Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، خودکش جیکٹ، دھماکہ خیز مواد برآمد

    کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، خودکش جیکٹ، دھماکہ خیز مواد برآمد

    کراچی میں خفیہ ایجنسیوں اور محکمہ انسداد دہشت گردی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے دہشت گردانہ منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

    کارروائی کے دوران خودکش جیکٹ، دستی بم، اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا جبکہ کالعدم تنظیم (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے مطلوب دہشت گرد اسماء اللہ کو گرفتار کر لیا گیا۔حکام کے مطابق یہ کارروائی حساس اداروں کو موصول ہونے والی خفیہ اطلاع پر کی گئی، جس میں بتایا گیا تھا کہ شہر میں ایک بڑی دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اطلاع کی بنیاد پر سی ٹی ڈی نے مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور ایک مشتبہ مقام سے ملزم کو حراست میں لے لیا۔ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار دہشت گرد اسماء اللہ خودکش حملے کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس کے قبضے سے ایک تیار شدہ خودکش جیکٹ، متعدد دستی بم، ڈیٹونیٹرز اور دیگر دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر مواد کو تحویل میں لیا اور ناکارہ بنا دیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو شہر میں کسی اہم سرکاری یا عوامی مقام کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ تھا۔ذرائع کے مطابق ملزم براہِ راست ایک غیر ملکی ہینڈلر سے رابطے میں تھا اور بیرون ملک سے موصول ہونے والی ہدایات پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے اہم شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں، جن کی فارنزک جانچ جاری ہے۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے سہولت کاروں اور نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ سیکیورٹی اداروں نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے جبکہ حساس مقامات کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی اور کسی کو بھی امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت انٹیلی جنس شیئرنگ کا نتیجہ ہے، جس سے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔

  • پاک افغان سرحد،طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاکستانی سیکورٹی فورسز کا مؤثرجواب

    پاک افغان سرحد،طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاکستانی سیکورٹی فورسز کا مؤثرجواب

    ضلع خیبر میں پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیتے ہوئے طالبان کی جارحیت کو خاموش کردیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ افغان طالبان نے طورخم اور تیراہ میں پاک افغان سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی،ترجمان وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دیا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپیں سرحدی علاقے کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں اور فائرنگ کا سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ پاک فوج کے تمام جوان محفوظ رہے جبکہ جوابی کارروائی کے دوران افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے طالبان پوسٹ کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کردیا۔افغان فورسز کی یہ مہم ان کے لیے الٹی پڑ گئی اور صورتحال ان کے کنٹرول سے بالکل باہر ہو کر رہ گئی۔ پاک فوج نے ٹی ٹی اے کی ایک اہم پوسٹ سے دہشت گردوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا، جہاں سے وہ شدید مزاحمت کے باوجود نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ نتیجتاً 5 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جبکہ ان کی 2 بکتر بند گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو کر راکھ ہو گئیں۔

    وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا ہےکہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائےگا۔ ان شاء اللہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کو جاری رکھےگا۔

    دوسری جانب بلوچستان میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام؛ 8 سے زائد دہشت گرد ہلاک، 4 زخمی
    سمبازہ سیکٹر میں فتنہ الخوارج کی تشکیل فتح شیرینی سے دم کلی اپنے ٹھکانے جا رہی تھی جب سیکورٹی فورسز نے موثر طریقے سے نشانہ بنا کر اس کا صفایا کر دیا۔

    یہ پیشرفت اس کے بعد سامنے آئی ہے کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے افغان صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق 80 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ یہ کارروائی گزشتہ اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سب سے بڑی فوجی مہم تھی۔وزارتِ اطلاعات کے مطابق یہ فضائی حملے ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ اور بنوں و باجوڑ میں ہونے والے حملے شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشتگرد یہ حملے افغان سرزمین پر مقیم قیادت کی ہدایات پر کررہے تھے

  • بھکر چیک پوسٹ پر  حملہ،دو اہلکار شہید، چار افراد زخمی

    بھکر چیک پوسٹ پر حملہ،دو اہلکار شہید، چار افراد زخمی

    پنجاب کے ضلع بھکر میں داجل چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور چار زخمی ہوگئے۔

    ڈی پی او شہزاد رفیق اعوان کے مطابق پنجاب کو خیبرپختونخوا سے ملانے والے دریا کے پل پر واقع پنجاب پولیس کی داجل چیک پوسٹ پر افطار کے وقت حملہ ہوا، جب چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں دو اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔شہدا میں فہیم (324/C)،شہباز لنگڑی (ڈراؤن آپریٹر 65/C)زخمی ہونے والوں میں محمد ارشد (312/C)،محمد علی ولد ریاض حسین شاہ (پولیو ورکر)،محمد زبیر ولد محمد فاروق (چمنی محلہ، پولیو ورکر، ضلع بھکر)،محمد حسنین ولد محمد امین (قوم اعوان، سکنہ محمدانی، عمر 30 سال) ہیں،ذرائع کے مطابق زخمیوں میں دو پولیو ورکرز کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ ڈیوٹی پر مامور تھے جب دھماکہ ہوا۔

    واقعے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور تمام زخمیوں کو ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو الرٹ کر دیا ہے۔حملے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہ صرف جائے وقوعہ بلکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال اور اس کے گردونواح میں بھی سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔علاقہ مکینوں اور شہری حلقوں کی جانب سے واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے اور فضا سوگوار ہے۔ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شہدا کے درجات بلند فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔ وطنِ عزیز کے امن و استحکام کے لیے دی جانے والی یہ قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

  • وزیراعظم سے قطر کے نائب وزیراعظم و وزیر مملکت دفاعی امور کی ملاقات

    وزیراعظم سے قطر کے نائب وزیراعظم و وزیر مملکت دفاعی امور کی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر مملکت برائے دفاعی امور عزت مآب شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن بن علی الثانی نے آج دوحہ میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران فریقین نے دفاع اور سیکیورٹی میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہء خیال کیا اور پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط اور تاریخی تعلقات کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا، عزت مآب شیخ سعود نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے میں قطر کی دلچسپی سے آگاہ کیا،ملاقات میں علاقائی صورتحال بالخصوص ایران اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا۔ دونوں اطراف نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

    دونوں اطراف نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات میں پاکستان اور قطر کے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بلند کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کی گئی،نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔

  • وزیراعظم سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت کی ملاقات

    وزیراعظم سے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت کی ملاقات

    قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے آج صبح وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ عزت مآب ڈاکٹر احمد بن محمد السید پاکستان-قطر جوائنٹ بزنس ٹاسک فورس کے چیئرمین بھی ہیں۔

    ملاقات کے دوران فریقین نے دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کا جائزہ لیا اور پاکستان قطر تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے اور قطر کو پاکستان کی برآمدات خاص طور پر زرعی مصنوعات، کھانے پینے کی اشیاء اور ویلیو ایڈڈ اشیاء کی برآمدات کو متنوع بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    دونوں فریقین نے پاکستان- قطر مشترکہ وزارتی کمیشن کے چھٹے اجلاس کے فالو اپ پر تبادلہء خیال کیا اور طے شدہ فیصلوں پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے پاکستان کی سرمایہ کاری دوست اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو آسان بنانے میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ عزت مآب ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے درمیان نجی شعبے اور کاروباری روابط کو مضبوط بنانے میں قطر کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔

    دونوں فریقین نے رمضان المبارک کے دوران دونوں ممالک کے متعلقہ حکام پر مشتمل ٹاسک فورس کا اجلاس بلانے پر بھی اتفاق کیا جس میں پاکستان میں قطری سرمایہ کاری کے لیے ٹھوس سرمایہ کاری کی تجاویز پر تبادلہء خیال جائے گا۔ ملاقات میں پاکستان اور قطر کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ عزم پر زور دیا گیا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

  • عمران خان کی بہن نورین نیازی زیرِ تعمیر نالے میں گر کر زخمی

    عمران خان کی بہن نورین نیازی زیرِ تعمیر نالے میں گر کر زخمی

    سابق وزیرِاعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی ایک افسوسناک واقعے میں زیرِ تعمیر نالے میں گر گئیں، جس کے نتیجے میں انہیں معمولی چوٹیں آئیں۔

    ذرائع کے مطابق نورین نیازی داہگل ناکہ کے قریب نماز کی ادائیگی کے لیے ایک عمارت میں داخل ہونا چاہتی تھیں۔ اس دوران راستے میں موجود زیرِ تعمیر نالہ عبور کرتے ہوئے وہ توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور نالے میں جا گریں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ موقع پر موجود افراد نے فوری طور پر انہیں نالے سے باہر نکالا۔ خوش قسمتی سے انہیں شدید نوعیت کی چوٹیں نہیں آئیں، تاہم ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ذرائع کے مطابق نورین نیازی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    مقامی افراد نے واقعے کے بعد انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ زیرِ تعمیر نالوں اور سڑکوں پر مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی مقامات پر حفاظتی رکاوٹوں اور وارننگ سائن بورڈز کی کمی حادثات کا سبب بن رہی ہے۔

  • بھارتی فوج کا نیا اسکینڈل، حاضر سروس فوجی اہلکار منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار

    بھارتی فوج کا نیا اسکینڈل، حاضر سروس فوجی اہلکار منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار

    مودی کی سرپرستی میں بھارتی فوج کا نیا اسکینڈل، حاضر سروس فوجی اہلکار منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتارکر لیا گیا

    بھارتی فوج کے نشئی فوجی منشیات اسمگلنگ جیسے مکروہ دھندے چلانے میں مصروف ہیں،بھارتی جریدہ نے نااہل مودی کےداخلی سیکیورٹی بیانیہ کے برعکس زمینی حقائق کا پردہ چاک کر دیا ،بھارتی جریدہ دی ہندو کے مطابق بھارتی پولیس نے فریدکوٹ میں منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک میں فوجی، پولیس اہلکار اور خواتین سمیت 6 افراد کو گرفتار کر لیا ،گرفتار حاضر سروس بھارتی فوجی کی شناخت جَرنَیل سنگھ اور برطرف پولیس اہلکار کی شناخت امر دیپ سنگھ سے ہوئی،گرفتار شدہ ملزمان سے 4.8 کلوگرام ہیروئن، اسلحہ، دو گاڑیاں اور ایکس یو وی برآمد کی گئیں ، ملزمان ناکوں اور ٹول پلازوں سے با آسانی گزرنے کیلئے سرکاری شناختی کارڈز کا غلط استعمال کرتے تھے، بھارتی ڈائریکٹر جنرل پولیس گورو یادیو کے مطابق ملزمان متعدد منشیات اسمگلنگ مقدمات میں ملوث تھے،

    عالمی ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی نااہلی اور بھارتی فوج کی منشیات مافیا میں موجودگی نے بھارت کو جرائم پیشہ عناصر کیلئے محفوظ گڑھ بنا دیا،بھارتی فوج میں کڑا احتساب نہ ہونے کے باعث باوردی افراد منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے سرغنہ بن چکے ہیں

  • بھارتی  نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کا آج مختصردورہ افغانستان متوقع

    بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کا آج مختصردورہ افغانستان متوقع

    بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول کے افغانستان کا دورہ کررہے ہیں۔

    بھارتی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اجیت ڈوول آج (23 فروری 2026) کسی وقت کابل پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ انتہائی خفیہ نوعیت کا ہے۔کل رات 22 فروری کو طالبان کے عبوری وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی نے اجیت ڈوول سے فون پر بات کی۔ یہ رابطہ پاکستان-افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، جہاں پاکستان نے حال ہی میں افغان سرحد پر دہشت گرد کیمپوں پر فضائی حملے کیے، جن میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ 80 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ افغان طالبان نے اسے شہریوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے شہری ہلاکتوں کا الزام لگایا اور جواب دینے کی دھمکی دی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی حالیہ کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا، سیکیورٹی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے امکانات ہیںَ افغانستان میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے حکمت عملی پر بات چیت ہو گی، پاکستان کے خلاف مستقبل کا مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائے گا،اس کے علاوہ اجیت ڈوول کے ملا عمر کے بیٹے اور عبوری وزیر دفاع ملا محمد یعقوب اور طالبان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان نے ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کی، جنہیں وہ افغان سرزمین سے آپریٹ ہونے والا قرار دیتا ہے۔ بھارت نے ان پاکستانی حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس تناظر میں بھارت کا طالبان قیادت سے براہ راست رابطہ علاقائی طاقت کے توازن کو متاثر کرنے والا ہو سکتا ہے۔

  • دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کا بیانیہ بے نقاب

    دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کا بیانیہ بے نقاب

    دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت، لاپتہ افراد کے بیانیے کے پیچھے چھپی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی بے نقاب ہو گئی

    31جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں میں لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل سلیم بلوچ بھی ملوث تھا ،فتنہ الہندوستان اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سلیم بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ،فتنہ الہندوستان کا سرغنہ سلیم بلوچ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے حملوں میں سیکیورٹی فورسز سے لڑتے ہوئے تربت میں جہنم واصل ہوا ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہرنگ لانگو اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے دہشتگرد سلیم بلوچ کو لاپتہ قرار دیگر پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے ،یہ پہلا موقع نہیں جب کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ، ماہ رنگ لانگو اور دیگر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں لاپتہ افراد کا پروپیگنڈا کرتی رہی ہیں،اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشتگرد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل رہے ہیں

    مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی جہنم واصل ہوئے تھے.بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی فہرست میں دہشگرد عبدالحمیداور راشد بلوچ بھی شامل تھے جنہیں جہنم واصل کیا گیا ،2025 میں قلات میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو اور مارچ 2024 کو گوادر حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے ، نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا

    سلیم بلوچ اور اس جیسے دیگر دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کی تصدیق ہے کہ ;نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کر نے کی سازش ہے ،بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کو احساس محرومی کے گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کر بالآخر فتنہ الہندوستان کے حوالے کردیتی ہے،فتنہ الہندوستان ان بلوچ نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں مسلح بغاوت اور دہشتگردی کیلئے استعمال کرتی ہے

    ماہرین کی رائے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا سافٹ چہرہ فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد کارروائیوں کو لاپتہ افراد کے بیانیے سے تحفظ دیتا ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ’’را‘‘ اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی حاصل ہے، نام نہادلاپتہ افراد کی فہرست میں شامل دہشتگردوں کی ہلاکت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بے بنیاد پروپیگنڈا زمین بوس ہو چکا ہے,

  • افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک،سرمایہ کار ،مزدور نشانے پر

    افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک،سرمایہ کار ،مزدور نشانے پر

    افغان طالبان رجیم کے سیکیورٹی دعووں کا پردہ چاک؛ چینی سرمایہ کار اور مزدور شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں

    افغان طالبان رجیم دہشتگرد گروہوں کیخلاف غیر ملکی افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں، افغان طالبان رجیم کی ناکامی بے نقاب، سیکیورٹی کے دعوے کھوکھلے ثابت،چینی سرمایہ کاری کے منصوبے اور کارکن شدت پسند گروہوں کی زد میں ہیں،امریکہ کی اسٹمسن انسٹی ٹیوٹ کی محقق سارہ گوڈاک کے مطابق افغان طالبان رجیم چینی کارکنان کو مقامی شدت پسندوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے ،طالبان رجیم کی نااہلی نے افغانستان-تاجکستان بارڈر پر موجود سونے کی کانوں کو چینی مزدوروں کیلئے مہلک محاذ بنادیا ہے،ستمبر 2024 سے 2026 کے آغاز تک، افغانستان-تاجکستان سرحدی علاقے میں کم از کم سات حملے ہوئے، جس میں نو چینی شہری ہلاک اور 10 زخمی ہوئے،بھاری منافع کے عوض چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی حفاظت طالبان رجیم نے سنبھالی ہے، مگر چینی کارکن اب بھی شدت پسند گروہوں کے آسان ہدف پر ہیں،

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کو دہشت گردوں کی سرپرستی کے بجائے اپنے داخلی معاملات، سیکیورٹی اور عوامی تحفظ پر توجہ دینی چاہیے،چینی مزدوروں پر بار بار حملے واضح ثبوت ہیں کہ طالبان غیر ملکی کارکنان کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہیں،