Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغان باشندوں کی بے دخلی،کیس لارجر بینچ بنانے کیلیے ججز کمیٹی کو بھیج دیا گیا

    افغان باشندوں کی بے دخلی،کیس لارجر بینچ بنانے کیلیے ججز کمیٹی کو بھیج دیا گیا

    سپریم کورٹ میں افغان باشندوں کی بے دخلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے افغان باشندوں کی بے دخلی کے خلاف درخواستوں کو لارجر بنچ بنانے کے لیے ججز کمیٹی کو بھیج دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ افغان باشندوں کی بے دخلی سے متعلق درخواستوں میں نگران حکومت کے آرٹیکل 224 کے تحت اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے، افغان باشندوں کی بےدخلی کیس میں آرٹیکل 9، 10، 24 سمیت بنیادی حقوق کی تشریح درکار ہے،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت آئینی تشریح کا معاملہ لارجر بنچ سن سکتا ہے، کیس کو لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے ججز کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت اور وزارت خارجہ نے اپنے جوابات جمع کرا دیے، درخواست گزاروں نے اپنی درخواستوں میں افغان باشندوں سے متعلق کہا حقیقت اس کے برعکس ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ حکومت تو صرف ان لوگوں کو واپس بھیج رہی ہے جو غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بےدخلی کے لیے قانونی دستاویزات نا بھی ہوں تب بھی بنیادی حقوق کو مدنظر رکھنا لازم ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ غیر ملکیوں کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں تب بھی ان کو انسانی حقوق کے تحت ملک میں رہنے دیا جائے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے ساتھ قانون اور آئین پاکستان کے مطابق سلوک ہونا چاہیے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق تو غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو پہلے جیل ہونی چاہیے،کیا یہ چاہتے ہیں کہ ان غیر ملکیوں کو پہلے جیل ہو پھر بے دخل کیا جائے؟ حکومت کے مطابق 90 فیصد غیر قانونی مقیم غیر ملکی رضاکارانہ طور پر واپس جا رہے ہیں،کیا پاکستان میں کوئی جاسوس آ کر بیٹھ جائے اور دو سال بعد کہے کہ اسے گرفتار نا کیا جائے تو پھر کیا ہو گا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کلبھوشن جادیو کا کیس ہو چکا اور غیر ملکیوں سے متعلق پاکستان بین الاقوامی قوانین کا رکن ملک ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یہ کیس آئینی تشریح کا ہے اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے بعد لارجر بنچ کو سننا چاہیے، درخواست گزاروں نے نگران حکومت اور اپیکس کمیٹی کے اختیار کو چیلنج کیا ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا حکومت بھی یہی سمجھتی ہے کہ یہ کیس لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے واپس کمیٹی کو جانا چاہئے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ اس کیس کو لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے کمیٹی کو بھجوایا جائے،وکیل عمر گیلانینے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ افغان شہریوں کی واپسی ہو رہی ہے تو کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کی درخواست فرحت اللہ بابر، سینیٹر مشتاق، محسن داوڑ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں وفاق، صوبوں، نادرا، وزارت خارجہ اور داخلہ سمیت دہگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ نگراں حکومت کا بڑی تعداد میں لوگوں کی بے دخلی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے، جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی شہریت ان کا حق ہے، جن شہریوں کے پاس قانون دستاویز ہے ان کی بے دخلی غیر قانونی ہے۔

  • العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    نواز شریف کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا،عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے سزا کالعدم قرار دیدی،احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کردیا

    نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں اپیل پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے،نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز جبکہ نیب کی لیگل ٹیم روسٹرم پر موجود تھی،نیب کی جانب سے لیگل ٹیم میں نعیم طارق سنگیڑا، محمد رافع مقصود اور اظہر مقبول شاہ عدالت پیش ہوئے،نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا.

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز روسڑم پر آگئے ، اور کہا کہ زیر کفالت کے ایک نکتے پر صرف بات کرنا چاہتا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہوگئے ہیں،امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں صرف ایک نکتے زیر کفالت کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہوں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے نواز شریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا ہے؟ وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ استغاثہ کے اسٹار گواہ واجد ضیاء نے اعتراف کیا تھا کہ زیر کفالت سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی ثبوت دیا کہ اپیل کنندہ کے زیر کفالت کون تھے؟ امجد پرویز نے کہا کہ بے نامی کی تعریف سے متعلق مختلف عدالتی فیصلے موجود ہیں،ہم نے ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی اعتراضات اٹھائے تھے، امجد پرویز ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مختلف حصے پڑھ رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر کہا گیا کہ ان شواہد کی بنیاد پرثبوت نواز شریف پر منتقل ہوگیا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ میں حسیں نواز کی دائر کردہ متفرق درخواستوں پر انحصار کیا گیا ہے،اگر ان متفرق درخواستوں کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف اسٹیل مل کے کبھی مالک رہے ہوں ، جن متفرق درخواستوں پر ٹرائل کورٹ نے انحصار کیا ہے،ٹرائل کورٹ نے ان متفرق درخواستوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا ،ٹرائل کورٹ نے تین چیزوں پر انحصار کیا،ٹرائل کورٹ نے پانامہ کیس میں دائر سی ایم اے کو بنیاد بنایا،تینوں سی ایم اے حسن نواز، مریم نواز اور حسین نواز نے جمع کرائیں،نواز شریف کی جانب سے ایک بھی سی ایم اے جمع نہیں کرائی گئی،ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ یہ جمع کرائی گئی سی ایم ایز مجرمانہ مواد ہیں، ایک بھی سی ایم اے ثابت نہیں کرتی کہ نواز شریف ان اثاثوں کے مالک ہیں، استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہوئے تو شریک ملزم کے بیان پر انحصار نہیں کیا جاسکتا ، حسین نواز نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جائیداد کا والد سے تعلق نہیں ، حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو پر انحصار کیا گیا ہے، نواز شریف کی قومی اسمبلی میں تقریر پر بھی انحصار کیا گیا، امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ جو سی ایم ایز دائر کی گئی تھیں ان میں کیا تھا؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سی ایم ایز کو ریکارڈ پررکھا ہی نہیں گیا، سی ایم ایز کے ساتھ منسلک دستاویزکو ریکارڈ پر رکھا گیا،ان سی ایم ایز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ نواز شریف کی ملکیت تھی،بلکہ یہ لکھا تھا کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،یہ ایک اصول ہے کہ کسی ایک مقدمے کے ثبوت کو کسی دوسرے مقدمے میں نہیں پڑھا جا سکتا،خصوصی طور پر جب دونوں مقدمات کی نوعیت الگ الگ ہو،حسین نواز کے کیپیٹل ٹاک کے انٹرویو پر بھی انحصار کیا گیا،حالانکہ اس انٹرویو میں بھی حسین نواز کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے اور استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،ملزم کو اپنی معصومیت ثابت کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا،یہی قانون اثاثوں کے مقدمات میں بھی لاگو ہوا ہے،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے،فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمات میں استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،فیصلوں کے مطابق بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے، نہ کہ ملزم پر، پراسیکیوشن نے آمدن اور اثاثوں کی قیمت بتانا تھی،پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ جن کے نام اثاثے ہیں وہ تو زیر کفالت ہیں، پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ بے نامی جائیداد بنائی گئی،اگر اس متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا گیا تو یہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بنتا،

    وکیل امجد پرویز نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس سے بری کرنے کی استدعا کر دی ،وکیل امجد پرویز کے دلائل مکمل ، نیب کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا گیا،نیب پراسیکوٹر نعیم طارق سنگیڑا نے کہاکہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کے فیصلے میں ریفرنس تیار کرکے دائر کرنے کی ہدایت کی، نیب نے اپنی تفتیش کی،اثاثہ جات کیس میں تفتیش کے دو تین طریقے ہی ہوتے ہیں،ہم نے جو شواہد اکٹھے کئے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں،،نیب ریفرنسز میں تفتیش کے لیے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب نے بے نامی اثاثوں کی تفتیش کی،اس کیس میں فرد جرم احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے عائد کی تھی،اس میں 161 کے بیانات بھی ہیں،نیب وکیل کی جانب سے ریفرنس کی چارج شیٹ پڑھی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ بنیادی طور پر اس کیس میں العزیزیہ اور ہل میٹل کے الزامات ہیں، العزیزیہ میں پہلے بتائیں کتنے پیسے بھیجے کیسے بھیجے کب فیکٹری لگی ؟، یہ بتائیں کہ العزیزیہ سٹیل ملز اور ہل میٹل کب بنی تھیں؟ آپ پراسیکیوٹر تھے، بتائیں آپ کے پاس کیا شواہد تھے؟ آپ بتائیں کہ آپ نے کس بنیاد پر بار ثبوت ملزم پر منتقل کیا؟قانون کو چھوڑیں، قانون ہم نے پڑھے ہوئے ہیں، آپ سیدھا مدعے پر آئیں، کوئی ریکارڈ پر ثبوت ہوگا؟ کوئی گواہ موجود ہوگا؟ ذرا نشاندہی کریں،

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ملزمان معلوم زرائع لکھے، نواز شریف پرکرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کی گئی،ایس ای سی پی، بنک اور ایف بی آر کے گواہ عدالت میں پیش ہوئے، یہ وائٹ کالر کرائم کا کیس ہے، پاکستان میں موجود شواہد اکٹھے کئے ہیں،بیرون ملک شواہد کے حصول کے لیے ایم ایل اے لکھے گئے ، عدالت نےکہا کہ آپ یہ بتائیں وہ کون سے شواہد ہیں جن سے آپ انکا تعلق کیس سے جوڑ رہے ہیں، جائیدادوں کی مالیت سے متعلق کوئی دستاویز تو ہوگا ؟

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ شواہد میں جانے سے پہلے ایک کنفیوژن دور کرنا چاہوں گا،آخری سماعت پر آپ نے کہا تھا کہ فیصلہ دوبارہ تحریر کرنے کیلئے ٹرائل کورٹ ریمانڈ بیک کیا جائے،ہم نے ابھی تک کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، آپ اس اپیل پر میرٹ پر دلائل دے کر سزا برقرار رکھ سکتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس کو دوبارہ احتساب عدالت بھیجنے کی استدعا کی تھی، جج سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے اور اُس کے نوکری سے برطرف ہونے کے بعد اِس فیصلے کو درست نہیں کہا جا سکتا،العزیزیہ ریفرنس کا احتساب عدالت کا یہ فیصلہ متعصبانہ ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے ارشد ملک سے متعلق درخواست پر گزشتہ سماعت پر کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا،یہ تو آپ نے کہا تھا کہ آپ اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے ،نیب وکیل کی بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کے ارشد ملک کیس کے فیصلے میں آبزرویشنز کافی مضبوط ہیں،وہ درخواست اگر نہ بھی ہوتی، تب بھی اگر وہ فیصلہ ہمارے سامنے آجاتا تو ہم اس کو ملحوظ خاطر رکھتے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ نیب تو آپ پر احسان کر رہا ہے، آپ کیوں لینے سے انکاری ہیں؟،العزیزیہ کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا اور آپ کے موکل مجرم نہیں رہیں گے، نواز شریف کے وکلاء نے کہا کہ احسان بھی تو دیکھیں کیسا ہے،اگر یہ معاملہ واپس ٹرائل کورٹ ہی جانا ہے تو بعد میں بھی ہمیں یہیں آنا پڑے گا، نیب پراسیکوٹر نےایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب پراسیکوٹر کی ایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا مسترد کر دی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کریں گے، آپ کو میرٹ پر دلائل دینے میں کتنا وقت چاہیے؟ نیب وکیل نے کہا کہ دلائل میں شواہد بتائیں گے پھر ان کا تعلق جوڑنے کی کوشش کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چلیں پھر آپ میرٹ پر دلائل دیں، ہم میرٹ پر سن لیتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں اپنے دلائل آدھے پونے گھنٹے میں مکمل کر لوں گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ پونے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کریں،اپیل سننے کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ جو فیصلہ دیا گیا اس کیلئے شواہد بھی موجود تھے یا نہیں،آپ نے بتانا ہے کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز سے یہ رقم سعودی عرب بھیجی گئی ،نیب کے گواہ واجد ضیا خود مان رہے ہیں کہ کوئی ثبوت نہیں ،اس دستاویز کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف کا العزیزیہ اور ہل میٹل کے ساتھ کوئی تعلق ہے ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیا نے analysis کیا کہ نواز شریف ہی اصل مالک ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ واجد ضیا تو خود مان رہا کہ ملکیت ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا کیس ہی واجد ضیا کے analysis کی بنیاد پر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس ڈاکومنٹ سے کچھ ثابت نہیں ہوتا، مفروضے پر تو کبھی بھی سزا نہیں ہوتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریکارڈ میں زیادہ تر دستاویزات فوٹو کاپیز ہیں ،عدالت نے کہا کہ فوٹو کاپیز عدالتی ریکارڈ کا حصہ کیسے بن سکتی ہیں ؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمیں آج تک فوٹو کاپی کی بھی مصدقہ نقل نہیں ملی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع نہیں تھے کہ وہ مِلیں لگا لیتے، عدالت نے کہا کہ یہ بتائیں کہ نواز شریف کا تعلق کیسے بنتا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہی بتا رہا ہوں کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع موجود ہی نہیں تھے،عدالت نے کہا کہ مفروضے پر تو بات نہیں ہو سکتی، یہ بتائیں کہ نواز شریف نے کیسے کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز سے پیسہ باہر بھیجا؟ سٹار گواہ واجد ضیاء کہہ چکا کہ اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بات بھی سامنے ہے کہ میاں محمد شریف کا کاروبار تھا،

    نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • سائفر کیس ، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی

    سائفر کیس ، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ سے متعلق سائفر کیس کی سماعت کا معاملہ،شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی بیٹا زین قریشی اور وکلاء بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئے

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین خانم اور عظمی خانم بھی جیل پہنچ گئی،ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ سے متعلق سائفر کیس کی سماعت شروع ہو گئی،کیس کی سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کر رہے ہیں ،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،،وکلاء صفائی کی جانب سے 6 دائر درخواستیں نپٹا دی گئیں،کمرہ عدالت میں شیشہ لگا دیا گیا ہے، میڈیا کی شاہ محمود قریشی ، بانی پی ٹی آئی تک رسائی ممکن نہیں،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میڈیا کے معاملے پر سپرٹنڈنٹ جیل سے بات کروں گا،

    شاہ محمود قریشی نے عدالت کو بتایا کہ میڈیا کی رسائی جیک ٹرائل تک نہیں اوپن ٹرائل کے مقاصد پورے نہیں ہورہے۔عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اوپن ٹرائل اسطرح نہیں ہوتا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ آپ کو اندازہ نہیں میں کس طرح مینیج کررہا ہوں ابھی بھی ایک گھنٹہ سپرینڈنٹ کے پاس بیٹھ کر آیا ہوں،آپ کو اندازہ نہیں آپکو کتنا ریلیف دیا ہے آئندہ بھی دینگے، جو بھی ہوگا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگا آپ ڈریں مت،

    کمرہ عدالت میں ملزمان کے اہل خانہ کو آگے آنے کی اجازت دی گئی۔بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہمیشہ درخواست کی ہے کہ سائفر کیس کی کاروائی عجلت میں آگے بڑھائی جارہی ہے،ہم نے دو فیصلوں کو چیلینج کر دیا ہے، جج نے سوال کیا کہ آج تک جتنی سماعتیں ہوئی کیا جلدی ہوئی، میں وقت سے پہلے بات نہیں کرتا جو کرونگا میرٹ اور حق پر کرونگا،مجھے نہیں پتہ کل کیا فیصلہ ہوگا اگر کسی کا جرم نہیں بنتا اسکو سلاخوں کے پیچھے رکھنے کا فائدہ نہیں، ہمیں بتائیں عدالت مزید کتنا التوا دے، عدالت متوازن اور نیوٹرل ہوکر چل رہی ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب اوپن کورٹ کا فیصلہ موجود ہے تو میڈیا کو کیوں روکا جارہا ہے، عدالت نے کہا کہ جیل انتظامیہ سے بات کرونگا میڈیا کے لوگ بھی اونچی آواز میں بات کرتے ہیں، عدالت کا ایک ڈیکورم ہوتا ہے عدالت کا ڈیکورم برقرار رہنا چاہیئے،پچھلی سماعت پر ایک صحافی نے باہر جاکر پتہ نہیں کیا بولا اسکی نوکری چلی گئی، وکیل عثما ن گل نے کہا کہ ہمیں چالان کی مکمل کاپیاں نہیں دی گئی، عدالت نے کہا کہ آپ کو چالان کی دو دو کاپیاں دی گئی ہیں، سات دن کے اندر آپ نے کوئی اعتراض جمع نہیں کرایا،عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے دھوپ میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے،

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر سماعت کے دوران اُٹھ کر باہر آگئے ،میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کی سماعت کا احوال بتانے اڈیالہ جیل سے باہر آیا ہوں کیونکہ میڈیا کو رسائی نہیں،سائفر کیس میں سماعت ابھی تک اڈیالہ جیل میں چل رہا ہے، مخصوص افراد کو اندر داخل کیا گیا ، میڈیا کے مخصوص افراد کو جج سے 50 فٹ کے فاصلے پر بیٹھایا گیا ہے ، ہم اوپن ٹرائل کو مسترد کرتے ہیں، ہم نے اوپن ٹرائل کے حوالے سے درخواست دے دی ہے ، فیملیز کے لوگوں کو 45 منٹ تک روکا گیا، جج کے پیچھے 15 سے 20 پولیس اہلکار موجود ہیں ،جج صاحب نے نوٹس لیا کہ میں نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا تو یہ پولیس اہلکار کیوں کھڑے ہیں ، سائفر ٹرائل پہلے بھی جلد بازی میں کیا گیا جس پر ساری کاروائی کالعدم ہوئی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژنل بینچ کے فیصلے کے بعد اس ٹرائل کا آغاز کیا جانا چاہیئے تھا ،جج صاحب قانون کو فالو نہیں کرنا چاہتے، پہلے کی غلطیاں دوبارہ دوہرائی جارہی ہیں ، یہاں ٹرائل سپیڈ سے چل رہی ہے جبکہ ہائیکورٹ میں سلو چل رہی ہے ، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے دی گئی درخواست کو ابھی تک نہیں سنا گیا ، بانی چیئرمین پی ٹی آئی پر ابھی تک فرد جرم عائد نہیں ہو سکی ، میڈیا کے دوستوں کو اجازت ہونے کے باوجود اوپن ٹرائل میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ،بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گواہان کو میڈیا کی موجودگی میں لایا جائے،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • ڈیرہ اسماعیل خان،دہشتگردوں کا حملہ،25 اہلکار شہید،27 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈیرہ اسماعیل خان،دہشتگردوں کا حملہ،25 اہلکار شہید،27 دہشتگرد جہنم واصل

    امن کے دشمنوں کا ایک اور وار، ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے دو واقعات پیش آئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کےخلاف کارروائیاں کی گئیں، کاروائیوں میں 27 دہشتگرد ہلاک ہو گئے،دہشت گردوں کے حملے میں 25 سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں،دہشتگردوں نے درابن میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا اور بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی،،عمارت گرنے سے 23 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، ایک اور واقعہ میں کلاچی میں دو بہادر سپوت شہید ہوئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنادیا،سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں 27 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا گیا، دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر درازندہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کیا گیا،مارے جانے والے دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے، کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کلاچی میں انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشن کیا،آپریشن کے نتیجے میں چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا،شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو جوان شہید ہوئے،ہلاک دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھے، کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ، دوسری جانب 12 دسمبر کی صبح چھ دہشت گردوں کے ایک گروپ نے درابن میں سیکورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا۔چوکی میں داخل ہونے کی کوشش کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا گیا ،
    جس کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی کو چوکی سےٹکرا دیا،چوکی سے گاڑی ٹکرانے کے بعد جس کے بعد خودکش حملہ کیا گیا،دھماکوں کے نتیجے میں عمارت گر گئی،تئیس بہادر سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا ،تمام چھ دہشت گردوں کو مؤثر طریقے سے جہنم واصل کر دیا گیا،علاقے میں موجود ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمےکے لیے پرعزم ہے،ہمارے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    قبل ازیں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن پر دہشتگردوں نے تھانے پر حملہ کیا جس میں حملہ آوروں نے تھانے کے مین گیٹ پربارود سے بھری گاڑی ٹکرائی ،دہشتگردوں نے تھانے کے قریب فائرنگ بھی کی جس سے 16 اہلکار زخمی ہوئے۔حملے میں تھانےکی چھت گرگئی جب کہ اس دوران 2 دہشتگرد بھی مارے گئے،پولیس کا کہنا ہےکہ زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان اسپتال منتقل کر دیاگیا ہے جب کہ تحصیل درابن کی مکمل ناکہ بندی کردی گئی ہے۔علاقہ بھر میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے،

    دہشت گردی کے واقعات کے بعد ڈی آئی خان میں ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی گئی۔تحصیل درابن میں سکول ،کالج میں آج ہونیوالے پرچے ملتوی کردیئے گئے۔

    دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی،نگران وزیراعظم
    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نےضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن کے پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نے حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کو ہر ممکن طبی امداد دینے کی ہدایت کی.
    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نےڈیرہ اسماعیل میں درازندہ، درابن اور کلاچی کی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو ان کی کامیاب کارروائیوں پر خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم نے انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں 27 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو ان کی کارکردگی پر سراہا،وزیراعظم نے انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے لیے بلندی درجات کی دعا کی، اور کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں انسدادِ دہشت گردی کی حالیہ کارروائیاں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہمارے پختہ عزم کا ثبوت ہیں،جب تک ملک سے دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک ہماری دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی،

    دھرتی سے وطن دشمنوں کے ناپاک وجود کو مٹانے سے امن ہوگا،بلاول
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری نے 23 بہادر سپاہیوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک شہیدوں کا خون قوم پر قرض رہے گا، دھرتی سے وطن دشمنوں کے ناپاک وجود کو مٹانے سے امن ہوگا، بلاول بھٹو زرداری نے شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہارکیا

    دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔مولانا فضل الرحمان
    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ڈی آئی خان میں پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،مولانا فضل الرحمان نے دہشت گرد حملے میں جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے اہلخانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں ناقابل فراموش ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔

    وطن عزیز اور قوم کے تحفظ کےلئے شہداء کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم، ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو ڈیرہ اسماعیل خان میں مختلف کارروائیوں کے دوران 27 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر خراج تحسین جبکہ 23 شہید بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی سے ارض پاک کو پاک کرنے کی جدوجہد ملکی سلامتی، دفاع اور معاشی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ وطن عزیز اور قوم کے تحفظ کےلئے شہداء کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل اور اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین

    شدت پسندوں کی کمین گاہوں کا تدارک کافی نہیں بلکہ ان سہولت کاروں کو بھی گرفت میں لانا ہو گا،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
    مجلس وحد ت المسلمین کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائی میں چوبیس سے زائد قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع قومی سانحہ ہے۔ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ملک دشمن تکفیری دہشت گرد پھرسے منظم ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستانی قوم نے بھاری قیمت چکائی ہے۔قوم کسی نئی آزمائش کی قطعی متحمل نہیں۔ ملکی سلامتی جیسے حساس معاملات میں صاحبان اقتدار کو سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شدت پسندوں کی کمین گاہوں کا تدارک کافی نہیں بلکہ ان سہولت کاروں کو بھی گرفت میں لانا ہو گا جو دہشت گردی کی مالی معاونت اور فکری آلودگی کا باعث بن رہے ہیں۔پوری قوم غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک اور شہداء کی بلندی درجات زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہے۔

    بزدلانہ حملے ملک میں امن وامان کی صورتحال کو سبوتاژ نہیں کرسکتے،چیئرمین سینیٹ
    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں شہدا کے اہلخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے دہشت گرد حملوں کے دوران زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ دہشت گرد ترقی کے عمل کو روکنا چاہتے ہیں جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے لازوال قربانیوں دی ہیں۔خطے کے امن کی بقا کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔چیئرمین سینیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے بزدلانہ حملے ملک میں امن وامان کی صورتحال کو سبوتاژ نہیں کرسکتے۔محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ دہشت گردوں کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا نہ ہی کوئی مذہب اپنے پیرو کاروں کو دہشت گردی کی اجازت دیتا ہے۔دہشت گردی کے اس ناسور کو جلد جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کی ترقی سے خائف ہیں۔قوم سیکیورٹی فورسز کی ان قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی، قائد ایوان سینیٹ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے بھی ڈی آئی خان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے دہشت گرد حملوں میں شہید اہلکاروں کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گرد پوری انسانیت کے دشمن ہیں۔پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے.

  • سپریم کورٹ،بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ،بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں بھٹو قتل صدراتی ریفرنس کی سماعت ،کمرہ عدالت میں سابق صدر آصف زرداری سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو، سینیٹر رضا ربانی، نئیر بخاری موجود ہیں ،پی پی رہنما نثار کھوڑو، ناصر شاہ، ڈاکٹر شیریں مزاری، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور دیگر بھی موجود ہیں

    سابق وزیر اعظم ذولفقار بھٹو کے قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت شروع ہو گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں،جسٹس امین الدین خان ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی لارجر بینچ کا حصہ ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لارجر بینچ میں شامل ہیں

    فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ ہم یہ کاروائی براہ راست نشر کر رہے ہیں ،آپ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یوٹیوب پر کیس براہ راست دیکھ سکتے ہیں،آپ کی درخواست سے پہلے ہی ہم نے انتظام کر لیا تھا، فاروق ایچ نائیک کی جانب سے کاروائی براہ راست نشر کرنے پر اظہار تشکر کیا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شکریہ کی بات نہیں یہ اہم سماعت ہے، ہم صدارتی ریفرنس شروع کر رہے ہیں،اٹارنی جنرل صاحب آپ آغاز کریں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے کوئی ہدایات نہیں ملی کہ یہ ریفرنس نہ سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ یہ صدارتی ریفرنس ہے تو کیا حکومت اس کو اب بھی چلانا چاہتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں کہ صدارتی ریفرنس کو حکومت چلاناچاہتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس 15 صفحات پر مشتمل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ صدارتی ریفرنس میں صدر صاحب ہم سے کیا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کیس آخری بار 2012 میں سنا گیا، بلاول بھٹو نے فریق بننے کی درخواست دے دی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں بلاول بھٹو کی نمائندگی کرونگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کون کس کی نمائندگی کرتا ہے، ہم آپ کو ورثا کے طور پر بھی سن سکتے ہیں اور بحثیت سیاسی جماعت کے طور پر بھی،

    عدالت نے ریفرنس میں پیش ہونے والے وکلا کے نام لکھ لیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کارروائی پہلے پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کرتے تھے،اب ہماری کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر کارروائی لائیو ہوگی،کون سے صدر نے یہ ریفرنس بھیجا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ریفرنس صدر زرداری نے بھیجا تھا, چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس کے بعد کتنے صدر آئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کے بعد دو صدور آ چکے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی صدر نے یہ ریفرنس واپس نہیں لیا، سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ریفرنس مقرر نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، احمد رضا قصوری نے کہا کہ اس کیس میں مجھے بھی سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر قانونی وراث کا حق ہے کہ اسے سنا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ ریفرنس کا ٹائٹل پڑھیں،اٹارنی جنرل نے ریفرنس میں اُٹھائے گئے سوالات عدالت کے سامنے رکھ دیئے،ریفرنس میں جج کے تعصب سے متعلق آصف زرداری کیس 2001 کا بھی حوالہ دیا گیا،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل کے دوران بنیچ پر اعتراض کی کوئی درخواست دی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق کئی درخواستیں دی گئی تھی، ،اٹارنی جنرل نے جسٹس (ر)نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ انٹرویو کس کو دیا گیا تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ انٹرویو جیو پر پروگرام جوابدہ میں افتخار احمد کو دیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا افتخار احمد اب بھی جیو میں موجود ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اب وہ جیو میں نہیں ہے، انٹرویو موجود ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دو انٹرویو کا ذکر کیا گیا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ دوسرا انٹرویو کسی انجان کو دیا گیا ، دوسرے انٹرویو میں نسیم حسن شاہ نے کہا مارشل لاء والوں کی بات ماننی پڑتی ہے، احمد رضا قصوری روسٹروم پر آگئےماحمد رضا قصوری نے نسیم حسن شاہ کے نوائے وقت کے انٹرویو کا حوالہ دیامجسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ نسیم حسن شاہ کے انٹرویو پر انحصار کریں گے، جسٹس نسیم حسن شاہ نے یہ بتایا کہ کس نے ان پر دباو ڈالا تھا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس وقت مارشل لا تھا تو مارشل لا کی بات کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک سینئر ممبر بینچ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے، دو اور ججز نے ذاتی وجوہات پر معذت کی، اس کے بعد 9 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا، احمد رضا قصوری نے کہا کہ ریفرنس میں کوئی قانونی سوال نہیں اٹھایا تھا، بابر اعوان بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے تھے،جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا اس میں ضمنی ریفرنس بھی آیا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ متفرق درخواست کے ساتھ چیزیں آئی تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ آرڈر میں اس کا ذکر کیوں تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 21 اپریل 2011 کو صدارتی حکمنامہ جاری کیا گیا تھا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ بھٹو ریفرنس میں تو کوئی سوالات تھے ہی نہیں تو سپلیمنٹری ریفرنس داخل کیوں کیا گیا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی حکمنامے کے ذریعے بھٹو ریفرنس کے سوالات فریم کیے گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدارتی ریفرنس کس وکیل نے دائر کیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی ریفرنس 2011 میں بابر اعوان کے ذریعے دائر کیا گیا لیکن ان کا لائسنس دو سال کیلئے منسوخ ہوا، احمد رضا قصوری نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کی 2012 میں سماعت کے دوران بابر اعوان سے سخت سوالات ہوئے،بابر اعوان کے پاس عدالتی سوالات کا جواب نہیں تھا تو وہ مشتعل ہوئے اور عدالت نے ان کا لائسنس منسوخ کیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ ریفرنس کے سوالات پڑھیں، اس کیس میں کئی وکلا وفات پاچکے،اس کیس میں عدالتی معاونین مقرر کریں گے ، ناموں کا فیصلہ بعد میں کرتے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں انٹرویوز کا ٹرانسکریپٹ اور ویڈیوز پیش کروں گا،احمد رضا قصوری نے کہا کہ تو یہ چیزیں تو میں نے دینی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ دیتے اور صفائی میں آجاتے،ایس ایم ظفر اور مختلف وکلا استعمال کرچکے ہیں ،علی احمد کرد صاحب کیا آپ معاونت کرینگے، علی احمد کرد نے کہا کہ جی میں معاونت کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اعتزاز احسن اس کیس میں آئینگے؟ معاون وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتزاز وکیل بھی ہیں بطور معاون نہیں آئینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تقریر نہ کریں ہاں یا نہ میں بتائیں، معاون وکیل نے کہا کہ نہیں وہ بطور معاون نہیں آئینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قاضی اشرف بھی اس کیس میں معاون تھے،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قاضی اشرف تندرست ہیں اور پریکٹس کررہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پولیس سے کیس کا اصل ریکارڈ ملا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکارڈ اصل نہیں ملا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ریکارڈ کے تین بنڈل آئے تھے ،

    جسٹس منصور علی شاہ نے صدارتی ریفرنس پر سوالات اٹھا دیئے ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ بھٹو کیس میں فیصلہ سنا چکی اور نظرثانی بھی خارج ہو چکی،ایک ختم ہوئے کیس کو دوبارہ کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ دوسری نظرثانی نہیں سن سکتی، ایک معاملہ ختم ہو چکا ہے، عدالت کو یہ تو بتائیں کہ اس کیس میں قانونی سوال کیا ہے،فیصلہ برا تھا تو بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے بدلا نہیں جا سکتا،یہ آئینی سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو کوئی قانونی حوالہ تو دیں،آرٹیکل 186 کے تحت دائر صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نظرثانی نہیں ہو سکتی،اب ہم بھٹو فیصلے کو چھو بھی نہیں سکتے، عدالت کو بتائیں کو جو معاملہ حتمی ہو کر ختم ہو چکا اسے دوبارہ کیسے کھولیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بھٹو کیس عوامی اہمیت کا حامل کیس تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عوامی اہمیت کا حامل سوال صدر نے دیکھنا تھا عدالت قانونی سوال دیکھے گی، جو بھی کیس ہو عدالت قانونی سوالات کے بغیر فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟عدالت کس قانون کے تحت یہ ریفرنس چلائے؟ کیا جب یہ سارا کیس چلا مُلک میں آئین موجود تھا ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اُس وقت ملک میں مارشل لاء تھا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس میں جو شکایات دائر ہوئی تھی اس کا ریکارڈ موصول نہیں ہوا تھا،عدالت نے حکم نامے میں رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو سارا ریکارڈ فراہم کرنے کا کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ٹریبونل بنایا تھا اس کا کیا نام تھا ؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹریبونل نے دیکھنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمات درست تھے یا نہیں،ٹریبونل نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تمام مقدمات کو جعلی قرار دیا تھا ،اب معلوم نہیں اس ٹریبونل کا ریکارڈ کہاں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ ریفرنس کھبی نہ سنا جائے تو اعتراض اٹھاتے رہیں،ہمارے سامنے وہ بات کریں جو سامنے موجود ہے،ایسا کرنا ہے تو ایک درخواست دے دیں کہ کس کس کو احکامات دیئے جائیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شفیع الرحمان ٹریبونل رپورٹ کو پبلک کیا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پھانسی کا فیصلہ سپریم کورٹ سے برقرار رہا اور نظرثانی کی اپیل بھی مسترد ہوئی ،اٹارنی جنرل آپ ہمیں اب اس ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پرمطمئن کریں، آپ ہمیں بتائیں ارٹیکل 186 کے تحت قانونی سوال کیا ہے؟جو فیصلہ حتمی ہوچکا ہے اس کو ٹچ نہیں کرسکتے ،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ آرٹیکل 186 کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کر دکیا گیا،آخری بار ریفرنس 2012 میں سنا گیا،بدقسمتی سے یہ ریفرنس اس کے بعد سنا نہیں گیا اور زیر التوا رہا،فاروق اییچ نائیک نے بلاول بھٹو کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دی،فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ذوالفقار بھٹو کی صرف ایک بیٹی زندہ ہیں،عدالت کو بتایا گیا کہ ذوالفقار بھٹو کے 8پوتے پوتیاں،نواسے نواسیاں ہیں،ورثا کی جانب سے جو بھی وکیل کرنا چاہے کر سکتا ہے،بلاول بھٹو کی جانب سے براہ راست نشریات کی بھی درخواست دائر کی گئی،براہ راست نشریات کی درخواست غیر موثر ہو چکی،ہم آئینی معاملات پر بھی اور کریمنل معاملات پر بھی ماہر معاون مقرر کر دیتے ہیں ،

    جسٹس منظور ملک کو عدالتی معاون بنانے کا فیصلہ کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خواجہ حارث،خالد جاوید خان اور سلمان صفدر کو بھی عدالتی معاون بنالیتے ہیں،کیا کسی کو ان معاونین پر اعتراض ہے؟ احمد رضا قصوری نےرضا ربانی پر اعتراض کیا، اور کہا کہ عدالتی معاونین نیوٹرل ہونے چاہئیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صلاح الدین،زاہد ابراہیم ،فیصل صدیقی بھی معاون ہوسکتے ہیں ،ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا اگر اپنا وکیل مقرر کرنا چاہے تو کرسکتے ہیں، ریفرنس پر آئندہ سماعت کب رکھیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سردیوں کی چھٹیوں کے بعد کی تاریخ رکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس بار کی چھٹیوں کے بعد ہی رکھیں نا ،آخری سماعت کب ہوئی تھی،یہ کیس گیارہ سال بعد مقرر کیوں ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جواب آپ نے دینا ہے،احمد رضا قصوری نے سماعت الیکشن کے بعد تک ملتوی کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ یہ کیس الیکشن کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قصوری صاحب اس ریفرنس کے بعد کئی ریفرنس آئے، اس وقت بھی الیکشن معاملات تھے مگر وہ ریفرنس سنے گئے، اب یہ ریفرنس دیر آئد درست آئد پر ہے،جنوری میں آئندہ سماعت ہوگی

    علی احمد کرد روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ کئی عدالتی معاونین کا انتقال ہوچکا ہے، کیا عدالت ان کے لیے افسوس کا اظہار نہیں کرے گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کرد صاحب یہ کیس بھی سنجیدگی کا متقاضی ہے، اسے سنجیدگی سے دیکھنے دیں، آپ نے کوئی بیان دینا ہے تو میڈیا پر جا کردیں ،اٹارنی جنرل سے پوچھا گیا کیا صدارتی ریفرنس کبھی واپس لیا گیا ؟عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل نے ریفرنس پڑھ کر سنایا ،ریفرنس میں مقرر کیے گئے معاونین کا انتقال ہوچکا ہے، ایک معاون علی احمد کرد ہیں جو معاونت پر بھی رضا مند ہوئے، مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے بتایا کہ وہ معاونت کے لیے تیار ہیں ، آرٹیکل 186 کے اسکوپ کا معاملہ توجہ طلب ہے، کس نوعیت کی رائے دی جاسکتی ہے یہ بھی اہم معاملہ ہے،معاملے کے قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی ماہرین کی رائے کیا ہوگی؟جسٹس (ر) منظور ملک کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاون تحریری یا زبانی طور پر معاونت کرسکتے ہیں،خواجہ حارث بطور ایڈووکیٹ جنرل پنچاب کیس کا حصہ رہ چکے ہیں، خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، سلمان صفدر ، رضا ربانی ، خالد جاوید ، ذاہد ابراہیم اور یاسر قریشی بھی معاون مقرر کرتے ہیں ،عدالتی معاونین فوجداری اور آئینی معاملات پر رائے دیں ،یفرنس میں ایک انٹرویو کابھی حوالہ بنایا گیا ہے،احمد رضا قصوری نے بھی نسیم حسن شاہ کی کتاب کا حوالہ دیا،فاروق نائیک نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا،فاروق نائیک اسی انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی فراہم کرینگے،

    نسیم حسن شاہ کا انٹرویو فراہم کرنے کے لیے نجی ٹی وی چینل کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ آخری سماعت پر سپریم کورٹ بار اور عاصمہ جہانگیر کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا،سپریم کورٹ بار بھی وکیل مقرر کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں، سابق جج منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا،جسٹس ر منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے،جسٹس ر منظور ملک کی معاونت ان کی رضامندی سے مشروط ہوگی، جسٹس ر منظور ملک کرمنل معاملات پر عدالت کی معاونت کیلئے تحریری جواب یا ذاتی حیثیت میں پیش ہو سکتے ہیں،فوجداری معاملات پر عدالت کی معاونت کیلئے خواجہ حارث کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، بیرسٹر سلمان صفدر بھی عدالتی معاون مقرر کیے جاتے ہیں،مخدوم علی خان اور احمد علی کرد پہلے سے ہی عدالتی معاون مقرر ہیں،

    سپریم کورٹ کی جانب سے 9 افراد عدالتی معاون مقرر کر دیئے گئے، سپریم کورٹ نے کہا کہ معاونت کی جائے کہ ریفرنس میں عدالت سے کس قسم کی رائے درکار ہے؟ عدلت کی معاونت کی جائے کہ صدارتی ریفرنس قابل سماعت کیسے ہے؟ ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی معاملات پر معاونین درکار ہوں گے،عدالت کے پہلے سے 10مقرر کردہ عدالتی معاونین میں سے6 کا انتقال ہو چکا،جیو نیوز ذوالفقار بھٹو کیس سے متعلق انٹرویوز اور کلپس کا ریکارڈ فراہم کرے ،سپریم کورٹ نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا،ججز کی دستیابی پر آئندہ سماعت کی تاریخ دی جائے گی،جنوری سے صدارتی ریفرنس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی، جنوری میں سماعت شروع ہونے پر کوئی التوا نہیں دیا جائے گا،،ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی کر دی گئی،تمام عدالتی معاونین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے،

    بھٹو ریفرنس کی کاروائی براہ راست دکھائی گئی،گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کاروائی براہ راست دکھانے کی درخواست دائر کی تھی، درخواست بلاول بھٹو کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی، سپریم کورٹ میں‌دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے،

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا

    پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا

    بھارتی سپریم کورٹ کا جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق فیصلہ، پاکستان کا ردعمل آ گیا، پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا

    نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر یبن الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے لہذا بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے متنازع علاقے کے تعین کا کوئی حق نہیں ہے، کشمیری عوام بھارت کا 5 اگست 2019 کا یکطرفہ اقدام مسترد کر چکے ہیں، ریاست پاکستان بھی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی سے متعلق درخواستیں مسترد کرنے کا بھارتی سپریم کورٹ فیصلہ مسترد کرتی ہےبھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہے،پاکستان بھارت کے ایسے اقدام سے بے خبر نہیں،بھارت کو اختیار نہیں کہ ایسے فیصلے کرے،کشمیر ایک الگ حیثیت ہے، اس حوالے سے پاکستان تمام اسٹیک ہولڈرز کا جلد اجلاس بلائے گا،تنازع گزشتہ 7 دہائیوں سے زیر التوا ہے،پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا،بھارت کا جموں کشمیر پر قبضے کا پلان ناکام ہوگا،

    واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھا ہے،بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ” جموں کشمیر میں آرٹیکل 370 کا نفاذ عبوری تھا اور اس کو ہٹانے کا فیصلہ درست تھا” سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جموں کشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات کروانے کی الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت کی،بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر کو جلدہی ریاست کا درج بحال کرنے کی ہدایت بھی کی، عدالت نے لداخ کو یوٹی بنانے کے فیصلہ کو بھی برقراررکھا

  • تاحیات نااہلی ،سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس

    تاحیات نااہلی ،سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس لے لیا

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیئے ،تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجز بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوا دیا گیا،کیس کی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی، سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائےگا،موجودہ کیس کا نوٹس دو انگریزی کے بڑے اخبارات میں شائع کیاجائے،سپریم کورٹ نے نوٹس میر بادشاہ قیصرانی کی تاحیات نااہلی کے کیس میں لیا

    کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس 2018 کے انتخابات سے متعلق ہے،اب نئے انتخابات سر پر ہیں تو یہ قابل سماعت معاملہ کیسے ہے؟وکیل درخواست گزار ثاقب جیلانی نے کہا کہ موجودہ کیس کا اثر آئندہ انتخابات پر بھی ہوگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو نااہل کیوں کیا گیا؟ وکیل درخؤاست گزار نے کہا میر بادشاہ قیصرانی کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر 2007 میں نااہل کیا گیا، ہائیکورٹ نے 2018 کے انتخابات میں میر بادشاہ کو لڑنے کی اجازت دے دی, میر بادشاہ قیصرانی کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اگر کسی کی سزا ختم ہو جائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جھوٹے بیان حلفی پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے کو نااہل ہی ہونا چاہیے، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر پانامہ کیس میں فیصلہ دے دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی تاحیات نااہلی کے معاملے پر دو آرا ہیں،نیب کیسز میں اگر تاحیات نااہلی کی سخت سزا ہے تو قتل کی صورت میں کتنی نااہلی ہوگی؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ قتل کے جرم میں سیاست دان کی نااہلی پانچ سال کی ہوگی،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچے کے ساتھ زیادتی جیسے سنگین جرم کی سزا بھی پانچ سال نااہلی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ تاحیات نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کوئی نیا قانون بھی آچکا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اثر ختم کر سکتی ہے، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل کر کے سپریم کورٹ کا آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ غیر موثر ہو چکا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کسی نے چیلنج نہیں کیں، جب الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج نہیں ہوئیں تو دوسرا فریق اس پر انحصار کرے گا، الیکشن ایکٹ میں آرٹیکل 232 شامل کرنے سے تو تاحیات نااہلی کا تصور ختم ہو گیا ہے،انتخابات سر پر ہیں، ریٹرننگ افسر، الیکشن ٹریبونل اور عدالتیں اس مخمصے میں رہیں گی کہ الیکشن ایکٹ پر انحصار کریں یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا اطلاق موجودہ انتخابات پر ہوگا، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 کی شمولیت کے بعد تاحیات نااہلی سے متعلق تمام فیصلے غیر موثر ہو گئے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ امام قیصرانی 2007 کے انتخابات میں گریجویشن کی جعلی ڈگری پر نااہل ہوئے، 2018 کے عام انتخابات میں میر بادشاہ قیصرانی نے میٹرک کی بنیاد پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ہائیکورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت میر بادشاہ قیصرانی تاحیات نااہل ہیں اور انتخابات نہیں لڑ سکتے تھے،سپریم کورٹ نے فیصلہ میں نا کہا تو نااہلی کے باوجود آئیندہ انتخابات لڑیں گے، میر بادشاہ قیصرانی کی سزا کے خلاف اپیل ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے، سپریم کورٹ ہائیکورٹ کو حکم دے کہ اپیل پر فیصلہ کرے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کو حکم نہیں دے سکتی،ہم ہائیکورٹ پر مانیٹرنگ جج نہیں بیٹھے ہوئے، ہم ہائیکورٹ میں زیر التوا اپیل کے معاملے پر نہیں آئینی معاملے پر فیصلہ کریں گے، آرٹیکل 63 ون جی میں پاکستان کی تباہی کرنے والے کی نااہلی پانچ سال ہے، آرٹیکل 63 ون ایچ میں اخلاقی جرائم پر نااہلی تین سال ہے،لوگ شادی کے وقت جن شرائط پر رشتہ دیتے ہیں وہ پوری نہ ہوں تو شادی ختم تو نہیں ہوتی،یہ مثال صرف سمجھانے کی غرض سے دی ہے،امین تو صرف ہم ایک ہی شخصیت کو کہتے ہیں باقی کوئی اس درجہ پر نہیں پہنچ سکتا،ہر شخص ہر وقت سچ تو نہیں بولتا،اصل نااہلی تو آرٹیکل 63 میں ہے،پاکستان کی تباہی کرنے والے کو دوبارہ سیاست میں آنا ہی نہیں چاہیئے مگر اسکی نااہلی بھی پانچ سال ہے،آئین کی زبان کو دیکھنا ہوتا ہے ہر چیز آئین میں واضح درج نہیں،جو آئین میں واضح نہیں اس کی سپریم کورٹ تشریح کر سکتی ہے وضاحت نہیں،سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سامنے نااہلی کی مدت کا معاملہ نہیں تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے اور پارلیمنٹ کی قانون سازی دونوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،پارلیمنٹ کی قانون سازی چلے گی یا سپریم کورٹ کا فیصلہ اونٹ کسی کروٹ تو بیٹھنا ہے،ایک طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے دوسری جانب قانون،ریٹرننگ افسر کس پر انحصار کرے گا؟انتخابات آگئے ہیں مگر کسی کو پتا نہیں کہ وہ الیکشن لڑے گا یا نہیں.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ وفاقی حکومت کی تاحیات نااہلی سے متعلق رائے کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی یہ رائے ہے کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 232 سپریم کورٹ کے فیصلے سے بالا ہے، عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نااہلی سے متعلق تین اپیلیں آئیں،سپریم کورٹ کے سامنے معاملہ 2008 اور 2018 کے انتخابات سے متعلق تھا، درخواست گزار کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی کے ساتھ 2 سال کی سزا بھی ہوئی،درخواست گزار کی نااہلی کی سزا کیخلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے،سپریم کورٹ صرف نااہلی کے سوال کو دیکھے گی، درخواست گزار کے وکیل کے مطابق میر بادشاہ قیصرانی کی نااہلی تاحیات ہے، جبکہ نااہلی کی مدت الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 میں 5 سال کی گئی ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق سیکشن 232 سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کے فیصلے سے بالا ہوگا، جبکہ وکیل درخواست گزار کے مطابق سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 62 ون میں تاحیات نااہلی کی تشریح کرچکی، وکلا کے مطابق الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کو چیلنج نہیں کیا گیا، آئندہ انتخابات میں اس معاملے سے ریٹرننگ افسران کو کنفیوژن ہوگیریٹرننگ افسر الیکشن ایکٹ پر انحصار کرے یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ ابہام جمہوریت کیلئے ٹھیک نہیں ، یہ بھی خدشہ ہے کہ الیکشن ٹربیونل اور عدالتیں غیر ضروری مقدمہ بازی میں پھنس جائیں گی،ایڈیشنل اٹارنی کے مطابق یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے اور لارجر بینچ کے سامنے مقرر ہونا چاہیے ،نااہلی سے متعلق معاملہ بنچ کی تشکیل کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوایا جاتا ہے، اٹارنی جنرل اور تمام ایڈوکیٹ جنرلز کو معاونت کیلئے نوٹس کیا جاتا ہے، نااہلی سے متعلق معاملے پر معاونت کیلئے الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس کیا جاتا ہے،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں اس وقت بے یقینی کی صورتحال ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے یہ بے یقینی والی بات دوبارہ نہیں کرنی، انتخابات 8 فروری کو ہی ہونگے، غیر یقینی کی بات کرنے والا توہین عدالت کا مرتکب ہوگا، موجودہ کیس کو الیکشن کمیشن سمیت کوئی انتخابات میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کرے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاحیات نااہلی بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے،الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں سے کسی ایک کو برقرار رکھنا ہوگا، سنگین غداری جیسے جرم پر نااہلی پانچ سال ہے تو نماز نہ پڑھنے والے یا جھوٹ بولنے والے کی تاحیات نااہلی کیوں؟ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے بعد اس آئینی تشریح پرکم سے کم پانچ ججز کا بنچ بننا چاہیے، عدالت نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس ہارنے یا جیتنے سے بہتر عدالت کی معاونت کرنا ہوتا ہے،آپ کے توسط سے یہ کنفیوژن دور ہوجائے گی،

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج آپ کے سامنے ایک کیس رکھ رہا ہوں، ایک مسئلہ عوام کے سامنے رکھ رہا ہوں، عوام فیصلہ کرے، عوام کی آواز وہی نقارہ خدا ہے، یہ مثال بہت مشہور ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام کہنے کو تو اسلامی جماعت ہے، اسکے اندر کتنے کالےبھیڑیئے ہیں وہ بتاؤں گا، ابھی تو انکی سیاسی حکومت بھی نہیں، عبوری حکومت ہے،جب عبوری حکومت میں لوگوں کا ایسا حال ہوتا ہے تو سیاسی حکومت میں لوٹ مار کا کیسا بازار ہو گا ؟ میں آپکو سنی سنائی بات نہیں کر رہا ،ایک سرکاری ملازم محکمہ صحت کا ملازم گریڈ 16 کا معذور شخص ہے، انتہائی معذور، اب اسکو اٹھاکر کسی نے تبادلہ کر دیا، تبادلہ کوہاٹ سے ٹل کر دیا، یہ جگہ مثال کے طور پر بتا رہا ،یہ تیس چالیس میل کا روز کا فیصلہ تھا، اس نے محکمے کو کہا کہ اگر تبادلہ کر دیا تو وہاں سرکاری سہولیات بھی دے دیں، اسکو کہا گیا کہ تم کوئی سیکرٹری ہو؟ ڈی جی ہو کسی محکمے کے؟ گریڈ 16 کے نوکر ہو، نوکر کی طرح کام کرو، اس نے کہا کہ میں معذور ہوں، اتنا سفر روز نہیں کر سکتا، اسکو کہا گیا کہ معذور ہم نے کیا؟ اب اس شخص نے کسی نہ کسی طرح مجھ سے رابطہ کیا، میں نے جب پورا کیس سنا تو میں نے کہا کہ ایسا کریں پروگرام نہ کروائیں، حق میں پروگرام فائدہ نہیں، سرکاری رولز درمیان میں آ جائیں گے،رولز میں لکھا ہوتا کہ تبادلہ کہیں بھی کسی بھی وقت ہو سکتا ہے،ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کا مسئلہ حل کریں، میں نے جے یو آئی کے کرتا دھرتا،مولانا کے خاص نمائندے کو بتایا کہ یہ خاص کیس ہے، اسمیں کچھ کر دیں تو غریب آدمی کا مسئلہ حل ہو جائے گا، میرا کہنا تھا کہ غریب آدمی کی دوڑیں لگ گئیں، پھر میں نے جے یو آئی کے سینیٹر کو پکڑ لیا، میں نے کہا کہ معذور ہے، اسکو واپس کر دیں، یا کوئی مکان وغیرہ دے دیں، کس طرح یہ آئے جائے گا، جس علاقے میں مولانا کہہ رہے ہیں عالم یہ ہے کہ وہاں الیکشن کی کیمپئن نہیں کر سکتے وہاں اس معذور شخص کے لئے کتنا مسئلہ ہو گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر گورنر تک انوالو ہو گئے، اکرم درانی کا نام بھی مجھے بتایا گیا کہ ان تک سفارش پہنچ گئی ہے، مولانا کے گھر تک بھی پہنچی، پھر کہا گیا کہ صاحب نے بلایا ہے، اس نے بلا کر کہا بات سنو، تم لوگوں سے کہلوا رہے ہو، ڈیڑھ لاکھ روپیہ دو اور اپنا تبادلہ کروا لو، یہ پتہ چلا تو میں نے اور زور لگایا، ہر بندے سے جس سے رابطہ تھا بات کی،یہ سب اوپر بات ہو رہی تھی، ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے اس بات کو، چار دن پہلے دوبارہ اسکو بلایا اور کہا کہ جب تک پیسے نہیں دیتے تبادلہ نہیں ہو گا، پھر اس نے ایک لاکھ روپیہ دیا، اور اسکو کہا گیا کہ یہ کمائی اگر میں نے لینی ہوتی تو تبادلہ ہو جاتا یا رک جاتا، یہ کمائی اوپر تک جانی ہے، اس طرح تو سو سفارشیں دن میں آتی ہیں، ہم ایک دن کی کروڑ روپے کی دہاڑی چھوڑ دیں، یہ نیچے سے اوپر تک سب میں کمائی تقسیم ہو رہی ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب دیکھئے ، لوگ آپ کے گھر تک انگلیاں اٹھا رہے ہیں، اگر ایک اسلامی جماعت کے اندر بھی چیک اینڈ بیلنس نہیں تو اقتدار میں آ کر کھڈا احتساب کرے گی، کس منہ سے کہے گی کہ اسلامی قوانین لے کر آئیں گے، اگر آپ اپنے گھر، پارٹی، معذور آدمی کی معذوری کو نہیں دیکھ سکتے ، اس سے پیسے کھا رہے ہیں تو پھر ….

  • جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی برقرار،بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

    جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی برقرار،بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

    بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھا ہے

    بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ” جموں کشمیر میں آرٹیکل 370 کا نفاذ عبوری تھا اور اس کو ہٹانے کا فیصلہ درست تھا” سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جموں کشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات کروانے کی الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت کی،بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر کو جلدہی ریاست کا درج بحال کرنے کی ہدایت بھی کی، عدالت لداخ کو یوٹی بنانے کے فیصلہ کو بھی برقراررکھا

    بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کے اگست 2019کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنایا،بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل بینچ نے دلائل سننے کے بعد 5ستمبر 2023کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بھارت کو تسلیم کرنے کے بعد جموں کشمیر کوئی اندرونی خود مختاری نہیں رکھتا، آرٹیکل 370 کا اطلاق عارضی تھا، آئین کے آرٹیکل ایک اور 370 کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کا اہم حصہ ہیں، جموں و کشمیر اسمبلی کا مقصد باڈی بنانا نہیں تھا، آرٹیکل 370 جموں کشمیر کی شمولیت کو منجمد نہیں کرتا،صدر کے پاس کسی بھی آئین کی منسوخی کا اختیار موجود ہے،

    بھارتی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلہ سے تحریک آزادی کشمیر مزید مضبوط ہوگی،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم،مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نےاقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی فیصلہ دیکر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے لاکھوں کشمیریوں کی قربانی سے غداری کی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے اس متعصبانہ فیصلہ سے تحریک آزادی کشمیر مزید مضبوط ہوگی ۔ کشمیری جدو جہد میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ یہ فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ کے ماتھے پر انصاف کے خون کی پہچان کے طور پر دیکھا جائے گا۔ میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن ہر سطح پر کشمیریوں کے حق کی آواز اٹھائے گی۔ ہم اس جد وجہد میں اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنما مزمل ہاشمی کا کہنا ہے کہ کشمیر پر انڈین سپریم کورٹ کا متعصبانہ فیصلہ اس خاص بھارتی توسیع پسندانہ ذہن کا عکاس ہے جس کی وجہ سے خطہ کا امن ہمیشہ ہی خطرہ سے دوچار ہے ریاست پاکستان کو اس پر بھرپور آواز اٹھاتے ہوئے دنیا کو باور کروانا چاہئے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے آگے کوئی حل بھی قابل قبول نہیں ہے وگرنہ اس مسئلہ کی وجہ سے ہونے والی کوئی بھی تباہی اس کی ذمہ داری پوری دنیا پر عائد ہوگی

    سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت سے انکار کر کے ناانصافی کی تاریخ رقم کی،فردوس عاشق اعوان
    سابق وفاقی وزیر، استحکام پاکستا ن پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ برقرار رکھنے سے نام نہاد سیکولر بھارت کی تنگ نظری اور ہٹ دھرمی کھل کر سامنے آئی ہے۔ کشمیریوں کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار سپریم کورٹ کی فیصلہ سازی میں کمزوری اور اخلاقی پستی کا ثبوت ہے۔ انتہا پسند اور دہشت گرد بھارت کا بھیانک چہرہ پہلے بھی کئی بار بے نقاب ہو چکا مگر وہ پھر بھی کشمیریوں کی حق تلفی اور انسانیت سوزی سے پیچھے نہیں ہٹ رہا۔ استحکام پاکستان پارٹی بھارتی سپریم کورٹ اور ایسے یکطرفہ فیصلہ سازی کے پورے نظام کی بھر پور مذمت کرتی ہے۔ مودی سرکار اور سپریم کورٹ نے متنازعہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت سے انکار کر کے نانصافی کی تاریخ رقم کی ہے جو انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپیئن بھارت کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں و بھارتی سپریم کورٹ کے آج کےمعتصبانہ فیصلہ کے خلاف کل جماعتی حریت کانفرنس نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ مبصرین آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا،

    بھارتی سپریم کورٹ بی جے پی کی انتہا پسند سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔شیری رحمان
    سابق وفاقی وزیر، پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ مودی راج کے مذموم مقاصد کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مقبوضہ کشمیر کے لوگ تسلیم نہیں کرتے۔ ہم اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ مودی سرکار نے 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیلئے قانون سازی کی تھی۔ 2019 میں ہی اس قانون سازی کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں جسے 5 سال تک التواء کے نظر کیا گیا۔ 2024 بھارت میں انتخابات کا سال ہے، انتخابات سے پہلے سپریم کورٹ کی جانب سے ایک متنازع قانون سازی کے خلاف درخواستیں مسترد کرنے کا مقصد مودی کی انتخابی مہم چلانا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ بی جے پی کی انتہا پسند سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔ اس فیصلے سے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مقبوضہ کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ مودی سرکار یا بھارتی سپریم کورٹ نہیں بلکہ کشمیر کے لوگ حق خودارادیت سے کریں گے

    بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین ہے،خواجہ سعد رفیق
    ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر بارے فیصلہ کر کے انصاف کا خُون کیا ہے،مقبوضہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے مابین تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس پر بھارتی فوج نے دھائیوں سے قبضہ غاصبانہ کیا ہوا،بھارتی سپریم کورٹ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کا تعین کرنیکی مجاز ھی نہیں ،بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین ہے،کشمیریوں کی بھارت سے نفرت اور پاکستان سےمحبت تاریخی ھے،مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کا تعین کشمیری استصواب راۓ کے ذریعے ھی کریں گے

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا ہے کہ آج کا فیصلہ صرف قانونی نہیں، امید کی کرن اور روشن مستقبل کا وعدہ ہے. آج کا فیصلہ مضبوط، زیادہ متحد بھارت کی تعمیر کا ہمارے اجتماعی عزم کا عہد ہے،

    بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخی جرم کیا، بھارتی فریب کو مسترد کرتے ہیں،مریم نواز
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جموں کشمیر کے حوالہ سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخی جرم کیا، کشمیری عوام، پاکستان اور دنیا بھارتی فریب کو مسترد کرتے ہیں، بھارت سوناٹک کرے، کشمیر کشمیریوں کا ہے، کشمیریوں کا ہی رہے گا، بھارت کے کشمیریوں کو غلام بنانے کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہو چکے،تنازع جموں و کشمیر پر سلامتی کی قرار دادوں، عالمی قانون کا اطلاق ہوتا ہے،کشمیر کے عوام کا آزادی اور استصواب رائے کا حق نہیں چھینا جا سکتا،جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ مسئلہ ہے،

  • پاکستانی ایئر لائنز پر یورپ میں پابندی ختم ہو گی یا نہیں فیصلہ اگلے برس

    پاکستانی ایئر لائنز پر یورپ میں پابندی ختم ہو گی یا نہیں فیصلہ اگلے برس

    پاکستانی ائیرلائنز پر یورپ میں پابندی ختم ہوگی یا نہیں فیصلہ اگلے سال مئی میں ہوگا،یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا )کی ٹیم پاکستان میں فزیکل آڈٹ کرکے واپس چلی گئی،سابق پی ڈی ایم حکومت نے وقت پر سول ایوی ایشن کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کے حوالے سے قانون سازی میں تاخیر کی جس کی وجہ سے مزید 6ماہ پابندی برقرار رہنے کے بعد مئی2024 میں فیصلہ کیا جائے گا ۔پی ڈی ایم حکومت وقت پر قانون سازی کرلیتی تو آج پابندی ختم ہوجاتی ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مطابق یورپی یونین برطانیہ اور امریکہ میں پاکستانی ائرلائنز پر لگنے والی پابندی کو ختم ہونے میں ابھی مزید 6ماہ لگیں گے ایاسا کی آڈٹ ٹیم پاکستان میں آڈٹ کرکے چلی گئی ہے سابق پی ڈی ایم حکومت نے جاتے ہوئے اگست2023 میں سول ایوی ایشن کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی جس کے بعد ایاسا نے پاکستان میں آکر فزیکل آڈٹ کرنے پر رضامندی ظاہر کی، اس سے قبل ایاسا نے پاکستانی حکام کو صاف بتادیا تھا کہ جب تک سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دو حصوں میں تقسیم نہیں کیا جائے گا ایاسا آڈٹ نہیں کرے گی کیوں کہ اس سے قبل ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے تحریک انصاف حکومت کے دور میں قومی اسمبلی میں پیش ہونے والا بل لیپس ہوگیا تھا جس پر ایاسا حکام نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ آپ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دو حصوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہتے ہیں ،یورپ میں پابندی ہٹانے کے لیے یہ آرڈیننس جاری کیا سول ایوی ایشن حکام نے پی ڈی ایم حکومت بننے کے فورا بعد اس وقت کے وزیر ایوی ایشن سعد رفیق کو بتایا کہ یورپ اور امریکہ میں پابندی ایک ہی صورت میں ختم ہوسکتی جب اس کے لیے قانون سازی کی جائے پی ڈی ایم حکومت نے اپنے دور اقتدار کے آخری ہفتے میں یہ بل پاس کیا جس کے بعد حکام نے ایاسا حکام سے ملاقات کی اور ان کو اس شرط کے پورا ہونے کے بارے میں آگاہ کیا جس پر نومبر میں ایاسا کی ٹیم نے پاکستان میں آکر فزیکل آڈٹ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ۔

    دستاویزات کے مطابق ایاسا نے پاکستان میں سول ایوی ایشن کے ساتھ پی آئی اے،فلائی جناح اور ائیر بلیو کا بھی آڈٹ کیا اگرپی ڈی ایم حکومت وقت پر قانون سازی کرلیتی تو یورپی یونین ائیر سیفٹی کمیٹی کا 2023میں ہونے والے اجلاس میں پاکستانی ائیرلائن پر پابندی کے حوالے سے فیصلہ ہوجاتا اب پاکستان کو مئی 2024میں یورپی یونین ائیر سیفٹی کمیٹی کے اجلاس میں ایاسا ٹیم اپنے فزیکل آڈٹ سے آگاہ کرے گی جس میں پاکستان پر پابندی ہٹائی جائے یا نہ ہٹائی جائے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ذرائع نے بتایا کہ ایاسا ٹیم کے پاکستان میں آڈٹ کے دوران ان وقت پاکستانی حکام کو انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب فیڈرل بورڈ ریونیو (ایف بی آر)نے پاکستان انٹرنیشل ائیر لائن(پی آئی اے) کے تمام بینک اکاؤنٹس بند کردیئے جس پر ایاسا حکام نے پاکستانی حکام سے پوچھاکہ یہ ائیر لائن کس طرح آپریشن کرئے گی جبکہ ملک کے اندر اس کے بینک اکاؤنٹ بند کردیئے گئے ہیں۔(محمداویس)

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

    پی آئی اے،بوئنگ 777 طیارے کے انجن میں آگ،حادثے سے بچ گیا

    پی آئی اے اور گو لوٹ لو کی جانب سے قرعہ اندازی، گاڑیاں اور سمارٹ فون کے انعامات

    پی آئی اے ایک بار پھر مشکل کا شکار،اکاونٹس منجمد

    پرواز سے قبل پی آئی اے عملے کیلئے شراب نوشی کا ٹیسٹ لازمی قرار

     پی آئی اے کے دو مزید فضائی میزبان ٹورنٹو میں پراسرار طور پر لاپتہ 

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی