Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان کا دوروزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    توشہ خانہ کیس، عمران خان کا دوروزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کاتوشہ خانہ کیس میں دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی اور تفتیشی ٹیم عدالت پیش ہوئی،نیب کی جانب سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی،عدالت کی جانب سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا ،وکلاء صفائی کی جانب سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی گئی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز احتساب عدالت نے عمران خان کی درخواست ضمانت خارج کی تھی جسکے بعد نیب نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتار کیا تھا،عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفرکیس میں بھی عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے، القادر ٹرسٹ کیس میں بھی عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سارہ انعام قتل کیس،  عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو موت کی سزا سنا دی

    سارہ انعام قتل کیس، عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو موت کی سزا سنا دی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد،سارہ انعام قتل کیس میں عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو موت کی سزا سنا دی

    جج ناصر جاوید رانا نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے فیصلہ ملزم اور مقتولہ سارہ انعام کے اہل خانہ کی موجودگی میں سنایا,فیصلے کے وقت عدالت میں شاہنواز امیر کے والد ایاز امیر اور شریک ملزمہ والدہ ثمینہ شاہ بھی موجود تھیں. عدالت نے ملزم شاہنواز کی والدہ ملزمہ ثمینہ شاہ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا،عدالت نے ملزم شاہنواز امیر پر 10 لاکھ جرمانہ بھی عائد کردیا ،عدالت نے 9 دسمبر کو سارہ انعام قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا

    شاہنواز امیر کسی رعایت کا مستحق نہیں،مرنے تک پھانسی کے پھندے پرلٹکایاجائے،عدالت
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ کے جج ناصر جاوید رانا نےسارہ انعام قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، تفصیلی فیصلہ 75 صفحات پر مشتمل ہے، عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ استغاثہ مجرم شاہنواز امیر کیخلاف مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے، ملزم شاہنواز امیر نے جان بوجھ کر سارہ انعام کو وزنی ڈمبل کے پے در پے، بے رحم ضربات لگا کر قتل کیا لہٰذا عدالت شاہنواز امیر کو مجرم قرار دیتی ہے ،شاہنواز امیر کسی بھی رحم کے مستحق نہیں ہیں،عدالت شاہنواز امیر کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 بی کے تحت سزائے موت کا حکم سناتی ہے، مجرم کو مرنے تک پھانسی کے پھندے سے لٹکایا جائے اور 10 لاکھ روپے کا جرمانہ سارہ انعام کے لواحقین کو ادا کیا جائے، اگر مجرم جرمانہ ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس سے زمین کے واجبات کی مد میں جرمانہ وصول کیا جائے، دیوالیہ ہونے کی صورت میں مجرم کو 6 ماہ کی قید مزید بھگتنا ہوگی،عدالت نے پولیس کو مال مقدمہ کی مد میں تحویل میں لیے گئے مقتولہ سارہ انعام کے خون آلود کپڑے اور دیگر چیزیں سارہ انعام کے والد کوواپس کرنے کا حکم بھی دیا،

    عدالت نے تحریری فیصلے میں مزید کہا کہ کیس میںشریک ملزمہ ثمینہ شاہ کو ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا ثمینہ شاہ کو بعد میں قتل میں معاونت کے الزام میں مقدمے میں نامزد کیا گیا ان پر قتل میں معاونت کے الزام کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیاجا سکا،جب واقعہ ہواتو ثمینہ شاہ فارم ہاؤس پر تھیں مگر سارہ انعام کے قتل میں معاونت کا کوئی ثبوت نہیں، تفتیش اور ٹرائل میں بھی ثمینہ شاہ کے خلاف کوئی مجرمانہ مواد ریکارڈ پر نہیں لایا گیا،وقوعہ کے بعد ثمینہ شاہ نے خود پولیس کو فون کرکے سارہ کے قتل سے آگاہ کیا شریک ملزمہ ثمینہ شاہ کو شک کا فائدہ دے کر مقدمے سے بری کیا جاتا ہے،

    واضح رہے کہ صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو 23 ستمبر 2022 کی رات قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو دبئی سے واپس آئی تھی شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    قتل کے بعد ملزم نے اپنے والد ایاز امیر کو لاش کی تصویر بھیجی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، پولیس نے ایاز امیر کو بھی گرفتار کیا تھا تا ہم عدالت نے اس مقدمے سے ایاز امیر کو ڈسچارج کیا ہے،قتل کا مقدمہ تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا،

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

  • جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ،سماعت ملتوی

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،شوکت عزیز صدیقی کیس میں سابق فوجی افسران کوفریق بنانے کی درخواست دائر کر دی گئی
    درخواست میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی، بریگیڈئیر ریٹائرڈ عرفان رامے، بریگیڈیئر ریٹائرڈ فیصل مروت، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طاہر وفائی کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی،
    سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی،سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو فریق بنانے کی استدعاکی گئی،سابق جج شوکت عزیز نے درخواست اپنے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی

    قبل ازیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ سے برطرفی کے خلاف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عرفان سعادت خان بینچ میں شامل ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی تبدیلی پر وضاحت کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ درخواست پر گزشتہ سماعت کب ہوئی تھی؟ حامد خان نے کہا کہ آخری سماعت 13 جون 2022 کو ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے آج کل ہر کوئی فون اٹھا کر صحافی بنا ہوا ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی روشنی میں یہ بینچ تشکیل دیا،پہلے اس بینچ میں کون کون سے ججز تھے، وکیل حامد خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس سنا،بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس مظہر عالم میاں ، اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہم اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہتے،باقی ججز ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ،میں نے بنچ سے کسی کو نہیں ہٹایا، بینچوں کی تشکیل اتفاق رائے یا جمہوری انداز میں ہو رہی ہے، موبائل ہاتھ میں اٹھا کر ہر کوئی صحافی نہیں بن جاتا،صحافی کا بڑا رتبہ ہے،حامد خان نے کہا کہ آج کل جمہوریت کا زمانہ ہے، اس وقت جمہوریت مشکل حالات میں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکی معاونت درکار رہے گی، جمہوریت چلتی رہے گی, آپ نے اسے آگے لے کر چلنا ہے، آج کل فون پکڑ کر صحافی بن جاتے ہیں اور یوٹیوب چینل جاتا ہے، جبکہ صحافی کا رتبہ بہت اونچا ہوتا ہے،اِس کیس کو نئے سرے سے سننا ہو گا،

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آگئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس میں بنچ تبدیل ہو گیا ہے، اس سے پہلے جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجازالاحسن بنچ میں تھے،جسٹس مظہر عالم اور جسٹس سجاد علی شاہ بھی بنچ میں شامل تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں بنچ بدل چکا ہے اور اب نئے سرے سے دلائل شروع کرنا ہوں گے،آج کل ہر کوئی موبائل پکڑ کر یوٹیوب پر ویڈیو بنا کر سمجھتا ہے کہ وہ صحافی ہے،اس بنچ کو بنانے کا فیصلہ ججز کمیٹی نے کیا،کوشش یہی ہوتی ہے کہ ججز کمیٹی اتفاق رائے سے فیصلے کرے لیکن فطری طور پر یہ ممکن نہیں،شوکت صدیقی کیس میں نیا بنچ بنانا کمیٹی کا متفقہ فیصلہ تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے استفسار کیا کہ آپ کو اس بنچ کے کسی رکن پر اعتراض تو نہیں ہے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ نہیں اس بنچ کے کسی رکن پر اعتراض نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آج کل ویسے بھی اعتراض کا زمانہ ہے،

    دوران سماعت ایڈووکیٹ حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کی راولپنڈی بار میں کی گئی تقریر کا متن پڑھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسوقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کون تھے،حامد خان نے کہا کہ اس وقت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور کانسی تھے، شوکت عزیز صدیقی پر 4 ریفرنسز بنائے گئے، ایک ریفرنس یہ بنایا کہ سرکاری رہائش گاہ پر شوکت عزیز صدیقی نے زائد اخراجات کیے،ہم نے کونسل میں درخواست دی کہ ججز کی سرکاری رہائش گاہوں پر ہونے ولے اخراجات کی مکمل تفصیل دیں، کونسل نے جواب دیا جو مانگ رہے ہیں وہ غیر متعلقہ ہے، ایک ریفرنس 2017 کے دھرنے کی بنیاد پر بنایا گیا، جس میں شوکت عزیز صدیقی نے بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ ریمارکس دئیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں عدالتی ریمارکس پر ریفرنس بنایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شوکت صدیقی کے خلاف شکایات کنندگان کون تھے، حامد خان نے کہا کہ رہائش گاہ پر زائد اخراجات کے شکایت کنندہ سی ڈی اے ملازم انور گوپانگ تھے،ایک ریفرنس ایڈووکیٹ کلثوم اور ایک سابق ایم این اے جمشید دستی نے بھیجا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ جمشید دستی کس سیاسی جماعت کا حصہ تھے؟ حامد خان نے کہا کہ مجھے کنفرم نہیں لیکن شاید آزاد حیثیت میں ہونگے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یعنی آپ کہ رہے ہیں جمشید دستی مکمل آزاد نہیں تھے، حامد خان نے کہا کہ راولپنڈی بار میں کی گئی تقریر پر جوڈیشیل کونسل نے خود نوٹس لیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جوڈیشیل کونسل کو کیسے ہتا چلا کہ کسی جج نے تقریر کی ہے؟حامد خان نے کہا کہ ایجینسیوں نے شکایت کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ دیکھ کر بتائیں وہاں کیا لکھا ہوا ہے،حامد خان نے کہا کہ ریکارڈ میں 22 جولائی 2018 کا رجسٹرار کا ایک نوٹ موجود ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن دو شخصیات پر الزام لگا رہے ہیں ان کو فریق تو بنائیں، ہم مفروضوں پر کیس نہیں سنیں گے، یہاں صحافی بھی بیٹھے ہیں آپ جو بات یہاں کر رہے ہیں اخباروں کی زینت بنے گی، موبائل اٹھا کر صحافی بننے والوں کو سوچنا چاہیے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کا فیصلہ آچکا ہے،
    سپریم کورٹ میں اب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت بنچز تشکیل دیئے جاتے ہیں،ادارے نہیں بولتے ادارے میں بیٹھی شخصیات ہی بولتی ہیں، میرا ایک اصول ہے کہ جس پر الزام لگاو اس کو بھی سنو ممکن ہے وہ الزامات تسلیم کر لے،کورٹ میں صحافی بیٹھے ہیں اور کل اس شخص کا نام اخبارات کی زینت بن جائے گا، ہم کسی کو کچھ لکھنے سے تو نہیں روک سکتے، آپ جس شخص پر الزام لگا رہے ہیں اسے فریق بنانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ مجھے فریق بنانے پر کوئی اعتراض نہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ جس شخص پر الزام لگا رہے ہیں کیا اس نے کسی فورم پر آپ کو جواب دیا؟کیا سپریم جوڈیشل کونسل نے اس شخص کو نوٹس کیا تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ شاید میں غلط ہوں لیکن ادارے برے نہیں ہوتے لوگ برے ہوتے ہیں،ہم شخصیات کو برا نہیں کہتے، اداروں کو برا بھلا بولتے ہیں، اداروں کو لوگ چلاتے ہیں،ملک میں تباہی کی وجہ لوگ شخصیات کی بجائے اداروں کوبدنام کرتے ہیں، ملک کی تباہی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ شخصیات کے بجائے اداروں کو برا بھلا کہتے ہیں،حامد خان نے کہا کہ فیض حمید کو فریق بنانے کا جوڈیشل کونسل نے موقع نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب تو آپ کے پاس موقع ہے اب کیوں نہیں فریق بنا رہے؟ کسی کی پیٹھ پیچھے الزام نہیں لگانے دینگے، اس اعتبار سے تو سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ درست ہے، حامد خان نے کہا کہ فیض حمید کو فریق بنانے پر اعتراض نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فریق بنا کر ہم پر احسان نہ کریں، اداروں پر الزام نہیں لگانے دینگے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے الزام ہائی کورٹ چیف جسٹس پر لگایا تھا، جسٹس انور کانسی کو بھی فریق نہیں بنایا گیا، ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا فیض حمید کو کسی اور درخواست گزار نے فریق بنایا ہے؟وکیل بار کونسل نے کہا کہ فیض حمید کو نہیں آئی ایس آئی کو فریق بنایا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ انور کانسی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کرایا تھا، حامد خان نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کروایا تو سماعت کا موقع ہی نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اوپن کورٹ میں ریفرنسز کی سماعت کا حکم دیا تھا، سپریم جوڈیشل کونسل نے صرف ابتدائی سماعت کی تھی باضابطہ انکوائری ابھی ہونی تھی، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریر کا متن بیان حلفی پر سپریم جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں دیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کچھ ہمیں بھی سن لیں،ہم آپ کو کسی کو فریق بنانے پر مجبور نہیں کریں گے ،ہر شعبے میں اچھی اور بری شخصیات ہوتی ہیں، وکلاء میں بھی اچھے اور برے ہیں،

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو کیس میں فریق بنانے کا فیصلہ کر لیا،سپریم کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کل 10:30 تک ملتوی کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے جن پر الزام لگایا اس کو فریق بنائیں ورنہ دوسرے نکتے پر دلائل دیں،کل ہوسکتا ہے جس کو فریق بنائیں ان کو عدالت نوٹس جاری کرے،اگر فریق بنانے کی درخواست آج دائر کرتے ہیں تو کل نوٹس جاری کر دینگے، حامد خان نے آج ہی فیض حمید اور انور کانسی کو فریق بنانے کی درخواست دائر کرنے کی یقین دہانی کرا دی ،حامد خان نے کہا کہ جن پر الزام لگایا ہے انہیں فریق بنانے کی درخواست کل تک دائر کر دینگے،عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • عدالتی فیصلے کے بعد عام انتخابات کا عمل روک دیا گیا

    عدالتی فیصلے کے بعد عام انتخابات کا عمل روک دیا گیا

    ملک بھر میں عام انتخابات کا عمل روک دیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ریٹرننگ افسران کی ٹریننگ روک دی، الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد ٹریننگ روک دی گئی، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کی جاری ٹریننگ کو روک دیا ہے، الیکشن کمیشن نے چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کو مراسلے ارسال کردیئے،الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز کو ڈی آر اوز اور آر اوز کی ٹریننگ روکنے کی احکامات دیئے ہیں

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 8 فروری کے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کیلئے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے تحریک انصاف کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا، ایک رکنی بینچ نے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا،عدالت نے انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی اور جسٹس علی باقر نجفی نے فائل چیف جسٹس کو ارسال کردی۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کرانے پر غریب قوم کے اربوں روپے لگتے ہیں ، اگر بڑی سیاسی جماعتیں الیکشن نتائج تسلیم نہ کریں تو قوم کا پیسہ ضائع ہوگا ،الیکشن کمیشن کو فری اینڈ فئیر الیکشن کرانے ہیں ،شفاف انتخابات کو حقیقت میں بدلنے کےلیے امیدواروں اور ووٹرز کو یکساں مواقع فراہم کرنے ہیں ۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ:الیکشن کمیشن کی پابندی کےباجود سرکاری ملازمین کے تبادلوں کےخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور حکومت پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا،عدالت نے کہا کہ آگاہ کیاجائے الیکشن کمیشن کی پابندی کےباوجود تبادلے کیسے ہورہے ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے زاہد حسین کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پابندی کے باجود افسران کو دوردراز اضلاع میں ٹرانسفر کیاجارہاہے۔عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کےبعد الیکشن کمیشن نے تبادلوں پر پابندی عائد کررکھی ہے۔الیکشن کمیشن کی ٹرانسفر پوسٹنگ پر پابندی کی خلاف ورزی کی جارہی۔عدالت پابندی کےبعد کی جانے والی ٹرانسفرز کو کالعدم قرار دے

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جان خطرے میں ہے۔

    امریکا میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کے بعد کراچی پہنچنے پر گفتگو کرتے ہوئے فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ عافیہ کاصدیقی کے جسم پر پہلے سے زیادہ زخم تھے،ہماری ملاقات کو بہت مختصر رکھا گیا، 8 گھنٹے کا وزٹ تھا لیکن اس میں سے ملاقات کے لیے صرف 3 گھنٹے ہی مل سکے،فوزیہ صدیقی کے مطابق ان کے وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا گیا ہے،حکومت عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے لئے اقدامات کرے.

    واضح رہے کہ  فوزیہ صدیقی نے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ جیل میں عافیہ کی حالت پہلے سے زیادہ خراب لگی ہے عافیہ کی حالت بیان کرنےکیلئے الفاظ نہیں،عافیہ صدیقی کو ایک بار پھر اسی حالت میں چھوڑ آئی ہوں،ملاقات میں دونوں بہنیں ایک دوسر ے کو چھو نہیں سکیں اور ان کے درمیان شیشے کی دیوار حال رہی ملاقات کے اختتام پر بہت دکھی ہوں، اپنے پاکستانی بھائیوں سے گزارش کرتی ہوں کہ عافیہ کی رہائی کیلئے کچھ کریں۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

  • سائفر کیس، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔ عدالت نے استغاثہ کو آئندہ سماعت پر 3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے 14 دسمبر کو گواہان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں طلب کر لئے،ملزمان نےعدالتی کارروائی پر احتجاج اور فرد جرم کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا،ایف آئی کے اسپیشل پراسیکیوٹرز شاہ خاور اور ذوالفقار عباسی نقوی عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عثمان گل اور شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک عدالت میں پیش ہوئے،

    باجوہ اور ڈونلڈ لو کو بچانے کے لیے تمام ڈرامہ ہورہا ،سزائے موت سے نہیں ڈرتا،عمران خان
    سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ سائفر کو جلسہ میں لہرایا گیا اور اس کے مندرجات کو زیربحث لایا گیا، ایسا کرنا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جرم ہے، بطور وزیراعظم عمران خان کو سائفر رکھنے کا کوئی اختیار نہ تھا، سائفر کو جان بوجھ کر اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا گیا، اس عمل سے ملک کے تشخص اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچا،دوران سماعت سابق وزیراعظم عمران خان نے عدالت میں کہا کہ جج صاحب اس میں ایک اور فقرہ شامل کردیں۔ بڑا ظلم کیا جو جنرل باجوہ اور ڈونلڈلو کو ایکسپوز کیا، باجوہ اور ڈونلڈ لو کو بچانے کے لیے تمام ڈرامہ ہورہا ہے، سزائے موت سے ڈر نہیں لگتا۔ سائفر حکومت گرانے کے لیے لکھا گیا جو گرا دی گئی، سائفر کے اندر سازش ہے جو چھپائی جارہی ہے، میڈیا کو بولنے کی اجازت نہیں تو فئیر ٹرائل کیسے ہوسکتا ہے، فئیر ٹرائل نہ ہوا تو اس کی ذمہ داری تمام عمر آپ پر رہے گی، قانون کے تحت دستاویزات اور ویڈیو دیکھنے کے لیے سات دن کا وقت دیا جائے۔

    ملزمان پر فرد جرم تین مختلف الزامات کے تحت سنائی گئی،چارج شیٹ کے مطابق عمران خان نےبطور وزیراعظم اور شاہ محمود قریشی نے بطور وزیر خارجہ سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی۔ ملزمان نے 27 مارچ 2022 کو سیکرٹ ڈاکومنٹ کو عوامی ریلی میں لہرایا۔ ملزمان نے جان بوجھ کر ذاتی مفادات کے لیے سائفر کو استعمال کیا،ملزمان کے غیر قانونی اقدام سے ملکی تشخص، سیکیورٹی اور خارجہ معاملات کو نقصان پہنچا، بطور وزیر اعظم سائفر آپکے قبضہ اور کنٹرول میں تھا،جو وزارت خارجہ کو واپس نہیں کیا گیا۔

    فرد جرم سنتے ہی شاہ محمود قریشی نے صحت جرم سے انکار کردیا، عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمینٹ کو بے نقاب کرکے ظلم کیا میرے جرم میں یہ بھی شامل کریں، ہماری حکومت کو گرا کر ہمیں ہی ملزم بنادیا گیا، یہ کیسے ہوسکتا ہے جس کی حکومت گری ہو وہی ملزم ہو، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    آپ ایسا نہ کریں، غلط بات نہ کریں، یہ عدالت ہے، آپ کا لہجہ مناسب نہیں، آپ پہلے عدالت کی بات سن لیں،
    عمران خان کے بار بار بولنے پر عدالت نے انہیں خاموش کرادیا

    شاہ محمود قریشی نے عدالت کے روبرو بیان میں کہا کہ سینکڑوں سائفر دیکھے لیکن یہ ان میں سے منفرد تھا، وزیر خارجہ کو دنیا بھر میں چیف ڈپلومیٹ کہا جاتا ہے،ایک مراسلہ آتا ہے جو چیف ڈپلومیٹ کی نظر سے نہیں گزارا جاتا، میری نظر سے سائفر اوجھل رکھنے کی کوئی تو وجہ ہوگی، آٹھ مارچ کو فون پر اسد مجید سے بات ہوئی، اسد مجید کو بلائیے اور پوچھیے، پھر حقائق قوم کے سامنے آئیں گے۔ چیزوں کو خفیہ رکھ کر یک طرفہ ٹرائل نہ چلایا جائے،دو محب وطن شہریوں کو اس مقدمہ میں پھنسایا جارہا ہے میں بے گناہ ہوں، مجھے سزا دینا چاہتے ہیں ہم نے اسی مٹی میں جانا ہے

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • دوران اجلاس بھارتی پارلیمنٹ میں دو افراد گھس گئے

    دوران اجلاس بھارتی پارلیمنٹ میں دو افراد گھس گئے

    بھارتی پارلیمنٹ میں سیکیورٹی کی ناقص صورتحال،لوک سبھا سیشن کے دوران 2 افراد عمارت میں گھس آئے،

    بھارتی پارلیمان لوک سبھا کے اندر 2 افراد نے گیلری سے نیچے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر گیس خارج کرنے والی چیزیں پھینک دیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اندر گھسنے والے افراد کے پاس اسموک بم بھی تھے، بھگدڑ مچنے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا، پارلیمنٹ ارکان نے سیکیورٹی کی ناقص صورتحال پر سوال اٹھا دیے،

    بھارتی پارلیمان لوک سبھا میں اجلاس جاری تھا جب دو افراد جو وزیٹر گیلری میں موجود تھے نے چھلانگ لگائی، جس کے بعد اجلاس میں افرا تفری مچ گئی،دونوں افراد نے وزیٹر گیلری سے چھلانگ لگائی، تاہم سیکورٹی اداروں نے کاروائی کرتے ہوئے دونوں افراد کو گرفتار کر لیا، پارلیمنٹ میں گھسنے والے دونوں افراد وزیٹر گیلری سے ہوتے ہوئے اراکین اسمبلی کی کرسیوں تک پہنچ گئے تھے،انہوں نے اس دوران کسی سپرے کا بھی استعمال کیا اور نعرے بھی لگائے، اس مبینہ حملے کے بعد لوک سبھا کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا

    لوک سبھا کے اجلاس میں موجود کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چوھدری کا کہنا تھا کہ دو افراد گیلری سے کودے اور کوئی چیز پھینکی جس سے گیس نکل رہی تھی، انکو اراکین اسمبلی نے پکڑا اور سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے کیا، ایوان کی کاروائی دو بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے، کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ یہ سیکورٹی کی خلاف ورزی ہے، آج ہی ہم نے ان لوگوں کی برسی منائی جنہوں نے 2001 میں پارلیمنٹ حملہ میں اپنی جانیں دی تھیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریبا ایک بج کر دو منٹ پر دو افراد پارلیمنٹ میں گھسے تو پکڑ و پکڑو کی آوازیں آئیں،ان میں سے ایک کی شناخت ساگر کے طور پرہوئی ہے،دونوں افراد میسور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ کے نام پر سیکورٹی پاس لے کر وزیٹر گیلری میں پہنچے تھے، دونوں افراد نے اپنے جوتوں میں گیس والے بم چھپا رکھے تھے جو انہوں نے ایوان میں پھینکے، جس سے ایوان میں دھواں دھواں ہو گیا،

    بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والوں کی شناخت ہو گئی،ایوان کے باہر سے بھی خاتون سمیت دو افراد گرفتار
    لوک سبھا کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے واقعہ کے بارے میں اراکین کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس کی بھی ہدایات دی گئی ہیں،ایوان میں جو دھواں تھا وہ زہریلا نہیں بلکہ عام دھواں تھا، اسلئے خطے کی کوئی بات نہیں ہے ،ہم نے حملہ آوروں کو پکڑ لیا ہے، ایک کا نام ساگر اور دوسرے کا نام منورنجن ہے،ان دو افراد کے ساتھ دو اور افراد کو بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، پولیس کے مطابق 42 سالہ نیلم اور 25 سالہ امول شندے کو گرفتار کیا گیا ہے جو ان ملزمان کے ساتھی ہیں جنہوں نے ایوان میں دھواں چھوڑا تھا

    اراکین اسمبلی نے واقعہ پر شدید احتجاج کیا اور ناقص سیکورٹی پر سوال اٹھائے، رکن اسمبلی دانش علی کا کہنا تھا کہ پارلیمان کی سیکورٹی میں کوتاہی ایک سنگین معاملہ ہے،سماج وادی پارٹی کے ایم پی ایس ٹی حسن کا کہنا تھا کہ آج جو ہوا المیہ ہے، اسی طرح سیکورٹی میں کوتاہی برتی گئی تو کل کوئی اپنے جوتے میں بم لے کر بھی آسکتا ہے،بی جے پی کی رکن ستیہ پال سنگھ کا کہنا تھا کہ جب ہم ان افراد کو پکڑنے گئےتو انہوں نے گیس کا چھڑکاؤ کیا، تحقیقات ہونی چاہئے کہ وہ کون تھے اور گیس کیسے اندر لے کر پہنچے، مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بننی چاہئے،

    لوک سبھا کی سیکورٹی میں سنگین غفلت،کوتاہی پر سپیکر نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے مکمل رپورٹ طلب کی ہے، اور سیکورٹی مزید سخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزیٹر گیلری کے پاسز پر بھی پابندی لگا دی ہے،سپیکر لوک سبھا نے آج شام پارلیمانی جماعتوں کا ایک اجلاس بھی طلب کیا ہے جس میں پارلیمان کی سیکورٹی بارے مزید مشاورت کی جائے گی،

    واضح رہے کہ 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا،تاہم بھارت کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا تھا،تاہم بعد میں بھارت کے وزارت داخلہ کے سابق افسر انڈر سیکرٹری آر وی ایس مانی نے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے پیچھے خود بھارتی حکومت کا ہاتھ تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف سخت قوانین پارلیمان سے منظور کروائے جا سکیں.

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    فیس بک نے ٹرمپ کی الیکشن مہم کے اشتہارات ہٹا دئیے

    ہم نسل پرستی کے خلاف سیاہ فام برادری کے ساتھ ہیں، فیس بک کے مالک نے قانونی معاونت کیلئے دس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا

    تشدد کو کم کرنے کیلئے فیس بک نے اپنی پالیسی ریوو کرنے کا اعلان کر دیا

    فیس بک کے ذریعے دو بھارتیوں نے چند روپوں کے عوض دیں آئی ایس آئی کو بھارتی فوج کی حساس معلومات، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    فیس بک، گوگل، ٹویٹر ڈس انفارمیشن کے خلاف کیے گئے اقدامات کی ماہانہ رپورٹ دیا کریں، یورپی یونین کا مطالبہ

    ٹرمپ کی ٹویٹ پر فیکٹ چیک لگانے پر یورپی یونین نے ٹویٹر کی حمایت کر دی

    بی جے پی بھارت میں فیس بک اور واٹس اپ کو کنٹرول کر کے نفرت پھیلا رہی ہے، راہول گاندھی

  • قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ،نواز شریف

    قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ،نواز شریف

    سابق وزیراعظم، ن لیگ کے قائد نواز شریف نے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی مقدمات میں بریت پر اللہ کا شکر گزار ہوں ،تینوں مقدمات میں نہ شواہد تھے نہ ثبوت تھے،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں مقدمات کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے ظاہر ہو گیا،جب کچھ نہ ملا تو پانامہ کے نام پر اقامہ نکال لائے، ایک ایسا فیصلہ سنایا گیا جو دنیا میں مذاق بن کر رہ گیا،جو دکھ ہمیں دیئے گئے ان کا مداوا ہے؟ کیا مداوا ہے؟،ایک وزیراعظم کی بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر چھٹی کرا رہے ہیں،سسلین مافیا، گاڈ فادر کہتے ہیں ، کیا ججز کبھی ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ؟،کہاں کہاں سے سازشی عناصر نکل کر روز شام کو دکانداری چمکاتے تھے، جس جج نے میرے خلاف فیصلہ سنایا جسٹس اعجازالالحسن کو مانیٹرنگ جج لگا دیا گیا، جج سے کہا آپ بیٹھیں ، ساری کاروائی کو مانیٹر کریں کہ نواز شریف کو جلد ازجلد سزا ہو، یہ اس ملک کیخلاف اتنی بڑی سازش ہے کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے،

    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ میں نے کیا بگاڑا تھا، اس بینچ کا، جس نے سسلین مافیا بھی کہا، ان میں سے ایک جج تھا جس کا نام شیخ عظمت تھا، اسکی عزیزہ کا پروموشن کا کیس تھا جو میرٹ پر ہونا تھا ، وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو پتہ ہونا چاہئے کہ اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے، میں ملک کا وزیراعظم تھا انکی خواہش تو اس وقت سے تھی نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ڈالنے کی، ایسا ہوتا رہا تو ملک کا کیا حال ہو گا ،بہت افسوسناک بات ہے یہ، جو ملک و قوم نے قیمت ادا کی اس کا حساب ہونا چاہئے ،انتقام نہ سہی، میں ذاتی طور پر کسی کو نہ معاف کر سکتا ہو ں نہ رائے دے سکتا ہوں لیکن جنہوں نے قوم کے خلاف اس طرح کے کام کئے انکو نہیں بھول سکتا جوذمہ دار ہے اسکا حساب لیا جانا چاہئے ورنہ یہ کھیل تماشا جاری رہے گا،میں یہ سمجھتا ہوں کہ 25 کروڑ عوام کیخلاف یہ سازش ہوئی ، عوام کو نوٹس لینا چاہیئے،میں کسی انتقامی جذبے سے بات نہیں کر رہا لیکن یہ بہت سیریس معاملہ ہے،ہم نے 4 سال ڈالر کو باندھ کے رکھا تھا، آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا تھا،قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، آٹھ فروری کو سب سے بڑی جے آئی ٹی اور عدالت بنے گی اور تاریخی فیصلہ دے دی، باتوں کو غور سے صرف سننا نہیں چاہئے بلکہ پلے باندھنا چاہئے،ہم نے ملک کو ایسے ہاتھوں میں نہیں چھوڑنا جو کھیل کھیلیں ،کبھی بھی نہیں ورنہ کھلنڈرے آتے رہیں گے اور پاکستا ن کو تباہی کی جانب دھکیلتے رہیں گے، مجھے اللہ نے جھوٹے مقدموں سے بری کیا،کل عدالت کی اگر کاروائی سنی ہو تو صاف صاف کہہ دیا کہ یہاں تو کوئی ثبوت ہی نہیں، کوئی کاغذات ہی نہیں،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل

    سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس،سپریم کورٹ نے ٹرائل غیر آئینی قرار دینے پر حکم امتناع دے دیا،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل کر دیا گیا،سپریم کورٹ کے6رکنی بینچ نےملٹری کورٹس سے متعلق فیصلہ مشروط طورپرمعطل کیا،سپریم کورٹ نےملٹری کورٹس سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا ،سپریم کورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ 1-5 سے سنایا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ فوجی عدالتیں ٹرائل شروع کر سکتی ہیں تاہم حتمی فیصلہ اپیل سے مشروط ہو گا،جسٹس مسرت ہلالی نے انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلے سے اختلاف کیا

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان لارجر بینچ کا حصہ ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے اعتراضات پر بنچ سے الگ ہونے سے انکار کردیا ، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ وکلا جسٹس جواد ایس خواجہ کا فیصلہ پڑھ لیں، یہ جج کی مرضی ہے کہ بنچ کا حصہ رہے یا سننے سے معذرت کرے، جواد ایس خواجہ کا اپنا فیصلہ ہے کہ کیس سننے سے انکار کا فیصلہ جج کی صوابدید ہے ،میں خود کو بینچ سے الگ نہیں کرتا معذرت،

    دوران سماعت سماعت کمرہ عدالت میں گرما گرمی ہوئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اعتراض کرنے والوں کو نوٹس ہو گیا ہے ،پہلے آپکو نوٹس ہوگا تو پھر درخواست گزار پیش ہوں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مقدمے میں پرائیویٹ وکلا کی خدمات لی ہیں، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق پرائیویٹ وکلا حکومت نہیں کرسکتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا علم ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارا بینچ پر اعتراض ہے اور آپ بیٹھ کر کیس سن رہے ہیں ،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ تو کیا کیس کو کھڑے ہو سنیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکم امتناعی مانگا جا رہا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ہم حکم امتناعی دے رہے ہیں ،ابھی کیس سننے دیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ کے کیس سننے سے ہمارے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سب سے پہلے بینچ کی تشکیل کا فیصلہ ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ اپنا فیصلہ دے چکے ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نے کوئی فیصلہ نہیں دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجی وکلاء کی خدمات کیلئے قانونی تقاضے پورے کئے ہیں، مناسب ہوگا پہلے درخواست گزاروں کو سن لیا جائے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ہمیں سنے بغیر معطل نہیں کر سکتی،

    بیرسٹر اعتزاز احسن بھی روسٹم پر آگئے ،اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتراض پر فیصلہ پہلے ہونا چاہیے کہ آپ نے بینچ میں بیٹھنا ہے یا نہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نہیں کر رہا سماعت سے انکار آگے چلیں،جسٹس میاں محمد علی مظہر نےاپیل کندہ شہدا فورم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تفصیلی فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم بھی کرنا ہوگی، جسٹس سردار طارق مسعود نے اٹارنی جنرل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کر دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے خواجہ حارث کو وقت دینا چاہتا ہوں، خواجہ حارث وزارت دفاع کی جانب سے روسٹرم پر آگئے،عدالت نے اپیلوں پر سماعت کا آغاز کر دیا ،فریقین کے وکلاء کو نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی،شہداء فاونڈیشن کے وکیل شمائل بٹ نے اپیل پر دلائل کا آغاز کر دیا.

    سویلین میں کلبھوشن یادیو جیسے لوگ بھی آتے ہیں، سویلین سے متعلق دفعات کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا،وکیل وزارت دفاع
    جسٹس میاں محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ ملٹری کورٹس میں ہونے والے ٹرائل کو یقینی فئیر ٹرائل کیسے بنائیں گے؟ وکیل وزرات دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ سویلین میں کلبھوشن یادیو جیسے لوگ بھی آتے ہیں، آرمی ایکٹ میں سویلین پر دائرہ اختیار پہلے ہی محدود تھا، سویلین سے متعلق دفعات کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ابھی ہمارے سامنے تفصیلی فیصلہ نہیں آیا،کیا تفصیلی فیصلہ دیکھے بغیر ہم فیصلہ دے دیں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کیا تفصیلی فیصلے کا انتظار نہ کر لیں؟ وکیل خواجہ حارث نےکہا کہ پھر میری درخواست ہو گی کہ ملٹری کسٹڈی میں جو لوگ ہیں ان کا ٹرائل چلنے دیں، ہر سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو رہا، صرف ان سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوگا جو قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ
    فیصلے کی وجوہات آنے دیں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ مناسب ہوگا تفصیلی فیصلے کا انتطار کر لیں، جسٹس سردار طارق نے کہا کہ دیکھنا ہوگا ان نکات پر فیصلے میں کیا رائے دی گئی ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا ہے تو عدالتی حکم معطل کرنا ہوگا، فوج کی تحویل میں 104 افراد سات ماہ سے ہیں،ملزمان کیلئے مناسب ہوگا کہ ان کا ٹرائل مکمل ہوجائے، کچھ ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی تھی کچھ پر ہونا تھی،بہت سے ملزمان شاید بری ہو جائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنہیں سزا ہوئی وہ بھی3سال سے زیادہ نہیں ہوگی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے کہ سزا 3سال سے کم ہوگی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ کم سزا میں ملزمان کی حراست کا دورانیہ بھی سزا کا حصہ ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ جو بری ہونے والے ہیں انہیں ضمانت کیوں نہیں دے رہے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جن ججز نے ملٹری کورٹس فیصلہ دیا وہ بھی اسی سپریم کورٹ کے جج ہیں،ٹرائل کالعدم قرار دینے والا تفصیلی فیصلہ آیا نہیں تو ٹرائل دوبارہ کیسے چلے گا،سویلینز کے ٹرائل کیخلاف فیصلے پر حکم امتناع دینے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ سویلینز کا ٹرائل روکنے سے متعلق کچھ دیر تک اپنا فیصلہ سنائیں گے،فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ جاری کریں گے،حکمنامے میں 23 اکتوبر کا فیصلہ معطل کرنے یا نہ کرنے کا بتائیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 9 مئی کے ملزمان کو زیادہ سنگین سزاؤں والی دفعات سے بھی چارج کیا جا سکتا تھا،سنگین دفعات اس لیے نہیں لگائیں کہ بے شک وہ گمراہ تھے مگر ہمارے شہری ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملٹری کورٹس کیس فیصلے کی ایک جزو کو معطل کیا جائے تو اٹارنی جنرل کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم فیصل صدیقی سے متفق نہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم غیر آئینی ٹرائل کا حصہ نہیں بن سکتے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں جو کرنل صاحب یا میجر صاحب بیٹھ کر کیس سنتے ہیں کیا وہ ضمانت دینے کا اختیار بھی رکھتے ہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بنیادی حقوق کو آئین میں تحفظ دیا گیا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ایک تو بنیادی حقوق پتہ نہیں ہمیں کہان لیکر جائیں گے، ملٹری ٹرائل غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ معطل کیا جائیگا یا نہیں؟سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    جنہوں نے کل 23 جوان شہید کیے ان سویلینز کا ٹرائل اب کس قانون کے تحت ہو گا؟جسٹس سردار طارق مسعود
    سپریم کورٹ مین گزشتہ روز 23 فوجیوں کی شہادت کا تذکرہ بھی ہوا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کل جو 23 بچے شہید ہوئے ان پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل کیسے ہو گا؟ جو فوجی جوانوں کو شہید کر رہے ہیں ان کا تو اب ٹرائل نہیں ہو سکے گا کیونکہ قانون کالعدم ہو چکا، جنہوں نے کل 23 جوان شہید کیے ان سویلینز کا ٹرائل اب کس قانون کے تحت ہو گا؟ سیکشن 2 ون ڈی کالعدم ہونے کے بعد دہشتگردوں کا ٹرائل کہاں ہو گا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت موقع دے تو اس معاملے پر سیر حاصل دلائل دیں گے،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • توہین الیکشن کمیشن ،عمران خان ،فواد چودھری پر فرد جرم کی کاروائی مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن ،عمران خان ،فواد چودھری پر فرد جرم کی کاروائی مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن کیس کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت مکمل ہو گئی

