Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • صادق سنجرانی راجہ ریاض سے ملنے پہنچ گئے

    صادق سنجرانی راجہ ریاض سے ملنے پہنچ گئے

    نگران وزیراعظم کے تقرر کا معاملہ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی رہائش گاہ آمد ہوئی ہے

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اپوزیشن لیڈرراجہ ریاض کے مابین ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال ونگران سٹ اپ سے متعلق مشاورت کی گئی، ملاقات میں نگراں وزیراعظم کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، صادق سنجرانی نے انھیں نگران وزیراعظم کا امیدوار نامزد کرنے پر شکریہ ادا کیا

    اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض اور وزیراعظم شہباز شریف کی آج دوسری ملاقات ہونی ہے، کل ہونے والئ ملاقات میں راجہ ریاض نے چیئرمین سینیٹ کا نام بطور نگران وزیراعظم دیا تھا، اس حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ وزیراعظم بن سکتے ہیں، وہ جب چیئرمین سینیٹ بنے تو انہیں سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی وہ کسی کے لئے متنازعہ نہیں رہے،آج راجہ ریاض اور وزیراعظم کے مابین ہونیوالی ملاقات میں واضح ہو گا کہ راجہ ریاض کوئی اور نام دیتے ہیں یا صادق سنجرانی کے نام پر ہی ڈٹے ہوئے ہیں

    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سینئر صحافی و اینکر سلیم صافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نگران وزیراعظم کی دوڑ میں نہ صرف شامل ہوگئے بلکہ ان کا گھوڑا کافی آگے نظر آرہا ہے۔ ایک بڑا گھر بھی مان گیا ہے۔

    دوسری جانب چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے اسحاق ڈار اور احسن اقبال کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی حالات پر مشاورت کی گئی، نگران وزیراعظم کی تقرری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی،صادق سنجرانی کی مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات ہو چکی ہے،

    پیپلزپارٹی نے سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اور سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا نام دیا ہے، تاہم آج وزیراعظم اور راجہ ریاض کی ملاقات کے بعد بریک تھرو کا امکان ہے اگر کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو تین دن کے بعد معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا،پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کر سکی تو اگلے تین دن بعد معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا اور الیکشن کمیشن اگلے دو دن میں نگران وزیراعظ‌م کی تقرری کر دے گا،

  • جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر سات مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت خارج

    جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر سات مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت خارج

    انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر سات مقدمات میں عبوری ضمانت خارج کر دی،انسداد دہشتگری عدالت نے عدم پیشی پر چیرمین تحریک انصاف کی ضمانتیں خارج کیں

    نو مئی کو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر مقدمات میں عبوری ضمانتوں میں حاضری معافی کی درخواست پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے کی،دوران سماعت اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ نے سرکار کی طرف سے جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیئے،دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے حاضری معافی کی درخواست پر دلائل کے لیے مہلت مانگتے ہوئے کہا کہ عدالت سے چاہوں گا کہ مزید ریکارڈ اکٹھے کرنے کی مہلت دی جائے تا کہ بہتر انداز میں دلائل دے سکوں اگر آپ پھر بھی کہیں کہ دلائل دو، تو میں موجود ریکارڈ کے مطابق دلائل دے دوں گا، عدالت نے کہا کہ ہم چاہیں گے کہ آپ دلائل دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی چیئرمین مین پی ٹی آئی کو کوئٹہ کیس میں 24 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے،سرکاری وکیل سے کہوں گا کہ میرے ساتھ پورے 50 اوور کا میچ کھلیں۔ وائٹ واش یا پھر بارش کی وجہ سے جیت کا کپ نہ اٹھائیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی تو عدالت پیش ہونا چاہتے ہیں، آپ پروڈکشن آرڈر جاری کردیں آج میری ٹیم بھی پوری نہیں ہے ،

    اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے خلاف تو عدالت فائدہ نہیں دے سکتی عدم پیروی پر اگر ضمانت خارج ہوتی ہے تو وہ درست ہے جب ایک ملزم سزا یافتہ ہے تو پھر ضمانت کیسے چل سکتی ہے مفروضے پر بات نہیں کی جا سکتی قانون کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا سزا یافتہ ملزم کو کیسے عدالت میں عبوری ضمانت پر بلایا جا سکتا ہے۔ اس اسٹیج پر عدالت پہلے ہی موقع دے چکی ہےعدم پیروی ملزم کی ضمانتیں خارج کی جائیں،

    نومئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

    عمران خان کے خلاف بھی نومئی کے واقعات پر مقدمے درج کئے گئے تھے، عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوتے رہے، اب عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہو چکی ہے اور وہ جیل میں ہیں، گزشتہ روز توشہ خانہ نیب کیس، اورالقادر ٹرسٹ کیس میں بھی عمران خان کی ضمانت خارج ہو چکی ہے

    عمران خان کو اگر سزا کے خلاف اپیل میں رہائی کا حکم ملتا ہے تو باقی مقدمات میں عمران خان کو گرفتار کر لیا جائے گا،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

  • عمران خان کو اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت میں پیش

    عمران خان کو اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت میں پیش

    اٹک جیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کے کیس کی سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل استفسار کیا اور کہا کہ کیا ہو گیا شیر افضل صاحب؟ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ ہو گیا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا، آپ کے حکم کے باوجود ہمیں نہیں ملوایا گیا،ہم پر ایف آئی آر درج کر دی گئی،کل میں ضمانت پر تھا، پھر بھی مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر ڈیڑھ دو سو کیسز ہیں، ان کے وکیل کو صرف اس کیس میں تو نہیں ملنا جس میں ان کو سزا ہوئی، ان پر جو کیسز ہیں، ان سے متعلقہ وکیل ان کو ملنا چاہے گا،تاکہ وہ اس کیس سے متعلق عمران خان سے ہدایات لے سکے،

    عمران خان کو اڈیالہ منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب راؤ شوکت عدالت کے سامنے پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت عدالت کے سامنے پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار وکلا کا کہنا تھا ٹرائل کورٹ نے اڈیالہ جیل بھیجا آپ نے اٹک بھیج دیا ، عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقلی کا فیصلہ تھا ؟ پنجاب حکومت کی جانب سے اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ہمیں بھی لیٹر کی کاپی فراہم کی جائے ،

    وکیل پنجاب حکومت کی جانب سے خط پڑھا گیا ،اٹک جیل منتقلی سے متعلق خط میں وجوہات کا ذکر موجود تھا، عدالت نے استفسار کیا کہ ایک چیز بتائیں کیا وکلا ملزمان سے نہیں مل سکتے ؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ سات اگست کو ایک وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سے ملے ،وکیل صاحب نے پائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے وکالت نامے دستخط کرائے ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صرف وکالت نامے دستخط کرانے کے لیے وکیل اپنے کلائنٹ سے جیل میں مل سکتا ہے ؟ اس طرح اجازت نا دینا تو عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت میں آ جائے گا ، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ سات اگست کو ہم نے ملنے کی اجازت دی آٹھ کو اور نو اگست کو یہ دیر سے پہنچے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ صبح آٹھ بجے سے دو اور یہ تین بجے تک بھی ہو سکتی ہے کیا یہی ہے ؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ جی بالکل اسی طرح ہی ہے ،اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ صبح 8 سے 2 بجے تک کوئی ملاقات کیلئے آئے تو کوئی قباحت تو نہیں؟ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ ہائیکورٹ ہے اور اس میں کی جانے والی غلط بیانی کے نتائج ہونگے، وکیل پنجاب حکومت کہہ رہے ہیں کہ میں گزشتہ روز پونے پانچ بجے اٹک جیل پہنچا،گزشتہ روز ڈیڑھ بجے اٹک جیل کے باہر میڈیا کو انٹرویو دیا، ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ میں کیس چل رہا تھا اور ہم دونوں وہاں موجود تھے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سابق وزیراعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، ساتھ ہی وہ سزا یافتہ بھی ہیں دونوں چیزوں کو برابری کی بنیاد پر لے کر چلنا ہے، وکیل شیر افضل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کس کلاس میں رکھنا ہے، سات دن میں یہی فیصلہ نہیں ہو سکا، یہ کام ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ کے جج کا کام ہوتا ہے، ٹرائل جج، سپریٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی کمشنر نے کلاس کی سفارش کرنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل نہ کرنے کی وجوہات مضحکہ خیر ہیں، جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں تو چیئرمین پی ٹی آئی کے آنے سے کیا فرق پڑ جائے گا؟ اڈیالہ جیل سیکیورٹی کے حوالے سے سب سے مستحکم جیل ہے،
    رولز کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کیا ہی نہیں جا سکتا تھا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے اپنے ذاتی معالج سے معائنے کی بھی استدعا کی گئی ہے، نمائندہ پنجاب حکومت نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں معائنہ کے بعد ہی اپنے ذاتی معالج سے معائنے کی درخواست کی جا سکتی ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نواز شریف سے انکے وکیل ڈاکٹر عدنان روزانہ ملتے تھے، عدالت نے کہا کہ کیا ایک اور ہائی پروفائل قیدی کو اپنے ڈاکٹر سے معائنے کی اجازت نہیں تھی؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہاکہ مجھے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ آپ اڈیالہ جیل سے ریکارڈ منگوا لیں معلوم پڑ جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی کو انکا اپنا ڈاکٹر چیک کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ مجھے سمجھ نہیں آتی یہ اتنا تنگ کیوں کر رہے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ملاقات اور سہولیات سے متعلق میں آرڈر کروں گا، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اس طرح کی شرائط عائد نہ کریں میں نے کہا تھا کہ دو تین وکلاء ملاقات کیلئے جایا کریں زیادہ نہیں،دو چار لوگوں سے کیا فرق پڑتا ہے سو پچاس جائیں تو پھر الگ بات ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نیب کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت خارج ہو گئی ہے،نیب اب چیئرمین ہی ٹی آئی کو اپنی حراست میں لے کر ریمانڈ لینا ہے،ہم گزشتہ روز بشری بی بی کے ساتھ گئے اُنکی ملاقات ہو گئی لیکن ہمیں ملنے نہیں دیا گیا،
    پولیس نے کہا کہ ایک دن میں ایک ہی ملاقات ہو سکتی ہے،واپسی پر ہمیں وکلاء کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی،عدالتوں سے ہم ریلیف اسی لئے لیتے ہیں کہ ہماری عزت بچی رہے، ہمیں اب پتہ چلا ہے کہ شاندانہ گلزار پر بھی تھری ایم پی او لگا دیا گیا ہے،عدالت اگر سختی نہیں کریگی تو یہ اسی طرح حقوق پامال کرتے رہیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی نے جائے نماز اور قرآن پاک مانگا تھا ہم وہ لے کر گئے، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ جیل میں اُنکے پاس جائے نماز اور قرآن پاک دونوں موجود ہیں، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ انگلش ورژن استعمال کرتے ہیں ہم نے وہ دینا تھا، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ ہم انگلش ورژن بھی فراہم کر دینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کوئی دوائیاں وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیں؟
    کیا انہیں جیل میں ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے جیل میں پانچ ڈاکٹر موجود ہیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے میں اگر دو تین بار ملنا ہو تو اس میں کیا مضائقہ ہے،ایسا نہیں ہوتا پرچے ہوں وکیلوں پر ،جو قید میں ہیں ان کے حقوق ہیں ان کا انکار تو نہیں کر سکتے

    نعیم حیدر ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں ڈپٹی سپریڈنٹ جیل کے دفتر میں ملا ہوں وہاں کوئی سیکورٹی کا مسئلہ نہیں،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ اس عدالت نے حفاظتی ضمانت مجھے دے رکھی ہے ان سے پوچھ لیں پھر بھی ہمیں گرفتار کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میں نے 7 دن کی حفاظتی ضمانت دے رکھی ہے توہین عدالت کی درخواست دیکھ لوں گا،وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کی طرف سے یہ خطرہ ہے کہ ان کو زہر دیا جا سکتا ہے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب یہ یاد رکھئے گا چیئرمین پی ٹی آئی کی آپ کی حراست میں ہیں ذمہ داری جیل سپریڈنٹ پر ہے۔
    عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب آرڈر جاری کریں گے

    واضح رہے کہ عمران خان کو قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کالعدم قرار دے دیا

    سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کالعدم قرار دے دیا

    سپریم ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے،جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ 33 صفحات پر مشتمل ہے

    تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے،سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،

    تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے کہا کہ ہمارے ذہنوں میں کوئی شک نہیں کہ مجوزہ قانون کا اصل مقصد آرٹیکل 184/3 کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق دینا تھا ، اس سوال کا جواب کہ پارلیمنٹ بینچز کی تشکیل سے متعلق قانون بنا سکتا ہے نفی میں ہوگا،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،

    سپریم کورٹ نے ریویو ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا،سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کالعدم قرار دے دیا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ آئین سے متصادم ہے، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کیس کا متفقہ فیصلہ سنایا گیا ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ آئین کے خلاف ہے جس کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی

    سپریم کورٹ کے فیصلوں کیخلاف اپیل کا حق دینے کے نئے قانون کیخلاف آئینی درخواستیں منظورکر لی گئیں

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پارلیمنٹ کے منظور شدہ نظر ثانی ایکٹ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا،اس قانون میں آئین کی شق 184(3) کے تحت سپریم کورٹ کے کیے گئے تمام فیصلوں پر لارجر بنچ کے سامنے نظر ثانی بصورت اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا تھا۔

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 19 جون کو ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، 3 رکنی بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

    سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعتیں کیں درخواست گزاروں نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کےخلاف درخواستیں دائر کی تھیں،جس پر اٹارنی جنرل نے درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی تھی درخواست گزار تحریک انصاف نے اس قانون سازی کے لیے آئینی ترمیم لازم قرار دینے کا مدعا پیش کیا تھا،ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184 تھری کے مقدمات کے فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیا گیا تھا، اپیل سننے والے بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس سننے والے ججز سےزیادہ ہونا لازم ہے تاہم پی ٹی آئی سمیت انفرادی حیثیت میں وکلاء نے اس ایکٹ کو چیلنج کیا تھا

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • راجہ ریاض وزیراعظم ملاقات ختم، کل دوبارہ ملاقات طے

    راجہ ریاض وزیراعظم ملاقات ختم، کل دوبارہ ملاقات طے

    راجہ ریاض وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کرنے وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی،وزیرِ اعظم نے آئین کی روشنی میں قائد حزب اختلاف کو نگران وزیرِ اعظم کی تقرری کیلئے مشاورت کے حوالے سے ملاقات کی دعوت دی تھی.ملاقات میں وزیرِ اعظم اور قائد حزبِ اختلاف کے مابین نگران وزیرِ اعظم کے ناموں پر مشاورت کا پہلا دور خوشگوار ماحول میں ہوا۔یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس اہم قومی معاملے پر مزید سوچ بچار کے بعد کل، یعنی 11 اگست کودوبارہ مشاورت کی جائے گی۔

    ملاقات کے بعد راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کی تعیناتی سے متعلق وزیراعظم سے مشاورت ہوئی،وزیراعظم سے اچھے ماحول میں مشاورت ہوئی،نگران وزیراعظم کے نام پر ابھی اتفاق نہیں ہوا، امید ہے نگران وزیراعظم کے لیے نام پر اتفاق ہو جائیگا،وزیراعظم نے کہا آپ میرے اور میں آپ کے ناموں پر غور کرتا ہوں، نام ایک دوسرے سے شئیر کر دئیے ہیں ،کل پھر ایک نشست ہوگی

    ملاقات میں نگران وزیراعظم کے نام کے حوالے سے مشاورت کی گئی،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی جانب سے 3 ،3 نام نگران وزیراعظم کے لیے پیش کیے گئے ،راجہ ریاض جب وزیراعظم ہاؤس آ رہے تھے تو صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ نگران وزیراعظم کے لئے کتنے نام لائے ہیں، جس کے جواب میں راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ میں تین نام لے کر آیا ہوں،باخبر ذرائع کے مطابق راجہ ریاض نے وزیراعظم کو نگران وزیراعظم کے لئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا نام بھی دیا ہے، ن لیگ کی جانب سے نگران وزیراعظم کے لئے کون سا نام دیا گیا ہے ابھی تک سامنے نہیں آ سکا، تاہم میڈیا پر کافی نام گردش کر رہے ہیں

    پیپلزپارٹی نے سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اور سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا نام دیا ہے، تاہم آج وزیراعظم اور راجہ ریاض کی ملاقات کے بعد بریک تھرو کا امکان ہے اگر کسی نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو تین دن کے بعد معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا،پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کر سکی تو اگلے تین دن بعد معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا اور الیکشن کمیشن اگلے دو دن میں نگران وزیراعظ‌م کی تقرری کر دے گا،

    قبل ازیں قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد شہباز شریف نے نگراں وزیراعظم کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو خط لکھ دیا ہے ، وزیراعظم شہبازشریف نے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو مشاورت کیلئے خط لکھ دیا، وزیراعظم کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ آپ کو علم ہے صدر مملکت نے قومی اسمبلی تحلیل کردی ہے نگران وزیراعظم کا تقرر کیا جانا مقصود ہے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے آپ کو مشاورت کی دعوت دیتا ہوں خط میں وزیراعظم شہبازشریف نے آئین کے آرٹیکل 224کا حوالہ بھی دیا،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم اور راجہ ریاض کی ملاقات ہونی تھی تا ہم راجہ ریاض کی مصروفیت کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو سکی،

    وزرا اور معاونین خصوصی کو دفاتر خالی کرنے کا نوٹیفکیشن
    دوسری جانب وفاقی کابینہ تحلیل ہونے پر کابینہ ڈویژن نے وزرا اور معاونین خصوصی کو دفاتر خالی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی کابینہ میں 33 وفاقی وزرا اور 7 وزرائے مملکت تھے جبکہ 38 کی تعداد میں معاونین خصوصی تھی تھے جن کی مجموعی تعداد 78 بنتی ہے ان تمام حکومتی عہدیداران کو دفاتر الاٹ کئے گئے تھے جن کو اب کابینہ ڈویژن نے دفاتر خالی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے

    مادر وطن کو مشکلات سے نکال کر خوشحالی کی جانب لے کر جانا ہے،وزیراعظم
    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس اور آفس کے عملے کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج میرے لیے یہاں بہت اہم دن ہے، میں یہاں سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنے آیا ہوں عملے نے گزشتہ 16 ماہ میں وزیراعظم ہاؤس میں میری مدد کی،وزیراعظم ہاؤس اور آفس عملے نے حکومتی امور میں میری مدد کی یہاں گزرے 16 ماہ میری زندگی کا اثاثہ ہیں، پاکستان ہم سب کا پیارا وطن ہے، ہم سب پاکستان کی اجتماعی خدمت پر مامور ہیں، ہمیں آج قومی اتحاد اور اتفاق کی اشد ضرورت ہے مادر وطن کو مشکلات سے نکال کر خوشحالی کی جانب لے کر جانا ہے،ہمارے بزرگوں نے پاکستان کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں، بدقسمتی سے قائداعظم کے بعد ہم راستے سے بھٹک گئے، ایک لڑی میں پروکر ہمیں پاکستان کی خدمت کرنی ہے، وقت آئے جب بھکاری پن کو ہم ہمیشہ کیلئے خدا حافظ کہیں گے،

    اچھے کام کرنے والے افسران ہمیشہ بے جا تنقید کا نشانہ بنے ، وزیر اعظم
    دوسری جانب وفاقی سیکرٹریزسے الوداعی ملاقات کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 16 ماہ کا عرصہ چیلنجز سے بھر پور تھا،عوام کی خدمت کی، پختہ سوچ ہو تو اتحادی حکومت بھی چل سکتی ہے مخلوط حکومت کے فائدے بھی ہوتے ہیں اور نقصانات بھی ،13جماعتوں کی حکومت ملک کے عوام کیلیے کچھ کرنے کیلیے میدان میں آئی ،آنے والی مشکلات کو ایک سبق کے طور پر یاد رکھوں گا مخلوط حکومت بہت اچھے طریقے سے چلائی گئی ،مشکل سے مشکل مسائل کے حل کیلیے راستے تلاش کیے ،اچھے کام کرنے والے افسران ہمیشہ بے جا تنقید کا نشانہ بنے ،یہاں موجود معزز افسران میں سے بعض کو میں ذاتی طور پہ جانتا ہوں جنہوں نے بڑی محنت اور اخلاص سے کام کیا صوبہ پنجاب میں 10 سال میرا ان سے رابطہ رہا ہے جنہوں نے محنت سے کام کیا بدقسمتی سے وہی نشانہ بنے بعض لوگوں کی تنقید کا۔

  • جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات،268 شرپسندوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

    جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات،268 شرپسندوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

    انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت،پولیس نے جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات مزید تیز کردیں

    پولیس نے پی ٹی آئی کے 268 روپوش کارکنوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست دائر کردی ،انسداد دہشتگری کی خصوصی نے پولیس کی درخواست منظور کرلی ،عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 268 کارکنوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے .جج اے ٹی سی اعجاز احمد بٹر نے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا

    عدالت نے فیصلہ میں کہا کہ جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملزمان کے بیانات کی روشنی میں مزید 268 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، ملزمان روپوش ہیں اور گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان کے مطابق شواہد موجود ہیں پولیس کی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست منظور کی جاتی ہے

    دوسری جانب انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی، اسد عمر کی عبوری ضمانتوں پر تحریری حکم جاری کر دیا، عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ درخواست گزاروں نے دلائل کے لیے مہلت مانگیدرخواست گزاروں کی استدعا پر کارروائی ملتوی کی جاتی ہے درخواست گزاروں کے وکیل 18 اگست کو عبوری ضمانتوں پر دلائل دیں شاہ محمود قریشی ،اسد عمر پر جناح ہاؤس حملہ کیس سمیت متعدد مقدمات درج ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کر دیا

    ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ دعوی کیا ہے کہ ان کو موصول ہونے والی خفیہ دستاویز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 7 مارچ 2022 کو ہونے والے ایک اجلاس میں عمران خان کو یوکرین پر روسی حملے پر غیر جانبداری پر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پاکستانی حکومت کی حوصلہ افزائی کی، امریکہ میں پاکستانی سفیر اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دو عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ملاقات گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان میں شدید چھان بین، تنازعات اور قیاس آرائیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کےمخالفین اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاسی کشمکش 5 اگست کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب عمران خان کو بدعنوانی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی اور ان کی برطرفی کے بعد دوسری بار حراست میں لیا گیا۔ عمران خان کے حمایتی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔


    ویب سائٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویز میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کے ایک ماہ بعد پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی درخواست پر اقتدار سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ پاکستانی کیبل کا متن، جو سفیر کی جانب سے اس ملاقات سے تیار کیا گیا تھا اور پاکستان منتقل کیا گیا تھا، اس سے قبل شائع نہیں کیا گیا تھا۔ اندرونی طور پر ‘سائفر’ کے نام سے جانی جانے والی اس کیبل میں ان گاجروں اور لاٹھیوں کو ظاہر کیا گیا ہے جو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے عمران خان کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے تعینات کی تھیں، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر عمران خان کو ہٹایا گیا تو تعلقات بہتر ہوں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا.


    ویب سائٹ میں لکھا ہے کہ اس دستاویز کو ‘خفیہ’ کا نام دیا گیا ہے جس میں محکمہ خارجہ کے حکام بشمول جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کے معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو اور اسد مجید خان کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر بھی شامل ہے، جو اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ یہ دستاویز ذرائع نے "دی انٹرسیپٹ” کو فراہم کی، جبکہ انٹرسیپٹ ذیل میں کیبل کی باڈی شائع کر رہا ہے ، متن میں معمولی ٹائپوز کو درست کر رہا ہے کیونکہ ایسی تفصیلات دستاویزات کو واٹر مارک کرنے اور ان کے پھیلاؤ کو ٹریک کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں۔

    دی انٹرسیپٹ کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مندرجات پاکستانی اخبار ڈان اور دیگر جگہوں پر شائع ہونے والی رپورٹنگ سے مطابقت رکھتے ہیں جس میں ملاقات کے حالات اور کیبل میں ہی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جس میں انٹرسیپٹ کی پریزنٹیشن سے حذف کیے گئے درجہ بندی کے نشانات بھی شامل ہیں۔ کیبل میں بیان کردہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی حرکات کو بعد میں واقعات سے ظاہر کیا گیا۔ کیبل میں امریکہ یوکرین جنگ پر عمران خان کی خارجہ پالیسی پر اعتراض کرتا ہے۔ ان کی برطرفی کے بعد ان موقف کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا، جس کے بعد، جیسا کہ اجلاس میں وعدہ کیا گیا تھا.

    جبکہ ویب نے مزید لکھا کہ دستاویز کے مطابق؛ ملاقات میں، لو نے تنازعہ میں پاکستان کے موقف پر واشنگٹن کی ناراضگی کے بارے میں واضح الفاظ میں بات کی۔ اس دستاویز میں لو کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ‘یہاں اور یورپ کے لوگ اس بات پر کافی فکرمند ہیں کہ پاکستان (یوکرین پر) اتنا جارحانہ غیر جانبدار موقف کیوں اختیار کر رہا ہے،۔ یہ ہمارے لئے اتنا غیر جانبدار موقف نہیں لگتا ہے۔ لو نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ساتھ داخلی بات چیت کی ہے اور "یہ بالکل واضح ہے کہ یہ وزیر اعظم کی پالیسی ہے۔

    ویب نے دعویٰ کیا کہ لو نے دو ٹوک انداز میں عدم اعتماد کے ووٹ کا معاملہ اٹھایا: "میرے خیال میں اگر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہو جاتا ہے، تو واشنگٹن میں سب کو معاف کر دیا جائے گا کیونکہ روس کے دورے کو وزیر اعظم ایک فیصلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بصورت دیگر،” انہوں نے مزید کہا، ”مجھے لگتا ہے کہ آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ لو نے متنبہ کیا کہ اگر یہ صورتحال حل نہ کی گئی تو پاکستان اپنے مغربی اتحادیوں کے ہاتھوں پسماندہ ہو جائے گا۔ لو نے کہا، "میں یہ نہیں بتا سکتا کہ یورپ اسے کس طرح دیکھے گا لیکن مجھے شبہ ہے کہ ان کا رد عمل بھی ایسا ہی ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ اگر خان عہدے پر رہے تو انہیں یورپ اور امریکہ کی طرف سے "تنہائی” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    لیکن فرحان ورک کے مطابق تحریک انصاف کا سائفر بیانیہ جعلی جعلی ہے کیونکہ اگر امریکہ روس جانے پر پی ٹی آئی حکومت ہٹاتا تو امریکہ کے تین ہی فوائد ہوسکتے تھے

    1۔ پاکستان روس یوکرین جنگ میں یوکرین کا ساتھ دے
    2۔ پاکستان اقوام متحدہ میں روس کے خلاف ووٹ دے
    3۔ پاکستان روس سے دور ہوجائے

    اسکے علاوہ تحریک انصاف ہٹانے کا امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔ لیکن پی ٹی آئی حکومت ہٹنے کے بعد کیا امریکہ کو ان تینوں فائدوں میں سے ایک بھی فائدہ ملا؟ نہیں۔
    فرحان ورک نے مزید کہا ثبوت حاضر ہیں
    1۔ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری صاف صاف واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان روس یوکرین جنگ میں نیوٹرل ہے۔
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)
    2۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں روس یوکرائن جنگ پر نیوٹرل موقف رکھا۔ یہ وہی موقف تھا جو عمران خان دور کا تھا اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اسی موقف کی حمایت کی۔ امریکہ کے پریشر کے باوجود یوکرائن کے حق میں ووٹ نا دیا
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)
    3۔ پاکستان روس سے قطع تعلقی کرلیتا لیکن یہاں تو پاکستان روس سے تیل منگوا رہا ہے۔
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)

    انہوں یہ بھی کہا کہ ان تمام ثبوتوں کو دیکھ کر آپ خود بتائیں کہ اگر امریکہ نے روس سے تعلقات پر تحریک انصاف حکومت ختم کروائی تو پھر اس حساب سے تو پی ڈی ایم حکومت کی بھی یہی پالیسی رہی تو پھر امریکہ کوعمران حکومت ہٹانے کا فائدہ کیا ہوا؟ لیکن وقت نے اس جماعت کے تمام جعلی پراپیگینڈا کو بے نقاب کر دیا ہے۔

  • اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں. وزیراعظم

    اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں. وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں۔ جبکہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی دنیا بھر میں پاکستان کانام روشن کررہے ہیں،ہم اوور سیز پارکستانیوں کیلئے جنتا بھی کر سکتے ہیں،کرنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تمام اوورسیز پاکستان کے سفیر ہیں ،اگر لیبر کو اسکیل پر ٹریننگ دی جائے تو وہ زیادہ ریمیٹنس بنا سکیں گے، دنیا میں نوجوانوں کو کمال ٹریننگ دی جا رہی ہے ،نوجوانوں کوا سکیل ٹریننگ دی جائے تو باہر جا کر یہ اور بھی زیادہ کما سکتے ہیں۔ آج اوور سیز پاکستانیوں کیلئے پیکج کا اعلان کرنا چاہتا ہوں ،اگلی حکومت اس پیکج کو عملی جامہ پہنائے گی۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، تمام پبلک سیکٹر ہاوسنگ اسکیموں میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خصوصی ڈسکاونٹ دیا جائے گا، سال میں سب سےترسیلات زر بھیجنے والے 10اوورسیزپاکستانیوں کو ایوارڈ دیئے جائیں گے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ یونیورسٹیز میں 5فیصد کوٹا اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کیلئے رکھا جائے گا، سمندر پار پاکستانیوں کی جائیدادوں کے مسائل کے حل کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

  • پاکستان کو درپیش چینلجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا. وزیر خارجہ بلاول بھٹو

    پاکستان کو درپیش چینلجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا. وزیر خارجہ بلاول بھٹو

    وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہمارا کام پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کو بحال کرنا ہے، پاکستان کے امن کو کسی صورت داؤ پر نہیں لگنے دیں گے۔ جبکہ دفترخارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلو ہیں کیونکہ جیسے ہی وزارت سنبھالی تو خارجہ پالیسی دباؤ کا شکار رہی لیکن پاکستان کو درپیش چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے جب اقتدار سنبھالا تو پاک چین اور پاک امریکا تعلقات مسائل کا شکار تھے جبکہ خوشی ہے کہ ان تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کیا ہے، اور سی پیک کو بحال کیا جبکہ 10 سالہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ علاوہ ازیں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ جیسے چیلنجز کا سامنا تھا اور جس سے نکلنے کیلئے وقت سے پہلے 2 ایکشن پلان مکمل کیے، حنا ربانی کھر نے ایف اے ٹی ایف سے نکلنے میں دن رات کام کیا تاکہ ملک کی بہتری ہو۔


    ان کا مزید کہنا تھا کہ طلبا کو ویزے کی سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کیے اور وزارت نے بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے اہم کردار ادا کیا، افغان بہن بھائیوں کو سہولیات کی فراہمی میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جبکہ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا، مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں کوظلم وجبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلئے ہر فورم پرآواز اٹھائی، قرآن پاک کی بے حرمتی کسی صورت قبول نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت خارجہ کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کو بہت سے عہدے ملے، سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران خود کو بےبس محسوس کیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو سیلاب متاثرین سے ملوایا، یواین سیکریٹری جنرل نے متاثرین کی بحالی کیلئے پاکستان کی طرف سے آواز اٹھائی اور سیلاب کے دوران عالمی سطح پر پاکستان کی مدد کی گئی۔

  • راجہ ریاض کی لال جھنڈی ،سپریم کورٹ میں شدید لڑائی

    راجہ ریاض کی لال جھنڈی ،سپریم کورٹ میں شدید لڑائی

    مبشر لقما ن آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج راجہ ریاض اور وزیراعظم کی متوقع ملاقات تھی جو ملتوی ہوئی ہے، سپریم کورٹ میں بڑی سخت لڑائی ہوئی ہے، سابق صدر سپریم کورٹ بار اور ایک جج کے مابین، راجہ ریاض اور شہباز شریف کی ملاقات میں تاخیر کیوں ہوئی؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہر آدمی اسٹیبلشمنٹ اسٹیبلشمنٹ کرتا رہتا ہے اور ہر چیز کا ذمہ دار اسکو ٹھہراتا ہے،ہر چیز کا فائدہ بھی پہنچ جاتا ہے، اگر آج آپ اسٹیبلشمنٹ ہوں اور آپشن آئیں تو کیا فیصلہ ہونا چاہئے؟ مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں آج بڑی سخت لڑائی ہوئی ہے، اسکو پڑھ کر سن کر "ساس بھی کبھی بہو تھی” سیریل یاد آ گیا، بہو نے ساس بننا ہوتا ہے اور پھر بہو آتی ہے، وہ بھی پھر ساس ہی بنتی ہے لیکن لڑائی پھر بھی رہتی ہے، وکیل ہی جج بنتے ہیں اور مختلف عدالتوں میں تعینات ہوتے ہیں، جج وکیل کی لڑائی کی سمجھ نہیں آتی، بڑی عجیب سی لڑائیاں ہوتی ہیں، انہوں نے کہا کہ پٹھان اور مہاجر کی لڑائی نہیں ہونی چاہئے، پٹھان یہاں کاروبار کرنے آتا ہے اور مہاجر کلائنٹ ہے، ان دونوں میں تضاد نہیں ہونا چاہئے لیکن ہے، وکیل اور جج کا تضاد نہیں ہونا چاہئے، آج سپریم کورٹ میں کھل کر سامنے آیا ہے،جو وکلا اور ججز ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف راجہ ریاض کو ملنا چاہتے ہیں لیکن وہ مصروف ہیں،شہباز شریف پاور میں ہوں تو عزت بھی ایسے دیتے ہیں تو ایسے جیسے اسکو بتا رہے ہیں کہ میں اسکو عزت دے رہا ہوں، راجہ ریاض سے حکومت کرتے ہوئے تو وزیراعظم نہیں ملے، نہ کبھی بلایا، نامزد نگران وزیراعظم کس کا ہے؟ کسی کا نہیں بلکہ دو لوگ ہی فیصلہ کریں گے اور وہ شہباز شریف اور راجہ ریاض ، اگر دونوں نہیں کرسکے تو الیکشن کمیشن کے پاس نام چلے جائیں گے، حکومت بڑی کوشش کرے گی کہ راجہ ریاض سے رابطہ ہو، اگر نہ ہوئی تو پھر الیکشن کمیشن کا ہی فیصلہ ہو گا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ملک کے حالات دیکھیں، ملک ڈوب رہا ہے، قرضے بڑھ رہے ہیں ، آبادی کا تناسب دیکھیں، ترقی کا تناسب دیکھیں، قرضوں کا حجم دیکھیں، لوکل کمپنی یہاں بند ہو رہی ہیں باہر والوں نے کیا کرنا، آج اسمبلی تحلیل ہو رہی اور تین ماہ بعد الیکشن ہونے ہیں، اور اگر الیکشن آگے لے کر جاتے ہیں تو آگے بھی کئی مسائل ہوں گے، آئینی بحران بھی شروع ہو سکتا ہے، اسوقت اس ملک کو چلانے کا کوئی آسان حل نہیں ، ہماری سیاسی جماعتوں اور سیاسی حکمرانوں نے سب کو ایک دوسرے سے بد ظن کیا ہے،

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو