Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کی 3، شاہ محمود قریشی کی دو مقدموں میں ضمانت منظور

    عمران خان کی 3، شاہ محمود قریشی کی دو مقدموں میں ضمانت منظور

    انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد،عمران خان کی 3 شاہ محمود قریشی کی 2 کیسز میں ضمانت کی درخواستیں منظورکر لی گئیں

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی3 درخواست ضمانت30ہزار روپےمچلکوں کے عوض منظور کر لی گئی،اے ٹی سی اسلام آباد نے شاہ محمود قریشی کی 2مقدمات میں ضمانت کی درخواست منظور کی،پراسکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے جان بوجھ کر احتجاج کروایا،شاہ محمود قریشی اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانتیں خارج کی جائیں،جج نے استفسار کیا کہ کیا شاہ محمود قریشی اور سابق پی ٹی آئی موقع پر موجود نہیں تھے؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ شاہ محمود قریشی اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی موقع پر موجود نہیں تھے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ دیگر شریک ملزمان کی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں، شاہ محمود قریشی، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی پانچوں درخواستیں منظور کی جاتی ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • چور چور  کہنے والے خود چور نکلے،190 ملین پاؤنڈز  کیس تاریخ کا سب سے بڑاڈاکہ،نواز شریف

    چور چور کہنے والے خود چور نکلے،190 ملین پاؤنڈز کیس تاریخ کا سب سے بڑاڈاکہ،نواز شریف

    سابق وزیراعظم،قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ نے سیاست کے میدان میں آنا ہے تو پورا پروگرام لیکر جوش و جذبہ لیکر آنا ہے کہ میں نے حلقے کے عوام کی تقدیر بدلنی ہے۔اسکے بعد ضلع صوبہ اور پھر پورے ملک تک معاملہ جاتا ہے۔ جب یہ نیت لیکر آئینگے تو ان شا اللہ پورے ملک کی تقدیر بدلے گی،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ چور چور چور کہنے والے خود چور نکلے ریاست مدینہ کی کہانیاں سنانے والے کے قصے آپ سن رہے ہیں قوم کو بتایا جائے ملک پر کس نے ڈاکہ ڈالا۔ 190 ملین پاؤنڈز والا کیس تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے،اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بند لفافہ لہرا کر دستخط لے لیے گئے۔ کرپشن خود کرتے ہو ڈاکہ خود مارتے ہو اور الزام ہمارے اوپر لگاتے کر سزائیں دلواتے ہو کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی،190 ملین پاؤنڈ سکینڈل پر آنکھوں پر پٹی باندھ کر ان سے منظوری لی گئی، اس طرح ڈاکہ ڈال کر بجلی مہنگی کر دی گئی اس طرح کے ڈاکے نہ ڈالے جاتے تو 200 یونٹ والے بجلی مفت لے رہے ہوتے،ہم ملک کیلئے کچھ کرنے کی نیت سے آئے ہیں،زندگی میں تکلیفات آتی ہیں لیکن کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے۔ لیکن اسکے باوجود ہم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ ہماری اب بھی خواہش ہے کہ پاکستان کو مصیبتوں اور اس گرداب سے نکلا کر ترقی کی راہ پر ڈالا جائے، جنرل فیض نے جسٹس شوکت صدیقی سے کہا کہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی،مجھے سات سال بعد انصاف مل رہا ہے۔ملک میں ایک کھلنڈرے کو لایا گیا جس نے برا حال کردیا،آپ نے ظلم ڈھایا لیکن ازالہ کرتے کرتے کتنے سال لگ گئے،عدالت کا سرٹیفکیٹ لگا کہ یہ سارے مقدمے بوگس تھے، ہم پر بوگس مقدمے بنا کر جیلوں میں ڈالا گیا، سزائیں دی گئیں، جنہوں نے مقدمے بنائے اُن کا احتساب کون کرے گا؟ زبانی کلامی ریاست مدینہ کی بات کرتے تھے، اخلاقیات کا کچھ پتا نہیں تھا،

    قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا،یہ پارلیمانی بورڈ کا پانچواں اجلاس تھا،اجلاس پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نواز شریف اور پارٹی صدر شہباز شریف کی زیرصدارت ہو ا،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • آج کے تمام مظلوم کچھ سال پہلےتک ظالم کی قطار میں چل رہے تھے،وزیراعظم

    آج کے تمام مظلوم کچھ سال پہلےتک ظالم کی قطار میں چل رہے تھے،وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نےآغا خان یونیورسٹی کےطلباءسےگفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ طلباء سےگفتگو کرکے خوشی ہورہی ہے،مجھےچیزوں کےبارےمیں جاننے اور سمجھنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے، تعلیمی ادارے ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے ہیں

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روزکیڈٹ کالج کوہاٹ کا بھی دورہ کیا،لمزمیں طلباءکےساتھ ہونیوالی میری گفتگو کافی مشہور ہوئی،زندگی کو بامقصد بنانے کیلئے تعلیم ضروری ہے،سیاسی عدم استحکام ہمارے ملک کی تاریخ رہی ہے،برطانوی راج ایک دن میں نہیں بنا،200 سال لگے،گلگت بلتستان پاکستان کاحصہ ہے  اورہمیشہ رہےگا،ہم بھارت سے 3 جنگیں لڑچکےہیں،پاکستان میں صحافیوں کو گولیاں ماری گئیں،پاکستان کی اپنی تاریخ ہےجس پرگھنٹوں بات ہوسکتی ہے،آج کے تمام مظلوم کچھ سال پہلےتک ظالم کی قطار میں چل رہے تھے،میں حکومت میں آتا ہوں تو مجھے آزادی اظہار رائے زہر لگتی ہے،آپ کو حکومت مل جائے تو آپ کو بھی آزادی اظہار رائے زہر لگے گی،پاکستان کے ہرشہری کو آزادی اظہارکا حق ہے

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ کاروباری افراد بیرون ملک منڈیوں کو اپنا ہدف بنائیں اور اپنی مصنوعات اور خدمات عالمی منڈیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کریں۔گلگت میں کسی ماں کو گولیاں لگی ہیں تو یہ افسوس ناک ہے، طاقت کے استعمال کا حق ریاست کو حاصل ہے، مکینزم موجود ہے، گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے اہم علاقہ ہے، گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں لانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، مذہب، زبان اور نسل پرستی کے خلاف ہیں، 1947ء آزادی ایکٹ کے تحت ریاستوں کو پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا حق دیا گیا.

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستانی اداروں پر الزامات  مسترد کرتے ہیں،ترجمان دفترخارجہ

    شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستانی اداروں پر الزامات مسترد کرتے ہیں،ترجمان دفترخارجہ

    شہزاد اکبر پر برطانیہ میں مبینہ حملہ، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آیا ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر مبینہ حملہ، لندن کی مقامی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، ہائی کمیشن سے کوئی مدد نہیں مانگی گئی، شہزاد اکبر مبینہ حملے میں پاکستان اور پاکستانی اداروں پر الزامات کو مسترد کرتے ہیں،پاکستان بیرون ملک اپنے شہریوں کی حفاظت اور سہولیات کے لیے کوشاں رہتا ہے، بہت سے سیاسی مخالفین نے برطانیہ میں سیاسی پناہ لی اور کئی دہائیوں سے بیرون مالک مقیم ہیں، سیاسی پناہ لینے والے بیشتر پاکستانی حکومت اور اداروں کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں،بیرون ملک سیاسی پناہ لینے والے بہت سے لوگوں کے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں سے تعلقات تھے،پاکستان مخالف بیانات دینے والوں کے خلاف کسی انتقامی کاروائی پر یقین نہیں رکھتے، ہمیں برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد ہے،امید ہے مبینہ حملے میں مجرموں کی شناخت اور برطانیہ کے قانون کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کیا جائے گا، پاکستان تحقیقات پر گہری نظر رکھے گا اور برطانیہ کے حکام کی جانب سے جو بھی معلومات ہمارے ساتھ شیئر کی جائیں گی،

    واضح رہے کہ چند دن قبل تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا ہے کہ رات کو لندن میں میرے گھر پر حملہ کیاگیا،عمران خان دور حکومت میں وزیراعظم کے مشیر رہنے والے شہزاد اکبر کاکہنا ہے کہ مجھ پر تیزاب پھینکا گیا ،کچھ چوٹیں بھی آئی ہیں،میری اہلیہ اور بچے محفوظ ہیں،شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ حملہ آور پوری طرح سے کامیاب نہ ہوا اور انشاللہ میرا حوصلہ اور عزم برقرار ہے اور رہے گا اور ظالم اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہونگے اور انشاءاللہ جلد بے نقاب بھی ہونگے.میں نے پولیس کو اطلاع کر دی ہے

    شہزاد اکبر نے حملے کے اگلے روز تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں جس میں انہوں نے ہاتھ پر پٹی باندھی ہوئی تھی، عینک بھی دکھائی گئی تھی، عینک پر تیزاب کے نشانات تھے تاہم شہزاد اکبر کے چہرے پر کوئی نشان نہیں تھا جس پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل میں کہنا تھا کہ عینک پر تیزاب گرا تو چہرہ کیسے بچ گیا؟

  • حلقہ پی پی 35 اور 59 وزیر آباد اور گکھڑ منڈی کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار

    حلقہ پی پی 35 اور 59 وزیر آباد اور گکھڑ منڈی کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے حلقہ پی پی 35 اور59 وزیر آباد اور گکھڑ منڈی کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے دیں

    عدالت نے حلقہ این اے 123 اور این اے 120 کی حلقہ بندیوں کا معاملہ الیکشن کمیشن کو دوبارہ دیکھنے کا حکم دیدیا ،جسٹس علی باقر نجفی نے لاہور اور حافظ آباد کی حلقہ بندیوں کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی

    حلقہ بندیوں کےحوالہ سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور کے حلقہ این اے 123 اور گکھڑ منڈی کے حلقوں میں تبدیلی کی گئی ،حلقہ بندیاں تبدیل کرتے وقت قانون کو مدنظر نہیں رکھا گیا ایک حلقے کی بڑھا دی گئی اور دوسرے حلقے کی آبادی کم کردی گئی، قانون میں دیئے گئے تناسب سے زیادہ یا کم حلقوں کی آبادی نہیں کی جاسکتی، عدالت غیر منصفانہ بنیاد پر گئی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک میں حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت کر دی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے 266 ، صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے593 حلقے ہوں گے،حتمی حلقہ بندیوں کے مطابق اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی 3 جنرل نشستیں ہوں گی، پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستیں ہوں گی،سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستیں ہوں گی،

  • پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات دوبارہ کروانے کی اکبر ایس بابر کی استدعا مسترد

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات دوبارہ کروانے کی اکبر ایس بابر کی استدعا مسترد

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس،الیکشن کمیشن میں دائر درخواستوں کی تعداد 14 ہوگئی

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کی 14 درخواستیں قابل سماعت قرار دے دی گئی،الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر ,راجہ طاہر نواز عباسی ,,نورین فاروق خان ,محمود احمد خان ,صبا زاہد ,راجہ حامد زمان خان ,محمد شاہ فہد,محمد مزمل ,یوسف علی ,جہانگر خان ,سردار نوز ,طالب حسین کی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے دیا، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو نوٹس جاری کر دیا

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے سماعت کی،اکبر ایس بابر کے وکیل الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو گئے،وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ آئین اور قانون بڑا واضح ہے اس لیے میں یہاں پیش ہوا ،الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین کے تحت انتخابات کا حکم دیا تھا ،ووٹر لسٹ نہیں بنی، نامزدگی کا طریقہ کار نہیں تھا ،پارٹی آئین میں الیکشن پروگرام کا ذکر نہیں ہے ،ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی آپ مجھے سمجھا دیں ،وکیل ایس بابر نے کہا کہ پارٹی کی الیکشن کمشنر نے ڈیٹا بیس اپنے پاس رکھی ہوئی ہے .الیکشن کمیشن نے ہدایت کی تھی کہ دوبارہ پارٹی الیکشن کروائے جائیں، الیکشن کمیشن کے آرڈر کے بعد دو دن کے اندر الیکشن کروا دیا، نہ ووٹر لسٹ بنی نہ کوئی اور انتظامات کئے،بند کمرے میں ایک شخص کو چیئرمین بنا دیا گیا، نہ کاغذات نامزدگی ہوئی نہ اسکورٹنی اور نہ ہی فائنل لسٹ لگی،

    ممبر خیبر پختونخوا نے استفسار کیا کہ آپ کس حیثیت سے الیکشن لڑ رہے تھے کیا آپ کی ممبر شپ ختم نہیں ہوچکی؟ وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ نہیں ختم ہوئی اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے، ہم الیکشن سے قبل مرکزی آفس معلومات بھی لینے گئے تھے لیکن کسی نے مجھے کا کاغذات نامزدگی نہیں حاصل کرنے دی،مجھ سے بہتر الیکشن کمیشن جانتا ہے کہ انٹرپارٹی انتخابات کیسے ہوتے ہے۔ تیس نومبر کو انٹر پارٹی انتخابات کیلئے کمیشن بنتا ہے اور دو دسمبر کو انتخابات ہوجاتے ہے۔ انٹراپارٹی کا طریقہ کار ہوتا ہے، کاغزات نامزدگی ، کاغزات کی جانچ پڑتا ، ووٹرز لسٹیں ہوتی ہے۔ ممبر کے پی اکرام اللہ نے کہا کہ آئین میں ایسا کچھ لکھا ہے کیا، آئین کے مطابق آپ بات کرے۔وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ آئین کے مطابق ہی الیکشن نہیں ہوئے،

    راجہ طاہر نواز عباسی کے وکیل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ ہر شخص کو الیکشن میں حصہ لینا کا موقع ملنا چاہیے، پشاور میں نامعلوم جگہ پر الیکشن کی بات کی گئی،کچھ لوگ جیل میں ہیں انہوں نے کاغزات نامزدگی کا پتہ چلا اور جمع کروائے، جیل میں موجود لوگ اور فرار لوگ منتخب ہورہے ہیں،پورا پراسس جعلی طریقے سے اختیار کیا گیا ،اس الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے،اکبر ایس بابر نے کہا کہ ماضی میں ہزاروں لوگوں نے نامزدگی فارمز جمع کروائے گئے، الیکشن میں غلطیوں کی نشاندھی کی گئی،اس کے بعد لوگوں کو قصور وار ٹھہرا کر نکالا گیا،اس کے بعد کے انتخابات آپ کے سامنے ہیں،

    وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے ہمیں کوئی انفارمیشن نہیں ملی،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ ویڈیو چلاکر دکھائیں ، کمیشن میں اکبر ایس بابر کے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ جانے کی ویڈیو چلائی گئی ،چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ یہ ویڈیو کس جگہ کی ہے؟ اکبر ایس بابر نے کہا کہ ویڈیو پی ٹی آئی مرکزی سیکریٹریٹ اسلام آباد کی ہے، کمیشن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کی ویڈیو بھی چلائی گئی ،وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کسی قسم کا الیکشن پروگرام جاری نہیں کیا، مرکزی دفتر میں کاغذات نامزدگی موجود نہیں تھے،مرکزی دفتر سے الیکشن معلومات نہیں ملیں تو ریجنل دفاتر میں کہاں ہونگی، کمیشن ویڈیوز کا فرانزک کراسکتا ہے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی انٹرا پارٹی کے لیے غیر جانبدار لوگوں کو مقرر کرے ، کمیشن پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کی مانیٹرنگ خود کرے،

    اکبر ایس بابر نے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات دوبارہ کرنے کی استدعا کر دی، الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کی استدعا مسترد کر دی،ممبر کمیشن اکرام اللہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 215 واضح ہےدربارہ الیکشن کو بھول جائیں ،یہ نہیں ہوسکتا کہ بار بار انٹرا پارٹی الیکشن کا حکم دیں، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کر دی ،کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم پر پی ٹی آئی نے 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا، جس میں بیرسٹر گوہر بلامقابلہ چیئرمین جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، اس کے علاوہ یاسمین راشد پنجاب کی صدر اور علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہوئےپی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے ایک روز قبل انٹرا پارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چلینج کرتے ہوئے سارے عمل کو مشکوک قرار دیا تھا۔

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.

  • ہمیں ٹک ٹاک ،گالم گلوچ اور گیٹ نمبر4کی سیاست نہیں آتی،بلاول

    ہمیں ٹک ٹاک ،گالم گلوچ اور گیٹ نمبر4کی سیاست نہیں آتی،بلاول

    خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے داموڑی میں پیپلز پارٹی کا ورکرز کنونشن منعقد ہوا

    کنونشن سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شانگلہ کے عوام نے ثابت کر دیا بھٹو آج بھی زندہ ہے، شناگلہ کے لوگوں کا دل سےمشکور ہوں ،پاکستان کے عوام کومشکلات کا سامنا ہے ، معاشی حالات ابترہوتے جارہے ہیں ، انا کی سیاست کرنے والے پرانے سیاستدان عوامی مسائل سے آگاہ نہیں ،ملک میں تقسیم کی سیاست عروج پر ہے ،سیاست کو اختلاف رائے کے بجائے ذاتی دشمنی تک پہنچادیا گیا،ایک طرف نفرت اور تقسیم کی سیاست جاری ہے ،دوسری طرف معاشی بحران بدسے بدتر ہوتاجارہاہے ،سیاستدان آج بھی پرانی سیاست کررہے ہیں،ہمیں ٹک ٹاک ،گالم گلوچ اور گیٹ نمبر4کی سیاست نہیں آتی،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پرانے سیاستدان کو عوام کے اصل مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں، نہ انکے پاس ان مسائل کا کوئی حل ہے ،ہم نے اپنے لوگوں کو روزگار دینا ہے، سندھ میں ہم نے برج، سڑکیں بنائیں، جب تک مزدور خوشحال نہیں ملک خوشحال نہیں ہوسکتا، نوجوانوں کےلئے یوتھ کارڈ لائیں گے، مجھ پر آج تک نا کرپشن کا کیس ہے اور نا ہی خون کا داغ ،میرے مخالف بھی مجھ پر کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتے، میرے ہاتھ صاف ہیں،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو روزگار دلوائیں چاہے کہیں بھی ہو،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے، میرے بزرگوں نے نوجوانوں کو بچانا ہے ،انا،نفرت،تقسیم کی سیاست کو جاری رکھنا ہے یا اپنی قسمت بدلنی ہے، اگر آپ اصل مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ،عوامی راج چاہتے ہیں تو پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں،ہم ملکر جدوجہد کریں گے، قائد عوام کا نامکمل مشن پورا کریں گے،میرا ملک مشکل میں ہے عوام تکلیف میں ہے، آپ لوگ میرا ساتھ دیں،میں دکھاؤں گا کہ کیسے ملک اور عوام کی قسمت تبدیل کریں گے.سب سیاست دانوں کو پہچان چکا ہوں ،آٹھ فروری کو الیکشن ہے گھر گھر میں میرا پیغام، میرا منشور پہنچائیں،گھر گھر جا کر بتائیں پیپلز پارٹی عوام کی خدمت کر رہی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • اسلام آباد ہائیکورٹ  کا نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    العزیزیہ ریفرنس میں سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے،نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز روسٹرم پر موجودتھے، نیب کی جانب سے وکلاء کی ٹیم روسٹرم پر موجودتھی، نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 24 دسمبر 2018 کے فیصلے کیخلاف یہ اپیل ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ پانامہ کیس سے متعلق ہے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی یہ پانامہ سے متعلق ہے، پانامہ کسز میں تین ریفرنسز دائر کیے گئے تھے،فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو بری کیا تھا،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی اپیل گزشتہ سماعت پر نیب واپس لے چکا، نیب نے سپریم کورٹ کے احکامات پر ریفرنسز دائر کیے جن میں ایک جیسا الزام تھا،فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو بری کر دیا تھا،ایک ہی الزام پر الگ الگ ریفرنس دائر کیے گئے،ہم نے درخواست دی تھی کہ ایک الزام پر صرف ایک ہی ریفرنس دائر ہونا چاہئے تھا،احتساب عدالت نے ٹرائل الگ الگ کیا لیکن فیصلہ ایک ساتھ سنانے کا کہا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا ایک ساتھ ہی فیصلہ سنانے کا حکم برقرار رکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تھا ایک ساتھ تینوں کیسز کے فیصلے سے آسمان نہیں گر جائے گا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف پر کیا الزام عائد کیا گیا تھا؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پر اس کیس میں بھی آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام عائد کیا گیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نواز شریف کے وکیل سے استفسارکیا کہ العزیزیہ سٹیل مل کہاں پر رجسٹرڈ ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ العزیزیہ سٹیل مل 2001 میں سعودی عرب میں رجسٹر کرائی گئی اور نواز شریف اُس دور میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے اور پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے، میاں نواز شریف کا ہمیشہ موقف رہا کہ اُنکا العزیزیہ سٹیل مل سے کبھی بھی کسی قسم کا تعلق نہیں رہا بلکہ سٹیل مِل اُنکے والد میاں محمد شریف کی ملکیت تھی،میاں محمد شریف اپنی زندگی میں بچوں کو جیب خرچ بھی خود ہی دیتے تھے،

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ گواہوں کے بیانات سے متعلق چارٹ عدالت میں پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ،بائیس میں سے 13 گواہوں نے صرف ریکارڈ پیش کیا،5 سیزر میمو اور دو طلبہ کے نوٹس پہنچانے والے گواہ ہے ،کوئی وقوعہ کا عینی شاہد گواہ نہیں ہے ، محبوب عالم اور واجد ضیا ہی دو مرکزی گواہ تھے ،

    نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو کا معاملہ عدالت کے سامنے اٹھا دیا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے وکلاء میرٹ پر دلائل دے رہے ہیں لیکن اُس سے پہلے اِنکی سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج سے متعلق ایک درخواست بھی موجود ہے اسکو پہلے دیکھ لیں،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی، جج کی وڈیو کے حوالے سے درخواستیں ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس حوالے سے مریم نواز نے بھی پریس کانفرنس کی تھی، معاملہ سپریم کورٹ گیا تھا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہی اس پر فیصلہ دے سکتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مناسب ہوگا میرٹ پر دلائل دینے سے پہلے ویڈیو والی درخواست پر فیصلہ کیا جائے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہم جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق درخواست کو اب پریس نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ جج صاحب اب وفات پا چکے ہیں اس معاملے پر مزید بات کرنا مناسب نہیں رہا، نواز شریف کے وکلاء نے مرحوم جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق اپنی درخواست کی پیروی سے معذرت کر لی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نواز شریف کے وکیل سے استفسارکیا کہ جج ارشد ملک کو برطرف کرنے کا نوٹیفیکیشن واضح نہیں ہے بتائیں اگر آپ درخواست کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو اس عدالت میں سکرین لگا کر ویڈیو کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ یہ ریمانڈ بیک کرنے کا فِٹ کیس کیسے نہیں ہو گا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میں اپنے کلائنٹ سے ہدایات لینے کے بعد عدالت میں بیان دے رہا ہوں کہ ہم اپنی اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے، وکیل نواز شریف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدالت نے یقینی بنانا ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ارشد ملک کو لاہور ہائی کورٹ نے عہدے سے برطرف کر دیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ عدالت کو ٹھوس مواد چاہیے کہ ارشد ملک اگر بددیانت تھے تو معاملہ کافی سنگین ہوگا، اگر جج کا کنڈکٹ اس کیس کے فیصلے کے وقت ٹھیک نہیں تھا، بدیانت تھا تو اس کے اثرات ہوں گے ، ہمیں بتائیں ان کو بطور جج کیوں برطرف کیا گیا تھا ؟ چارج کیا تھا ؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرٹ پر ہمارا کیس پہلے سے بہتر ہے ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے نوٹیفکیشن سے ارشد ملک پر عائد الزام واضح نہیں ہو رہا، کیا عدالت ویڈیو کا جائزہ لیکر فیصلہ کرے کہ مقدمہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کرنا ہے یا نہیں، کیونکہ نوازشریف کی درخواست موجود ہے اس لئے یہ فیصلہ آپ کا ہوگا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف ویڈیو سکینڈل والی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ درخواست واپس لینے پر اعتراض نہیں ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ اس درخواست کی پیروی کریں گے تو ہم اس کو دیکھیں گے ، ارشد ملک اب نہیں ہیں لیکن باقی لوگ ابھی موجود ہیں ،عدالت نے نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ اس درخواست کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ مجھے ہدایت دی گئی ہے جج ارشد ملک ویڈیو اسیکنڈل سے متعلق درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے ،میں جج ارشد ملک کے حوالے سے دعا گو ہوں اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ،

    نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتیاں ہو چکی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ یہی عدالت میرٹ پر نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ کر دے اس سے قبل بھی دو اپیلوں پر فیصلہ اسی عدالت میں ہو چکا ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس اگر ریمانڈ بیک کر بھی دیتے ہیں تو نواز شریف ملزم تصور ہونگے سزا یافتہ نہیں. ٹرائل کورٹ نے دوبارہ کیس کا فیصلہ کرنا ہو گا اور اگر نیب کا یہی رویہ رہا تو پھر تو آپکو مسئلہ بھی نہیں ہو گا تو آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟ نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہی نواز شریف کی العزیزیہ اپیل پر میرٹ پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اِس عدالت کے سامنے تین آپشنز ہیں، ایک راستہ کہ اپیل خارج کردیں، دوسرا کہ اپیل منظور کر کے نواز شریف کو بری کر دیں اور تیسرا راستہ یہ ہے کہ اپیل منظور کر کے کیس احتساب عدالت کو واپس بھجوا دیں، ہم یہاں اسکرین لگا دیں گے اور وڈیو چلا دیں گے،لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ یہ دو دھاری تلوار بھی ثابت ہوسکتی ہے، اعظم نذیر تارڑ نے معاملہ احتساب عدالت کو واپس بھجوانے کی مخالفت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک یہ کہ ہم خود اضافی شواہد دیکھ کر میرٹ پر فیصلہ کردیں،اگر آپ کہتے ہیں تو میرٹ پر فیصلہ کردیں گے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آپ نے ہمیں اپنا فیصلہ بتانا ہے،اس کیس میں مرحوم جج نے مکمل ٹرائل ہی نہیں کیا، اکیس گواہ پہلے ہی اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے تھے، نواز شریف کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتیاں ہو چکی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ یہی عدالت میرٹ پر نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ کر دے، نیب نے العزیزیہ ریفرنس دوبارہ احتساب عدالت کو بھیجوانے کی استدعا کر دی،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ بیک کر دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اگر آپ کہتے ہیں تو میرٹ پر فیصلہ کر دیں گے، تو جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق درخواست کو چھوڑا نہیں جا سکتا، آپ ہمیں بتا دیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہمیں کیس دوبارہ احتساب عدالت کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن احتساب عدالت کو ٹرائل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ڈائریکشن دیدیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ کر لیا. نیب کی کیس ٹرائل کورٹ کو دوبارہ فیصلے کیلئے بھیجنے کی استدعا مسترد کر دی گئی

    احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018 کو العزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید اور 2.5 ملین پاونڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی،نواز شریف نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کر رکھی ہے، نواز شریف نے اپنے خلاف سات سال قید اور جرمانے کی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،نیب نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی استدعا کر رکھی ہے

    کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلے کے لیے رجسٹرار آفس کی جانب سے خصوصی پاسز جاری کئے گئے ہیں،نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں

    نواز شریف عدالت پیشی کے لئے لاہور سے روانہ ہوئے اور اسلام آباد پہنچ گئے،قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کی اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر قانونی ٹیم سے مشاورت ہوئی،سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، عطاء تارڑ اور قانونی ٹیم کے دیگر ارکان موجود تھے،ن لیگی رہنما اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب، بلال کیانی اور دیگر رہنما بھی مشاورت میں موجود تھے،لیگل ٹیم نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس کیس پر تفصیلی بریفنگ دی،اعظم نذیر تارڑ نے کیس سے متعلق تیاری پر نواز شریف کو بریفنگ دی،نواز شریف نے قانونی ٹیم کی کیس سے متعلق تیاری پر شاباش دی

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،شریک ملزمان ملک ریاض،زلفی،فرح ودیگر اشتہاری قرار

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،شریک ملزمان ملک ریاض،زلفی،فرح ودیگر اشتہاری قرار

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغازہو گیا

    احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا، تحریری حکمنامہ میں عدالت نے کہا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم عدالت میں پیش ہوئے، رپورٹ جمع کرائی، ریفرنس میں شریک 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، ملزم ملک ریاض، مرزا شہزاد اکبر، ضیاء المصطفی نسیم کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی،ملزم ذلفی بخاری، احمد علی ریاض، فرحت شہزادی کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، رپورٹ کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہونے دے رہے، خود کو چھپا رکھا، ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے دینے کا مقصد قانونی نظام کو خراب کرنا ہے، عدالت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ملزمان مفرور ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے، احتساب عدالت سیکشن 87 کے تحت مفرور ملزمان کےخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے،ملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں، ملزمان کے آبائی، رہائشی علاقوں میں بھی اشتہارات کو اونچی اواز میں پڑھا جائے، ملزمان کے خلاف اشتہاری قرار دیے جانے کی مزید کارروائی 6 جنوری 2024 کو ہوگی،

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں درخواستِ ضمانت میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،نیب نے بانی پی ٹی آئی کی درخواستِ ضمانت جلد سماعت کیلئے مقررکرنے درخواست دائرکردی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نیب کی جانب سے دائر درخواست منظورکرلی،بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی،احتساب عدالت کے جج محمدبشیر اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین کی درخواست ضمانت پر سماعت کریں گے،پہلے عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پرسماعت 13 دسمبرتک ملتوی کی تھی

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو کالعدم قرار دیا ہے،

    عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کررکھی ہے، ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    نیب کی سفارش پر 190 ملین پاونڈ اسکینڈل میں چئیرمین پی ٹی آئی سمیت 29 افراد کو ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے، عمران خان، شہزاد اکبر، ذلفی بخاری ، فرح گوگی،ملک ریاض، سمیت 29 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالے گئے، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکر رکھا ہے،ریفرنس میں عمران خان کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

  • کامیابی پاکستان کا مقدر ہے،آرمی چیف

    کامیابی پاکستان کا مقدر ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا جہاں کور کمانڈر پشاور نے اُن کا استقبال کیا، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے انسداددہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں بہادری کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور جوانوں سے بھی ملاقات کی اور ان کی بے مثال کارکردگی کو سراہا، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو اس موقع پر سکیورٹی کی مجموعی صورتحال، انسداد دہشتگردی کیخلاف کارروائیوں، غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی سمیت نئے ضم شدہ اضلاع میں سماجی و اقتصادی ترقی کی پیش رفت پربھی بریفنگ دی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پہلی بار منعقدہ قومی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ قوم کو مسلح افواج کی کارکردگی پر فخر ہے، پاک فوج مادر وطن کی حفاظت کا فریضہ خون کے آخری قطرے تک ادا کرتی رہےگی،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے نئے ضم شدہ اضلاع میں اقتصادی ترقی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی پاکستان کا مقدر ہے. پاک فوج وطن کی حفاظت کا فریضہ خون کے آخری قطرے تک ادا کرتی رہے گی، دشمن قوتوں کے مذموم عزائم کو جامع حکمت عملی کے ذریعے ناکام بنایا جارہا ہے،غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا فیصلہ حکومت نے پاکستان کے وسیع ترمفاد میں کیا، غیر قانونی مقیم غیر ملکی پاکستان کی سلامتی اور معیشت کوبری طرح متاثر کررہے ہیں ایسے غیر قانونی غیر ملکیوں کو باعزت طریقے سے ان کے ملکوں میں واپس بھیجا جارہا ہے