Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • این اے 130 لاہور،نواز شریف کی کامیابی کا نوٹفکیشن درست قرار

    این اے 130 لاہور،نواز شریف کی کامیابی کا نوٹفکیشن درست قرار

    الیکشن ٹربیونل نے این اے 130 لاہور سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیشن درست قرار دے دیا۔

    الیکشن ٹربیونل نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی نواز شریف کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے این اے 130 لاہور سے مسلم لیگ ن کے صدر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن درست قرار دیدیا،نواز شریف کی جانب سے بیرسٹر اسد اللہ چٹھہ نے دلائل دیے جبکہ الیکشن ٹریبونل کے جج رانا زاہد محمود نے فیصلہ سنایا اور ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست خارج کردی۔

    یاد رہے کہ فروری 2024 کے عام انتخابات میں لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 130 پر نواز شریف 171024ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ آزاد امیدوار یاسمین راشد نے 115043 ووٹ حاصل کیے تھے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے نواز شریف کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔

  • 50ویں آرمی چیف پولو اور ٹینٹ پیگنگ چیمپیئن شپ ، فیلڈ مارشل بطور مہمان خصوصی شریک

    50ویں آرمی چیف پولو اور ٹینٹ پیگنگ چیمپیئن شپ ، فیلڈ مارشل بطور مہمان خصوصی شریک

    پاکستان آرمی کے روایتی کھیلوں میں سے ایک، 50ویں آرمی چیف پولو اور ٹینٹ پیگنگ چیمپیئن شپ 2025، لاہور کے جناح پولو فیلڈز میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی۔

    چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نے اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ وزیر داخلہ، چیف سیکریٹری پنجاب اور دیگر اعلیٰ شخصیات کے ساتھ بڑی تعداد میں شائقین بھی موجود تھے۔ ان کے پہنچنے پر کور کمانڈر لاہور اور پاکستان پولو فیڈریشن کے چیئرمین نے ان کا استقبال کیا،چیمپیئن شپ نے پاکستان آرمی کی کھیلوں میں مہارت، نظم و ضبط اور اعلیٰ معیار کی روایت کو اجاگر کیا۔ اس مقابلے میں 8 ٹیموں نے حصہ لیا، جن میں پشاور کور فاتح قرار پائی جبکہ گوجرانوالہ کور نے رنرز اپ کا مقام حاصل کیا،اختتامی تقریب کے دوران مہمان خصوصی نے فاتح اور شریک کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ یہ چیمپیئن شپ نہ صرف کھیلوں کی ترویج بلکہ فوجی اقدار اور ٹیم ورک کے فروغ کا بھی ایک اہم موقع ثابت ہوئی۔

  • بنگلہ دیش میں کشمیر کی حمایت میں نعرے، آزادیٔ کشمیر کے حق میں مظاہرہ

    بنگلہ دیش میں کشمیر کی حمایت میں نعرے، آزادیٔ کشمیر کے حق میں مظاہرہ

    بنگلہ دیش میں کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے شہریوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے آزادیٔ کشمیر کے حق میں نعرے لگائے اور کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق مظاہرہ ایک عوامی مقام پر منعقد ہوا جہاں شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف پیغامات درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور وہاں کے عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔مظاہرے کے دوران فضا “کشمیر ی چاہتے آزادی” اور “کشمیریوں سے یکجہتی” جیسے نعروں سے گونجتی رہی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بنگلہ دیش کے عوام مظلوم قوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تاریخ رکھتے ہیں اور کشمیر کا مسئلہ بھی ایک انسانی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں جاری صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔

    سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں اس نوعیت کے مظاہرے خطے میں بڑھتی ہوئی عوامی بیداری کی علامت ہیں، جہاں مختلف ممالک کے شہری عالمی انسانی حقوق کے مسائل پر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔

  • باجوڑ،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،5 خوارج ہلاک،میجر عدیل زمان شہید

    باجوڑ،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،5 خوارج ہلاک،میجر عدیل زمان شہید

    ضلع باجوڑ کے علاقے خار میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے پانچ بھارتی سرپرست خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن 29 دسمبر کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا،شدید فائرنگ کے تبادلے میں میجر عدیل زمان بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ وہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتے تھے اور اگلے مورچوں پر دستوں کی قیادت کر رہے تھے،ہلاک خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ یہ خوارج سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔علاقے میں دیگر بھارتی سرپرست خوارج کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں عزمِ استحکام کے وژن کے تحت پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔

  • توشہ خانہ ٹو،سزا کیخلاف عمران،بشریٰ کی اپیلیں دائر

    توشہ خانہ ٹو،سزا کیخلاف عمران،بشریٰ کی اپیلیں دائر

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں اسپیشل جج سنٹرل کی جانب سے سنائی گئی 17، 17 سال قید کی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کر دیں۔

    اپیلوں میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا، جس پر قانونی طور پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا، پراسیکیوشن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی، ایک ہی جرم میں متعدد بار سزا نہیں دی جا سکتی، اسپیشل سینٹرل عدالت کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا، اس کے علاوہ صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پر سلطانی گواہ بنایا گیا،بلغاری سیٹ توشہ خانہ کے قواعد کے مطابق سابق حکمران جوڑے نے اپنے پاس رکھا، مقدمہ بغیر تفتیش کے قائم کیا گیا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر ڈائری نمبر جاری کر دیے گئے ہیں،بانی پی ٹی آئی کی اپیل پر ڈائری نمبر 24560 جبکہ بشریٰ بی بی کی اپیل پر ڈائری نمبر 24561 لگا دیا گیا ہے۔

  • کالعدم تنظمیں کم عمر بلوچ بچیوں کو خودکش  بنانے میں ملوث

    کالعدم تنظمیں کم عمر بلوچ بچیوں کو خودکش بنانے میں ملوث

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے پولیس افسران کے ہمراہ سینٹرل پولیس آفس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کمسن لڑکی کو کالعدم بی ایل اے دہشتگردوں کے خودکش منصوبے سے بچالیا گیا، کالعدم تنظمیں کم عمر بلوچ بچیوں کو خودکش حملہ آور بنانے کے انسانیت سوز گھناؤنے فعل میں ملوث ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے ذریعے ذہن سازی کی جاتی ہے، جرائم پیشہ عناصر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ذہن سازی کرتے ہیں، انٹیلی جنس کی بروقت کارروائی کی وجہ سے بچی بچ گئی، ریاست مخالف عناصر نے بچی سے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا، دشمن ہمارے بچوں کو ہمارے خلاف استعمال کررہا ہے۔وزیر داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ اداروں کی بروقت کارروائی سے کراچی بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔

    ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ کالعدم بی ایل اے کے ہینڈلر نے انسٹاگرام پر بچی سے رابطہ کیا، کالعدم دہشت گرد نیٹ ورک کی سنگین سازش ناکام بنادی گئی۔ 25 دسمبر کو آپریشن کے دوران نوجوان لڑکی کو محفوظ طور پر حراست میں لیا گیا۔ چیک کے دوران لڑکی کو مشتبہ کے طور پر حراست میں لیا گیا۔ بی ایل اے ہینڈلر نے لڑکی سے انسٹاگرام کے ذریعے رابطہ کیا۔ بی ایل اے بھرتی کرنے والے ایجنٹ نے لڑکی سے رابطہ کیا۔ پولیس چیکنگ کی وجہ سے ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہیں پہنچ سکا اور سازش بے نقاب ہوئی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت اور دہشت گردی کے مواد کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔

    متاثرہ بچی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سامنے آیا، پھر وہی مواد بار بار دکھایا جانے لگا، رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں، رابطوں کے بعد آہستہ آہستہ وہی سب کچھ سچ لگنے لگا۔ واٹس ایپ گروپس میں کالعدم بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری بناکر پیش کیا گیا، میرے ذہن میں بات ڈالی گئی جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے، آج سمجھ آیا میں کس تباہی کی طرف جارہی تھی، عورتوں اور بچیوں کو قربان کرنا بلوچیت نہیں۔

    متاثرہ بچی کی والدہ نے کہا کہ عوامی مفاد میں ہم نے بیان دینے کا فیصلہ کیا، بیان دینے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے۔

  • خود کش حملے کیلیے تیارنابالغ بچی بحفاظت بازیاب ، بی ایل اے سے منسلک نیٹ ورک بے نقاب

    خود کش حملے کیلیے تیارنابالغ بچی بحفاظت بازیاب ، بی ایل اے سے منسلک نیٹ ورک بے نقاب

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک اہم انسدادِ دہشت گردی کارروائی کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے انتہاپسندی کا شکار بننے والی ایک نابالغ بچی کو بحفاظت بازیاب کرالیا۔ حکام کے مطابق بچی کو بی ایل اے سے منسلک بھرتی نیٹ ورکس کی جانب سے آن لائن گرومنگ کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا تھا، تاہم بروقت مداخلت کے باعث اسے کسی عملی دہشت گرد سرگرمی میں دھکیلے جانے سے پہلے ہی محفوظ کرلیا گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی انسدادِ دہشت گردی کامیابی حاصل کی، جس کے تحت ایک نابالغ بچی کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا جسے سوشل میڈیا کے ذریعے انتہاپسندی کی طرف مائل کیا جا رہا تھا اور جو بی ایل اے کی بھرتی نیٹ ورکس سے منسلک تھی، اس سے پہلے کہ اسے مزید عملی دہشت گردی کے راستے پر دھکیلا جاتا۔ اس کارروائی میں بی ایل اے کے ہینڈلرز سے جڑی پوری بھرتی زنجیر بے نقاب اور ناکام بنائی گئی، جو آن لائن شروع ہوئی اور کراچی میں جسمانی نقل و حرکت اور خفیہ ٹھکانے تک جا پہنچی، جہاں بچی کو ایک نجی رہائش گاہ میں رکھا گیا تھا۔ حکام نے تصدیق کی کہ جدید دہشت گردی اب سوشل میڈیا سے شروع ہوتی ہے، جہاں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ماحولیاتی نظام کے ذریعے پھیلائے گئے انتہاپسند بیانیے اور نفرت انگیز مواد موبائل فونز اور بند آن لائن ماحول کے ذریعے نابالغوں کو ورغلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کیس نے پیشگی پولیسنگ کی عملی مثال پیش کی،بی ایل اے سے منسلک آن لائن گرومنگ کو معمول کی جانچ، حفاظتی تحویل اور منظم بریفنگ کے ذریعے نقصان ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔ خواتین اور نابالغ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی بھرتی حکمتِ عملیوں کا بنیادی ہدف ہیں، اور اس ردِعمل میں بچوں کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی۔

    وزیرِ داخلہ نے بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کی کسی بھی کوشش پر صفر برداشت کا اعلان کیا اور واضح کیا کہ صرف بازیابی کافی نہیں؛ قانونی جوابدہی بھی ہوگی۔ ریاست نے بلوچ عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا جبکہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی جانب سے ان کے نام پر جھوٹے طور پر کی جانے والی دہشت گردانہ استحصال کو مسترد کیا، جس میں لڑکیوں اور نابالغوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کو ردِعمل سے پیشگیری کی طرف منتقل ہوتے ہوئے پیش کیا گیا، جہاں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی ڈیجیٹل انتہاپسندی اور آن لائن بھرتی کو اولین محاذی خطرہ قرار دیا گیا۔بریفنگ میں ایک بڑی قانون نافذ کرنے والی کامیابی کی تصدیق کی گئی، جس میں ایک نابالغ بچی کو بی ایل اے سے منسلک بھرتی کے عمل سے بحفاظت نکال کر مکمل تحفظ اور رازداری کے تحت اس کی والدہ سے ملا دیا گیا۔ بریفنگ میں سوشل میڈیا کو جدید بھرتی کا بنیادی دروازہ قرار دیا گیا اور والدین و عوام کو خبردار کیا گیا کہ نظریاتی تلقین اب آن لائن شروع ہوتی ہے، جو بی ایل اے اور بی ایل ایف نیٹ ورکس فعال طور پر استعمال کرتے ہیں۔

    حکام نے بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک ہینڈلرز کی جانب سے استعمال ہونے والے گرومنگ طریقۂ کار کی تفصیل بیان کی، جعلی اکاؤنٹس، اعتماد سازی، بند گروپس، دھمکیاں اور ذہنی سازکاری، خاص طور پر خواتین اور نابالغوں کو نشانہ بنانا۔ ریسکیو آپریشن نے بی ایل اے سے منسلک بھرتی کے ذریعے چلنے والے دہشت گردی کے عمل کو روک دیا جو ڈیجیٹل طور پر شروع ہوا تھا اور حقیقی دنیا میں نقل و حرکت اور شدت کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔بریفنگ میں بی ایل اے ہینڈلرز سے وابستہ مرحلہ وار بھرتی اور نقل مکانی کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد معمول کی پولیسنگ اور بریفنگ کے دوران رضاکارانہ بیان کے ذریعے مداخلت کی گئی۔حکام نے تصدیق کی کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک استحصال کے خلاف کارروائی کے دوران بچی کی سلامتی، وقار اور مستقبل کو اولین ترجیح دی گئی، جس میں شناخت اور خاندانی تفصیلات کی سخت رازداری شامل تھی۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی دہشت گردانہ پروپیگنڈا کو نظریاتی پردے سے محروم کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ “مزاحمت” نہیں بلکہ بچوں کا استحصال اور کمزور افراد پر جبر ہے۔ حکام نے آن لائن اور آف لائن دونوں سطحوں پر بچوں کے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ہاتھوں استحصال کے خلاف صفر برداشت کا اعادہ کیا اور سہولت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔

    واضح رہے کہ کم عمر بچی کو دہشت گردی کے لیے تیار کیا جا چکا تھا، ریاست نے آخری لمحے بچا لیا، حکام نےانکشاف کیاکہ دہشت گردی اب بارڈر پار نہیں، بچوں کے موبائل فون کے اندر داخل ہو چکی ہےبی ایل اے بچوں کو بندوق نہیں، نفرت سے ہتھیار بناتی ہے، بچی کو نظریہ نہیں دیا گیا، صرف حکم ماننے کی تربیت دی گئی، دہشت گردوں نے خود کو خیر خواہ ظاہر کر کے کم سن بچی کا اعتماد حاصل کیا،بچی کو اسکول، گھر اور خاندان سے آہستہ آہستہ مکمل طور پر الگ کر دیا گیا، بچی کو عملی دہشت گردی کے مرحلے کے انتہائی قریب پہنچا دیا گیا تھا، دہشت گردوں نے بچی کو شہر در شہر منتقل کیا تاکہ خاندان تک رسائی ممکن نہ رہے، بچی کی شناخت اس لیے چھپائی گئی کیونکہ وہ مجرم نہیں، دہشت گردی کا شکار ہے، بی ایل اے بچوں کے مستقبل پر حملہ آور، بچوں کا تحفظ اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے

  • بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی، جہاں مسلح حملوں، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے کاروائیاں کیں اور متعدد دہشتگردجنم واصل ہوئے جبکہ کئی علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

    ضلع کیچ کے علاقے تمپ کے غمازی میں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے دوران شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، تاہم حکام کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

    ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کے علاقے وہیر میں ایک مدرسے کے قریب ایک نوجوان شکیل احمد کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق مقتول کو قریب سے متعدد گولیاں ماری گئیں۔دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ کے قریب بھی ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی، جسے تیز دھار ہتھیار سے قتل کیے جانے کا شبہ ہے۔ دونوں واقعات میں پولیس نے الگ الگ مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    تربت کے مضافاتی علاقے ڈنک میں ایک موبائل فون ٹاور کو بم دھماکے سے تباہ کر دیا گیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اسی دوران ہرنائی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا، جسے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع قلات میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم گروہ سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گرد مارے گئے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ضلع دکی کے بابو اڈہ علاقے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے عسکریت پسندوں نے ایک نجی تعمیراتی منصوبے پر حملہ کر کے بھاری مشینری کو نذر آتش کر دیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم قیمتی مشینری مکمل طور پر ناکارہ ہو گئی۔ہرنائی،سنجاوی سڑک پر نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کر کے شناختی کارڈ چیک کیے۔ موٹر سائیکل سوار دو افراد نہ رکنے پر فائرنگ کی زد میں آ گئے، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔

    ضلع مہمند کے علاقے علینگر میں سیکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ضلع اورکزئی میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ سرچ اور اسٹرائیک آپریشنز کیے۔سوات کے علاقے املٹ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایلیٹ فورس کے کانسٹیبل حماد علی کو شہید کر دیا، جو چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔بنوں میں سورانی قبیلے کا امن جرگہ منعقد ہوا جس میں عمائدین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون اور علاقے سے مسلح عناصر کے انخلا کا مطالبہ کیا، جبکہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا گیا۔

    افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات اور مکالمے کے حق میں پاکستانی قیادت اور علمائے کرام کے بیانات کا خیر مقدم کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کیلئےگینز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرنے والی دخترِ پاکستان ، مونا خان

    پاکستان کیلئےگینز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرنے والی دخترِ پاکستان ، مونا خان

    پاکستان کیلئے باعثِ فخر اور وطنِ عزیز کی بیٹی مونا خان نے لندن میراتھن ریس میں "گینیز ورلڈ ریکارڈ” حاصل کر کیا

    خاتون صحافی مونا خان نے 42.2 کلومیٹر کا فاصلہ مقررہ وقت میں سَر کر کے پاکستان کا نام دنیا میں روشن کیا،پاکستان کی بیٹی مونا خان نے تاریخی کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستانی خواتین بھی عالمی سطح پر کسی سے کم نہیں،مونا خان نے خاتون ہو کر عزم ، ہمت اور محنت کی عظیم مثال قائم کر دی،لندن میراتھن ریس میں مونا خان نےسبز ہلالی پرچم اٹھاکر بھارتی ریسر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،مونا خان کی کہانی عزم، قربانی اور پاکستانی خواتین کی ناقابل شکست ہمت کی عکاس ہے،مونا خان کی کی تاریخی فتح نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی خواتین کسی بھی میدان میں اپنے حریف کو مات دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں

  • سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے،بلاول

    سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے،بلاول

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے، اپنے لیڈر کی گرفتاری اور کیسز پر قومی اداروں پر حملہ کریں گے تو ایکشن پر شکایت نہیں ہونی چاہیے۔

    لاڑکانہ میں میڈیا نمائندوں سے گفتگوکوتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے، حالات کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نقطے پر لانے کے لیے صدر آصف علی زرداری کو کردار ادا کرنا ہوگا،پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے، لیڈر کی گرفتاری اور کیس پر قومی اداروں پر حملہ کریں گے تو ایکشن پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے، حالات کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نقطے پر لانے کیلیے صدر زرداری کو کردار ادا کرنا ہوگا، الیکشن جلدی نہیں ہو رہے، نئے انتخابات سے پہلے الیکٹرول ریفارم ضروری ہے، ایسے ریفارم لائیں جس پر سب کو اعتماد ہو،عام آدمی سے اس کا معاشی حال پوچھنے پر ملک کی اصل معاشی صورتحال کا اندازہ ہوگا، عام آدمی کا جواب اصل ٹیسٹ ہوتا ہے، اس سے پوچھیں کیا اس کی معاشی ترقی ہو رہی ہے؟ وفاقی حکومت معاشی بحران سے نمٹنا چاہتی ہے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر غور کرے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی راستے نکالنے چاہئیں، سیاست کے لیے مزید گنجائش نکلنا ملک کے مفاد میں ہے،ہ بی بی کی برسی پر وفد بھیجنے پر وزیراعظم اور میاں نواز شریف کے شکرگزار ہیں، نجکاری کے حوالے سے پیپلز پارٹی اپنا نقطہ نظر رکھتی ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے عوام کو بہتر سہولت دلا سکتے ہیں، ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو ترجیح دیتے ہیں، وفاق کو معاشی بحران ایڈریس کرنا ہے تو اہم کردار پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ہوسکتا ہے، وفاق کو سندھ حکومت کے پبلک پارٹنر شپ سے سیکھنا چاہیے،سندھ حکومت وہ کام کر رہی ہے جو دیگر صوبوں میں نہیں ہو رہے، مریضوں کو سو فیصد مفت طبی سہولتیں دی جارہی ہیں، بچوں کو عالمی معیار کے مطابق مفت طبی سہولت دینے کی کوشش کر رہے ہیں،صوبائی حکومت کے اقدامات کے بعد بچوں کی سب سے کم شرح اموات سندھ میں ہے، بچوں کی زندگی بچانا ہماری اولین ترجیح ہے،طبی میدان میں سندھ کی سہولت کا کوئی مقابلہ نہیں، سندھ میں عالمی معیار کے صحت کے مراکز قائم کر رہے ہیں۔