوں سے الیکشن لڑیں گے،بیرسٹر علی گوہر

    واضح رہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے اور جمع کروانے کا سلسلہ آج سے شروع ہو گیا ہے امیدوار 20 سے 22 دسمبر تک کاغذات نامزدگی جمع کروا سکتے ہیں، ان کی ابتدائی فہرست 23 دسمبر کو جاری ہوگی جب کہ کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی 24 سے 30 دسمبر تک ہوگی۔

    ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں اضافہ

  • انتخابات وقت پر ہونا ہی فعال جمہوریت کی نشانی ہے،سپریم کورٹ

    انتخابات وقت پر ہونا ہی فعال جمہوریت کی نشانی ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حلقہ بندیوں سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے حکم نامہ تحریر کیا جس میں کہا گیا ہےکہ حلقہ بندیوں کے تنازعات سے زیادہ ضروری انتخابات کا انعقاد ہےاور انتخابات جمہوریت کا بنیادی جزو ہیں،ایک جج کا کردارگارڈین کا ہوتا ہے،جج جمہوریت اور آئین کامحافظ ہوتا ے، الیکشن شیڈول آنےکے بعد انتخابی عمل اور جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کیاجاسکتا، جمہوریت کی بنیاد عوام کی ترقی ہے جو شفاف انتخا بات سے حاصل ہوسکتی ہے-

    عالمی بینک کی پاکستان کیلئے 35 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

    حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ،انتخابات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں جس کے بغیر جمہوری حکومت کا قیام ممکن نہیں، انتخابات وقت پر ہونا ہی فعال جمہوریت کی نشانی ہے، انتخابات سے ہی عوامی اعتماد حاصل ہوسکتا ہے، انتخابات کی تاریخ آجانےکے بعد انتخابی تنازعات کا فوری حل ضروری ہے انتخابات اور اس سے جڑے تنازعات میں تاخیر سے سسٹم اور جمہوریت پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے، انتخابات میں تاخیر سے سیاسی تناؤ اور سیاسی ماحول بھی عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے۔

    سارہ انعام کیس، شاہنواز امیر نے سزائے موت کیخلاف اپیل کر دی

  • سیاسی جماعتیں اور جمہوریت کا ڈھونگ ،پاکستانی عوام کا ہجوم، جعلی وکلا نظر کیوں نہ آئے

    سیاسی جماعتیں اور جمہوریت کا ڈھونگ ،پاکستانی عوام کا ہجوم، جعلی وکلا نظر کیوں نہ آئے

    ممتاز قانوندان،مصنف،اینکر پرسن یاسمین آفتاب علی نے کہا ہے کہ آج میرے ساتھ جو شخصیت موجود ہیں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں، مبشر لقمان صاحب،مبشر لقمان کو میں برسوں سے جانتی ہیں جیسے ہر ایک کی لائف کا اپنا اپنا ٹریک ہوتا ہے کبھی کبھار مل لئے،کبھی کبھار بات ہوئی،لیکن میں سوا سال پہلے جب میں انکے پاس سوا سال پہلے کام کرنے آئی،آپ کے علاوہ کبھی انہوں نے بات نہیں کی، ہمیشہ عزت و احترام دی، میں نے چینل کھولا تو انہوں نے بھر پور سپورٹ کی،سب سے بڑی بات جو میں ایک عورت ہونے کے ناطے کہہ رہی ہوں اس سے بڑی بات کسی اور مرد کے بارے نہیں کہہ سکتی، مجھے اپنے باپ،سسر،شوہر اور دیوروں کے بعد اگر کسی مرد کے ساتھ بیٹھ کر مکمل تحفظ کا احساس حاصل ہوا ہے تو وہ مبشر لقمان ہے،آپ کے لئے مبشر لقمان ہیں لیکن میرے لئےبوس ہیں،میرے دل میں ان کے لئے عزت ہے،

    یاسمین آفتاب علی کے یوٹیوب چینل پر یاسمین آفتاب علی کے سوال کے جواب میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک صحافی جان محمد مہر کے قتل کے کیس کا تعلق ہے اسکا مجھے زیادہ نہیں پتہ، کچے میں مسائل ہیں، کسی ایک مجرم کو پکڑنے کے لئے کئی کئی سال کی محنت ،تگ و دو درکار ہے، اللہ کرے انکے قاتل پکڑے جائیں جن کی نشاندہی ہوئی وہی قاتل ہوں ،سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر اس کیس کو چلائیں تو وہ زیادہ بڑی خدمت ہے،میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے نور مقدم کا کیس زندہ رہا، اسکو سب نے چھوڑ دیا تھا، ہم نے اسکو زندہ رکھا پولیس پر پریشر رہا اور وہ چھوٹ نہیں سکا، اسی طرح ایاز امیر کے بیٹے کا کیس تھا، میڈیا پر جب کسی چیز کو اٹھاتے ہیں تو یقین ہوتا ہے کہ قاتل بچے نہ اور مظلوم کو انصاف ملے.

    ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات دونوں‌پارٹیاں کرنا چاہیں گی لیکن پی ٹی آئی ابھی نہیں کرنا چاہے گی،کیونکہ عمران خان کا وہ سارا محاذ دھڑام سے گر جائے گا،اگر وہ ن لیگ یا پی پی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو، جو بھی الائنسز ہونے ہیں وہ الیکشن کے بعد ہونے ہیں، ن لیگ سے اس لئے کرنا چاہیں گےکیونکہ وہ حکومت بنانے جا رہی ہے، حکومت سے ہاتھ ملا تو مشکلیں کم ہو جاتی ہیں، پیپلز پارٹی اگر پچاس ساٹھ سیٹیں لیتی ہے قومی اسمبلی کی اور پی ٹی آئی کی تیس سے چالیس، آزاد ساٹھ ستر یا اس سے زیادہ، تو زرداری سے زیادہ آزاد امیدواروں کو کوئی نہیں گھیر سکتا، اس صورت میں چانس ہے کہ پی ٹی آئی پی پی کے ساتھ ملکر حکومت میں آ جائے اگر نہیں آتے تو مضبوط اپوزیشن ہو گی، سسٹم کا حصہ ہوتے ہوئے پی ٹی آئی اپنے کیسز میں کافی آسانیاں کروا سکتی ہے، یہ سب الیکشن کے بعد ہو گا، پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملاتے ہوئے یہ کہیں گے کہ ہم تو بلاول سے ہاتھ ملا رہے ہیں

    ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جو المیہ ہے وہ یہ ہے کہ ہماری عدلیہ بینکرپٹ ہے، مجھے پتہ ہے میرے ایک اور کیس کا فیصلہ آ رہا ہے ہو سکتا ہے یہ سزا ہی دے دیں، یہ سننے کے بعد، پہلے بھی دو سال کی سزا دے چکے،ہم باتیں کر لیتے ہیں پھر بھگتنا پڑتا ہے، پاکستان میں عدلیہ ٹھیک ہوتی تو سارا نظام ٹھیک ہوتا، ہر ایک کو عدالت میں کھڑا ہونا ہے اور جوابدہی کرنی ہے، اگر عدالت کا ،ججز کا معیار صحیح ہو تو سب ٹھیک ہو سکتا مسائل اتنے نہ ہوتے، اس میں کوئی دو رائے نہیں، جسٹس اعجازالاحسن ون سائیڈڈ رہے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ صاحب اپنی زبان بول رہے ہیں بڑی اچھی بات ہے، میں پاکستان میں ججز کا اس دن احترام کروں گا جب وہ آئین کی قانون کی زبان بولیں گے،میں ایک کیس میں تھا اپیل کی ، میرے وکیل عرفان قادر تھے، وہ کیس جنگ گروپ کے ساتھ تھا، اب سارے ختم ہو گئے ہیں، جواد خواجہ کے بارے پتہ چلا کہ دوسری پارٹی کے ساتھ انکی عزیز داری ہے، میں نے تحریری درخواست دی کہ کوئی اور جج کیس سنے، بیس منٹ جواد خواجہ نے مجھے عدالت میں لیکچر دیا،کہ ہم ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں، میں نے کہا آپ ضمیر کے مطابق کیوں فیصلہ کرتے ہیں آئین کے مطابق فیصلہ کریں، اسکے بعد میرے اوپر گیارہ سال وہ کیس چلے، اٹھائیس پولیس والے معطل ہوئے جنہوں نے مجھے گرفتار نہیں کیا، ہفتے میں دو دو بار کئی دفعہ لاہور سے اسلام آباد جانا پڑتا تھا، میرے ایگزیکٹو پروڈیوسر، پروڈیوسر، سب پر کیس ہوا، سوال یہ ہے کہ آئین کہان گیا، جس طرح حمزہ کی حکومت چلی گئی تھی اور پرویز الہیٰ کو انہوں نے سپورٹ کیا،کہ ووٹ بھی نہیں ڈالنا، وہ کاؤنٹ بھی ہونا ہے، یہ کس قسم کا قانون ری رائیٹ کر رہے ہیں کیا کہہ رہے ہیں‌لوگوں کو، جس کی لاٹھی اس کی بھینس،اور سب سے بڑی دونمبری بتاتا ہوں ،میرا بیٹا بھی وکیل ہے، یہ دیکھیں مجھے مسئلہ ہو وکیل کہتا ہے کہ عدالت میں آئیں، جب ججز کو مسئلہ ہو تو وہ سڑکوں‌پر آ جاتے ہیں، انکو اپنے ہی ججز پر ہی اعتماد نہیں، یہ تو قانون اور آئین کی بات نہیں کرتے ،رشے داریوں کی بات ہوتی،اس طرح عدلیہ چلتی ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے حق میں ہوں، پاکستان کے لئے بات کر رہا ہوں، اگر میرا باپ بھی کرپشن کر رہا ہے تو میں اسکے حق میں نہیں، میں ن لیگ یا پی ٹی آئی سے کوئی پیسے لے رہا ہوں، میں نے پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا تو عمران خان بتائے مجھے پیسے دیئے کیا؟ کوئی مراعات لی، ایم این اے بنا؟ میں نے جے یو آئی کے خلاف بھی پروگرام کیا، ایم کیو ایم کے خلاف بھی کیا، میں پاکستان کے لئے کر رہا ہوں، جو بھی آئے گا حکومت میں ہو گا اور وہ صحیح نہیں کرتا تو کبھی خاموش نہیں رہوں گا،

    مبشر لقمان کاایک سوال کے جواب میں مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف اگر ختم کرنی ہے تو اسکا کاؤنٹر نیریٹو دینا پڑے گا، لوگوں کو ہوپ دینی پڑے گی، بلے کا نشان بھی لے لیں، عمران خان کو نین کر دیں، تحریک انصاف کا نام بدل کر گجومتہ پارٹی رکھ لیں، لوگوں نے ووٹ اسی کو دینا ہے جس کو عمران خان کہے گا، اس طرح کی حرکتوں سے کچھ نہیں ہو گا الیکشن کمیشن جب لوگوں کے لئے مشکل پیدا کرتا ہے تو ہمارے لوگ ،عوام کے حق پر ناجائز بات کر رہا ہے، جس طرح انٹرا پارٹیوں کے باقی پارٹیوں کے الیکشن ہوتے ہیں ان کے بھی اسی طرح ہو گئے، جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس کے انٹرا پارٹی الیکشن صحیح ہوتے ہیں، اگر نواز شریف کھڑے ہو رہے ہیں تو انکے سامنے کوئی کھڑا ہی نہیں ہو سکتا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب بھٹو صاحب پانچ چھ چیزوں سے لڑے تو کسی نے اعتراض نہیں کیا، نواز شریف بھی کئی سیٹوں سے الیکشن لڑتے ہیں،میں اور آپ قانون نہیں بدل سکتے، ہم رائے دے سکتے ہیں، ایک آدمی سو سیٹوں سے کھڑا ہونا چاہتا ہے ہونے دیں ، ایک سیٹ رہے گی، باقی سیٹوں پر پھر الیکشن ہوں گے،جنرل الیکشن پر سارے فوکسڈ ہوتے ہیں وہ پانچ سال بعد ہوتے ہیں ، اگر لوکل باڈی الیکشن ہوتے تو چار سال تک سارے ٹرینڈ ہو جائیں گے، ہم لوگ الیکشن کرواتے ہی نہیں، اصل جمہوریت تو لوکل باڈی ہے وہ تو کسی سیاسی جماعت نے نہیں کروائے، جمہوریت ڈھکوسلا ہے ملک میں ، پاکستانی عوام کا ایسا ہجوم بن گیا ہے جس میں سانپ پھینکے ہوئے ہیں اور وہ ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں ،کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی میں آ رہا تھا تو چیف جسٹس کی ایک سٹیٹمنٹ پڑھی، کہتے ہیں کہ صحافت اعلیٰ پروفیشنل ہے،لیکن آج ہر آدمی مائیک پکڑ کر یوٹیوب چینل بنا کر صحافی بن جاتا ہے،تو چیف جسٹس صاحب آپکو جعلی صحافی تو نظر آ گئے کم از کم 25 ہزار جعلی وکیل نظر نہیں آئے جو آ پ کی بار میں ووٹ بھی دیتے ہیں ،پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، ہمیں ہر ایک کا کام نظر آتا ہے اپنا نظر نہیں آتا،25 ہزار جعلی لائسنس ہیں وکیلوں کے، اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جو کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین کا غلط انخلا ہو رہا انکے گھروں میں ان کو منتقل کرنا چاہئے، تا کہ انکو بھی پتہ چلے،

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

    تین استعفے،پی ٹی آئی آؤٹ،الیکشن رکوانے کی اصل کہانی،نواز عمران ہکا بکا