    توہین الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ممبر نثار درانی کی سراہی میں 4 رکنی بینچ نے کی،بانی پی ٹی ائی کی جانب سے بیرسٹر عمیر نیازی انتظار پنچوتہ اور خالد یوسف چوہدری پیش ہوئے،فواد چوہدری کی جانب سے فیصل چوہدری پیش ہوئے،الیکشن کمیشن نے 2 مرتبہ بانی چئیرمین اور فواد چوہدری کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے بلایا،پی ٹی آئی کے وکلاء نے عمران خان پر فرد جرم عائد نہیں ہونے دی،وکلاء نے کہا کہ ہمارے لیڈ کونسل شعیب شاہین آج موجود نہیں ہیں۔جیل میں میڈیا کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیا جارہا ہے۔میڈیا کی موجودگی میں کیس کی سماعت آگے بڑھائی جائے۔کیس کی سماعت اوپن کورٹ میں ہونی چاہیے۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم اس حوالے سے آرڈر جاری کریں گے۔کیس کی سماعت مزید کسی کاروائی کے 19 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    فواد چوہدری کے وکلاء کی جانب سے توہین الیکشن کمیشن کی سماعت کے خلاف درخواست بھی دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس کوئی عدالتی اختیار نہیں ہے، فواد چوہدری کے وکلاء کی جانب سے توہین الیکشن کمیشن کیس میں بحث کی گئی،فواد چوہدری پر توہین الیکشن کمیشن کیس میں فرد جرم کی کاروائی 19 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    عمران خان اور فواد چوہدری پر فرد جرم کی کاروائی 19 دسمبر تک مؤخر ، وکیل شعیب شاہین کے سپریم کورٹ مصروف ہونے کی بنا پر کاروائی آگے نہ بڑھ سکی ، اب آئندہ سماعت 19 دسمبر کو ہو گی ، الیکشن کمیشن کے ممبران اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے، فواد چوہدری کی اہلیہ حبہ فواد بھی سماعت کے دوران اڈیالہ جیل میں موجود رہیں،کیس کی سماعت ممبر الیکشن کمیشن نثار احمد درانی نے کی،عمران خان اور فواد چودھری کمرہ عدالت میں موجود تھے،توہینِ الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کے موقع پر فواد چوہدری کی اہلیہ حبا چوہدری اور وکیل ایڈووکیٹ فیصل چوہدری اڈیالہ جیل موجود تھے،بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہیں

    فواد چودھری کی اہلیہ حبا فواد نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج الیکشن کمیشن کیس میں 19 دسمبر کی تاریخ دے دی گئی ہے، سارے ججز آج اڈیالہ جیل آئے، فواد چوہدری کو عدالت بھی پیش کیا جاسکتا تھا ،آج دلائل ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے آئندہ تاریخ دے دی گئی، آج بھی بہت چل کر اندر جانا پڑا، آئی جی جیل خانہ جات کو اس مسائل کو بھی دیکھنا پڑے گا ، فواد چوہدری کی موجودگی میں فیصل چوہدری کا رویہ ٹھیک نہیں تھا ،فواد چوہدری جہلم سے الیکشن لڑیں گے اور میں کل سے انکی کمپین سٹارٹ کرنے لگی ہوں ،اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن فواد چوہدری کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتا ہے

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی