بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی، جہاں مسلح حملوں، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے کاروائیاں کیں اور متعدد دہشتگردجنم واصل ہوئے جبکہ کئی علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
ضلع کیچ کے علاقے تمپ کے غمازی میں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے دوران شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، تاہم حکام کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔
ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کے علاقے وہیر میں ایک مدرسے کے قریب ایک نوجوان شکیل احمد کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق مقتول کو قریب سے متعدد گولیاں ماری گئیں۔دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ کے قریب بھی ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی، جسے تیز دھار ہتھیار سے قتل کیے جانے کا شبہ ہے۔ دونوں واقعات میں پولیس نے الگ الگ مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
تربت کے مضافاتی علاقے ڈنک میں ایک موبائل فون ٹاور کو بم دھماکے سے تباہ کر دیا گیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اسی دوران ہرنائی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا، جسے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع قلات میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم گروہ سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گرد مارے گئے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ضلع دکی کے بابو اڈہ علاقے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے عسکریت پسندوں نے ایک نجی تعمیراتی منصوبے پر حملہ کر کے بھاری مشینری کو نذر آتش کر دیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم قیمتی مشینری مکمل طور پر ناکارہ ہو گئی۔ہرنائی،سنجاوی سڑک پر نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کر کے شناختی کارڈ چیک کیے۔ موٹر سائیکل سوار دو افراد نہ رکنے پر فائرنگ کی زد میں آ گئے، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔
ضلع مہمند کے علاقے علینگر میں سیکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ضلع اورکزئی میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ سرچ اور اسٹرائیک آپریشنز کیے۔سوات کے علاقے املٹ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایلیٹ فورس کے کانسٹیبل حماد علی کو شہید کر دیا، جو چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔بنوں میں سورانی قبیلے کا امن جرگہ منعقد ہوا جس میں عمائدین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون اور علاقے سے مسلح عناصر کے انخلا کا مطالبہ کیا، جبکہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا گیا۔
افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات اور مکالمے کے حق میں پاکستانی قیادت اور علمائے کرام کے بیانات کا خیر مقدم کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