Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی چیف کی امریکا میں اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے ملاقات

    آرمی چیف کی امریکا میں اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سے ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے نیویارک میں اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور یواین سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ملاقات ہوئی، یواین سیکریٹری جنرل نے آرمی چیف کے امریکا دورے کا خیرمقدم کیا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مقبوضہ کشمیر اور غزہ کی صورتحال پر روشنی ڈالی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ خطے میں امن کا قیام اقوام متحدہ قراردادوں پر عمل درآمدسے مشروط ہے،جنوبی ایشیا میں امن تنازعہ کشمیر کے حل سے جڑا ہے،مسئلہ کشمیر یواین قراردادوں اورکشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیلی کی یکطرفہ بھارتی کوششوں کی مذمت کی،اور کہا کہ بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا انتہائی گرم جوشی سے استقبال کیا گیا، یو این سیکرٹری جنرل نے عالمی امن اور استحکام کے لیے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو سراہا۔ آرمی چیف کی جانب سے اقوام متحدہ کو تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا امریکی دورہ کامیابی سے جاری ہے،دورے میں آرمی چیف امریکی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں ،اب تک آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اپنے دورے میں سیکرٹری آف سٹیٹ، ڈیفنس سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ، سے ملاقات کر چکے ہیں ،آرمی چیف نے ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر، چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف اور اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری سے کامیاب ملاقاتیں کی ،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے کامیاب دورے سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھے گا ،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے دورے سے پاکستان کا اہم امور پر نکتہ نظر بھی موثر طریقے سے اجاگر ہو رہا ہے

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب 

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کی مناسبت سے نغمہ جاری

    ہندو برادری بھی شہداء کی عزت و تکریم کے لئے میدان میں آ گئی

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے علمائے کرام و مشائخ کی ملاقات

    امام کعبہ کا پاکستان آنا پاکستانی عوام کے لیے اعزاز کی بات ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

    فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشتگرد ہلاک ،3 زخمی 

  • سانحہ اے پی ایس، نو برس بیت گئے،زخم آج بھی تازہ

    سانحہ اے پی ایس، نو برس بیت گئے،زخم آج بھی تازہ

    سانحہ اے پی ایس پشاور ،نو برس بیت چکے تا ہم زخم آج بھی تازہ ہیں۔پاکستانی تاریخ میں 16 دسمبر ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔اسی دن انسانیت کے لفظ سے ناآشنا افراد نے 132 بچوں سمیت 149 افراد کو شہید کر دیا تھا

    2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔جدید اسلحے سے لیس چھ امن دشمنوں نے نہتے بچوں اور اساتذہ کو نشانہ بنایا۔ سکول پرنسپل طاہرہ قاضی کی فرض شناسی برسوں یاد رکھے جائے گی ۔بہادر خاتون نے اپنی جان قربان کردی لیکن دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ دیوار بن کر کھڑی رہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے اے پی ایس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا انتقامی ردعمل قرار دیا تھا۔ان دہشت گردوں کو افغانستان میں ٹریننگ دی گئی تھی اور اسلحہ و بارود بھی افغانستان سے لے کر آئے تھے۔دلوں کو دہلا دینے والے اس سانحے نے ہر آنکھ اشک بار کر دی اور پوری قوم کو بِلا کسی مذہبی و سیاسی تفریق کے یکجا کر دیا۔ دہشت گرد مسلسل افغانستان کی سر زمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم شہریوں کونشانہ بناتے ہیں۔آج بھی پاکستان کی افواج اور عوام افغانستان کےدہشت گردوں سے نبردآزما ہے۔

    پاکستانی قوم دہشت گردی کی جنگ جیت چکی ہے،نگران وزیراعظم
    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے سانحۂ آرمی پبلک اسکول کی نویں برسی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج بھی جب اس دن کو یاد کرتا ہوں تو آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں، 9 برس پہلے آج کے دن دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور پر بزدلانہ حملہ کیا، یہ ایسا سانحہ تھا جس نے دنیا بھر کی آنکھیں نم کر دیں، دشمن نے ہمارے مستقبل، ہمارے چمن کی ننھی کونپلوں کو روند کر قوم کا حوصلہ پست کرنے کی ناکام کوشش کی، آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے نے اس قوم کا عزم مضبوط تر کیا، قوم کی ہمدردیاں ان والدین کے ساتھ ہیں جن کے بچوں نے اس سانحے میں عظیم قربانی دی،رنسپل شہید طاہرہ قاضی، نہتے اساتذہ طالب علموں کو بچانے کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹی رہیں اور جامِ شہادت نوش کیا، آج کا دن ان عظیم شہیدوں کی عظیم قربانی کو یاد کرنے کا بھی دن ہے، انسانی تاریخ میں قربانی کی ایسی تابندہ مثالیں بہت کم ملتی ہیں، پاکستانی قوم دہشت گردی کی جنگ جیت چکی ہے، قوم نے دشمن کے پاکستان میں شر انگیزی اور انتشار پھیلانے کے تمام حربے ناکام کر دیے، شہید طاہرہ قاضی اور شہید اعتزاز حسن جیسے نڈر لوگوں کو بزدل دہشت گرد کبھی ہرا نہیں سکتے، پوری قوم کو اپنے ان عظیم شہداء اور ان کے اہلِ خانہ پر فخر ہے، پوری قوم سانحۂ آرمی پبلک اسکول کی یاد میں غم زدہ ہے، پوری قوم پہلے سے زیادہ مضبوط اور اس عفریت کے خلاف متحد ہے، پاکستانی قوم تمام شرپسندوں کو جہنم واصل کرنے تک اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، دہشت گردوں اور پاکستان کے امن کے دشمنوں کو میرا واضح پیغام ہے، پاکستانی قوم متحد ہے.

    پیپلز پارٹی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد کرے گی،بلاول زرداری
    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےسانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی برسی پر پیغام میں سانحہ اے پی ایس کے معصوم شہدا اور ان کے شہید اساتذہ کو خراج عقیدت، شہداء کے خاندانوں سے بھی یکجہتی کا اظہارکیا ، بلاول کا کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس کا دن ہماری قومی تاریخ کا ایک بھیانک دن ہے،اس ہولناک خونریزی کی یاد ہر پاکستانی کے ذہن میں آج بھی تازہ ہے،ہم نہ تو شہدا کو بھولیں گے اور نہ ہی اس سانحہ کو،ہم دہشتگردی کے متاثرہ خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،شہداء کے خاندانوں کا غم مجھ سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا، کیونکہ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا بیٹا ہوں،پاکستان پیپلز پارٹی ملک میں انتہا پسندی و دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے،ہم یقینی بنائیں گے کہ پاکستانی قوم کو پھر کبھی سانحہ اے پی ایس جیسے لمحات سے گذرنا نہ پڑے،ہمیں انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنا ہوگی، اورہم یہ جنگ ضرور جیتیں گے،صدر آصف علی زرداری کی زیرِ قیادت حکومت نے سوات میں دہشتگردی کو شکست دی تھی،اب 8 فروری کو الیکشن میں کامیابی کے بعد آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد کرے گی،الیکشن کے بعد آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت دہشتگردی کو ملک سے ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے.

    قیام پاکستان کو نظام پاکستان کے ذریعے استحکام پاکستان سے روشناس کرانا ہے۔فردوس عاشق اعوان
    استحکام پاکستان پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ آج کا دن سقوط ڈھاکہ کے واقعہ کی صورت میں ملک دو لخت ہونے کی یاد دلاتا ہے،بدقسمتی سے ہمیں اس دن سانحہ آرمی پبلک سکول جیسا دلخراش واقعہ دیکھنا پڑا۔ ہمیں دشمن کی ہر سازش کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہو گا۔ زندہ قوموں کی طرح ہمیں خود ہی اپنے ان زخموں کا مداوا کرنا ہو گا۔ استحکام پاکستان پارٹی کی ہر کوشش ہر سوچ ملک کو مضبوط کرنے کے لئے ہے۔قیام پاکستان کو نظام پاکستان کے ذریعے استحکام پاکستان سے روشناس کرانا ہے۔

    سانحہ اے پی ایس،انجمن تاجران کی جانب سے شہدا کے اعزاز میں دعائیہ تقریب و ریلی کا انعقاد کیا گیا،صدرانجمن تاجران مجاہد مقصود بٹ کی جانب سے ریلی کا انعقاد شاہ عالم مارکیٹ میں کیا گیا ،دعائیہ تقریب و ریلی میں تاجربرادری نے کثیرتعداد میں شرکت کی،معصوم شہدا کیلئے فاتحہ خوانی اور بلند درجات کیلئے دعا کی گئی،لاہور کی تاجربرادری کی جانب سے معصوم شہدا کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا،مجاہد مقصود بٹ کا کہنا تھا کہ آج کی ریلی ودعایئہ تقریب کا مقصد ننھے شہداء کوسلام و خراج عقیدت پیش کرنا ہے،16دسمبر2014 پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا،ہم شہدائے آرمی پبلک سکول کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے،پوری قوم دکھ کے اس لمحے میں متاثرہ خاندانوں کیساتھ کھڑی ہے، آرمی پبلک سکول کے شہدا ہمارے اصل ہیرو ہیں،شہدائے اے پی ایس نےاپنی قربانیوں سےقوم کو متحد کیا،

    16 دسمبر 2014 کو پشاور آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی تھی، دہشت گردوں نے سکول پر حملہ کیا اورعلم کے پروانوں کے بے گناہ لہو سے وحشت و بربریت کی نئی تاریخ رقم کی تھی۔

    شاہ محمود قریشی سانحہ اے پی ایس کی ذمہ دار ٹی ٹی پی قیادت سے قطر میں ملتے رہے، شرجیل میمن

    سانحہ اے پی ایس،سپریم کورٹ کا انکوائری کمیشن رپورٹ بارے بڑا حکم

    سانحہ اے پی ایس، آرمی چیف میدان میں آ گئے، قوم کو اہم پیغام دے دیا

    سانحہ اے پی ایس، وزیراعلیٰ پنجاب نے دیا اہم ترین پیغام

    سانحہ آرمی پبلک سکول: 3 ہزار صفحات پر مشتمل انکوائری کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ کے سپرد

    حکومت جواب دے ،پشاوردھماکے میں کون ملوث ہے،سراج الحق

  • عام انتخابات،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہونگے،چیف جسٹس

    عام انتخابات،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہونگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس سردار طارق مسعود اور منصور علی شاہ کا حصہ تھے،الیکشن کمیشن کے وکیل روسٹرم پر موجود تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ کیا جلدی تھی اس وقت سب کو آنا پڑا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کے عمیر نیازی نے آر او کے فیصلے کو چیلنج کیا، الیکشن شیڈول جاری کرنے میں وقت بہت کم ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے تو 8 فروری کو الیکشن کرانے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوشش ہے کہ الیکشن کروا دیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کوشش کیوں آپ نے کرانے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری فلائیٹ میس ہوئی کیسے مداوا کریں گے،بحرکیف کوئی بات نہیں ہم عدالت میں کیس لگا کر سن رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے عمیر نیازی نے درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ عمیر نیازی کی درخواست انفرادی ہے یا پارٹی کی جانب سے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ ہائیکورٹ میں آر اوز اور ڈی آراوز کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا،تحریک انصاف نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جس پر اسٹے ملا ،ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کی فہرست حکومت دیتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواست گزار کیا چاہتے ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار چاہتے ہیں ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لیے جائیں، درخواست گزار کہتے ہیں انتظامی افسران کی آر او تعیناتی ہمیشہ کیلئے ختم کی جائے، درخواست میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کو عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینے کی ہدایت کی جائے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ شق تو کبھی بھی چیلنج کی جا سکتی تھی اب ہی کیوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ کو فروری میں جوڈیشل افسران کیلئے خط لکھا تھا، عدلیہ نے زیرالتواء مقدمات کے باعث جوڈیشل افسران دینے سے معذوری ظاہر کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جوڈیشل افیسر فراہم کرنے کے خط کا جواب ہی نہیں دیا ،ہماری پہلی ترجیح تھی کہ عدالتوں سے سٹاف لیا جائے لیکن ہائی کورٹس نے انکار کردیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ ہائیکورٹ کے خط کے بعد درخواست گزار کیا انتخابات ملتوی کرانا چاہتے تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جواب نہیں دیا، پشاور ہائی کورٹ نے کہا جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی سے رجوع کریں، الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینا ہی تھا، ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر نیازی آخر چاہتے کیا تھے؟ہائیکورٹ اپنی ہی عدالت کی خلاف رٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟ پی ٹی آئی کی درخواست پر ہی سپریم کورٹ نے انتخابات کا فیصلہ دیا تھا،عمیر نیازی کی درخواست سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ انہوں نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا کیا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئین کے آرٹیکل 218 تھری کے تحت فئیر الیکشن کرائے جائیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا آرٹیکل 218 تھری میں کچھ ایسا ہے کہ انتخابات فئیر نہیں ہو سکتے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 50 اور 51 چیلنج کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کا افسران اپائنٹ کرنے کا حق کالعدم قرار دیا جائے،پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ آر اوز ڈی آر اوز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس ہائیکورٹ سے مشاورت کی جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کچھ تھکے ہوئے ہیں، اسٹیپ بائے اسٹیپ بتائیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں فیصلہ کس نے دیا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی نے ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب لارجر بینچ کو ہیڈ کون کررہا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی مائی لارڈ وہی آنر ایبل جج،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ ایک جج جب معاملہ لارجر بنچ کے لئے بھیج رہا ہےپھر ساتھ آرڈر کیسے جاری کر سکتا ہے؟عدالت نے استفسار کیا کہ ڈی آر اوز سارے ڈپٹی کمشنرز ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی! سارے ڈپٹی کمشنرز ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس میں پک اینڈ چوز تو نہیں ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نو، نو ، یہ پوسٹڈ ہیں، ہم نے پک اینڈ چوز نہیں کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ پورے پاکستان کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کردیتا ہے ؟لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست کا مقصد بظاہر الیکشن نہ کرانے کےلئے تھا،ہم بہت کلیئر ہیں، ہم نے آپ سے کہا تھا ہم آپ کا کام کرائینگے، میں حیران ہوں عدلیہ سے ایسے آرڈر پاس ہو رہے ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ کون لوگ ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ یہ بتائیں آپ نے ٹریننگ کیوں روکی، نوٹیفکیشن معطل ہوا، ٹریننگ تو نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے ریٹرننگ افسران لئے تھے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملک بھر میں کتنے ڈی آر اوز اور آر اوز تھے؟ جو ریٹرننگ افسران الیکشن کمیشن کے ہیں وہ تو چیلنج ہی نہیں تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمشن افسران اور ڈپٹی کمشنرز بھی انتخابات نہ کرائیں تو کون کرائے گا؟ تمام ڈی آر اوز متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنرز ہیں،اس سے تو بادی النظر میں انتخابات ملتوی کرانا ہی مقصد نظر آتا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگران حکومت کے آتے ہی تمام افسران تبدیل کئے گئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر خان نیازی کون ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کل بلوچستان میں پٹیشن چلی جائے، وہاں پنجاب کے لوگ پٹیشن دیتے ہیں، سندھ والے خیبرپختونخوا میں جا کر پٹیشن دیتے ہیں، یہ بہت حیران کن ہو گا، ایسے تو کوئی کل کو آ کر کہے کہ کہ عدلیہ پر اعتماد نہیں تو پھر کیا کریں گے،عمیر نیازی کی ایک درخواست پر پورے ملک میں انتخابات روک دیں؟ عدلیہ سے ایسے احکامات آنا حیران کن ہے، الیکشن پروگرام کب جاری ہونا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج الیکشن شیڈول جاری ہونا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل کا موقف سنا گیا تھا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاونت کیلئے نوٹس تھا لیکن ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں اٹارنی جنرل کا ذکر ہے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سماعت سے قبل مجھ سے ہدایات لی تھیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاکر پورے ملک میں حکم جاری کردیا، سپریم کورٹ نے انتخابات کا حکم دیا ہائیکورٹ نے کیسے مداخلت کی؟ درخواست گزار نے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواست گزار کا مسئلہ یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنرز نے ہمارے خلاف ایم پی اوز کے آرڈر کئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمیر نیازی کو کوئی مسئلہ تھا تو سپریم کورٹ آتے،ہائی کورٹ نے پورے ملک کے ڈی آر اوز کیسے معطل کر دیے؟ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کہتے ہیں جوڈیشل افسران نہیں دے سکتے، کیا جج نے اپنے ہی چیف جسٹس کیخلاف رٹ جاری کی ہے؟ کیا توہین عدالت کے مرتکب شخص کو ریلیف دے سکتے ہیں؟کیوں نہ عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟کیا عمیر نیازی وکیل بھی ہے یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمیر نیازی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رہے ہیں،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ اگر آر اوز انتظامیہ سے لینے کا قانون کالعدم ہوجائے تو کبھی الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست دی گئی ہے؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست نہیں دی گئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ریٹرننگ افسر جانبدار ہو تو الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جا سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد افسر اکیلے عمیر نیازی کیخلاف جانبدار کیسے ہوسکتے ہیں؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شیڈول آج دینگے یا نہیں،الیکشن شیڈول کب جاری کریں گے؟ کہاں ہے شیڈول ؟ کچھ تو بنایا ہوگا؟ ابھی تک جاری کیوں نہیں ہوا؟ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹریننگ کےبعد انتخابات کا شیڈول جاری کریں گے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ آپ پہلے ٹریننگ کرینگے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ رات کو ٹریننگ کروا دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شیڈول آج دینگے یا نہیں، یا تو بتائیں یا سب کو بلالیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپکو کو ڈی آر اوز اور آراوز کی ضرورت تو آگے جا کر ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ آپ نے پتہ نہیں شیڈول کیوں روک دیا؟ٹریننگ بلاوجہ کیوں روکی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن بھی انتخابات نہیں چاہتا؟ الیکشن کمیشن نے ڈی آر اوز کی معطلی کا نوٹیفکیشن کیوں جاری کیا؟ عدالتیں نوٹیفکیشن معطل کریں تو متعلقہ ادارہ معطلی کا نوٹیفیکیشن نہیں جاری کرتا، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ افسران کو الیکشن کمیشن نے حکم دینا ہوتا ہے،

    سپریم کورٹ نے حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کر لی، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا 13 دسمبر کا حکمنامہ غیر قانونی قرار دے دیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے 13 دسمبر کے حکم کی خلاف اپیل دائر کی گئی،سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کرنے والوں کو ہائی کورٹ میں فریق بنایا گیا، درخواست میں الیکشن ایکٹ کے سیکشن 50 اور 51 غیرآئینی قرار دینے کی استدعا تھی، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عدالتی ہدایات پر آٹھ فروری کی تاریخ مقرر کی، تمام فریقین آٹھ فروری کی تاریخ پر متفق تھے،وکیل الیکشن کمیشن کے مطابق عدالت نے پابند کیا تھا کوئی انتخابات میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا، انتخابات کے انعقاد کیلئے تعینات ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کیا گیا، الیکشن کمیشن کے مطابق ہائی کورٹ آرڈر کے بعد انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،وکیل کے مطابق ہائی کورٹ حکم کی وجہ سے الیکشن شیڈیول جاری کرنا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق گزشتہ انتخابات سے آج تک کسی نے یہ شقیں چیلنج نہیں کیں،سجیل سواتی کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم میں تضاد پایا جاتا ہے، وکیل کے مطابق کیس لارجر بنچ کو بھیجتے ہوئے نوٹیفیکیشن معطل کیا گیا،

    پی ٹی آئی کی وکیل مشعل یوسفزئی عدالت میں پیش ہوئیَں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم حکم نامہ لکھو رہے ہیں مداخلت نہ کریں، آپ کون ہیں کیا آپ وکیل ہیں؟جا کر اپنی نشست پر بیٹھیں،آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشعل یوسفزئی سپریم کورٹ وکیل نہیں ان کا بولنا نہیں بنتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دوبارہ مداخلت کی تو توہین عدالت کا نوٹس دینگے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے 1011 ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کو کام سے روکا،ہائی کورٹ نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ افسران نے ملک بھر میں خدمات انجام دینی ہیں، ہائی کورٹ نے اپنے علاقائی حدود سے بڑھ کر حکم جاری کیا،عدالت نے استفسار کیا کسی ریٹرننگ افسر کیخلاف درخواست آئی تھی؟ الیکشن کمیشن نے بتایا کسی نے کوئی درخواست نہیں دی،عمیر نیازی اسی پارٹی سے ہیں جس نے انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا،عمیر نیازی کہتے ہیں وہ بیرسٹر ہیں تو انہیں سپریم کورٹ احکامات کا علم ہونا چاہیے تھا،بظاہر عمیر نیازی نے جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی، کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے؟سپریم کورٹ نے عمیر نیازی کو نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو آر اوز ڈی آر اوز سے متعلق درخواست پر کارروائی سے روک دیا،اور کہا کہ لاہور ہائی کورٹ مزید کاروائی نہ کرے،انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوں گے،

    سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن کو فوری انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو آج ہی انتخابات کا شڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے حکمنامے میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج باقر نجفی نے مس کنڈکٹ کیا. آئندہ کوئی بھی جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کرے, الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذ مے داریاں جاری رکھے،

    عمیر نیازی کو نوٹس جاری، الیکشن کمیشن آج ہی شیڈول جاری کرے،لاہور ہائیکورٹ درخواست پر کوئی کاروائی نہیں کریگی،سپریم کورٹ

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن تین رکنی بنچ کا حصہ نہیں بنے،جسٹس اعجاز الاحسن کی کچھ اور مصروفیت تھی، جسٹس منصور علی شاہ کو سینئر جج ہونے پر گھر سے بلایا ہے،یہ وقت شفافیت اور احتساب کا ہے،جو بنچ یہ مقدمہ سن رہا ہے اس کی منظوری جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی دی،اب میں اکیلے بنچ تشکیل نہیں دے سکتا،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات ختم ہونے کے بعد،الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی،الیکشن کمیشن نے اپیل میں لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی کورٹ روم نمبر ایک میں عملہ پہنچا،سپریم کورٹ کے بند دفاتر بھی کھول دیے گئے تھے، درخواست وصول کرنے والا عملہ بھی پہنچ چکا ہے،،الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم سپریم کورٹ پہنچ گئی، سیکرٹری الیکشن کمیشن بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،اس موقع پر صحافیوں کے سوال کے جواب میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ 8فروری کو انتخابات سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، درخواست تیار کرلی ہے،کچھ دیر بعد سپریم کورٹ میں دائر کردیں گے،جسٹس منصور علی شاہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کورٹ کے کمرہِ عدالت نمبر ون میں تین کرسیاں لگا دی گئی ہیں،

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئےہیں، صحافی بھی کوریج کے لئے سپریم کورٹ میں موجود ہیں، اسلام آباد سے صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں اور خلائی مخلوق کی بڑی تعداد کس بے چینی کا اظہار کررہی ہے؟”

    گزشتہ روز خبریں سامنے آئی تھیں کہ الیکشن کمیشن لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جائے گا جسکی الیکشن کمیشن نے فوراً سختی سے تردید کر دی۔اور کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ نہیں کیا ،تا ہم آج الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے سےیوٹرن لیا اور آج سپریم کورٹ میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی

    الیکشن کمیشن نے 8 فروری کو عام انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے، الیکشن کمیشن پولنگ ڈے سے 54 روز قبل انتخابی شیڈول جاری کرنے کا پابندہے، اگر آٹھ فروری کو پولنگ ہو گی تو اس حساب سے الیکشن کمیشن کو کل ہر حال میں انتخابی شیڈول جاری کرنا پڑے گا،انتخابی شیڈول کے مطابق 17 دسمبر پہلا دن اور 8 فروری 54واں دن بنتا ہے، اگر کل الیکشن شیڈول جاری نہ ہو سکا تو الیکشن لیٹ ہو سکتے ہیں،

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ ، خواجہ سعد رفیق نے حلقہ بندیوں کے حوالہ سے بھی درخواست دائر کی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے حلقہ بندیاں ن لیگ کی درخواست پر کالعدم قرار دی ہیں، آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی کوہاٹ کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے ہیں، ایسے میں ان حلقوں میں حلقہ بندیوں کا فیصلہ بھی الیکشن کمیشن کو کرنا ہے، جب تک حلقہ بندیوں کا فیصلہ نہیٰں ہو گا الیکشن کیسے ہو سکتے ہیں؟

    آج رات تک سپریم کورٹ سے کوئی نہ کوئی فیصلہ آئے گا ،مظہر عباس
    سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے مسئلے چل رہے ہیں ، الیکشن کمیشن میں کیس چل رہا ،لوگ گرفتار ہو رہے ،پی ٹی آئی کو اس وقت الیکشن سوٹ نہیں کرتے ، اب اگر الیکشن وقت پر ہوتے ہیں پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو سوٹ کرتے ہیں، پی ٹی آئی مشکلات کی وجہ سے ابھی الیکشن کی ریس میں نہیں ہے،الیکشن لیٹ ہو گاتو سوال تو ہو گا، آئینی سوال ہو گا، آپکا سینیٹ مارچ میں آدھا خالی ہو رہا ہے، یہ بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہے،تحریک انصاف کے لئے امیدوار تلاش کرنا پھر پولنگ ایجنٹ ہر بوتھ کے لئے مسئلہ بن چکا ہے، آج رات تک سپریم کورٹ سے کوئی نہ کوئی فیصلہ آئے گا کیونکہ چیف جسٹس نے واضح کہا تھا کہ کوئی ابہام پیدا نہ کیا جائے، اب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ابہام پیدا ہو گیا ہے

    کسی بھی ادارے کی غیر ضروری رخنہ اندازی الیکشن میں تاخیر کا باعث بنے گی۔اسحاق ڈار
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آزاد آئینی ادارہ ہے ۔ملک میں الیکشن کروانا صرف الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے ۔کسی بھی ادارے کی غیر ضروری رخنہ اندازی الیکشن میں تاخیر کا باعث بنے گی۔ملکی حالات اور آئین کا تقاضا ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں۔ مسلم لیگ (ن) انتخابات مقررہ وقت پر ہونے کی مکمل حمایت کرتی ہے

    الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحال لاہور ہائیکورٹ کے حکمنامے کی نقل ہی مل سکی ہے، الیکشن کمیشن کے رجوع کے باوجود لاہور ہائیکورٹ نے تاحال حکمنامہ کی مصدقہ کاپی فراہم نہیں کی،

  • شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر سمینہ رانا نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے سوال کیا کہ نواز شریف نے خطاب کیا اور دل کی باتیں کیں، کیا ہوا،کیسے ہوا، ساتھ ہی پریقین نظر آئے کہ آٹھ فروری کو عوام فیصلہ سنائیں گے کیا ججمنٹ ہو سکتی ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے 2017 میں ہونیوالے معاملات پر بات کی کہ سازش کی گئی، عمران خان کو کس طرح لایا گیا، لگتا ہے کہ تمام حالات ن لیگ کے حق میں ہیں وہ مطمئن ہیں، وہ جیت سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کی باتوں سے انہوں نے الیکشن نہیں جیتنا، اس سے ووٹ نہیں ملیں گے، یا تو وہ لوگوں کوامید دے کہ اس وجہ سے حالات بہتر ہوں گے لیکن وہ پرانی کاروائیاں، دکھ سنا رہے، عمران خان کو بھی ہم یہی کہتے تھے کہ چودہ سال سے ایک ہی تقریر کر رہے ہو، اب میاں صاحب بھی عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے، الیکشن کے حوالہ سے نیا بیانیہ نہیں دے رہے،نواز شریف بار بار وہی بات دہرا رہے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں

    اینکر سمینہ رانا نے سوال کیا کہ ایک اور گرفتاری ہوئی ہے شیر افضل مروت کی لاہور سے، اس گرفتاری کی کیا وجہ ہو سکتی ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت وکیل ہیں، میرے کیس میں بھی وکیل تھے اور وہ کیس جیت گئے تھے، میں انکا شکر گزار ہوں، انکو آج جو گرفتار کیا گیا ہے وہ تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، وہ دلیر آدمی ہیں، کے پی میں ان پر کئی پرچے ہیں، کئی بار وہاں گرفتاری کی کوشش کی گئی لیکن وہ بچ گئے، گرفتار ہو گئے تو کوئی بڑی بات نہیں وہ نکل آئیں گے، سیاسی طور پر مروت کو اس گرفتاری کا بڑا فائدہ ہو گا

    مبشر لقمان کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ جتنی پی ٹی آئی کو چھوٹ ملی رہی، ہمارا عدلیہ سے اعتبار اٹھ گیا،علیمہ خان کو غلط بیانی کرنے کی عادت ہے، حقیقت کے برعکس ہوتا ہے انکا بیان، ابھی تک ڈونلڈ لو کے خلاف کیس نہیں کیا، ملاقاتیں ضرور ہوتی ہیں، علیمہ خان سے اس بارے پوچھنا چاہئے، یو اے ای میں ایک کیس کرنا تھا وہ نہیں ہوا، شاہزیب خانزادہ پر کیس کرنا تھا دبئی، لندن میں ، ایک جگہ بھی نہیں ہوا، عمران خان کے بیٹے کیسے کیس کریں گے وہ باپ کو تو ملتے نہیں ہیں، عمران خان پاکستان شہری ہے، اس پر برطانوی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے؟ علیمہ نے بس بیان دے دیا، اور کچھ نہیں ہے، علیمہ نے یہ بشری کو سنانےکے لئے یہ سب کیا کہ میں عمران کے بچون اور جمائما کے قریب ہوں، وہ صرف بشریٰ بی بی کو "ساڑ” رہی ہے ، جب وہ نکلے گا تو وہ ادھر جائے گا کیونکہ اسکے بچے ادھر ہیں، علیمہ بشری کو ڈرا رہی ہے

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

  • چیف الیکشن کمشنر کی چیف جسٹس سے ملاقات

    چیف الیکشن کمشنر کی چیف جسٹس سے ملاقات

    چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کی چیف جسٹس فائز عیسی سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات سپریم کورٹ میں ہوئی،ملاقات میں جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شریک تھے، چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات میں اٹارنی جنرل بھی شریک تھے،چیف الیکشن کمشنر نے ججز کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناع سے آگاہ کیا، ملاقات لاہور ہائیکورٹ کے آرڈر سے پیدا صورتحال پر ہو ئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پہلے سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز سے مشاورت کی، مشاورت کے بعد اٹارنی جنرل اور چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کیلئے بلایا گیا،

    این اے 122 لاہور کی حلقہ بندی کیخلاف کیس،الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
    دوسری جانب ‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں این اے 122 لاہور کی حلقہ بندی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا ،عدالت نےکہا کہ آئندہ سماعت تک جواب آنے دیں پھر اس معاملے کو دیکھتے ہیں ، الیکشن شیڈول کا تو فی الحال امکان دکھائی نہیں دے رہا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شہری کرامت کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل تیمور اسلم عدالت میں پیش ہوئے،کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    دوسری جانب الیکشن کمیشن خود ہی الیکشن قانون کی دھجیاں اڑانے لگا، ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی انتخابی شیڈول سے 60 روز قبل کرنا ضروری ہے۔ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی تاخیر سے کی گئی اور تاخیر کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ اور ریٹرننگ افسروں کی تعیناتی خلاف قانون کی گئی۔الیکشن ایکٹ کے تحت غیر معمولی حالات میں تعیناتی میں تاخیر کے لئے الیکشن کمیشن وجوبات بتانے کا پاپند ہوگا۔الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 52 آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی سے متعلق ہے۔آر اوز اور ڈی آر او کی تعیناتی الیکشن ایکٹ کےسیکشن 50 اور 51 کے تحت ہوگی،کیا آر اوز اور ڈی ار اوز کی تعیناتی ایکشن ایکٹ کی شق 52 کے خلاف کی ہے یا قانون کے مطابق؟ترجمان خاموش ہے،لاہور ہائیکورٹ نے 13 دسمبر کو بیوروکریسی سے آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی کو معطل کیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 دسمبر کو بیوروکریسی سے آر اوز اور ڈی آر اوز تعینات کیے تھے.
    الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 52 آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی سے متعلق ہے

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر، ن لیگ کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے 8 فروری کا اعلان ہے،مسلم لیگ ن انتخابات کے لیے تیارکا عمل شروع کر چکی ہے، نواز شریف کی صدارت میں پارلیمانی بورڈ کے اجلاس منعقد ہو رہے ہیں،پی ٹی آئی کی جانب سے آر او کی تقریری کو سسپنڈ کروانا ایک سازش ہے،

    الیکشن شیڈول اور انتخابی عمل تاخیر کا شکار ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے تحریک انصاف کی لاہور ہائی کورٹ میں درخواست پر کہا ہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے الیکشن میں تاخیر کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، فیصلے کے باعث الیکشن کمیشن میں جاری ریٹرننگ افسران اور ڈپٹی ریٹرننگ افسران کی تربیت بھی معطل ہوگئی ہے،تحریک انصاف کے رہنماء خود تسلیم کر رہے کہ ہمارے خلاف الیکشن میں تاخیر متعلق تاثر درست ہے، تحریک انصاف کے دوہرے معیار کی وجہ سے متوقع الیکشن شیڈول اور انتخابی عمل تاخیر کا شکار ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ تحریک انصاف نے ایک بار پھر انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے، یہ ان کی غیر جمہوری اور اور غیر سیاسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے،
    عمران خان چاہتے ہیں میں نہیں تو انتخابات بھی نہیں،واضح طور پر تحریک انصاف نہیں چاہتی کہ ملک میں انتخابات ہوں، پیپلز پارٹی الیکشن کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، چیرمین بلاول بھٹو زرداری ملک بھر میں الیکشن مہم چلا رہے ہیں، ہمیں امید کے عدلیہ اس معاملے کو جلد از جلد سلجھائے گی اور الیکشن کمیشن مقرر وقت پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرے گا،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیئے

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ریٹرننگ افسران کی ٹریننگ روک دی، الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد ٹریننگ روک دی گئی

     آصف زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں، آٹھ دس دن تاخیر سے کچھ نہیں ہوتا، 

    8 فروری انتخابات میں تاخیر ہوئی تو ذمہ دار پی ٹی آئی ہوگی،شہباز شریف

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • دورہ امریکا میں آرمی چیف کی امریکی حکومتی عہدیداروں،عسکری حکام سے ملاقاتیں

    دورہ امریکا میں آرمی چیف کی امریکی حکومتی عہدیداروں،عسکری حکام سے ملاقاتیں

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا دورہ امریکہ

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے جاری امریکہ دورے کے دوران اہم امریکی حکومتی عہدیداروں اور عسکری حکام سے ملاقاتیں ہوئی ہیں،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی امریکی سیکرٹری خارجہ انٹونی جے بلنکن، سیکرٹری دفاع جنرل لائیڈ جے آسٹن سے ملاقاتیں ہوئی ہیں،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی وکٹوریہ نولینڈ(نائب وزیر خارجہ)، جوناتھن فائنر(نائب قومی سلامتی مشیر) اور جنرل چارلس کیو براؤن, چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں،ملاقاتوں میں دوطرفہ دلچسپی، عالمی اور علاقائی سلامتی کے باہمی امور کے ساتھ ساتھ جاری بین الاقوامی تنازعات پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں اطراف نے مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے دوطرفہ تعاون کی ممکنہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دفاعی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران انسداد دہشت گردی اور دفاعی تعاون کے شعبوں کو بنیادی اہمیت دی گئی، دونوں اطراف نے باہمی دلچسپی کے اُمور پر بات چیت جاری رکھنے کا اعادہ کیا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے علاقائی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور جنوبی ایشیا میں علاقائی سلامتی کو متاثر کرنے والے پہلوؤں پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، اس تناظر میں، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے خاص طور پر مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستانی سفارتخانے کے زیر اہتمام استقبالیہ میں بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کے ارکان سے بھی بات چیت کی،آرمی چیف نے بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کی ملکی ترقی کے لیے کیے جانے والے مثبت کردار اور کوششوں کو سراہا،آرمی چیف نے SIFC کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہُوئے بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی ،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ”امریکہ پاکستان کے لیے سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ ہے جو ہماری کل برآمدات کا 21.5 فیصد ہے، آرمی چیف نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیئے ویزوں کی رکاوٹ، خصوصی اسکریننگ، اور اِس طرح کے دیگر گمراہ کن افواہوں کو رد کیا،اور کہا کہ ”پاکستان میں بیرون ملک پاکستانیوں کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے – بیرون ملک پاکستانی، پاکستان کے سفیر اور اثاثہ ہیں ، آخر میں بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی نے کہا کہ افواج پاکستان ہمارا فخر ہیں اور افواج کی پاکستان کے لئیے خدمات کو سراہا – آرمی چیف نے بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کے لئیے اپنی بہترین خواہشات کا اظہار کیا

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب 

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کی مناسبت سے نغمہ جاری

    ہندو برادری بھی شہداء کی عزت و تکریم کے لئے میدان میں آ گئی

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے علمائے کرام و مشائخ کی ملاقات

    امام کعبہ کا پاکستان آنا پاکستانی عوام کے لیے اعزاز کی بات ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

    فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشتگرد ہلاک ،3 زخمی 

    coas

  • شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت خان بینچ کا حصہ ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق سماعت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ، یوٹیوب پر براہ راست نشر کی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کیا درست ہیں؟ شوکت عزیز صدیقی کو ان الزامات پر مبنی کی گئی تقریر پر برطرف کیا گیا،سوچ کر جواب دیں کہ کیا آپ کے الزمات درست ہیں، کیا وہ جنرل جن کو آپ فریق بنانا چاہتے ہیں وہ خود 2018 کے انتخابات میں اقتدار میں آنا چاہتے تھے؟اگر شوکت عزیز صدیقی کے الزامات درست ہیں تو وہ جنرلز کسی کے سہولت کار بننا چاہ رہے تھے،جس کی یہ جنرل سہولت کاری کر رہے تھے وہ کون تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے لگائے گئے الزامات درست ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے آرٹیکل 184 تین کے تحت آئے ہیں،یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل دائرہ اختیار کے تحت کیا ہو سکتا ہے،

    شوکت عزیز صدیقی نے جو سنگین الزامات لگائے انکے نتائج بھی سنگین ہونگے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کون تھا؟ جس کیلئے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے سہولت کاری کی،آپ سہولت کاروں کو فریق بنا رہے ہیں، اصل بنیفشری تو کوئی اور ہے،آپ نے درخواست میں اصل بنیفشری کا ذکر ہی نہیں کیا، آپ نے لوگوں کی پیٹھ پیچھےالزامات لگائے،جن پر الزامات لگائے گٸے وہ کسی اور کیلئے سہولت کاری کر رہے تھے، سہولت کاری کرکے کسی کو تو فائدہ پہنچایا گیا،آئین پاکستان کی پاسداری نہ کرکے وہ اس جال میں خود پھنس رہے ہیں،سہولت کاروں کو فریق بنا لیا ہے تو فائدہ اٹھانے والے کو کیوں نہیں بنایا؟ وکیل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فائدہ کس نے لیا ایسی کوئی بات تقریر میں نہیں تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کی درخواست میں عدالت کا اختیار شروع ہوچکا ہے،فوجی افسر کسی کو فائدہ دے رہے تو وہ بھی اس جال میں پھنسے گا، وکیل حامد خان نے کہا کہ فوج شاید مرضی کے نتائج لینا چاہتی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک امیدوار کو سائیڈ پر اسی لیے کیا جاتا ہے کہ من پسند امیدوار جیتے، وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فوج نے اپنے امیداواروں کو جیپ کا نشان دلوایا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کبھی تو ملک میں سچ کی جان جانا ہی ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ ستر سال سے ملک میں یہی ہو رہا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ستر سال سے جو ہورہا ہے اس کا ازالہ نہ کریں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فوج ایک آزاد ادارہ ہے یا کسی کے ماتحت ہے؟ فوج کو چلاتا کون ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ فوج حکومت کے ماتحت ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت فرد نہیں ہے، جو شخص فوج کو چلاتا ہے اس کا بتائیں،جب آپ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم آئین کے مطابق چلیں گے، یہ آسان راستہ نہیں ہے،شوکت عزیز صدیقی نے جو سنگین الزامات لگائے انکے نتائج بھی سنگین ہونگے،سپریم کورٹ کو کسی کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے کندھے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی ایک سائیڈ کی طرف داری نہیں کریں گے،وکیل بار کونسل صلاح الدین نے کہا کہ سابق جج نے اپنے تحریری جواب میں جن لوگوں کا نام لیا ہم انکو فریق بنا رہے،شوکت عزیز صدیقی نے بانی پی ٹی آئی سمیت کسی اور کو فائدہ دینے کی بات نہیں کی،مفروضے پر ہم کسی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کسی کا نام نہیں لے سکتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات بھی مفروضے ہیں،

    نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے، کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بار ایسوسی ایشن کے وکیل صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسی کا بھی نام لکھ دیں تو اسے نوٹس کر دیں،کیا شوکت صدیقی بیرسٹر صلاح الدین کا نام لکھ دیں تو آپ کو بھی نوٹس کر دیں؟ کیا ہمارے کندھے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں؟نوٹس جاری کر کے بلاوجہ لوگوں کو تنگ بھی نہیں کرنا چاہیے، کس سیاسی جماعت کو نکالنے کے لیے یہ سب ہوا؟ وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ جوڈیشل سسٹم پر دباو ڈال کر نواز شریف کو نکالا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس سے فائدہ کس کا ہوا؟ کیا سندھ بار یا اسلام آباد بار کو فائدہ دینے کے لیے یہ ہوا؟ بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ ہم نے انکوائری کی درخواست کی تا کہ حقائق سامنے آئیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ اگر سندھ بار شوکت صدیقی کی ہمدردی میں آئی کہ ان کو پنشن مل سکے تو یہ 184 تھری کا دائرہ کار نہیں بنتا، ہمیں نا بتائیں کہ انکوائری کریں یا یہ کریں، آپ معاونت کریں جو کرنا ہے ہم کریں گے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ مسئلہ یہ کہ عدالتی نظام کو استعمال کرنے کا الزام ہے، ہمارے بندے کو استعمال کر کے کیوں کہا گیا کہ نواز شریف انتخابات سے پہلے باہر نا آئے؟ وکیل صلاح الدین احمد نے کہا کہ یہ الزام فیض حمید پر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بار کونسلز کیوں اس کیس میں آئیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہم تحقیق چاہتے ہیں کہ کیا واقعی شوکت صدیقی کی برطرفی عمران خان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہم طریقے سے چلیں گے، شوکت صدیقی کو پنشن تو سرکار ویسے بھی دے دے گی، شوکت صدیقی 62 سال سے اوپر ہو چکے واپس بحال تو نہیں ہو سکتے،سسٹم میں شفافیت لا رہے ہیں 10 سال پرانے کیسز مقرر کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر مسئلہ صرف پنشن کا ہے تو سرکار سے پوچھ لیتے ہیں آپ کو دے دیں گے، اگر پاکستان کی تاریخ درست کرنا چاہتے ہیں تو بتا دیں ہم آپ کی مدد کرنے کو تیار ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں یہاں لوگ آلے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، آلے کے طور پر استعمال کون کرتا ہے؟ ماضی میں جو ہوتا رہا وہ سب ٹھیک کرنا ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ آپ نے اسٹیبلشمنٹ کا نام لینے سے روکا جب کہ اس ملک کی حقیقت یہی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ ہمارے منہ میں الفاظ نا ڈالیں، یہ آئینی عدالت ہے یہاں آئینی زبان استعمال کریں،ہمارا موقف واضح ہے کہ کہاں سیاسی دائرہ اختیار ختم اور عدالتی دائرہ شروع ہوتا ہے،آپ کا کیس کب سے مقرر نہیں ہوا یہ الزام ہمارے سامنے کھڑے ہو کر لگائیں ہم معذرت کریں گے، الیکشن کی تاریخ سے متعلق سیاسی جماعت آئی تو 12 روز میں ہم نے فیصلہ کیا،ملک میں کب اتنی جلدی کیس کا فیصلہ ہوا ہے؟ ہم نے آئینی اداروں کو حکم دیا کہ انتخابات کرانے کی زمہ داری پوری کریں، مسئلہ یہ ہے کوئی ادارہ اپنا کام کرنے کو تیار نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر میں فیض آباد دھرنے کو سپانسرڈ قرار دیا گیا ہے،فیض آباد دھرنا سپانسر کس نے کیا تھا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آپ نے خود دھرنا کیس کا فیصلہ دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کو چھوڑیں جو شوکت صدیقی نے لکھا وہ بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی سے کس قسم کا حکم چاہتے تھے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ بریگیڈیئر فیصل مروت نے بول ٹی وی کو آئی ایس آئی پروجیکٹ قرار دیتے ہوئے شعیب شیخ کی بریت کا کہا، بریگیڈئیر عرفان رامے نے بھی بول کے حوالے سے بات کی تھی، ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن کو پچاس لاکھ رشوت دیکر شعیب شیخ کو بری کروایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے صرف اتنا ہی کہا گیا ہے کہ وہ ناراض ہیں، اس سنی سنائی بات پر قمر جاوید باجوہ کو کیوں نوٹس کر دیں ؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے زیادہ نام فیض حمید کا لیا ہے،قمر باجوہ سے متعلق گفتگو تو سنی سنائی ہے، قمر باجوہ نے شوکت عزیز صدیقی سے براہ راست کوئی بات نہیں کی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا چیف جسٹس ہائی کورٹ نے وہ بنچ بنایا تھا جو فیض حمید چاہتے تھے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ جو فیض حمید چاہتے تھے وہ ہوا، فیض حمید چاہتے تھے الیکشن 2018 سے پہلے نوازشریف کی ضمانت نہ ہو، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب آپ خود معاملہ الیکشن 2018 تک لے آئے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نوازشریف کی اپیل پر کیا فیصلہ ہوا؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ اپیلوں پر ابھی فیصلہ ہوا اور نوازشریف بری ہوگئے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنرل باجوہ سے تو کڑی نہیں جڑ رہی،آپ کہتے ہیں کہ فیض حمید جنرل باجوہ کے کہنے پر آئے، جنرل قمر جاوید باجوہ پر تو براہ راست الزام ہی نہیں،آج کل تو لوگ کسی کا نام استعمال کر لیتے ہیں،رامے بھی اس کیس سے غیر متعلقہ ہیں،زیادہ تر فیض باجوہ کی بات کی ہے آپ نے۔ آپ نے جن کے نام دئیے ہیں ان کا کیا کردار تھا یہ ثبوت کے ساتھ دیں۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں،شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ جتنے جذبات تھے پانچ سال میں ٹھنڈے ہوگئے،

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ریٹائرڈ عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری کر دیا، بریگیڈئر ریٹائرڈ عرفان رامے کو بھی نوٹس جاری کر دیا،سپریم کورٹ کے سابق رجسٹرار ارباب عارف کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا،تین افراد جنہیں شوکت عزیز صدیقی نے فریقین بنایا تھا ان کا براہ راست تعلق نہیں، جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ، طاہر وفائی، بریگئیڈیئر فیصل مروت کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا،کیس کی سماعت چھٹیوں کی تعطیلات کے بعد ہوگی،در خواست گزاروں کی ایڈریسز کے ترمیمی درخواستیں ایک ہفتے میں دائر کی جائیں، ترمیمی درخواستیں آنے کے بعد سپریم کورٹ آفس نوٹس جاری کرے گا، کیس کی آئندہ حتمی تاریخ ججز کی دستیابی کے بعد طے کریں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز شوکت عزیز صدیقی کیس میں سابق فوجی افسران کوفریق بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی،درخواست میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی، بریگیڈئیر ریٹائرڈ عرفان رامے، بریگیڈیئر ریٹائرڈ فیصل مروت، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر وفائی کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی،سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی،سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو فریق بنانے کی استدعاکی گئی،سابق جج شوکت عزیز نے درخواست اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • عمران خان نااہلی کیس قابل سماعت کیسے؟ دلائل طلب

    عمران خان نااہلی کیس قابل سماعت کیسے؟ دلائل طلب

    لاہور ہائیکورٹ: بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی نا اہلی اور عام الیکشن لڑنے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت ملتوی کر دی،عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو درخواست کے کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع ہونا ہیں ۔جسٹس شاہد بلال نے کہا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلہ نہیں کرتی ۔ہم کیس سن نہیں سکتے، ایک کیس پر ایک ہی وقت دو عدالتیں اکٹھے سماعت نہیں کر سکتیں .

    الیکشن کمیشن کے وکیل شہزاد شوکت اسلام آباد ہونے کی وجہ سے پیش نہ ہوئے،شہزاد شوکت کی طرف سے طرف سے مہلت مانگی گئی ،جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن انتظامی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن جوڈیشل اختیار استعمال نہیں کر سکتا، انکو غیر قانونی نا اہل کیا گیا،عدالت نا اہلی ختم کرے، اور الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے.

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

  • دوران عدت نکاح کیس،عدالت نے عمران خان کو طلب کر لیا

    دوران عدت نکاح کیس،عدالت نے عمران خان کو طلب کر لیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف مبینہ غیر شرعی نکاح کا معاملہ،عدالت نے آئندہ سماعت پر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو طلب کرلیا۔

    سینئر سول جج قدرت اللہ نے ایک صفحہ پر مشتمل سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامہ میں کہا گیا کہ بشری بی بی کی ایک روزہ حاضری سے استثنی منظور کیاجاتاہے۔حاضری کو یقینی بنانے کیلئے بشری بی بی بطور ضمانت پچاس ہزار روپے مالیت کے ذاتی مچلکے جمع کرائیں۔سابق چیئرمین پی ٹی آئی اڈیالہ جیل میں ہیں۔سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی سکائپ کے ذریعے حاضری تکنیکی وجوہات کی وجہ سے نہ ہوسکی۔جیل سپریٹنڈنٹ آئندہ سماعت پر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری کو یقینی بنائیں۔شکایت اور دیگر دستاویزات کی نقول فریقین کو فراہم کردی گئی ہیں۔کیس کی آئندہ سماعت 18 دسمبر کو ہوگی۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • سبز باغ نہیں دکھاتا،جو کہتا ہوں کر کے دکھاتا ہوں،آٹھ فروری کو اپنا مقدر بدلیں،نواز شریف

    سبز باغ نہیں دکھاتا،جو کہتا ہوں کر کے دکھاتا ہوں،آٹھ فروری کو اپنا مقدر بدلیں،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھ پر جھوٹے اور بےبنیاد مقدمات بنائے گئے ، عوام کا شکر گزار ہوں وہ میرے ساتھ کھڑے رہے،

    ویڈیو پیغام میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ تعالٰی نے مجھے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں سرخرو کیا،میری جماعت کا ہر ورکر مبارکباد کا مستحق ہے،اس شرمناک کھیل کے سارے چہرے بےنقاب ہو چکے ہیں،عوام کی دعاؤں نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیا ،میں 6 سال یہ بات سوچتا رہا کہ مجھ سے دشمنی کرنے والوں نے میری قوم کو کیوں نشانہ بنایا۔ میرے ملک پاکستان کی عوام کا کیا قصور تھا۔کیوں اس پاکستان کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا اس سازش کا آغاز اگست 2014 کے دھرنوں سے ہوا جس کا پہلا مرحلہ جولائی 2017کو ختم ہوا جب بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نہ صرف وزارت عظمی سے بے دخل کیا گیا بلکہ تاعمر نااہل بھی کردیا گیا.مطلوبہ فیصلے لینے کیلئے ججوں کے گھروں میں جا کر دھمکیاں دی گئیں،انکوائری کے لیے ہیرے چنے گئے۔ واٹس ایپ پر پیغامات دئیے گئے ۔ نیب کو 3 ریفرنس دائر کرنے کا کہا گیا۔ مجھے گاڈ فادر اور سسیلین مافیا جیسی گالیاں دی گئیں۔ اس شرمناک کھیل کے سارے کردار بے نقاب ہو چکے ہیں ۔ طویل عرصہ جیل میں رہا، گالیاں کھائیں، کردار کشی ہوئی ۔ اپنے خلاف منظم سازش بیان کرنے لگوں تو وقت لگے گا۔مجھے اور میرے خاندان کو سزا اصل میں 25 کروڑ عوام کو سزا ہے۔والد کی میت کو کندھا نہ دے سکا، والدہ کا تابوت قبر میں نہ اتار سکا، شریک حیات کا آخری وقت میں ساتھ نہ دے سکا، میرے خلاف سارے مقدمے فراڈ اور جھوٹے نکلے۔مجھے پورے ملک سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں جس نے مجھے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں سرخرو فرمایا۔میں نے مصائب مشکلات اور آزمائشوں کا لمبا سلسلہ کاٹا۔ اپنی بیٹی کے ہمراہ سینکڑوں پیشیاں بھگتیں طویل عرصہ جیل میں رہا، الزامات تھوپے گئے، گالیاں کھائیں اور کردار کشی کی گئی۔ایسی ایسی گواہیاں سامنے آئیں جو ہمارے ذہن وگمان میں بھی نہیں تھی، میرے خلاف کی گئی سازش کے شرمناک کھیل کے تمام کردار سامنے آگئے ہیں جو سب اللہ کا کرم ہے کیونکہ میں نے اپنا معاملہ اپنے اللہ پر چھوڑتا ہوں،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کو کیوں بھکاری بنادیا گیا جو آئی ایم ایف سے نجات حاصل کرچکا تھا ، ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا،جو روٹی میری دور میں پانچ روپے کی تھی ، کیوں اسے 25 روپے پہنچایا گیا ، میں سبز باغ نہیں دکھاتا ، جو کہتا ہوں اللہ پر پختہ ایمان کی وجہ سےکہتا ہوں، جو کہتا ہوں، اللہ کے فضل و کرم سے کر کے دکھاتا ہوں، مجھے کبھی اچھے حالا ت نہیں ملے لیکن جب بھی فارغ کیا گیا پاکستان کو بہتر حالت میں چھوڑ کر گیا، مجھے اپنے سزاؤں سے نجات کے لئے عدالتوں سے رجوع کرنا پڑا، آپ کو کسی عدالت نہیں جانا، آپ خود عدالت ہیں، کسی کو درخواست نہیں دینی، آپ خود جج ہیں،مجھے معلوم ہے کہ آٹھ فروری کو اپنا فیصلہ سنائیں گے، اور اپنی بریت کا فیصلہ خود کریں گے،خود ہی اپنی سزاؤں کا خاتمہ کرنا ہے،